Tag: مسجد

  • انوکھا چور

    انوکھا چور

    انوکھا چور

    صفدر علی حیدری

    رات کے دو بجے ہوں گے جب ایک سایہ سا محتاط قدموں سے چلتا ہوا ایک دیوار کے ساتھ آ کر رک گیا۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑا سن گن لیتا رہا، اور پھر چپکے سے دیوار پھلانگ کر ایک مکان میں گھس گیا۔

    دیوار قد آدم سے تھوڑی اونچی تھی، سو اسے کودنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ کچھ دیر تک وہ دیوار کے ساتھ اگی ہوئی جھاڑیوں میں دبک کر بیٹھا رہا۔ جب کوئی ردعمل سامنے نہ آیا تو وہ سمجھ گیا کہ اہلِ خانہ گدھے گھوڑے بلکہ سب کچھ بیچ کر سو چکے ہیں۔ یہ وقت تھا بھی تو گہری نیند کا۔

    صحن میں بچھی ہوئی چارپائیوں پر سارا کنبہ سکون کی نیند سو رہا تھا۔ صحن میں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ برآمدے میں ایک کم واٹ کا بلب اندھیرے سے مردانہ وار لڑ رہا تھا۔ وہ محتاط انداز سے چلتا ہوا برآمدے میں پہنچا اور ایک بڑے سے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے جیب سے ٹارچ نکال کر جلائی تو کمرہ ایک دم سے روشن ہو گیا۔ ٹارچ چھوٹی ضرور تھی، مگر تھی بڑے کام کی۔

    انوکھا چور

    اس کی نظریں لوہے کی الماری پر جا کر رک گئیں۔ شاید وہی اس کا نشانہ تھی۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھ کر رک گیا۔ اس نے جیب سے ایک مڑی تڑی آہنی تار نکالی، الٹے ہاتھ میں ٹارچ پکڑی اور سیدھے ہاتھ سے وہ تار ماسٹر کی چابی کے سوراخ میں ڈال دی۔

    وہ اپنے کام کا ماہر لگتا تھا، جبھی تو اس نے منٹوں میں لاک کھول لیا۔  

    نوٹوں کی دو تین گڈیاں وہاں رکھی تھیں، جو اب اس کی جیب میں تھیں۔ پھر وہ چپکے سے بیرونی دیوار کی جانب بڑھ گیا۔ اس ساری کارروائی میں تین چار منٹ سے زیادہ وقت نہ لگا تھا۔

    باہر آ کر وہ بندروں کی سی پھرتی سے بارہ تیرہ فٹ اونچی دیوار پر چڑھ گیا۔ مگر اچانک ایک دھماکے سے صحن میں آ گرا۔ جلدی بازی میں اس کا توازن بگڑ گیا تھا اور ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔

    اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اہلِ خانہ جاگ گئے۔ وہ بدحواسی کے عالم میں بیرونی گیٹ کی طرف بھاگا۔ گھر والے بھی "چور چور” کا شور مچاتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے۔ لیکن اس دوران وہ گیٹ کھول کر باہر نکل چکا تھا۔

    ایک دو مرد گیٹ سے باہر آئے تو یہ دیکھ کر حیرت سے اچھل پڑے کہ ٹھیکری پہرے دار نے اسے گردن سے پکڑ رکھا تھا اور دھکیلتا ہوا واپس گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔  

    سب نے مل کر اس کی خوب لترول کی۔ اس دوران حیرت انگیز طور پر پولیس بھی اطلاع ملتے ہی پہنچ گئی تھی۔ پہرے دار کی بات سن کر وہ بھی ایک لمحے کو ساکت رہ گئے۔

    اگلے دن اخبار میں خبر لگی تھی:  

    "کل رات گئے ایک چور چوری کرتے پکڑا گیا۔ اہلِ خانہ اور پولیس نے کمال بہادری سے اسے پکڑ کر قانون کے حوالے کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ شخص محلے کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا۔”

    Title Photo by Rajul Sharma

  • دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    جب سے ہوش سنبھالا ابو کو ہمیشہ سنجیدگی میں دیکھا۔ طبیعت میں چستی تھی اور قدموں میں پھرتی مگر چہرہ ہمیشہ خاموش جیسے کسی نہ ختم ہونے والے غور و فکر میں ڈوبا ہوا ہو۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ان کی آنکھ کھل جاتی۔ وضو کر کے مسجد کی طرف روانہ ہوتے اور واپسی پر سورۂ یاسین کی تلاوت ان کا معمول تھا۔ ایک پیالی چائے اور ایک آدھ بسکٹ کے ساتھ دن کا آغاز کرتے اور ٹھیک پانچ بجے گھر سے نکل جاتے۔

    چار گھنٹے کا روزانہ سفر وہ بھی عوامی بس میں جو ہر پانچ منٹ بعد رکتی۔ گرمی، سردی، ہجوم اور تھکن سب ان کے ساتھ سفر کرتے مگر کبھی لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ ذمہ داریوں کا بوجھ اور محنت کی لگن نے ان کے حوصلے کو کبھی پست نہ ہونے دیا۔

    وقت گزرتا گیا۔ مہنگائی نے آہستہ آہستہ پنجے گاڑ لیے۔ آٹھ بیٹیاں اور ایک بیٹا جو بی ایس کا طالب علم تھا گھر کی ضروریات بڑھتی گئیں۔ گزارہ مشکل ہونے لگا۔ ایک دن ابو نے اچانک فیصلہ کیا کہ چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہو سکیں۔

    گاؤں میں ہمارا واحد گھر تھا اور ابو کا سب سے بڑا شوق یہ تھا کہ ان کی بیٹیاں اعلا تعلیم حاصل کریں۔ معاشرے کی تنگ نظری، طعنوں اور رمزیہ باتوں کے باوجود انھوں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ لوگ کہتے،

    “ بیٹیوں کو اتنا پڑھا کر کیا کرنا ہے؟”

    مگر ابو مسکرا دیتے۔

    “علم کبھی ضائع نہیں جاتا۔” وہ مختصر جواب دیتے۔

    انھوں نے نہ دن دیکھا نہ رات۔ رات کے دو بجے روزگار کی فکر میں نکل جانا اور اگلی رات دس بجے تھکے قدموں کے ساتھ لوٹنا یہ ان کی زندگی کا معمول بن گیا۔ گرمیوں کی جھلسا دینے والی لو ہو یا سردیوں کی یخ بستہ ہوا وہ اپنے سکون پر اولاد کے سکون کو ترجیح دیتے رہے۔

    اکثر بھائی ان سے کہتے:

    “ابو جان! آرام صحت کے لیے ضروری ہے۔ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جایا کریں۔ آپ کو دن بھر خون پسینہ بہاتے دیکھ کر دل دکھتا ہے۔”

    بیٹے کے یہ الفاظ ان کے لیے مسکراہٹ کا باعث بنتے۔ ایک لمحے کو یوں لگتا جیسے برسوں کی تھکن کسی نرم ہوا میں بدل گئی ہو۔

    وہ ہمیشہ کہتے،

    “برے وقت کا کوئی علم نہیں ہوتا بیٹا! میانہ روی اختیار کرو اور کام جو بھی محنت سے کیا جائے اس کا ثمر ضرور ملتا ہے۔”

    شاید زندگی کے تلخ تجربات نے انھیں سکھا دیا تھا کہ وقت کے ظالمانہ فیصلوں کے آگے کبھی کبھی سر جھکانا پڑتا ہے مگر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

    دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    اللہ کا کرم ہوا جیسے جیسے تعلیم اور ضروریات بڑھتی گئیں کاروبار میں بھی برکت آنے لگی۔ ایک عام سا ملازم جو کل تک بسوں کی دھول کھاتا تھا اب اپنے کاروبار کا مالک بن چکا تھا۔ ابو کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون دکھائی دینے لگا۔ سنجیدہ آنکھوں کے پیچھے چھپا خواب اب حقیقت بنتا نظر آتا تھا۔

    انھوں نے اپنی خواہشیں جلا کر بچوں کے خواب روشن کیے تھے۔ ان کے دیے کی روشنی کبھی مدھم نہ پڑی۔مگر شاید قسمت کی آزمائش ابھی باقی تھی۔

    زندگی میں ایک ٹھہراؤ آیا ہی تھا کہ تقدیر نے نئی آزمائش کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ مالی خوش حالی کے بعد اب بیٹیوں کے نصیب امتحان میں ڈال دیے گئے۔ ابھی ماں باپ نے سکھ کا سانس لینا شروع ہی کیا تھا کہ ایک دن اچانک شور برپا ہوا۔

    “ابا! مرحا کا آنگن اجڑ گیا ہے…”

    بھائی کی کپکپاتی آواز نے فضا کو چیر دیا۔ لمحہ بھر میں گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ابو کے چہرے کی چمک جیسے کسی نے چھین لی ہو۔ جوانی کی محنت سے کمائی ہوئی روشنی یک دم مدھم پڑ گئی۔

    مرحا کی شادی کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔ ہم سب اسے ہنستا مسکراتا دیکھ کر مطمئن تھے۔ مگر قسمت نے اس کے حصے میں جدائی لکھ دی تھی۔ اس کا گھر ٹوٹ گیا تھا وہ خواب جو ابو نے اپنی ہتھیلیوں پر رکھ کر رخصت کیا تھابکھر چکا تھا۔

    ابو خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھےلیکن آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ شاید آنسو بھی ان کی ہمت سے ڈر گئے تھے۔

    “اللہ کے فیصلے قبول کرنے پڑتے ہیں…” انھوں نے دھیمی آواز میں کہا۔ان اس آواز میں برسوں کی تھکن چھپی تھی۔

    آنگن کے پھول مرجھانے لگے تھے۔ وہ باپ جو دھوپ میں جل کر اولاد کے لیے سایہ بنا رہا آج خود بے سایہ محسوس ہو رہا تھا۔ اس دن پہلی بار لگا کہ ابو بھی انسان ہیں محض حوصلے کا استعارہ نہیں۔

    باپ جیسی ہستی واقعی ان مول ہوتی ہے۔ ان کے قدموں کی دھول میں عجب سی خوش بو ہوتی ہے جو پورے آنگن کو مہکا دیتی ہے۔ ان کی موجودگی زندگی کے کڑے حالات کا مقابلہ آسان بنا دیتی ہے۔اس دن میں نے دیکھا کہ وہ مضبوط شجر بھی اندر سے زخمی ہو سکتا ہے۔

    وقت گزرتا رہا۔ مرحا نے صبر کا دامن تھاما۔ ابو نے ایک بار پھر ہمت باندھی۔

    “بیٹی کا گھر ٹوٹا ہے اس کی زندگی نہیں۔” انھوں نے کہا

    اور یوں وہ پھر سے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔

     اس واقعے کے بعد میں نے ابا کے چہرے پر وہ بے فکری والی مسکراہٹ کبھی نہ دیکھی۔ سنجیدگی پہلے سے گہری ہو گئی تھی جیسے آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے خزاں اتر آئی ہو۔

    پھر بھی وہ ہر صبح فجر کی اذان پر اٹھتے ،وضو کرتے ، مسجد جاتے اور سورۂ یاسین کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہ اب بھی چائے کے ساتھ ایک بسکٹ لے کر زندگی کی بس میں سوار ہو جاتے ہیں۔

    فرق بس اتنا ہے کہ اب میں ان کے چہرے پر سنجیدگی کے پیچھے چھپی دعا کو پڑھ سکتی ہوں۔

    وہ دعا جو ہر باپ اپنے بچوں کے لیے مانگتا ہے۔

    “یا اللہ! میری اولاد کو دھوپ نہ دکھانا چاہے مجھے ساری عمر جلنا پڑے…”

    .

  • شجاع اختر اعوان نے آبائی گھر دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دیا

    شجاع اختر اعوان نے آبائی گھر دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دیا

    اٹک (حافظ عبدالحمید خان)سینئر صحافی، کالم نگار اور ادیب شجاع اختر اعوان کا ایثار والدین کے ایصال ثواب کے لئے آبائی گاوں بولیانوال میں اپنا ذاتی گھر دینی مدرسہ کے لئے وقف کردیا اس حوالے سے خطیب مرکزی جامع مسجد بولیانوال حافظ احسان الحق قریشی بن قاضی شیر محمد قریشی مرحوم کی موجودگی میں گھر کی چابیاں ان کے حوالے کردیں جامع مسجد حنفیہ کی کمیٹی کے اراکین حبیب الرحمن، ماسٹر ملک آفتاب احمد، ملک شعیب و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے شجاع اختر اعوان نے کہا کہ یہ گھر میں اپنے والد بزرگوار سابق کونسلر بہرام خان مرحوم اور والدہ محترمہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے وقف کررہا ہوں تاکہ یہاں پر گاوں کے بچوں کو قرآن کی تعلیم سے روشناس کرایا جاسکے شجاع اختر اعوان علاقہ کی سماجی شخصیت نمبردار ملک منصب خان مرحوم کے نواسے اور سینئر ٹیچر ریٹائرڈملک افضال احمد خان کے بھانجے ہیں انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ میں نے اپنا آبائی گھر دینی مدرسہ کے لئے وقف کردیا ہے تاکہ میرے والدین کو اس کا اجر اور ثواب ملتا رہے

    شجاع اختر اعوان نے آبائی گھر دینی مدرسہ کے لیے وقف کر دیا


    بچے تو مسجد میں بھی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں اگر اس گھر کو بچیوں کا دینی مدرسہ بنادیا جائے اور یہاں پر بچیوں کو قرآن مجید کے ساتھ دینی تعلیم دی جائے تاکہ بچیاں بھی بنیادی تعلیم حاصل کر کے آنے والی نسلوں کو دینی تعلیم کے ذریعے دین اسلام کی راہ دکھا سکیں اور مردوں کے ساتھ خواتین بھی بہتر طریقے سے قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کر کے معاشرہ میں اپنا کردار ادا کرسکیں اہل علاقہ حافظ عبدالحمید خان، ماسٹر ملک افتخار احمد خان , ملک افضال احمد خان ، ملک رفعت حیات، سیف اللہ ملک، ملک ذیشان اشفاق ودیگر نے شجاع اختر اعوان کے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے ان کے کردار کو سراہا ہے اور انہیں مبارک باد دی ہے

  • تجدید عہد

    تجدید عہد

    تجدید عہد

    سدرہ منور 

    وہ اپنے وسیع و عریض لان میں بیٹھا، چہچاتے پرندوں کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔ وہ ان پرندوں کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے سوچ رہا تھا کہ یہ کتنے خوش نصیب ہیں؟ کتنے مطمئن ہیں؟ اور ان پرندوں کو خود سے افضل خیال کر رہا تھا۔

    اداس بیٹھا، زندگی کی الجھنوں میں اُلجھا، اپنی بے ترتیب سوچوں کو بار بار ترتیب دیتا اور ایک ہی نکتے پر اٹک جاتا کہ وہ اتنا بے سکون کیوں ہے؟ ہر وقت سوچوں میں اُلجھا رہتا کہ کیا چیز اسے سکون دے سکتی ہے؟ اور اس بے سکونی کی وجہ ڈھونڈنے میں ہر کاوش ناکام تھی۔

    دنیا کی ہر نعمت اس کے پاس موجود تھی۔ وسیع و عریض گھر، خوابوں جیسے محل میں رہنے کے لیے ہر آسائش میسر تھی۔ بزنس، نوکر چاکر—سب کچھ اللہ نے اسے دیا تھا—لیکن پھر یہ بے وجہ اداسی اور بے چینی کیوں؟

    علی اپنی سوچ کے اسی بھنور میں اُلجھا بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پرسکون آواز گونجی، جس نے اس کے گھنٹوں کے سکوت کو ایک لمحے میں توڑ دیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں سے کسی اندھیری کوٹھڑی میں بند شخص کو روشنی کی ہلکی سی کرن مل جائے۔ وہ بے اختیار اذان کی آواز کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ آواز اسے ایسے محسوس ہوئی جیسے صحرا میں بھٹکے ہوئے مسافر کو ٹھنڈی ہوا کا جھونکا چھو گیا ہو اور بارش کے ٹھنڈے قطرے اس کی روح کو سیراب کر گئے ہوں۔

    نہ جانے دل میں کیا خیال آیا کہ وہ اٹھا، وضو کیا اور مسجد کی طرف چل پڑا۔ اسے خود یاد نہیں تھا کہ وہ آخری دفعہ مسجد کب آیا تھا۔ مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ وہیں بیٹھ گیا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔

    اتنا رویا کہ مسجد کے خالی صحن کے سکوت کو اس کی ہچکیاں توڑنے لگیں۔ اتنے میں کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اُس نے اس ہاتھ کے لمس میں ایک عجیب شفقت محسوس کی اور اپنا چہرہ اوپر اٹھایا۔

    جس شفیق ہاتھ کے لمس کو وہ محسوس کر رہا تھا، اس شخص کا چہرہ کتنا پرسکون اور اطمینان سے بھرپور تھا! پرانے مگر صاف اُجلے سفید کپڑوں میں ملبوس اس 80 سالہ بزرگ کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی اسے عجیب اپنائیت اور انسیت محسوس ہوئی۔

    “کیا بات ہے، بیٹا؟ کیوں اتنے بے قرار ہو؟” بابا جی نے شفقت بھرے انداز سے علی سے پوچھا۔

    علی، بابا جی کے اس سوال پر ایک جھٹکے میں، ایک ہی سانس میں بولنا شروع ہوا:
    “بابا جی! میں اتنا بے سکون کیوں ہوں؟ میرے دل میں یہ بے قراری کیوں ہے؟ میں کیوں خوشی کی لذت سے محروم ہوں؟”

    بابا جی چپکے سے اٹھے، مسجد کے ٹھنڈے کولر سے پانی کا ایک گلاس بھرا اور علی کے ہاتھ میں تھما دیا۔ علی نے ایک ہی سانس میں پانی ختم کیا، اپنی ہچکیوں کے طوفان کو روکا اور بابا جی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے اُن کے جواب کا منتظر رہا۔

    تجدید عہد

    بابا جی، علی کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے بولے:
    “بیٹا! کیا تم جانتے ہو کہ ہماری زندگیوں سے اطمینان، سکون اور خوشی کب رخصت ہوتے ہیں؟ جب ہم اپنی اصل کو بھول جاتے ہیں، جب ہم اپنے مقصدِ حیات کو پیچھے چھوڑ کر جھوٹی، مصنوعی اور عارضی چمک دمک میں کھو جاتے ہیں۔
    یہ عارضی چمک ایسی پُرکشش ہے کہ یہ کروڑوں انسانوں کو نگل چکی ہے اور آئندہ بھی نگلتی رہے گی۔ اس مصنوعی دنیا میں تمہیں سب کچھ مل جائے گا، جس سے تمہیں جسمانی سکون، آسائشیں، خوبصورتی، جاہ و جلال سب مل جائے گا، مگر تمہاری روح بھوک اور پیاس سے مر جائے گی۔
    جب انسان مٹی کے بت کی تسکین کے لیے تمام آسائشیں مہیا کرنے میں مصروف ہو جائے اور اس بت میں زندگی کی روانی کی شرط، یعنی روح، کو بھول جائے، اسے بھوک اور افلاس کے سپرد کر دے، تو بیٹا! پھر یہ بے اطمینانی اور بے سکونی ہماری زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔
    یاد رکھو! دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ جب ہمارے دل، ہمارے دن اور راتیں اللہ کے ذکر سے خالی ہو جاتے ہیں تو پھر ہماری زندگیوں میں ایسی ہی ویرانیاں آتی ہیں۔ دلوں کا سکون ہمیں تبھی میسر آئے گا جب ہم صرف مٹی کے بت کے پجاری نہ بنیں، خواہشاتِ نفس کے تابع نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول صل اللّهُ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کے تابع ہو کر زندگی گزاریں۔
    جب ہم زندگی کو اس کے اصل اور حقیقی ٹریک پر واپس لے آئیں، جب ہم اپنے خالق اور مالک کی بندگی کا حق ادا کرنے لگیں، تو انسان اپنے مقصدِ حیات سے روشناس ہو جائے، تو اردگرد چاہے پت جھڑ کا موسم ہو، لیکن دلوں میں بہار کی وہ تازگی مہکتی ہے جو ہمارے دلوں اور روح کو مہکا دیتی ہے، اور اس تازگی کے اثرات ہماری زندگیوں میں نظر آتے ہیں۔
    میرے بچے! اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا۔ تم اگر آج اللہ کے گھر میں چل کر آئے ہو تو یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں سکون دینے چاہتے ہیں، تمہیں اصل مقصدِ حیات سے روشناس کروانا چاہتے ہیں۔”

    بابا جی کی باتیں سن کر علی کے چہرے اور دل میں خوشی کی جو لہر تھی، وہ آج سے پہلے کبھی نہ تھی۔

    “بابا جی! میں کتنا غافل تھا، کتنا بے خبر تھا، کتنا نادان تھا جو اس بات کو سمجھ نہ سکا کہ دلوں کا سکون کس چیز میں ہے۔ میں نے ہر اُس چیز میں سکون ڈھونڈنے کی کوشش کی جو مجھے میرے رب سے دور کر رہی تھی۔ میں یہ کیوں بھول گیا کہ سکون تو صرف رب کے قرب میں ہے؟ میں ان شاءاللہ اپنی زندگی کو نئے انداز سے شروع کروں گا اور ایک تجدیدِ عہد کے ساتھ زندگی کے اس سفر کا آغاز کروں گا، وہ عہد جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے وقت آدمؑ سے لیا تھا۔”

    علی کی باتیں سن کر بابا جی کے چہرے پر ایک اطمینان بھری مسکراہٹ تھی۔ علی تشکر بھری نگاہوں سے بابا جی کی طرف دیکھتے ہوئے ایک پرجوش مصافحے کے بعد مسجد سے باہر نکلا۔

    اس کے چہرے کا سکون بتا رہا تھا کہ اسے اپنے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔ ہونٹوں کی جنبش ظاہر کر رہی تھی کہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ قدموں کی آہٹ بتا رہی تھی کہ بھٹکے ہوئے مسافر کو منزل کا راستہ مل گیا۔

    ہم سب کو ایک ایسے ہی تجدیدِ عہد کی ضرورت ہے جس کے بعد زندگی اس ڈگر پر آ جائے جو ہمیں رب کی رضا کے حصول اور کامیابی کی طرف لے جائے۔

    .

  • نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    Dubai Naama

    مغربی ممالک میں سیٹل ہونا، پاکستان کے بہت سے نوجوانوں کا خواب ہے۔ پاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ وسائل اور دولت کی ناہموار تقسیم ہے۔ اس وجہ سے غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہیں۔ ہمارے ہاں یہ غرباء اور متوسط طبقہ کے لوگ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیئے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ وہاں رہنے کا خواب بہت سے امیر لوگ بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے پیچھے مغربی آزادی اور وہاں ایک محفوظ ٹھکانہ بنانا ہے۔ اگر پاکستان دہشت گردی سے پاک ہو اور خاطر خواہ امن و سلامتی قائم ہو جائے تو یقین مانیں پاکستان میں جنت نظیر زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ لیکن ابھی اس منزل تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ بھارت کے خلاف جنگ نے پاکستان کو فتح کے بدلے میں یہ موقع فراہم کیا کہ اب ہر میدان میں پاکستان تیز رفتاری سے ترقی کر سکتا ہے۔

    اگر ان امیر ممالک کا سفر بھی کیا جائے تو وہاں سیٹل ہونے میں بھی دو نسلوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم اس حوالے سے برٹش پاکستانیوں کی حالت زار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سچی بات ہے کہ ہجرت صرف سرحد عبور کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل خراش منازل سے گزرنے کا عمل ہے۔ بہت سی خوشحال پاکستانی فیملیوں کو صرف اس وجہ سے بے حال دیکھا کہ ان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود وہ اپنی اولادوں سے تنگ اور نالاں نظر آئے۔ ماں کی آغوش، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور آبائی گھر کو خیرباد کہنا آسان نہیں ہوتا۔نوجوان طلباء اور روزگار کی تلاش میں ہم مادر وطن کو دل پر بھاری پتھر رکھ کر چھوڑ تو دیتے ہیں اور گھر میں خوشحالی بھی آ جاتی ہے مگر اسی دوران کچھ ایسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہماری بقیہ زندگی پر دکھ اور غم و الم کے گہرے نشانات چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ خواب دیارِ غیر میں دفن ہو جاتے ہیں، اور کچھ نسلوں کے کندھوں پر ادھورے خوابوں کا بوجھ لاد دیتے ہیں۔

    پاکستان سے ہجرت کرنے والے لوگ امریکہ، یورپ، کنیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ میں بھی مقیم ہیں۔ لیکن برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی داستان ایک ایسی گمشدہ نظم کی مانند ہے، جس کے پہلے مصرعے میں محنت کی آہٹ ہے اور دوسرے میں قرب کی دھڑکن ہے۔ 9 سال تک لندن میں رہنے اور وہاں ایک سیکورٹی کمپنی میں جاب اور دیگر شہروں کے وزٹ کے دوران مقامی پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ برطانوی پاکستانیوں کے بارے میں جو عمومی تصور پایا جاتا ہے، وہ مکمل سچ نہیں ہے۔ ہر فرد کے الگ خواب، تجربات اور تشریحات ہیں۔ ہر کوئی خوش حال ہے نہ خوش ہے، ان میں سے کوئی سمجھتا ہے کہ ہجرت اس کے لئے نشانِ منزل تھی، کسی کو اس پر پچھتاوا ہے، اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو "کنفیوژن” کا شکار ہے، جس کو واپسی کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مستقبل کی منزل دکھائی دیتی ہے۔

    سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کی کہانی صرف ہجرت، محنت اور قربانی کی داستان ہی نہیں، بلکہ یہ دو تہذیبوں کے بیچ پسے ہوئے لوگوں کا ایک المیہ ہے جو آئندہ نسلوں کے لئے ایک "انتباہ” کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی نسل، وہ مہاجر مزدور ہیں جنہوں نے سنہ 1960ء اور 70 کی دہائی میں برطانیہ کا رخ کیا۔ ان کی زندگیاں فیکٹریوں، برفیلے ریلوے اسٹیشنوں اور بسوں میں گزر گئیں۔ ان کا واحد خواب یہی تھا کہ آنے والی نسل کو ایک بہتر مستقبل نصیب ہو۔ کچھ لوگوں کے خواب پورے بھی ہوئے۔ لندن کے میئر صادق خان کا والد بس ڈرائیور تھا، سعیدہ وارثی کے والد کارخانے میں مزدور تھے۔ برطانیہ میں "بیسٹ ویز کیش اینڈ کیریز” کے مالک سر انور پرویز ابتداء میں بس ڈرائیور تھے۔ "یعقوب اینڈ سنز” نے بھی ترقی کا سفر نیچے سے اوپر کی طرف کیا۔ جبکہ سابقہ ممبر برٹش پارلیمنٹ اور "یونائٹڈ کیش اینڈ کیریز” کے مالک چوہدری محمد سرور ایک فیکٹری ورکر تھے، جو بعد میں دو بار پنجاب کے گورنر بھی رہے۔ اسی طرح لارڈ نذیر بھی عام ورکر تھے جنہوں نے ترقی کرتے کرتے لارڈ شپ کی منزل کو پایا۔ لیکن "ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں”، ٹھہر سکتا ہے۔ برطانیہ میں تارکینِ وطن ابتدا میں اپنے خاندانوں کو پاکستان سے ہی چلاتے رہے، پھر وقت کے ساتھ انہیں بھی برطانیہ بلوا لیا۔ بعض نے خوب پونڈ کمائے اور پاکستان میں بلا ضرورت خرچ کر دیئے۔ آج آپ میرپور آزاد، کشمیر یا جہلم جائیں تو دیکھیں گے کہ وہاں بلا مصرف کروڑوں اور اربوں روپے کے بنگلے ویران پڑے ہیں۔ برطانیہ آنے والوں نے دو براعظموں کی تہذیبوں کے درمیان پُل باندھنے کی کوشش کی، لیکن سوچوں میں اتنا فاصلہ تھا کہ دونوں کناروں پر مضبوط ستون نہیں اٹھ سکے۔ یہ نسل اپنے بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر خوش بھی ہوتی رہی، اور خود کو تنہا بھی پایا۔ اس کشمکش میں وہ اندر ہی اندر خوف زدہ رہے اور دو تہذیبوں کے بیچ بے گھر ہو گئے۔ نہ پاکستان میں کچھ رہا نہ برطانیہ میں کچھ حاصل ہوا۔

    برطانیہ میں آج پاکستانی نژاد افراد کی آبادی تقریباً 1.9 ملین (19 لاکھ) ہے، جو کل آبادی کا 2.8 فیصد بنتی ہے۔ یہ کمیونٹی زیادہ تر برمنگھم، بریڈفورڈ، مانچسٹر، لوٹن، پیٹربرو، نوٹنگھم اور لندن کے مضافات میں آباد ہے۔ پہلی نسل کا جو خواب ترقی، سکون اور آسائش کا تھا، وہ دوسری نسل کے لئے بحران بن گیا۔
    پاکستان میں رہنے والوں کو شاید اندازہ نہیں کہ برطانیہ میں نئی نسل کے پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت تعلیم، روزگار اور سماجی ہم آہنگی میں پیچھے رہ گئی ہے۔

    2023ء کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق، کئی علاقوں میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کی تعلیمی کارکردگی قومی اوسط سے نیچے رہی۔ خاص طور پر بریڈفورڈ اور اولڈھم میں نئی برٹش پاکستانی نسل میں نہ تعلیم، نہ ملازمت اور نہ ہی تربیت ہے۔ اس کی شرح تشویش ناک ہے۔

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    مزید یہ کہ کچھ نوجوان جرائم، گینگز، اور منشیات کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ پیٹربرو میں کمیونٹی لیڈران آپ کو انہی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ملیں گے کہ کیسے نوجوانوں کو ان گینگز سے نکالا جائے، اور دوسرے نوجوانوں کو ان کے راستے پر چلنے سے روکا جائے۔ لیکن کسی کے پاس بھی کوئی حتمی رائے یا حل نہیں ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ خرابیاں بطور کمیونٹی نہیں، بلکہ برطانوی نظام کی ناکامی ہے، یہ وہ نوجوان ہیں جو یہاں ہی پیدا ہوئے، یہاں ہی پلے پوسے، ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو کبھی پاکستان گئے ہی نہیں اور گئے بھی ہیں تو ایک دو بار۔ اگر یہ خرابی کی طرف گئے بھی ہیں تو اپنے برٹش ہم رکابوں کے اکسانے پر۔ یہ سارا بوجھ نظام پر نہیں ڈالا جا سکتا، والدین کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، یہ نوجوان اعلی تعلیم یافتہ بھی نہیں اور نہ ہنر مند ہیں، بس انگریزی بول لیتے ہیں، وہ تعلیم اور ہنر تو نہ ہوا۔ ان کا انگریزی لہجی بھی بڑا عجیب و غریب اور "سلینگ” سا ہوتا ہے۔ پاکستانی برٹش بارن انگریزی بولتے وقت کچھ اور نسل ہی لگتے ہیں۔ نہ وہ دیسی پاکستانی معلوم ہوتے ہیں اور نہ وہ پکے انگریز دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں "کاٹھے انگریز” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جب تعلیم و ہنر اور محنت کا جذبہ نہیں ہو گا تو باعزت روزگار نہیں ملے گا، تو اس نے خرابیوں کی طرف جانا ہی جانا ہے۔
    2021ء میں مانچسٹر، لیڈز اور بریڈفورڈ کی پولیس رپورٹس میں چاقو زنی، منشیات کی ترسیل، اور گینگ وائلنس میں ملوث نوجوانوں میں پاکستانی نژاد افراد کا ذکر نمایاں ملے گا۔
    پھر وہ بدنام زمانہ "گرومنگ گینگز” اسکینڈل سامنے آیا، روتھرم، ٹیلفورڈ، ہڈرزفیلڈ، روچڈیل، اوکسبرج، اور نیوکاسل جیسے شہروں میں ایسے دل خراش انکشافات ہوئے جن میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کے ملوث ہونے سے پوری کمیونٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔ حالانکہ یہ چند افراد کے انفرادی جرائم تھے، مگر میڈیا اور بھارتی لابیوں نے اسے پوری قوت کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی کے خلاف استعمال کیا۔
    نتیجتاً پاکستانی نوجوانوں کے خلاف نفرت، سوشل میڈیا مہمات، حتیٰ کہ "اسلاموفوبک” حملوں میں اضافہ ہوا۔ سیاسی ایوانوں میں مخالفانہ تقریریں ہوئیں اور سڑکوں پر مظاہرے بھی ہوئے۔
    پریس کی سرخیاں ہوں یا عوامی تاثرات، "ایشین گینگ”، "منشیات فروش”، اور "ریپ کلچر” جیسے الفاظ پوری کمیونٹی پر بدنما داغ بن کر چپک گئے، خاص طور پر کنزرویٹو ذہنیت کے گورے پاکستانیوں کے لئے واپس بھیجو کی مہم چلاتے رہے اور وقتا فوقتا اس میں تشدد بھی شامل ہو جاتا تھا جو تشویش ناک ہے۔ جس پر وہاں سنجیدہ حلقوں کو آج بھی خاصی تشویش ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان وجوہات پر غور کیا جنہوں نے ان بچوں کو اس راہ پر دھکیلا؟ کیا یہ صرف ان کی کوتاہی ہے یا برطانوی نظام کی ناکامی؟ کیا کبھی پاکستانی سفارت خانے نے کمیونٹی مسائل پر سنجیدہ غور کیا۔ کمیونٹی کے نمائندوں سے کبھی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، یا انہیں کبھی سمجھانے کی کوشش کی؟
    جن نوجوانوں نے یہاں آنکھ کھولی، انگریزی میں سوچا، وہ آج بھی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ نہ مکمل "برٹش” ہیں، نہ "پاکستانی” ہیں۔ اسکولوں میں نسلی تعصب، سڑکوں پر "واپس جاؤ” کی آوازیں، اور گھروں میں ثقافتی ٹکراؤ انہیں الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ اس مد میں پاکستانی فیملیوں کو بچوں کی شادیوں کا مسئلہ لاحق ہے جن میں 70فیصد تک طلاق ہو جاتی ہے۔

    لندن اور نوٹنگھم کے پارکوں میں واک کے دوران نکلو تو رات گیارہ بجے کے بعد ٹرام بند ہو جاتی ہے تو وہاں گینگسٹرز کا راج قائم ہو جاتا ہے، جن میں ہمارے ایشیائی نوجوان بھی شامل ہیں۔”

    برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مستقل ہجرت کرنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے۔ وہاں بہت سے لوگ "نسل پرستی” کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ وہاں "مگنگ” اور چاقو زنی بھی ہوتی ہے اور کالے لوگ راہ گیروں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اور وہاں جسم فروشی بھی ہوتی ہے۔

    ایک دفعہ ایک پاکستانی نوجوان سے لندن کناری وارف میں ملاقات ہوئی، جو فٹبال ٹیم کے ساتھ آیا تھا۔ میں نے اس سے سوال کیا، تو وہ کہنے لگا، "میرے والدین مجھے پاکستانی بنانا چاہتے ہیں، اسکول والے مجھے برٹش نہیں مانتے، اور میں خود کو کچھ بھی نہیں سمجھتا۔” یہی شناخت کا بحران، یہی خلاء، کئی ذہنوں کو اندھیرے میں لے جاتا ہے۔ پہلی نسل کی قربانیوں کی حفاظت کے لیے دوسری نسل کو تعلیم، تربیت اور رہنمائی دینا ضروری ہے لیکن توازن کے ساتھ۔ انہیں مجرم نہیں، ایک بگڑے ہوئے خواب کی تعبیر سمجھ کر سنوارنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔
    ورنہ ہجرت کی یہ داستان ایک اور ادھورا باب بن کر تاریخ کے ملبے تلے دب جاتی ہے۔ جہاں خواب تو تھے، تعبیر نہ ملی، نسلیں تھیں، مگر زبانیں جدا۔ خیر ایسا سب کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بہت سے ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی تقدیر بدل گئی۔ وہ وہاں آج بھی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ بس ساری بیماریوں کا ایک ہی حل ہے کہ نوجوانوں کو یونیورسٹیوں تک پہنچایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں تارکین وطن کے لئے یہ وقت صرف افسوس یا شکوے کا نہیں، بلکہ اقدام کا ہے۔ اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور مساجد کو مل کر نئی نسل کی ذہنی رہنمائی، تربیت اور ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ بدقسمتی سے پاکستانی کمیونٹی میں نہ کوئی مشترکہ تنظیم ہے اور نہ ہی اتحاد کی فضا۔ مسلک پرستی نے یہاں بھی، بالکل پاکستان کی طرح، کمیونٹی کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ مولوی حضرات نے لوگوں کو جوڑنے کی بجائے پارہ پارہ کر دیا۔ ایک دفعہ ایک کمیونٹی اجلاس میں جس میں پیٹربرو کا سابق مئیر اور اس وقت کا ایک کونسلر بھی موجود تھا، جن میں ایک سابق کونسلر ایسا بھی تھا جو 1965ء میں برطانیہ آیا تھا، ایک دوسرے کو صرف اس وجہ سے کوس رہے تھے کہ یہاں چھ ہزار ہندوں نے اپنے لئے کمیونٹی سینٹر لے لیا لیکن 30 ہزار مسلمانوں کے لئے ابھی تک کمیونٹی سینٹر نہیں بنا۔ لندن کی ایک بڑی مسجد میں عیدالاضحیٰ کے روز دو گروپوں کے درمیان دھینگا مشتی بھی دیکھی۔ اگلے جمعہ کے روز، جب ہم چند دوست وہاں تھے، تو دیکھا کہ مسجد کے منبر سے گزشتہ واقعات کی مذمت کی جا رہی تھی۔

    دوسرے یورپی ممالک کی طرح، برطانیہ میں مسجد کی تلاش میں دور دراز جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خاص طور پر لندن میں جگہ جگہ مسجدیں ہیں۔ سنٹرل لندن، سٹریٹفورڈ، ال فورڈ، لیٹن سٹون، لیٹن، سینٹرل لندن، پیکاڈلی اور والتھم سٹو وغیرہ کی تقریبا تمام مساجد میں جمعہ پڑھنے کا موقع ملا۔ ماشاءاللہ ایک ہی گلی یا محلے میں دو دو مساجد بھی دیکھیں، اور وہاں تقریباً ہر مسلک کی نمائندگی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر پیٹربرو کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے۔
    لیکن یہ مساجد دین کی اشاعت کی بجائے مسلکی تفریق کی علامت بن چکی تھیں۔ ہر محلے میں ایک مولوی ایسا ضرور موجود تھا جو اپنی تقریر سے مسلمانوں کی تعداد کم کرنے پر تُلا ہوا لگتا تھا۔ میں جس مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتا، وہاں کے خطیب اردو اور پنجابی میں تقریر فرما رہے ہوتے تھے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اہم عالمی مسلم مسائل سے صرفِ نظر کر کے وہ بار بار "منافق” کی تعریف بیان کر رہے ہوتے تھے۔ ان کی مثالوں اور اندازِ بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہوتا تھا کہ وہ کس فرد یا طبقے کو مخاطب کر رہے ہیں۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد بظاہر سینکڑوں میں ہوتی تھی، لیکن ان کی گفتار، لباس اور عمومی بود و باش سے یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں علم، تہذیب، سائنس و ٹیکنالوجی اور فکری قیادت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ نماز کے بعد جب میں مسجد سے باہر نکلتا تھا تو گلی کے دوسرے کونے پر اسی مسلک کی ایک اور مسجد نظر آتی تھی۔ ایک ہی مسلک کی دو الگ الگ مساجد بھی نظر آتی تھیں۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں اب مسجدیں مسالک سے بھی آگے نکل گئی ہیں، چوہدریوں کی مسجد، راجوں کی مسجد جاٹوں کی مسجد، وغیرہ وغیرہ اور تب اسی پر تلخی بھی ہوتی دیکھی اور لڑائیاں بھی۔

    اس صورت حال کے پیش نظر آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان میں باعزت روزگار ہے تو قید تنہائی کاٹنے سے اپنا ملک، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی قربت ہی بہتر ہے کہ وہاں جا کر میں اکثر فکر مند رہتا تھا کہ برطانیہ میں پیسہ تو اکٹھا کر لیا مگر بہت کچھ کھو بھی دیا۔ بہت سے ایسے رشتے اس 9 سال کے عرصے میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کئی بار پریشان ہوتا تھا تو سوچتا تھا کہ پونڈوں کا بھرا بریف کیس "دریائے تھیمز” میں پھینک کر واپس پاکستان چلا جاؤں مگر پھر پاکستان کی غربت اور بے روزگاری یاد آتی تھی، نہ لندن رہنے کو جی کرتا تھا اور نہ واپس پاکستان آنے کو۔ یہ دنیا داری اور امیر بننے کی خواہش ایسی ذہنی کشمکش تھی جو "نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم” سے ملتی جلتی ہے۔ انگلینڈ میں رہنے کو یاد کرتا ہوں تو آج بھی ایک عجیب و غریب سی ذہنی بیگانگی محسوس ہوتی ہے۔

    Title Image by CHÂU VIỄN from Pixabay

  • چھنو، بنو اور دھوکا

    چھنو، بنو اور دھوکا

    چھنو، بنو اور دھوکا


    کہانی کار: سید حبدار قائم

    گلہریوں کا سارا خاندان خوشحال تھا وہ جنگل میں اکھٹی رہ رہی تھیں مل کر پھل کھاتیں درختوں پر اُچھل کُود کرتیں اُن کی آواز سارے جنگل میں گونجتی رہتی جو سب کے لیے خوشی کا باعث تھی دن اسی طرح گزر رہے تھے ان سب میں دو گلہریوں کی آپس میں بہت دوستی تھی جن کے نام بنو اور چھنو تھے بنو جنگل کے سردار قبیلے جب کہ چھنو غریب قبیلے سے تعلق رکھتی تھی مگر وہ جہاں بھی جاتیں اکھٹی جاتیں مختلف درختوں سے پھل کھاتیں جنگل میں سے گزرنے والے راستے پر اکھٹی کھیلتی کودتیں اور اپنی خوبصورت آواز سے ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرتیں چھنو کا گھر جنگل کے ساتھ ہی ایک مسجد کے درخت پر تھا جو گاوں کی طرف جانے والی سڑک پر تھی


    ایک دفعہ دونوں کھیلنے کے بہانے باہر نکلیں تو بنو نے جو دوڑنے میں بہت تیز تھی اس نے چھنو سے کہا کہ آج درخت سے دور ہٹ کر کھیلیں گی تو چھنو نے انکار کرتے ہوۓ کہا کہ شاھین کی نظر پڑ گئی تو وہ اُنہیں کھا جاۓ گا لیکن بنو کو یہ بات اچھی نہ لگی اور غصے سے پاگل ہو گئ بنو اُسے انکار کرنے پر سزا دینے کا سوچنے لگی اور اس کا غصہ انتقام سے ہی ٹھنڈا ہو سکتا تھا بنو گلہریوں کے سردار قبیلے سی تھی جب کہ چھنو کا تعلق غریب گھرانے سے تھا
    بنو نے گھر میں جا کر اپنی امی کو بتایا تو اس کی ماں رحم دل گلہری تھی اس نے بنو کو بہت سمجھایا کہ کوئ بات نہیں چھنو نے انکار کر کے دونوں کی جان بچائ ہے اس لیے دل میں انتقام لینے کا کبھی خیال نہ لانا
    بنو وقتی طور پر ٹھنڈی ہو گئ لیکن دل ہی دل میں سوچتی رہی کہ کیسے انکار کا بدلہ لیا جاۓ

    چھنو، بنو اور دھوکا


    بنو نے ایک نئے گلہری سے دوستی کر لی اور اپنے دل کی بات بھی بتا دی کہ چھنو کے ساتھ کیا کرنا تھا نیا گلہری بہت سمجھ دار تھا اس نے دل میں سوچا کہ آج یہ چھنو کو سزا دے رہی ہے تو کل اس کی باری ہو گی
    بنو نے نئے دوست سے اگلے دن چھنو کو باہر بلانے کا کہا اور دل ہی دل میں سزا دینے کا سوچا درخت سے ہٹ کر زمین میں چھپنے کے لیے صرف دو بل موجود تھے جہاں چھپا جا سکتا تھا چناں چہ اگلے دن تینوں سردی سے بچنے کے لیے اس کھلی جگہ پر بیٹھ گئے جہاں دو بل نزدیک تھے اور کھیل کود میں مصروف ہو گئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ شاھین نے بہت تیزی سے حملہ کیا تو اتفاق سے چھنو ہی اس کے مضبوط پنجوں میں آ گئ اُس کا پنجہ زمیں پر لگا جس کی وجہ سے اُس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی اور جوں ہی وہ اڑا اور بلند ہوا تو گلہری اس کے پنجے سے گر گئ اور نیچے ایک درخت میں اٹک گئ دوسری طرف دونوں گلہریاں بل میں گھس گئی تھیں جو بلا ٹلنے پر باہر نکل آئی تھیں بنو خوشی سے پاگل ہو رہی تھی اور اُس کا نیا دوست پریشان تھا دوسری طرف شاھین کا غصہ بہت زیادہ ہو گیا تھا کیوں کہ شکار اس کے پنجے سے نکل کر گر گیا تھا اس نے دوبارہ حملہ کرنے کا سوچا اور پھر تیزی سے اسی سمت میں پرواز کی جہاں میدان میں دونوں گلہریاں کھیل رہی تھیں وہ دونوں کی طرف جھپٹا اور بنو کو اپنے پنجوں میں لے کر اڑا اس دفعہ اس نے بالکل غلطی نہ کی اور بنو کو مضبوطی سے پکڑا اور بجلی کے تاروں پر بیٹھ کر اُس کا گوشت کھایا اور خدا کا شکر ادا کیا
    چھنو قریبی درخت پر گری تھی جو نرم پتوں کی وجہ سے بچ گئ تھی اور یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی کہ کس طرح خدا نے اسے بچا کر بنو کو دھوکے کی سزا دی ہے اسے دل ہی دل میں اپنی امی کی بتائی ہوئ حدیث یاد آئی جو اس نے اپنے گھر میں بیٹھ کر امام مسجد سے سنی تھی جو درج ذیل ہے
    رسول اکرم ﷺ نے فرمایا !
    ”جو شخص دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں“
    ( صحیح مسلم حدیث نمبر 192۔ 191)
    لیکن بنو چھنو کو دھوکا دے کر اپنے پیارے آقؐا کی بات نہ مان کر سزا پا چکی تھی


    پیارے بچو !
    دھوکا دینے والے شخص کو اللہ اور اس کے پیارے حبیب حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے ناپسند فرمایا ہے اس لیے کسی کو دھوکا نہیں دینا چاہیے اور آپس میں مل جل کر رہنا چاہیے کیوں کہ مل کر رہنے میں ہی کامیابی ہے

  • حل

    حل

    کسی سلطنت میں بدانتظامی کی وجہ سے عوام بہت ناراض تھی۔ جگہ جگہ تنظیمیں بغاوت کررہی تھی۔ ہمیشہ نیوٹرل رہنے والی ”دانشورجماعت“ بھی کھل کر سامنے آگئی تھی۔ پریشان ہوکر سلطان نے اپنے سیاسی صلاح کار سے صلاح لینی چاہی۔ صلاح کاربڑاہی تہذیب کار تھا۔اس کی صلاح پر سلطان نے اپنے خاص جاسوسوں کو حکم دیا کہ سلطنت کے سبھی ہندومندروں میں بڑے کا گوشت گرودواروں اور مسجدوں میں سورکاگوشت پھینک دیاجاے اور دوچار عیسائی پادریوں کا قتل اور ننوں کا ریپ کردیاجائے۔ اس کے علاوہ دانشورجماعت کے بیچ بحث کے لیے کوئی مدعا اچھال دیاجائے۔

    sultan
    Image by klimkin from Pixabay

    سلطان کے حکم کی ہوبہوتعمیل ہوئی۔ دانشورجماعت بحثوں میں الجھارہی۔ رعایا آپس میں ہی لڑنے مرنے لگی اور تواریخ میں اس سلطان کانام ایک عقل مند سلطان کے نام سے درج ہوگیا۔

    aalok-kumar-

    آلوک کمار ساتپوتے

    افسانہ نگار

    چھتیس گڑھ صوبہ کے سرکاری رسالہ کے مدیرکے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    ہندوستان کے تمام پروگیسیو اخبارات و رسائل میں افسانے شائع ہوچکے ہیں

  • عرب میں آمدِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

    عرب میں آمدِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

    آج سے چودہ سو سال قبل کائنات جب کفر و شر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مستور تھی زندگی کے آئینہ خانے میں کہیں وحدت کے رنگ نظر نہیں آتے تھے۔ جابر حکمرانوں کے ہاتھوں میں وقت کی طنابیں تھیں۔ شبِ سیاہ نے پر نور سحر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ عرب کے دروغ گوئی کے رسیا جہالت کی وادی میں بھٹک رہے تھے۔ کمزوروں یتیموں اور بے بسوں کو نویدِ حیات کا مژدہ سنانے والا کوئی نہ تھا۔

    نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ مئے نوشی ان کی رگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایسے حالات میں رحمت ستارالعیوب نے جوش میں آکر رنگ بدلا اور کائنات کے ذرے ذرے کو ایک نئی ضیا عطا کر کے حضرت بی بی آمنہ ؑ کے پاک آشیاں پر ایک  شفیعِ اعظم، نبی مکرم، رسولِ معظم ، پیغمبرِاکرم ، رہبرِ کامل ، بدر منیر ، بشیر و نذیر ، سراج منیر ، سیدِ ابرار ، مدنی تاجدار ، حبیب غفار ، شافع یوم قرار ، قدرِ انجمن لیل و نہار اور آفتاب نو بہار کی ضیا بخشی جس کے حسن و جمال کے متعلق اللہ غفار الذنوب اپنی درخشاں کتاب میں کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے :۔

    والضحٰی "یعنی تیرے چاشت کی طرح چمکدار چہرے کی قسم ، تیرے حسنِ زیبا کی قسم ، تیرے جلوہ آرا کی قسم

    القرآن 93-1

    "والیل اذا سجٰی” یعنی قسم ہے اندھیری رات کی طرح بکھری ہوئی زلفوں کی جن کو بوسے تیرے شانے دیتے ہیں۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد  کائنات کے ذرے ذرے کو خوبی و رعنائی عطا کرنے کا باعث بنی ۔ آپ ہی کے نور سے پھولوں کی نکہت ، ماہتاب کی تاباں کرنیں اور سارے جہاں کی ضیا پاشیاں ہیں ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اور آپ کی حسیں مسکراہٹ موج کوثر کے وجد کے اضطراب کا نام ہے ، پھولوں کی پھبن ، کلیوں کے بانکپن کا نام ہے اور آفتاب سے پھوٹی ہوئی کرن اور ماہتاب سے چھلکی ضیا کا نام ہے۔

    iattock

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کائنات کے اندھیرے کو ایسی ضیا بخشی کہ عرب میں دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی و بے باکی کے علمبردار بن گئے جو شتربان تھے جہاں باں بن گئے ۔ مظلوموں کو جبر سلطانی سے نجات دینے والے آپ ہیں ۔ کائنات کی سجدہ ریز جبینیں آپؐ اور آپؐ کی پاک آلؑ کا کمال ہے گویا اللہ رب العزت کی پہچان آپ نے کرائی ۔ آپ نے جہاں نماز، روزہ ،حج، زکواہ خمس، جہاد اور دین کے دیگر احکامات کے متعلق روشن تعلیمات سے انسانیت کو نوازا، وہاں آپ نے نماز شب کی تابانیوں جلوہ سامانیوں اور ضیا پاشیوں کے متعلق تعلیمات سے بھی آگاہ فرمایا ۔

    نماز شب کہنے کو تو ایک نفلی نماز ہے لیکن یہ خوشنودی ء رب حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ نمازِ شب کے لیے جب ایک زاہد اٹھتا ہے تو ساری دنیا اپنے لحاف اوڑھے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے۔ نمازِ شب ادا کرنے والا جب رات کی تاریکی میں بڑے وقار اور عاجزی کے ساتھ اٹھتا ہے تو خنک جھونکے اس کا استقبال کرتے ہیں چاندنی رات اسے مبارک باد دیتی ہے اور ستاروں سے بھری دودھیا فضا اسے مژدہ ءجانفزا سناتی ہے۔ مسجد تک جاتے جاتے تمام لطافتیں راستے میں بچھ جاتی ہیں سارا راستہ کہکشاں بن جاتا ہے اور اللہ رب العزت اپنے  فرشتوں سے اسی وقت ارشاد فرماتا ہے  اسی وقت اس لیے کہ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند  ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے پیارے فرشتو ! ذرا دیکھو میرا بندہ کس شان اور عاجزی سے میری طرف بڑھ رہا ہے۔ روئے زمیں سے عرش بریں تک فرشتے اس نمازی کی عاجزی کو دیکھ کر آنحضورؐ کی درخشاں تعلیمات کو یاد کر کے فضا کو درود و سلام کے دل آویز نغموں سے معمور کر دیتے ہیں ۔ نمازِ شب کی طرف بڑھنے والے اس شخص کے ہر قدم اور سانس کو نیکی میں شمار کیا جاتا ہے ۔ مسجد میں پہنچ کر نمازی کو ہر ذرہ دلکشی ورعنائی کا پیکر، ہر شے نور میں ڈھلی ہوئی ، ہر خیال معطر معطر اور ہر تصور گلشنِ بداماں نظر آتا ہے کیو نکہ اللہ جل شانہ اپنی طرف بڑھنے والے اس نمازی کی سوچ اور تصور کو پستیوں سے نکال کر اوج کی طرف لے آتا ہے ۔ کیو نکہ اس وقت اللہ رب العزت اور اس بندے کے درمیان فاصلے سمٹ جاتے ہیں کیو نکہ نمازِ شب ادا کرنے والے کو لذتِ آشنائی کے نوری زینوں پر فائز کیا جاتا ہے اسی لذت کو حضرت اقبال ؒنے بھی محسوس کیا اور یہ شعر رقم کر ڈالا :۔

    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

    عجب چیز  ہے  لذتِ  آشنائی

    مسجد میں پہنچ کر خشوع و خضوع کے ساتھ وضو کرنے کے بعد جب نمازی سبحان اللہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو اس کی آنکھیں بارگاہِ خدا میں  غم سے چھلک پڑتی ہیں۔ وہ گناہوں کا اقرار کرتا ہے اور رحم  کی التجا کرتا ہے۔ اپنے آنسووں سے چشم و دل  خوب منزہ و مطہر کر کے گناہوں کی آلودگیوں سے دامن دل دھو ڈالتا ہے ۔ وہ نہایت عاجزی ، فروتنی اور انکساری کے ساتھ نماز شب کی نیت کرتا ہے تو خطاوں سے درگزر کرنے والا ، آہوں اور اشکوں کی التجائیں سننے والا اور نادم پر اپنی رحمت کی چادر تان دینے والا ربِ کائنات نمازی کی تشنہ نگاہوں کو سیراب کر کے اسکے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور رب العزت اور اس کے پاک فرشتے سوئے ہوئے افراد کو لازمی طور پر یہ کہتے ہوں گے بقول شاعر:۔

    پچھتائے گا ، منزل ہے کڑی ، دیکھ کہا مان

    کچھ زاد سفر باندھ لے  دامان کفن میں

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ نماز شب پڑھنے والے کا دل میں اپنے نور سے منور کر دیتا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ نمازِ شب ادا کرنے والا ہر دلعزیز اور پر کشش شخصیت کا ما لک بن جاتا ہے ۔ اس کے لئے ڈر اور خوف کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ رحمتوں کی گھٹائیں اُس پر برس چکی ہوتی ہیں جن میں نفس کی سب شرارتوں کی آتش بجھ چکی ہوتی ہے نظافتِ روح اس کے نفس کو مطمئنہ کے درجہ پر لے جاتی ہے جہاں نفسِ امارہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔

    نمازِ شب کی اہمیت آنحضورؐ نے مختلف مواقع پر بتائی ہے جس کا ہم تھوڑا تھوڑا ذکر کریں گے۔

    جاری ….

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • میرا گاؤں غریب وال  – 2

    میرا گاؤں غریب وال – 2

    گاؤں کی گلیاں:۔

    گاؤں کی گلیاں82 ۔1981 میں یونیسف ادارے کے تعاون سے بنی تھیں جو کہ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ووٹ لینے والے وعدہ کرتے رہے ہیں لیکن ووٹ کے بعد گاؤں سے چشم پوشی کرتے ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کی گلیاں انتہائی خراب ہیں جن کی مستقبل میں بھی ٹھیک ہونے کی امید نہیں ہے۔ کیوں کہ سیاسی لحاظ سے عوام میں اتفاق نہیں ہے۔

    بجلی کی منظوری :۔

     بجلی 1963 میں شکار پر آئے ہوئے جنرل ایوب خان سے ملک مظفر خان نے منظور کرائی تھی گاؤں میں ٹرانسفارمرز ملک صاحبان کے گھروں کے قریب لگائے گئے جس کی وجہ سے لو ولٹیج کا مسئلہ رہا۔ مدینہ مسجد کے تعمیر کنندہ منظور حسین عرف  صاحب نے درخواست دے کر ایک ٹرانسفارمر اپنے محلے میں لگوایا باقی گاؤں میں اب تک لو وولٹیج کا مسئلہ ہے لیکن حل نہیں کیا جا رہا۔

    گیس کی منظوری:۔

      گیس کی منظوری  2007 میں ملک سمین خان نے کرا کر دی۔ جو کہ ان کا منفرد کام ہے

    واٹر سپلائی:۔

    واٹر سپلائی کا کام ملک مظفر خان کے توسط سے ہوا۔ کیونکہ 1981 میں جب میجر اکبر نرگھی ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے تو انہوں نے غریبوال کی واٹر سپلائی کا یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اس گاؤں میں  چار جُھگیاں ہیں پانی کی ان کو کوئی ضرورت نہیں ہے تو ملک مظفر خان نے لاہور سیکرٹریٹ میں جا کر اس کی منظوری کرا لی اور گاؤں کو پانی سے سیراب کیا۔ جو کچھ عرصہ چل کر خراب ہوگیا اور سیاست گردی کا شکار ہو گیا جو اب ملک عمران نے منظور کرا کر گاؤں کو دوبارہ مہیا کیا۔

    قبرستان:

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ کے مزار کے مغرب کی طرف غیر سادات کا قبرستان جبکہ مزار کے جنوب کے طرف سادات کا قبرستان ہے دونوں کی ٹوٹل لمبائی 116 کنال اور 19 مرلے ہے۔ جن میں لینڈ کمیشن نے 55 کنال اور باقی ملک مظفر خان نے وقف کی ہے ۔لمبائی چوڑائی رجسٹرڈ ہے جس پر کوئی بندہ تعمیر وغیرہ نہیں کرسکتا ۔

    مزارات:۔

    غریبوال میں مندرجہ ذیل مزارات ہیں ۔

     ا۔ حضرت معصوم بادشاہؒ:۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا رحضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں غریب وال میں انوار بانٹ رہا ہے۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ
    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّد زادی سے جبکہ دوسری شادی  اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹوں شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پیر ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سید حاجی امام ؒ، سید شاہ محمد غوث ؒ ،سید محمد شاہ لہری اور سید جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہیں ہوئی جبکہ حضرت سید شاہ محمد غوث اور حضرت سید حاجی امام ؒ سے موج دریا ؒ     کی نسل چلی۔

    حضرت علی اصغر ؒ   جو کہ معصوم بادشاہ کے نام سے مشہور ہیں آپ مادر زاد ولی  متولد ہوئے آپ کو پرانے زمانے کے لوگ ” آنڑاں پیر "کے نام سے پکارتے تھے جبکہ غریبوال تحصیل پنڈی گھیب میں آپ کے روضہ مبارک پر آپ کا نام سیّد غوث شاہ لکھا ہوا ہے آپ حضرت رحمت اللہ شاہ کے ایسے فرزند ہیں جنھوں نے پیدا ہوتے ہی حضرت بی بی مریم علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیسی علیہ اسلام کی سنت ادا کی اور کلام فرمایا کیونکہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو اس وقت آپ کے والد گھر میں موجود نہیں تھے آپ علیہ رحمہ مریدین میں گئے ہوئے تھے یہ واقعہ میری دادی اماں بی بی ستاراں نے ہمیں اس طرح سنایا ہے ” جب معصوم بادشاہ پیدا ہوئے تو ناڑ کاٹنے کے لیے چھری کی ضرورت پیش آئی تو سارے گھر میں چھری ڈھونڈنے کے باوجود نہ ملی دائی اماں نے جب آپ کی والدہ ماجدہ کو بتایا کہ ناڑ کاٹنے کے لیے چھری نہیں مل رہی تو آپ کی والدہ بھی پریشان ہو گئیں والدہ کی پریشانی دیکھی تو آپ نے فورا کہہ دیا کہ چھری آٹا پیسنے والی چکی کے نیچے پڑی ہے آپ کی والدہ اور دائی جہاں حیران ہوئیں وہاں خوشی کی انتہا نہ رہی کہ بچہ مادر زاد ولی ہے اور کس طرح بول پڑا ہے بہرحال دائی نے چکی کے نیچے دیکھا تو چھری واقعہ ہی وہاں پڑی تھی آپ نے چھری لی اور ناڑ کاٹی اور باقی رسوم بچے کی ادا کیں۔

    جب آپ کے والد گھر تشریف لائے تو ان کی زوجہ اور بچے کی دائی نے آپ کو مبارک باد دی آپ نے خیر مبارک کہا اور ساتھ ہی دونوں نے کرامت کا ذکر کیا کہ معصوم بادشاہ نے چھری نہ ملنے پر چھری کی خبر دی ہے۔ آپ کے والد خوش ہوئے اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا برخوردار میرا انتظار بھی نہ کیا اور میری زندگی کے اندر ہی کرامت دکھا ڈالی۔ چونکہ ایک جگہ دو ولی نہیں رہتے اس لیے بتاو کہ اب دائی لو گے یا مائی ۔ دونوں میں سے ایک لے کر غریبوال گاؤں میں جا کر سکونت اختیار کر کے اپنا فیض تقسیم کرو۔ معصوم بادشاہ نے کہا کہ مائی سے ابھی اور بچے دنیا میں آنے ہیں اس لیے مجھے دائی دے دیں میں غریب وال چلا جاتا ہوں ۔

    دائی اماں ملنے کے بعد آپ زیارت سے پرواز  کرکے غریبوال آ گئے سب سے پہلے آپ نے جس جگہ قیام کیا  وہ اب میرا گھر ہے اس جگہ قیام کے بعد گاؤں کے دو اور مقام پر رہے اور پھر آخر تک جہاں اب  مزار ہے وہیں پر آپ کا بسیرا رہا”

     ہماری دادی اماں کہتی تھیں کہ گاؤں کے مستری خاندان کے ایک نیک دل شخص کی خواب میں معصوم بادشاہ آئے اور کہا کہ ہماری قبر بنا دو بزرگ اٹھا لیکن بات سمجھ میں نہ آئی دوسرے دن پھر خواب میں آئے  اور  فرمایا میری اور میری دائی اماں کی قبر بنالو صبح اٹھ کر مستری پریشان ہوا لیکن بات سمجھ میں نہ آئی گھر والوں کو خواب سنایا تو انہوں نے کہا کہ آج خواب آے تو پوچھو کہ آپ کون ہیں اور کہاں آپ کی قبر بناوں چنانچہ مستری سویا خواب میں معصوم بادشاہ پھر آئے  اور فرمایا  تیسرے دن سے کہ رہا ہوں کہ ہماری قبر بناو مستری نے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں پر آپ کی قبر بناوں تو آپ نے فرمایا کہ میں چھانگلا ولی موج دریا رحمت اللہ  شاہ بخاری کا بیٹا ہوں اور ساتھ ہی میری دائی اماں ہیں مستری نے پوچھا کہ قبریں کہاں بناوں تو آپ نے فرمایا کہ گاؤں کی مغرب کی طرف جانا سفید رنگ کی زمین میں دو دراڑیں پڑی ہوں گی اور ان میں سے دو کپڑے باہر نکلیں ہوں گے وہاں پر ہمارا مسکن ہے مغرب کی طرف دائی اماں کی اور مشرق کی طرف میری قبر بنانا۔ مستری خواب سے بیدار ہوا تو اس نے گھر والوں کو پورا خواب سنایا ۔خواب سن کر سب گھر والے صبح سویرے گاؤں کی مغرب والی طرف گئے تو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے زمین میں دو دراڑیں پڑی تھیں جن میں سے دو کپڑے باہر نکلے ہوئے تھے ایک مردانہ کپڑا جبکہ دوسرا زنانہ کپڑا تھا مستری اور اس کے گھر والوں نے مل کر دو قبریں بنا دیں۔ ان قبروں کے ساتھ بعد میں کئی سادات دفن ہوئے جن میں معروف بزرگ بابا دامن شاہ بخاری علیہ رحمہ بھی ہیں۔

    حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ کی ظاہری طور پر تین ہی کرامتیں ہیں جن میں پیدا ہوتے ہی کلام کرنا, دائی اماں سمیت پرواز کرنا اور خواب میں آ کر مستری کو بتا کر زمین سے دو دراڑیں ظاہر کر کے دو کپڑے باہر نکال کر اپنی قبروں کی نشاندہی کرنا

    اس کے علاوہ بے شمار کرامات کا اب تک ظہور ہو چکا ہے جس کے سینکڑوں بندے گواہ ہیں ہم چیدہ چیدہ کا ذکر کریں گے تا کہ اولیائے اللہ سے محبت کرنے والوں کا ایمان مزید مضبوط ہو جائے۔

    مزار پر اژدھا کا آنااور اپنی دم سے صفائی کرنا

    میرا دربار پر چڑیا کو مارنا اور یکمشت ١٠ سے ١۵ منٹ میں تین سانپوں کا دیکھنا جس کے تین گواہ سید مشتاق حسین بخاری اور میرے علاوہ سید نظار حسین شاہ بخاری ہیں۔

    مزار کی تعمیر کرتے وقت زمین کا وسیع ہونا اس کے گواہ مستری غلام محمد مرحوم ،میرے بابا جان سید شاہ گل محمد ،میری دائی اماں ماسی راجاں مرحومہ اور چچا امید علی شاہ مرحوم اور میں خود ہوں۔

    بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے زیارت پر میلہ لگتا تھا جس میں صرف قرآن خوانی،نعت خوانی اور وسیع لنگر کا اہتمام ہوتا شام کو جب برتن سمیٹ رہے ہوتے تھے بارش کا ہر سال برسنا اس کا پورا گاؤں گواہ ہے۔لیکن آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب تین میلے ہوتے ہیں لیکن بارش ندارد۔

    حضرت معصوم بادشاہؒ سے فقر و استغنا،زہد و اتقا،رشد و ہدایت اور علم و عمل حاصل کرنے والے کئی لوگ ایسے ہیں جو بتاتے ہیں کہ چلہ کشی میں معصوم بادشاہ ملاقات کرتے ہیں اور آنکھ والا ہی یہ تماشا دیکھ سکتا ہے ایسے لوگ بتاتے ہیں کہ معصوم بادشاہ ملاقات میں زیادہ تر سبز کرتہ اور شلوار قمیض اور سر پر امامہ باندھے ہوئے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ کبھی کبھار کالے جوڑے میں بھی زیارت سے مستفید فرما کر سینہ روشن کر دیتے ہیں۔  آپ کے روضہ مبارک پر جنات بھی آتے ہیں اور سلام کرتے ہیں۔ پنجابی کتاب  "اکھیاں وچ زمانے” میں حضرت معصوم بادشاہ سے متعلقہ تقریبا گیارہ واقعات کا ذکر ہے جس میں آپ کی موجودہ زمانے کی ہونے والی زندہ کرامات ہیں اور ایسی بے شمار کرامات لوگوں کے سینوں میں بھی دفن ہیں جن کو اگر اکھٹا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے زائرین کے لیے ایک خاص بات لکھ دوں کہ جب بھی کوئی مراد لے کر جائیں تو دعا مانگتے وقت یہ کہیں کہ اے اللہ کے ولی اگر میری یہ مراد پوری ہو جائے تو میں آپ کے مزار پہ آنے والی چڑیوں کو میٹھی چوگ (چینی) ڈالوں گا یا آپ کے لیے جھولا لے کر آوں گا آپ اللہ کی بارگاہ سے میرا یہ کام کروا دیں تو مراد بہت جلد پوری ہو گی۔

    حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ابن چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری ؒ  کی  سب سے زیادہ مشہور زیارت ہے۔ جو گاؤں کے مغرب کی طرف قبرستاں کے پاس موجود ہے ان کا تذکرہ میری پنجابی کتاب "اکھیاں وچ زمانے” میں پڑھا جا سکتا ہے۔

    ب۔ مزار  بابا شہیداں آلا:۔

    گاؤں کے مشرق میں پنڈی روڈ کے ساتھ مزار  ہے جس کے گرد چاردیواری ہے ابھی مزار تعمیر نہیں ہوا۔ کسی دور میں ایک میٹھی بیری کا درخت اس کے ساتھ ہوتا تھا جس سے پورے گاؤں کے بچے اور بڑے تک بیر کھاتے تھے جو کہ "شہیداں آلا بروٹہ” کے نام سے مشہور تھا جس کی اب باقیات کم رہ گئی ہیں۔

    بی بی تُرُت مراد کا ڈیرہ:۔

    امام بارگاہ سے دس پندرہ قدم آگے جنوب کی طرف بی بی تُرُت مراد کا ڈیرہ ہے جس پر لوگ مرادیں مانگتے تو اللہ تعالیٰ فورا دعاوں کو قبول کر لیتا۔ ان کے بارے میں کسی کو زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔تاہم اس پر اب بھی چراغ روشن ہوتا ہے اور پرانے لوگ دعائیں مانگتے ہیں ولی کے وسیلے سے دعائیں اب بھی مستجاب ہوتی ہیں۔

    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ :۔

    حضرت حاجی امام ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا حضرت رحمت اللہ بخاری ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا رح کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل جنڈ کے گاؤں زیارت میں انوار بانٹ رہا ہے

    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ
    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ –فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّد زادی سے جبکہ دوسری شادی  اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹوں شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پیر ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سید حاجی امام ؒ، سید شاہ محمد غوث ؒ ،سید محمد شاہ لہری اور سید جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہیں ہوئی جبکہ دو بیٹوں حضرت شاہ محمد غوث رح اور سید حاجی امام ؒ سے موج دریا ؒ کی نسل چلی۔

    میری دادی اماں سیدہ ستاراں بی بی زوجہ سید فضل حسین شای بخاری نے ہمیں بتایا کہ پرانے زمانے میں لوگ قافلوں کی صورت میں سفر کرتے تھے ایک دن بابا چھانگلا ولی موج دریا نے ایک شادی کے قافلے کی کمان اپنے بیٹے حضرت حاجی امام رح کو دی آپ نے بارات کو سفر کی ہدایات دے کر سواریاں لیں اور اپنے گاؤں زیارت سے چل پڑے موجودہ غریبوال کے بالکل شمال مشرق پر قافلہ رک گیا کیونکہ مشکیزوں والا سارا پانی ختم ہو گیا تھا اور دور دور تک پانی کا کوئی نشاں نہ تھا عورتیں اور بچے سخت گرمی میں بلکنے لگے ایک عورت نے آپ سے کہا کہ آپ ولی کی اولاد ہیں یہاں پانی کا چشمہ نکالیں ورنہ قافلہ یہاں ہی ٹھہرے گا۔ عورت کی ضد پر آپ زمین پر ایک بڑی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے ۔کافی دیر جب آپ نہ اٹھے تو عورت نے آپ کو آوازیں دینا شروع کردیں تو آپ نے کہا ذرا ٹھہرو دودھ کا چشمہ نکال رہا ہوں تو عورت نے فورا کہا کہ ہمیں پانی کی ضرورت ہے دودھ کی نہیں  اور ساتھ ہی آپ کی چادر کھینچی تو آپ نے اپنا سر ایک چھوٹے سے گڑھے سے اٹھایا تو نیچے سے ایک ٹھنڈا پانی کا چشمہ نکل پڑا جس پر آپ نے حکم دیا کہ سارے قافلے والے پانی پی لیں اور اپنی مشکیزے بھی پانی سے بھر لیں۔چناں چہ لوگوں نے پانی پی کر ساتھ ہی مشکیزے بھرے اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑے۔  اس چشمے کو گاؤں والے اب تک بابا چوآ کہتے ہیں آپ نے فرمایا تھا کہ یہ چشمہ آب شفا ہے اس سے ہر کوئی استفادہ کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ جن کے بچوں کو دانے پھوڑے پھنسیاں وغیرہ نکل آتیں تو وہ عورتیں اس بابرکت چشمے سے پانی بھر کر ساتھ ہی غسل کراتیں اور پینے کا پانی گھر لے جاتیں تو بچے ٹھیک ہو جاتے۔ سخت گرمیوں میں ہر طرف جب پانی خشک ہو جاتا تو تب بھی یہ چشمہ گاؤں والوں کو پیاسا نہ رہنے دیتا۔ ملک میجر طارق نے جب ڈیم بنایا تو یہ چشمہ پانی کے اندر آ گیا لوگوں کی شکایت پر ملک طارق نے چشمے کے گرد چار دیواری بنوا دی لیکن وہ لذت اور وہ پہلے والا کراماتی حسنِ کرم نہ رہا۔ چشمہ اب بھی باقی ہے اور لوگوں کو اولیاء کی کرامات یاد دلاتا ہے ۔حضرت حاجی امام ؒ کا مزار مبارک زیارت گاؤں میں بابا چھانگلا ولی موج دریا ؒ کے احاطے کے اندر ہی واقع ہے۔

    جاری ہے …..

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    حبدار قائم

  • میرا گاؤں غریب وال – 1

    میرا گاؤں غریب وال – 1

    غریبوال گاؤں پنڈیگھیب کے جنوب مشرق  میں واقع ہے ۔ پنڈیگھیب سے راولپنڈی جاتے ہوئے تقریبا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر بالکل سڑک کے کنارے پر یہ گاؤں آج سے تقریبا پانچ سو سال پہلے ہندووں نے آباد کیا تھا جو تقسیم کے بعد انڈیا چلے گئے اور زمینیں اپنے مزارعین کے حوالے کر گئے  ۔ کئی بزرگ تین سو سال پہلے غریبوال کی ابتداء بتاتے ہیں جو اس لیے درست نہیں ہے کہ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ کی وفات اُچ شریف کے ایک  شجرے میں 1604  لکھی ہوئی ہے اس سے ثابت ہوا کہ حضرت معصوم بادشاہ کی ولادت 1500 سے 1604  کے درمیان میں کہیں ہوئی اور وہ ولادت کے فورا بعد غریبوال بھیجے گئے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ غریبوال 500 سال پہلے آباد ہوا تھا۔1947 کی تقسیم سے پہلے اخلاص گاؤں کے ایک راجپوت گھرانے کے ملک شیر خان اخلاص سے ہجرت کر کے غریبوال میں آ گئے۔ 1889 کے محکمہ مال کے کاغذات میں بھی اس کا نام غریبوال ہی تھا کیونکہ کچھ لوگ اس کو گربال کہتے تھے جو ہنوز جاری ہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ڈھلیاں کمپنی میں انگریزوں کی کافی تعداد تھی جو اپنی زبان سے "غ”  کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے اور غریب وال کو گریبال کہتے تھے جو رفتہ رفتہ گربال تک کی مسافت طے کر گیا اور کچھ لوگوں کی زبانوں پر اب بھی جاری ہے لیکن اصل نام تو غریبوال ہی ہے ۔اب یہ گاؤں پنڈیگھیب کا ایک محلہ بننے کو ہے کیونکہ پنڈیگھیب کی آبادی غریبوال کی طرف مسلسل بڑھ رہی ہے چونکہ پنڈیگھیب کے شمال میں اخلاص اور شمال مغرب میں شہباز پور اور دندی و نوشہرہ گاؤں ہیں جن کے قریب آبادی جا پہنچی ہے اور اب آگے جانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ درمیان میں برساتی نالا "سیل ” بھی ہے

    غریبوال گاؤں کے مشرق میں ڈھلیاں اور ڈھلیاں چوک ، مغرب میں  ڈھوک کمہار موجودہ ڈھوک اعوان و پڑی گاؤں ، جنوب مغرب میں ڈھوک جٹ اور ڈھلیاں کمپنی سٹاپ نمبر ایک، شمال مشرق میں ڈھوک ناشہ اور ساتھ ہی آگے مگھ (گہری کھائیاں) اور نانگاوالی گاؤں ہے۔ پنڈی روڈ کے تقریبا 300 میٹر کے فاصلے پر ڈھوک ریحان آباد ہے اور مغرب کی طرف پکی سڑک توت اور میرا شریف کی طرف جاتی ہے جو ڈھوک اعوان کے پہلے چھوٹے سے گاؤں کو کراس کرتی ہے۔

    شروع میں غریبوال گاؤں میں اکثریت ہندووں کی تھی تقسیم کے بعد اس میں تین خاندان آ کر آباد ہوئے تھے جن میں تَرُڈ موجودہ راجپوت ، تریڑ موجودہ اعوان اور میال شامل تھے میال قوم نَکہ ریحان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے یہاں کی زیادہ زمین ایک ہندو راجہ چُنی لال کی تھی اور اس کا اٹک آئل کمپنی موجودہ پی او ایل میں ٹرانسپورٹ کا ٹھیکہ تھا جس نے کھوڑ کمپنی اور ڈھلیاں آئل کمپنی میں گاڑیاں لگا رکھی تھیں۔ بعد میں یہ کھڑپہ آئل کمپنی تک کام پھیل گیا ۔جس  میں ملک مظفر خان کسی بڑی پوسٹ پر فائز تھے اور ساتھ ہی ملک مظفر خان چُنی لال کے بزنس پارٹنر بھی تھے ۔ جب پاکستان بنا تو ہندو بھارت میں چلے گئے تو چُنی لال نے ملک مظفر خان کے آباو اجداد سے کہا کہ اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو ہم واپس آ جائیں گے اگر واپس نہ آ سکے تو آپ ان زمینوں پر امانت کے طور پر قبضہ کر لینا۔ جس کی وجہ سے اس گاؤں کی زیادہ زمین ملک مظفر خان کے خاندان کے پاس ہی رہی چُنی لال کے مزارعین نے اس زمین کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں دائر کیا جس کے مدعیان میں حاجی میاں احمد، نور احمد اور محکم دین تھے لیکن ملک مظفر خان جیت گئے بعد میں اس زمین کو  مختلف بندوں نے خرید کر مکانات بنائے اور کئی افراد کھیتی باڑی کے لیے استعمال کر رہے ہیں

    کرہ ارض پر غریبوال کی پوزیشن:۔

    Latitude 33.211383 عرض بلد

    Longitude 72°18’1. 09” E طول بلد

    altitude  410m ارتفاع

    سطح سمندر سے بلندی:۔

    سطح سمندر سے اس کی بلندی 410 میٹر ہے

    مساجد:۔ غریبوال گاؤں میں چھ مساجد ہیں

    ا۔ جامع مسجد غوثیہ سب سے پہلی مسجد ہے جس میں پورے گاؤں کے لوگ مل کر نماز پڑھتے تھے اس وقت شیعہ سنی کی تفریق نہیں تھی مسجد کے پہلے پیش نماز قاری میاں جان محمد تھے۔

     جامع مسجد غوثیہ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
     جامع مسجد غوثیہ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ب۔ مسجد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ

    ج۔ مسجد سیدنا عثمان غنیؓ

    د۔ مدینہ مسجد جو منظور حسین  المعروف "صاحب” نے بنائی۔

    ذ۔ علیؑ مسجد اہل تشیع نے مل کر بنائی جس میں اب محرم الحرام بھی منایا جاتا ہے

    ر۔ مسجد معصوم بادشاہ:۔ یہ مسجد” ماسی راجاں” نے بنائی جو کہ زیارت معصوم بادشاہ کی وجہ سے اب اہل تشیع کے پاس ہے۔

      مسجد معصوم بادشاہؒ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
      مسجد معصوم بادشاہؒ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    بنہیں یا خشک تالاب:۔

    گاؤں میں چار بارشی کچے تالاب ہیں اور ایک پکا تالاب ہے۔

    ا۔ روڈی بنھ”۔

    یہ تالاب بوائز پرائمری سکول کے ساتھ واقع ہے پورا گاؤں اسے پینے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کو گاؤں والے ہر سال پانی ختم ہونے پر ٹریکٹر لگا کر صاف کرتے تھے اور جس طرف سے پانی آتا تھا اس زمین میں پیشاب کرنے کی سخت ممانعت تھی جس پر پورا گاؤں سختی سے عمل کرتا تھا

    ۔

    ب۔ میالاں آلی بنھ:۔

    گاؤں کے جنوب کی طرف پنڈی روڈ کے بالکل قریب یہ تالاب تھا جس کو نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کرتے تھے گاؤں کے جوان اس میں جا کر پیراکی کرتے اور اپنے آپ کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت مند رہتے کیونکہ پیراکی بہت زبردست ورزش ہے۔

     میالاں آلی بنھ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
     میالاں آلی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ت۔ موچیاں آلی بنھ:۔

    گاؤں کے جنوب مغرب میں یہ تالاب واقع ہے جس میں بارش کا پانی اکھٹا ہوتا تو سارا سال لوگ اپنے جانوروں کو یہاں پانی پلاتے۔ عورتیں یہاں کثرت سے کپڑے دھونے کے لیے جاتیں کیونکہ اس طرف مردوں کا بہت کم جانا تھا اور یہ روڈ سے اور گاؤں سے ہٹ کر  ذرا دور واقع تھا۔

     موچیاں آلی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ج۔ گُستانے آلی بنھ:۔

    گاؤں کے مغرب کی طرف بالکل قبرستان کے ساتھ یہ تالاب تھا جو وضو کے لیے استعمال ہوتا گھروں میں بھی کپڑے دھونے کے لیے لوگ اس کا پانی استعمال کرتے تھے گاؤں کی شمال مشرقی آبادی  اس تالاب سے مال مویشیوں کو پانی پلاتے تھے۔ اب بھی یہ خشک تالاب موجود ہے لیکن وضو کے لیے گاؤں کے لوگوں نے ایک نلکا لگوا لیا ہے۔

    قبرستان والی بنھ
    قبرستان والی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    د۔ تلاء:۔

    ملک مظفر خان نے گاؤں کے جنوب میں ملک ارشاد خان کی کوٹھی کے تقریبا ایک فرلانگ کے فاصلے پر ایک پکا تالاب بنوایا تھا جو صرف پینے کے پانی کے لیے استعمال ہوتا تھا اس تالاب کا وجود پورے گاؤں کے لیے رحمت تھا اس کو بھی خشک ہونے پر گاؤں والے مل کر صاف کرتے۔ اس تالاب کی موجودہ حالت خطرے میں ہے کیونکہ اب گھر گھر میں پانی کی سہولت دستیاب ہے اور یہ تالاب ایک تاریخی ورثے کی حیثیت سے قائم ہے اور اس کو قائم رہنا چائیے۔ اس میں نہانا اور کپڑے دھونا سخت ممنوع تھا۔ گاؤں کے سب لوگوں نے اس کو مل کر کھودا تھا۔ گاؤں کی عورتیں دو دو گھڑے سر پر رکھ کر اور ایک ایک کمر پر بازوں میں لے کر یہاں سے پانی بھرتی تھیں جو اب صرف فلموں میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گاؤں کی یہ خوب صورتی اب صرف یاد ہی کی جا سکتی ہے

    Ghreebwal  Pond
    تالاب – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    کنویں:۔

    پورے گاؤں میں پکا کنواں نہیں تھا ۔حضرت حاجی امام ؒ کے چشمے کے مشرق میں تقریبا 150 میٹر کے فاصلے پر ہر سال کنویں کھودتے تھے تھوڑی سی زمین کھودنے پر پانی آ جاتا تو لوگ اپنی بانگیوں میں بھر کر گھروں میں لے جاتے۔ سردیوں میں یہ کنویں بند کر دیے جاتے تھے۔ کیونکہ کسی انجان بندے کے گرنے کا احتمال تھا۔

    فلاحی تنظیمیں:۔

    گاؤں میں فلاحی کاموں کی کمیٹی قاضی محمد بشیر  نے بنائی ہے جس کو لبیک ویلفیئر سوسائٹی کا نام سے پکارا جاتا ہے اس  کے صدر حافظ رمضان جب کہ چیئرمین قاضی محمد بشیر ہیں ۔ اس کی تمام فنڈنگ باہر سے کرتے ہیں جس میں پنڈیگھیب کے کئی نیک سیرت لوگ بھی تعاون کرتے ہیں ۔اس فلاحی تنظیم کے تعاوں سے غریب بچوں میں ہر سال کتابیں،بستے،کاپیاں اور قلم دیے جاتے ہیں ۔اس دفعہ بھی اس تنظیم نے چالیس بچوں کی مدد کی اور گزشتہ رمضان میں پینسٹھ ہزار کا راشن تقسیم کیا گیا۔ قاضی محمد بشیر گاؤں کی ویلفیر کے لیے کوشاں رہنے والے واحد آدمی ہیں ان کے ساتھ اقراء سکول کے سرپرست حافظ رمضان بھی شریک ہیں ۔گاؤں کے کروڑ پتی افراد ابھی تک اس ویلفیر کمیٹی میں شامل نہیں ہوئے۔ لیکن قاضی محمد  بشیر کی مدبرانہ کاوش اس کو جاری رکھے ہوئی ہے۔ یہ ویلفیر کمیٹی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کیونکہ رجسٹرڈ کرانے کے بہت سارے مسائل ہیں۔ جب کبھی ملک میں کوئی سیلاب یا زلزلہ وغیرہ آتا ہے تو حکومت چندہ اکھٹا کرنے کا حکم دے دیتی ہے جو محدود وسائل کی وجہ سے مشکل ہوتا ہے

    میلہ:۔ بزرگ سید شاہ گل محمد حضرت معصوم بادشاہ ؒ پر ہر سال خشک سالی کے موقع پر میلے کا انتظام کرتے تھے پورا گاؤں شاہ جی کے ساتھ مل کر چندہ اکھٹا کرتا تھا۔قرآن خوانی کا اہتمام ہوتا تھا شام کو جس وقت میلے کی چیزیں اور برتن سمیٹ رہے ہوتے سخت بارش شروع ہو جاتی۔ اور پورا گاؤں جل تھل ہو جاتا۔ برادری کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب سال میں تین میلے  تین مختلف لوگ کراتے ہیں لیکن پہلے والی برکات اب بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ۔اب بھی اگر لوگ سید عارف حسنین شاہ کے ساتھ مل کر میلہ لگائیں تو سابقہ خیر و برکات واپس آ سکتی ہیں ۔ کیونکہ عارف شاہ  گدی نشین ہے۔

    لنک روڈ:۔

     ملک مظفر خان نے جنرل ایوب خان سے ملک ارشاد خان  کی کوٹھی اور اپنے بنگلے  تک منظور کرایا۔باقی گاؤں کے دو مشہور راستے ابھی تک راہ مسیحا دیکھ رہے ہیں۔ جو کہ ملک مظفر خان کی طرح کام کرائے اور بس سٹاپ سے لڑکوں کے سکول اور امام بارگاہ تک اس کے ساتھ ہی بس سٹاپ سے واٹر سپلائی کی ٹینکی تک اور سید عمران شاہ بخاری کے گھر تک روڈ بنوائے۔ تیسرا روڈ جو دو سو سال پرانا راستہ ہے وہ معصوم بادشاہ ؒ کے موڑ سے چوآ حاجی امام ؒتک سڑک بنائے۔ سادات کے محلہ سے قبرستان تک راستہ بھی پکا ہونا چائیے کیونکہ میت لے جاتے وقت بہت مشکل پیش آتی ہے۔

    جاری ہے ………..

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    ۔

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال

    ضلع اٹک