٫٫ زندگی نامہ ،، شعری مجموعہ انیل چوہان کا شعری مجموعہ ہے ۔ جن کا تعلق منڈی ٹاؤن بھکر شہر سے ہے ۔ عرصہ دراز سے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ زیرِ نظر شعری مجموعہ ٫٫ زندگی نامہ ،، جس کا آغاز حسبِ معمول حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے ۔
کائنات کے مالک و رازق اللّٰہ پاک کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
نہ کوئی ابتدا تیری ، نہ کوئی انتہا یا ربّ
تیری ہی ذاتِ برحق لائقِ حمد و ثنا یا ربّ
خاتم النبی حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذاتِ اقدس کی محبّت میں اللّٰہ پاک نے کائنات کو خلق کیا کائنات میں سب کچھ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وجہ سے وجود میں آیا خاتم النبی حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مثال بھلا کون دے سکتا ہے ۔
نعتِ رسولِ مقبول صہ کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
علامت ہے کوئی ایسی نہ کوئی استعارہ ہے
کمالِ حُسن ہے سیرت بھی ، صورت آپ کی آقاؐ
حضرت امام حسین علیہ السلام حجتِ خدا ۔
یزید کو انکارِ بیعت کر کے اللّٰہ پاک کی کائنات کو غرق ہونے سے بچا لیا ۔ انیل چوہان نے کیا خوب صورت انداز میں سلام پیش کیا ہے ۔ مطلع ملاحظہ فرمائیں ۔
عظمت و کردار کا چہرہ حسینؑ
جرآتِ اظہار کا رستہ حسینؑ
یہ وہ حقائق ہیں جو تھے اور ہیں اور رہیں گے کوئی بھی انسان زندگی میں ان سے انکار نہیں کر سکتا یہ انسانیت کی زندگی میں روشنی پیدا کرتے ہیں ۔ حقیقت ایک آئینہ ہے سب کو دکھائی تو دیتا ہے مگر آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔
فطری جذبے فطری شاعر ہی بیان کر سکتا ہے ۔ انیل چوہان ایک فطری شاعر ہیں ان کے اشعار میں ۔
روانی دریا جیسی
گہرائی سُمندر جیسی
اُمید صبح جیسی
حقیقت سورج جیسی
اصل میں زندگی نامہ میں زندگی کا سفر نامہ نظر آتا ہے جو ہر کسی کو اپنا اپنا سا لگتا ہے ۔ ماضی حال اور مستقبل مگر حال کی صورتِ حال سے کون آگاہ نہیں ؟
اسی پسِ منظر میں ایک شعر ملاحظہ فرمائیں جو کہ اپنے اندر ایک جامع مضمون رکھتا ہے بالکل سورج کی طرح روشن یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ زندگی نامہ ہر ایک کی زندگی کی کہانی پیش کرتا ہے ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
یہ کہتے ہیں غریبوں کے یہاں جھُلسے ہوئے چہرے
یقیناً کھیلتا ہے زندگی کے جام سے کوئی
ڈاکٹر طارق ہاشمی ( شعبہ اردو ، جی سی یونیورسٹی ، فیصل آباد ) لکھتے ہیں ۔ ان کا تعلق جس سر زمین سے ہے، ترقی پسندی، جدو جہد اور خوئے احتجاج اس کے خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ یہی وہ صفات ہیں جو ٫٫ زندگی نامہ ،، کے صفحات پر بھی تاباں دکھائی دیتی ہیں ۔ انیل چوہان کی تخلیقات میں زندگی کے متنوع رنگ نظر آتے ہیں جو سماج کے گوناگوں مسائل سے لے کر ایک فرد کے جمالیاتی ذوق تک کا احاطہ کرتے ہیں ۔ وہ جذبوں کی صداقت پر جتنا ایمان رکھتے ہیں، اتنا ہی ان کے اظہار کے سلیقے کا دھیان رکھتے ہیں ۔ ( بیک فلیپ )
اقبال حسین لکھتے ہیں ۔ انیل چوہان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ مردہ لفظوں کو زیست افزا بناتے ہوئے مشکل سے مشکل خیال کو سہولت اور خوب صورتی سے شعری پیکر عطا کرتا ہے ۔ اس کے ہاں دھیمے آہنگ کی حامل تلخ حقیقتوں کے جلو میں سانس لیتی شاعری جس کے اکثر اشعار پُرطرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر والی بات کا گمان گزرتا ہے ۔ تنوع اس کی شاعری کا خاصہ ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ انیل چوہان شعری کائنات ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا گلشن ہے ۔ جس میں مختلف رنگوں کے انگنت پھول خوشبو بدوش نظارہ زا ہیں ۔ ایک ہی شعری مجموعہ میں اتنا تنوع اور بوقلمونی کسی اعجاز سے کم نہیں ۔ ( بیک ٹائٹل )
انیل چوہان محبّت کے آئینہ میں ایک پُروقار شخصیت کے حامل انسان ہیں ۔ اخلاقیات ، احساسات ، امن سے محبّت ظلم سے نفرت اندر اور باہر ایک جیسی کیفیات نظر آتی ہیں ۔ منفرد لب و لہجے میں کہی گئی نظمیں بھی اپنے اندر بھرپور پیغامات کے ساتھ ساتھ اور پُرکشش نظر آتی ہیں جو قابل ذکر نظمیں ہیں ۔ ان میں نظم ماں جس کو پڑھنے سے قاری پر ایک رکعت طاری ہو جاتی ہے ۔ انتظار ، جھوٹ ، نظم موت یہ تو انسان کو حیرتوں میں ڈال دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور غور و فکر کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ آخر میں انیل چوہان سے مکالمہ وہ بھی ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں اپنے اور ادب کے حوالے سے کیا کہا ہے ۔ اس سے بھی قاری بھر پور لطف اندوز ہوتا ہے ۔ دُعا ہے اللّٰہ پاک ادب کی اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
رسالت مآب ﷺ انتہائی نظیف و مطہر طبیعت کے مالک تھے۔ آپؐ نے جہاں اپنی تعلیمات سے لوگوں کو شرک ،بے یقینی،تعصب اور تکبر جیسی باطنی بیماریوں سے نجات بخشی وہیں آپؐ نے انہیں جسمانی کدروتوں سے مصفا کرنے کی بھی راہ دکھائی۔ آپؐ نے جسم ،گھر ،ماحول حتیٰ کے اپنی سواری کو بھی چمکا کر رکھنے کی تعلیم دی ۔آپؐ نے امت پہ واضح کیا کہ دین اسلام کی بنیاد نظافت پر رکھی گئی ہے لہذا جو کوئی باطنی پاکیزگی کا خواہاں ہے اسے ظاہری طہارت کا بھی بھر پورا خیال رکھنا چاہیے ۔
آپؐ کا معمول تھا کہ آپؐ کھانے سے قبل اور کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ہاتھ دھوتے۔آپؐ کھانا تین انگلیوں سے کھاتے ،اپنی طرف سے کھاتے اور انگلیوں کو چاٹ لیتے ۔ آپؐ اصحاب کو فرماتے کہ سو کر اٹھنے کے بعد کسی برتن میں دھوئے بغیر ہاتھ نہ ڈالیں ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ رات بھر تمھارا ہاتھ کہاں کہاں مس ہوا ہو۔ آپؐ سونے سے قبل بھی وضو کرتے تھے۔آپؐ احرام باندھنے سے قبل بھی غسل فرماتے۔
جو شخص ایمان قبول کرتا آپؐ اسے غسل اور اچھے لباس کی ترغیب دیتے گویا آپؐ انہیں قبول اسلام کے ساتھ ہی نفاست پسندی اور طہارت شعاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تربیت فرماتے تھے۔آپؐ نے انصار کی تعریف فرمائی جو رفع حاجت کے بعد آب دست لیتے تھے۔آپؐ اصحاب کو جنابت کے غسل میں خوب مبالغہ کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔
آپؐ ہمیشہ ایسا لباس زیب تن فرماتے جو دیکھنے میں خوبصورت لگے مگر اس میں اسراف اور کبر نہ ہو ۔ آپؐ لباس میں جمال و جلال ، میانہ روی و اعتدال اور کامل و کمال غرض ہر پہلو اپنے لباس میں ملحوظ رکھتے ۔ ہجرت مدینہ کے سفر میں جب کئی دن کی مسافت کے بعد آپؐ مدینہ داخل ہونے لگے تو اپنے لیے اور جناب صدیقؓ کے لیے دو جوڑے منگوائے اور انہیں زیب تن فرمانے کے بعد مدینہ شریف داخل ہوئے۔آپؐ کا ارشاد ہے
” اپنے ملبوسات اور سواریوں کو صاف رکھو تمہارا حلیہ اور ظاہری شکل ایسی ہونے چاہیے کہ جب تم دوسروں سے ملو تو وہ تمھاری عزت کریں ۔” ( جامع الصغیر)
آپؐ سر پر درمیانے سائز کا سفید عمامہ باندھتے ۔ عمامہ عربوں کا تاج شمار ہوتا۔آپؐ سفید رنگ کو زیادہ پسند فرماتے تھے مگر دیگر رنگوں کے کپڑے بھی پہنتے تھے۔آپؐ کا لباس ہمیشہ اجلا اور صاف ستھرا ہوتا۔
حکماء کے نزدیک صاف لباس صفائے نفس کی علامت ہے اور بعضوں نے تو یہ لطیف نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ جس کا کپڑا میلا ہوگا اس کا نفس بھی مکدر ہوگا ۔ ایسے مکدر مزاج لوگوں کا گھر ،بیٹھک ،لائبریری الغرض پوری زندگی بے ترتیب و منتشر ہوتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس نظیف لوگوں کے مشاغل اور اوقات کار منظم ہوتے ہیں۔ صحیح مسلم میں تو آپؐ کاارشاد یہ ملتا ہے کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے جب کہ ترمذی کے الفاظ یوں ہیں:
ان اللہ نظیف یحب النظافہ یعنی اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے
ظاہر ہے جمال کہتے ہی اسے ہیں جس میں نظافت کمال درجے کی ہو۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ خوب صورتی اختیار کرو تاکہ لوگوں میں ممتاز نظر آؤ ۔ جمال اختیار کرنے کا پہلا مرحلہ جسم کو پاک صاف رکھنا ہے اور جس کے لیے غسل لازم ٹھہرایا گیا ہے ۔آپؐ پانی کی شدید کمی کے باوجود اکثر غسل فرماتے تھے اور اصحاب کو تلقین کرتے تھے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ غسل مومن کے لیے ضروری ہے۔( بخاری)۔ اور یہ کم از کم مقدار ہے ورنہ ہمارے اصحاب پانی کی شدید قلت کے باوجود روزانہ غسل فرماتے تھے ۔ جناب عثمانؓ بن عفان کے بارے میں عائض القرنی نے لکھا ہے کہ آپؐ روزانہ نہاتے تھے۔( لا تحزن)
ایک صحابی نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے پسند ہے کہ میرا لباس اجلا ہو ،میرے سر پر تیل لگا ہو، میرے جوتے کے تسمے بھی نئے ہوں حتیٰ کہ میری سواری کا کوڑا بھی عمدہ ہو تو کیا یہ تکبر تو نہیں ؟ آپؐ نے فرمایا ،
لا ذاک الجمال – نہیں یہ تو جمال و زینت ہے۔( مسند احمد)
آپؐ نے اپنے ایک صحابی کو مال دار ہونے کے باوجود بھی صاف کپڑوں میں ملبوس نہ دیکھ کر فرمایا کہ تمھاری مالی حالت کیسی ہے تو انہوں نے اپنی خوش حالی کا ذکر کیا۔ جس پر آپؐ نے فرمایا ، اللہ کے انعام و احسان کا اثر تمھارے اوپر بھی نظر آنا چاہئے ۔( شامی)
آپؐ سر کے بالوں میں تیل لگاتے اور ٹوپی کا استعمال کرتے تاکہ تیل عمامہ شریف پر ظاہر نہ ہو۔ آپؐ بالوں کو کنگھی کرتے، انہیں سنوارتے اور مانگ میں خوشبو لگاتے ۔ ریش مبارک کو طول و عرض سے درست فرماتے اس کی تراش خراش کا خیال رکھتے اور کوئی ایک بال مبارک بھی اوپر نیچے زائد نہ ہوتا۔ آپؐ نے پانچ چیزوں کو انسان کی فطرت قرار دیا اور ان میں سے ہر چیز کا تعلق صفائی سے ہے ۔ ناخن کاٹنا ، مونچھیں کاٹنا ، زیر ناف بال صاف کرنا، ختنہ کرنا اور بغلوں کے بال صاف کرنا۔( صحیح ابن حبان)
امام غزالیؒ نے کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ سفر ہو یا حضر کنگھی کبھی آپؐ سے جدا نہ ہوئی۔پراگندہ۔بال اور پراگندہ جسم والے کو آپؐ نے ناپسند فرمایا ۔آپؐ نے فرمایا جس نے بال رکھے وہ ان کی تکریم کرے انہیں دھوئے ، کنگھی کرے اور خوش نما بنائے ۔جناب انس کے بیان کے مطابق آپؐ نے سفر و حضر میں درج ذیل چیزوں کو کبھی نہ چھوڑا ۔ آئینہ، سرمہ دانی،کنگھا ،مسواک ، کھجانے کی لکڑی جب کہ اماں عائشہ ؓ کی روایت میں درج ذیل چیزوں کا ذکر ملتا ہے۔ آئینہ ، سرمہ دانی ، کنگھی ، مسواک اور تیل ۔اماں عائشہؓ تو یہاں تک فرماتی ہیں کہ آپؐ سونے سے قبل بھی بال سنوارتے تاکہ سونے کی حالت بھی اچھی لگے ۔آپؐ اپنے بالوں کو گرد سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض اوقات بالوں کو چپکا دیتے تھے۔
آپؐ آئینہ میں خود کو دیکھتے اور دعا فرماتے کہ الٰہی تونے مجھے خوب صورت بنایا ہے میرے اخلاق کو سنوار دے۔ آپؐ نے شیطان کی طرح بکھرے ہوئے بالوں اور الجھی ہوئی داڑھی کے ساتھ عوامی مقامات پر داخل ہونے سے منع فرمایا ۔( ترمذی)
آج کی جدید میڈیکل سائنس دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیتی ہے ۔ صبح و شام دو وقت دانتوں کی صفائی کو از حد ضروری قرار دیتی ہے۔لیکن آج سے پندرہ سو سال قبل آقا کریم ﷺ پانچوں نمازوں کے ساتھ دانت صاف کرنے کی تلقین کرتے تھے۔آپؐ مسواک کو منہ کی پاکیزگی اور الللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بتاتے تھے ۔آپؐ کا ارشاد ہے کہ اگر امت پر بوجھ نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے مسواک کو واجب کر دیتا ۔( بخاری)
دانتوں کی صفائی کا آپؐ اس قدر اہتمام فرماتے کہ صحابہؓ اور امہات المومنینؓ کو حیرت ہوتی ۔ اماں عائشہؓ نے نے ایک بار پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ جبریل ؑنے مجھے مسواک کے بارے میں اتنی تاکید کی ہے کہ میں سمجھا کہ مسوڑھوں کا ہی خاتمہ نہ ہو جائے ۔ آپؐ کا دہن مبارک نہایت صاف ستھرا اور خوشبودار تھا ۔ آپؐ کے دانتوں کی سفیدی کو برف سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آپؐ اس کی صفائی کے لیے مسواک اور کلی کا اہتمام فرماتے تھے ۔ آپؐ ناک مبارک کو بھی اچھی طرح جھاڑتے تھے ۔
اماں عائشہؓ کے بقول دانتوں کی صفائی کا یہ عالم تھا کہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کے ساتھ ساتھ جب کسی غزوہ پر جاتے تو مسواک کر کے جاتے ،جب گھر پلٹتے تو مسواک کرتے ، اصحاب کی محفل میں جانے لگتے تو مسواک کرتے ۔ایک بار اس قدر اہتمام کا پوچھا گیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا میں چاہتا ہوں اتنے دانت صاف کروں کہ مسوڑھوں سے خون آنے لگے اور سیرت حلبیہ میں آیا ہے کہ بعض اوقات آپؐ کے مسوڑھے اس قدر صاف کرنے سے چھیل جاتے تھے ۔
آپؐ نے مسواک رکھنے کے لیے ایک تھیلا رکھا ہوا تھا تاکہ وہ صاف و محفوظ رہے ۔( دین فطرت از عرفان الحق)۔آپؐ کھانا کھانے کے بعد خلال کرنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔( سنن الدارمی)
آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتے ان لوگوں سے دور رہتے ہیں جو ناخن تراشنے ،مونچھیں کٹوانے اور میل اتارنے اور مسواک کرنے میں سستی کرتے ہیں۔( تنبیہ الغافلین)
آپؐ نے لہسن پیاز وغیرہ کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے کہ ان کی بدبو سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ آپؐ نے ان چیزوں کے تناول نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے صحابی کو فرمایا
” الی انا جی من لا تناجی ” – یعنی بلاشبہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے سرگوشی نہیں کرتے ۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کو بدبو سے نفرت ہے ۔
آپؐ کو خوشبو بہت زیادہ پسند تھی ۔۔آپؐ کے جسم اطہر کی خوشبو سے بڑھ کر کائنات میں کوئی خوشبو نہیں تھی۔بلکہ آپؐ کا تو پسینہ مبارک عطر میں ملا کر دلہنوں کو تحفہ میں دیا جاتا تھا ۔ آپؐ کے جسم اقدس سے کستوری سے بڑھ کر خوشبو آتی تھی۔آپؐ جس راستے سے گزر جاتے تھے صحابہ آپؐ کی خوشبو سے آپؐ کو تلاش کر لیتے تھے ۔( مسند ابو یعلیٰ)۔لیکن اس سب کے باوجود آپؐ خوشبو کا استعمال کثرت سے کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عود کی خوشبو استعمال فرماتے جو سب سے مہنگی ہوتی اور آپؐ اس کے ساتھ کافور ملا لیتے جس سے اس کی مہک اور بڑھ جاتی۔( صحیح مسلم)
خوشبو سے آپؐ کو اس قدر محبت تھی کہ صحابہ فرماتے ہیں آپؐ خوشبو کو تحفہ میں دیتے اور خوشبو کا تحفہ کبھی رد نہ فرماتے ۔( بخاری) آپؐ غسل کے بعد ، وضو کے بعد ، احرام پہنتے وقت، قبل از طواف اور دیگر کئی مواقع پر خوشبو کا استعمال فرماتے ۔آپؐ سر کے بالوں کی مانگ میں بھی خوشبو استعمال فرماتے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ تمھاری دنیا سے مجھے تین چیزیں مرغوب ہیں عورت،خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔
آپؐ نے ایک خاتون کو گھر آباد رکھنے کے لیے خوشبو کے استعمال کا مشورہ بھی دیا۔جب اماں عائشہؓ سے ان کے بھانجے عروہ بن زبیر نے پوچھا کہ آپؐ کون سی خوشبو استعمال فرماتے تھے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ” اعلیٰ خوشبو”۔
آپؐ ناخن کاٹنے کا حکم دیتے اور موئے زیر ناف صاف کرنے کی تاکید فرماتے اور آپؐ نے ان کی آخری حد چالیس دن بتائی اس کے بعد وہ شخص گنہگار ٹھہرتا ہے ۔
آپؐ عوامی آمد و رفت کی جگہوں ، راستوں پر ، پانی میں اور سائے میں بول و براز کرنے سے منع کرتے ۔آپؐ لباس ، رہن سہن کی جگہ کو صاف رکھنے کی تاکید فرماتے ۔ آپؐ سفر کے جانوروں کو بھی صاف رکھنے کی تاکید کرتے۔ آپؐ گھروں کے سامنے والی گلی کے حصوں کو صاف رکھنا بھی پسند فرماتے۔( شفا شریف) آپؐ کو قبر میں رخنہ نظر آجاتا تو بھی اسے بند کرنے اور ہموار کرنے کا حکم دیتے ۔
آپؐ مسجد کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیتے اور جناب تمیم داری ؓکے اس غلام کو نہ صرف دعائیں دیں جنہوں نے مسجد کو چراغوں سے آراستہ کیا تھا بلکہ آپؐ نے فرمایا اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسے اس کے عقد میں دے دیتا ۔آپؐ مسجد صاف کرنے والی حبشی خاتون کی وفات کی خبر پاکر صحابہ پر خفا ہوئے اور اس خاتون کی قبر پر جنازہ پڑھا اور اس کے لیے دعا فرمائی ۔( المعجم الاوسط)
مختصر یہ کہ آپؐ دنیا کے سب سے بڑھ کر نظیف و طیب انسان تھے۔ آپؐ کی نفاست پسندی اور نظافت شعاری آج مسلمان قوم کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ دنیا کے پچاس صاف ترین ملکوں میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں ہے۔ ہمارے محلے ، گلیاں، پارک اور بازار گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ ہمارے گھر ، اسکول ،مدارس اور پبلک مقامات اس قابل نہیں کہ ہم دنیا کی مہذب ،صفائی پسند قوموں کو فخر سے دکھا سکیں۔ ایریل شیرون کو بال ٹھاکرے نے دورہ بھارت کے دوران مسلمانوں کی آبادی کے استفسار پر کہا تھا کہ جہاں گندگی دیکھو وہاں مسلمان آباد ہوں گے۔ جسمانی صفائی میں اب بھی مسلمان دنیا کی سب سے صفائی پسند قوم ہے مگر جہاں گلی محلوں چوک بازاروں کی بات آتی ہے تو ہم میں civic sense معلوم نہیں کیوں ختم ہو جاتی یے۔سیرت النبی ﷺاور نبوی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے پیغمبر ﷺ کی حیات طیبہ پر عمل پیرا ہوکر دنیا کو باور کرائیں کی ہم سے بڑھ کر صفائی پسند قوم کوئی نہیں۔
فرہاد احمد فگار، مظفرآباد شام ڈھل رہی تھی۔ مظفرآباد کی فضا میں خزاں کے پہلے جھونکے نے سردی کی آمد کا اعلان کر دیا تھا۔ پہاڑوں کے سائے لمبے ہو رہے تھے اور گوجرہ کے بازار میں معمول کی چہل پہل تھی۔ سیف پلازہ کے پاس ایک پرانی ریڑھی کے گرد ہلکی بھاپ اٹھ رہی تھی۔ یخنی کی مہک سے فضا معطر تھی۔ ریڑھی کے پیچھے ایک بوڑھا شخص جس کی داڑھی میں وقت نے چاندی کے دھاگے بُنے تھے برتن کے کنارے چمچ ہلاتا جا رہا تھا۔ چہرے پر اطمینان کی وہ مسکراہٹ تھی جو محنت کشوں کی پہچان ہوتی ہے۔ "چاچا! یخنی گرم ہے؟” میں نے پوچھا۔ چاچا نے پیالہ بھرتے ہوئے کہا، "گرم؟ ہائے پتر اتنی گرم کہ سردی کو بھی پسینہ آ جائے!” میں نے پیالہ لیا۔ ایک چمچ بھاپ اُڑتی یخنی کا حلق سے اترنا ایسا لگا جیسے جسم میں زندگی کی لہر دوڑ گئی ہو۔ جب میں نے پیسے بڑھائے تو وہ ہنس دیا وہی اس کا ایک مخصوص جملہ۔۔۔۔۔۔۔ "رہنڑ دیو نا جی… دعا کرو بس رزق حلال نصیب رہے۔” میں اکثر سوچتا یہ بزرگ شخص آخر کس مٹی کا بنا ہے؟ کئی برس سے دیکھ رہا ہوں۔ کبھی بارش، کبھی جاڑا، کبھی دھوپ۔ وہی اس کی ریڑھی، وہی اس کی مسکراہٹ کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔ سردیوں میں مرغ یخنی، گرمیوں میں تربوز بیچتا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا۔ "چاچا! کبھی آرام نہیں کرتے ہو کیا؟”
ہنس کر کہنے لگا، “آرام؟ وہ تو قبر میں ملے گا پتر… جب تک سانس ہے روزی کمانی ہے۔” اس کے الفاظ ہوا میں اترے تو جیسے کوئی درس مل گیا۔ منظر بدل جاتا ہے۔ چند روز بعد میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے امتحانی مرکز میں تھا۔ طلبہ پرچے دے رہے تھے اور صحن میں ایک اور مانوس منظر تھا۔ ایک نوجوان ہاتھ میں تھرمس لیے قہوہ بیچ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی محنت کی چمک تھی۔ "قہوہ گرم! صاحب؟” اس نے نرمی سے پوچھا۔ "ہاں بھائی، ذرا ایک پیالی دینا۔” قہوہ پیتے ہوئے میں نے پوچھا، "روز آتے ہو یہاں؟” "جی سر، جب بھی امتحان ہوتا ہے۔” مسکراہٹ میں وقار تھا اور آنکھوں میں روشنی۔ "نام کیا ہے تمھارا؟” میرے پوچھنے پر اس نے جواب دیا۔ "نعیم احمد! گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج میں بی ایس اردو کر رہا ہوں۔” میں چونک گیا۔ "ارے واہ! خود بھی طالب علم ہو اور یہاں قہوہ بیچتے ہو؟” "جی سر! پڑھائی کا خرچ خود اٹھاتا ہوں۔ محنت کا عادی ہوں۔” یہ سن کر دل میں احترام کی ایک لہر اٹھی۔ کچھ روز بعد امتحان کے وقفے میں نعیم کے ساتھ بیٹھک ہوئی۔ بات ادب و شاعری پر نکلی تو نوجوان نے ایسا کلام پڑھا کہ لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ آواز میں خلوص تھا، تاثر میں جذبہ۔
پھر اس نے کہا: "یہ غزل مصطفیٰ جازب صاحب کی ہے، میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔” میں نے دل ہی دل میں سوچا یہ نوجوان صرف قہوہ فروش ہی نہیں، عملی درس بھی ہے۔ محنت، ادب اور خودداری کا درس۔ اس رات جب میں گھر لوٹا تو ذہن میں دو چہرے روشن تھے۔ ایک وہ بوڑھا جو سردیوں میں یخنی بیچتا ہے اور گرمیوں میں تربوز۔ دوسرا وہ نوجوان جو قہوہ بیچتے ہوئے خواب سینچتا ہے۔ ایک زندگی کی شام میں بھی جگمگا رہا ہے دوسرا جوانی کی دوپہر میں پسینے کو عزت کا زیور بنائے ہوئے ہے۔ میں نے حقیقت کے قریب ہو کر لکھا: "یہ دونوں کردار مظفرآباد کی مٹی کے وہ جوہر ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محنت کبھی بوڑھی نہیں ہوتی اور عزت کبھی سستی نہیں ہوتی۔” جو ہاتھ کام میں لگے رہیں وہی دعا کے قابل ہیں۔” اس لمحے مجھے لگا کہ اگر کوئی یخنی کی خوشبو میں دعا سن سکتا ہےتو وہ شاید ان دونوں کے دلوں سے اٹھنے والی خاموش دعا ہے۔ "اے رب! رزق حلال دے اور حوصلہ قائم رکھ۔ آمین!”
تحریر: محمد ذیشان بٹ کہتے ہیں زندگی ایک دسترخوان کی طرح ہوتی ہے، جس پر طرح طرح کے ذائقے، خوشبوئیں اور رنگ بکھرے ہوتے ہیں۔ کوئی لقمہ زبان کو مزہ دیتا ہے، کوئی صحت بناتا ہے، کوئی وقتی ضرورت پوری کرتا ہے اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو پورا دسترخوان ہی الٹ پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔ مشہور خلیفہ ہارون رشید کے صاحبزادے مامون رشید کا ایک قول اسی حقیقت کی سادہ مگر گہری تصویر پیش کرتا ہے کہ انسان تین قسم کے ہوتے ہیں: غذا کی مانند، دوا کی مانند اور بیماری کی مانند۔ بات بظاہر سادہ ہے مگر اگر ذرا ٹھہر کر غور کیا جائے تو یہی قول ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کا پورا ایک نقشہ کھینچ دیتا ہے۔ سب سے پہلی قسم وہ لوگ ہوتے ہیں جو غذا کی مانند ہوتے ہیں۔ غذا وہ نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ مگر عجیب بات یہ ہے کہ غذا کی اہمیت ہمیں عموماً اس وقت سمجھ آتی ہے جب وہ میسر نہ ہو۔ روز کی روٹی، دال، سبزی یا نمک… یہ سب نظر تو آتے ہیں مگر ان کی قدر کم ہی کی جاتی ہے۔ نمک کو ہی لیجیے، سالن میں دکھائی نہیں دیتا مگر ذرا سا کم ہو جائے تو پورا سالن بے ذائقہ اور ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ ہماری زندگی میں بھی کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ماں باپ، اساتذہ، بہن بھائی، شریکِ حیات، بچے اور چند مخلص دوست۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خاموشی سے ہماری زندگی کا ذائقہ درست رکھتے ہیں۔ نہ زیادہ شور، نہ زیادہ مطالبہ، بس اپنا فرض ادا کرتے رہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو سب سے زیادہ نظرانداز بھی یہی کرتے ہیں۔ ماں کی دعا، باپ کی نصیحت، استاد کی سختی، بیوی کی فکرمندی اور بچوں کی معصوم خواہشیں… یہ سب ہمیں اکثر بوجھ محسوس ہوتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں، “امی بہت ٹوکتی ہیں”، “ابو کو پرانے خیالات ہیں”، “استاد بہت سخت ہے”، “بیوی کو ہر بات پر اعتراض ہے”۔ ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہی سختی دراصل وہ مرچ ہے جو سالن کو خراب نہیں بلکہ قابلِ ہضم بناتی ہے۔ سمجھدار لوگ یہی کرتے ہیں کہ اگر مرچ زیادہ ہو جائے تو دہی ساتھ رکھ لیتے ہیں، سالن چھوڑ کر بھاگتے نہیں۔ مگر ہم جذبات میں آ کر پورا رشتہ ہی ترک کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم ان غذا جیسے لوگوں کی قدر نہیں کرتے تو آہستہ آہستہ خود کو ذہنی اور جذباتی طور پر بیمار کر لیتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہی لوگ ہمارے سامنے ہوتے ہیں مگر ہم ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ جیسے ڈاکٹر شوگر کے مریض کو میٹھا کھانے سے منع کر دیتا ہے، ویسے ہی زندگی ہمیں بعض نعمتوں سے وقتی طور پر محروم کر دیتی ہے۔ تب ہم افسوس کرتے ہیں، یادیں دہراتے ہیں اور کہتے ہیں، “کاش میں نے وقت پر سمجھ لیا ہوتا۔”
دوسری قسم کے لوگ دوا کی مانند ہوتے ہیں۔ دوا ہر وقت نہیں لی جاتی، مگر جب بیماری آ جائے تو اس کے بغیر چارہ نہیں رہتا۔ دوا کا کام مزہ دینا نہیں بلکہ شفا دینا ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ ہماری زندگی میں اس وقت آتے ہیں جب ہم خود کو الجھا چکے ہوتے ہیں۔ یہ دوست، اساتذہ، علماء، مشائخ، سینئرز یا کبھی کبھار وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جن سے ہمیں براہِ راست کبھی خاص تعلق نہ رہا ہو، مگر جن کی بات، تحریر یا ویڈیو ہمیں راستہ دکھا دیتی ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوا کو بھی مٹھاس کے پیمانے سے تولتے ہیں۔ ہمیں مشورہ چاہیے مگر ایسا جو ہمارے کانوں کو اچھا لگے۔ ہمیں اصلاح چاہیے مگر بغیر تکلیف کے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر دوائیں کڑوی ہی ہوتی ہیں۔ اگر علاج صرف میٹھی دوائیوں سے ہو جاتا تو نہ کسی کو آپریشن کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی کڑوی گولیاں ایجاد ہوتیں۔ جو لوگ ہمیں سچ بتاتے ہیں، ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں، وہ عموماً ہمیں ناگوار گزرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، “یہ تو بہت تنقید کرتا ہے”، “یہ تو دل توڑ دیتا ہے”، “یہ تو ہمیشہ منفی بات کرتا ہے”۔ حالانکہ وہ دراصل بیماری پر ہاتھ رکھ رہا ہوتا ہے۔ ایک دلچسپ طنزیہ پہلو یہ بھی ہے کہ ہم بیماری ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بیماری کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر ذہنی بیماری کو۔ جب تک معاملہ حد سے نہ گزر جائے، ہم کہتے رہتے ہیں، “میں بالکل ٹھیک ہوں”، “مجھے کسی کی ضرورت نہیں”، “میں خود سب سنبھال لوں گا”۔ پھر جب حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں تو ہمیں زبردستی دوا کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اور جیسے ہی ذرا سا سکون آتا ہے، ہم دوا چھوڑ دیتے ہیں۔ علاج ادھورا رہ جاتا ہے اور بیماری دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ تیسری قسم کے لوگ بیماری کی مانند ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی موجودگی ہی نقصان دہ ہوتی ہے۔ جیسے کوئی بیماری جسے نہ کوئی خود چاہتا ہے اور نہ ہی کسی اپنے کے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ لوگ منفی سوچ، غلط عادات اور بگاڑ کا پیکج ہوتے ہیں۔ خود بھی برباد، دوسروں کو بھی برباد کرنے پر تلے ہوئے۔ سگریٹ خود پیتے ہیں تو فخر سے کہتے ہیں، “یار ایک کش تو بنتا ہے”، برائی خود کرتے ہیں تو دوسروں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ انہیں اکیلے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔ یہ لوگ عموماً انہی کی زندگی میں جگہ بناتے ہیں جنہوں نے غذا والے اور دوا والے لوگوں کی قدر نہیں کی ہوتی۔ جب بنیادی رشتے ٹوٹ جاتے ہیں اور اصلاح کی آوازیں خاموش کر دی جاتی ہیں تو پھر بیماری خود چل کر آتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان آہستہ آہستہ معاشرے کا ناسور بن جاتا ہے۔ نہ گھر میں عزت رہتی ہے، نہ باہر اعتماد، اور نہ ہی دل میں سکون۔ اصل سوال یہاں یہ نہیں کہ ہمیں کن لوگوں سے بچنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہمیں خود کون سا انسان بننا ہے۔ ہم ساری زندگی دوسروں کو پرکھتے رہتے ہیں مگر خود کو بھول جاتے ہیں۔ سب سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان خود دوسروں کے لیے غذا کی مانند بن جائے۔ خاموش، مفید اور لازمی۔ نمک کی طرح، جو اپنا کام کر کے پہچان کھو دیتا ہے۔ نہ جتلاتا ہے، نہ شور مچاتا ہے۔ والدین جب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا، اب بچے کی زندگی ہے، تو دراصل وہ غذا والے کردار کی بہترین مثال ہوتے ہیں۔ اگر ہم غذا نہیں بن سکتے تو کم از کم دوا بن جائیں۔ کسی کی زندگی میں کڑوی مگر سچی بات کہہ دیں، کسی ٹوٹے رشتے کو جوڑنے کی کوشش کر لیں، کسی غصے کو ٹھنڈا کر دیں۔ دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دینا، ایک دوست کو غلط راستے سے واپس لے آنا، یہ سب دوا کے کام ہیں۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو کم از کم بیماری نہ بنیں۔ خود بھی بگاڑ کا شکار نہ ہوں اور دوسروں کو بھی خراب نہ کریں۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ مومن وہ ہے جو فائدہ مند ہو۔ فائدہ ہر وقت بڑا اور نمایاں نہیں ہوتا، بعض اوقات خاموش فائدہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس پورے مضمون کا خلاصہ یہی ہے کہ ہمیں غذا والے لوگوں کی قدر کرنی ہے، دوا والے لوگوں کی بات سننی ہے، بیماری والے لوگوں سے بچنا ہے اور سب سے بڑھ کر خود کو ایسا انسان بنانا ہے جس کی وجہ سے کسی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو، مشکل نہیں۔ آخر میں یہی عرض ہے کہ تجربہ شرط ہے، سرسری نہیں بلکہ مکمل غور کریں۔ زندگی کے دسترخوان پر کون سا ذائقہ کم ہو رہا ہے اور کون سا زیادہ، اس کا اندازہ وقت پر ہو جائے تو بہت سی بیماریاں جنم ہی نہیں لیتی
(24 نومبر یوم ییدائیش پر خصوصی تحریر) ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
اردو شاعری کی تاریخ میں وہ خواتین شاعرہ بہت کم ہیں جنہوں نے کم وقت میں اپنی پہچان اس شدت سے قائم کی کہ ان کے بعد آنے والی نسلیں انہیں ایک عہد کی علامت سمجھنے لگیں۔ پروین شاکر انہی میں سے ایک بہترین شاعرہ تھیں۔ وہ صرف شاعرہ ہی نہیں تھیں، بلکہ ایک پوری سماجی، فکری اور نسائی روایت کی نئی تشکیل کا ذریعہ بھی بنیں۔ ان کی شاعری نے اردو غزل کے لہجے کو نئی سمت دی اور عورت کی داخلی خیالات کو پہلی بار اس کھلے پن، نرمی اور بے ساختگی کے ساتھ بیان کیا جس کی مثال جدید اردو شاعری میں کم ملتی ہے۔ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں ایک علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب خود بھی شاعر تھے، جس نے پرویز شاکر کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد نئے وطن مملکت خداداد پاکستان میں شناخت کی تلاش، شہری زندگی کی بنتی بگڑتی صورت حال اور متوسط طبقے کے مسائل یہ ساری فضا پروین کی شخصیت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں بھی رچی بسی نظر آتی ہے۔ ان کی تعلیم نہایت متنوع رہی۔ انگریزی ادب، لسانیات، انتظامی علوم اور بعد میں ہارورڈ سے ماسٹرز کی ڈگری یہ سفر بتاتا ہے کہ وہ محض جذبے کی ہی شاعرہ نہیں تھیں بلکہ ایک گہری فکری بنیاد بھی رکھتی تھیں۔ سن ستر کی دہائی اردو غزل کے لیے ایک نئے تجرباتی دور کا آغاز تھی۔ فیض، جمیل الدین عالی، جون ایلیا، احمد مشتاق اور قتیل شفائی جیسے شعرا اپنی اپنی آوازوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس منظرنامے میں ایک نئی نوجوان شاعرہ کا آنا آسان نہیں تھا۔ لیکن ان کی کتاب خوشبو (1976) نے منظر ہی بدل دیا۔ اس مجموعے نے یہ واضح کر دیا کہ ایک نرم لہجے میں کہی گئی بات کبھی کبھی سب سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ عورت کا احساس، عورت کی زبان اور عورت کی داخلی بے چینی کو پہلی بار اتنی سادگی اور نفاست سے بیان کیا گیا کہ پوری نسل نے اس کی طرف توجہ کی۔ پروین شاکر کی غزل روایت اور احساس کا نیا امتزاج بھی جابجا ملتا ہے۔ پروین شاکر کی غزل کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے، لیکن اس میں ایک نیا لہجہ ہے۔ استعارے وہی ہیں مثلاً چاند، پھول، خوشبو، بارش، تتلی وغیرہ لیکن ان کے معنی بدل گئے۔ محبوب کے بجائے محبوبہ کی داخلی کیفیات موضوع بن گئیں۔ ان کی غزل کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کو موضوع نہیں بناتیں بلکہ اسے خود مصنف بھی بناتی ہیں۔ نسائی ضمیر کا براہِ راست استعمال، نرمی کے ساتھ احتجاج اور جذبات کے اظہار میں جھجھک سے انکار یہ وہ خصوصیات ہیں جو پروین شاکر کی غزل کو ممتاز بناتی ہیں۔
مثال کے طور پر “وہ تو خوشبو ہے” والا شعر محض رومانی کیفیت ہی نہیں، بلکہ جذباتی تعلق میں طاقت کے عدم توازن کی نشاندہی بھی ہے۔ اگر غزل ان کی پہچان ہے تو آزاد نظم ان کا اصل تجربہ گاہ ہے۔ یہاں انہیں کسی عروضی پابندی نے محدود نہیں کیا۔ اسی لئے ان کی آزاد نظموں میں موضوعات نہایت وسیع ہیں جن میں سماجی نابرابری، عورت پر معاشرتی دباؤ، جنسی استحصال، معاشی ظلم، سیاسی اور طبقاتی منافقت، جدید شہری زندگی کی بے حسی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ "اسٹیل ملز ورکر” جیسی نظمیں صرف ادب نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز بھی ہیں۔ یہاں محبت کی نہیں، پسینہ بہاتے عام آدمی کی بات کی گئی ہے جو ترقی کے نام پر قربان ہو جاتا ہے۔
اسی طرح "وی آر آل ڈاکٹر فاسٹس” میں طاقت اور دولت کے کھیل کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ پروین شاکر نے انگریزی الفاظ کا استعمال بھی بے جھجک کیا، جسے بعض ناقدین نے انہیں اعتراض کا نشانہ بنایا، لیکن ان کا اصرار تھا کہ شہری عورت کی زندگی انہی الفاظ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے زبان کو حقیقت سے جوڑ کر پیش کیا، نہ کہ روایت کی خاطر اسے جامد رکھا۔ ان کی شاعری میں جہاں محبت کا ذکر ملتا ہے وہاں عورت اور سماج کا بھی زکر ملتا ہے۔ پروین شاکر شاعری کے موضوعات کی تہہ داری سب سے منفرد ہے۔ پروین شاکر کی شاعری کا سب سے بنیادی پہلو عورت کے احساسات کی صداقت ہے۔ وہ محبت کو رومانیت کے پردے میں چھپاتی نہیں، بلکہ اس کی تکلیف، اس کی فوری کیفیت اور اس کی سماجی قیمت دونوں کو ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ ان کی شاعری میں تین واضح محور دکھائی دیتے ہیں جن میں سرفہرست عورت کی داخلی دنیا ہے۔ محبت، بے وفائی، تنہائی، انتظار، خوف، امید یہ سارے جذبات پروین شاکر کی شاعری کا بنیادی حصہ ہیں۔ وہ ان احساسات کو پوری ایمانداری کے ساتھ لکھتی ہیں۔ ان کی شاعری میں عورت کا سماجی مقام بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ طلاق، تنہائی، معاشرتی عدم اعتماد، اور مردانہ معاشرے کا جبر یہ سارے موضوعات اس شدت کے ساتھ پہلی بار کسی شاعرہ نے اٹھائے وہ پروین شاکر ہیں۔ انہوں نے جدید شہری زندگی کی پیچیدگیاں بھی بیان کی ہیں۔ دفتر، کارپوریشن، مہنگائی، تھکن، رش اور سیاسی بے چینی یہ سب کچھ پروین شاکر کی نظموں میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ عورت کو صرف محبت کرنے والی ہستی کے طور پر پیش نہیں کرتیں، بلکہ ایک مکمل سماجی وجود کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ پروین شاکر کے اسلوب میں چند بنیادی خصوصیات نمایاں ہیں جن میں نرم، پُرتاثیر اور شگفتہ لہجہ، استعاروں کا تخلیقی استعمال، اشاریت اور علامتوں کی تہہ دار جذبات کی براہِ راست ترجمانی،زبان کی سادگی جو گہری معنویت رکھتی ہے، شہری زند گی کے جدید حوالوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ ان کے ہاں جذبات کبھی غیر ضروری پھیلاؤ کا شکار نہیں ہوتے۔ مختصر مصرع، سادہ ترکیب اور پُراثر تصویر یہی ان کا فنی اصول ہے۔ اردو تنقید نے پروین شاکر کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا۔ ان کے بارے میں تین بڑے نقطۂ نظر ملتے ہیں جن میں وہ جدید اردو غزل میں نسائی آواز کی سب سے مضبوط نمائندہ ہیں۔ ان کی غزل میں جذباتیت کہیں کہیں زیادہ ہے، لیکن اس کی صداقت سے انکار ممکن نہیں۔ آزاد نظم میں ان کی فکری گہرائی زیادہ نمایاں ہے بنسبت غزل کے۔
نعت حضور صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم سے گہری وابستگی اور محبت کے اظہار کا زریعہ بھی ہے اور بخشش کا وسیلہ بھی۔نعت مدحتِ سرکار صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم سے لفظی اظہار بھی ہے اور دِلی جذبات کی ترجمان بھی ہے۔ نعت کا شمار دیگر اصنافِ سُخن کی نسبت معتبر تصور کیا جاتا ہے ۔
نعت حضور علیہ الصلوة والسلام صلى اللّٰه عليه وآلہ وسلم کے اوصاف حمیدہ،فضائل و مناقب،شمائل وخصائل،تعریف و توصیف ،محبت و مودت ،عقیدتو جذبات کو موثر انداز میں اظہار کرنے کا ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ موضوعاتی اعتبار سے نعت کو دیگر اصناف کی بدولت زیادہ تقویت و پذیرائی مل رہی ہے۔
زمانے کے تغیر و تبدل کے ساتھ حمد و نعت میں بھی شعریت و موزونیت کے اعتبار سے نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ زمانے کے بدلتے ہوئے رجحانات و میلانات کا اثر حمدیہ و نعتیہ کلام پر بھی نظر آتا ہے ۔ حمد و نعت کے مطالعہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ زمانے میں جدید طرز پر ہر صنفِ سخن اور ہیئت میں حمد و نعت کو صفحہ قرطاس کی زینت بنایا جا رہا ہے۔نئی، نئی زمینوں کے ساتھ نئے قافیے اور منفرد ردیفوں کے استعمال سے حمد و نعت کے ُحسن میں جو گراں قدر اضافہ ہوا ہے وہ باعثِ مسرت وانبساط ہے۔نیا طرزِ ادا ، نیا اسلوب ،تازہ کاری ،خوش سلیقگی اور شگفتگی کے باعث نعت ُدنیائے ادب میں مقبولیت کے بلند گراف کو ُچھو رہی ہے۔
بظاہر نعت کا موضوع سہل معلوم ہوتا ہے لیکن در حقیقت مجموعی اعتبار سے نعت گوئی کا فن بہت دقیق ہے ۔اس میں قلم کی ہلکی سی جنبش پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے بعض اوقات شاعر کی ہلکی سی کوتاہی بھی اس کے سلبِ ایمان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے نعت لکھتے ہوئے خاصی احتیاط برتنی پڑتی ہے ۔بہ حیثیت مسلمان عقیدے کی رو سے نعت عقیدتِ رسولؐ کا اظہار بھی ہے اور عشقِ مصطفٰی کی معراج تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہے ۔جب انسان کو سرکار صلى الله عليه وآلہ وسلم سے محبت ہوجائے تو وہ اس کے اعمال و افکار اور الفاظ سے جھلکتی ہے حبِ سرکارصلى الله عليه وآلہ وسلم سے یہی حد درجہ عقیدت مندی سے لبریز جذبات کبھی آنسو بن کر تو کبھی الفاظ بن کر بعد ازاں نعت کی صورت میں ادا ہونے لگتے ہیں۔
نعت گوئی کے لیے اللّٰہ عزوجل نے جن بیدار بختوں کو توفیق ارزاں بخشی اُن میں سید مسعود چشتی کا نام بھی شامل ہے۔
موصوف عہِد حاضر میں فیصل آباد کے نعت گو شعراء کی فہرست میں نمایاں تشخص اور شناخت رکھتے ہیں۔اُن کی نعتِ رسول صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ُنہوں نے دوسری شعری اصناف سے اجتناب برتا اور اپنے شعری اظہار کے لیے نعت کی ہی صنف کو منتخب کیا۔
بقول شاعر
مری حیات کا حاصل ہے نعت کی ُخوشبو
عطا ہوئی ہے جو منزل ہے نعت کی ُخوشبو
اُنہوں نے فنِ نعت کی مروجہ رسمیات سے خود کو ُدور رکھا اور اپنے کلام کو جدید لفظیات سے مزین کیا ہے ۔ان کے ہاں عقیدت وجذبات کی ورافتگی،تخلیقی جواہر، وسعت مطالعہ ، لفظوں کا چناو، محبت کا گہرا احساس، حسیاتی نظام سے واقفیت، معاصر منظر نامے پر عمیق نظر ، ادب و حضوری کی ملی ُجلی کیفیات ملتی ہیں ۔
سکھائے نعت نگاری کا بھی ادب مجھ کو
ملےحضورؐ کے صدقے وہ جامعہ ُخوشبو
نعتِ رسول صلى الله عليه وآلہ وسلم سے گہری وابستگی اور رسول صلى الله عليه و آلہ وسلم کی ذاتِ بابرکت سے والہانہ محبت انہیں اپنے آباو اجداد سے ورثے میں ملی
ہے جس نے ان کے دِل کو روشنی سے منور کر دیا ہے ۔
کرے جو روشن و پُرنُور ِدل کو بھی ہر دم
مجھے نصیب رہے ایسی قُمٙقمہ ُخو شبُو
موصوف کا رسول صلى اللّٰه عليه و آلہ وسلم سے عشق کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے خیالات تک کو پاکیزہ رکھتے ہیں کہ کیا معلوم کب سرکار صلى اللّٰه عليه وآلہ وسلم پھر کرم فرمائیں اور نعت کے اشعار عطیہ ُخداوندی سے عطا ہونے لگیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نعت گوئی ان کی زندگی کا اولین مقصد ہے
نزولِ نعت میں بنتی ہے جو وسیلہ بھی
ملے خیال کو بھی ایسی ملا ئکہ ُخوشبو
انہوں نے نعت کو جس خوش اسلوبی اور سلیقے سے لکھا ہے وہ قابلِ تعریف ہے ۔
ورق ہوا ہے خوشبو خوشبو” اُن کا گیارہواں نعتیہ مجموعہ ہے
۔جس میں انہوں نے دو حمدِ باری تعالٰی بھی رقم کی ہیں ۔
حمدیہ کلام میں انہوں نے نئے اور ادق ترین قوافی استعمال کئے ہیں جو دیگر شعراء کے ہاں بہت کم ملتے ہیں ۔
کروں جو بند میں آنکھیں مدینہ سامنے ہو
ہو میری حامی و ناصر وہ باصرہ خوشبو
کرے جو طیب و طاہر خیالوں کو میرے
سدا نصیب ہو ایسی معظمہ خوشبو
مزید ملاحظہ فرمائیے
کرے جو مجھ سے مدینے کی باتیں ہر لمحہ
بنے رفیق مری وہ مکالمہ خوشبو
عطا جو کرتی ہے اسرارِ کائنات کا علم
دِر حضور سے آئے مکاشفہ ُخوشبو
اسی حمد کا مقطع ملاحظہ فرمائیے
کرے جو رہبری جادہ خیر پر ہر دم
سدا نصیب ہو مسعود محسنہ ُخوشبو
حمد میں خوبصورت پیراِئے سے قوافی کے استعمال سے مجموعے کی رونق کئی ُگنا بڑھ گئی ہے۔
شاعر کا یہ مجموعہ فنِ نعت کی ُدنیا میں ایک منفرد مقام کا حامل ہے ۔ان کا یہ کلام روایت اور جدت کا ایک حسین امتراج ہے ۔ جس میں پہلی بار حسیاتی موضوع کو قدرے تفصیل کے ساتھ اشعار کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ۔اس مجموعہ کے حرف حرف میں حبِ مصطفٰی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کی ُخوشبو رچی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔
اُنؐ کے تنِ نازک کا پسینہ
حد سے سوا ہےخوشبو خوشبو
اس کلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں صاحب کالم نےاہل بیت اطہارؑ کی محبت اور نسبت کو مِد نظر رکھتے ہوئے بہتر (72) نعتوں کو ایک ہی ردیف "خوشبو ” پر مرتب کیا ہے،جو بذاتِ خود ایک مشکل امر ہے۔
میرے آقا ہو عطا آلِ عبا کی خوشبو
دے میرے ِدل کو ضیاء آلِ عبا کی خوشبو
ان کے ہاں شعریت اور شعوریت کے تمام تقاضے بدرجہ اتم موجود ہیں۔اُن کا اسلوب اتنا سادہ ،دلنشین اور عشقِ مصطفّٰی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم کی محبت اور چاشنی سے لبریز ہے کہ زبان و دل سے بے ساختہ داد و توصیف کے کلمات ادا ہونے لگتے ہیں ۔
اس کلام کی پہلی صفت تو یہ ہے کہ یہ نہایت قلیل مدت یعنی سترہ روز میں مکمل ہوا ہے اور اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ اس مجموعے کی اشاعت کے دوران میں ہی صاحب کلام کا ایک اور مجموعہ "لفظِ ُکن سے بھی پہلے” مکمل ہوا ہےنیز صاحبِ کلام کے اس مجموعے کا ہر شعر مکمل نعت ہے۔
پڑھتے ہی رہو صلےعلی آپ پر درود
مل جائے گی پھر کوثر و تسنیم کی ُخوشبو
نعت لکھنا،نعت پڑھنا، نعت ُسننا یہ سب رب العزت کی بخشش ہیں
اُمید ہے مسعود چشتی صاحب کا کلام خوشبو بن کر عاشقانِ رسول صلى اللّٰه عليه و آلہ وسلم اور محبانِ اہل بیت اطہارؑ کے ایمان کو نئی تازگی بخشے گا ۔ ُدُعا ہے رب العزت سے کہ ان کے قلم کو مزید رفعتوں سے نوازے اور رب العزت ان کی توفیقات میں مزید اضافہ فرمائے۔آمین
ورق ہوا ہے خوشبو خوشبو” میں مسعود چشتی کے فکرِ رسا کے حسیاتی موسموں میں نسیمِ حجاز کے نشیلے جھونکے رقص کناں دکھائی دیتے ہیں اور یہ نعتیہ کتاب ایک خوبصورت ردیف "خوشبو” کی مفید دنیائے بسیط کے شستہ مناظر کی تصویر کشی کرتی ہے مسعود چشتی کے نعتیہ کلام ان کی فکری نظافت اور وجدانِ قلب کی روداد ہیں "ورق ہوا ہے خوشبو خوشبو” میں لفظ لفظ گوہر ہے ،لفظ لفظ عنبر ہے ،لفظ لفظ خوشبو ہے جو سہل ممتنع اور ندرت کے ساتھ ساتھ فکر و نظر کے جمالیاتی حسن کا آئینہ دار ہے آقائے دو جہاں کی نعت خصوصی فیض و کرم سے عطا ہوتی ہے ہر لفظ عطائے رب ذوالجلال کے ساتھ ساتھ عطائے امواجِ بقا، عطائے چشمہ ءعلم و حکمت نازش، عطائے سندِ امامت، عطائے غنچہ ء راز وحدت، عطائے جوہرِ فرد عزت، عطائے ختمِ دور رسالت، عطائے محبوبِ رب العزت، عطائے مالکِ کوثر و جنت، عطائے سلطانِ دینِ ملت، عطائے شمعِ بزم ہدایت، عطائے مخزنِ اسرارِ ربانی، عطائے مرکزِ انوار رحمانی،عطائے مصدرِ فیوضِ یزدانی ،عطائے قاسمِ برکاتِ حمدانی، عطائے دانشِ برہانی، عطائے صابر و شاکر، عطائے مدثر و مزمل، عطائے مزمل و مرسل، عطائے انتہائے کمال، عطائے منتہائے جمال، عطائے مبنع خوبی و کمال، عطائے بے نظیر و بے مثال، عطائے فخرِ جہاں ،عطائے نیرِ درخشاں،عطائے نجمِ تاباں، عطائے ماہِ فروزاں، عطائے صبحِ درخشاں، عطائے نورِ بداماں، عطائے مونسِ دلِ شکستگاں، عطائے راحتِ قلوب عاشقاں، عطائے نورِ دیدہ ء مشتاقاں، عطائے موجبِ ناز عارفاں، عطائے باعثِ فخرِ صادقاں، عطائے رحیمِ بے کساں، عطائے حُبِ غریباں، عطائے شاہِ جناں، عطائے جانِ جاناں، عطائے قبلہ ء زہراں، عطائے کعبہء قدسیاں سے ظہور پزیر ہوتا ہے۔ ان الفاظ کی صوتی ترنگ آبشارِ الہام کے ساتھ جب مدحت کو گلریز کرتی ہے تو ردیف”خوشبو” جیسی کتاب منصہ ء شہود پر جلوہ گر ہوتی ہے ۔
مسعود چشتی کتاب کی ابتدا حمد سے کرتے ہیں اور مالک دو جہاں سے یوں دعا کرتے ہیں:۔
میرے کلام کو مہکائے تسمیہ خوشبو
مرے خدا ہو عطا مجھ کو نعتیہ خوشبو
میں نے اپنی کتاب "نماز شب” میں بھی یہ سطریں رقم کی ہیں ۔ کہ آج سے چودہ سو سال قبل کائنات جب کفر و شر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مستور تھی زندگی کے آئینہ خانے میں کہیں وحدت کے رنگ نظر نہیں آتے تھے۔ جابر حکمرانوں کے ہاتھوں میں وقت کی طنابیں تھیں۔ شبِ سیاہ نے پر نور سحر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ عرب کے دروغ گوئی کے رسیا جہالت کی وادی میں بھٹک رہے تھے۔ کمزوروں، یتیموں اور بے بسوں کو نویدِ حیات کا مژدہ سنانے والا کوئی نہ تھا۔
نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ مئے نوشی ان کی رگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایسے حالات میں رحمت ستارالعیوب نے جوش میں آکر رنگ بدلا اور کائنات کے ذرے ذرے کو ایک نئی ضیا عطا کر کے حضرت بی بی آمنہ سلام اللہ علیہا کے پاک آشیاں پر ایک شفیعِ معظم ﷺ کی آمد سے حالات کو یوں بدلا کہ عرب میں دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی و بے باکی کے علمبردار بن گئے جو شتربان تھے جہاں باں بن گئے ۔ آپؐ کی طاہر مجلس نے عرب کے لوگوں کو یکسر بدل ڈالا جسے مسعود چشتی کی بصیرت یوں دیکھتی ہے:۔
جن کو حاصل ہوئی سرکار کی صحبت،سارے
بن گئے فضلِ خدا سے وہ امام خوشبو
شعورِ آدمی جانتا ہے کہ بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراطِ مستقیم پر آپؐ نے گامزن کیا
بے نواؤں اور بے کسوں کی حالتِ زار پر آپ رحم بن کر برسے اور ان کو عزت و ناموس کے قیمتی زیور سے آراستہ کیا۔ اور یہ سب عزتیں اور عظمتیں آقا پاکؐ کے دم سے ظہور پزیر ہوئیں۔ مسعود چشتی کے الہام پر ان عظمتوں کی آمد یوں مشکِ عنبر بن کر اتری:۔
بے نواوں،بے کسوں کو بخش دے جو عزتیں
دیتی ہے وہ عظمتیں گلزارِ طیبہ کی مہک
اس میں کوئی شک نہیں کہ صبحِ درخشاں دلوں کو ایک کیف عطا کرتی ہے اور یہ کیف ایک عجیب طمانیت بن کر وجدانِ روح میں اترتا ہے کیونکہ کائنات کی یہ حسن و رعنائی آپؐ کے ہی دم قدم سے ہے گلابوں کی شائستگی اور خوشبو سب آقا پاک ؐکی خوشبو سے کشید کی گئی ہیں اور یہ سب آپؐ کے نعلین کا صدقہ ہیں یہی اظہاریہ اس شعر کے حسن کا باعث ہے ملاحظہ کیجیے:۔
جمالِ صبحِ ازل میں جناب کی خوشبو
ہے صدقہ آپ کا عطر و گلاب کی خوشبو
سفید سیاہ زرد اور زمردی رنگ کی ایک خوشبو دار لکڑی کو "عود” کہا جاتا ہے کہتے ہیں ان میں جو سب سے عمدہ لکڑی ہوتی ہے وہ پانی میں ڈوب جاتی ہے اسے عودِ غرقی کہتے ہیں ۔ عود کی خوشبو آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت پسند تھی صاحبِ مطالعہ شاعر مسعود چشتی جب
” عود کی خوشبو” کو ردیف میں استعمال کرتے ہیں تو یہ اُن کے اوجِ خیال کو ایک نئی رعنائی عطا کرتی ہے جو کلام کے حسن کو چار چاند لگا دیتی ہے ۔ اس نعت میں ہر شعر فکری ندرت کا آئینہ دار ہے ایک شعر ملاحظہ کیجیے:۔
میرے حضور کی چاہت ہے عود کی خوشبو
ہوئی ہمیں بھی عنایت ہے عود کی خوشبو
ساری کائنات میں آپ کا نور اور خوشبو رچی ہوئی ہے تخیل کی ادراکی ء پرواز میں انہی کا ریشمی تبسم رچا ہوا ہے جو مرکزِ عالم ہیں ،جو وارثِ زمزم ہیں ،جو مبداء کائنات ہیں جو مخزنِ کائنات ہیں، جو منشائے کائنات ہیں، جو مقصودِ کائنات ہیں ، جو سیدِ کائنات ہیں ، جو سرور کائنات ہیں ، جو مقصدِ حیات ہیں، جو منبع ء فیوضات ہیں جو افضل الصلوات ہیں، جو خلاصہء موجودات ہیں ، جو صاحبِ آیات ہیں ، جوصاحبِ معجزات ہیں، جو باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں، جو جامع صفات ہیں ، جو اصلِ کائنات ہیں ،جو فخرِ موجودات ہیں ، جو ارفع الدرجات ہیں ،جو اکمل الرکات ہیں بلکہ جو واصلِ ذات ہیں
انہی کا احساسِ تخیل شاعر کو جلا بخشتا ہے جس کا نورانی اظہاریہ نوکِ قلم یوں اگلتا ہے:۔
میرے احساسِ تخیل کو جو مہکاتی ہے
سوچوں کی جلاوں میں ہے ان کی خوشبو
مشکِ عنبر اور مشک عود وغیرہ کو ملانے سے لخلخہ بنتا ہے جو دماغ کی قوت میں اضافے کے لیے سونگھایا جاتا ہے ایسے الفاظ استعمال کرنا مسعود چشتی کا خاصا ہیں ۔ فکری عفت، ندرتِ خیال اور اسلوبیاتی صباحت سے مزین یہ شعر ملاحظہ کیجیے:۔
رہے معطر و پرنور جس سے دل کا حرم
رہے نصیب میں ہر دم وہ لخلخہ خوشبو
مسعود چشتی اپنے کلام پر اس لیے نازاں ہیں کہ وہ ارفع ذکر کرتے ہیں جسے قرآن نے
"ورفعنا لک ذکرک ” کی سندِ جمیل سے نوازا ہے۔
مسعود چشتی کے نگارخانہء شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل قاری کے فہم و ادراک کو ایسا نور بخشتے ہیں جن کو قاری پڑھتا جاتا ہے اور عشقِ رسولؐ میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ جدتِ خیال کے رنگ،دھنک میں پرو کر اس لطیف صورت کو قرطاس کے سینہ پر ایسے نقش کرتے ہیں:۔
کروں گا ناز بہ فضلِ خدا نصیبوں پر
ملے جو طیبہ کی بس ایک ثانیہ خوشبو
انہی الفاظ کو اس دعا کے ساتھ سمیٹتا ہوں کہ اللہ پاک مسعود چشتی کو تا زیست آسمانِ ادب پر متمکن رکھ کر ستاروں کی طرح چمکتا دمکتا رکھے اور ہمیں نعت نئے اسلوب کے ساتھ پڑھنے کو ملتی رہے۔آمین۔