Tag: متحدہ عرب امارات

  • اماراتی صدر کا دورہ بھارت اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    اماراتی صدر کا دورہ بھارت اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    اماراتی صدر کا دورہ بھارت اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    Dubai Naama

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے دورہ بھارت پر پاکستان اور امارات کے درمیان کچھ سوشل میڈیا صحافی اور ملک دشمن عناصر منفی اور تعصبانہ تاثر پھیلا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ جب انہوں نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو اس وقت بھی اس پاکستانی طبقہ کا یہی رویہ دیکھنے کو ملا تھا اور اب انہوں نے بھارت کا دورہ کیا ہے تو ان عناصر نے پاکستان اور امارات کے درمیان دوری پیدا کرنے لیئے دوبارہ زہر اگلا ہے حالانکہ امارات کے صدر نے بھارت جانے سے پہلے پاکستان کا دورہ کرنے کو ترجیح دی تھی۔ اماراتی صدر کا دورہ بھارت رسمی اور علامتی قسم کا کاروباری دورہ تھا جس میں زیادہ تر سرمایہ کاری کے معاہدے کیئے گئے۔ بھارت نے امارات میں خصوصی طور پر دبئی کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ انوسمنٹ کر رکھی ہے جبکہ بھارت کے بعد پاکستان کا دوسرا نمبر یے۔ اس کے باوجود یہ دورہ پاکستان کے لئے ایک اشارہ ہے کہ متحدہ عرب امارات، اسرائیل کے قریب ہونے کے بعد اب بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے جس سے خطے میں سٹریٹجک صورتحال بھی بدلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    آج کی عالمی سیاست میں زیادہ تر فیصلے دفاعی اور سٹریٹجک نقطہ نظر سے کئے جا رہے ہیں، اور اسی پس منظر میں پاکستان کو اپنے تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ابراہام اکارڈ کے بعد اماراتی قیادت کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعلقات میں اضافہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ازسرنو مرتب کرنے کے لیئے ایک الرٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں متحدہ عرب امارات ہمیشہ ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لیکن یہاں یہ نہیں بھولنا چایئے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دنیا کا کوئی ملک مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ اس کی تازہ مثالیں امریکہ اور یورپ کی جاری سرد جنگ اور کنیڈا اور امریکہ کے کشیدہ تعلقات ہیں۔ امریکہ اور کنیڈا کے دوستانہ اور کاروباری تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں مگر جب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیڈا کے کچھ حصوں پر امریکی ملکیت جتلائی ہے کنیڈا پر امریکی حملے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اب اسرائیلی دفاعی ایکو سسٹم کا حصہ بھی بنتا جا رہا ہے تو پاکستان کو امارات کے بارے میں ان مخاصمانہ عزائم رکھنے والے عناصر سے متاثر ہوئے بغیر ماضی کی طرح امارات کے ساتھ تعلقات کو نئے سرے سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر سعودیہ اور امارات کے تعلقات بگڑنے کے بعد اب پاکستان کے لیئے امارات کے متوازن تعلقات رکھنا ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے ساتھ منسلک ہے اور امارات کے اس معاہدے میں شامل ہونے کے امکانات وقتی طور پر مسدود ہو گئے ہیں۔ خطے میں سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور ایران کا اچھا "سٹریٹجک ٹرائی اینگل” بنا تھا اور نیٹو کی طرز پر پاکستان کی زیر نگرانی اسلامی فوج بنانے کی خبریں بھی آ رہی تھیں لیکن امارات اور بھارت کے بڑھتے ہوئے ان سٹریٹجک تعلقات نے اس امکان کو کافی حد تک نقصان پہنچایا ہے کیونکہ امارات ایک برادر اسلامی ملک ہے دوسرا بھارت اور امارات کے ساتھ اسرائیل کے کافی مضبوط دفاعی اور تجارتی تعلقات ہیں اور یہ دونوں ملک نہیں چاہیں گے کہ امارات اس اسلامی فوج کا حصہ بنے۔

    اماراتی صدر کا دورہ بھارت اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    اس دورے کے بعد پاکستان امارات کے ساتھ اپنے دفاعی اور تجارتی تعلقات کو الگ رکھنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتا ہے۔ تجارت کے شعبے میں پاکستان اور امارات کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔ اس سال بھی دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ امارات ہماری بندرگاہیں اور ائرپورٹس کا انتظام بھی چلا رہا ہے، پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر، بنکنگ، اور انڈسٹری میں امارات کی بھاری سرمایہ کاری ہے. یہاں تک کہ پاکستان نے لیبیا میں اماراتی پراکسی کو اسلحہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ مزید برآں، امارات میں پاکستانی کمیونٹی نہایت نمایاں ہے اور بھارتی کمیونٹی کے بعد پاکستانی وہاں کی دوسری بڑی آبادی شمار ہوتے ہیں، جس سے تعلقات میں سماجی اور اقتصادی گہرائی بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، دونوں ممالک کے مفادات مختلف نوعیت کے ہیں۔ پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اسٹریٹجک فاصلہ برقرار رکھے، کیونکہ ابراہام اکارڈ کے اثرات نے خطے کی سیاست کو نئے محاذوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ آج خطے میں دو واضح گروپس بنتے دکھائی دے رہے ہیں ایک طرف اسرائیل، عرب امارات اور بھارت، جبکہ دوسری طرف پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور ایران ہیں جس میں آذربائیجان بھی شامل ہونے کے لئے پر تول رہا ہے، اور اس خطے کے مستقبل میں پاکستان کے گروپ کو عالم اسلام کا واحد نمائندہ گروپ بننے کی امید ہے۔ پاکستان کے لئے اس نازک مرحلے پر اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے دفاعی، تجارتی اور سفارتی تعلقات کو متوازن رکھے، تاکہ علاقائی سیاست میں وہ اپنی خودمختاری اور اثر و رسوخ برقرار رکھ سکے۔ امارات کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کے باوجود دفاعی اور سٹریٹجک معاملات میں فاصلہ اختیار کرنا پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے نہایت ضروری ہے۔

    اس بناء پر گو کہ دونوں ملکوں کی انٹرسٹ اپنی اپنی ہے، لیکن بھائی چارے اور باہمی تعلقات مضبوطی سے برقرار رہیں گے اور اس کے علاوہ جہاں سے دونوں ملکوں کو فائدہ ملتا ہے وہاں سے لیں گے۔ پاکستان کے لئے سٹریٹجک فاصلہ اختیار کرنے سے بھی زیادہ اہم اس کی خارجہ پالیسی ہے جس کے ذریعے وہ امارات کو دوبارہ سعودی عرب کیمپ میں لا سکتا ہے۔ اگر اسلامی فوج کی بیل منڈھے چڑھتی ہے تو پھر امارات کا واپس سعودی عرب، ترکی، پاکستان اور ایران کے کیمپ میں آنا ہے ہی امارات کے لیئے ایک فطری فیصلہ ہو گا ورنہ خطے میں اس کے تنہائی کا شکار ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ امارات کے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات پر پاکستان کے کسی طبقے کو اعتراض نہیں ہونا چایئے، بلکہ حکومت ان کے خلاف آئیندہ ایسی بدنیتی پر مبنی ہرزہ سرائی کے خلاف سخت ایکشن لینا ہو گا۔ خارجہ پالیسی ایک سفارت کا ایک سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے اس پر ہر ایرے غیرے کو رائے دینے یا اس کا تمسخر اڑانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہر ملک اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اسی مثبت سوچ کے ساتھ پاکستان کو امارات کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہو گا۔ پاکستان کی انڈیا، افغانستان اور ایران تجارت بند ہے لیکن بھارت اس معاملے میں پاکستان سے بہت آگے ہے۔ اماراتی صدر کے دورے کے دوران ابھی 200 ارب ڈالر کے معاہدے کیئے گئے لیکن یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ان معاہدوں کو کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، ابھی ان معاہدوں پر عمل درآمد ہوا ہے اور نہ ہی کسی قسم کے بھارتی اسلحہ خریدنے کی کوئی ڈیل ہوئی ہے۔ انڈیا والے شادیانے بجا رہے تھے کہ جے ایف17 تھنڈر کے مقابلے میں ان کے آکاش میزائیل لئے جائیں گے، لیکن اس دورے کے دوران ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ دراصل اماراتی صدر کا یہ دورہ یمن میں سعودی عرب کے حملے کے ردعمل کے طور پر بھی کیا گیا، اور اس دورے سے پہلے امارات کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ امارات سے دونوں طرح سے گفت و شنید کے امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کے لیئے موقع ہے کہ وہ سعودی عرب اور امارات کو ایک میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ٹریڈ بڑھانے والی باتیں ہیں جو چلتی رہتی ہیں، سٹریٹجک خریداری امارات نے بھارت سے کی یا خفیہ طریقے سے پاکستان سے، وہ بغیر باتوں کے بھی ہو جانی ہے۔

  • گداگری اور ملکی بدنامی

    گداگری اور ملکی بدنامی

    Dubai Naama

    خلیجی ممالک میں پاکستان بھکاریوں کی وجہ سے بدنام ہو رہا ہے۔ پہلے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب قطر اور اومان وغیرہ سے پاکستانی بھیک مانگنے والوں کی اطلاعات تھیں۔ اب سعودی عرب نے پاکستانی بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر سخت اقدامات اٹھائے ہیں جس میں سزائیں، ملک بدری اور انٹری ویزوں پر پابندی وغیرہ شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات نے دو سال ہوئے پاکستان سے پہلی بار امارات آنے والوں کے لیئے ورک ویزوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ یہ حکومت کے لیئے تشویشناک بات ہے کہ بھارت، فلپائن، نیپال اور سیاح فام افریقکن ممالک کے ورک ویزے کھلے ہیں حتی کہ سری لنکا جو حال ہی میں "دیوالیہ” ڈیکلیئر ہوا ہے اس کے بھی ویزے کھلے ہیں مگر پاکستان پر ابھی تک پابندی ہے۔ متحدہ عرب امارات پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اس میں اس کا قصور بلکل نہیں ہے۔ امارات میں موجود تمام سمندر پار پاکستانیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پاکستان سے امارات میں بھیک مانگنے والے مرد و خواتین آتے ہیں بلکہ یہ ایک پورا مافیہ ہے جو اس دھندے میں ملوث ہے۔

    امسال 2025ء میں اب تک 24,000 سے زائد پاکستانیوں کو بھیک مانگنے کے الزام میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ یعنی ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ برسوں میں سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانی بھکاریوں کی کل ملا کر تعداد 56,000 تک پہنچ گئی ہے۔ فروری 2025ء سے سعودی عرب کی حکومت نے پاکستان سمیت 14 ممالک کے لئے ملٹی پل انٹری وزٹ ویزے معطل کر دیئے ہیں اور اب صرف 30 دن کا سنگل انٹری ویزہ جاری کیا جا رہا ہے تاکہ ویزوں کے غلط استعمال اور غیر قانونی قیام کو روکا جا سکے۔

    حکومتِ پاکستان نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان میں لاہور، کراچی اور ملتان وغیرہ کے ایئرپورٹس پر بھکاریوں کی وجہ سے ملک کی بدنامی کو روکنے کے لئے اٹھائی تین سو خلیجی ممالک جانے والوں کو مشکوک بھکاری سمجھ کر یا نامکمل سفری دستاویزات کی بناء پر آف لوڈ کیا تھا۔ سنہ 2025ء میں اب تک ایف آئی اے نے 51,000 افراد کو مشکوک سفری دستاویزات یا بھیک مانگنے کے شبے میں ایئرپورٹس سے آف لوڈ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھکاریوں کے گروہ چلانے والوں کے پاسپورٹ بلاک کرنے اور ان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یا بلیک لسٹ میں ڈالنے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔

    مزید برآں حکومت پاکستان نے اس مافیا کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق بہت سے پیشہ ور بھکاری عمرہ ویزہ حاصل کر کے سعودی عرب جاتے ہیں اور مقررہ مدت کے بعد واپس نہیں آتے، جس پر سعودی حکومت نے پاکستان کو بارہا خبردار کیا مگر پاکستان اس پر خاطر کوئی اقدام نہ اٹھا سکا۔ افسوس ہے کہ عراق میں گرفتار کئے جانے والے بھکاریوں میں سے 90 فیصد کا تعلق بھی پاکستان سے ہوتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حرم کے اندر زیادہ تر جیب کترے بھی پاکستانی ہوتے ہیں جو عمرے یا وزٹ ویزا پر جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں خلیجی ممالک کے سفراء ہمیں گلہ کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ملکوں میں "عادی مجرم” بھیجتے ہیں جس سے ہماری جیلیں بھر گئی ہیں۔ یہ انسانی اسمگلنگ کا مسئلہ ہے اور بہت حد تک یہ الزام درست بھی ہے کہ بھکاری زیادہ تر عمرے یا وزٹ ویزے پر جاتے ہیں اور زیارات کے مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔ ہمارے کئی افراد اس لئے ڈی پورٹ ہو رہے ہیں کہ وہ وہاں جا کر بھکاری بن جاتے ہیں۔ پاکستانی زائرین پر اب عراق میں بھی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ یہ افراد وہاں بھی گداگری کا پیشہ اپنا لیتے ہیں۔

    عراق میں معاوضہ ڈالر کی شکل میں ملتا ہے اس لئے کچھ لوگ زائرین کے روپ میں وہاں کمائی کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے افراد اربعین کے دنوں میں بھیک مانگتے ہیں اور بعد میں وہیں چھپ کر مزدوری کرنے لگتے ہیں اور وہ جیسے ہی پکڑے جائیں تو ڈی پورٹ کر دیئے جاتے ہیں۔ اب عراق نے بھی پاکستانی زائرین پر کافی سختی کر دی ہے، جس کا سبب ان پاکستانیوں کی یہی غیر قانونی سرگرمیاں ہیں۔

    یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ بعض پاکستانی شہری ایسی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جو باقی کمیونٹی کے لئے بھی شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔ عراق نے تو اب اتنی سختی کر دی ہے کہ جب تک زائرین کے قافلے میں شامل تمام افراد واپسی پر ساتھ نہ ہوں عراقی حکام پلٹنے نہیں دیتے ہیں، چاہے کئی کئی دن سرحد پر انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    عراق سے شائع ہونے والے آن لائن نیوز پیپر عراقی نیوز نے 2018ء میں دو سو پاکستانی بھکاریوں کی گرفتاری کی خبر دی تھی۔ متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے اخبار دی نیشنل میں2017ء کے دوران ایک رپورٹ "عمان اور یمن میں رمضان کے دوران پاکستانی بھکاریوں کے جھرمٹ” کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ اس کے مطابق، ”رمضان کے مہینے میں کچھ پاکستانی گوادر کے راستے عمان اور یمن پہنچ کر بھیک مانگتے ہیں۔ یہ گداگر مساجد کے باہر ہی نہیں گھروں اور فلیٹوں میں جا کر بھی یہ کام کرتے ہیں جس سے بدنامی پورے پاکستان کی ہوتی ہے حالانکہ اس دھندے میں محض چند سو یا ہزار بھکاری ملوث ہوتے ہیں۔

    اس مد میں نہ صرف حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ وہ "اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن” کو اس مکروہ دھندے کے خلاف متحرک کرے۔ اس سے ملک کی ساکھ مجروح ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں جو واقعی پڑھنے کے لئے، زیارات کے لئے یا مزدوری کے لیے ورک ویزوں پر جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ ہماری ملکی معیشت کی بدتر صورتحال کی وجہ سے ہے جہاں ہماری بہت سی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، کاروبار چل نہیں رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی بیرونی انویسٹمنٹ بھی ملک میں نہیں آ رہی ہے جسکی وجہ سے بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور ہر سال ان بے روزگار نوجوانوں کی تعداد میں مزیر اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو مثبت طریقے سے ملکی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے جو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ملکی وسائل کے ذریعے اپنے اندر خودانحصاری پیدا کی جائے گی۔

  • اردو فلم خلع

    اردو فلم خلع

    اردو فلم خلع

    Dubai Naama

    میاں بیوی کے درمیان علیحدگی یا طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ اگر دونوں میں سے ایک کو زندگی بھر اکٹھے گزارا کرنے میں مشکل کا سامنا ہو یا ان کا ایک ساتھ رہنا ناممکن ہو جائے تو اس کی دو صورتیں ہیں کہ اول میاں اپنی شریک حیات کو طلاق دے دے یا بیوی تنسیخ نکاح کا دعوی کر کے جج کے ذریعے خاوند سے اپنا نکاح ختم کروا لے۔ تنسیخ نکاح میں جج کے سامنے بیوی کو ثابت کرنا پڑتا ہے کہ اسے اپنے خاوند کے ساتھ بقیہ زندگی گزارنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ اس کی تیسری صورت یہ ہے کہ بیوی اپنے خاوند کو جج کے سامنے کسی طرح راضی کر لے کہ وہ اسے طلاق دے دے یا جج تنسیخ نکاح کا فیصلہ دے دے جسے "خلع” کہا جاتا ہے۔

    ایسی کسی صورت میں خلع ایک ایسا موضوع ہے جس پر آراء مختلف النوع اور متنازعہ بھی ہیں۔ لیکن اسلام عورت کو خلع لینے کا حق دیتا یے۔ بدقسمتی سے ہمارا ملک مرد زدہ معاشرہ ہے۔ بہت سارے خبطی مرد عورت کو انسان ہونے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں عورت مظلومیت میں جی سکتی ہے اور نہ ہی مر سکتی ہے۔ یہاں پر ایک شادی شدہ عورت کے لیئے زندہ رہنے کے لیئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے خاوند سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لے۔ ایسی کسی ناگزیر صورتحال میں ایک شادی شدہ عورت کے لیئے اپنے خاوند سے خلع لے لینا اس مسئلے کا واحد اسلامی حل ہے۔

    لیکن ہمارے مسلم معاشرے میں ایک اور مسئلہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ چند خواتین اپنے اس اسلامی حق کو ناجائز طریقے سے استعمال کرتی ہوئی بھی نظر آ رہی ہیں کیونکہ چند مثالیں ایسی بھی سامنے آئی ہیں کہ کچھ خواتین اپنے خاوند کو پتہ بھی نہیں چلنے دیتی ہیں اور چند جعلی قسم کے ثبوت وغیرہ پیش کر کے جج سے تنسیخ نکاح کروا لیتی ہیں یا اس عمل کے بعد بھی اپنے مرد کے ساتھ رہنا جاری رکھتی ہیں، اور پھر اچانک کسی موقع پر اسے یہ کہہ دیتی ہیں کہ میں نے تو آپ سے خلع لے لیا ہوا ہے۔

    تنسیخِ نکاح کا مطلب کسی نکاح کو باطل قرار دے دینے، توڑ دینے یا ختم کر دینے سے یے۔ یہ ایک قانونی عمل ہے جو عام طور پر عدالت کے ذریعے انجام پاتا ہے، جب ایک فریق (اکثر بیوی) کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے جس کی وجہ شوہر کی طرف سے بدسلوکی، زیادتی، نشہ، تشدد یا کچھ دیگر الزامات ہوتے ہیں۔ اگر بیوی عدالت میں یہ الزامات ثابت کر دے تو اسے حق مہر واپس نہیں کرنا پڑتا یے اور نکاح منسوخ ہو جاتا ہے۔

    تنسیخ نکاح ایک قانونی اصطلاح ہے جو عدالتی حکم کے تحت نکاح کو ختم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے، جہاں بیوی کو شوہر کے جرم یا غلطی کو عدالت میں ثابت کرنا ہوتا ہے جبکہ خلع اسلامی فقہ کی اصطلاح ہے جس میں عورت طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اور شوہر کی رضامندی سے نکاح ختم ہوتا ہے۔ عدالتی خلع میں کچھ تبدیلی بھی کی گئی ہے، جہاں اب شوہر کی رضامندی ضروری نہیں ہے، تاکہ خواتین کو آسانی ہو حالانکہ یہ بھی اہم نکتہ ہے کہ خلع کا اس وقت تک (شرعی یا قانونی) اطلاق نہیں ہونا چایئے جب تک خاوند اپنی رضامندی سے تنسیخ نکاح پر دستخط نہ کر دے۔

    اردو فلم خلع

    دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ تنسیخِ نکاح کے لئے، بیوی کو عدالت میں شوہر کی غلطی یا جرم کو ثابت کرنا پڑتا ہے، جو کہ عملی طور پر بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
    یوں عدالتی خلع کو تنسیخِ نکاح کا ایک متبادل حل سمجھا جاتا ہے، جہاں عورت کو قصور ثابت کئے بغیر علیحدگی حاصل ہو جاتی ہے۔ اگر عدالتی خلع ہو جائے تو یہ ایک طلاقِ بائن کی طرح ہے، یعنی شوہر کو بیوی سے دوبارہ رجوع کرنے کا اختیار نہیں ہوتا، البتہ دونوں کی رضامندی سے دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
    کچھ مفتیان کرام کے مطابق، عدالتی خلع اس وقت تک شرعی نہیں جب تک شوہر کی رضامندی نہ ہو، کیونکہ خلع میں مرد کی رضامندی ضروری ہے۔

    یوں ہمارے ہاں طلاق دینے کی نسبت خلع لینےکا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔ اگر بیوی ان میں سے کسی جرم کے ٹھوس ثبوت فراہم کرے تو عدالت نکاح تنسیخ کرتی ہے جبکہ کچھ مفتیان کرام اور فتاوی جات مثلا دارالافتاء کراچی کے مطابق عدالتی خلع لیکر ایک اور نکاح کرنا نکاح نہیں ہے بلکہ یہ عمل "زنا” کے ضمرے میں آتا ہے۔

    اس موضوع کی ایسی پیچیدگیوں کے پیش نظر "خلع” کے نام سے ایک اردو فلم زیر تکمیل ہے جس کے پروڈیوسر ڈاکٹر سجاد وڑائچ ہیں۔ ایک دلچسپ امر یہ ہے پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر سجاد جہاں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور پاکستان لاہور کے مختلف سرکاری و غیرسرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، انہوں نے فلموں کی پروڈکشن بھی کی اور اردو و پنجابی فلموں میں بطور "ہیرو” بھی کام کیا، جن میں ان کی ایک مشہور فلم "کافرہ” سرفہرست ہے۔ ڈاکٹر سجاد وڑائچ صاحب کثیرالجہات فنکار ہیں۔
    ان دنوں وہ متحدہ عرب امارات دبئی میں کاروبار سے وابستہ ہیں اور اس فلم پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے فلم مکمل کر لی تو یقینا یہ سپر ہٹ جائے گی کیونکہ یہ اس موضوع پر اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہو گی، جو ہمارے آج کے مسلم معاشرے کی ایک اہم شرعی و قانونی ضرورت ہے۔

  • بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    Dubai Naama

    انڈیا امریکی صدر کے ہاتھوں مسلسل ذلت کا شکار تھا۔ اب جنرل بخشی نے فائٹر جیٹ تیجس کریش کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ دبئی کے ایئرشو میں کریش سے صرف ایک روز قبل انڈین پائلٹس اور عوامی وزٹرز پاکستان کے نمائشی لڑاکا طیاروں کو دیکھنے کے لیئے جوق در جوق آ رہے تھے۔ بہت سے انڈین تو پاکستان کے جے ایف17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوا رہے تھے۔ اگلے روز جونہی انڈیا کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا اور جس میں انڈین پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا تو اس کا ملبہ جنرل موصوف نے امریکہ پر ڈال کر بھارتی خفت مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن کہتے ہیں کہ، "جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔” مئی میں انڈیا نے پاکستان کے ہاتھوں شکست کھائی اور اب اپنی ہوائی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیئے جب بھارت نے دبئی کے ایئر شو میں شرکت کی تو اس نے اپنی رہی سہی کسر دنیا کے سامنے خود ہی پوری کر دی۔

    متحدہ عرب امارات دبئی میں انڈیا کا لڑاکا طیارہ کیا گرا ہے پوری دنیا بھارت کی نہ صرف ایئرفورس کا مذاق اڑا رہی ہے بلکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا کے 8 لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کی گواہی بھی عین سچ ثابت ہوئی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے تقریبا ہر فورم پر بھارت کے 7 طیارے گرائے جانے کا تسلسل سے ذکر کر رہے تھے اور انہوں نے چند روز قبل ہی اپنے آخری بیان میں ایک مزید طیارہ گرنے کا اضافہ کیا تھا۔ عقل مند کہتے ہیں کہ جب دن برے چل رہے ہوں تو محتاط ہو جانا چایئے لیکن اس سے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا اور وہ پاکستان کو وقفے وقفے سے جنگ کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جونہی بھارت کا دبئی میں جنگی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے اس سے بھارت کا جنگی جنون وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ لیکن بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی ہے اور وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ بھارت عقل کے ناخن لے اور پاکستان کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ خطے میں امن کو بحال کیا جا سکے۔

    پاکستان اور بھارت دو عالمی ایٹمی قوتیں ہیں اور جب تک ان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم نہیں ہوتا ہے دنیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات مسلسل منڈلاتے رہیں گے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف جارحیت کرنے میں پہل کرنے کی کبھی غلطی نہیں کی ہے۔ مئی 2025ء کی جنگ میں بھی بھارت نے بہاولپور میں رات کی تاریکی میں بزدلانہ بمباری کر کے جنگ کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی ہو گئے تھے لیکن اس جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی پاکستان بھارت کی جنگی دھمکیوں کے خلاف کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دے رہا یے۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت پر حملہ کر کے اسے سبق سکھایا۔بھارت کو چایئے کہ وہ جنگی ماحول قائم کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے اور "مسئلہ کشمیر” کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر لڑائی کی جڑ ہے جسے حل کیئے بغیر خطے میں جنگ کو روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی قائم کرنا ناممکن ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی جنگوں کو روکنے اور دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے کا یہ واحد حل ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے عالمی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چایئے۔ جب تک بھارت پر عالمی طاقتیں دباؤ نہیں ڈالتی ہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن بھارتی حکمرانوں کے ذہن میں "اکھنڈ بھارت” کا خناس شامل ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف پاکستان کے خلاف دزدیدہ اور نفرت کے عزائم رکھتے ہیں بلکہ وہ بھارت کی مسلم برداری کے بھی دشمن ہیں۔ وہ بھارت میں مسلم کشی کے مرتکب رہے ہیں۔ گجرات کے فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا بلکہ جب وہ وہاں کے وزیراعلٰی تھے وہ ان فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں۔ سنہ 2002ء کے گجرات فسادات کے دوران مودی گجرات کا وزیر اعلیٰٰ تھا جس کی وجہ سے ان پر الزام دیا جاتا ہے کہ وہ پس پردہ اس میں ملوث تھے۔ اب وہ بھارت کے وزیراعظم ہیں تو وہ پاکستان کے وجود کو بھی نقصان پہنچانے کی اپنی ناتمام خواہش پر ہاتھ ملتے رہتے ہیں جو نہ صرف اچھے ہمسایہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ پوری دنیا کے امن کو بھی داو پر لگانے کے مترادف ہے۔

    جب مئی 2025ء میں بھارت کو شکست ہوئی تو اس وقت بھارت اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہو گیا۔ اس تناظر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو مسلسل زچ کیا اور بھارت بلآخر امریکہ سے دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا جس کے تحت امریکہ نے بھارت کو 3 خطرناک جنگی اٹاچی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے تھے جو ترکی میں رکے اور واپس امریکہ لوٹ گئے۔ ریٹائرڈ جنرل بخشی نے اپنے بیان میں اس کا الزام بھی امریکہ پر لگایا اور ساتھ ہی بھارت کے دبئی کے ایئرشو میں تیجس طیارہ گرنے کا الزام بھی امریکہ کو دیا کہ اس نے بھارت سے ایک ارب ڈالر لے لیئے مگر تیجس طیارے کے ناقص انجن فراہم کیئے جس سے دبئی کے ایئرشو میں بھارتی جنگی طیارہ گرنے کا واقعہ پیش آیا جو کہ ایک ناعاقبت‌ اندیشی پر مبنی بیان ہے۔ بھارت کے جنرل بخشی ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیشہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ وہ بھارت کے نمایاں "جنگی بھونپو” ہیں جو اپنے ہر تبصرے میں بھارت کو جنگی اشتعال دلاتے ہیں۔ درحقیقت جنرل بخشی نہ صرف بھارت اور پاکستان کے لیئے خطرہ ہیں بلکہ وہ خطے کے امن کے لیئے بھی ایک بھڑکتی چنگاری ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ جنرل بخشی کا وجود دونوں ممالک کی امن و سلامتی کے لیئے کتنا مہلک ہے۔ ان کی بھاری اور نفرت اگلتی آواز دونوں ملکوں کی عوام کو اشتعال دلاتی ہے کہ امن و سکون اور پرامن رہنے کی بجائے ایک دوسرے کی عوام کا خون بہانا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو سمجھنا چایئے کہ فطرت کے اشارے کیا کہہ رہے ہیں؟ قدرت ہر ملک اور قوم کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اشاروں کو سمجھے اور امن و سکون سے رہے لیکن ایک بھارت ہے کہ وہ روز اول سے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے جب جب موقع ملتا ہے وہ پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لے آتا یے۔

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    متحدہ عرب امارات دبئی کے ایئر شو میں جمعہ کی دوپہر کو بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ "تیجس” فضائی کرتب کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ 15 نومبر سے 21 نومبر تک جاری رہنے والے اس ایئر شو کے دوران دوپہر کو بھارت کا یہ لڑاکا طیارہ اپنے ہوائی مظاہرے میں مصروف تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد ایئر شو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ یہ حادثہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب اس مقام پر پیش آیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر طیارہ فضائی ڈسپلے کے دوران اچانک زمین سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ انڈین ایئرفورس نے حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات تو شروع کر دی ہیں لیکن ہلاک ہونے والا بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر نومنش سیال دنیا میں پلٹ کر واپس کبھی نہیں آئے گا۔
    گرنے والے اس طیارے کے پائلٹ کے بارے میں معلومات لی جا رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا پھر پائلٹ کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے گرا۔

    جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے گرتے ہی گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں اٹھنے لگے تھے، جس پر نظارہ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے شائقین پریشان ہو گئے۔ چند روز قبل بھی دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں تیجس طیارے کے فیول ٹینک سے تیل لیک ہوتے دیکھا گیا تھا۔ تیجس بھارت میں مقامی طور پر تیار ہونے والا لڑاکا طیارہ ہے، دو سال سے بھی کم عرصے میں اس طیارےکا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ مارچ 2024ء میں تیجس لڑاکا طیارہ راجستھان کے شہر جیسلمیر میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا تھا لیکن اس دفعہ پائلٹ طیارے کے گرنے پر ہلاک ہو گیا۔ اس بھارت کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد کوئی چھوٹا ملک بھارتی ساختہ طیارے بھی نہیں خریدے گا۔ یہ واقعہ انسانی حوالے سے المناک ہے اور بطور انسانی ہمدردی اہل پاکستان کو بھی اس واقعہ پر شدید دکھ ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس واقعہ کے بعد بھارت اپنے جنگی جنون سے باز آ جائے اور جنرل بخشی جیسے نامعقول جنگی ماہرین کو تبصروں کے لیئے بلانے کی بجائے کسی امن پسند جنگی تجزیہ کار کو ٹی وی پر بٹھائے جس سے عوام کو امن کا پیغام جائے۔ جنگوں کے بعد اگر مذاکرات کی میز پر جا کر حائل مسائل کو حل کرنے کے لیئے میز پر بیٹھنا ناگزیر ہوتا ہے تو یہ کام جنگ سے پہلے کیوں نہ کیا جائے۔ جنگیں چاہے سلامتی اور امن کے نام پر ہی کیوں نہ لڑی جائیں ان میں جان و مال کا نقصان ہوتا ہے اور پوری انسانیت کی "بقا” خطرے میں چلی جاتی ہے کہ اسلام کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان "کالی” ہے وہ جو کہہ رہا تھا وہ ہو گیا اور بھارت کا 8واں جنگی طیارہ بھی گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی آنکھ کھولنے کے لیئے کافی ہونا چایئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی عوام "امن” چاہتی ہے۔ ہم اہل پاک و ہند صدیوں تک اکٹھے رہتے رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا بھی سیکھ لیں۔ اگر اہل یورپ تباہ کن اور خونریز جنگوں کے بعد اچھے ہمسائے بن سکتے ہیں تو ہم بھی بن سکتے ہیں۔ امن کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا کوئی عقل مندی کا کام نہیں ہے۔

  • ڈاکٹر قیصر انیس (پی بی پی سی) چیئرمین کے عہدے پر منتخب

    ڈاکٹر قیصر انیس (پی بی پی سی) چیئرمین کے عہدے پر منتخب

    ابوظہبی (نمائندہ خصوصی) کل شام چھ بجے متحدہ عرب امارات ابوظہبی کے رمادا ہوٹل میں پاکستان بزنس پروفیشنل کونسل (پی بی پی سی) کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں کونسل کے ایگزیکٹو ممبران نے ووٹنگ کے ذریعے کونسل کے نائب چیئرمین ڈاکٹر قیصر انیس کو چیئرمین کے عہدے پر منتخب کیا۔ ووٹنگ کے موقع پر بزنس کونسل کے تمام ممبران موجود تھے۔ اجلاس کے بعد کونسل راس الخیمہ اور فجیرہ کے چیف کوارڈینیٹر انجنیئر محمد جاوید نے ڈاکٹر قیصر انیس کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ڈاکٹر قیصر انیس ایک متحرک اور مخلص کاروباری شخصیت ہیں ان کا چیئرمین کے طور پر منتخب ہونا ایک انقلاب قدم ہے۔

    ڈاکٹر قیصر انیس (پی بی پی سی) چیئرمین کے عہدے پر منتخب
    Dr. Qaiser Anis (PBPC) elected as Chairman

    راس الخیمہ کی کاروباری شخصیت ندیم بٹ اور کالم نگار ایم یوسف بھٹی نے کونسل کی ممبرشپ رجسٹر کروائی جنہیں کونسل کے نئے منتخب چیئرمین ڈاکٹر قیصر انیس نے اعزازی بیج لگائے۔ کونسل کے نئے رجسٹرڈ ممبر ندیم بٹ کو چیئرمین ڈاکٹر قیصر انیس نے ان کی سماجی خدمات پر انہیں شیلڈ بھی پیش کی۔ ڈاکٹر قیصر انیس نے بطور کونسل چیئرمین تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج پی بی پی سی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے میری کوشش ہو گی کہ میں امارات میں موجود پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کروں۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی لیڈرشپ میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تجارتی تعلقات کو عروج پر لے کر جاؤں گا۔

  • اماراتی خواتین کی عربی تخلیق ، وژن کی تشکیل نو کانفرنس

    اماراتی خواتین کی عربی تخلیق ، وژن کی تشکیل نو کانفرنس

    اماراتی خواتین کی عربی تخلیق ، وژن کی تشکیل نو کانفرنس

    ابوظہبی میں اماراتی خواتین کی عربی تخلیق اور ویژن کی تشکیل نو کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس ختم ہو گئی

    کانفرنس میں اردو بکس ورلڈ کے ڈائریکٹر سرمد خان، صحافی عارف شاہد، ساحل خان لیکڈو اور روزنامہ کالم نگار ایم یوسف بھٹی نے شرکت کی

    دبئی (سید ثاقب امداد بخاری) ابوظہبی اریبک سنٹر میں جاری دو روزہ کانفرنس گزشتہ شام ختم ہو گئی۔ اس کانفرنس کا انعقاد ابوظہبی ارینا کے عریبک لینگویج سنٹر حال میں ہوا۔ اس کانفرنس کا موضوع "اماراتی خواتین کی عربی تخلیق اور ویژن کی تشکیل نو” تھا۔ یہ کانفرنس عربی زبان میں تھی جس میں خواتین کے تعلیمی اور تخلیقی ویژن اور روشن مستقبل وغیرہ پر تقاریر اور بحث و مباحثہ کیا گیا جس میں خلیجی ممالک سعودی عرب، کویت اور اومان سے بھی خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

    اماراتی خواتین کی عربی تخلیق ، وژن کی تشکیل نو کانفرنس

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس میں "اردو بکس ورلڈ” کے ڈائریکٹر سرمد خان، صحافی عارف شاہد، ساحل خان لیکڈو اور سینئر کالم نگار ایم یوسف بھٹی نے شرکت کی۔ ایک ملاقات میں اومان کی خاتون صحافی نیہاد نے کہا کہ یہ کانفرنس انتہائی کامیاب رہی جس میں اہل عرب خواتین نے بھرپور شرکت کی۔ اسی طرح ایک انٹرویو میں لوکل میڈیا پرسن مریم یعقوب نے کہا کہ دبئی اور متحدہ عرب امارات کی ترقی میں عزت مآب حکمران نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں جنہوں نے متحدہ عرب امارات اور دبئی کو دنیا بھر میں ایک اہم تجارتی مرکز بنا دیا ہے۔

  • آئی سی سی  آئی کے اراکین کو امارات سے مبارک

    آئی سی سی آئی کے اراکین کو امارات سے مبارک

    آئی سی سی آئی کے اراکین کو امارات سے مبارک

    آئی سی سی  آئی کے اراکین کو امارات سے مبارک

    انہوں نے کہا کہ ان کی زیر گرانی ملکی اور عالمی سطح پر پاکستانی بزنس کمیونٹی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے گی۔ انجنیئر محمد جاوید نے کہا کہ سردار طاہر محمود کا بلامقابلہ صدر منتخب ہونا باعث فخر ہے۔ وہ انتہائی محنتی اور ایماندار بزنس مین ہیں۔ چیمبر آف کامرس ان کی قیادت میں بہت آگے جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بزنس کونسل کا تعاون چیمبر کامرس کے ساتھ ہمیشہ جاری رہے گا۔ ڈاکٹر قیصر اور انجنیئر محمد جاوید نے کہا کہ ہم دعا گو ہیں کہ یہ قیادت پاکستان کے کاروبار اور صنعت کو چار چاند لگائے۔

    .

    .

  • پاکستان زلزلہ زدگان افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے :فیصل نیاز ترمذی

    پاکستان زلزلہ زدگان افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے :فیصل نیاز ترمذی

    پاکستان زلزلہ زدگان افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے :فیصل نیاز ترمذی

    دبئی (ایم یوسف بھٹی) متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے افغانستان میں حالیہ زلزلے اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے شدید جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے، اور متحدہ عرب امارات میں موجود افغان کمیونٹی کے دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں آنے والے زلزے اور سیلاب کی وجہ سے ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دو برادر ہمسایہ ملک ہیں۔

    پاکستان زلزلہ زدگان افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے :فیصل نیاز ترمذی

    انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور افغانستان میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعاگو ہیں۔ انہوں نے زلزلے اور سیلاب میں شہید ہونے والوں کے بارے میں دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ پاک لواحقین کو صبر جمیل اور مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

  • اماراتی وومن کانفرنس 2025ء

    اماراتی وومن کانفرنس 2025ء

    اماراتی وومن کانفرنس 2025ء

    Dubai Naama

    دنیا میں جتنے بھی ممالک اور معاشرے تیز رفتاری سے ترقی کر رہے ہیں ان میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کا بھی بنیادی کردار شامل ہے۔ دنیا بھر کی آبادی خواتین کے 52فیصد حصہ پر مشتمل ہے۔ اگر آبادی کی اس اکثریت کو مسلم معاشروں کی روایت کے مطابق محض گھر داری تک ہی محدود رکھا جائے گا تو پھر معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جائے گی۔ مغربی معاشروں نے یہ راز بہت پہلے محسوس کر لیا تھا جس سے عورت کو گھر سے باہر جا کر زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی دے کر انہوں نے اپنی ترقی کی رفتار کو مہمیز دی۔

    اب مسلم معاشروں میں بھی خواتین میں زندگی کے تمام شعبوں میں بھرپور حصہ لینے کا شعور پیدا ہو رہا ہے۔ اس مد میں گزشتہ روز متحدہ عرب امارات کی خواتین کا دن تھا جو ہر سال 23 اگست کو منایا جاتا ہے۔ امسال یہ دن متحدہ عرب امارات دبئی میں شیخ زید روڈ پر ایک فائیو سٹار ہوٹل "ڈوسٹ تھانی” میں ایک کانفرنس کے انعقاد کی شکل میں منایا گیا۔ اس کانفرنس کو "اماراتی وومن کانفرنس 2025ء” کا نام دیا گیا جس کے انعقاد کا احتمام بارکلیز مڈل ایسٹ نے کیا تھا۔ لیکن اپنے نام کی نسبت سے یہ کانفرنس صرف متحدہ عرب امارات کی خواتین کے کردار تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں ماضی کی طرح دیگر ممالک کی خواتین نے بھی کثیر تعداد میں حصہ لیا۔ یہ دن خواتین کے کارناموں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کی مزید حوصلہ افزائی کرنے کے لیئے منایا گیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس ایونٹ میں ان مرد حضرات کو بھی حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا جو خواتین کی بڑھ چڑھ کر حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

    اماراتی وومن کانفرنس 2025ء

    چند روز قبل اس کانفرنس میں شرکت کرنے اور اس کی پریس کوریج کے لیئے مجھے ای میل آئی اور پھر یکے بعد دیگرے واٹس ایپ پر بھی رابطہ کیا گیا، اور انٹری پاس بھی موصول ہو گیا تو میں نے اس کانفرنس میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ ایک روزہ کانفرنس صبح 9 بجے سے لے کر شام 5 بجے تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کے تین سیشن تھے جس میں عالمی اور اماراتی خواتین کی ذہانت اور کردار کے حوالے سے تقاریر، ڈسکشن اور ایوارڈز کی تقسیم سرفہرست تھی۔ کانفرنس کے دوران ساڑھے گیارہ بجے چائے کا مختصر وقفہ کیا گیا۔ جن موضوعات پر مقالے پڑھے گئے یا گفتگو ہوئی اس میں تعلیم اور خواتین، لیڈر شپ کے ذریعے خواتین کو طاقت فراہم کرنا، خواتین کی کامیابی کی کہانیاں اور ان کے سامنے رکاوٹیں یا امکانات وغیرہ شامل تھے۔ اس پروگرام کی زیادہ تر میزبانی پاکستانی نیشنل ڈاکٹر موسی شیخ نے کی۔ یہ کانفرنس اپنے جوبن پر تب پہنچی جب انگلش خاتون سارا بروک نے پہلے تقریر کی اور پھر چند اماراتی خواتین شرکاء کو سٹیج پر بٹھا کر مذاکرے کا آغاز کیا۔ کانفرنس کے اس سیشن میں خواتین کی اہمیت اور کردار کے بارے میں چند موضوعات پر گفتگو ہوئی جس کا ایک موضوع یہ تھا کہ، "میں کون ہوں؟” اس دوران عام شرکاء کو بھی اس موضوع پر بات کرنے کا موقعہ دیا گیا تو میں نے جو کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ، یہ ایک گہرا اور فلسفیانہ سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان کی عمر گزر جاتی ہے مگر مکمل طور پر وہ اپنی صلاحیتوں اور سیرت و کردار کے ذریعے اس سے زیادہ کچھ نہیں جان سکتا ہے کہ اس نے دنیا کو رہنے کے لیئے کتنی اچھی جگہ بنایا۔

    یہ کانفرنس میرے لیئے انتہائی موٹیویشنل ثابت ہوئی۔ جن خواتین و حضرات مقررین نے اسے خوبصورت بنایا اور ایوارڈز بھی وصول کیئے ان میں دبئی سے ڈاکٹر شمع لوطاء، ڈاکٹر خولہ ال شیہئ، راس الخیمہ کی آمینہ قہطان، امریکن یونیورسٹی دبئی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریما اساف، ڈاکٹر خولہ، اومانی نیشنل اریج ال شیبانی، عروج فرحت خان، برکلے مڈل ایسٹ کے نجم شیخ، ڈاکٹر نوف احمد، نیتو جوزف، پرابھ دیپ سنگھ بویجہ، ظہیر انیس اور پاکستان بزنس کونسل کے بانی صدر اور وائس چیئرمین ڈاکٹر سید قیصر انیس سرفہرست ہیں۔ اس کانفرنس کی مہمان خصوصی بورڈ ممبر آف راک انشورنس عزت مآب آریفاء ال فلاہی تھیں۔ اس کانفرنس میں شخصیت اور کردار سازی کے ضمن میں انتہائی متاثر کن باتیں ہوئیں جن میں اپنے اندر کی آواز کو سنیں، خود سے شفقت کے ساتھ پیش آئیں، آو مہربانی اور نرم دلی اختیار کریں، کیا ہم بہتر انسان بن سکتے، ضرورت مندوں کی مدد کیسے کی جانی چایئے، دوسروں پر اعتبار کرنے سے پہلے خود پر کریں، اپنی کایا پلٹیں، پاگل پن یا غصہ نہ کریں، آپ نے زندگی کے ساتھی، بچوں اور دیگر فیملی ممبرز کو کیسے ریسپونڈ کرنا ہے اور آپ خود کو جتنا زیادہ تعلیم یافتہ، باعمل اور بااخلاق کر سکتے ہیں کریں، وغیرہ وغیرہ۔ ایوراڈ وصول کرنے والوں میں پیپلز پارٹی گلف کے صدر میاں منیر ہنس بھی شامل تھے جنہیں خواتین کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرنے میں ہمیشہ پیش پیش دیکھا جاتا ہے۔

    دوسرے مسلم ممالک کے لیئے یہ کانفرنس ایک نمونہ ہے۔ جب تک زندگی کے تمام میدانوں میں مرد حضرات کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کے لیئے برابر کے مواقع فراہم نہیں کیئے جاتے ہیں، ہم تیز ترین ترقی نہیں کر سکتے ہیں۔ اللہ رب العزت خواتین کو اخلاق، نرم دلی، ذہنی افتاد اور مردم شناس کی خصوصی صلاحیتوں سے نوازتا ہے۔ اسلام نے تعلیم حاصل کرنے اور زندگی کے ہر میدان میں خواتین کو عملی حصہ لینے کا جو حق دیا ہے، ہمیں بھی چایئے کہ ہم خواتین کو اس سے استفادہ کرنے کا بھرپور موقع دیں۔

    اس کانفرنس میں ایک سپیکر نے کہا، "صرف یہی دن ہی نہیں ہر دن ہی خواتین کا ہے۔” انسان کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لیئے صرف اپنی پہچان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قدرت خفیہ صلاحیتیں ہر مرد و زن میں رکھتی ہے۔ جبکہ ترقی وہی خواتین و حضرات کرتے ہیں جو اپنی ان صلاحیتوں کی دریافت کر لیتے ہیں اور پھر انہیں طاقتور طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیئے مرد و زن کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ خواتین بھی زندگی میں اتنے ہی بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں جتنے مرد دیتے ہیں۔

  • جشن آزادی 2025ء کی تقریبات

    جشن آزادی 2025ء کی تقریبات

    جشن آزادی 2025ء کی تقریبات

    Dubai Naama

    انجینئر محمد جاوید یوم جشن آزادی پاکستان کا استعارہ ہیں۔ وہ پاکستان میں ہوں یا متحدہ عرب امارات، ہر سال یوم پاکستان باقاعدگی سے مناتے ہیں۔ اگست کا پہلا ہفتہ انہوں نے لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں یوم آزادی اور معرکہ حق کی تقریبات میں شرکت کرتے گزارا اور 12 اگست کو واپس راس الخیمہ پہنچے تو انہوں نے فون کر کے بتایا کہ 14 اگست کو یوم آزادی منانے کا احتمام ابوظہبی رمادا ہوٹل میں کیا ہے۔

    پاکستان ایسوسی دبئی (پیڈ) اور دبئی پولیس کی جانب سے 13 اگست کو ایکسپو سنٹر دبئی میں جشن آزادی کی ایک شاندار تقریب کا احتمام کیا گیا تھا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی متحدہ عرب امارات کے رواداری اور بقائے باہمی کے وزیر عزت مآب شیخ نہیان بن مبارک النہیان تھے۔ اطلاعات کے مطابق یہ دنیا بھر میں جشن آزادی پاکستان کا سب سے بڑا پروگرام تھا۔ اس میگا ایونٹ میں شرکت کے لئے 60,000 سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی تھی جس میں پاکستان سے آئے معزز مہمانوں (بشمول کرکٹر شاہد آفریدی)، فنکاروں اور گلوکاروں نے چاروں صوبوں کے ساتھ ساتھ گلگت، بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے ثقافتی پروگراموں کی نمائندگی کی، جس میں یوم آزادی کے حوالے سے تقاریر ہوئیں، پاکستانی رقص اور گیت پیش کیئے گئے اور اختتام پر طرح طرح کے کھانوں کے ساتھ مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

    امریکہ میں 13 اگست ہی کو پاک امریکن سوسائٹی کے زیرِ اہتمام “جیوے جیوے پاکستان” کے عنوان سے آزادی کی شاندار تقریب کا احتمام نیویارک بروکلین میں کیا گیا تھا، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جوش و خروش کے ساتھ بھرپور شرکت کی تھی۔ جشن آزادی پاکستان کی یہ تقریب صدر پاک امریکن سوسائٹی شمس الزماں کے زیر صدارت منعقد ہوئی تھی۔ تقریب کے معزز مہمانوں میں نیویارک اسٹیٹ سینیٹر، پاکستان کے ڈپٹی قونصل جنرل عمر شیخ، ڈاکٹر چوہدری اشرف اور ڈاکٹر شہباز خان وغیرہ شامل تھے۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مشیر امریکی پاکستانی ڈاکٹر غلام مجتبی نے نیو نیویارک میں الگ سے اپنے گھر پر جشن آزادی کی تقریب منعقد کی۔ جبکہ اسی طرح برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی جشن آزادی کی بہت ساری تقریبات کا انعقاد ہوا۔ یوں گزشتہ کئی سالوں سے اس دفعہ منفرد انداز میں دنیا بھر میں جشن آزادی منایا گیا، جو 14اگست کے اس تاریخی دن کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک خوبصورت انداز ہے۔

    دبئی سے ابوظہبی جانے کے لیئے جب انجینئر محمد جاوید نے مجھے ڈیرا دبئی سے پک کیا تو دوپہر کے 3 بج رہے تھے۔ پروگرام شام ساڑھے پانچ بجے شروع ہونا تھا۔ پاکستان کی 78ویں سالگرہ کا رعب اور تقدس زہن پر پہلے ہی سوار تھا۔ ہم سارے راستے پاکستانی کلچر، ثقافت، حب الوطنی اور برق رفتار ترقی نہ کر سکنے کی وجوہات پر گفتگو کرتے رہے۔ لیکن حالیہ پاک بھارت مختصر جنگ اور "آپریشن بنیان مرصوس” کی کامیابی نے پاکستان کو دنیا بھر میں ایک نیا بلند مقام عطا کیا ہے۔ جب ہم ہوٹل پہنچے تو پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا اور تقریب کے مہمان خصوصی اور گلف پیپلز پارٹی کے صدر میاں محمد منیر ہنس تقریر کر رہے تھے۔

    جشن آزادی 2025ء کی تقریبات

    14 اگست برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا وہ واحد دن ہے جب ہندوستان کو دو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد بے گھر ہوئے اور انہوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کی طرف ہجرت کی، لاکھوں افراد قتل ہوئے اور ہزاروں خواتین کی عزتیں لٹیں۔ اس حوالے سے بعد میں آنے والے مقررین نے آزادی پاکستان کی اہمیت پر دل کھول کر روشنی ڈالی۔ جشن آزادی کے اس پروگرام کا احتمام پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) نے کیا تھا جس کے بانی ممبر اور وائس چیئرمین ڈاکٹر قیصر انیس نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کا وجود کوئی اساطیری کہانی نہیں، بلکہ یہ ان عظیم قربانیوں کی داستان ہے جس کی بنیاد پر آج پاکستان "ایٹمی طاقت” کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود ہے۔ اس پروگرام کو حبیب بنک، یونائیٹڈ بنک، سٹیٹ لائف انشورنس، آدم جی انشورنس، گرومیکس اور تواسل انشورنس نے سپانسر کیا تھا۔ ڈاکٹر قیصر انیس نے ان سب سپانسرز اور دیگر شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ دیگر تقاریر کرنے والوں میں کونسل کے اعلی عہدیداران اقبال نسیم، جمیل ابوبکر اور ڈاکٹر موسی شامل تھے۔ مقررین کی اکثریت نے پاک امارات دوستی کا ذکر بھی کیا اور متحدہ عرب امارات حکومت کا پاکستان کے بنکنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    جشن آزادی کا کیک کاٹنے سے پہلے تالیوں کی گونج میں بزنس کونسل راس الخمیہ اور فجیرہ کے کوآرڈینیٹر انجنیئر محمد جاوید آگے بڑھے اور انہوں نے اپنی مختصر تقریر کے بعد کونسل کے ممبران کے لیئے ایوارڈز کا اعلان کیا جس میں کمیونٹی اور صحافتی خدمات کے بدلے روزنامہ "اوصاف” کے نمائندے اور کالم نگار (راقم الحروف)، جوسف علی اور ہفتہ روزہ "پاکستان” کے ایڈیٹر انچیف چوہدری ارشد سرفہرست تھے۔ اسی دوران کونسل کے کوآرڈینیٹر انجنیئر محمد جاوید صاحب نے اعلان کیا کہ روزنامہ اوصاف کے صحافی جوسف علی کو کونسل کا "میڈیا کوآرڈینیٹر” مقرر کیا جاتا ہے۔ تب قومی نغموں کی دھنوں کے درمیان کیک کاٹنے کے لیئے انجنیئر محمد جاوید صاحب نے ہی میان سے تلوار نکالی اور کیک کاٹنے کے لیئے میاں محمد منیر ہنس کے حوالے کر دی۔

    اس پروگرام کی ایک خاص بات اس میں شامل کچھ غیر ملکی مہمانان تھے جن میں امریکی سفارت کار مس ایتھل اور ایک برطانوی عہدیدار مسٹر سٹیون شامل تھے۔ ایک دو انڈین مہمانوں کو بھی اس جشن آزادی پاکستان کے پروگرام میں دیکھا جس میں سے ایک نے کھڑے ہو کر پاکستانی شرکاء کو جشن آزادی کی مبارک باد پیش کی۔ پروگرام میں عراقی بزنس کونسل بھی موجود تھے جبکہ ایک پاکستانی کنیڈا سے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کرنے کے لیئے آئے تھے۔ پروگرام کے اختتام اور ڈنر سے پہلے عام شرکاء کو بھی مختصرا تقاریر کا موقع دیا گیا جس میں زیادہ تر خواتین نے تقاریر کیں جن میں میڈم سحر اور
    شازیہ صدیقی نمایاں تھیں، جبکہ کونسل کے عہدیداروں اور مہمانوں میں محمد احمد، انجم راشد، مشکور مرشد، فرمان حیدر، ظفر اقبال چوہدری، طارق جاوید قریشی، محمد شفیق گوجر خانی اور طارق محمود بٹ صاحب شامل تھے۔

    جب میں کھانے کی میز پر پہنچا تو مجھے پاکستانی سفارت خانہ کا احساس ہوا جس کا کوئی نمائندہ تقریب میں شامل نہیں تھا۔ میں نے پاکستان کے سفیر عزت مآب فیصل نیاز ترمذی صاحب کو میسج کیا، "ہم آپ کو یاد کر رہے ہیں”، تو انہوں نے پاکستانی سفارت خانہ ابوظہبی میں جشن آزادی کے پروگرام کی ایک مختصر لائیو ویڈیو مجھے بھیج دی۔ تب معلوم ہوا کہ ابوظہبی کے رمادا ہوٹل اور سفارت خانہ پاکستان جشن آزادی کے دونوں پروگرامز بیک وقت چل رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد انجینئر جاوید صاحب نے کہا، "جلدی نکلتے ہیں ہمیں ایک اور پروگرام میں جانا ہے۔” میں سمجھا شائد ہم پاکستان ایمبیسی جا رہے ہیں مگر دس پندرہ منٹ بعد ہماری گاڑی "لال قلعہ ریسٹورنٹ” کے باہر رکی۔

    لال قلعہ ریسٹورنٹ میں منعقدہ اس پروگرام کے مہمان خصوصی انجنیئر محمد جاوید صاحب تھے۔ ریسٹورنٹ کے بڑے دروازے پر پاکستان کا جھنڈا چسپاں تھا، اندر داخل ہوئے تو وہاں بھی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے جھنڈے ایک اونچی دیوار پر لگے دکھائی دیئے، کھانے کے تمام ٹیبلوں پر غبارے اور جھنڈیاں لہرا رہی تھیں۔ اس تقریب کا احتمام سکندر بھٹی نے کیا تھا۔ اس پروگرام میں ارشد چوہدری اور محمد زبیر بھی ہمارے ساتھ تھے، جس کے بعد کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی اور پھر تمام مہمان طرح طرح کے لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہونے لگے۔

    مسلم لیگ جس نے ہندوستان کی تقسیم کروا کر پاکستان کو الگ ملک بنوایا اس کی ساری سرگرمیاں، اکثر لیڈرشپ اور غالب اکثریت ہندوستان کے ان علاقوں سے تھی، جو آج ہندوستان میں شامل ہیں۔ جن علاقوں میں آج پاکستان ہے، یہاں مسلم لیگ کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی، نہ لاہور کے ایک دو اجلاسوں کے علاؤہ انکی یہاں کوئی سیاسی سرگرمیاں موجود تھیں۔ پنجاب جو آج اصل پاکستان سمجھا جاتا ہے، یہاں پر یونینسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے سر چھوٹو رام اور خضر حیات ٹوانہ کی اتحادی حکومت تھی، جو پاکستان کی تشکیل کے خلاف تھے۔ سر چھوٹو رام سمجھتے تھے کہ پاکستان بن گیا تو پنجاب کی تقسیم کی وجہ سے "یونینسٹ پارٹی” بھی ٹوٹ جائے گی، جبکہ خضر حیات کا خیال تھا کہ پاکستان بننے سے پنجاب نہیں ٹوٹے گا۔
    وہ لوگ جو پاکستان بنانے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے تھے، آج کل پاکستان میں "مہاجر” کہلاتے ہیں، انہوں نے اچھی نوکریوں، اچھے روزگار اور روشن مستقبل کی خاطر پاکستان میں ہجرت کی، اور انہی میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں نومولود پاکستان کی زمام حکومت بھی آئی۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے کہ جب یہ بنا، تو لوکل ابادی کی بجائے، لوکل آبادی پر باہر سے ہجرت کر کے آنے والوں نے حکومت کی۔ پاکستان کو "مذہبی تجربہ گاہ” بنانے کا خواب آج تک تشنہ تکمیل ہے۔
    پاکستان دنیا کا واحد ملک تھا، جس کے دو حصے تھے، جو ایک دوسرے سے ہزار کلومیٹر دور تھے اور دونوں حصوں میں دو ایسی اقوام رہتی تھیں، جن کی زبان، کلچر، روایات، آبادی، تعلیمی تناسب، تاریخ اور مستقبل کی خواہشات ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ نہ صرف یہ کہ قائد اعظم کو وہ پاکستان نہیں ملا، جس کے قیام کے لیئے انہوں نے جدوجہد کی تھی یا ان سے وعدہ کیا گیا تھا، بلکہ قائد اعظم کو اس پاکستان کی بنیاد رکھنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا جس کے لیئے انہوں نے آزادی کی عظیم الشان جدوجہد کی تھی، یا جیسا کرنے کا ان کا ارادہ تھا۔ وہ مذہبی قوتیں جنہوں نے قائد اعظم کی نیت، عقیدہ اور خود پاکستان کی مخالفت کی تھیں، برطانیہ کی باقیات کے ساتھ مل کر پاکستان پر مسلط ہو گئیں اور آج تک اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہیں۔

    جن کو قائد اعظم نے اپنی جیب کے کھوٹے سکے کہا تھا، وہ پاکستان کے مقتدر رہنما بن گئے ہیں، اور جنہوں نے قائد اعظم کے اصل پاکستان کو ان کھوٹے سکوں سے واگذار کرنے کی جدوجہد کی تھی، وہ پاکستان کے غدار کہلائے۔ مشرقی پاکستان سندھ بلوچستان اور پختونخوا کے جمہوریت پسند اور آئین مانگنے والے سیاستدانوں کو تو چھوڑ دیں، قائد اعظم کی اپنی بہن فاطمہ جناح کو بھی "غدار” کہا گیا۔ پاکستان کی موجودہ حالت اسی نوع کے موقع پرست نام نہاد لیڈران، پارٹیوں اور ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے بنی ہے، جنھوں نے پاکستان پر آج تک حکومت کی ہے۔

    جشن آزادی کی اس بار تقریبات نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں مثالی طور منعقد ہوئی ہیں۔ 22 مارچ سے 24 مارچ، 1940ء کو لاہور کے "منٹو پارک” میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لئے عليحدہ وطن کے حصول کے لئے تحریک شروع کی اور صرف 7 برس کے مختصر عرصہ کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ آج پاکستان کو معرض وجود میں آئے 78 برس بیت گئے ہیں مگر وہ مقاصد ابھی تک حاصل نہیں ہوئے جس کے لیئے پاکستان بنانے کے لیئے اتنی بڑی تاریخی قربانیاں دی گئی تھیں۔ اس موقع پر قیام پاکستان کی بنیاد میں ایک یہ نعرہ شامل کیا گیا تھا کہ "اب نہیں تو کبھی نہیں” (ناوُ آر نائیور)، آج جس مقام پر پاکستان کو قدرت نے لا کھڑا کیا ہے، اچھا موقع ہے کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے کہ ابھی بھی 14 اگست کا "اصل پاکستان” بنانے کا خواب پورا نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا۔

    رات گئے جب دبئی واپس جا رہے تھے تو پاکستان سمیت دنیا بھر سے 14 اگست کے جشن آزادی کے شاندار پروگراموں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ اب پاکستان کو تیز رفتاری سے ترقی کرنے کی ضرورت ہے۔ چین پاکستان کے دو سال بعد 1949ء میں آزاد ہو کر کہاں سے کہاں نکل گیا ہے۔ اس جدوجہد میں پوری قوم شامل ہو جائے مگر درحقیقت جو کرنا ہے "مقتدر طبقہ” نے کرنا ہے، آو مل کر آج یہ دعا کریں:
    "خدا کرے میری ارض پاک پر اترے،
    وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو۔
    یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں،
    یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو۔

    .