Tag: سمندر پار پاکستانی

  • کالم نگار زورین کی تشہیر کا مقصود

    کالم نگار زورین کی تشہیر کا مقصود

    کالم نگار زورین کی تشہیر کا مقصود

    Dubai Naama

    اب ہمارے ہاں گروپ زہن سازی کی جانے لگی یے۔ بڑی سیاسی جماعتیں اس نفسیاتی سائنس کو ایک ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اپوزیشن ہو یا مقتدرہ وہ اس کے ذریعے عوام کے گروپس کو اپنے حق میں استوار کرتی ہیں۔ آج کے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے طوفانی دور میں یہی کچھ کیا جانا زیادہ آسان ہے۔ چونکہ انفرادی رائے کی اہمیت بڑھ گئی ہے لھذا اب اجتماعی زہن سازی کی جگہ گروپ زہن سازی نے لی ہے۔ لیکن سیاسی جمہوریت کے نظام میں اس کی ایک بنیادی خامی یہ ہے کہ فکری اور شعوری طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر جمہوری ملک میں اس پروپیگنڈا ٹائپ سیاسی حربے کے ذریعے عوام کی انفرادی رائے کا بلدکار ہو رہا ہے جس کی ایک تازہ مثال انگریزی اخبار "ایکسپریس ٹریبیون” میں نئے سال کے موقع پر یکم جنوری 2026ء کو زورین نظامانی کا شائع ہونے والا مضمون یے جسے اپوزیشن کی بڑی جماعت تحریک انصاف نے اپنا بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

    یہ انگریزی اخبار جو پاکستان سے شائع ہوتا ہے اس کی چند سو یا ہزار کاپیوں کی اشاعت ہو گی لیکن اس اخبار کا الحاق امریکہ سے شائع ہونے والے اخبار "نیو یارک ٹائمز” سے ہے اور یہ پاکستان کا اکلوتا انگریزی اخبار ہے جس کا اتحاد و الحاق امریکہ کے "لیکسن میڈیا گروپ” سے ہے۔ اس اخبار کے نوجوان کالم نگار زورین نظامانی بھی امریکہ میں قیام پزیر ہیں جو وہاں "کریمینالوجی” پر پی ایچ ڈی کرنے گئے ہیں۔ اس کے والد اداکار قیصر نظامانی اور ان کی والدہ فضیلہ قاضی اپنے بیٹے کے آرٹیکل ‘اٹ از اوور’ پر وضاحت دیتے اور عوام سے درخواست کرتے نظر آ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے، کچھ بیرونِ ملک مقیم سیاسی شخصیات اور اینکرز اسے اپنے ذاتی سیاسی ایجنڈوں کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی سے اردو اور دیگر زبانوں میں اس مضمون کا ترجمہ کر کے ہمارے اداروں کے خلاف مت موڑیں۔ انہوں نے آرٹیکل کو پوسٹ اور ری پوسٹ نہ کرنے کی اپیل کی۔ اسی طرح خود کالم نگار زورین نظامانی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ”میں پوری وضاحت اور دوٹوک انداز میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرا کسی بھی سیاسی جماعت یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو کوئی بھی میرے الفاظ کو اپنے مخصوص بیانیے کے لیے استعمال کر رہا ہے، اس کی ذمہ داری مکمل طور پر اسی پر عائد ہوتی ہے۔”

    اس کالم کو چھپنے کے بعد لندن سے صحافی اور موٹیویشنل سپیکر قیصر انیس نے سوشل میڈیا پر لگایا جنہوں نے اس کالم کے رد میں لکھے گئے ڈاکٹر فرح کے جوابی مضمون کو بھی شائع کیا جس کے بعد رووف کلاسرا صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں مجوزہ کالم کے رد میں لکھے گئے ڈاکٹر فرح رحمان کے مضمون کو بھرپور کوریج دی۔ البتہ ہمارے بزرگ کالم نگار مدظلہ عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے تو اس کالم کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے جہاں ایک مخصوص جماعت کے بیانیہ کے طور پر شرع کی وہاں انہوں نے اسے اپنی مدح سرائی کے لیئے بھی استعمال کیا، ان کے اپنے الفاظ کچھ یوں تھے: "یہ بات اب ہر ایک پر واضح ہو گئی ہے کہ اس کالم کو ڈیلیٹ کرانا ایک بڑی غلطی تھی۔ اسے برداشت کرنا چایئے تھا۔ اس اقدام کی کوئی وجہ بنتی ہی نہیں۔” اس سے خاکوانی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ مقتدرہ خوفزدہ ہو گئی تھی جس نے کالم کو اخبار سے ڈیلیٹ کروایا۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ خاکوانی صاحب نے یہ الزام کسی مصدقہ ثبوت کے بغیر لگایا، کیونکہ قوی امکان ہے کہ ویب سائٹ سے کالم کے ہٹائے جانے کی کوئی بھی دوسری وجہ ہو سکتی ہے۔ زورین ٹریبیون کے مستقل کالم نگار ضرور ہیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس مضمون کو کسی مخصوص سیاسی جماعت نے ڈیلیٹ اور وائرل کروایا ہو تاکہ اسے ایک مضبوط بیانیہ کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ بعض صحافی اور کالم نگار مقتدرہ کے حق اور مخالفت میں لکھتے ہیں۔ اگر کوئی لکھاری مجوزہ موضوع کے دونوں پہلوؤں کو واضح نہیں کرتا یا دانستہ طور پر کچھ چھپاتا یے تو یہ قلم سے غداری کہلاتی ہے۔ نوجوان مضمون نگار زورین نظامانی کے مضمون پر بھی کچھ ایسی ہی صحافیانہ بے ایمانی دیکھنے کو ملی ہے۔ میرے خیال میں یہ مضمون نگار کا ذاتی نقطہ نظر یا بیانیہ تھا، کسی فیصلہ کن قوت نے زعم طاقت میں مضمون کو سائٹ سے نہیں ہٹوایا ہو گا۔

    دراصل ہمارے معاشرے کو ایک منظم طریقے سے تقسیم اور گمراہ کیا جا رہا ہے۔ محترم عامر خاکوانی صاحب ہمارے سینئر کالم نویس ہیں جن سے ایسی سستی شہرت کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی لیکن انہوں نے اپنے ریڈرز کی نیک تمناؤں کا لحاظ رکھے بغیر ایک عام اور روایتی سے کالم کی پہلے تعریف و توصیف میں قلابے ملائے اور پھر اس کے ریڈرز کو عمر کے اعتبار سے جنریشن ایکس، بومرز، ملینئل اور زی وغیرہ کے خانوں میں ڈیوائڈ کرتے ہوئے تشریح بھی کر دی جس کا موصوف کالم نگار نے محض ذکر کیا تھا۔ کیا ہمارے ہاں طبقاتی تقسیم پہلے کم ہے کہ وہ اسے مزید ہوا دینے کے لیئے نئی اصطلاحات سے ضرب دے رہے ہیں؟ پھر ایک پائیدار اور مفید تحریر تو وہ ہوتی ہے جس میں مسائل یا نظریات کو ڈسکس کیا جاتا ہے اور ان کا حل بھی پیش کیا جاتا ہے جبکہ زورین نظامانی کے کالم میں محض استحصالی بوڑھے حکمرانوں کے گلے شکوے پر زور دیا گیا تھا۔ یہ مقتدرہ اور حکمران طبقے کے لیئے آئینہ تو ہو سکتا ہے مگر اس میں بند گلی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بتاتا گیا تھا کہ جس سے کم از کم مسائل ہی سے نکلنے کی کچھ نشاندہی ہو جاتی۔

    کالم نگار زورین کی تشہیر کا مقصود

    اس بارے میں پروفیسر خورشید ندیم نے اپنے کالم میں بجا طور پر یہ سوال اٹھایا کہ، "ایک ناقابلِ ذکر مضمون کو اتنا اہم کس نے بنایا؟” خورشید ندیم کے کالم کا اجتماعی مفہوم زورین کے کالم کی تنقید، خوف اور طاقت کے زعم کو رد کرتے ہوئے وضاحت کرتا ہے کہ اس مضمون کو ایک سوچی سمجھی سکیم کے ذریعے مقبول بنایا گیا۔ جس طرح خاکوانی صاحب بھی زورین کے کالم کے لیئے رطب اللسان ہوئے اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ رات و رات اس مضمون کی مقبولیت کو چار چاند لگانے کے پیچھے کس کا خفیہ ہاتھ تھا؟ اس جماعت کو ایسا کوئی معمولی سا ہی بہانہ مل جائے اس کے جیالے فوج کے خلاف لٹھ لے کر میدان میں آ جاتے ہیں، اور یہ مضمون بھی آنا فانا سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس سے لگ رہا تھا کہ جیسے یہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بے شک مضمون میں ایسی کوئی یکطرفہ بات نہیں تھی کہ جسے مقتدرہ کے خلاف استعمال کر کے فائدہ اٹھایا جاتا لیکن جب کوئی بڑی سیاسی جماعت مقتدرہ سے ذاتی مخاصمت پال لیتی ہے تو پھر وہ جابجا مخالف اور معاندانہ سوچ پھیلانے سے گریز نہیں کرتی ہے جیسا کہ زورین کے یہ ممدوح کالم نگار رقمطراز ہیں، "میں نے اپنا کالم رات ڈیڑھ دو بجے لکھا مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ رات ہی میں اسے ہزاروں لوگ دیکھ لیں گے اور صبح یہ وائرل ہو جائے گا۔ میرا وہ کالم اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ ویوز لے چکا ہے اور جس طرح یہ جا رہا ہے شام تک ایک ملین کو ہٹ کر سکتا ہے۔” ان سطور کا ماسوائے اپنے منہ میاں مٹھو بننے اور قارئین کو اپنے پیچھے لگانے کے سوا کیا مطلب و مفہوم ہے؟ ملکی سطح پر کسی بزرگ اور معروف صحافی کو یوں اپنی تعریف میں قلابے ملاتے ہوئے میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھا۔

    آئی ایس پی آر کی ہر پریس کانفرنس میں سخت سوال و جواب کا تبادلہ ہوتا ہے یہ عقلِ عام اور کامن سینس کی بات ہے کہ ایسے بے ضرر مضمون کو نظر انداز ہی کیا جا سکتا تھا جس کا ملبہ مخالف بیانیہ میں فوج پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ یہ اسی طرح کا فوج مخالف سازشی طرز عمل ہے جس کا مظاہرہ ملک دشمن وی لاگرز اور یو ٹیوبرز باہر کے ممالک میں بیٹھ کر کرتے ہیں۔ ناجانے اس طرح کے کتنے مضمون شائع ہوتے ہیں اور کوئی تاثر قائم کیے بغیر، شام تک گمنامی کے ملبے تلے دب جاتے ہیں۔ ایک عام فہم آدمی بھی ابلاغی حکمتِ عملی کی مبادیات کو اتنا تو جانتا ہے کہ اس طرح کے حربے مخالفانہ نقطہ نظر رکھنے والے کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے کہ تنقید کا خوف اس کالم کو ہٹوانے کا محرک ہو سکتا ہے۔ ہاں طاقت کا زعم ہوتا ہے مگر کسی کمزور یا ایک عام سے نوجوان لکھاری کے خلاف اسے استعمال کرنا خود طاقت کی توہین ہے۔ مضمون کو ایکسپریس ٹریبیون کے ویب سائٹ سے ہٹانے کا فائدہ اگر کسی کو ہوا ہے تو اس گروپ کو ہوا ہے جس نے اس مقدمے پر اپنے سیاسی مفادات کی وقتی عمارت کو کھڑا کرنے کی بھونڈی کوشش کی اور اسی نے اس کی اشاعت اور ابلاغ کے لیے اپنی ساری ابلاغی قوت بھی جھونکی۔

    معاشی اور زہنی اعتبار سے مضمون نگار کا "برین ڈرین” کے بارے انتہائی کمزور فہم ہے۔ ایک تو وہ خود پاکستان کی بجائے امریکہ سے پی ایچ ڈی کرنے گئے ہیں جو بذات خود ان کا "ذہنی اخراج” ہے، اور پھر وہ اس پر معترض بھی ہیں۔ سمندر پار افراد پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جو سالانہ 30 ارب ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں اور اس رقم کو حاصل کرنا حکومت کا بنیادی مقصد و مفہوم ہے۔ دوسری طرف دنیا بھر کی کامیاب حکومتیں نوجوانوں کی بجائے تجربہ کار اور مقتدرہ کے بزرگ لوگ سنبھالے ہوئے ہیں حتی کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈین وزیراعظم مودی تک بوڑھوں میں شمار ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی تبدیلی کے دیوتا سمجھے جانے والے عمران خان 70 سال کے پیٹے میں ہیں، اور گزرتی عمر کے ساتھ 14 اور 17 سال کی سزا پانے کے بعد بھی اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ سترہ سال مزید جیل میں رہیں تو پھر 87 سال کی عمر ہی میں وزیراعظم بن سکیں گے یا دنیا کا ایسا کونسا ملک ہے جہاں کا وزیراعظم نوجوان ہے؟ دنیا کا کم عمر ترین کنیڈئین جسٹن ٹروڈو بھی جب وزیراعظم بنے تو ان کی عمر 43 برس تھی۔

    مضمون میں بغیر کسی دلیل کے یہ ضرور کہا گیا ہے کہ بہتر انفراسٹرچر اور موثر نظام ہی نوجوانوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔ کے پی کے میں پی ٹی آئی جس نے اس مضمون کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا اور اپنا بیانیہ بنایا، کی حکومت اپنی کارکردگی سے اسے مکمل طور پر رد کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کالم ھذا میں تنقیدی تضاد کو نکال کر کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی کہ جسے ایک عام عقل و فہم رکھنے والا فیس بک یوزر بھی وائرل کرتا۔ پھر بھی ایک نوجوان لکھنے والے کی تعریف و توصیف اور حوصلہ افزائی بنتی یے۔ اس میں کسی قسم کے تعصب اور حسد کا شکار نہیں ہونا چایئے۔ کالم نگار کو اشرافیہ سے جوڑنا بھی تعصب ہے۔ گو کہ اشرافیہ سے عوام کے حق میں خیر کی توقع رکھنا جوئے شیر لانے والا کام ہے لیکن مضمون نگار اگر آگے چل کر اس کے خلاف کوئی آواز اٹھاتے ہیں تو یہ بارش کا پہلا قطرہ ہو گا ورنہ اس مضمون کو ناجائز سیاسی مقاصد کے لیئے استعمال کرنا اس سے بڑا اخلاقی جرم یے۔یہ پاکستان میں ٹرینڈ چلانے کی وہ عام اور سطحی مثال ہے جس کے تحت عوام کی رائے ہموار کرنے کے لیئے انہیں سوچ اور سوجھ بوجھ سے عاری سمجھ کر اپنے پیچھے لگانے کی کوشش کی جاتی یے۔ خدا را، ایسے بڑے صحافی بڑے پن کا مظاہرہ کیا کریں تاکہ قارئین کی رہنمائی اور مثبت ذہن سازی ہو سکے ناکہ انہیں ایسا "سٹیریو ٹائپ” مواد فراہم کر کے سوچنے والی مشینیں بنایا جائے۔ ہمارے سیاسی لیڈران پہلے ہی یہ کام بحسن خوبی انجام دے رہے ہیں۔ صحافی برادری اور خاص طور پر کالم نگاروں کا یہ حق نہیں بنتا ہے کہ وہ جانب داری سے کام لیں۔ اس سے عوام کی غیرسنجیدہ ذہن سازی کر کے شہرت کے بھوکے وہ لکھاری فائدہ اٹھاتے ہیں جو اپنی سوچ سے لکھنے کی بجائے سیاسی جماعت کے آلہ کار بن کر لکھتے ہیں۔

    زورین نے جو آرٹیکل لکھا وہ پوری قوم کا منشور اسی صورت میں بن سکتا ہے جب فوج کے تعاون کے ساتھ ججز، وکلاء، الیکشن کمیشن، بیورو کریٹس اور خاص کر سیاستدان بھی اپنا تعمیری کردار ادا کریں۔سیاسی لیڈران پر لازم ہے کہ وہ فوج کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے کی بجائے ان کی سیاست سے نکلنے کی رہنمائی کریں۔ دوسرے لکھنے والوں کو بھی چایئے کہ وہ دوستانہ ماحول میں رہ کر فوج کو قائل کریں کہ ان کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے ناکہ ان کے فرائض میں سیاست کرنا شامل ہے۔ اب نوجوان نسل "سٹیٹس کو” میں تبدیلی چاہتی ہے۔ نصیحت سے تعمیر ہوتی ہے مگر مخالف بیانیہ دشمنی پیدا کرتا ہے۔ ہمارے سیاسی ماحول میں حب الوطنی پر مبنی دوستانہ اخوت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف، اپوزیشن اور حکومت اس نکتے کو سمجھ جائیں تو آج بھی سیاسی یکجہتی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    TitleImage by Pexels from Pixabay

  • چوہدری شاہد محمود  (بحرین والے)

    چوہدری شاہد محمود (بحرین والے)

    چوہدری شاہد محمود (بحرین والے)


    عبدالرؤف ملک کمالیہ


    ہر انسان اپنی ذات میں ایک مکمل کہانی ہوتا ہے۔ اس کی سوچ، کردار، عادتیں، اخلاق، اندازِ گفتگو اور طرزِ زندگی اس کی شخصیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی گفتگو انسانیت کےلیے آسودگی اور ان کا کردار دوسروں کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے۔
    زر پرستی کے اس دور میں بھی کچھ لوگ انسانیت کی خدمت کےلیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ ان کی باتوں میں ستائے ہوئے پریشان حال لوگوں کےلیے دلاسہ اور عمل میں خلوص ہوتا ہے۔ آج میں جس شخصیت کا ذکر کر رہا ہوں وہ کمالیہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان سے ہزاروں میل دور بحرین میں مقیم چوہدری شاہد محمود صاحب ہیں جو سینکڑوں دلوں میں بسنے والی ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں جس کو نہ تو اخبارات و سوشل میڈیا پر پذیرائی حاصل کرنے کا جنون ہے اور نہ ہی سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں میں خودنمائی کا شوق۔
    چوہدری شاہد محمود صاحب محلہ بلال گنج کمالیہ میں رہنے والی ایک معزز ہستی حاجی علی محمد صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔ آپ ایک منفرد سماجی کارکن اور بہت بڑے بزنس مین ہیں۔ آپ کے بزنس کا دائرہ کار بحرین، سعودیہ اور دوسری عرب امارات میں پھیلا ہوا ہے۔ آپ عرب ممالک میں بہت سی کمپنیوں کے مالک اور ہزاروں کی تعداد میں سمندر پار پاکستانیوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ پردیس میں رہنے والے یہ پاکستانی آپ کے زیرِ انتظام مختلف کمپنیوں میں ملازمت کرتے اور اپنے اپنے خاندان کی کفالت کا وسیلہ بنتے ہیں۔ آپ جب بھی پاکستان تشریف لاتے ہیں خود کو عوامی فلاحی کاموں میں مصروف کرلیتے ہیں۔ اسی لیے ان سے ملاقات کرنے والوں کا ہمیشہ تانتا بندھا رہتا ہے۔ دو دن پہلے پاکستان تشریف لائے تو مجھے بھی ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ محترم شاہد صاحب سے پہلے بھی ملاقات ہوچکی ہے لیکن آج ان کی صحبت میں بیٹھ کر ان کی گفتگو سنی تو مجھ پر ان کی شخصیت کے ایسے ایسے راز کھلے جن سے میں پہلے ناآشنا تھا۔ ان کے فلاحی کاموں، انسانی ہمدردی، اعلیٰ اخلاق اور مجبور و بےکس افراد کا سہارا بننے کے اوصاف سے تو میں پہلے ہی واقف تھا لیکن آج ان کی گفتگو سن کر یوں محسوس ہورہا تھا کہ میرے سامنے بیٹھا شخص کوئی بزنس مین نہیں بلکہ ایک مصلح، مبلغ اور موٹیویشنل سپیکر ہے جو مجھے خدمتِ خلق اور مخلوقِ خدا پر رحم اور ہمدردی سے پیش آنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ ان کی پوری گفتگو کا محور خدمتِ خلق اور حقوق العباد تھا جس میں مال و دولت، سرمایہ اور دنیاوی نفع و نقصان کا شائبہ تک نہ تھا۔ میں نے جب ان سے دنیاوی نفع و نقصان کے بارے میں بات کی تو چہرے پر مسکراہٹ سجا کر فرمانے لگے کہ جب انسان اپنے نفع و نقصان کی بجائے اللہ کی رضا اور خوشنودی کے حصول کےلیے دوسروں میں آسانیاں بانٹنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ایسے بندے کو مایوس نہیں کرتا۔ اس کی آخرت تو سنورتی ہی ہے اللہ پاک ایسے بندے کی دنیا بھی سنوار دیتا ہے۔ کسی مجبور کے دل سے نکلنے والی دعا ہی اصل دعا ہوتی ہے جو آسمان کو چیر کر عرش تک پہنچتی ہے۔ اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ ہم پہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا خاص انعام ہے کہ ہمیں دوسروں کے رزق کا وسیلہ بنا دیا ہے۔ ایسی سبق آموز باتیں کتابوں سے نہیں ملتیں بلکہ ان کی خوشبو مخلص لوگوں کے کردار سے پھوٹتی ہے۔

    چوہدری شاہد محمود  (بحرین والے)
    چوہدری شاہد محمود (بحرین والے)


    چوہدری شاہد محمود صاحب اُن خوش نصیب انسانوں میں سے ہیں جن کے دل میں سمندر پار پاکستانیوں کےلیے ہمدردی، محبت، صلہ رحمی اور خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ جب بھی ان کے پاس دنیا کا ستایا ہوا کوئی بھی شخص مدد کےلیے آیا انہوں نے ہمیشہ اس کی بےلوث مدد کی۔ وہ صرف ایک فرد ہی نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، خداترسی اور بےلوث محبت کا استعارہ ہیں۔ انہوں نے نہ تو کبھی شہرت چاہی اور نہ ہی کسی سیاسی یا مذہبی لبادے میں چھپ کر کام کیا بلکہ وہ جو کرتے ہیں چپکے سے اور خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ بلاشبہ پردیس آسان نہیں ہے۔ وہاں کی مشکلات وہی جان سکتا ہے جو خود مشکل حالات سے گزرا ہو۔ وہاں ہر بندے کو اپنی پڑی ہوتی ہے حتٰی کہ قریبی رشتہ دار بھی مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ میرا بیٹا بھی دوسال پہلے تلاشِ روزگار میں عازمِ سفرِ عرب ہوا تو اس جہانِ بےثبات کے خودغرض لوگوں نے اسے تنہا و لاوارث چھوڑ دیا۔ وہ عزیز و اقارب جو دن رات اسے سہارا دینے اور روزگار کےلیے ہر ممکن تعاون کے دعوے کرتے تھے چند ہی دنوں میں بیگانے ہوگئے۔ پرائے دیس میں بغیر رجسٹریشن اور کاغذات کے رہنا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ اسی پریشانی کے عالم میں ایک سال گزر گیا۔ پھر محترم شاہد محمود صاحب سے رابطہ ہوا جو ہمارے لیے رحمت کا فرشتہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے مجھے اور میرے بیٹے کو تسلی دی اور ذاتی دلچسپی لے کر اس کے نہ صرف کاغذات اور رجسٹریشن کا پراسس مکمل کیا بلکہ اس کےلیے انتہائی مناسب روزگار کا بھی انتظام کیا۔ ایسی ہستی کےلیے دعائیں زبان سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہیں جو بغیر کسی روک ٹوک کے عرش تک پہنچتی ہیں۔ ایسی بیگانی دنیا جہاں سب پرائے ہوں وہاں کسی کے کام آنا اور کسی کے روزگار کا ذریعہ بننا یقیناً بہت بڑا اور عظیم عمل ہے اور جب اس کا مقصد صرف اللہ کی رضا کا حصول ہو تو پھر یہ تمام امور نیکیوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔
    عاجزی و انکساری چوہدری شاہد محمود صاحب کا خاص وصف ہے۔ ایک بہت بڑا بزنس مین ہونے کے باوجود آپ نے کبھی بھی دولت یا حیثیت پر فخر نہیں کیا۔ آپ نے نہ تو کسی پر کبھی احسان جتلایا اور نہ ہی کبھی کسی کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی۔ ان کا لہجہ ہمیشہ نرم اور ظرف اتنا وسیع رہا ہے کہ اس میں پوری دنیا سما سکتی ہے۔
    چوہدری شاہد محمود صاحب جیسے لوگ دراصل وہ خاموش محسن ہوتے ہیں جن کی موجودگی پردیسیوں کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہے۔ نہ وہ شہرت کے بھوکے ہیں اور نہ کسی انعام کے منتظر۔ ان کا سب سے بڑا انعام اُن کے چاہنے والوں کی دعائیں اور اللہ کی رضا کا حصول ہے۔ ایسے لوگ ہی ہمارے معاشرے کا قابلِ فخر سرمایہ اور سمندر پار پاکستانیوں کا مثبت چہرہ ہوتے ہیں۔
    اس تحریر کی وساطت سے میں چوہدری شاہد محمود صاحب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے دیارِ غیر میں میرے بیٹے کی سرپرستی کی اور اس کےلیے اچھے روزگار کا بندوبست کیا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی کی دولت سے مالامال کرے اور عمرِ خضر نصیب فرمائے۔ انہوں نے عوامی خدمت کے جذبے سے رفاہِ عامہ کے جو بھی کام کیے ہیں انہیں اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کےلیے توشہ آخرت بنائے۔ آمین

  • سمندر پار پاکستانیوں کے لیئے لائحہ عمل کی ضرورت و اہمیت

    سمندر پار پاکستانیوں کے لیئے لائحہ عمل کی ضرورت و اہمیت

    سمندر پار پاکستانیوں کے لیئے لائحہ عمل کی ضرورت و اہمیت

    Dubai Naama

سمندر پار پاکستانیوں کے لیئے لائحہ عمل کی ضرورت و اہمیت

    لوگ یورپ، امریکہ، جاپان کنیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ جانے کو ترستے ہیں۔ پاکستان میں متوسط اور غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ان ترقی یافتہ ممالک کے ویزے حاصل کرنے کے لیئے ہر سال لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ان امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں بے روزگار اور ترقی کرنے کے خواہش مند افراد کو پہنچانا اربوں روپے کا کاروبار ہے۔ بہت ساری اورسیز ریکروٹمنٹ ایجنسیاں اور اینجنٹس اس حد درجہ منافع بخش کاروبار سے وابستہ ہیں۔ خاص طور پر پاکستان میں یورپ وغیرہ میں سیٹل ہونا کسی خواب سے کم نہیں یے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیئے جہاں لوگ ہر سال لاکھوں کروڑوں روپے اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کے حوالے کرتے ہیں وہاں ہر سال لوگ ڈنکیاں وغیرہ لگاتے ہوئے جان کی بازی بھی ہار جاتے ہیں۔ یونان اور آسٹریلیا وغیرہ میں داخلے کے لیئے تو کئی دفعہ کشتیاں ڈوبنے اور ان میں درجنوں پاکستانیوں کی ہلاکتوں کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بیرون ملک سیٹل ہونے کا ایک سیلاب ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔

    افرادی قوت کی بیرون ملک منتقلی کے اس عمل میں بہت زیادہ فراڈ اور دو نمبریاں بھی ہوتی ہیں جس سے آگاہی بہم پہنچانا بہت اہم موضوع ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات رونما ہونے سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بدستور خراب ہو رہا ہے۔
    گزشتہ برس سعودی عرب میں جعلی ڈگریوں پر گئی ہوئی 55 پاکستانی نرسیں سعودی عرب سے ڈپورٹ ہوئی تھیں۔ چند روز پہلے ایک اور واقعہ کے مطابق ڈومنیکا میں 59 افراد کی شہریت منسوخ کی گئی جس میں 19 پاکستانی بھی شامل ہیں جن کی دستاویزات جعلی نکلی تھیں۔ شہریت منسوخی کی یہ خبر ڈومینیکا کے سرکاری گزٹ میں شائع ہوئی اور اخباری اطلاعات کے مطابق اس کا اعلان ڈومینیکن وزیر برائے شہریت مریم بلانچارڈ نے کیا۔ ایجنٹوں نے ڈومینیکا میں شہریت دلوانے کے لیئے جعلی کاغذات استعمال کیئے تھے۔ حکومتی تحقیقات کے نتیجے میں فراڈ پکڑا گیا اور 59 افراد کی شہریت منسوخ ہو گئی۔

    ڈومینیکا میں سٹیزن شپ بائی انوسٹمینٹ پروگرام یا سی بی آئی پروگرام کے تحت کسی بھی شخص کو 2لاکھ امریکی ڈالرز کی مالیت کی جائیداد خریدنے یا حکومت کو ایک خاص رقم عطیہ دینے کے عوض شہریت مل جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کے نتیجے میں شہری کو جو پاسپورٹ مِلتا ہے، وہ "اکنامک پاسپورٹ” کہلاتا ہے جس پر اکثر ممالک میں انٹری ویزے فری مل جاتے ہیں۔ کچھ ایجنٹوں نے شہریت کے خواہش مند افراد سے ساٹھ سے ستر ہزار ڈالرز بٹورے اور انھیں دو لاکھ ڈالر مالیت کی جائیداد کے جعلی کاغذات کے عوض شہریت دلوائی۔ تحقیقات کے نتیجے میں فراڈ سامنے آیا تو ڈومینیکا حکومت نے یہ اڑسٹھ پاسپورٹ کینسل کر دیئے جس میں 21 فیصد پاکستانی شامل تھے۔ ایک اطلاع کے مطابق جن پاکستانیوں کے پاسپورٹ کینسل ہوۓ، ان میں مہرین غضنفر، حرا سجاد، شمائلہ حیدر، ظفر احمد چودھری، عزیر نجم، سجاد احمد عباسی، سلمان نعیم، فرید احمد چغتائی، زاہد افضل، اُسامہ اشرف، عتیق الرحمان بخاری، شاہد محمود اکبر، شفقت علی شہزاد، نواز حسن، حیدر عابدی، حسین حیدر عابدی، فیصل نصیر، محمد عامر صدیقی، فاطمہ جمال اور ہدیٰ احمد جمال وغیرہ سرفہرست ہیں۔

    پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان متاثرین کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے میں ملوث ایجنٹوں پر مقدمہ دائر کر کے کاروائی کرے۔ پاکستان میں باہر کے ان امیر ممالک میں افرادی قوت بھجوانا جن میں یورپ، کنیڈا، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے علاوہ جنوبی کوریا بھی شامل ہے ایک بہت بڑا گھناونا کاروبار ہے جہاں اکثر و بیشتر جعلی کاغذات وغیرہ استعمال کیئے جاتے ہیں مگر ایسی ایجنسیوں اور ان سے وابستہ ایجنٹوں کے خلاف حکومت پاکستان یا اورسیز ایمپلائمنٹ کی وزارت نے آج تک کبھی کوئی بڑی کاروائی نہیں کی ہے۔ اس پر مستزاد عرب ممالک میں روزگار کے لیئے لیگل ویزوں پر جانے والوں کے لیئے کسی قسم کی مناسب ٹریننگ کا احتمام بھی نہیں کیا جاتا ہے حالانکہ ان ملکوں میں جانے والے افراد سے "پروٹیکٹر” کے نام سے آٹھ سے دس ہزار روپے لے کر ایک کاغذ تو تھما دیا جاتا ہے مگر انہیں باہر کے ممالک میں رہنے کے آداب اور قوانین کا احترام کرنے کا کوئی کورس وغیرہ نہیں کروایا جاتا ہے۔

    اگر ہم یورپ کی طرف ہجرت کر کے قانون کی پابندی کرنے لگتے ہیں، سگریٹ پی کر اس کے ٹوٹے زمین پر نہیں پھینکتے، عوامی مقامات پر تمباکو نوشی نہیں کرتے، مخصوص مقامات سے سڑک پار کرتے ہیں، ہماری سیکیورٹی کا شعور اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ ہم کھڑکی کے سامنے سے بلی بھی چوری ہو جانے پر پولیس کو اطلاع کرتے ہیں تو یہ ایک انتہائی معزز قوم کے افراد کی عادات ہیں۔
    مغربی ممالک میں ہم گاڑی چلاتے وقت سیٹ بیلٹ باندھنے پر مجبور ہوتے ہیں، بچے کے لئے پچھلی سیٹ پر کرسی رکھتے ہیں، قطار میں آرام سے کھڑے رہتے ہیں چاہے یہ ایک کلومیٹر لمبی ہی کیوں نہ ہو۔ جب ہم یورپی شہریت لیتے ہیں اور اپنے نمائندے کا انتخاب کرتے وقت اس کی تاریخ، ماضی اور پیشہ ورانہ مہارت کے بارے میں بھی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اگر ہم یہ سب کچھ اپنے ملک میں کرتے ہیں تو شاید ہمیں ان ممالک کی طرف ہجرت کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

    اگر دنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی اہمیت کو بحال کرنا ہے تو ملک کو بدنام کرنے کا باعث بننے والی ایسی جعل سازی کرنے والوں کے خلاف قدم اٹھانا ہو گا۔ غیر قانونی طور پر سرحدیں پار کروانا یا ایسی جعلی دستاویزی تیار کرنا "ہیومن ٹریفکنگ” میں آتا ہے جو سخت عالمی قوانین کی سریع خلاف ورزی ہے۔ ایسے واقعات سے پاکستانی پاسپورٹ کی ویلیو مزید دو فیصد گر گئی ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ کوئی مناسب لائحہ عمل طے کرنے کے لیئے اس کا فوری نوٹس لے۔

    Title Image by Igor Ovsyannykov from Pixabay

  • پاکستان سے “ذہانت کا انخلا” کیسے روکا جائے؟

    پاکستان سے "ذہانت کا انخلا” کیسے روکا جائے؟

    پاکستان سے "ذہانت کا انخلا” کیسے روکا جائے؟

    Dubai Naama

پاکستان سے “ذہانت کا انخلا” کیسے روکا جائے؟

    کل دو پروگرامز تھے۔ پہلا پروگرام سابق گورنر چوہدری محمد سرور اور دوسرا پروگرام مشہور صحافی سہیل وڑائچ کے اعزاز میں تھا۔ پہلا پروگرام دبئ جمیرا روڈ پر ہوا جس کے میزبان خود چوہدری محمد سرور تھے۔ انہوں نے سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے "گرانڈ اوور سیز کلب” (GOC) کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے۔ بقول چوہدری محمد سرور اس تنظیم کے 131 ممالک میں دفاتر ہیں۔ یہ پروگرام بنیادی طور پر ایک لنچ پارٹی تھی، جس میں کھانے سے پہلے دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل اور حل کو ڈسکس کیا گیا۔ اس پروگرام میں تنظیم کے صدر ملک منیر اعوان، تنظیم کے بانی چوہدری محمد سرور اور راقم الحروف نے بھی خطاب کیا۔ دوسرا پروگرام شام 6 بجے پاکستانی برٹش سجاد احمد کے گھر جمیرا پارک میں منعقد ہوا۔ ان دونوں پروگرامز میں شرکاء کے تاثرات سن کر یہ احساس ہوا کہ دیار غیر میں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی جہاں اپنے وطن کے لئے فکرمند ہے وہاں اسے پاکستان میں بہت زیادہ مسائل کا بھی سامنا ہے!

    ہر سال سمندر پار پاکستانی تقریبا 25 بلئین ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں، لیکن اس کے بدلے میں سمندر پار پاکستانیوں کو حکومت پاکستان جو سہولیات دیتی ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ اس وقت روزگار کے سلسلے میں 11 ملئین سے زیادہ پاکستانی دنیا کے تقریبا 150 مختلف ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ دیار غیر میں جانے والے یہ محب وطن شہری کن مشکلات اور جان جوکھوں والے مصائب کا سامنا کرتے ہیں اس کا اندازہ حال ہی میں یونان کے ساحلوں میں ڈوبنے والی کشتی سے لگایا جا سکتا ہے جس میں کم و بیش 400 نوجوان پاکستانی شہری شہید ہو گئے تھے۔

    پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کے لئے بیرونِ ملک مقیم شہری ایک اثاثے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صرف کرونا وائرس کے دوران اقتصادی مسائل سے دو چار پاکستان کے سمندر پار مقیم شہریوں نے 29 ارب ڈالر بھیجے تھے جو کہ استحکام معیشت کے لئے ایک ریکارڈ ترسیلاتِ زر تھی مگر اسی دوران اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا تھا جس کو پنجاب میں بیرونِ ممالک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے ازالے کے لیے کام کرنے والے ادارے ’پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن‘ نے بھی تسلیم کیا تھا جس دوران ایک سال میں 6000 سے زائد درخواستیں نمٹائی گئی تھیں جن میں سے زیادہ تر درخواستیں (تقریبا 99%) جائیدادوں پر قبضے کے بارے میں تھیں جبکہ یہی شکایات بڑھ کر اس سال دگنی سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں لینڈ مافیا بہت فعال اور طاقتور ہے جس کے سامنے حکومتیں بھی بے بس ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن 2014 سے کام کر رہا ہے جس کی بنیاد مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں شامل موصوف گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے رکھی تھی جو خود بھی اوورسیز پاکستانی ہونے کی حیثیت سے مسائل کو بہتر سمجھتے ہیں۔

    پاکستان سے “ذہانت کا انخلا” کیسے روکا جائے؟
    Image by Kris from Pixabay

    کمیشن کی کارکردگی اور اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے جون 2021 تک سات برس کے دوران 23 ہزار 800 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 14 ہزار 755 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ جب کہ لگ بھگ 9000 شکایات ابھی بھی کمیشن کے پاس موجود ہیں جو بوجوہ زیرِ التوا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں اور گھروں پر قبضے کے لیے جعل سازی سے نقلی کاغذات تیار کیے جاتے ہیں اور زمینوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ جب کہ اوورسیز پاکستانی ملک سے باہر اس ساری صورتِ حال سے لاعلم ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کوئی عام شہری نقلی کاغذات پر جائیداد خرید لیتا ہے اور پھر دونوں ایسے افراد آپس میں قانونی معاملات میں الجھ جاتے ہیں جنہیں قبضہ گروہ نے دھوکا دیا ہوتا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ایک سال کے دوران 13 ارب سے زائد مالیت کی جائیدادیں وا گزار کرائی گئیں۔ اس مد میں حکومت پاکستان نے ایک پورٹل قائم کر رکھا ہے جس میں سمندر پار پاکستانی درج ذیل پتہ opc.punjab.gov.pk پر اپنی درخواستیں رجسٹر کروا سکتے ہیں۔

    پاکستان سے سمندر پار جانے والے لوگوں کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غربت اور روزگار کی تلاش میں باہر جاتے ہیں اور دوسرا وہ طالب علم باہر جاتے ہیں جو بیرون ملک میں اعلی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں یا جنہیں امیر اور ترقی یافتہ ممالک مثلا امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا اور سوئٹزرلینڈ وغیرہ مفت تعلیمی وظائف دیتے ہیں۔ ان مغربی ممالک میں سٹوڈنٹ ویزے پر عموما وہ طالب علم جاتے ہیں جو ذہین و فطین ہوتے ہیں اور جو ہماری عقل و دانش کے حوالے سے کریم کا درجہ رکھتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ 90 فیصد سے زیادہ طلباء اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن واپس نہیں لوٹتے ہیں کیونکہ پاکستان میں انہیں ان کی ذہانت کا صحیح معاوضہ نہیں ملتا ہے۔ یہ ایک قسم کا پاکستان سے ذہانت کا اخراج ہو رہا ہے جسے آپ انگریزی زبان میں "Brain Drain” بھی کہہ سکتے ہیں جو جب سے شروع ہوئی ہے آج تک نہیں رکی ہے۔

    ان دونوں پروگرامز میں احقر نے اس طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ اوور سیز پاکستانیز اور خصوصی طور پر ان جینئس طلباء کو اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر نمائندگی دی جائے تاکہ جہاں ملک سے ذہانت کے اس اخراج کو روکا جا سکے وہاں اس نمائندگی سے ان سمندر پار پاکستانیوں کے مسائل کا ازالہ بھی براہ راست ممکن بنایا جا سکے۔

  • زُبانِ شِیریں مُلک گِیری

    زُبانِ شِیریں مُلک گِیری

    تحقیق : شاندار بخاری

    مسقط

    1442 ھ

    آج کل موسم بدل رہا ہے اور میں کیونکہ ایک گرم ملک میں مقیم ہوں اس لئیے کچھ زیادہ ہی ٹھنڈ محسوس کرتا ہوں اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ جانے انجانے چاہتے نا چاہتے ہمارے ماحول کا ہم پر اثر ہوتا ہے ۔ صفائی نصف ایمان ہے یہ ہمیں بچپن سے دکھایا جاتا ہے لیکن اس کا عملی نمونہ ہمیں وہاں دکھائی دیتا ہے جہاں دکھا یا نہیں جاتا تو نتیجہ یہ نکلا کے کہنے اور کرنے میں فرق ہے یہ مثال بھی آج اپنی اصل شکل میں میں آپ کےسامنے لے آیا ہوں شکریہ آپ کی تالیوں کا ۔ اگر ہم اپنے ماحول کو صاف رکھیں تو ماحول خوشگوار ہونے کیساتھ ساتھ ہمارے مزاج کا موسم بھی خوشگوار رہے گا اور اس کا مثبت اثر ہم سے جڑے لوگوں اور ان کے ہمارے ساتھ اور آگے ان سے جڑے لوگوں کیساتھ رویوں پر بھی پڑتا ہے ۔اگر آپ دفتر یا گھر میں کسی کو جھڑک دیں گے تو اس شخص میں اگر آپ کو جواب دینے کی ہمت نہیں احترام یا باعث مجبوری تو وہ آگے اپنے ماتحتوں سے بھی اسی رویے سے پیش اے گا اور ایک سلسلہ چل پڑے گا اب بجائے مسئلہ حل ہونے کہ مسائل میں تبدیل ہوجائے گا اور سب کا دن بڑا گزرے گا تو بات کرتے ہوئے کسی مسئلہ کو حل کرتے ہوئے اسے افھام و تفہیم سے حل کریں بےشک اگر کسی کی غلطی ہو اسے پہلے سن ہیں پورا موقع دیں اور پھر دانشمندی سے فیصلہ کریں کہ بات سمجھ میں آ جائے اور کسی کی دل ازاری بھی نا ہو مجھے یہاں ایک شاعر کا واقع یاد آگیا ” رسولِ خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدنی دور میں کسی گستاخ شاعر نے نبی کریؐم کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے ۔ اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پھینک دیا ۔

    شاندار بخاری
    شاندار بخاری

    سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا ” اس کی زبان کاٹ دو "

    تاریخ لرز گئی ، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا. کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمار داری کرتا تھا اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا ۔

    بعض صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللی علیہ وآلہ وسلم، میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟

    حضور صلی اللی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں ، تم نہیں

    تب رسولِ خدا صلی اللی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو ، حضرت علی علیہ السلام بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے اور حضرت قنبر سے کہ کہ میرا اونٹ لے کر آئیے اونٹ آیا مولا نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا ، پھر فرمایا تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ ، حضرت علی علیہ السلام نے تو رسول صلی اللی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کیی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ نے فرمایا تھا زبان کاٹ دو ، علی علیہ السلام نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا حضور صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا علی علیہ السلام میری بات سمجھ گئے افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی ۔ وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو علی علیہ السلام نے تو کاٹی ہی نہیں اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کررہا ہے پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں چومنے لگتا ہے ۔ جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے حضور صلی اللہ  علیہ وآلہ وسلم آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں اور یوں ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام نے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا "

    ‘ زندگی لفظوں کی شطرنج ہے ‘ ابنِ صفی نے زندگی کی عملی تفسیر پانچ لفظوں میں بیان کردی تھی سارا کھیل ہی لفظوں کا ہے پہلی بازی سے آخری چال تک نیکی بدی ،  دِن رات ، روشنی تاریکی کی طرح لفظوں کے سفید و سیاہ مُہرے اپنی مثبت اور منفی چالوں کے ساتھ ہمارے اندر اور ہمارے باہر ہمیں مضبوط یا کم زور بنارہے ہیں ۔ شاطر کھلاڑیوں کو علم ہوتا ہے کہ کب کون سی چال چلنی ہے اور اناڑی سوچتے رہ جاتے ہیں ۔ ’’ہاں‘‘  یا  ’’نہیں‘‘  میں اُلجھے رہتے ہیں اور بازی ہار جاتے ہیں لفظوں کی طاقت مثبت بھی ہوتی ہے اور منفی بھی ۔ دنیا کا سب سے طاقت ور منفی لفظ ’’No‘‘  ’’نہیں‘‘ ہے۔ اور سب سے طاقتور مثبت لفظ ’’Yes‘‘  ’’ہاں‘‘ ہے ۔ ہمارے اطراف کا ماحول اگر اچھا ہوتا ہے اور ہم شروع سے اچھی باتیں سنتے اور اچھے رویّے دیکھتے آتے ہیں تو شعور سنبھالنے کے ساتھ ہم لاشعوری طور پر زندگی کے اچھے راستوں پر چلنا شروع کردیتے ہیں، لیکن اگر ہم نے بچپن سے ہی بُری زبان اور گالی گلوچ سنا ہو اور اپنے بڑوں کو ہمیشہ آپس میں لڑتے جھگڑتے دیکھا ہو اور ہمارے چاروں طرف ہر چھوٹا بڑا اپنی اپنی زبان کے تیروں بھالوں اور تلواروں سے ہر کسی کو مجروح کرتا ہوا ملا ہو تو بچپن، لڑکپن اور نوجوانی کے بار بار کے سُنے ہوئے منفی الفاظ اور برتے ہوئے کسیلے رویّے ہمارے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے پیوست ہوجاتے ہیں اور ہم اپنے آپ اور اپنے ماحول کو بدلنے کے بجائے، سنوارنے کی بجائے معاشرے کے اُسی اُلٹے گھومنے والے منفی نظام / پہیے کا حصّہ بن جاتے ہیں سوچے سمجھے بِنا جو بات کی جاتی ہے، اس میں اکثر اوقات ایسے لفظ، ایسے جُملے شامل ہوجاتے ہینَ جو سامع کا دل دُکھا دیتے ہیں یا اسے پسند نہیں آتے۔ اسی لیے دنیا کے ہر مذہب، ہر تہذیب، ہر قوم، ہر نسل کے دانا اور بزرگ یہی کہتے آئے ہیں کہ ’’ پہلے تولو، پھر بولو ‘‘ اور یہ کہ ’’ جوں جوں دانائی بڑھتی ہے، گفتگو کم ہوتی جاتی ہے۔‘‘ اور یہ کہ ’’جو زیادہ بولتا ہے وہ اپنے راز کھولتا ہے ۔ اور جو اپنے راز کھولتا ہے وہ اپنے ارادوں میں ناکام ہوتا ہے ‘‘ اور یہ کہ ’’ تلوار کا گھاؤ بھر سکتا ہے ، زبان کا گھاؤ نہیں بھرسکتا ‘‘ اور اسی نوعیت کی ہزاروں حکمت و فراست سے بھرپور باتیں ۔

    بولے گئے اور لکھے گئے لفظ دُنیا کے ہر خطّے کے ہر انسان کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر کرتے ہیں۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ہمارا، ایک دوسرے سے رابطہ، بات چیت، گفتگو یا تحریروں سے رہتا ہے۔ ڈھائی تین سال کی عمر سے بچّے کو بولنا اور پڑھنا سکھایا جاتا ہے، حرف سے لفظ اور الفاظ سے جملوں تک۔ پیار، محبت ، توجہ اور خیال سے بچّے کو ایک ایک لفظ سکھا کر بولنا سکھایا جاتا ہے۔ بچّے کا دماغ، سادہ سلیٹ کی طرح ہوتا ہے۔ وہ جس زبان میں جو الفاظ سنتا ہے، وہ اُس کے دماغ میں محفوظ ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ چرچل کی بات یاد آئی کہ نازیبا الفاظ نگل لینے سے آج تک کسی کا معدہ خراب نہیں ہوا ۔ شیریں کلامی سے دُنیا مُسخّر ہوجاتی ہے اور بد زبانی سے سب بیزار ہوجاتے ہیں ۔

    اس کیساتھ مجھے دو بہت ہی دلچسپ اقوال یاد آ رہے ہیں ،

    1۔ ہمارسوچ ہمارے الفاظ بن جاتے ہین ، ہمارے الفاظ ہماری بات ، ہماری بات ہمارا عمل اور ہمارا عمل ہمارا کردار بن کر سامنے آتا ہے ۔

    2۔ کوئی بات کہنی ہو تو اسے سب سے پہلے ان تین دروازوں سے گزاری ۔۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ کیا اس بات کے کرنے کی ضرورت ہے ؟ کیا یہ بات اس بات سے کوئی مثبت رد عمل ہوگا ؟ اگر نہیں تو پھر پاکستان میں ایک دور میں جب ٹیلیفون کمپینوں کے اشتہارات کی بھرمار تھی تو ہر روز ایک دوسرے کے مقابلے میں کم سے کم ریٹ کے اعلان ہوتے تھے جس سے تنگ آ کر اس معاملے کو ختم کرنے کیلئیے ایک کمپنی نے کیا ہی زبردست اعلان / اشتہار بنایا

     ‘ اس سے سستی ۔۔  صرف خاموشی ‘

    آخر میں اتنا کہوں گا کہ منفی لفظ کانٹوں کی مانند ہوتے ہیں اور کسی کے راستے میں یوں کانٹے نا بچھاہین کہ کہیں اچانک وقت بدلے اور آپ کو اسی راستے پر چل کر اس شخص کے پاس جانا پڑے اور آپ جا نہ سکیں ۔

    ناطق ؔ لکھنوی نے کیا خوب کہا تھا

    کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے