متحدہ عرب امارات میں روزنانہ "اوصاف” کے نمائندہ اور کالم نگار ایم یوسف بھٹی، کے لیئے کمیونٹی اور صحافتی خدمات کا ایوراڈ
ابوظہبی (نمائندہ خصوصی) متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے جشن آزادی کو بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔ پاکستان کے سفارت خانہ ابوظہبی، فائیو سٹار ہوٹل رمادا اور لال قلعہ ریسٹورنٹ میں بیک وقت تین تقاریب منعقد ہوئیں جس میں پاکستانی کمیونٹی اور غیر ملکیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ رمادا ہوٹل کی تقریب کا انعقاد پاکستان بزنس کونسل نے کروایا جس میں کونسل کے ممبران کو ان کی کمیونٹی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز بھی دیئے گئے۔ ان ایوارڈ وصول کرنے والوں میں روزنامہ "اوصاف” کے نمائندہ اور کالم نگار ایم یوسف بھٹی بھی شامل تھے جنہیں پاکستان بزنس کونسل کمیٹی نے 2025ء کا بہترین کالم نویس قرار دیا۔
انہوں نے پاک امارات دوستی اور کرنٹ افیئرز پر شاندار کالم لکھے۔ ایوارڈ وصول کرنے والوں میں ہفت روزہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر ارشد چوہدری بھی شامل تھے جو گزشتہ پندرہ سال سے امارات میں صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کے ہاتھ مٹی کے ہیں مگر وہ جس کاروبار کو بھی ہاتھ لگاتے ہیں وہ سونا بن جاتی ہے۔ میری اور ان کی دوستی کو کم و بیش 17 سال ہونے کو ہیں۔ اس دوران میں نے انہیں 3 نئے کاروبار شروع کرتے دیکھا ہے اور وہ ان تینوں میں حد درجہ کامیاب ہوئے ہیں۔ اب وہ چوتھا نیا کاروباری منصوبہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور نظر یہی آ رہا ہے کہ وہ اس میں بھی یقینی طور پر کامیاب ہوں گے!
میں متحدہ عرب امارات، دبئی میں نیا کاروبار کرنے پہنچا تو ان کا کاروبار پہلے ہی جوپن پر تھا۔ مجھے ترقی کرتے دیکھ کر انہیں حسرت ہوئی اور انہوں نے بھی کنسٹرکشن کا کام شروع کر دیا۔ تب میں تھوڑے کم اور وہ زرا زیادہ پیسے کمانے لگے، اور اتنے کمائے کہ وہ ہر ماہ پانچ لاکھ درہم تک (جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا پونے چار کروڑ بنتے ہیں) کی وصولی کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد تعمیرات کے کام میں ادائیگیاں رکنے لگیں اور "مندی” آئی تو وہ جمپ لگا کر ریسٹورنٹس کے کاروبار میں چلے گئے۔ میں ابھی کنسٹرکشن ہی میں مغز ماری کر رہا تھا کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے 3 ریسٹورنٹس کے مالک بن گئے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ ایسے ریسٹورنٹس تلاش کرتے جو ناکام ہو کر بند پڑے ہوتے تھے۔ میرے سامنے انہوں نے ان ریسٹورنٹس کے "بیانے” دیئے اور ایک لمحہ کو بھی نہیں سوچا کہ وہ ناکام پڑے کاروبار کو کامیاب کیسے کریں گے؟ صرف ایک ریسٹورنٹ کی مثال دیتا ہوں کہ انہوں نے اسے محض 70 ہزار درہم کی "گڈ ول” دے کر خریدا۔ ایک سال چلا کر کامیاب کیا اور پھر کراچی کی ایک پارٹی کو 7 لاکھ درہم میں فروخت کر دیا۔
ان کی کامیابی کا ایک خاص راز ہے ان سطور میں اس راز سے پردہ اٹھانا مقصود ہے۔ ان کا نام حسین مدثر ہے اور ان کا تعلق پاکستان گوجرانوالہ سے ہے۔ وہ گول مٹول چہرے، درمیانے قد اور سفید رنگت کے آدمی ہیں۔ وہ انتہائی موقع شناس ہیں، وہ اپنی شخصی پہچان اور شناخت سے ایسی محنتی اور ایماندار ٹیم تیار کرتے ہیں جو کوتاہی کرنے یا انہیں دھوکہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی ہے۔ میری ان سے فضول خرچی کی حد تک مہنگی چیزیں خریدنے پر اکثر بحث ہوتی ہے مگر وہ کہتے ہیں کہ کاروبار میں یہ چیزیں ضروری ہیں۔ وہ کہتے ہیں جو خرچ کر سکتا ہے وہی کماتا ہے۔ ہمارا بہت دفعہ جھگڑا بھی ہوا ہے مگر پھر جب میں سوچتا ہوں کہ وہ کماتے ہیں تو انہیں خود پر خرچ کرنے کا بھی حق ہے۔ نجانے پیسہ کمانے کا یہ گر سیکھنے تک وہ کتنی مشکلات اور دکھوں سے گزرے ہوں گے۔ اگر انہوں نے اس راہ میں تکلیفیں اٹھائی ہوں گی تو اب انہیں راحتوں، آرام و سکون اور خوشی سے لطف اندوز ہونے کی بھی ضرورت ہے۔ اس بات کا وہ خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ ایک وقت وہ بھی تھا کہ جب ان کے پاس رہنے کی جگہ نہیں تھی اور کچھ کھانے کو پیسہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ کئی کئی راتیں انہوں نے بھوکے سو کر گزاریں۔ لیکن جب پیسہ آنا شروع ہوا ہے تو اتنا آ رہا ہے کہ وہ لوگوں کو قرض دے کر بھول جاتے ہیں۔ لیکن اسی سخاوت اور خود پر خرچ کرنے سے ان کی ظاہری کاروباری "ورتھ” میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ایک آدمی سے انہوں نے 1 لاکھ 20 ہزار درہم لینا ہے جو ایک کروڑ روپے سے زیادہ بنتا ہے۔ ایک دفعہ وہ پیسے لینے کے لیئے ان کے گھر چلے گئے۔ اس قرض دار نے اپنا زیور اور گاڑی کی چابیاں ان کے حوالے کر دیں جسے وہ وہیں چھوڑ کر واپس آ گئے۔ اب دو سال ہو گئے ہیں اس سے دوبارہ انہوں نے پیسے نہیں مانگے۔ ایک درجن سے زیادہ لوگ میرے علم میں ہیں، کسی نے 20 ہزار درہم، کسی نے 30 اور کسی نے 40 ہزار درہم ان کا دینا ہے۔ یہ لوگ دوبارہ ان کے پاس آتے ہیں کوئی نہ کوئی رام کہانی سناتے ہیں اور ان سے مزید قرض لے کر چلے جاتے ہیں۔ جس آدمی کا نام حسین مدثر ہے ان لوگوں کو پہلے دیا ہوا اپنا قرض واپس مانگتا ہے، نہ ان سے تنگ پڑتا ہے اور نہ ہی انہیں مزید قرض دینے سے انکار کرتا ہے۔ یہ میرے سب سے قریبی دوست ہیں۔ رات کو سونے سے پہلے یہ آخری فون مجھے کرتے ہیں اور صبح اٹھنے کے بعد بھی سب سے پہلا فون مجھے کرتے ہیں۔ دن کے کام سے جونہی فری ہوتے ہیں وہ مجھے اپنی مرسیڈیز پر پک کرنے آ جاتے ہیں۔ ہم دن میں ایک بار تقریبا روزانہ اکٹھے کھانا کھاتے ہیں۔ بعض دفعہ دو چار دوست اور بھی ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے 17 سال کی دوستی میں ایک بار بھی ایسا نہیں دیکھا کہ انہوں نے کسی دوسرے کو کھانے کا بل دینے کی اجازت دی ہو۔ وہ روزانہ مختلف ممالک کے ریسٹورنٹس پر کھانا کھانے کا بل کم و بیش 3 سے 4 سو درہم دیتے ہیں حالانکہ ان کے اپنے ریسٹورنٹس ہیں اور وہ "میاں جی ریسٹورنٹس” کی 13 برانچز کے سپانسر اور حصہ دار بھی ہیں مگر وہ کھانا ہمیشہ باہر سے کھاتے ہیں۔
جب وہ کنسٹرکشن کا کام کر رہے تھے تو مختلف کمپنیوں میں ان کا لگ بھگ 13 لاکھ درہم پھنس گیا، جس کا ایک دو بار انہوں نے پیچھا کیا مگر وہ واپس پلٹ کر انہیں شرمندہ یا تنگ کرنے نہیں گئے۔ وہ تین چار آدمیوں کو زیادہ پسند نہیں کرتے ہیں مگر وہ بھی جب ان کے پاس کوئی ضرورت لے کر آ جاتے ہیں تو وہ انہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے ہیں۔ میں نے کئی دفعہ محسوس کیا کہ بعض صورتوں میں لوگ انہیں "مس یوز” کرتے ہیں یا انہیں "بے وقوف” بناتے ہیں مگر وہ ہمیشہ ان کے سامنے نرم پڑ جاتے ہیں اور ان کے ہاتھوں بے وقوف بننے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے ہیں۔ اس کے باوجود پیسہ ان پر عاشق ہے اور وہ دوسروں پر جتنا زیادہ خرچ کرتے ہیں اتنا ہی زیادہ پیسہ ان کے پاس مزید آ جاتا ہے۔
حسین مدثر صاحب سنت ابراہیمی پوری کرتے ہیں اور کبھی اکیلے کھانا نہیں کھاتے ہیں، وہ سخی ہیں کسی کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے ہیں۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ، "دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے۔” ان کی کامیابیوں کی بنیادی وجہ ان کی سخاوت اور مہمان نوازی بھی ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے بارے بتاتے ہیں کہ انہیں والد کی دعا ہے۔ ہم دوست ان کی خرچ خواہی اور دریا دلی کی وجہ سے انہیں "بادشاہ” کہتے ہیں۔ لیکن ان کی کاروباری کامیابیوں کی اصل وجہ کیا ہے میں مکمل طور پر ابھی تک جاننے سے محروم ہوں۔ وہ ہر دوسرے تیسرے ماہ پاکستان جاتے ہیں۔ جونہی ضرورت مندوں کو پتہ چلتا ہے کہ وہ آ گئے ان کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ شائد ان کی دولت کی وجہ یہ ہے کہ اللہ دینے والوں کو اور دیتا یے۔ جو لوگ اس بات پر کامل ایمان رکھ کر دولت بانٹتے رہتے ہیں وہ جتنی بانٹتے ہیں اس سے دگنی ان کے پاس واپس آ جاتی ہے۔
ایک حکایت مشہور ہے کہ ایک سخی کے پاس ایک مہمان آ جاتا ہے تو ایک سفید داڑھی والے بزرگ ان کے گھر میں آٹا پہنچاتے دکھائی دیتے ہیں اور جب کسی وجہ سے وہ مہمان کھانا نہیں کھاتا اور چلا جاتا ہے تو وہ بزرگ اس گھر سے وہی آٹا واپس لے جاتے ہیں۔ ہر انسان اپنا مقدر کھاتا ہے۔ کوئی انسان کسی کو نہیں کھلا سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ "مہمان نوازی” ایک توفیق ہے جو قسمت والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ دوسروں کو کھانا کھلانے سے پیسے کبھی ختم نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس میں برکت پڑتی ہے۔ ایک محاورہ بھی ہے کہ "ہر دانے پر کھانے والے کا نام لکھا ہوتا ہے۔” میں ایسے غیر معمولی انسانوں اور "سیلف میڈ مین” لوگوں پر اکثر لکھتا رہتا ہوں۔ آپ کے پاس بھی کوئی سٹوری ہو تو مجھ سے ضرور شیئر کریں۔ اللہ پاک حسین مدثر کے کاروبار اور رزق میں برکت عطا فرمائے۔ ایسے لوگ انسانی معاشرے کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔
امارت کی نسبت نام اور کسی خوبی سے بھی ہو سکتی ہے۔ میں نے "حسین” نام کے لوگوں کو اکثر امیر دیکھا ہے۔ جو کامیابی کے لیئے تو قربانی دیتے ہیں ان کی کامیابی بھی سوا ہوتی ہے خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے فرمایا تھا ، "شاہ است حسینؑ و بادشاہ است حسینؑ تو یہ برکت بادشاہ حسین ؑ کے نام کی ہے۔”
پچھلے دو دن شارجہ اور العین کے بک فیئرز اٹینڈ کرنے میں گزرے۔ اس سال بھی کتابوں کی دنیا میں داخلے کا یہ موقع محترم المقام سرمد خان صاحب نے فراہم کیا۔ متحدہ عرب امارات میں اردو زبان و ادب اور پاکستانی کلچر کے فروغ کا جو کام سرمد خان صاحب کر رہے ہیں اسے خراج تحسین پیش نہ کرنا ناانصافی ہو گی۔ یہ شارجہ بک فیئر کا آخری دن تھا جو شارجہ ایکسپو سنٹر میں 6نومبر تا 17نومبر 2024ء تک جاری رہا۔ اس کتاب میلے کا یہ 41واں ایڈیشن تھا جس میں سرمد خان کی زیر سرپرستی پاکستان نے دوسری مرتبہ شرکت کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ کہتے ہیں "دیر آید درست آید”، بے شک اس کتاب میلے میں کسی قابل فخر پاکستانی اردو لوور نے 38سال کے بعد پاکستان کی نمائندگی کو ممکن بنایا۔ لیکن اتنا تو ہوا کہ اردو کتابوں سے پیار کرنے والوں کی آنکھوں میں اردو کے لفظوں نے بلآخر رس گھولنا شروع کر دیا۔ متحدہ عرب امارات میں اس سے قبل اردو کتب کی نمائندگی شارجہ بک فیئر میں کسی پاکستانی پبلشر کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ آج میں قدرے مایوس تھا کہ اس دفعہ "اردو بکس ورلڈ” کے سٹال پر حاضری دینا رہ گئی۔ اچانک دن گیارہ بجے سرمد خان صاحب کی کال آئی تو امسال بھی کتابوں کا یہ میلہ دیکھنے کا میرا قلق امید میں بدل گیا۔
سرمد خان صاحب اردو کتابوں کی ترویج کی دیوانگی کی حد تک جو خدمات انجام دے رہے ہیں اسے "جنون” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ ان سے فون پر اکثر بات ہوتی رہتی ہے اور مجھے ان کے لہجے کا احساس ہے، وہ تیز تیز گفتگو کرتے ہیں، بلکہ مجھ سے تحکم کے انداز میں مخاطب ہوتے ہیں۔ انہوں نے گرجتے ہوئے کہا کہ آج حمزہ علی عباسی کا بھی پروگرام ہے آپ تیار ہو جائیں، جانا ہے۔ سرمد خان صاحب ایک دو اہم یا درجن بھر کتابوں کو خریدنے کے لیئے بھی لاہور، کراچی اور جہلم جا پہنچتے ہیں۔ ان کو "جہلم بک کارنر” سے خصوصی لگاو یے۔ ایک میلے میں جانے کی خوشی اور وہ بھی کتابوں کا میلہ ہو، چند منٹوں بعد ہم دبئی کے خلیج روڈ سے شارجہ کی طرف مڑ گئے، راستے میں ہم نے صبا کو پک کیا اور جب ہم شارجہ ایکسپو سنٹر پہنچے تو پونے بارہ بج رہے تھے۔ کچھ وقت "اردو بکس ورلڈ” کے سٹال پر گزرا اور پھر وہ مجھے صحافیوں کے کانفرنس حال میں لے گئے جہاں ایوارڈز کی تقسیم ہونا تھی۔ ابھی تقریب شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ کچھ دیگر ممالک کے بک سٹالز کا وزٹ کیا جائے۔ آج اتوار تھا اور چھٹی کی وجہ سے کتاب میلہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ خواتین اور بچوں کا بہت رش تھا، ایک دو جگہ مقامی رقص اور گیتوں کی محفل بھی جمی ہوئی تھی۔ جب ہم مصری بک سٹال پر پہنچے تو وہاں مصنف یاسر البحری اپنی دستخط شدہ کتب اپنے قارئین کو دے رہے تھے۔ ان سے گزشتہ سال 2023ء میں بھی ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے ہمیں پہچان لیا اور اپنے ساتھ خود ہی سیلفی بنانے کی آفر کی۔ اسی دوران ہمیں "شارجہ پبلشنگ سٹی، فری زون” کا ڈیسک نظر آیا، جہاں ہم کچھ دیر کے لیئے رکے تو پتہ چلا کہ وہ آج کے روز نئی کمپنی رجسٹر کرنے والوں کو خصوصی ڈسکونٹ دے رہے تھے۔
اسلامی دنیا میں یورپ کی طرز پر "احیائے علوم کی تحریک” کی بنیاد رکھنا میرا دیرینہ خواب تھا، بلند و بالا اور گہرے خواب یاد رہتے ہیں، میں شروع دن سے سوچ رہا ہوں کہ جب تک مسلمانوں میں علمی آگہی پیدا نہیں ہوتی اور تحریر و تحقیق کا کام دوبارہ شروع نہیں ہوتا مسلم دنیا کا کبھی احیاء ممکن نہیں ہو گا۔ شارجہ سٹی کے پورٹل پر محکمہ ھذا کے ڈائریکٹر سیف ال سویدی اور ان کا عملہ موجود تھا۔ تین سال پہلے سرمد خان صاحب "اردو بکس ورلڈ” کی کمپنی میں میرا نام ڈالنا چاہتے تھے مگر بوجوہ میں نے رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔ شائد اس وجہ سے کچھ عرصہ ہمارے درمیان دوریاں بھی پیدا ہو گئی تھیں۔ جب سرمد خان نے نئی کمپنی فارمیشن میں میری دلچسپی کو محسوس کیا تو انہوں نے ڈیسک پر موجود ہیڈ آف انویسٹرز افرا السوادی اور سیلز ٹیم لیڈر رانا گامئیل کو آواز دی۔ ابھی میں نئی کمپنی کا نام سوچ ہی رہا تھا کہ سرمد خان نے اپنے کارڈ سے "اردو ریسرچ بکس” کے تمام اخراجات کی ادائیگی بھی کر دی اور اس کمپنی کے تمام اختیارات بھی مجھے سونپ دیئے۔
اردو بکس ورلڈ کے سٹال پر چند لمحوں بعد ہم دوبارہ پہنچے تو وہاں قصہ قبلتین (سفر نامہ) کے مصنف محمد صائم اور ان کا بارہ سالہ بیٹا ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا یہ کم سن بیٹا بھی "ڈائنوسار” نامی ایک کتاب کا مصنف ہے۔ محمد صائم کے والد محترم شیر افگن خان جوہر نے بھی سیرت النبی ﷺ پر "سید المبشرین” کے عنوان سے کتاب لکھی تھی۔ ابھی یہ اظہاریہ قلم بند کر رہا تھا تو صائم کا فون آیا کہ تبصرہ کے لیئے کل وہ یہ کتاب مجھے پہنچا دیں گے۔ محمد صائم کی چچی ثمینہ تبسم جو کینیڈا میں مقیم ہیں وہ بھی اچھی مصنفہ ہیں جنہوں نے "دیوار گریہ سے غزہ کی دیوار تک” کے عنوان سے سفرنامہ تحریر کیا ہے۔ صائم سے ابھی میری گفتگو جاری تھی کہ سرمد خان صاحب نے مجھے حمزہ علی عباسی کا پروگرام کوور کرنے کا حکم دے دیا جو آڈیٹوریم ہال میں تب تک شروع ہو چکا تھا۔ جب میں پہنچا تو وصی شاہ صاحب سامعین کی فرمائش پر اپنی مشہور زمانہ نظم "ہاتھ کا کنگن” سنا رہے تھے۔ اس کے فورا بعد انہوں نے حمزہ علی عباسی کو سٹیج پر بلایا اور ان کی کتاب "ایمان اور دریافت ذات” پر گفتگو شروع ہو گئی۔ اس پروگرام کا انعقاد "بزم اردو” نے کیا تھا۔ یہ آڈیٹوریم ہال بھی سینکڑوں سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ حمزہ علی عباسی نے اپنے روحانی ارتقاء کے بارے میں بتایا کہ وہ ذات باری تعالی پر اٹھائے ہوئے اپنے تشکیک پر مبنی مختلف سوالات کے ذریعے کس طرح دین کی طرف راغب ہوئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اداکاری کے دوران وہ انتہائی سخت اور مغرور طبیعت رکھتے تھے مگر بعد میں جب انہوں نے احکامات خداوندی کو خود پر عملی طور پر لاگو کیا تو ان کے اندر عاجزی اور انکسار پیدا ہوتا چلا گیا۔
یہ پروگرام بڑا معلوماتی اور دلچسپ تھا مگر میرے دونوں فون سیٹس کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی۔ میری یادداشت اتنی اچھی نہیں لھذا میں نے اپنے دونوں فونز میں "کلر نوٹ” ڈاؤن لوڈ کر رکھے ہیں۔ جب فون بند ہوئے تو میں نے واپس اردو بک سٹال پر جانے میں عافیت سمجھی۔ تب تک رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ سرمد خان کے ساتھ تین اور خان بھی کتابوں کو پلاسٹک کے لفافوں اور گتے کے کارٹنوں میں بند کر رہے ہیں۔ یہ 12 گھنٹے کی معیت کافی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ کتابوں کی گٹھڑیوں کو ابھی سٹور میں بھی رکھنا تھا۔ حتی کہ ہم نے ڈیرا دبئی فرج مرار میں صبح دو بجے آ کر ڈنر کیا۔
اگلے دن گیارہ بجے ہم دبئ میں سرمد خان کی رہائش گاہ ریگا روڈ پر دوبارہ اکٹھے ہو گئے جہاں حسب معمول مہمانوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ ان کا تین بیڈ روم کا یہ غریب خانہ اچھا خاصا مہمان خانہ ہے۔ کتاب میلوں کے موسم میں سرمد خان صاحب پاکستان سے ہر سال آدھی درجن نہیں تو تین چار صحافی دبئی اپنے پلے سے منگواتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں ان کے مہمانوں میں آمنہ مفتی، عامر ہاشم خاکوانی، محمد فاروق چوہان، علامہ عبدالستار عاصم اور اشرف شریف بھی شامل رہے ہیں۔ اس دفعہ بھی ان کے گھر پر کافی مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔ ہم چند خواتین و حضرات سے یاد اللہ کر کے دوبارہ شارجہ نکل گئے۔ وہاں سرمد خان نے کتابوں کے بنڈلوں کا دوبارہ جائزہ لیا، ورکروں کے ذمہ کچھ کام لگائے اور ہم العین کی طرف نکل گئے۔ انہوں نے ایک دوست کو فون کر کے کسی اچھے اور ذائقہ دار ریسٹورنٹ کا پتہ پوچھا جو ایک پہاڑی کے پہلو میں ڈرائیونگ سکول کے سامنے تھا۔ صبح کا ناشتہ نہ کیا ہو اور دوپہر کا کھانا اور ناشتہ اکٹھا کیا جائے تو اسے "برنچ” کہتے ہیں۔ ہماری ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے سینئر صحافی عارف شاہد اور میرے پیٹ میں چوہے ناچ رہے تھے، چوہے تو سرمد خان کے پیٹ میں بھی ناچ رہے تھے۔ لیکن جب ہم تینوں نے ریسٹورنٹ کا نام پڑھا تو چونک گئے جس کے سائن بورڈ پر "ریسٹورنٹ 71” لکھا تھا۔ ابتداء میں تو سوچا کہ یہ کسی بنگالی کا ریسٹورنٹ ہے مگر ایسا نہیں تھا۔ کھانا زہر مار ہونے سے بچ گیا۔ اس کا مالک ایک لوکل تھا۔ کھانے کا ٹیسٹ بہت اچھا تھا۔ منیجر نے نام کی وجہ تسمیہ مسکراتے ہوئے یہ بتائی کہ نام نہیں مل رہا تھا تو کمپیوٹر نے یہ نام ظاہر کیا اور ہم نے "ڈن” کر دیا۔ یوں شروع میں ہمارا جو "تراہ” نکلا تھا ہنسی میں بدل گیا۔
العین کتاب میلے کا یہ دوسرا دن تھے۔ پہلے ہم ایک بلڈنگ کے سیکنڈ فلور پر بک فیئرز کے مصری منیجر ابراہیم سے جا کر ملے۔ راستے میں عارف شاہد صاحب نے سرمد خان سے گلہ کیا تھا کہ آپ پاکستان سے صحافی بلا کر انہیں نوازتے ہیں مگر "ہم” آپ کو نظر ہی نہیں آتے۔ ابراہیم صاحب کے عملے نے ہمیں بتایا کہ ان کے پاس کافی فنڈز ہوتے ہیں۔ اس وقت تو سرمد صاحب خاموش ہو گئے مگر جاتے ہی انہوں نے ابراہیم صاحب کو کہا کہ پہلے وہ ان دو صحافیوں کی رجسٹریشن کریں۔ اس کے بعد اگلے کتاب میلوں کے لیئے انہوں نے کچھ پاکستانی صحافیوں کے نام بھی دیئے جن کی رجسٹریشن کے بعد امارات کی سرکار انہیں ویزہ، ٹکٹ اور ہوٹل وغیرہ مفت دے گی۔ ہم نے کتاب میلہ دیکھا۔ رات کے نو بج رہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی سرمد خان نے خوش خبری سنائی کہ آئندہ متحدہ عرب امارات میں شارجہ، شیخ زید سٹی، العین یا ابوظہبی میں کسی بھی میلے کی کوریج کے لیئے آپ کو فی دن کے 1200درہم ملیں گے۔
یہ خوشخبری سننے پر ہم دونوں بہت خوش تھے مگر رات گیارہ بجے جب سرمد نے گاڑی دوبارہ شارجہ کی طرف موڑنے اور وہاں پڑی کتابوں کو ٹرک میں لوڈ کرنے کا مرثیہ سنایا تو ہماری خوشی اسی طرح غم میں بدل گئی جیسے آسٹریلین گلورہ کائلی مائینوگ "مرڈر اون ڈانس فلور” گاتی ہے۔
میں اندر سے پھر بھی خوش تھا۔ ہم تب تک نہیں سدھریں گے جب تک ہم علم اور تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بناتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ میں "نشاتہ ثانیہ” کے لیئے تحریک احیائے علوم ہی کو اس کا واحد حل سمجھتا تھا۔ حتی کہ تحقیق کے زریعے دینی تعلیمات اور عقائد کو بھی سائنس کی زبان میں سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ بقول سرمد خان انہوں نے یہ ایک قدم اٹھایا ہے۔ اربوں میلوں کا سفر بھی پہلا ایک قدم اٹھانے سے مکمل ہوتا ہے۔ خدا جانے یہ "انقلابی سفر” کس کے ہاتھوں مکمل ہو گا؟ علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ "پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ۔”
ملکوں کی معاشی ترقی کا دارومدار خود انحصاری پر ہوتا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے جن ممالک کو اپنے پاو’ں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کی انہوں نے تو ترقی کرنے کے لیئے خودانحصاری سیکھ لی اور ترقی کر گئے مگر پاکستان آج انہی ملکوں سے سرمایہ کاری کروانے کا محتاج ہے۔ ان ممالک میں ایک برادر اسلامی ملک متحدہ عرب امارات بھی شامل یے۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے دیرینہ اور قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔ جب 2 دسمبر سنہ 1971ء کو متحدہ عرب امارات کا قیام عمل میں آیا تو متحدہ عرب امارات کو تسلیم کرنے والوں میں پاکستان دنیا کا سب سے پہلا ملک تھا۔ متحدہ عرب امارات کے قیام اور اتحاد میں پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کے حکمران عزت مآب شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کے پاکستان کے ساتھ خصوصی دوستانہ اور بھائی چارے والے تعلقات تھے۔ جب متحدہ عرب امارات کا اتحاد قائم ہوا تو امارات کے حکمران عزت مآب شیخ زاید بن سلطان نے پاک فضائیہ کے ایئر کموڈور صدرالدین کو ابوظہبی ایئرفورس کا پہلا سربراہ مقرر کیا۔ تب متحدہ عرب امارات کی ایئرفورس کو پاک فضائیہ کا توسیعی پروگرام سمجھا جاتا تھا۔ حتی کہ آج تک پاک فضائیہ کے فلائنگ انسٹرکٹرز اور دیگر ماہرین اماراتی فضائیہ کے پائلٹس اور دیگر اہلکاروں کی بڑی تعداد کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتے آ رہے ہیں۔
اس کے بعد ایمریٹس ائیر لائن کے قیام کو بھی پاکستان ائیر لائن (PIA) نے ممکن بنایا جو آج دنیا کی پہلے نمبر کی منافع بخش اور کامیاب ترین ائیر لائن ہے۔ پی آئی اے کے ماہرین نے ایمیرٹس ایئرلائن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نومولود ہوائی کمپنی کو تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کی۔ پاکستان نے ایمریٹس ائیر لائن کو دو جہاز لیز پر دیئے اور اپنی اکیڈمی میں عملے کو تربیت بھی فراہم کی۔ یہاں تک کہ ایمریٹس ایئرلائن کی پہلی پرواز سنہ 1985ء میں دبئی سے کراچی پہنچی۔
متحدہ عرب امارات کے حکمران جناب شیخ زاید بن سلطان بھی پاکستان سے دوستی نبھانے میں پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے سنہ 1966ء سے 2004ء تک امارات و ابوظہبی کے حکمران کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور وہ ہمیشہ پاکستان کی ترقی میں شانہ بشانہ کردار ادا کرتے رہے جن کی جانب سے لاہور اور رحیم یار خان میں شیخ زاید ہسپتال، شیخ زاید میڈیکل کالج اور شیخ زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا قیام عمل میں آیا۔ پاکستان میں متحدہ عرب امارات پہلے ہی تیل، گیس، ٹیلی کمیونکیشن، ریئل اسٹیٹ، ایوی ایشن، بینکاری اور توانائی کے شعبوں میں بڑے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہے۔ یو اے ای سے تعلق رکھنے والی متعدد بین الاقوامی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے جن میں اماراتی نیشنل آئل کمپنی یعنی اینوچ، اماراتی پٹرولیم انویسٹمنٹ کمپنی یا آئی پی آئی سی، اماراتی ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن یعنی اتصلات، دانا گیس، الغوری، ایمار، ڈی پی ورلڈ، ابراج کیپیٹل، تھانی، داناتا، اتھاریھرا ایگریکلچرل کمپنی، گلف فارماسوٹیکل انڈسٹریز، اماراتی انویسٹمنٹ گروپ، دی عرب کمپنی فار پیکجنگ اور النصیر ہولڈنگز وغیرہ شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات سے اس تاریخی دوستی کے پس منظر میں جمعرات کے روز پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب جناب شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی جس کے بعد متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کیلئے رقم مختص کرنے کا اعلان کیا۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ تجارت جام کمال خان، وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ملاقات میں شریک تھے۔
امارات کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس سرمایہ کاری کا اعلان پاکستان کی معیشت کے استحکام اور دونوں ممالک کے مابین تعاون کے مزید فروغ کیلئے کیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر کے ساتھ شیخ طحنون بن محمد النہیان اور شیخ حزہ بن سلطان النہیان کی وفات پر تعزیت بھی کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی، وزیرِ اعظم نے پاکستان کی متحدہ عرب امارات کے ساتھ شراکت داری بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں توانائی، پورٹ آپریشنز، غذائی تحفظ، مواصلات، معدنیات، بینکنگ اور مالیاتی سروسز کے شعبے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
مزید برآں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے "کشکول” توڑ دیا ہے کیونکہ اقوام عالم قرض یا امداد سے نہیں بلکہ دن رات محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔
پاکستان اور یو اے ای کی آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری پر راونڈ ٹیبل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید کی قیادت میں متحدہ عرب امارات ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہمارے لئے یہ خوش آئند ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ہونہار آئی ٹی پروفیشنلز یہاں موجود ہیں جبکہ اسی طرح پاکستان سے بھی ہونہار پروفیشنلز یہاں موجود ہیں جو معیشت کے مختلف شعبوں کو ڈیجیٹائز کرنے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت کے اڑھائی ماہ کے دوران زیادہ تر وقت آئی ٹی کے شعبہ کے فروغ پر صرف کیا۔ ہم اپنی معیشت کی ہیئت تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے بھائیوں کے تعاون سے پاکستان کی معیشت کی ہیئت کو مکمل طور پر بدل دیں۔
لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کی اس 10ارب کی سرمایہ کاری سے اسی صورت میں فائدہ اٹھا سکتا ہے جب ہم اپنے اندر خود انحصاری پیدا کریں گے۔ معاشی طور پر جوائنٹ وینچرز اور نالج شیئرنگ کی بنیاد پر ہم مشترکہ کاروبار تو کر سکتے ہیں مگر اس سے ہم کلی استفادہ اسی صورت میں کر پائیں گے جب ہم اپنے ذرائع کو خود استعمال کرنے کے قابل ہونگے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بجا کہا کہ بے شک اقوام عالم قرض یا امداد سے نہیں بلکہ دن رات محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں، اسی جذبہ کے ساتھ ہمیں خود انحصاری کی منزل کو حاصل کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے والد کی طرح ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، انہوں نے ہمیشہ ایک خاندان کی طرح پاکستان کی مدد کی، ہم اپنے برادر ملک سے قرض نہیں چاہتے بلکہ ان سے مشترکہ سرمایہ کاری اور تعاون چاہتے ہیں جو باہمی مفاد کیلئے ہو۔ میرے خیال میں اگر ہم خود انحصاری کا دعوی کرتے ہیں تو ہمیں اسے عملی جامہ بھی پہنانا چایئے۔ پاکستانیوں کے کشکول توڑنے کی باتیں سنتے سنتے کان پک گئے ہیں آخر ہم حقیتا اسے کب توڑیں گے؟
گداگری Begging کے موضوع پر لکھنے کا سوچ رہا تھا کہ چند دن پہلے ایک معاصر روزنامہ کے ایڈیٹوریل صفحہ پر "گداگری Beggingمنفعت بخش کاروبار بن گیا” کے عنوان سے ایک کالم نظر سے گزرا۔ اگرچہ گداگری کے پیشہ سے وابستہ بھکاریوں کے مصدقہ اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں، تاہم اسی دوران بھکاریوں کے بارے ایک حیران کن اور افسوسناک سروے پڑھنے کا موقع ملا جس کے مطابق 24 کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ 80 لاکھ بھکاری موجود ہیں جس میں 12 فیصد مرد، 55 فیصد خواتین، 27 فیصد بچے اور 6 فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں. بھیک مانگنا واقعی ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ جب سوشل میڈیا پر اس موضوع کے بارے سرفنگ کی تو مزید چشم کشا معلومات سامنے آئیں۔ ایک ایسی ویڈیو بھی سامنے آئی جس میں ایک یوٹیوبر ایک بھکاری کا انٹرویو کر رہا تھا۔ انٹرویو کرنے والے نے ایک نئی نویلی ہنڈا سوک کار پر کیمرہ گھمایا جس کا دروازہ کھول کر ایک بھکاری باہر نکل رہا تھا۔ جب اس کا انٹرویو کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس کی کار کی مالیت 25 لاکھ روپے ہے۔ اس گداگر نے بھیک مانگنے کا آغاز ایک بڑے شہر کے ٹریفک سگنل پر کھڑے ہو کر کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ 7 مرلے کی ایک تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہے، اس کے تین رکشے ہیں جو کرائے پر چل رہے ہیں اور وہ پانچ پانچ مرلے کے 4 پلاٹوں کا مالک ہے۔ جب انٹرویو کرنے والے نے اس گداگر سے پوچھا کہ اسے بھیک مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی، اور وہ یہ کام چھوڑ کیوں نہیں دیتا ہے تو بھکاری نے بڑے اعتماد اور فخر کے ساتھ جواب دیا کہ: "میری جائیداد اور میرا پیسہ میری محنت کی کمائی ہے۔ سردی ہو، گرمی ہو یا بارش ہو میں سخت محنت کرتا ہوں۔ لگثری لائف گزارنا میرا حق بنتا ہے۔ ہمارے حکمران بھیک مانگنا چھوڑ دیں تو میں بھی یہ پیشہ ترک کر دوں گا۔”
حقیقت بھی یہی ہے کہ وطن عزیز میں گداگری Begging ایک قومی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جس کا سفر اوپر سے نیچے کی طرف جاتا ہے۔ آپ لاہور کے جی آر او، کینٹ، گلبرگ اور ماڈل ٹاو’ن وغیرہ کے پوش علاقوں کو دیکھ لیں۔ ان میں رہنے والی "اشرافیہ” اور "امراء” حکومت سے اربوں روپیہ کے قرضے لے کر ہڑپ کر گئے ہونگے۔ اس کا براہ راست بوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے یعنی پاکستان کو وقفے وقفے سے عالمی مالیاتی اداروں، آئ ایم ایف (IMF) اور برادر ممالک کے سامنے قرضوں کے حصول کے لیئے "کشکول” پھیلانا پڑتا ہے جس کا بالواسطہ اعتراف سنہ 2018ء کی الیکشن مہم میں عمران خان نے یہ اعلان کر کے کیا کہ وہ حکومت میں آئے تو کشکول توڑ دیں گے اور سنہ 2024ء میں شہباز شریف نے اسی بات کو دہرا کر کیا کہ میاں محمد نواز شریف کو اقتدار دیا گیا تو وہ بھی کشکول کو توڑ دیں گے۔ لیکن امر واقع یہ ہے کہ آئی ایم ایف (IMF) سے مذاکرات کے دوران نہ صرف آئ ایم ایف (IMF) سے امریکہ کی سفارش کے زریعے قرضے کی بھیک مانگی گئی بلکہ اس کی تمام شرائط بھی مان لی گئیں۔ دراصل بھیک کچھ رقم لے کر واپس نہ کرنے کا شرمناک عمل ہے۔ پاکستان کا تقریبا ہر حکمران سنہ 1958ء کے بعد سے اس عمل کو تسلسل کے ساتھ بخوبی انجام دے رہا ہے۔ ہماری ہر حکومت ہر سال آئی ایم ایف (IMF) کو جو قسطیں واپس کرتی ہے وہ سابقہ قرضوں کے اصل زر کی مد میں نہیں آتی ہیں بلکہ وہ قسطیں ملک پر چڑھنے والے قرضوں کے سود کی ہوتی ہیں۔ اسی لیئے ہر سال ڈالر کے مہنگا ہو جانے اور مزید قرضے لینے کی وجہ سے قرضوں کی رقوم میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
ہمارے ملک میں خود انحصاری کی کوئی پائیدار سکیمیں موجود نہیں ہیں۔ ہم کب تک بھیک کے قرضہ جات لے کر ملک چلاتے رہیں گے؟ اقوام عالم کے سامنے بحیثیت قوم ہم اپنی عزت نفس تیزی سے کھوتے جا رہے ہیں۔ اس کا اثر نچلی سطح پر بھی پڑا ہے کہ اب گداگری Begging بھی باقاعدہ ایک منفعت بخش صنعت بن چکی ہے۔ ملک میں پائے جانے والے بھکاریوں کا نیٹ ورک وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے جس کا 50 فیصد حصہ کراچی، 16 فیصد لاہور، 7 فیصد اسلام آباد اور بقیہ دیگر شہروں میں پھیلا ہوا ہے. کراچی میں روزانہ اوسط بھیک 2ہزار روپے، لاہور میں 1400 اور اسلام آباد میں 950 روپے ہے. پورے ملک میں فی بھکاری اوسطا 850 روپے کماتا ہے. روزانہ بھیک کی مد میں یہ بھکاری 32 ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں. یہ رقم سالانہ 117 کھرب روپے ہیں جو ڈالر کی اوسط میں 42 ارب ڈالر بنتے ہیں! بھکاری حضرات عموما اخلاقی بلیک میلنگ کرتے ہیں جس سے بغیر کسی منافع بخش کام کے ہم بھکاریوں پر ترس کھا کر انکی مدد کرتے ہوئے سالانہ 42 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں. اس خیرات کا نتیجہ ہمیں سالانہ 21 فیصد مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے جس سے ملکی ترقی کے لئے 3 کروڑ 80 لاکھ افراد کی افرادی قوت کسی کام کی نہیں رہتی. جبکہ انہی بھکاریوں کو حکومت کام پر لگائے تو معمولی سے معمولی کاموں سے بھی ملک کو 38 ارب ڈالر کی آمدنی میسر آ سکتی ہے جو چند برسوں میں ہی ہمارے ملک کو مکمل اپنے پاؤں پر نہ صرف کھڑا کر سکتی ہے بلکہ موجودہ بھکاریوں کے لئے باعزت روزگار بھی مہیا کر سکتی ہے.
لیکن مجال ہے کہ کسی بھی حکومت نے اس بھیانک قومی مسئلہ کے بارے میں کبھی بھی سنجیدگی سے سوچا ہو۔ پاکستان میں سنہ 1970ء سے آج تک قرضے لے کر معاف کرانے والے سیاسی خاندانوں کی لسٹیں کبھی پبلک کی گئی ہیں اور نہ ہی کبھی ان کی جائیدادوں کو ضبط کیا گیا ہے۔ قرضے لے کر معاف کرانا "بھکاری پن” کی انتہاء نہیں تو اور کیا ہے، جس کی خود "اشرافیہ” مرتکب ہوتی آ رہی ہے۔ ایک معاصر صحافی نے ماضی قریب میں انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے تانبہ کے ذخائر سے 6000 ارب ڈالر کا تانبہ شمالی وزیرستان سے چین بھیجا گیا جبکہ پاکستان کا قرضہ صرف 200 ارب ڈالر ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پیسہ آخر کہاں گیا اور وہ کون "بھکاری” ہڑپ کر گئے؟ پورے انگلینڈ میں صرف 86 سرکاری گاڑیاں ہیں جبکہ صرف اسلام آباد میں 90 ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں۔ صدر سے لے کر ایم پی اے اور ایم این اے کے منشیوں اور بیوروکریسی کے چپڑاسیوں تک آرام دہ سرکاری گاڑیوں میں مفت گھومتے ہیں۔ ان سب کی بجلی، گیس، ہزاروں لٹر کا فیول، سینکڑوں سیکورٹی گارڈز اور پروٹوکول کے نام پر درجنوں گاڑیاں، کچن کے نام پر کروڑوں روپے، اور باہر کے ملکوں میں دوروں کے دوران درجن بھر افراد ساتھ لے کر سیر سپاٹے کرنا اور قومی خزانے سے حج عمر کروانا کونسے ملک کا قانون ہے؟ ہفتہ بھر سے سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ پنجاب کی وزیر اعلی محترمہ مریم نواز شریف نے سرکاری زیر استعمال گاڑیوں کے ٹائروں کی شکل میں تقریبا 3 کروڑ اور ہیلی کاپٹر کی خریداری پر لگ بھگ 4 ارب روپے کی رقم خرچ کی ہے۔ اس نوع کے سرکاری اخراجات پورے سالانہ بجٹ کا 50 فیصد سے بھی زیادہ بنتے ہیں جس کا بلآخر بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے جسے ٹیکس لگا کر پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس طرز کی کرپشن نے ہی گداگری Beggingکی لعنت کی حوصلہ افزائی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے کہ نہ صرف یہ مفت خوری نما گداگری ملک بھر میں تیزی سے پھیلی ہے بلکہ اسے ملک سے باہر بھی پروموٹ کیا گیا ہے۔ اس کے پیچھے ایک بہت بڑا مافیہ سرگرم عمل ہے۔ خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں گداگروں کو ایکسپورٹ کیا جاتا ہے جو شاپنگ سنٹرز، دکانوں، سڑکوں اور مسجدوں کے باہر بھیک مانگتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے لاہور کی پی آئی کی فلائٹ سے سعودی عرب جانے والے گداگروں کو نیچے اتارا گیا تھا۔ اس سے پہلے سعودی حکومت نے بھی کچھ پاکستانی بھکاریوں کو پکڑ کر ڈیپورٹ کیا تھا۔ اب یہ بھی اطلاع ہے کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کے ویزوں پر پابندی لگا دی ہے۔ میں نے دبئی میں بھی کثیر تعداد میں جوان خواتین کو بھیک مانگتے دیکھا ہے جن میں کچھ معصوم بچوں کو اٹھائے ہوئے ہوتی ہیں۔ بعض خوبصورت اور جوان لڑکیاں بھی اس دھندے میں ملوث ہیں جو مختلف فلیٹوں اور ویلوں وغیرہ میں گھر کے دروازے پر بیل دے کر بھیک مانگتی ہیں۔ ان لڑکیوں کو لانے والے گروہ ایک ایک بھکاری لڑکی سے دو سو سے تین سو درہم تک ایک دن کا لیتے ہیں۔ یہ لڑکیاں اس سے اوپر جو کماتی ہیں وہ ان کا ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھکاری "دلال” سے تنخواہ اس کے علاوہ لیتی ہیں۔ ان کو لانے والے یہ بدقماش لوگ ان کے ویزہ، ٹکٹ اور رہائش کا انتظام کرتے ہیں اور بعد میں ان سے ہزاروں درہم ماہانہ کماتے ہیں۔ پاکستان میں بھکاری خواتین، بچے، مرد اور بوڑھے بھی گھروں کے دروازوں پر جا کر بھیک مانگتے ہیں۔ ان بھکاریوں کی اکثریت شہروں اور دیہاتوں میں موٹے کپڑے کے ٹینٹوں میں رہتی ہے جنہیں پنجابی میں "پکھی واس” یا "اوڈ” کہتے ہیں۔ ان میں اکثر گداگر گھروں کی ریکی کرتے ہیں اور بعد میں انہی خیرات دینے والے گھروں میں چوریاں اور ڈکیتیاں بھی کرتے ہیں۔
خاص طور بیرون ملک میں ان بھکاریوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے وزٹ اور ایمپلائمنٹ ویزوں پر پابندی بھی لگائی گئی ہے جس میں متحدہ عرب امارات سرفہرست ہے۔ پاکستان کے کم و بیش 30 اضلاع کے باشندوں کا داخلہ متحدہ عرب امارات میں بند کیا جا چکا ہے۔ یہاں پاکستان کے لیبر کے ویزوں پر 6 ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا پہلے ہی اس وجہ سے پابندی لگی ہوئی یے۔ گداگری کے اس مکروہ پیشہ کی وجہ سے خلیجی ممالک میں پاکستان بری طرح بدنام ہو رہا ہے۔ اس سے قبل ان ممالک میں پاکستانی ورکروں کی بہت عزت اور ڈیمانڈ تھی۔ اب آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے کہ یہاں ہم اچھے بھلے خارجی پاکستانیوں کے بارے میں بھی یہ ریمارکس دیئے جانے لگے ہیں کہ کل’ پاکستانی کچرا۔ پاکستان میں گداگری کے خلاف قانون بھی موجود ہے مگر کبھی اس پر عمل کیا گیا ہے اور نہ ہی معصوم و رحم دل پاکستانی قوم ان بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ ہماری اجتماعی عزت ہے کہ ایسے بھکاریوں کی وجہ سے جس کا جنازہ نکلتا جا رہا ہے۔ علامہ محمد اقبال کے الفاظ یاد آتے ہیں: "غیرت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں، پہناتی ہے درویش کو تاج سرِ دارا۔” جس کو پہننے کا تاحال دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
حکومت کے علاوہ گداگری کے ناسور سے چھٹکارے کے لیئے کچھ ذمہ داریاں عوام پر بھی عائد ہوتی ہیں۔ ہم مہنگائی میں جینا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کی روٹی ان بھکاریوں کو دیکر مطمئن ہیں تو یہ پکی بات ہے اگلے سو سال مزید ہمیں ذلت کی زندگی گزارنا ہو گی۔ اگر ہم چند سالوں میں ہی مضبوط معاشی استحکام اور اپنے بچوں کے لئے خوشحال اور پرسکون زندگی چاہتے ہیں تو آج ہی سے ہمیں ایسے تمام بھکاریوں کو بھیک دینا بند کرنا ہو گی، چاہے یہ بھکاری عوام سے ہوں یا یہ سرکاری بھکاری ہوں۔
بنگلہ دیش نے جس دن بھکاری سسٹم کو خدا حافظ کہا تھا، اسکے صرف چار سال بعد اسکے پاس 52 ارب ڈالر کے ذخائر تھے. کیا ہم ایسے مثالی اور مستند کام کی تقلید نہیں کر سکتے ہیں؟ بہتر ہے ہم کشکول اٹھا کر دربدر ایک ایک ارب ڈالر کی صدا لگانے کی بجائے اس بھکاری پن سے ہی جان چھڑا لیں۔
کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )
تحقیق و تحریر :
سیدزادہ سخاوت بخاری
آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔
اسی طرح ، اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ، لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔ دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ” نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔ جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔
یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ، قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت پیدا کرتی ہیں ۔
کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ، داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔
یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔
اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔
یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،
مثلا ،
چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )
روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے
حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )
والوں نے ” نجاشی ” کہا
ایران میں ” کسری ” ( کسرا )
اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے
سلطنت عمان میں ” سلطان "
سعودی عرب میں ” ملک "
متحدہ عرب امارات میں ” امیر "
ھندوستان میں ” شہنشاہ "
برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔
پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔
بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،
آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔
چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام مصر پڑا ۔
الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون " بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔ آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔ وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء ) کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے
اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔
قارئین
یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ السلام نے وزارت کا عہدہ ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور یوں حضرت یعقوب علیہ السلام ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی مدد ، راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔
موسی علیہ السلام کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ
بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔
یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ، فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون علیہ السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔
جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔
جب حضرت موسی علیہ السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی علیہ السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔
اور جب حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔
فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے