Tag: کالا چٹا

  • پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    تحریر: وجیہ مہتاب 

    پوری دنیا میں زبانوں کا دن منایا جا رہا ہے جس میں ، میں اپنے قلم کو حرکت میں لانا ضروری سمجھتی ہوں میں جس خطے میں پیدا ہوئی ہوں اس مٹی اس زبان سے محبت میری فطرتی جبلت ہے میں اسی زبان ” پنجابی ”کے بارے میں بات کروں گی ۔

    اس  تاریخی پس منظر  میں آپ کو لے کر چلتی ہوں کہ اس سے نفرت کیوں کی جاتی ہے دنیا بھر میں 7457 زبانیں بولی جاتی ہے جن میں 360 زبانیں متروک  ہو چکی ہیں۔ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں نہ صرف پاکستان میں بلکہ برصغیر پاک و ہند میں بھی سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان پنجابی ہے جو مشرقی افغانستان سے شروع ہو کر پشاور، ہزارہ ڈویژن، پنجاب ،انڈین پنجاب اور کشمیر کے اضلا ع میں مختلف لہجوں میں بولی جاتی ہے31 سے زیادہ ان کے لیے لہجے  اور انداز ہیں ۔دنیا کی مشہور زبانوں انگریزی، فارسی ،عربی، ہندی ،ترکی ،پشتو  اور سندھی کی طرح اس کی عمر ساڑھے پانچ ہزار سال ہے اور ان زبانوں کا روڈ میپ بھی ایک ہے۔ مذکورہ زبانوں کے بے شمار الفاظ پنجابی زبان میں ملتے ہیں انڈیا ایشیائی ریاستوں اور ترک ممالک کی سب سے بڑی تجارتی منڈی تھا تاجروں کے ملاپ اور مختلف حملہ آ وروں کی وجہ سے پنجابی زبان کے ذخیرہ الفاظ میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور اس کے بولنے والوں کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ دینی و اعظین،  مجالس ،صوفی شعراء اور درباروں پر لگنے والے میلوں پر تھیٹروں اور ماضی قریب میں پنجابی فلموں نے اس کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔

     میں چونکہ پنجاب کے شمال مغربی ضلع اٹک سے تعلق رکھتی ہوں یہاں زیادہ تر پنجابی کی ایک قسم ”ہندکو”  بولی جاتی ہے ہندسے مراد ہندوستان اور کوسے مراد پہاڑ ہیں اور اسی طرح  ہندکو ہندو ستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں بولی جاتی ہے اور ہندکو بولنے والوں کو ہند کوان کہتے ہیں پاکستان کے شہر پشاور، ہزارہ ڈویژن، اٹک ،چکوال ،تلہ گنگ  میں بولی جاتی ہے۔ ہندکو بولنے والوں کی تعداد 56 لاکھ ہے جو کہ ملک کی کل آبادی کااڑھائی فیصد ہے ہندکو کے بھی مختلف لہجے ہیں۔ پشاور میں خار ے پشوری ، ہزارہ میں تنولی ،اٹک چھچھ میں چھاچھی، پنڈی گھیب جنڈ اور فتح جنگ میں گھیبی لہجہ، علا قہ نلہ ، کالا چٹا پہاڑ اور قوا گاڑ کے درمیانی علاقہ باہتر، جبی، ہمک، اکھوڑی سے ملا حی ٹولہ اٹک خورد تک کیمبل پوری لہجہ ،چکوال میں دھنی اور تلہ گنگ میں اعوانکاری لہجوں کی ہندکو بولیاں شامل ہیں۔

    پنجابی زبان سے نفرت کیوں؟

    مغلو ں کے زوال کے بعد 1799؁ء  میں مشرقی پنجاب سے لے کر پشاور تک سکھوں کا قبضہ ہو گیا تھا سکھ راج مسلمان اور دوسری قوموں کے لیے ظلم اور بربریت کی علامت تھا۔ پنجابی چونکہ سکھوں کی مذہبی زبان تھی اور ان کی مذہبی کتاب "گرنتھ صاحب ”   بھی پنجابی میں تھی  چنانچہ ان کے ظالمانہ نظام حکومت سے بیزار لوگ پنجابی زبان سے نفرت کرنے لگے ۔سکھا شاہی کے خلاف تحریک سید احمد شہید نے شروع کی تھی اور اس تحریک کا مرکز حضرو ضلع اٹک اور سیدو شریف کے پی کے تھا۔ سکھوں کی حکومت کا زور تحریک نے توڑ دیا تھا ۔دونوں متحارب قومیں سکھ اور مسلمان ہند کو بولنے والے تھے اور دونوں کا زور آپس میں 50 سالہ جنگ لڑ لڑ کر ختم ہو چکا تھا۔

     1849 میں انگریزوں نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا سکھ راج ختم کر کے خود بنا حکومت بنا ڈالی اور انگریزوں کو مسلمانوں سے خطرہ تھا اس لیے انہوں نے پنجابی زبان ہندکو سے نفرت دلا کر نوزائیدہ زبان کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا شروع کر دیا ، سکھوں کی جنونی قوم پرستی ہندوؤں کو بھی نہ بھاتی تھی انہوں نے بھی پنجابی کے بجائے ہندی کو ترویج دینا شروع کر دیا۔ 

    1857 کی جنگ آزادی میں زیادہ تعداد پنجابی بولنے والوں کی تھی انگریزوں نے عنان حکومت سنبھالتے ہی یو پی ،سی پی ضلعوں سے اردو ہندی بولنے والوں کو کلرک، منشی اور محرر کی سیٹوں پر بٹھا دیا  جبکہ ان کے سول سروسزآفیسز سب انگریز تھے اور دفاتر سے پنجابی بولنے والے کو نکال دیا اور یوں پنجابی بولنے والے بھی اپنی زبان سے نفرت کرنے لگے اور احساس کمتری کا شکار ہو گئے اور دفاتر میں رکھ رکھاؤ کے لیے حکمرانوں کی زبان انگلش کو ترجیح دینے لگے۔

    سجاد سرور نیازی ایک ادیب اور ماہر زبان ہیں وہ کہتے ہیں کہ لندن میں ڈاکٹر جیمز ماہر لسانیات کے لیکچر میں شریک تھا دوران تقریر مختلف زبانوں پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے افریقہ کے کسی قبیلے کی آواز نقل کی اور کہا کہ آپ میں سے کوئی بھی ایسے دہرا نہ سکے گا نیازی صاحب نے اٹھ کر نقل اتار دی اور ڈاکٹر چیمز بے ساختہ بول اٹھے کہ کیا آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں؟  نیازی صاحب اعتراف کیا تو ڈاکٹر صاحب بولے کہ صرف پنجابی زبان ایسی ہے جس میں تمام دنیا کے حروف او رآوازیں موجود ہیں۔

    کوئی بھی زبان کم تر نہیں ہے غیر ملکی سامراج جہاں بھی جاتا ہے اپنے قبضہ جمانے کے لیے بغاوت کے خوف سے پہلے سے موجود زبان کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ غصہ اور جذبات کو روکا جا سکے۔ پنجابی بولنے والوں کو اجڈ گنوار قرار دیا گیا اور احساس کمتری کے غوطے دیے گئے تاکہ وہ ہمارے لیے خطرے کا باعث نہ ہوں۔

    برصغیر میں انگریزی سے پہلے فارسی ہماری قومی زبان تھی جہاں سے آئی تھی وہیں انگریزوں نے بھیج دی جس میں ہمارا ثقافتی اور مذہبی اثاثہ تھا جو ختم ہو گیا۔اب اسی تہذیبی جنگ میں مغربی میڈیا اردو رسم الخط اور زبان کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔اس لیے کہ   یہ تینوں زبانیں مشرقی ہیں۔

    میں قدامت پسند نہیں روشن ضمیر اور وسیع خیالات کی حامی ہوں اردو ہماری قومی زبان اور تمام صوبوں کی اکائی ہے انگریزی بین الاقوامی سفارتی اور سائنسی زبان ہے۔ان کی اہمیت اور ضرورت سے کسی کو کوئی انکار نہیں ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق بچہ جو علم مادری زبان سے سیکھتا ہے وہ پرائی زبان سے نہیں ماں کی گود پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ یہیں سے تیار ہو کر قومیں ،قومیں بنتی ہیں۔

     میں خراج تحسین پیش کرتی ہوں سید ثقلین انجم بخاری، جناب مشتاق عاجز، پروفیسر سید نصرت بخاری اور پروفیسر اختر محمود ناشاد جو اٹک کی دھرتی میں  پنجابی زبان کے احیاکے لیے کو شاں ہیں۔

    وجیہ مہتاب
    لاء سٹوڈنٹ
    انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی 
    اسلام آباد

  • ضلعی انتظامیہ مون سون سیزن کے لئے تیار

    ضلعی انتظامیہ مون سون سیزن کے لئے تیار

    ضلعی انتظامیہ مون سون سیزن کے لئے تیار

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اٹک انیل سعیدنے کہاہے کہ ضلعی انتظامیہ مون سون سیزن اورمتوقع سیلاب سے نبردآزماہونے کیلئے ہرلمحہ تیارہے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار ضلعی ایمرجنسی بورڈ اٹک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ہے، اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر و ضلعی انچارج ریسکیو1122 اٹک علی حسین، خاتون اسسٹنٹ کمشنر تحصیل اٹک انزہ عباسی، چیف آفیسر بلدیہ اٹک سردار آفتاب احمد خان،ریجنل فارسٹ آفیسر اٹک اظہر عباس،سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر اٹک محمد عثمان،محکمہ صحت، محکمہ تعلیم، ٹریفک پولیس، محکمہ لائیوسٹاک اور دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے.

    ضلعی انتظامیہ مون سون سیزن کے لئے تیار
    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل اٹک انیل سعید ڈسٹرکٹ ایمرجینسی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کر ر ہے ہیں

    اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اٹک وضلعی انچارج ریسکیو1122 علی حسین نے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی ہے، اجلاس میں آبی گزر گاہوں کے راستے میں تجاوزات، ڈی سلٹنگ، فلڈ ریلیف کیمپ، جوائنٹ انسپیکشنز،دفعہ 144 کے نفاذ،آزمائشی مشقوں، کنٹرول روم کے قیام اور دیگر موضوعات زیر بحث لائے گئے ہیں، اجلاس میں کالا چٹا پہاڑ میں آگ لگنے کے واقعات اور ان کی روک تھام کیلئے بھی حکمت عملی پر غور کیا گیا ہے، ریجنل فارسٹ آفیسر اٹک اظہر عباس نے اس موقع پر اجلاس کو جنگلات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ہے۔

    English

  • جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط سوم

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط سوم

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935  قسط سوم

    کھیری مورت ، کالا چٹا اور مکھڈ کے پہاڑوں میں اڑیال wild sheepہوتا ہے یہ مینڈھے سے ملتا جلتا ہے سر پر مڑے ہوئے دو مضبوط سینگ ہوتے ہیں۔

    سیہہ porcupine ضلع اٹک کے جنگلات میں عام ہے اس کے بدن پر لمبے لمبے نوکدار کانٹے ہوتے ہیں ۔ جنگلات میں بھیڑیئے بھی ہوتے ہیں۔چیتا کبھی کبھی کالا چٹا پہاڑ میں آنکلتا ہے۔

    مچھلیاں پکڑنے کے لیے لوگ حسن ابدال اور اٹک جاتے ہیں۔دریا ہرو کی رہو مچھلی بہت اچھی ہے دریائےسندھ میں میاشیر پائی جاتی ہے ۔سندھ ، ھرو اور سواں میں مچھلی کا شکار کرنے کے لئے لائیسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔

    اس ضلع میں پانچ لاکھ مسلمان ،ستر ہزار سکھ اور بیس ہزار ہندو  بستے ہی۔ ہندوؤں اور سکھوں میں برہمن ، کھتری ،اروڑے اور سنار ہیں ۔کھتری اروڑے دکانداری کرتے ہیں۔

     مسلمانوں میں سیّد ، پٹھان۔جودڑے ،گھیبے ،کھٹڑ،آوان پراچے اور ملیار ہیں ۔ضلع اٹک میں بائیس گاؤں سادات کے ہیں ۔پیر مکھڈ بڑے مذہبی پیشوا ہیں ۔

    پٹھانوں کی آبادی آوانوں سے دوسرے نمبر ہے یہ اٹک اور مکھڈ نرڑہ میں آباد ہیں ۔اٹک کے پٹھان زیادہ تر علی زئی قوم کے ہیں اٹک تحصیل کا تیسرا حصہ ان کی ملکیت ہے ۔کاشتکاری اور مویشیوں کی تجارت کرتے ہیں ۔بحری جہازوں کی نوکری اور غیر ممالک کی تجارت کو فوجی ملازمت پر ترجیح دیتے ہیں ۔امریکہ،افریقہ ، آسٹریلیا اور چین جاکر ملازمت اور تجارت کرتے ہیں۔

    ساغری خٹک مکھڈ اور نرڑہ میں آباد ہیں ۔سب فوج کی ملازمت کرتے ہیں ہر گاوں میں کئی پنشن یافتہ فوجی صوبیدار ہیں۔جنگ عظیم میں بہت بھرتی ہوئے ۔یہ لوگ چائے کے شیدائی ہیں۔

    پنڈی گھیب کا تیسرا حصہ جودڈا راجپوتوں کی ملکیت ہے نواب صاحب پنڈی گھیب اسی قوم کے بڑے زمیندار ہیں۔

    گھیبے سب فتح جنگ میں آباد ہیں اکثر مغل کہلاتے ہین۔سردارنواز کوٹ فتح خان کا تعلق اسی قوم سے ہے۔

    کھٹڑ کالا چٹا پہاڑ کے آس پاس آباد ہیں ۔تحصیل اٹک ،پنڈی گھیب اور فتح جنگ میں بہتر 72 گاؤں ان کی ملکیت ہیں۔اس علاقے کو  کھاٹڑی کہتے ہیں ۔سر سکندر حیات خان اسی قوم سے ہیں۔

    آوان ضلع اٹک کی آبادی کا ایک تہائی ہیں ۔تلہ گنگ کی کل تحصیل انہی  کی ملکیت ہے اور آوان کاری  کہلاتی ہے۔

    پراچے مسلمانوں کی سوداگر قوم ھے یہ زیادہ تر دریائے سندھ کے کنارے اٹک ، ملاحی ٹولہ اور مکھڈ میں پائے جاتے ہیں ۔افغانستان اور ترکستان سے تجارت کرتے ہیں۔

    چھچھ میں تمباکو کاشت ہوتا ہے اس سے حضرو میں منوں نسوار تیار کی جاتی ہے جو کشمیر اور پشاور بھیجی جاتی ہے ۔فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں بھیڑیں پالی  جاتی ہیں ان کی اون سے یہاں  کمبل تیار کئے جاتے ہیں۔

    چھچھ اور علاقہ سواں میں روئی کاشت ہوتی ہے اس سے ادھوال میں سوتی کپڑا  بنتا ہے ۔حضرو ،نڑتوپہ اور مرزا میں لنگیاں بنتی ہیں۔

    باہتر ، حسن ابدال اور اخلاص میں چاقو    چھری عمدہ تیار ہوتے ہیں ۔کئو کی لکڑی سے فتح جنگ میں کنگھیاں بنائی جاتی ہیں جو بڑے بڑے شہروں کو بھیجی جاتی ہیں۔

    فتح جنگ میں تارا میرا عام ہوتا ہے اس سے تیل نکالنے کے کولھو ہیں۔ حضرو میں جوتیوں پر زردوزی کا کام بہت اچھا ہوتا ہے۔

    ضلع اٹک میں حضرو ،انجرا،جنڈ ،حسن ابدال اور مکھڈ مشہور منڈیاں ہیں ان میں کپڑا،کھانڈ  ، چاول، نمک باہر سے بکنے آتا ہے ۔ہر ہفتے  گوندل ،حسن ابدال،کیمبلپور اور پنڈی گھیب میں مویشیوں کی منڈی لگتی ہے۔

    Title Image by Natalie Faulk from Pixabay

  •  جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔برائے جماعت سوم کے سو صفحات ہیں اس کو منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز لاہور نے ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا اس کی قیمت چار آنے ہے ۔ اس نایاب کتاب کی پی ڈی ایف کے لئے ھم  ڈاکٹر ناشاد صاحب ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ) کے شکر گزار ہیں ۔ اس کتاب کی تلخیص پیش خدمت ہے ۔

    200 گاؤں ملا کر اٹک تحصیل بنائی گئی ھے اس کا تحصیلدار کیمبلپور میں رہتا ہے۔فتح جنگ تحصیل میں 209 گاؤں اور پنڈی گھیب تحصیل میں 148 گاؤں ہیں۔ 102 گاؤں ملا کر تلہ گنگ تحصیل بنی ہے۔ تحصیلدار کے ماتحت کئی ذیلدار ہوتے ہیں جن کی انعام خوار مدد کرتے ہیں ذیلدار کے ماتحت ہر گاوں میں نمبردار ہوتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ چار ہزار مربع میل ہے اس میں 659 گاؤں آباد ہیں اور پانچ لاکھ آدمی بستے ہیں۔

    اٹک ضلع میں بہت سے پہاڑ ہیں۔کالا چٹا پہاڑ ،گندگر، کھیڑی مار،کوا گاڑ،کھیری مورت ، ڈونگی ( یہاں 2024 میں تھانہ چونترہ علاقے میں جاوا ڈیم ہے )اور کوہستان نمک۔

    کالا چٹا پہاڑ 45 میل لمبا ہے یہ دریائے سندھ سے مارگلہ تک شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے ۔دریائے سندھ کے پاس اس کی۔ چوڑائی 12 میل ہے اس کی بلند ترین چوٹی رانی کوٹ ساڑھے تین ہزار فٹ بلند ہے یہ سوجنڈا باٹا کے قریب ہے۔اس پہاڑ کے دو سلسلے ہیں۔شمالی پہاڑ دریائے سندھ سے مارگلہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے پتھروں کی رنگت لائم سٹون کی وجہ سے سفید ہے اس نسبت سے اس کا نام چٹا پہاڑ ہے۔ جنوبی پہاڑ دریائے سندھ سے گگن تک ہے اس کے پتھر سینڈ سٹون ہیں جو بادو باراں سے سیاہ پڑ گئے ہیں اس لئے اس کو کالا پہاڑ بولتے ہیں ۔

    گندگر پہاڑ چھچھ کے مشرق میں ضلع ہزارہ کا پہاڑ ہے ۔گندگر اور کالا چٹا پہاڑ کے درمیان شرقاً غرباً دو پہاڑ اور ہیں۔بڑا پہاڑ 8 میل لمبا اور 2 میل چوڑا ہے اس کا نام کھیڑی مار ہے اس کا سخت پتھر کھیڑی چپل کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔کھیڑی مار اور گندگر کے درمیان حسن ابدال اور برہان کے زرخیز علاقے ہیں ۔دوسرا پہاڑ کواگاڑ ہے ۔( گاڑ چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں ۔حسن ابدال کے پاس چھوئی گاڑ نام کا گاؤں ہے )۔اٹک قلعہ کے پاس اٹک کی پہاڑیاں ہیں جن سے سلیٹ پتھر نکلتا ہے ۔

    کالا چٹا پہاڑ کے جنوب میں مکھڈ کی پہاڑیاں شرقاً غرباً ہیں نرڑہ علاقہ ان کے قریب ہے ( چھب سے جنڈ تک ان پہاڑیوں میں چار ریلوے ٹنل ہیں )۔فتح جنگ کے جنوب میں 24 میل لمبا کھیری مورت پہاڑ ہے ۔

    کوہستان نمک تلہ گنگ کے جنوب میں ھے یہ ضلع اٹک سے باہر ہے اس کا سرد مقام سکیسر ہے اٹک ،میانوالی اور شاہ پور تینوں ضلعوں کے صاحبان ڈپٹی کمشنر بہادر گرمی کے موسم میں یہاں رہتے ہیں

    سندھ ، ہرو،سواں ، سیل ، نندنہ اور گھبیر یہاں کے دریا اور نالے ہیں۔

    دریائے سندھ شملل سے آتا ہے اور ہزارہ ضلع سے ہوتا ہوا غازی کے مقام پر ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے چھچھ اور یوسف زئی کے علاقوں کو چیرتا ہوا جنوب کی طرف بہتا ہے ۔یہاں اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔بیچ میں بہت سے ٹاپو ہیں۔ اٹک قلعہ کے پاس اس کا اس کا پاٹ تنگ ہوگیا ہے کیونکہ دو طرفہ سلیٹ کے پتھر کا پہاڑ ہے ۔ اٹک سے نیچے اس کا پانی شفاف نیلگوں ہے اس لیے نیلاب کہلاتا ہے ۔اس سے نیچے ہاٹ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ۔سوجنڈہ کے قریب اس کی چوڑائی صرف ساٹھ فٹ رہ گئی ہے یہ نام گھوڑا ترپ کہلاتا ہے مکھڈ میں اس دریا پر کشتیوں کا بڑا  پتن ہے ۔

    1841 میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا جس میں یاسین اور سرکہ کے درمیان سارے گاؤں ڈوب گئے تھے ۔اٹک قلعہ سے تین میل نیچے لوہے کا پل ہے اوپر سے ریل جاتی ہے بیچ سے لاریاں گزرتی ہیں پل پون میل لمبا ہے ۔ خوشحال گڑھ کے قریب ایک اور پل بنایا گیا ھے ۔

    ھرو دریا خانپور سے گندگر کے پہاڑوں کی طرف بہتا ہے یہ دریا اٹک قلعہ سے بارہ میل نیچے گھڑیالہ کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے ۔حسن ابدال کے پاس زراعت کے لئے اس سے نالیاں نکالی گئی ہیں ان کو کٹھہ بولتے ہیں ۔اسی سبب اس علاقے کو پنج کٹھہ کہتے ہیں اس میں سترہ گاؤں آباد ہیں ۔اکثر مقامات پر اس کے پانی سے پن چکیاں چلتی ہیں۔

    دریائے سواں مری سے نکلتا ہے اور چونترہ تحصیل فتح جنگ کے پاس ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے ۔یہ مکھڈ سے دس میل نیچے دریائے سندھ میں جا ملتا ہے ۔

    اکثر برسات میں نہایت چڑھاؤ پر ہوتا ہے سرکاری ڈاک بھی کئی روز تک رک جاتی ہے اور مسافر بھی عبور نہیں کرسکتے ۔ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے مسافروں کو رسد بہم پہنچانے کے لیے ایک دکان متصل بنگلہ  ڈھوک پٹھان کھولی جاتی ہے

    کھرسا میں سواں ہمیشہ پایاب ہوتا ہے اس کے قریب بعض مقامات پر اتنی ریت ( Quicksand) ہوتی ہے کہ اس میں ہاتھی بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔1850 میں حضور لاٹ صاحب جس وقت کالا باغ جا رہے تھے ان کا ایک ہاتھی اس ریت میں دھنس کر غائب ہوگیا۔ سواں کے کنارے چونترہ ,ادھوال ,  چکری ،ڈھڈھمبر،گنڈاکس،ڈھوک پٹھان،جبی ( شاہ دلاور) اور تراپ مشہور گاؤں ہیں۔

    پنڈی گھیب والی سیل ۔یہ نالہ کھیری مورت سے نکل کر  مغرب کو بہتا ہوا پنڈی گھیب کے پاس سے گزرتا ہے اور سواں میں جا گرتا ہے ۔ پنڈی گھیب کے پاس اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔اس نالے کے پہلے حصے کا نام ٹوتھل ہے ۔پنڈی گھیب کے پاس اس کا نام سیل Seel ہو گیا ہے ۔اس کے کنارے اخلاص ،پنڈی گھیب اور دندی کے قصبے ہیں ۔

    فتح جنگ والی سیل کا پنڈی گھیب والی سیل سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ دونوں مختلف نالے ہیں۔یہ نالہ کھیری مورت سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور سواں میں ( چکری کے پاس) جا ملتا ہے ۔

    نندنہ نالہ کھیری مورت سے شمال کی طرف سے نکل کر کالا چٹا پہاڑ کو چیرتا ہوا اکھوڑی پہنچ جاتا ہے ۔یہ کنجور کے قریب دریا ھرو سے جا ملتا ہے ۔

    نالہ چیل  بیس میل لمبا ہے یہ ھٹی ( ھٹیاں) کی دلدل ( اب خشک ہو گئی ) سے نکل کر شمس آباد سے گزرتا ہوامانسر کے قریب سندھ میں جا ملتا ہے ۔ھٹی کے مقام پر چھ سو ایکڑ رقبہ پر جھیل تھی اس کو ڈپٹی کمشنر گاربٹ صاحب نے خشک کرا کر آباد کر دیا ہے ۔

    جاری ہے …….

  • اٹک کی پہاڑیاں اور درخت

    اٹک کی پہاڑیاں اور درخت

    کالا چٹا سے جنوب اور تحصیل پنڈی گھیب کے جنوب مغرب میں نرڑہ مکھڈ کی پہاڑیاں واقع ھیں-دریائے سندھ کے کنارے سےبنی اونچی نیچی ڈٰؑھیریاں بمشکل ھی پہاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے اونچا مقام سطح سمندر سے 1800 فٹ بلند ہے۔ انکی ڈھلانیں عموما” مشرق سے مغرب کی سمت میں ہیں۔ دریائے سندھ کی دوسری طرف خٹک علاقے میں ایک پہاڑی سلسلہ ہے لیکن اس طرف کم اونچائی کی چوٹیاں ہیں۔ نرڑہ کے علاقے میں کچھ زرخیز وادیاں بھی ہیں جن میں کم زرخیز اور ہلکی زمین ہے۔ پورے ضلع میں اُڑیال کا شکار یہاں اچھا ہوتا ہے۔ شمال کی طرف فتح جنگ اور کیمبلپور کے درمیان اسی طرح چونے کے پتھر کی پہاڑیاں چٹا پہاڑ بناتی ہیں۔ ضلع کے انتہائی شمال میں اونچی زمین اور لارنس پور (فقیر آباد) پرانی چٹانوں کے سلسلے سے بنا ہوا ہے۔ اسکا نام (اٹک سلیٹ) ہے۔ معدنیات یا جانوروں کی مدفون باقیات کی غیر موجودگی میں یہ چٹانیں بہت قدیم طبقاتی دور سے تعلق رکھتی ہیں۔ عام طور پر ان پہاڑوں کا پھیلاو شرقا” غربا” ہے اور ہمالیہ کے عام پھیلاو کے متوازی ہیں۔ اس سے مزید شمال کی طرف چھوٹی پہاڑیاں ان کی بیرونی فصیل ہیں۔ اس ضلع کی نباتات کسی خاص اہمیت کی حامل نہیں۔ پورے ضلع میں کالا چٹا پہاڑ کا جنگل ہی قابل ذکر ہے۔ کچھ اور بھی محفوظ جنگلی علاقے ہیں مثلا” کھیری مورت (کھیری مار) کو اگر اور نرڑہ کے کچھ علاقے۔ اور اب کچھ اٹک کے مشہور درختوں کے بارے میں ۔

    پھلاہی: پُھلاہی کاعام درخت ہر جگہ موجود ہے۔ ان میں سے کچھ بڑے ہیں جن سے عمارتی لکڑی بنتی ہے اور بل کھاتی گانٹھوں والے ہیں۔ ضلع اٹک میں یہی ایک اہم درخت ہے جو کافی تعداد میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ بھیڑ بکریاں اور اونٹ اسکے پتے شوق سے کھاتے ہیں اسکی لکڑی کالی، مضبوط اور وزن میں بھاری ہے۔ بڑے درختوں سے پن چکیاں ہل اور تمام گھریلو زرعی اوزار و آلات بنائے جاتے ہیں۔ لہذا علاقے کے تمام دوسرے درختوں پر اس کو ترجیح ہے۔ یہ درخت آہستہ آہستہ پرورش پاتا ہے لیکن اسکی پوری عمر سے پہلے اسکو کاٹا جائے تو اسکی لکڑی خراب اور بے کار ہو جاتی ہے۔

    کیکر: بہت اونچا اور بڑا درخت ہے جو عام طور پر سڑکوں اور کھیتوں کے کنارے پایا جاتا ہے۔ وادی میں اچھی قسم کا کیکر ملتا ہے جسے خود لگایا جاتا ہے اور خود رکھوالی بھی کی جاتی ہے۔ یہ پہاڑ کے نزدیک یا پہاڑ کے اوپر نہیں ہے۔ جسکی وجہ پہاڑی علاقوں میں سخت سردی ہوتی ہے۔ یہ جہاں بھی اگتا ہے بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔ اسکی لکڑی سخت اور مضبوط ہے اور ہل چلانے کے اوزار اور کنوئوں کے رہٹ بیل گاڑیوں کے پہیے اور دوسرے مقاصد میں استعمال ہوتی ہے۔ جلانے کے کام بھی آتی ہے۔ اسکی چھال اور بیج چمڑہ رنگنے کے کام آتے ہیں۔ اسکی پھلیاں بھیڑ بکریوں کی اچھی خوراک ہیں۔ اس سے نکلی ہوئی گوندقبض کی بیماری میں شفا ہے۔

    شیشم: شیشم ضلع اٹک کے زرخیز علاقوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ کالا چٹا کے جنوب میں کم پایا جاتا ہے۔ ضلع کے مشرقی حصوں میں ندیوں اور نالوں کے کنارے عموما” ملتا ہے۔

    کاہو: سب سے اہم اور مفید درخت ہے۔ یہ جنگلی زیتون کا درخت ہے جو کالا چٹا ، کھیری مورت اور کواگر کی پہاڑیوں میں ملتا ہے۔ یہ ہمیشہ اچھی زمین اور چونے کے پتھر کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھیڑ بکریاں اسکے پتے کھاتی ہیں۔ اسکا پھل نہ تو کھایا جاتا ہے اور نہ اس سے تیل نکلتا ہے۔ البتہ لکڑی سخت ہے اور بہت اچھی ہے۔ چھڑیاں، کنگھیاں، گلے کے زیور اور مالائیں اس سے بنتی ہیں۔