Tag: عید

  • زندگی کا آخری موڑ

    زندگی کا آخری موڑ

    زندگی کا آخری موڑ

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار


    نیلم کی وادی قدرت کا ایک ایسا خاموش مرقع جہاں ہر منظر ایک نظم اور ہر راستہ ایک کہانی معلوم ہوتا ہے۔ نیلم کے دور افتادہ اور خوب صورت دیہات میں جبڑ باڑیاں اپنی خوب صورتی اور محنت کش لوگوں کی وجہ سے علاقے بھر میں جانا جاتا ہے۔مشکل زندگی گزارتے یہاں کے مکین بلند ہمت اور سخت جان ہیں۔ اس گاؤں میں صبح جب دھند اترتی تو لگتا جیسے آسمان زمین کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ رہا ہو اور شام جب ڈھلتی تو ہر درخت، ہر پتھر ایک طویل سائے میں ڈھل جاتا۔
    اسی گاؤں کے آخر میں پہاڑ کے دامن میں کچا سا ایک پرانا گھر تھا۔ اس گھر کے نچلے حصے میں جانوروں کے رہنے کے لیے کمرا تھا جس می جانوروں کے لیے چارہ گھاس وغیرہ رکھنے کے علاوہ ایندھن کی لکڑیاں بھی محفوظ کی جاتی تھیں۔محبت کے گارے اور چاہت کی چھت سے بنا یہ گھر اشفاق احمد کا خواب نگر تھا۔ اس گھر میں خوشیاں اور سکون بسیرا کیے ہوئے تھے۔ اشفاق اس گھر کا ایک ذمے دار اور بہت ہی حساس فرد تھا۔
    وہ بچپن سے ہی دیگر بہن بھائیوں سے مختلف مزاج کا حامل تھا۔ اس کے ہم عمر دوسرے لڑکے جہاں کھیتوں اور جنگلوں میں کھیلتے، غلیل لے کر سارا سارا دن پرندوں کی ٹوہ میں رہتے یا جنگل سے مختلف پھلوں کی تلاش میں سرگرداں رہتے وہ اکثر گاؤں کی اکلوتی کچی سڑک کے کنارے کھڑا گاڑیوں کو گزرتے دیکھتا رہتا۔گاڑیاں ہی کیا ہوتیں دن بھر میں تین چار جو گاؤں کے چند لوگوں کی روزی روٹی کا سامان مہیا کرتیں۔ گاؤں والے انھی جیپوں میں سفر کرتے اور گاؤں میں میر مبشر کی واحد دکان کا راشن انھی میں لایا جاتا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماروں کو اسپتال لے جانا ہوتا تو یہی جیپیں ایمبولینس کا کام بھی کرتی تھیں۔ اسٹریچر کی کمی گاؤں میں چاچا رشید کے ہاتھ کی بنی چارپائیاں پوری کر دیتیں۔ چاچا رشید گاؤں کا بڑھئی تھا جس کے بوڑھے ہاتھ آج بھی اپنے فن میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ اشفاق سویرے سڑک پر نظریں جمائے ان گاڑیوں کو تکتا رہتا۔ گاڑیوں کو دیکھ دیکھ کر اس کی آنکھوں میں عجب سی چمک ہوتی جیسے وہ صرف گاڑی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی دنیا کو دیکھ رہا ہو۔
    اس کے والد کبھی کبھار گاؤں کی وہ پرانی جیپ چلاتے تھے جو ان کے دوست ریاض حسین کی ملکیت تھی۔ 1970ء ماڈل میں سرخ رنگ کی یہ گاڑی تو گویا اشفاق احمد کی محبوبہ تھی۔ اسے لال پری کے نام سے پکارنا اسے بہت پسند تھا۔ وہ اکثر اس جیپ میں اپنے والد کے ساتھ سفر بھی کرتا۔ بچپن میں اس کا یہ سفر صرف چند میٹر کو محیط ہوتا جو اس کے گھر سے سڑک تک ہوتا۔جب وہ گاڑی میں اپنے والد کی گود میں بیٹھا ہوتا تو بہت خوش دکھائی دیتا۔ سال گزرے گئے اب اشفاق تیرہ سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا۔ ایک دن اس نے ہچکچاتے ہوئے اپنے والد سے کہا:
    “ابا… ! میں بھی چلاؤں؟” باپ نے بیٹے کی اس بات کو سنجیدہ نہ لیا اور ہنس کر بات ٹال دی۔ اشفاق نے محسوس تو کیا تاہم وہ چپ رہا۔ کچھ دن بعد جب وہ دوبارہ باپ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تو پھر سے کہا۔ ابا! میں چلاؤں؟
    باپ نے ہنسی میں ٹال دیا مگر اشفاق مُصر تھا۔اس کے اصرار اور شوق کے آگے باپ بے بس ہو گیا اور اسے اسٹیئرنگ کے پیچھے بٹھا دیا۔اشفاق نے اسٹیرنگ یوں تھاما جیسے کسی شاعر کو پہلی بار لفظ مل جائیں اور اس کی غزل کا مطلع ہو جائے۔
    اشفاق کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر آئے تو عجیب اعتماد تھا۔ جیپ ہچکولے ضرور کھاتی رہی مگر اس کے ہاتھوں میں لرزش نہ تھی۔ اس کے والد نے یہ منظر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا اس کا بیٹا گاڑی کو بہت اعتماد کے ساتھ سنبھال رہا تھا۔ پھر وقت کے ساتھ یہی ہچکولے مہارت میں بدل گئے۔
    پہاڑی راستے اس کے استاد بن گئے۔ موڑ اس کے امتحان اور خطرہ اس کا ساتھی۔
    جلد ہی وہ گاؤں اور اردگرد کے علاقوں میں جانا پہچانا نام بن گیا۔
    “اشفاق کے ساتھ بیٹھ جاؤ محفوظ پہنچو گے…”
    یہ جملہ اس کی پہچان بن گیا۔

    زندگی کا آخری موڑ


    وقت گزرا… اشفاق بچپن سے جوانی کی دھلیز میں داخل ہو گیا۔اب وہ ماہر ڈرائیور تھا اس کے والد کے دوست ریاض احمد کی گاڑی اب اشفاق کے ہاتھ میں تھی۔ وہ اس گاڑی کو خوب سنبھال کر چلاتا، گاڑی کی دیکھ بھال کرتا اور اس سے معقول کمائی کرتا۔ اس کے ذمے دارانہ مزاج سے جہاں اس کے گھر والے خوش تھے وہیں چاچا ریاض احمد بھی مطمئن تھا۔ اشفاق کے والد نے جب دیکھا کہ وہ اب اچھا کما رہا ہے تو اس نے اپنی بہن کے گھر اس کے رشتے کی بات شروع کر دی۔ اشفاق کی پھوپھی زاد بھی اسے پسند کرتی تھی یوں جلد ہی اشفاق شادی کے بندھن میں بندھ گیا۔
    شادی کے ایک سال بعد ہی اس کے گھر پھول سی بیٹی کا جنم ہوا جس کا نام طیبہ منتخب ہوا۔ پھر ایک ایک کر کے چار بچے اس کی زندگی میں شامل ہوتے گئے حمزہ، علی، مریم اور سب سے چھوٹی فاطمہ۔
    یہ پانچوں بچے اس کے دل کے ٹکڑے تھے۔ اشفاق یوں تو باپ ہونے کے ناتے سبھی بچوں سے پیار کرتا تھا لیکن بیٹیوں سے اس کی الفت کچھ زیادہ ہی تھی۔ وہ اکثر کہتا یہ پرایا دھن ہیں جانے ان کے نصیب کیا ہوں۔ آج باپ کے گھر پہ ہیں تو ان کی خواہشات کا احترام کرنا میری ترجیح ہے۔
    بچے اسکول جانے لگے تو اشفاق احمد کی ذمے داریاں مزید بڑھتی گئیں۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی ضروریات، بیوی کی خاموش فکریں…یہ سب اب اس کے کندھوں پر تھے۔
    وہ منھ اندھیرے گھر سے نکلتا اور دن بھر گاڑی چلاتارات کو تھکا ہارا گھر لوٹتا، مگر بچوں کی ہنسی دیکھ کر ساری تھکن اتر جاتی۔شب و روز ایسے ہی گزر رہے تھے کہ ایک دن قسمت نے اس کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
    مظفرآباد کی ایک بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کا مالک کسی شادی میں شرکت کی غرض سے اشفاق کے گاؤں جبڑ باڑیاں آیا ہوا تھا۔ اس نے اشفاق کو گاڑی چلاتے دیکھا۔پہاڑی راستے کے ایک نہایت پر خطر موڑ پر، مکمل اعتماد کے ساتھ جب اس نے اشفاق کو دیکھا تو بہت متاثر ہوا۔
    وہ رک گیا۔اس نے اپنے میزبان سے استفسار کیا۔
    “یہ لڑکا کون ہے؟”
    میزبان نے فخریہ انداز سے جواب دیا: “اشفاق احمد۔۔۔! ہمارے گاؤں کا بہترین ڈرائیور ہے۔”
    مالک نے فوراً اسے بلایا۔
    “کیا تم مظفرآباد سے راولپنڈی تک گاڑی چلا سکتے ہو؟”
    اشفاق نے سیدھی آنکھوں میں دیکھ کر کہا: “صاحب، راستہ مشکل ہو تو ڈرائیور بہتر ہو جاتا ہے۔” مظفرآباد سے راول پنڈی اور نئی گاڑی۔۔ اشفاق احمد مستقبل کو کھلی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔ ۔
    یہ جواب سیدھا دل میں اتر گیا۔دو دن بعد تم مظفرآباد آکر مجھے ملو۔
    دودن کئی سال کی طرح بھاری تھے۔ خدا خدا کر کے دو دن گزرے تو اشفاق نے گھر والوں سے رخصت چاہی اور پہلی ہی گاڑی سے مظفرآباد پہنچ گیا۔
    کمپنی کے مالک نے اشفاق کو خوش آمدید کہا اور اس کا مکمل امتحان لیا۔ خوب جانچ پرکھ کی۔ وہ ذمے دار اور ماہر ڈرائیور ہونے کے ساتھ ساتھ دیانت دار اور شریف النفس انسان ثابت ہوا۔مالک نے اسے نئی نکور گاڑی کی چابی دی اور اپنی کمپنی میں بھرتی کر لیا۔
    تیز موڑ، بھاری ٹریفک، بارش میں پھسلتی سڑکیں…
    ہر جگہ اشفاق نے خود کو ثابت کیا۔
    وہ نہ صرف ایک ڈرائیور تھا، بلکہ ایک فن کار تھا۔گاڑی سے اس کا پیار دیدنی تھا۔ مکمل حفاظت سے گاڑی چلاتا تو سواریاں مطمئن دکھائی دیتیں۔
    مالک نے جس لمحے نئی گاڑی کی چابی اشفاق کے ہاتھ میں تھمائی تو یہی کہا:
    “آج سے یہ تمھاری ذمہ داری ہے۔”
    "نیکو تسی بے فکر ہو جُلو” اس نے نہایت جوشیلے انداز میں جواب دیا۔
    یہ لمحہ اشفاق کے لیے خواب جیسا تھا۔
    اس نے گاڑی کو ہاتھ لگایا جیسے کوئی مقدس چیز ہو۔
    کچھ دن اس نے خوب محنت سے گاڑی چلائی۔ چند دن بعدجب وہ کوسٹر لے کر گاؤں پہنچا تو جیسے عید پہلے ہی آ گئی۔یہ نئی گاڑی اس کے گھر تک تو نہیں جا سکتی تھی تاہم اس نے ہم وار سڑک پر ہی گاڑی کو کھڑا کر دیا۔
    بچوں نے جب اپنے باپ کے پاس خوب صورت نئی گاڑی دیکھی تو خوشی سے جھوم اٹھے۔
    طیبہ نے کہا: "ابو، اب تو ہم امیر ہو گئے نا؟”
    اشفاق ہنس پڑا: “نہیں بیٹا… اب ہم محنتی ہو گئے ہیں۔” اشفاق نے بچوں کو بہت لاڈ سے سمجھایا کہ یہ گاڑی اپنی نہیں۔ اس نے تیقن کے لہجے میں کہا:”اللہ ایک دن ہمیں بھی دے گا دعا کرو بس۔”
    وقت گزرتا گیا… رمضان میں خوب سواریاں تھیں۔ لوگ گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
    اور پھر عید قریب آ گئی۔ دیگر ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ اشفاق بھی خوب مصروف ہو گیا۔گاڑی کے پہیے رکتے کم اور چلتے زیادہ۔اشفاق محنتی اور سخت جان تو تھا ہی۔ اس نے نہایت ذمے داری سے گاڑی کو سنبھال کر چلایا۔
    گھر میں امیدیں جاگ اٹھیں۔ طیبہ نے دو جوڑوں کی فرمائش کی۔ حمزہ نے فٹ بال مانگی۔ علی نے کھلونا۔ مریم نے کچھ نہ کہا مگر اس کی آنکھوں میں خواہش تھی۔ فاطمہ کو صرف باپ کی گود چاہیے تھی۔
    یہ چھبیس واں روزہ تھا۔عید میں اب صرف تین دن باقی تھے۔اشفاق نے سحری کھائی اور نماز ادا کرنے کے بعد اپنی گاڑی اڈے پر لگا لی۔ اس سے پہلے ایک گاڑی تھی جس کے بعد اشفاق کا نمبر تھا۔
    کوسٹر مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ اڈے والے نے آواز لگائی۔ "استادو! گڈی کڈو ٹیم ہو گیا اے۔” پہلی گاڑی نکلی تو اشفاق نے اپنی گاڑی سیدھی کر کے لگا لی۔ سواریاں ایک ایک کر کے بیٹھتی رہیں۔ اشفاق اڈے میں اپنے دوست احباب سے ہنسی مذاق میں لگا رہا۔ ارشد جو دوسری گاڑی کا ڈرائیور تھا،اشفاق سے ہوئے کہنے لگا۔ یار عید پر گھر جاؤ تو واپسی پر کوئی دیسی سبزی لانا۔ موسم بدل رہا ہے آپ کی طرف کنجی کی سبزی خوب ہوتی ہے۔ اشفاق نے نہایت سخاوت سے جواب دیا۔کیوں نہیں۔ ہماری طرف کنجی کے ساتھ ساتھ اور کئی طرح کی سبزیاں ہوتی ہیں۔ عید کی چھٹی جاؤں گا تو لے آؤں گا۔ گپ شپ میں اچانک والے نے آواز لگائی۔
    اشفاق استاد آ جاؤ! گاڑی کا ٹائم ہو گیا ہے۔ گاڑی سواریوں سے بھر چکی تھی۔ اڈے سے گاڑی نکلی تو ہر کوئی اس امید پر تھا کہ جلد ہی اپنی منزل کو پا لیا گا۔ اشفاق اپنے مخصوص انداز میں نہایت مہارت اور احتیاط سے گاڑی کو منزل کی جانب لے جا رہا تھا۔ گاڑی کوہالہ سے آگے نکلی تو اچانک اشفاق کے سینے میں درد اٹھا۔
    اس کے سینے میں ایسا درد پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس لیے وہ کچھ سمجھ نہ پایا۔ اس نے گاڑی کی رفتار ضرور کم کی لیکن روکی نہیں۔ کچھ ہی دیر میں درد کچھ کم ہو گیا۔ اب وہ گاڑی پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر چلا رہا تھا۔ اس نے اس خدشے کے پیشِ نظر کہ سواریاں گھبرا نہ جائیں کسی سے کچھ نہ کہا۔ حتیٰ کہ اپنے کنڈیکٹر کو بھی نہ بتایا۔
    ابھی آدھا گھنٹا ہی گزرا تھا کہ ایک مرتبہ پھر اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ جب اشفاق نے بے بسی کا غلبہ دیکھا تو مری کے قریب ایک جگہ گاڑی کھڑی کر دی۔ اس کا کنڈیکٹر پاس آیا. کیا ہوا استاد جی؟
    کچھ نہیں بس سینے میں کچھ درد محسوس ہو رہا ہے۔
    استاد جی قریب کوئی اسپتال یا کلینک نہیں ہے۔ ایک سواری نے ازراہِ ہم دردی کہا۔ کچھ سواریاں اعتراض اٹھانے لگیں۔ استاد جی ہم لیٹ ہو رہے ہیں اور آپ یہاں کھڑے ہو گئے۔

    اس لمحے اشفاق ہمت کی تصویر بنا اپنی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔اجل اس کے سر پر تھی۔ پھر اچانک اس کی آنکھیں پتھرا گئیں۔ اس کا سر اسٹیرنگ پر ٹک گیا۔ کنڈیکٹر نے دیکھا تو وہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔اس کے خواب اور ارمان مٹی میں مل گئے۔ مری کا یہ موڑاس کی زندگی کا آخری موڑ ثابت ہوا۔ اس نے آخری وقت میں بھی یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے فن کا ماہر تھا۔ اس نے گاڑی روک کر مسافروں کی زندگیاں بچا لیں۔تمام مسافر محفوظ تھے…مگر اشفاق کا سفر ختم ہو چکا تھا۔ اشفاق احمد جو ایک عام انسان مگر غیر معمولی کردار تھا۔ وہ خود چلا گیامگر کئی زندگیاں بچا گیا۔

    .

  • برطانیہ میں دو نہیں، ایک ہی دن عید 

    برطانیہ میں دو نہیں، ایک ہی دن عید 

    برطانیہ میں دو نہیں، ایک ہی دن عید 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    برطانیہ میں مسلمان کمیونٹی بالخصوص پاکستانی کمیونٹی کے مابین ہمیشہ جہاں اتفاق و اتحاد کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے وہاں بطور خاص ہمارے مذہبی تہواروں بالخصوص عید الفطر اور عید الضحیٰ کو ایک ہی دن منانے کے بارے میں اکثر وبیشتر بات کی جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر اکثر ایک ہی شہر میں دو دو دن عیدیں ہوتی ہیں جسکی وجہ سے سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ جب یہاں برطانیہ میں کرسمس اور ایسٹر کے تہوار ایک ہی دن ہوتے ہیں تو ہم مسلمانوں کے اہم مذہبی تہوار ایک ہی دن کیوں نہیں ہوتے؟ رمضان کا آغاز ہو یا عید ہو، آخر وقت تک گومگو کی کیفیت کیوں ہوتی ہے؟ جسکی بڑی وجہ یہاں اسلامی تہوار اور بالخصوص رمضان، عیدالفطر اور عیدالضحیٰ پر کچھ مساجد کا سعودی عرب میں چاند نظر آنے کے اعلان کو تسلیم کرنا اور کچھ کا سعودی عرب کی بجاۓ سپین، مراکش یا کچھ دیگر ممالک کے اعلانات کو تسلیم کرنا ہوتا ہے اور کچھ لوگ یہاں برطانیہ میں چاند خود دیکھنے یا چاند کے نظر آنے کی روایت کو تسلیم کرتے ہیں- 

    اگرچہ موجودہ دور میں جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کی بدولت یہ اب کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ چاند نظر آنے یا نہ آنے کا تعین نہ کیا جا سکے بہرحال اس مرتبہ یہ بات بہت ہی خوش آئند ہے کہ جمعہ 6 جون 2025 کو برمنگھم میں عیدالضحیٰ ایک ہی دن منانے کا اعلان تقریباً تمام مکاتب فکر اور مسالک کی مساجد میں ہو چکا ہے اور مختلف مسالک سے وابستہ افراد ایک ہی دن عید منانے پر رضا مند ہو گۓ ہیں جس پر نہ صرف مسلمان و پاکستانی کمیونٹی یقیناً خوش ہے بلکہ مستقبل میں مزید مذہبی ہم آہنگی اور اتفاق و سلوک کے راستے بھی کھلیں گے- 

    جمعرات کو سعودی عرب میں دنیا بھر سے آۓ ہوۓ حجاج کرام حج بیت اللہ شریف کی سعادت حاصل کر کے جمعہ کو عید منائیں گے اور یہاں برطانیہ کے اکثر شہروں میں بھی جمعہ کو ہی عید ہو گی جبکہ برمنگھم میں بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث اور اہل تشعیع تمام مسالک ایک ہی روز یعنی جمعہ 6 جون کو ہی عید منائیں گے- 

    برمنگھم شہر میں چھوٹی بڑی ایک سو سے زیادہ مساجد ہیں جن میں عید کی نماز مختلف اوقات میں ادا کی جاتی ہیں تاکہ لوگوں کو نماز کی ادائیگی میں سہولت ہو اور جن لوگوں نے کام پر جانا ہو وہ دن کے آغاز کے ساتھ ہی پہلی نماز جو عموماً بعض مساجد میں چھ یا سات بجے ہوتی ہے میں شامل ہو سکیں اسی طرح پھر تقریباً ہر گھنٹے بعد بعض مساجد میں دو، تین ، چار اور پانچ تک بھی عید کی نمازیں ہوتی ہیں جبکہ مختلف پارکوں اور گراٶنڈز میں بھی نماز عید کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں-

    برمنگھم میں مسلم اکثریتی آبادی کے علاقے میں واقع ایک پارک ”سمال ھیتھ پارک“ میں نماز عید کا بہت بڑا اجتماع کئی سالوں سے ہوتا ہے جس میں دور و نزدیک سے تقریباً ھزاروں کی تعداد میں مسلمان شریک ہوتے ہیں جہاں پر نہ صرف نماز عید ادا کی جاتی ہے بلکہ علمإ کرام کے بیان بھی ہوتے ہیں اور بچوں کی تفریح اور کھیل کود کے لۓ بھی مختلف جھولے وغیرہ اور سٹالز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے- انگریزی اخبار ”برمنگھم میل“ کی ایک رپورٹ کے مطابق امسال بھی ”سمال ھیتھ پارک“ میں نماز عید کا بڑا اجتماع ہو گا جس کے لۓ گرین لین مسجد کی انتظامیہ حسب سابق تمام انتظامات کرے گی اور اس مقصد کے لۓ لوگوں کو بھی ضروری قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے جبکہ قربانی کے عطیات دینے کے لۓ بھی مذہبی رہنما خطوط کی روشنی میں یہاں نافذ سرکاری قواعد و ضوابط پر بھی پابندی ضرورری ہے مثلاً حلال گوشت کی دکانوں پر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق اپنی قربانی کی بکنگ کرواتے ہیں کیونکہ یہاں پر جانوروں کو کھلے عام بلکہ بند چار دیواری یا احاطے میں بھی ذبح نہیں کرسکتے اور صرف جو ذبحیہ خانے یعنی سلاٹر ہاٶس ہیں وہ ہی جانور ذبحہ کرتے ہیں اور گوشت سپلائی کرتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ اکثر مسلمان اپنی آبائی ممالک میں قربانی کرتے ہیں یا مختلف اسلامی تنظیموں کو قربانی کی رقم دے کر انکے ساتھ قربانی کی بکنگ کروا لیتے ہیں اور یہ تنظیمیں دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر جہاں کے لوگوں کو گوشت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہاں قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے- 

    برطانیہ کے اکثر شہروں میں اس سال اگرچہ ایک ہی دن اور تاریخ کو عید ہے لیکن قریبی ملک مراکش میں 7 جون کو ایک دن بعد عید ہو گی جبکہ پاکستان میں تو ہمیشہ سعودی عرب سے ایک دن بعد ہی عید ہوتی ہے بہت کم ہی ایسا ہوا کہ پاکستان میں بھی سعودی عرب کے ساتھ اسی دن عید منائی گئی ہو۔ 

    برمنگھم کے عید الضحیٰ اجتماع 6 جون بروز جمعہ کو سمال ہیتھ پارک میں نماز عید کے اجتماع کے لۓ گرین لین مسجد کی انتظامیہ کو کمیونٹی سنٹر (جی ایل ایم سی سی) کی مدد اور معاونت بھی حاصل ہے اگرچہ موسمی صورتحال کے مطابق صبح بارش کا بھی امکان ہے اور بارش ہونے کی صورت میں گرین لین مسجد کے اندر ہی عید کی نماز ہو گی جبکہ سنٹرل ماسک اور گھمگھول شریف مسجد میں بھی نماز عید کی ادائیگی کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں جن میں اسلامی سکالر قربانی کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر بیان کرتے ہیں- 

    عید قربان یا عیدالضحیٰ حضرت ابراہیم کی اس عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کو اللہ تعالیٰ کے حکم پر قربان کرنے کو تیار ہو گۓ تھے تو پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس عظیم امتحان کے بعد اللہ تعالیٰ نے قربانی دیئے جانے کے لئےحضرت ابراہیم کو ایک دنبہ بھیجا اور انکی قربانی کی سنت کو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لۓ جاری کر دیا اور قربانی کرنے والوں کے لۓ نیکی اور اجر کی بشارت دی گئ- اگرچہ جانوروں کی قربانی عقیدت کا ایک ایسا مقدس عمل ہے جو اطاعت اور اللہ کے تابع ہونے کی ایک علامت ہے لیکن بطور مسلمان جانوروں کی قربانی دیتے ہوۓ حضرت ابراہیم کی قربانی کی سنت پر غور کرنا اور اس کو سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ ہماری تاریخ کا یہ ایک اہم لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تابع ہونا ہی سب سے اہم  ہے اور اس کا مسلمان ہونے سے بڑا گہرا تعلق ہے جسکا مطلب ہے کہ ہمیں ہر حال میں اللہ کی رضا اور خوشنودی کو مقدم رکھنا ہے- عید قربان نہ صرف اس اہم واقعہ کی یاد اور ان عظیم ہستیوں کا اعزاز  ہے بلکہ ہر سال حج کے دوران دنیا بھر کے مسلمان قربانی انجام دیتے ہوۓ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی عجز و انکساری پیش کرتے ہوۓ اس کی اطاعت کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ سارا سال بھی ہمیں اپنے اخلاق و کردار، عمل اور دوسروں سے حسن سلوک اور دوسروں کی تکلیف کے احساس سے اپنے آپ کو ایک مسلمان اور نبی آخرالزمان حضرت محمدﷺ کا امتی ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کو یاد رکھتے ہوۓ اپنی جھوٹی اناٶں اور گھمنڈ کی بھی قربانی دیتے ہوۓ اپنے قول و عمل سے مخلوق خدا کی بہتری سرانجام دینی چاہئے- (ختم شد)

    Title Image by Georg Langbehn from Pixabay

  • "عید کا دوسرا دن – یومِ سسرال”

    "عید کا دوسرا دن – یومِ سسرال”

    "عید کا دوسرا دن – یومِ سسرال”


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    یہ عید بھی گئی یارو، کچھ سُکھ کا سانس لو
    پر دامادوں کے لیے اب بھی ہے، سسرال کا غم کھلو
    عید کا دوسرا دن آتے ہی ایک سنسنی سی دوڑ جاتی ہے، خاص طور پر ان مرد حضرات میں جو نکاح نامے کے ساتھ ہی "سسرالی پروٹوکول” کے دائمی قیدی بن چکے ہوتے ہیں۔ پہلا دن تو عید کی خوشیوں، مہمانوں کی آمدورفت، اور عیدی بٹورنے میں گزر جاتا ہے، لیکن دوسرے دن صبح ہی سے بیگم کے چہرے پر "یاد ہے نا، آج سسرال جانا ہے؟” کی تحریر واضح ہوتی ہے۔ اور جیسے ہی شوہر ذرا غفلت برتنے کی کوشش کرتا ہے، ایک گرجدار آواز آتی ہے، "چلیں؟”
    یہ دن درحقیقت رشتہ داروں سے روابط مضبوط کرنے کے لیے مخصوص ہوتا ہے، لیکن دامادوں کے لیے یہ ایک طرح کا سسرالی احتسابی دن بھی ثابت ہوتا ہے۔ جس دن ان سے محبت اور مہمان نوازی کا وہ قرض اتارنے کی کوشش کی جاتی ہے جو شاید انہوں نے کبھی لیا ہی نہ ہو۔ دروازہ کھلتے ہی سسرال کے سب افراد ایسے ملتے ہیں جیسے کئی سال بعد وطن واپسی ہوئی ہو۔ ہر خالہ، پھوپھی، چاچی اور ممانی خصوصی تپاک سے گلے لگاتی ہے، اور ساتھ ہی یہ جملہ بھی چپکا دیتی ہے، "بس اب تو آپ نے بھلا ہی دیا، کبھی آتے ہی نہیں!” اندر داخل ہوتے ہی قصیدے شروع ہوجاتے ہیں، "بیٹی کو کتنی عزت دی ہے، ماشاءاللہ بہت خوش لگ رہی ہے!” اور اگر داماد ذرا ہشاش بشاش نظر آ رہا ہو تو اس کی وجہ بھی فوراً دریافت کر لی جاتی ہے، "ضرور کوئی خاص عیدی ملی ہوگی!”
    کھانے کے معاملے میں سسرالیوں کی محبت کمال ہوتی ہے۔ دستر خوان پر انواع و اقسام کے کھانے سجے ہوتے ہیں اور ہر نوالے کے ساتھ ساس کی محبت بھری آواز گونجتی ہے، "بیٹا، اور لو، تم نے تو کچھ کھایا ہی نہیں!” حالانکہ پلیٹ میں پہلے ہی تین اقسام کے قورمے، کباب، نان، چکن روسٹ اور کچھ ایسے پکوان ہوتے ہیں جن کے نام بھی سننے کو کم ہی ملتے ہیں۔ ایسے میں داماد ایک خاص "مدعو شدہ قیدی” کی طرح اپنی بھوک سے زیادہ کھانے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ محبت اور سسرالی توقعات کا تقاضا یہی ہے کہ "داماد کھا کے جائے تو خوشی ہوتی ہے!”


    تاہم، کچھ داماد ایسے بھی ہوتے ہیں جو بلاوجہ کی عزت افزائی اور اضافی خاطر مدارت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے سارا سال بیوی کے ناز نخرے برداشت کیے ہیں تو کم از کم عید کے دن تو انہیں VIP پروٹوکول ملنا چاہیے۔ وہ کھانے کے دوران بھی ایسے اشارے دیتے ہیں جیسے کسی شاہی دربار میں بیٹھے ہوں، اور اگر کہیں چائے یا قہوے میں تاخیر ہوجائے تو چہرے پر ایسا رنگ آ جاتا ہے جیسے ان کی سلطنت پر کوئی حملہ ہو گیا ہو۔
    یومِ سسرال کا سب سے دلچسپ مرحلہ وہ ہوتا ہے جب واپسی کی تیاری ہو رہی ہوتی ہے۔ ہر رشتہ دار اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جاتے ہوئے داماد کی گاڑی میں کم از کم تین، چار ڈبے شیرینی کے اور کچھ "ضروری سامان” لازمی ہو۔ یہ ضروری سامان درحقیقت وہ کھانے ہوتے ہیں جو بیٹی کے لیے رکھے جاتے ہیں، مگر داماد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انہیں محبت سے اٹھائے اور خوش دلی سے قبول کرے، چاہے گاڑی میں جگہ ہو یا نہ ہو۔
    عید کا دوسرا دن، یوں تو قربتوں کو مضبوط کرنے کا دن ہے، مگر کچھ داماد اسے آزمائش بھی سمجھتے ہیں۔ تاہم، حقیقت یہی ہے کہ سسرالی رشتے اگر خلوص اور محبت سے نبھائے جائیں تو یہ زندگی میں اضافی خوشی اور اپنائیت لے کر آتے ہیں۔ اب چاہے داماد کو VIP پروٹوکول ملے یا نہ ملے، لیکن ایک بات تو طے ہے، سسرال کی محبت کسی بھی قسم کے پروٹوکول سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے!

  • عبدالباسط خان کی نظم "عید” کا تجزیاتی مطالعہ 

    عبدالباسط خان کی نظم "عید” کا تجزیاتی مطالعہ 

    عبدالباسط خان کی نظم "عید” کا تجزیاتی مطالعہ 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    عبدالباسط خان ایک تخلیقی مزاج کے حامل ادیب، شاعر اور سیاحت کے شوقین ہیں۔ آپ دو کتابیں لکھ چکے ہیں، جن میں سفرنامہ، خودنوشت اور ناول شامل ہیں۔ آپ کے مضامین معروف اخبار روزنامہ ایکسپریس میں بھی شائع ہو چکے ہیں، خصوصاً رمضان المبارک کے دوران آپ کی تحریریں قارئین میں مقبول ہوئیں۔

    پیشہ ورانہ طور پر آپ ایک پرائیویٹ جاب سے وابستہ ہیں، لیکن ادب اور شاعری سے آپ کا تعلق کسی رسمی حد بندی کا محتاج نہیں۔ آپ کا طرزِ تحریر گہری فکر، مشاہدے اور جذبات کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔

    آپ کو شاعری سے خاص لگاؤ ہے اور آپ کی تحریریں محبت، زندگی، سماجی مسائل اور فلسفہ پر مبنی ہوتی ہیں۔ سیاحت بھی آپ کے شوق میں شامل ہے اور آپ نے مختلف علاقوں کا سفر کیا، جن کے تجربات کو آپ اپنے منفرد انداز میں تحریری شکل دیتے ہیں۔

    عید کی مناسبت سے ان کی نظم "عید” کافی مقبول ہوئی ہے۔ عبدالباسط خان کہتے ہیں کہ "عید: میں خود سے، اپنوں سے، خوشیوں سے ملنا چاہتا ہوں”. یہ نظم عبدالباسط خان کی تخلیقی صلاحیتوں اور ان کے جذباتی اظہار کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں شاعر نے جدید دور کے سماجی اور ثقافتی مسائل کو گہرائی سے بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔

    نظم کا مرکزی موضوع عید کی حقیقی خوشیوں کی تلاش ہے جو جدید دور میں موبائل فونز، سوشل میڈیا، اور مصروفیات کے سبب کہیں کھو گئی ہے۔ شاعر نے مختلف کرداروں (اپنے آپ، دوستوں، رشتہ داروں، بیوی، بچوں) کے ساتھ ملاقات کی خواہش کا دلی اظہار کیا ہے۔ ہر کردار سے جڑنے کی خواہش محبت، خلوص اور سادگی کی علامت ہے۔

    عبدالباسط خان کی شعری تکنیک بھی منفرد ہے۔ شاعر نے ہر بند کی ابتدا ‘میں اس عید پر’ سے کی ہے جو ایک تکراری تکنیک ہے اور اس کے ذریعے نظم کو ایک خوبصورت تسلسل اور روانی حاصل ہوئی ہے۔

    عبدالباسط خان کی نظم "عید” کا تجزیاتی مطالعہ
    عبدالباسط خان

    شاعر نے پرانی اور موجودہ عیدوں کا تقابلی جائزہ لیا ہے، جس سے جدید دور کی کھوکھلی خوشیوں کا احساس نمایاں ہوتا ہے۔

    شاعر نے موبائل فون کو موجودہ دور کی عید کی نمائندگی دی ہے، جبکہ پرانی عید کو محبت، اپنائیت اور سادگی کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔

    شاعر نے سوالات کے ذریعے قاری کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا عید کی خوشیوں کو صرف سکرین پر محسوس کرنا کافی ہے؟ یہ سوالات نظم کی اثر انگیزی میں اضافہ کرتے ہیں۔

    نظم کا اختتام شاعر کی خواہش پر ہوتا ہے کہ حکومت موبائل سروسز بند کر دے تاکہ حقیقی خوشیوں کا حصول ممکن ہو سکے۔ یہ اختتام نظم کی جذباتی گہرائی کو مزید بڑھاتا ہے۔

    عبدالباسط خان کی یہ نظم جدید دور کے انسان کی زندگی میں سوشل میڈیا اور موبائل فون کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو سامنے لاتی ہے۔ شاعر نے انتہائی مؤثر طریقے سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کیسے عید جیسا مقدس اور خوشی کا دن بھی مصنوعی روابط اور سکرینوں کی نذر ہو چکا ہے۔

    شاعر نے اپنے خیالات کو سیدھے سادے اور دلنشین انداز میں پیش کیا ہے، جس سے قاری کے دل میں اثر کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم نظم میں تنقید کے ساتھ ساتھ محبت، اپنائیت اور خلوص کی دعوت بھی موجود ہے جو اسے ایک مثبت پیغام دینے والی نظم بناتی ہے۔

    عبدالباسط خان کی نظم "عید: میں خود سے، اپنوں سے، خوشیوں سے ملنا چاہتا ہوں” جدید دور کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے محبت، تعلقات اور اصل خوشیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ نظم میں شاعر نے ایک سماجی پیغام بھی دیا ہے کہ ہمیں اپنے پیاروں کے ساتھ حقیقی روابط قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ صرف سوشل میڈیا کے ذریعے عید کی خوشیاں منانی چاہئیے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے عبدالباسط خان کی نظم پیش خدمت ہے۔

    *

    عید

    *

    عید: میں خود سے، اپنوں سے، خوشیوں سے ملنا چاہتا ہوں

    اس عید پر میں خود اپنے آپ سے ملنا چاہتا ہوں،

    وہ جو کہیں کھو گیا تھا،

    زندگی کی بھیڑ میں،

    وقت کے ہجوم میں،

    کسی موبائل کی سکرین میں…

    میں اس عید پر اپنے دوستوں سے ملنا چاہتا ہوں،

    نہ کہ صرف ایک میسج بھیج کر،

    نہ کہ بس ایک "عید مبارک” کے ایموجی کے ساتھ،

    بلکہ جا کر،

    گلے لگا کر،

    ہاتھ ملا کر،

    آنکھوں میں خوشی دیکھ کر!

    میں اس عید پر اپنے رشتہ داروں سے ملنا چاہتا ہوں،

    جو کبھی عید کی صبح گلے لگاتے تھے،

    جو ہاتھ سے سویّاں کھلاتے تھے،

    جو دعائیں دیتے تھے،

    اور جن کی ہنسی ہر خوشی کا سنگیت ہوا کرتی تھی۔

    میں اس عید پر اپنی بیگم سے ملنا چاہتا ہوں،

    نہ کہ سوشل میڈیا پر کسی "پرفیکٹ کپل” کی تصویر دیکھ کر،

    بلکہ اس کی آنکھوں میں محبت کے وہ رنگ دیکھ کر،

    جو ہمیشہ میرے لیے محفوظ رہے،

    پر میں کبھی غور نہ کر سکا۔

    میں اس عید پر اپنے بچوں سے ملنا چاہتا ہوں،

     ان کے ساتھ بیٹھ کر،

    ان کی خوشیوں میں شریک ہو کر،

    ان کی معصوم مسکراہٹوں میں اپنی عید تلاش کر کے۔

    میں اس عید پر اپنے والدین کے پاس بیٹھنا چاہتا ہوں،

    اپنی ساری توجہ کے ساتھ،

    نہ کسی میسج کی فکر ہو،

    نہ کوئی فالتو ویڈیو دیکھنے کی طلب،

    نہ فیس بک کی سرچنگ کا جنون،

    بس میں اور میرے والدین،

    اور ان کے بچپن کی عیدوں کی کہانیاں،

    جب عیدی کے چند سکے جیب میں رکھ کر دنیا کی خوشی محسوس ہوتی تھی،

    جب دس روپے، بیس روپے، زیادہ سے زیادہ پچاس یا سو روپے کی عیدی ملتی تھی،

    لیکن وہ نوٹ ہاتھ میں آتے ہی لگتا تھا جیسے پوری دنیا اپنی ہو گئی ہو!

    جب عید کی نماز کے بعد میٹھے پکوانوں کی خوشبو ہر طرف پھیلی ہوتی تھی،

    جب نئے جوتے پہن کر محلے بھر میں فخر سے چلا جاتا تھا۔

    اور اب؟

    اب عیدی ہزاروں میں بھی ملتی ہے،

    مگر وہ خوشی نہیں ملتی،

    وہ جوش، وہ بے خودی، وہ سادگی نہیں رہی،

    اب بچے بھی نوٹ گن کر فیصلہ کرتے ہیں کہ عید اچھی تھی یا نہیں!

    میں اس عید کو خوشیوں سے ملانا چاہتا ہوں،

    وہ خوشیاں جو بچپن میں ہوتی تھیں،

    جب عید کا مطلب نئے کپڑے،

    میٹھے پکوان،

    محلے میں دوڑتے قدم،

    اور اپنوں کے درمیان بے ساختہ قہقہے ہوا کرتے تھے۔

    پر اب؟

    اب عید کا مطلب؟

    ایک سکرین، ایک پیغام، ایک سٹیٹس اپڈیٹ؟

    کیا یہی کافی ہے؟

    کیا یہی عید رہ گئی ہے؟

    کاش،

    کاش حکومت عید پر موبائل سروسز بند کر دے،

    تاکہ ہم اس پرانی عید کو واپس پا سکیں،

    جو موبائل کے سگنلز میں کہیں کھو گئی ہے،

    جو ایک وائی فائی کنکشن میں محدود ہو چکی ہے،

    تاکہ ہم پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ سکیں،

    نہ کہ صرف ایک نیٹ ورک کے ذریعے،

    بلکہ دل سے،

    روح سے،

    محبت سے!

    Title Image by Gaby Stein from Pixabay

  • کیا رمضان واقعی جلدی گزر گیا؟

    کیا رمضان واقعی جلدی گزر گیا؟

    کیا رمضان واقعی جلدی گزر گیا؟


    تحریر محمد ذیشان بٹ

    نہ رہے گا یہ سدا کچھ ہی دن کا مہمان ہے
    رحمت سے بھر لو جھولیاں جار ہا ماہ رمضان ہے
    رمضان المبارک ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے جس کا ہر مسلمان شدت سے انتظار کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ مقدس مہینہ اختتام کو پہنچتا ہے، اکثر لوگوں کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے:
    "ارے، رمضان تو بہت جلدی گزر گیا!”
    کیا واقعی وقت کی رفتار تیز ہو جاتی ہے، یا یہ احساس صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جو رمضان کی اصل حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اس مہینے کی رحمتوں کو سمیٹنے میں مصروف ہوتا ہے، اسے یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں ملتی کہ وقت کتنی تیزی سے گزر رہا ہے۔
    یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بے شمار رحمتیں نازل کیں، جنت کے دروازے کھول دیے، جہنم کے دروازے بند کر دیے اور شیطان کو جکڑ دیا۔ قرآن میں اس ماہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی نشانیاں موجود ہیں۔
    نبی کریم ﷺ نے بھی اس مہینے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور اجر کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں عبادات کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، نوافل فرض کے برابر ہو جاتے ہیں اور فرض عبادت کا ثواب ستر گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
    ہمارے اسلاف رمضان کو صرف ایک عام مہینہ نہیں سمجھتے تھے، بلکہ وہ اس کے ایک ایک لمحے کو قیمتی جانتے تھے۔
    صحابہ کرامؓ رمضان کی تیاری کئی مہینے پہلے سے شروع کر دیتے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ رمضان کے بعد چھ مہینے تک اللہ سے دعا کرتے کہ ان کے رمضان کے اعمال قبول ہو جائیں، اور باقی چھ مہینے اگلے رمضان کے انتظار میں گزارتے۔
    حضرت عمر بن خطابؓ رمضان میں عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ عبادت کرتے، راتوں کو قیام کرتے اور دن میں روزہ رکھتے۔ ان کے نزدیک یہ مہینہ اللہ کی قربت کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔
    بڑے فقہاء اور اولیاء کرام رمضان میں عبادات کو ترجیح دیتے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ اور امام مالکؒ جیسے علماء رمضان آتے ہی اپنی تدریسی مصروفیات ترک کر دیتے اور مکمل طور پر قرآن کی تلاوت اور عبادت میں مشغول ہو جاتے۔
    امام شافعیؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ رمضان میں روزانہ دو بار قرآن ختم کرتے تھے، جبکہ حضرت امام مالکؒ رمضان آتے ہی حدیث کی تدریس بند کر دیتے اور صرف تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتے۔


    یہ سوال کہ "رمضان جلدی گزر گیا؟” دراصل ایک نفسیاتی پہلو رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وقت اپنی مخصوص رفتار سے چلتا ہے۔ دن چوبیس گھنٹے کے ہی ہوتے ہیں اور سال کے مہینے بارہ ہی رہتے ہیں۔ مگر وقت کا احساس ہمارے مشاغل اور ترجیحات پر منحصر ہوتا ہے۔
    جو لوگ رمضان کو محض ایک رسم سمجھ کر گزار دیتے ہیں، جو دن بھر روزہ رکھ کر رات میں موبائل، ٹی وی اور دیگر غیر ضروری مشاغل میں مصروف رہتے ہیں، ان کے لیے رمضان واقعی "جلدی گزر جاتا ہے۔” کیونکہ ان کے دن اور رات عام روٹین سے زیادہ مختلف نہیں ہوتے۔
    اس کے برعکس جو شخص رمضان میں عبادات، تلاوت، نوافل، صدقات اور دعا میں مصروف ہوتا ہے، اسے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ وہ تو ان بابرکت لمحوں کو سمیٹنے میں لگا ہوتا ہے اور جب رمضان ختم ہوتا ہے تو اس کے دل میں عید کی خوشی سے زیادہ رمضان کے جانے کا غم ہوتا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف رمضان کے بعد بھی اس کی قبولیت کی دعا کرتے تھے اور اگلے رمضان کے انتظار میں رہتے تھے۔
    رمضان کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اسے اس طرح گزارنا چاہیے کہ آخر میں یہ شکوہ نہ ہو کہ "رمضان جلدی گزر گیا” بلکہ یہ احساس ہو کہ ہم نے رمضان کی نعمتوں کو بھرپور سمیٹا۔:
    صحابہ کرام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے رمضان سے کے آخری دنوں میں نوافل، تلاوت، اور عبادات میں اضافہ کریں۔ وقت غیر ضروری سرگرمیوں، موبائل، سوشل میڈیا، اور فضول باتوں سے پرہیز کریں۔
    اللہ سے مسلسل دعا کریں کہ وہ ہمارے رمضان کو قبول کرے۔
    رمضان کے بعد بھی نوافل، روزے اور قرآن کی تلاوت کو معمول بنا لیں۔
    یہ کہنا کہ رمضان جلدی گزر گیا، درحقیقت ہمارے اپنے طرزِ عمل پر منحصر ہے۔ وقت ہمیشہ اپنی رفتار سے چلتا ہے، لیکن جو رمضان میں غفلت کرتا ہے، اسے یہ مہینہ پلک جھپکتے میں گزرنے کا احساس دلاتا ہے۔ جبکہ سچا مومن رحمت کے ان لمحوں کو سمیٹنے میں مصروف ہوتا ہے اور رمضان ختم ہونے پر اس کے دل میں عید کی خوشی سے زیادہ رمضان کے جانے کا غم ہوتا ہے۔
    اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ رمضان ہمارے لیے بابرکت ہو اور ہمیں وقت کے گزرنے کا افسوس نہ ہو، تو ہمیں اپنے اسلاف کی سنت پر چلتے ہوئے عبادات میں اضافہ کرنا ہوگا اور رمضان کی برکتوں کو پوری طرح سمیٹنا ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی حقیقت کو سمجھنے اور اس کے آخری دنوں سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

    Title Image by Imen Djerroud from Pixabay

  • کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    Dubai Naama

کڑی سزا کا مستوجب سندھی وڈیرا

    عید الاضحٰی سے چند روز قبل سانگھڑ کے علاقے منڈھ جمڑاؤ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا جو ظالمانہ اور دلخراش واقعہ پیش آیا اس نے عید کی خوشیوں کو گہنا دیا۔ ایک سندھی وڈیرے کے مزارعے کا اونٹ اس کے کھیت میں کیا گھس گیا کہ اس نے اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا جاہلانہ حکم دے دیا۔ شائد اس واقعہ میں ملوث مجرمان کو احساس تھا کہ اونٹ کو یہ اذیت پہنچانے کے لیئے ان سے کوئی پوچھ گچھ یا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ اگر یہ مجرم کسی انسان کے ساتھ ایسا کرتے تو ممکن ہے کہ اس کے وارثین ان مجرموں کی ٹانگیں کاٹتے یا انہیں قتل ہی کر دیتے۔ اس سے بڑھ کر بزدلی اور سنگ دلی کیا ہو سکتی ہے کہ یہ اندوہناک جرم انہوں نے ایک حیوان کے ساتھ کیا جس کے خطرناک نتائج کا انہیں کوئی خوف نہیں تھا۔

    اس سے قبل عرب کے قبائلی معاشرے میں اونٹوں کی لڑائی پر جھگڑے ہوتے تھے اور انسانوں کے درمیان قتل و غارت نسلوں تک چلتی رہتی تھی۔ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد یہ جہالت ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ختم ہو گئی۔ لیکن اس واقعہ نے اللہ تعالی کے نبی حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے قتل کا واقعہ یاد دلا دیا جس کے قاتل تو صرف 4 تھے مگر اس واقعہ کے بعد اللہ تعالی کے غضب سے ان کی پوری بستی تباہ ہو گئی تھی۔

    یہ واقعہ اس انداز سے سوشل میڈیا پر تحاریر اور ویڈیوز کی شکل میں وائرل ہوتا رہا کہ عید سے پہلے ہر درد دل اداس تھا۔ ممکن ہے یہ بہت سے لوگوں کے لیئے کوئی واقعہ ہی نہ ہو۔ جو قوم فلسطین میں روزانہ بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور عورتوں کے کٹنے پر خاموش ہو اور احتجاج تک کرنے کی اخلاقی جرات نہ رکھتی ہو وہ اس واقعہ پر اونٹ کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کیا دلچسپی ظاہر کر سکتی ہے۔ اگرچہ اونٹ کی ٹانگ کاٹنے والے 5 ملزمان کو سوشل میڈیا کے احتجاج کی وجہ سے گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا اور ان کا جسمانی ریمانڈ بھی منظور کیا گیا۔ لیکن اگلے ہی روز یہ خبر آئی کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر اونٹ سرکاری تحویل میں کراچی پہنچایا گیا جہاں اس کا علاج بھی ہو گا اور اسے مصنوعی ٹانگ بھی لگائی جائے گی۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا یہ اعلان اس کے بعد آیا جب انڈیا کی حکومت نے اس اونٹ کے علاج اور اس کو مصنوعی ٹانگ لگانے کی آفر کی تھی۔ یہ ایک شرمناک واقعہ ہے جس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ اب یہ خبر بھی آئی ہے کہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اونٹ کے مالک کو دو اونٹ دے دیئے ہیں جس کا ایک مطلب یہ ہے کہ مالک کو راضی کر دیا گیا ہے اور کیس عنقریب ٹھپ ہو جائے گا۔

    انڈیا میں جانوروں پر ظلم اور ایذا پہنچانے کے خلاف 1960 کا ایکٹ موجود ہے جس کے تحت دو سال تک کی سزا اور جرمانہ شامل ہے۔ برطانیہ میں جانوروں پر ظلم کے خلاف پارلیمنٹ کا 1876 ( سیکشن 39 اور 40) کا ایکٹ اور سزا موجود ہے۔ اسی طرح امریکہ اور یورپ میں بھی جانوروں کے حقوق اور ایذا رسانی کے قوانین اور سزائیں موجود ہیں۔ حتی کہ فلپائن میں بھی جانوروں کو نقصان پہنچانے کی دو سال تک سزا اور جرمانہ ہے۔ عجب تماشہ ہے کہ پاکستان میں کسی جانور کو بلاوجہ قتل کی سزا 200 روپے جرمانہ یا چھ ماہ تک قابل ضمانت قید ہے مگر انہیں تکلیف دینے یا اونٹ کی ٹانگ وغیرہ کاٹ دینے کی بظاہر کوئی قانونی سزا موجود نہیں ہے۔

    ہمارے ہاں لوگ اپنے اردگرد ہونے والے ظلم پر خاموش ہو جاتے ہیں حالانکہ ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا جرم ہے۔جانوروں پر ظلم کرنے والے کا دل پتھر کا ہوتا ہے۔ آج جو جانوروں پر ظلم کرتا ہے وہ کل انسانوں پر ظلم کرے گا۔ سندھ میں "وڈیروں” کے ہاتھوں ہاریوں اور غریب مزارعوں کو قید کرنے اور ان پر ظلم کرنے کی داستانیں بھی مشہور ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ انسانوں پر ظلم ہونے کا معاملہ ہے، پھر جانور تو جانور ہیں وہ کس کھیت کی مولی ہو سکتے ہیں۔ شائد ہو گا بھی یہی کہ اونٹ کی ٹانگ کاٹنے والے مجرمان کی ٹانگیں نہیں کاٹی جائیں گی کیونکہ وہ انسان ہیں کے درجہ پر فائز ہیں جس وجہ سے ان ظالموں کو رعایت دی جائے گی۔ اونٹ بے زبان جانور ہے۔ وہ فریاد کے لیئے کسی عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے اور اللہ کے سوا نہ وہ داد رسی کے لیئے کسی انسان کے سامنے گڑگڑا سکتا ہے۔

    جس معاشرے کے لوگ نرم دلی اور احسان و انصاف سے خالی ہوں ان پر رحمت کے بادل نہیں برستے کہ:

    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

  • موسم گرما کی تعطیلات اور سمر کیمپ

    موسم گرما کی تعطیلات اور سمر کیمپ

    موسم گرما کی تعطیلات اور سمر کیمپ

    موسم گرما کی چھْٹیاں ہوتے ہی طلبا و طالبات کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا،جبکہ خوشی کی بات یہ کہ عید الضحٰی موسم گرما کی چھٹیوں میں آرہی ہے، ان چھٹیوں کا لطف دوبالا کرنے کے لئے بچے مختلف پروگرام ترتیب دیتے ہیں اس موقع پر اپنے عزیزواقارب کے ہاں جانے کے پروگرام بنتے ہیں،معلومات میں اضافہ کرنے کے لئے تفریحی مقامات پر جایا جاتا ہے، شمالی علاقہ جات کی سیر کی جاتی ہے جبکہ بچوں کی اکثریت سمر کیمپ کو ترجیح دیتی ہے۔بہت سے سکول و کالجز بھی سمر کیمپ پروگرامز کا اعلان کردیتے ہیں اور بہت سے ایجوکیشنل اکیڈمیز یا کمیونٹیز بھی سمر پروگرامز کا انعقاد کرتی ہیں تاکہ بچوں کے قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ اس ضمن میں بچوں کو ان کی دلچسپی کے مطابق پروگرام مرتب کرکے دیے جاسکتے ہیں۔


    سمر کیمپ ایسا ہونا چاہئے جہاں طا لبِ علموں کی ذہنی آبیاری ہو،کھیلوں کاسامان ہو۔وسیع وعریض گراؤنڈز ہوں،تقریری مقابلے ہوں، پینٹگز کے مقابلے ہوں،غرضیکہ بچوں کی دلچسپی کے ہرقسم کے پروگرامزشامل ہونے چاہئیں ۔ یوں تو تعلیمی اداروں میں تقریباً سارا سال بچوں کے لئے نصابی و غیرنصابی گرمیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن موسم گرما کی چھٹیوں میں خاص طور پرسمر کیمپ کا اہتمام کیا جاتا ہے،جہاں بچے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ سمر کیمپ میں مختلف موضوعات پر تقریبات ہوتی ہیں اس لئے کہ طلبہ و طالبات کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی آبیاری اور معلومات میں بھی اضافہ ہواور وہ بڑے ہو کر معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔ مختلف تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔ طلبہ وطالبات ان تقاریب سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ نئی نسل کو باصلاحیت بنانے کی کوشش کی جاتی ہے ، مختلف مقابلوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ بچے مختلف زبانوں میں ملی نغمے اور ترانے پیش کر تے ہیں۔ اس کے علاوہ سمر کیمپس میں طلبہ و طالبات کو عملی کام سکھانے کا اہتمام بھی کیا جا تا ہے۔ کئی ایسے سمر کیمپ ہیں جہاں طلبہ و طالبات کو کوکنگ و بیکنگ کے کورسز کرائے جاتے ہیں۔آج کل لڑکیاں ہی نہیں ، لڑکے بھی کھانے پکانے میں دلچسپی لیتے ہیں تو،انہیں ایسے سمر کیمپ میں بھیجا جاسکتا ہے جہاں بچوں سے ہی پوچھ کر ڈش کا انتخاب کیا جاتاہے اور اس کی تیاری کرتے ہوئے بچوں کو تمام چیزوں کے بارے میں بتایا جاتاہے اور چھوٹے چھوٹے کام بچوں سے بھی کروائے جاتے ہیں۔
    طالبِ علموں کو باغبانی بھی سکھائی جاتی ہے۔ بچے روزانہ کیاری کی دیکھ بھال کرنے اور پودوں کو بڑھتادیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ اس سے بچوں میں اپنا کام خود کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ پکنک اور مختلف تفریحی و مطالعاتی دوروں کا اہتمام کیا جاتا ہے ، خاص طور پر تاریخی مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے۔
    آرٹ اینڈ کرافٹ سمر کیمپ کا خا ص حصہ ہو تے ہیں۔ بچوں کو پینٹنگ کرنے کے لیے بڑی شیٹ اور پینٹ دیا جاتاہے لیکن یہ کام کرنے سے پہلے فرش پر اخبار یا پلاسٹک بچھوائیں پھر اس پر شیٹ رکھ کر ان سے پینٹنگ کروائیں۔ بچے اپنی پسند کی چیزیں بنانے میں انجوائے کریں گے۔ جب وہ اپنا کام کر چکیں تو تمام چیزیں سمیٹنے کی ہدایت کریں اور جگہ کو صاف کروائیں۔
    مختلف سائز کے موتی اور تار بچوں کو دیں اور انھیں جیولری بنانے میں مصروف کریں۔ یہ کام چھوٹے بچے بھی کرسکتے ہیں۔ بچے جیولری بنانے میں بہت دلچسپی لیں گے اور اپنی بنائی ہوئی جیولری پہننے میں انھیں بھی بہت ہی اچھا لگے گا۔
    بچوں کو لائبریری لے جایا جاتا ہے۔ جہاں بچوں کو دلچسپ معلوماتی اور کہانیوں کی کتابیں دی جاتی ہیں تاکہ کورس کی کتابوں کے علاوہ بچے مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھیں ۔کتابیں پڑھنے کا الگ ہی مزہ ہے۔ پڑھنے سے انہیں ، لکھنے کا شوق ہوگا اور ان کا تخیل مزید پروان چڑھے گا۔
    بہت سے سمر کیمپ کمیپوٹر کورسز پر مشتمل ہوتے ہیں ، جہاں بچے بنیادی تعلیم سے لے کر گرافک ڈیزائننگ بھی سیکھتے ہیں اور پروگرامنگ میں بھی صلاحیتوں کا اظہار کررہے ہوتے ہیں۔
    اگر بچہ انگلش بولنے ، سمجھنے یا سمجھانے میں مشکلات کا شکار ہے تو یہی موقع ہے کہ اسے انگلش لینگویج کورس کروائیں ،اگر اس کی انگلش اچھی ہے تو پھر دیگرزبانیں جیسے فرینچ یا چائنیز لینگویج بھی سیکھنے بھیجا جاسکتاہے۔
    تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے بچے ایک سے زیادہ چیزوں میں مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ غیر نصابی سرگرمیاں شخصیات ابھارنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ موجودہ وقت میں غیرنصابی سرگرمیوں پر توجہ بہت ہی کم دی جا رہی ہے۔ بیالوجی، سائیکلولوجی اور نیورولوجی میں ہونے والی جدید تحقیق نے بھی کھیلوں کی اس غیرنصابی سرگرمی کی لازمی ضرورت کو ثابت کیا ہے۔عموماََ بچے پانچ ماہ کی عمر میں دستیاب چیزوں کے ساتھ کھیلنے کی ابتدا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے ننھے منے سائنسدان ہوتے ہیں۔ بچے تجربے کرکے چیزوں کی خصوصیات جان لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کام کیسے کرتی ہیں؟ ان کے ساتھ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ پھر ان سے ملتی جلتی اشیاء پر بھی یہی تجربات کرکے دیکھتے ہیں۔ چیزوں کو توڑنے جوڑنے کی کوشش میں جو مشکلات انہیں درپیش ہوتی ہیں، ان پر اپنی عقل کے مطابق قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے بچوں نئے نیورل کنکشن قائم کرتے ہیں اور بچوں میں ذہنی نشوونما پروان چڑھتی ہے، جو انہیں اپنے اردگرد کے ماحول سے جڑے رہنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔

    اگر بچوں کو غیرنصابی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے تو وہ نیورل کنکشن قائم کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نصابی سرگرمیوں میں بہ نسبت دوسرے بچوں کے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس طرح ان کے سمجھنے کی صلاحیت میں ایک حد تک خلل واقع ہوجاتا ہے۔ ایسے بچوں کے لیے ذہنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ناممکن ہوتا ہے۔ ہماری سوسائٹی میں سکول میں پڑھائی کے اوقات میں اضافہ اور بے جا ٹیسٹ کی وجہ سے بچے ہر وقت پڑھائی میں مشغول رہتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی غیرنصابی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جو بچوں کی ذہنی وجسمانی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ سکول میں دیا جانے والا ہوم ورک اور ٹیوشن ورک سے بچہ ہر وقت اسکول کے ماحول سے جڑا رہتا ہے۔ اسے غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ جن بچوں کو کھیل کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے ایسے بچوں کے دماغ میں نقص رہ جاتا ہے۔ بڑھوتری کے مطابق جو بچے نہیں کھیلتے یا جن کو کھیلنے کے مواقع نہیں ملتے ان کے غیر معمولی حد تک متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ آج صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ میدان ویران پڑے ہیں۔ بگڑتے حالات کی وجہ سے بچے آزادی سے کھیل نہیں سکتے۔ بچے اسکول کے بعد ذہنی طور پر اس قدر تھک چکے ہوتے ہیں کہ وہ کھیلنے کے بجائے گھر پر بیٹھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور گھر گھر میں موجود انٹرنیٹ کی سہولت ان کے لیے مزید مسئلہ بن چکی ہے۔ پڑھائی کے بعد وہ اپنا وقت انٹرنیٹ کو ہی دینا پسند کرتے ہیں۔ کھیلوں کے میدان آباد رکھنے کے لیے اور بچوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے لیے اسکول وکالج انتظامیہ کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

    Title Image by Rosy / Bad Homburg / Germany from Pixabay

  • خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’: منقطع روایات کی کہانی

    خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’: منقطع روایات کی کہانی

    خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’: منقطع روایات کی کہانی

    خالد اسراں کا اردو افسانہ ‘عید’ منقطع روایات کی دلچسپ اور سبق آموز کہانی ہے جس میں مصنف نے شاہد نامی لڑکے کی سفر کے حالات و واقعات کو بیان کیا ہے، ایک محنتی اور تعلیم یافتہ لڑکا جو کینیڈا میں بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا وطن پاکستان چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ کینیڈا میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد شاہد نے عید منانے کے لیے پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا وہ یہ سفر صرف یہ معلوم کرنے کے لیے کیا کہ تہوار کی روایات اور خوشی کا جذبہ بالکل بدل گیا ہے یا نہیں۔ کہانی شاہد کی مایوسی اور ناامیدی کو سامنے لاتی ہے کیونکہ وہ اپنے آبائی شہر میں عید کے ختم ہوتے ہی ثقافتی اور فرقہ وارانہ پہلوؤں کا مشاہدہ کرتا ہے۔


    ‘افسانہ عید’ کا مرکزی موضوع معاشی مشکلات اور سماجی تبدیلیوں کی وجہ سے ثقافتی اور روایتی اقدار کے زوال کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ خالد اسراں نے عید کے ایک بار متحرک اور جشن کے ماحول پر مہنگائی، بے روزگاری اور جدیدیت کے اثرات کو اپنے افسانے میں پیش کیا ہے۔ کہانی فرقہ وارانہ جذبے کے نقصان اور سماجی و اقتصادی حرکیات کو بدلنے کی وجہ سے نسلوں کے درمیان تعلقات منقطع ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔
    افسانہ ”عید ” کی کہانی کو ساخت اور تھیم کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ افسانہ ‘عید’ کا بیانیہ شاہد کے خاندانی پس منظر، کینیڈا میں اس کی کامیابی اور پاکستان واپسی کے فیصلے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد کہانی شاہد کے اپنے آبائی شہر میں عید کی تقریبات کی عصری حالت کے مشاہدات کے ذریعے سامنے آتی ہے۔ اس کی پرانی یادوں اور تلخ حقیقت کے درمیان بالکل تضاد افسانے کے پلاٹ کی جڑ ہے۔ اسراں نہایت مہارت کے ساتھ داستان کو ایک منفرد اسلوب میں بیان کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، جو قاری کو ثقافتی تبدیلیوں اور سماجی زوال کی پُرجوش تلاش کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
    خلد اسراں نے افسانہ ”عید” کی کہانی کی جذباتی گہرائی کو قارئین تک پہنچانے کے لیے مختلف ادبی آلات کا بھی استعمال کیا ہے۔ پاکستان میں ماضی کی عید کی تقریبات کو واضح طور پر پیش کرنے کے لیے امیجری کا استعمال کیا جاتا ہے، جو ان کے موجودہ حالات سے متصادم ہے۔ "زندہ لوگوں کا قبرستان” اور "انسانی شکل میں کالے جنات” جیسے استعارے روایت کے کھو جانے اور معاشرتی تبدیلیوں کے غیر انسانی اثرات پر زور دیتے ہوئے علامت کی ایک تہہ شامل کرتے ہیں۔
    افسانہ ‘عید’ کا تفصیلی تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ افسانہ ثقافتی طریقوں پر جدیدیت کے اثرات پر تنقید کرنے کے مصنف کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ سنگین حقیقت کے مقابلے میں شاہد کی توقعات کی تفصیل کمیونٹی کو درپیش وسیع تر سماجی و اقتصادی چیلنجوں کا استعارہ ہے۔ روایتی سرگرمیوں کی عدم موجودگی، جیسے سوئی کا کام، فرقہ وارانہ اجتماعات میں کمی، اور تہواروں کی تجارت کاری، ثقافتی بندھنوں کے ٹوٹنے کی علامت ہے۔
    شاہد کا اپنے ایک زمانے میں مانوس پڑوس کی تلخ حقیقتوں سے ملاقات ایک بہترین اور سچ پر مبنی کہانی کو سامنے لاتی ہے۔ یہ کہانی عصری زندگی کے دباؤ کے درمیان ثقافتی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔کہانی کا بیانیہ قارئین کو دعوت دیتا ہے کہ وہ روایات، برادری کی اہمیت اور انفرادی شناخت پر سماجی تبدیلیوں کے اثرات پر غور کریں۔


    خلاصہ کلام یہ ہے کہ خالد اسراں کا افسانہ ‘عید’ اقتصادی چیلنجوں اور جدیدیت کے تناظر میں ثقافتی روایات کے ابھرتے ہوئے منظر نامے پر ایک پُر اثر تنقیدی تبصرہ ہے۔ شاہد کے سفر کے ذریعے مصنف نے قارئین کو ثقافتی ورثے کی نزاکت اور عید جیسے تہوار کے جوہر کو محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اسراں نے بڑی مہارت کے ساتھ کہانی سنانے کو سماجی تنقید کے ساتھ جوڑ کر ایک زبردست بیانیہ تخلیق کیا ہے۔ میں مصنف کو اتنی شاندار کہانی تخلیق کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم “عید مبارک”

    ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم "عید مبارک”

    ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم "عید مبارک” میں دعائیہ عناصر کا تجزیاتی جائزہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
    rachitrali@gmail.com

    ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم "عید مبارک” عید الفطر کی پرمسرت موقع اور اہمیت پر مبنی بہترین نظم ہے، جس میں رمضان کے روزوں کے پرمسرت اختتام اور عقیدت کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بہترین اشعار اور دلچسپ منظر کشی کے ذریعے ڈاکٹر طارق انور باجوہ نے اس مبارک موقع کے جوہر کو خوبصورتی سے نظم میں بیان کیا ہے۔
    نظم کا آغاز عید کی خوشی کے لیے دلی تمنا کے ساتھ ہوتا ہے، جو دعاؤں کے لیے تمناؤں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ شاعر شکرگزاری اور عکاسی کا لہجہ ترتیب دے کر اشعار کو آگے بڑھاتا ہے، قارئین سے عید کی برکات اور روحانی کامیابیوں کا جائزہ لینے کی تاکید کرتا ہے۔ روحانی دولت کا خیال نہ صرف مذہبی اعمال بلکہ حصول علم سے بھی ماپا جاتا ہے آپ کی نظم کے تانے بانے میں عید کی اہمیت کو باریک بینی سے شامل کیا گیا ہے۔


    ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی منظر کشی سچائی اور خوبصورتی کے متلاشیوں کو جگہ جگہ اپنے اعمال پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے پھر بھی وہ جس گہرائی کی تلاش کرتے ہیں وہ کہیں نہیں پاتے — جب تک کہ وہ چمکتے سورج یا چمکدار چاند کا سامنا نہ کریں۔ روشن خیالی کی یہ استعاراتی جستجو روح کے روحانی تکمیل کی طرف سفر کی آئینہ دار ہے، جہاں الہٰی قدرت کی موجودگی کو آسمانی اجسام کی چمک سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
    شاعر نے صحبت کی خوبصورتی اور فضل کی مزید تعریف کرتے ہوئے ہمیں ان لوگوں کے شانہ بشانہ چلنے کی تاکید کی ہے جو وقار اور عزت کی علامت ہیں۔ نیک رفاقت کا یہ جذبہ اپنے آپ کو نیک صحبت کے ساتھ گھیرنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے، جس کی جڑیں اسلامی تعلیمات میں گہری ہیں۔
    پوری نظم میں الٰہی نعمتوں اور ہر قدم کے ساتھ لامحدود دعاؤں کا بار بار چلنے والا نقش موجود ہے۔ کثرت اور خیر سگالی کا یہ عکس عید کے دوران اجتماعی جشن کے جذبے پر زور دیتا ہے، جہاں اجتماعی دعائیں اور نیک تمنائیں دلوں اور دماغوں کو پرسکون کر دیتی ہیں۔

    ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم “عید مبارک”
    ڈاکٹر طارق انور باجوہ


    جوں جوں نظم آگے بڑھتی ہے ڈاکٹر طارق انور باجوہ باجوہ کی اشعار ثابت قدمی اور علم کے حصول کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور یہ تجویز کرتی ہیں کہ ناقابل جواب سوالات بھی بالآخر گہری بصیرت کا باعث بن سکتے ہیں۔ فکری اور روحانی ترقی کی یہ دعوت عید کے جوہر کے ساتھ سامنے آتی ہے، جو نہ صرف روزے کے اختتام کو خوبصورتی سے سامنے لاتا ہے بلکہ ذاتی اور اجتماعی خوشی کا دن بھی ہے۔
    الہٰی رحمت اور تندرستی کے لیے شاعر کی دعوت زندگی کے چیلنجوں کے درمیان امید اور یقین دہانی کے جذبات کی بازگشت کرتی ہے۔ خواہ دُعا کا سامنا ہو یا مصیبت کا، نظم الٰہی قدرت پر بھروسہ اور مصیبت کے وقت لچک پر زور دیتی ہے۔
    اپنی اختتامی سطروں میں ڈاکٹر باجوہ کی نظم "عید مبارک” ہمارے لیے قناعت اور ایمان کا ایک اعلیٰ پیغام لے کر آتی ہے۔ ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی فکر انگیز اشعار روحانیت اور رجائیت کے گہرے احساس کی عکاسی کرتی ہیں، جو عید الفطر کی تجدید، تشکر اور امید کے آغاز کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔
    ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی شاعرانہ صلاحیت اس اشتعال انگیز تحریر میں چمکتی ہے، جو قارئین کو عید الفطر کی خوشیوں اور امنگوں کے ذریعے ایک عکاس سفر پیش کرتی ہے۔ اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کے ذریعے ڈاکٹر باجوہ ہمیں عید کے جذبے کو کھلے دل اور دماغ کے ساتھ قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں، ان الٰہی نعمتوں کا جشن مناتے ہیں جو ہماری زندگیوں کو تقویت بخشتی ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم "عید مبارک” عید الفطر کی روحانی اہمیت کی ایک پُرجوش یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے، جو ہمیں زندگی کے سفر پر چلتے ہوئے شکر گزاری، علم اور صحبت کی خوبیوں کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔ نظم کے لازوال موضوعات ہر عمر کے قارئین کو پسند آئینگے جو اس مقدس موقع کی وضاحت کرنے والی روایات کے لیے اتحاد اور احترام کے احساس کو فروغ دیتے ہیں۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے ڈاکٹر طارق انور باجوہ کی نظم پیش خدمت ہے۔
    *
    "عید مبارک”
    *
    مبارک عید کی خوشی، دعا کا استجاب ہو
    قدم قدم ہو سرخرو ، تمہارا جب حساب ہو

    عبادتیں جو کیں، تمہارے ساتھ، عمر بھر رہیں
    علوم ہوں نصیب، جن کی رہنما کتاب ہو

    نگر نگر پھرے مگر کہیں ملا نہ وہ گہر
    جو چندے آفتاب ہو جو چندے ماہ تاب ہو

    جمال وحسنِ یار ہے، جو چال میں وقار ہے
    جو اس کے ساتھ تم چلو مصاحبِ نواب ہو

    زمانے بھر کی نعمتیں خدا کرے تمہیں ملیں
    قدم قدم دُعا تمھارے ساتھ بے حساب ہو

    جہاں کہیں بھی تم رہو ہمیشہ یوں ہی خوش رہو
    خدا کرے نصیب میں تمہارے آب و تاب ہو

    چلے چلو ،جو رات ہے یہ کچھ دنوں کی بات ہے
    کھلا ہوا ملے تمہیں جو رحمتوں کا باب ہو

    رہیں بلندحوصلے، بڑھاؤ علم اس قدر
    سوال گر کرے کوئی ، جواب لاجواب ہو

    اگر لبوں پہ ہو دُعا ، تو کب مرض ہے لا دوا
    کوئی بھی ہو علاج پھر، تمہیں نہ اضطراب ہو

    عطا وہ روز گار ہو، ترقّیاں تمہیں ملیں
    جو کام حوصلے کا ہو ، تمہارا انتخاب ہو

    تمہاری خدمتوں سے خوش تمہارا رہنُما رہے
    ہے وقت بہترین جب کہ عالمِ شباب ہو

    رضا خدا کی ہو عزیز ، رنج ہوں یا راحتیں
    ہے طارقؔ ایک فکر بس، نہ عاقبت خراب ہو

  • اسلام میں عیدین کا تصور 2

    اسلام میں عیدین کا تصور 2

    آج ۱۰ ذوالحجہ ۱۴۴۳ ہجری بمطابق ۱۰ جولائی  ۲۰۲۲ تاریخِ اسلامی کا ۱۴۳۳واں روزِ عیدالاضحیٰ  ہے۔ حج ۹ ہجری کو فرض ہوا اور فرضیت کے بعد ۱۰ ہجری میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے ہمراہ مسلمانوں نے پہلا حج ادا کیا۔ یہی سرکار دو عالم  ﷺ کی زندگی کا آخری حج بھی تھا۔ اسی لیے اسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ تمام عالمِ اسلام میں متفقہ طور پر دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ رمضان المبارک میں حکمِ خداوندی پر عمل کرنے کے بعد خُوشی اور شکرانے کے طور پر عیدالفطر منائی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حج بیت اللہ کی ادائیگی کے بعد خوشی اورشکرانے کے طور پر عیدالاضحیٰ مناتے ہیں۔ اسے ہمارے ہاں بڑی عید یا عیدِ قربان بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ اس عید کے موقع پر پوری دنیا میں مسلمان حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

    حج کو فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورۃ آل عمران کی آیت ۹۷ میں اللہ رب العزت یوں ارشاد فرما رہا ہے کہ

    وَ للہ ِ عَلَى النَّاسِ حِجُ البَیتِ مَنِ استَظَاعَ اِلَيْهِ سِبِيْلًا ط وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ *وَ لِلّٰهِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلاً *

    آل عمران 97

    اور محض اللہ کے لیے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ کے گھر کا حج کریں۔ جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اور جو (قدرت رکھنے کے باوجود) حج سے انکاری ہو تو پس بے شک اللہ تمام جہانوں سے بے پرواہ ہے۔

    اس آیت کے مطابق حج اُن لوگوں پر واجب ہے جو صاحب ثروت ہوں۔ یعنی اپنی تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد ان کے پاس اتنی رقم موجود کہ وہ حج کے اخراجات ادا کر سکیں اور صحت بھی اس قابل ہو تو ایسے لوگوں پر زندگی میں ایک مرتبہ حج کرنا فرض ہے ۔ اور اگر کوئی صاحبِ حیثیت مسلمان یہ فریضہ ادا نہیں کرتا تو سرکار دو عالم ﷺ کے فرمان کے مطابق بروزِ قیامت اندھا محشور ہو گا۔

    ۸ ذوالحجہ سے ۱۲ ذوالحجہ تک چند مخصوص اعمال کی بجا آوری ہر حاجی پر لازم ہوتی ہے جنہیں مناسکِ حج کہا جاتا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں شعائراللہ یعنی اللہ کی نشانیاں قرار دیا ہے۔ سورۃ الحج کی۳۲ ویں آیت میں ارشاد ہوا کہ

    ذٰالِكَ ق وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَآئِرَاللّٰهِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ *

    الحج 32

    یہ یاد رکھو کہ جس نے بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کی تو پس بے شک یہ دلوں کی پرہیزگاری سے حاصل ہوتی ہے۔

    چونکہ آج ہمارا موضوع عید ہے لہٰذا حج اور مناسکِ حج کے موضوع پر تفصیلاً ان شآءاللہ بعد میں لکھوں گا۔ بہر صورت یہ بات تو ثابت شدہ سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو کام  کرنے کا حکم دیا اُس میں سراسر بھلائی اور فوائد ہیں اور جن کاموں کے نہ کرنے کا حکم دیا ہے اُن کے کرنے میں نقصان ہی نقصان ہے۔

    حج کی ادائیگی کے بعد ۱۰ ذوالحجہ کو عید کے دن قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر حاجی پر قربانی فرض ہے۔ جبکہ جو حج پر نہیں گیا اُس کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے مؤکدہ یعنی تاکید کیا گیا۔

    اگر ہم اس قربانی کے فلسفے پر گہرائی میں غور کریں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سب سے پیاری چیز یعنی بیٹے اور وہ بھی ایسے بیٹے کی قربانی مانگی جو انہیں بڑھاپے میں ملے ۔ اور باپ کے اپنے ہاتھوں سے بیٹے کی قربانی مانگی گئی۔ جب اللہ تعالیٰ کی محبت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس عمل کو سچ کر دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔ اور پھر قیامت تک قربانی کا حکم دے کر اس عمل کو شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔

    معزز قاری! یہ محض ایک جانور کی قربانی نہیں۔ بلکہ ہر وہ کام جو ہمیں مشکل ترین لگتا ہے اور وہ اللہ کے احکامات کے خلاف ہے تو اسے چھوڑ دیں ۔ اسی طرح ہر وہ کام جس کے کرنے کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے اور وہ مشکل ترین بھی تو انجام دیں۔ یہی قربانی کا بنیادی فلسفہ ہے۔ مسلمان کا ہر کام اللہ تعالیٰ کی خُوشنودی کے لیے ہونا چاہیے۔ قربانی کے حوالے سے سورۃ الحج کی ۳۷ ویں آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

    لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ  لُحُوْمُھَا وَلَا دِمَآؤُھَا وَلٰكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوٰی مِنْكُمْ ط كَذٰلِكَ سَخَّرَھَا لَكُمْ  لِتُكَبِّروااللّٰهَ عَلٰی مَا ھَدٰكُم ط وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِيْنَ *

    الحج 37

    اللہ تک ہر گز نہ تو ان کے گوشت ہی پہنچیں گے اور نہ ہی ان کے خون۔ ہاں مگر اس تک تمہاری پرہیز گاری البتہ پہنچے گی۔ اللہ نے ان جانوروں کو اس لیے یوں تمہارے قابو میں کر دیا ہے تاکہ جس طرح اللہ نے تمہیں بتایا ہے اسی طرح تم اس کی بڑائی کرو۔ اور اے رسول ﷺ نیکی کرنے والوں کو (بہشت) کی خوشخبری دے دیجئے۔

    پس دونوں عیدوں پر اور ہر خوشی کے موقع پر حکم یہی ہے کہ اپنے ارد گرد موجود نادار اور حقدار لوگوں کو ان کا حق دیا جائے۔ قربانی کا گوشت عزیز و اقرباء اور غرباء و مساکین میں تقسیم کیا جائے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نواز رکھا ہے تو نمود و نمائش سے گریز کیجئے تا کہ کمزور اور نادار لوگوں کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچے۔

    میری طرف سے، اس ویب میگزین کے مدیران اور لکھاریوں کی طرف سے آپ کو عیدالاضحیٰ کی دلی مبارکباد۔ ہمیشہ سلامت رہیں

    monis raza

    سیّد مونس رضا

    معلم،مدبر،مصنف