پوری دنیا کی نظریں ایران کے کنٹرول میں موجود آبنائے ہرمز پر لگی ہوئی ہیں۔ 33 کلومیٹر کی اس تنگ آبی گزرگاہ کی بندش سے دنیا کی معیشت پر پڑنے والے اثرات اور نتائج کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف چند دنوں کی بندش کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں سو ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں سے روزانہ دنیا کے استعمال کا 20 فیصد سے زیادہ تیل گزرتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے حملوں اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی عالمی منڈی بے یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ تازہ ترین تجارتی سیشن کے دوران عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح امریکی معیار کے خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی تقریباً 3 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکہ میں بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرول کی اوسط قومی قیمت 7 سینٹ اضافے کے بعد 3.79 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی ہے۔ خلیج میں جاری اس جنگ میں آتی شدت اور اس کے عالمی معیشت پر پڑتے اثرات کو دیکھ کر دنیا سوچ میں پڑ گئی ہے کہ آگے کیا ہو گا۔ عالمی سیاسی اور معاشی تجزیہ کار بھی حیران و ششدر ہیں کہ آخر اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلے گا، جنگ کب بند ہو گی اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا۔
ایران آبنائے ہرمز میں مزید بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور وہ صرف انہی ممالک کے آئل ٹینکروں کو گزرنے کی اجازت دے رہا ہے جن سے اس کے اچھے تعلقات ہیں یا جن سے وہ اپنی پیشگی شرائط منوا لیتا ہے۔ ہرمز کی بندش کے بعد ابھی تک صرف پاکستان اور فرانس کو وہاں سے تیل بردار ٹینکرز گزارنے کی اجازت ملی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی اس جنگی چال سے کافی گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ کو ایران کے قبضے سے کیسے چھڑایا جائے۔ اب امریکہ جنگ کی فتح اور شکست کا انحصار کافی حد تک آبنائے ہرمز کو ایرانی قبضے سے چھڑانے پر کر رہا ہے۔
گزشتہ دنوں امریکی صدر نے اپنے یورپی اتحادیوں سے ہرمز کو ایران کے قبضے سے چھڑانے کے لیئے بحری جہاز بھیجنے کی درخواست کی تھی جس میں انہیں کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹرمپ ایران کی طرف سے اس نئی افتاد کی وجہ سے کافی جھنجھلاہٹ کا شکار نظر آئے اور یورپی اور نیٹو ممالک کے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے ہی چین اور روس سے بھی التجا کر ڈالی کہ وہ ہرمز کو کھلوانے اور امریکہ کی مدد کرنے کے لیئے خلیج فارس کے پانیوں میں اپنے بحری لڑاکا بیڑے روانہ کریں، اور وہاں سے بھی انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ امریکہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے پوری دنیا سے انکار سننا پڑے گا، اور ساتھ میں ذلت بھی اٹھانی پڑے گی۔ دنیا کی بڑی طاقتوں برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، سپین، آسٹریلیا، کنیڈا، اٹلی، چین اور روس وغیرہ نے صاف انکار کر دیا، بلکہ امریکہ جو آج تک خود کو بلاشرکت غیرے سپر پاور سمجھتا آ رہا تھا کو ہر ایک نے "ہرگز نہیں” (Absolutely Not) کہہ کر رسوا کیا۔ امریکہ کو بڑے پیمانے پر ایسی رسوائی پہلی بار دیکھنا پڑی ہے۔
امریکہ ایک عرصہ تک یورپین اتحادیوں کی پشت پناہی سے دنیا پر دھونس جماتا رہا مگر آج یکے بعد دیگرے انہوں نے نہ صرف امریکہ سے منہ موڑ لیا ہے بلکہ اسے دنیا بھر کے سامنے ذلیل بھی کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا، "آبنائے ہرمز کو کھلوانا آسان نہیں، اس کے لیئے ایران سے معاہدہ کرنا ہو گا۔” جرمنی نے ایران جنگ میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا اور جرمن وزیر دفاع نے بیان جاری کیا کہ، "یہ ہماری جنگ ہے نہ ہی ہم نے اسے شروع کیا۔ امریکی دباو’ کے باوجود جرمنی اپنے بحری بیڑے مشرق وسطی نہیں بھیجے گا۔” فرانسیسی جنرل یاکوف لیف نے امریکہ کو ٹکا سا جواب دیا بلکہ جنگ میں ممکنہ امریکی شکست کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ، "امریکہ ہم سے مدد مانگتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم اس کی ناکامیوں کی قیمت بھی ادا کریں۔ آج ٹرمپ کے اتحاد میں شامل ہونا ایسا ہے جیسے ٹائی ٹینک کے آئس برگ سے ٹکرانے کے اگلی شام اس پر ڈنر اور رقص کے ٹکٹ خریدنا۔”
آبنائے ہرمز کا ایران سے قبضہ چھڑانا ایران، اسرائیل امریکہ جنگ میں ایک اہم ترین موڑ یعنی "ٹریننگ پوائنٹ” (Turning Point) ہے جو یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ جنگ کون جیتے گا۔یورپی دنیا اس جنگ میں واضح طور پر امریکہ کا ساتھ چھوڑ چکی ہے جس کے بعد امریکی صدر اسے بدعائیں دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو کہا، "تمہارے ساتھ بہت برا ہو گا۔”
برطانیہ کے وزیراعظم نے تو ٹرمپ کو باقاعدہ بے عزت کیا تھا جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا، "ہم یاد رکھیں گے۔” امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے بحری جنگی بیڑے مانگے تھے جس پر سب نے انکار کر دیا۔ امریکہ کے لیئے وقت بدل چکا ہے۔ یہ جنگ کا کمبل امریکی صدر ٹرمپ نے کسی سے مشاورت کیئے بغیر صرف نیتن یاہو کی شہہ میں آ کر خود پر اوڑھا تھا جو اب اس کے گلے پڑ گیا ہے۔
اس جنگ کو امریکہ نے چھیڑا اس کا انجام بھی امریکہ ہی بھگتے گا۔ امریکی اڈے جو کبھی دنیا میں خوف کی علامت ہوتے تھے اب ایک ایک کر کے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ کوئی ملک اپنی سرزمین امریکہ کو دینے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اتحادی ممالک میں امریکی سفارت خانے بند ہو رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے صرف وہ گزر سکتا ہے جو جنگ مخالف ہو یعنی امریکہ اسرائیل مخالف ہو یا جسے ایران اجازت دے۔
امریکہ نے اسرائیل کے بہکاوے میں آ کر بلاوجہ ایران پر جنگ مسلط کی اور اپنے سارے مخلص اتحادی کھو دیئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری بیڑے نہ ملنے کی ناکامی کے بعد مایوسی کے عالم، اور خود کو تسلی دینے کے لیئے ایک بیان میں کہا ہے، "جن کے آبنائے ہرمز میں جہاز پھنسے ہیں وہ خود نکالیں، امریکہ کے پاس تیل کی کوئی کمی نہیں ہے۔” ایسا لگتا ہے کہ امریکی سپریمیسی کا ٹائی ٹانک آہستہ آہستہ آبنائے ہرمز میں ڈوب رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی جنگی بیڑا "یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ” بھی خلیج فارس پہنچ چکا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ اس کا یہاں لانے کا مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ اس سے اپنی شرائط کے مطابق ڈیل کرنا ہے۔ چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی۔ اس میں نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر حملے کے لیئے کافی دباؤ ڈالا مگر وہ ٹرمپ کو فوری حملے کے لیئے راضی نہ کر سکے۔ اسرائیل اپنی بقا کے لیئے ہر قیمت پر ایران میں رجیم چینج چاہتا ہے جو صرف ایران پر کامیاب حملے ہی سے ممکن ہے۔ لیکن امریکی حملے کے بعد بھی سو فیصد گارنٹی فراہم نہیں کی جا سکتی کہ ایران میں اسرائیل نواز حکومت قائم ہو سکے گی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ ایک مکمل جنگ کو جنم دے گا جس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایران بار بار اس بات کا عندیہ دے چکا ہے ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ جہاں اسرائیل پر بھرپور حملہ کرے گا وہاں وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ امریکی معیشت ڈانواں ڈول ہے مگر ایران پر حملے کا جتنا فائدہ اسرائیل کو ہو گا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیج فارس میں موجود امریکہ کے دس بحری بیڑے، دس ہزار امریکی فوجی اور تمام خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ایران کے ایٹمی میزائلوں کی زد میں آ جائیں گے۔
مشرق وسطی کے تمام ممالک امریکہ کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ایران پر حملے میں وہ امریکہ سے تعاون نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے کے امکان کو مدنظر رکھ کر سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایران اور روسی مشترکہ جنگی مشقیں بھی خلیج فارس میں جاری ہیں اور دوسری طرف چین اور اس کے اتحادی بھی ایران کو جنگی تعاون کی مکمل یقین دہانی کروا چکے ہیں۔ اس دفعہ ایران پر امریکی حملہ یقینا تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا یا جنگ نہ بھی ہوئی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ امریکہ خطے میں مستقل طور پر بیٹھ جائے گا۔ اس تمام صورتحال کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھانپ چکے ہیں۔ اسی تناظر میں غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انہوں نے ایران کو اپنی شرائط پر دھمکاتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی، وہاں انہوں نے کانفرنس کے خاتمے پر ایران کے بارے نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس دس مارچ تک مذاکرات پر آمادہ ہونے کا وقت ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ایرانی بچوں کے لیئے دودھ کے ڈبے بھجوانے کا اعلان کیا۔
دراصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ اہل مغرب ایران سے جنگ کو جہاں اپنی معیشت کو بچانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں وہاں وہ مشرق وسطی کے ذرائع اور دولت پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے اور اسرائیل کو استعمال کیئے بغیر خلیج فارس میں اپنی مستقل موجودگی کا بہانہ بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار خلیج فارس میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی جنگی طاقت کو "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے سے جوڑ رہے ہیں مگر امریکہ کی خلیج میں اتنی طاقت بڑھانے کا واحد مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ یہاں اپنا آزادانہ امریکی بحری اور بری اڈا قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیئے امریکہ کو کویت پر عراقی قبضے کی طرح اگر کسی چھوٹے خلیجی ملک پر قبضہ بھی کرنا پڑا تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔
اگر امریکہ ایران پر حملہ کر کے اور روس، چین، شمالی کوریا اور ایران سے گرم جنگ میں جیت گیا تو وہ "نیو ورلڈ آرڈر” رائج کرنے کے لیئے دنیا کے سارے رولز بدل دے گا۔ تجارت کے رول، کرنسی کے رول، اقوام متحدہ کے قوانین اور انٹرنیشنل لاز کو اپنی مرضی سے ازسرنو مرتب کرے گا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کا زندہ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ امریکہ کا غزہ امن بورڈ کو قائم کرنا اور اس کا تن تنہا چیئرمین بننا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ جنگ بظاہر امریکی سپر پاور کی بقا کی جنگ ہے جس میں امریکہ خود کو ہیرو اور باقی متحارب دنیا کو ولن ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا کا بلاشرکت غیرے حکمران بن کر بیٹھ جائے۔ یہی امریکہ کا خلیج فارس میں اپنی جنگی قوت کو بڑھانے کا مقصد ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت ہوشیار ہیں جن کی اولین جنگی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ وہ یہ مقصد ایران سے جنگ کیئے بغیر حاصل کر لیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے میں بار بار توسیع کر رہے ہیں۔
تاحال امریکہ کی خارجہ پالیسی کا دوسرا محور پاکستان ہے کہ اسے بیک فٹ پر رکھ کر ایران سے کشیدگی کی صورت میں وہ پاکستان کو اپنے سٹریٹجک مقاصد کے لیئے استعمال کر سکے۔ امریکہ اگر پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال نہ کر سکا تو اس کی اصل اور حتمی ترجیح ایران پر حملہ ہی ہو گا۔ اگر اسے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی ہوتی ہے اور ایران میں رجیم بھی چینج ہو جاتا ہے تو پھر اسرائیل ایران میں بیٹھ کر بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ ادھر بھارت بھی یہی چاہتا ہے کہ اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔ یہ ایسی ممکنہ صورتحال ہے جس کے خلاف پاکستان کو بھی اپنی سٹریٹجک ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے کی فوری ضرورت پیش آئے گی۔ اسرائیل نے غزہ امن بورڈ کے تحت فلسطین میں عالمی امن فورس میں پاکستان اور ترکی کی شمولیت کی اسی بناء پر مخالفت کی تھی تاکہ اس مد میں گیم چینجر کی حتمی طاقت اسرائیل اور امریکہ ہی کے ہاتھ میں رہے۔ یہ ایسی پیچیدہ صورتحال ہے جو امریکہ کو "پیچھے ہٹ جاو” یا "جنگ کرو اور مرو” کی طرف دھکیل رہی ہے۔ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں یاناکام ہوں، یہ ایک امکان ہے۔ جنگ ہو بھی سکتی ہے اور ٹل بھی سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ خلیج فارس میں مسلسل جنگی طاقت میں اضافہ کر کے اب بند گلی میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو برسوں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اسی مقصد کے لیے تھا۔ اب شام سے نکلنے والے لوگ بھی اسی طرف بھیجے جا رہے ہیں۔ مقصد یہاں عدم استحکام پیدا کرنا اور ایران اور پاکستان کے گرد آگ لگانا ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے پاکستان کو ڈرنے کے بجائے تیار رہنا ہو گا۔ پاکستان کی فوج میں ہمارے اپنے بچے ہیں۔ وہ ہم ہی میں سے ہیں۔ ان کی حفاظت تب ہو گی جب ہم متحد رہیں گے۔ ہمیں چایئے کہ ہم فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی مخالفت کریں۔ ہم اندر سے کمزور ہوئے تو باہر والے ہمیں آسانی سے توڑ دیں گے۔ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہوا تو یقینا پاکستانی قوم اور فوج کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔
ایران کے دارالحکومت تہران کی مرکزی مارکیٹ سے افراط زر، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف 28 دسمبر 2025ء کو شروع ہونے والی احتجاجی لہر اب "جیو پولیٹیکل وار” میں بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ سنہ 1979ء میں امریکہ اور اسرائیل نواز رضا شاہ پہلوی کا شاہی تختہ الٹنے کے بعد "خمینی انقلاب” آیا۔ اس انقلاب کے ذریعے ایران میں بادشاہت تو ختم ہو گئی لیکن یہ انقلاب جمہوری سے زیادہ مذہبی قسم کا تھا۔ یہ انقلاب محض شاہ ایران کے خلاف نہیں تھا بلکہ مغربی جدیدیت، امریکی بالادستی اور سرمایہ داری کے خلاف ایک فکری بغاوت تھی، جس کے بعد ایران کے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات بگڑ گئے۔ انقلاب ایران کے ایک ہی سال بعد 1980ء میں ایران عراق جنگ کا آغاز ہوا۔ عراقی صدر صدام حسین نے ایران پر یہ سمجھ کر حملہ کیا تھا کہ انقلاب اندر سے کمزور ہے لیکن یہ جنگ ایران میں قومی وحدت، انقلابی تشخص اور عسکری خودکفالت کا ذریعہ بن گئی۔
اس وقت سے "پاسداران ایران” امریکہ اور اسرائیل کو مسلسل کھٹکتے رہے ہیں۔ ایران بھی پیچھے نہیں رہا، اس نے عالمی تنہائی، پابندیاں، اور امریکہ سے مستقل دشمنی مول لیئے رکھی۔ 13 اپریل 2024ء کو پاسداران انقلاب اسلامی نے عراقی موبلائزیشن فورسز، لبنانی حزب اللہ گروپ اور یمنی حوثیوں کے ساتھ مل کر اسرائیل پر حملے کیئے جن کا کوڈڈ نام "آپریشن وعدہ” رکھا گیا تھا اور جس میں ایران نے ڈرون کروز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیئے تھے۔ 13 جون 2025ء کو ایران اسرائیل جنگ شروع ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو وسعت دینے سے روکنے کے دعوے کے ساتھ ایران کی متعدد تنصیبات پر ناگہانی حملے کیئے۔ ان حملوں کو ”آپریشن شیرِ برخاستہ“ کا نام دیا گیا، جن کے دوران اسرائیلی دفاعی افواج اور موساد نے ایران کے جوہری مراکز، عسکری تنصیبات اور شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔اسی شب ایران نے ”آپریشن وعدۂ صادق سوم“ کے تحت جوابی کارروائی کی، جس میں ایران نے بیلسٹک میزائلوں اور خودکار ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کے ساتھ ساتھ بعض رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اسی دوران جنگ میں امریکہ بھی کود پڑا جب امریکہ اور اسرائیل دونوں نے مل کر ایران کی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ لیکن ایرانی دعووں کے پیش نظر کہ ان کی ایٹمی تنصیبات حملوں میں محفوظ رہیں، یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر پراکسی وار اور براہ راست حملہ کر کے "رجیم چینج” کی کوشش کرے گا۔
گزشتہ روز امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ پوری دنیا کو چار مرتبہ تباہ کر سکتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس موقع پر آیا ہے جب وینزویلا کے صدر کو گرفتار کرنے اور امریکہ لے جانے کے بعد امریکی جنگی بحری بیڑا خلیج کے پانیوں میں پہنچ چکا ہے اور اس کے فوجی ایران کی سرحدوں پر دستک دے رہے ہیں۔ اس اقدام سے پہلے ایران میں پرتشدد احتجاج سے ایسے حالات پیدا ہو رہے تھے کہ جس کے پیش نظر امریکی حملے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا۔ امریکی صدر کا یہ بیان نہ صرف خطے میں امن کے قیام کی امیدوں پر پانی پھیرنے کے برابر ہے بلکہ اس سے دنیا پر ایک بار پھر تیسری عالمی جنگ کے بادل منڈلاتے نظر آ رہے ہیں۔ ایران میں 3 سال سے زیادہ عرصے بعد ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 65 اور پرائیویٹ ایجنسیوں کی خبروں کے مطابق کم از کم 192 مظاہرین ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہیں۔ یہ مظاہرے ایران کے 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں میں عوامی بغاوت کی شکل میں ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم "ایران ہیومن رائٹس” نے اتوار کو جاری کیئے۔ ایران میں پابندیوں کی وجہ سے ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ گزشتہ 60 گھنٹوں سے زیادہ عرصے سے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہے۔ اس کے باوجود تہران، مشہد اور دیگر شہروں میں گزشتہ تین راتوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی نے تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھایا کہ تہران اور مشہد میں مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور کئی گاڑیاں اور عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔ کچھ غیر مصدقہ ویڈیوز میں تہران کے مردہ خانے میں مظاہرین کے لواحقین کو لاشوں کی شناخت کرتے دکھایا گیا ہے۔
ایران اور امریکی مخاصمت اور کشیدگی جو سنہ 1979ء میں آیت اللہ خمینی کے ایرانی انقلاب کے ساتھ شروع ہوئی تھی (جب انقلابیوں نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تھا اور امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا) جس میں 46 سال یعنی نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی کبھی کمی نہیں آ سکی تھی، اب نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہونے جا رہی ہے۔
دراصل 1979ء میں جس رجیم نے “اسلامی انقلاب” کے نام پر اقتدار پر قبضہ کیا تھا، اس نے اب تک ایرانی عوام کو آزادی، انصاف یا خوشحالی دینے کے بجائے مسلسل جبر، سخت گیری، قید و بند، معاشی تنگدستی اور خوف کے سائے میں رکھا۔ اس دوران ریاستی وسائل عوامی فلاح پر خرچ کرنے کے بجائے خطے میں اپنی "جیو اسٹریٹجک بالادستی” قائم کرنے کے لیئے اربوں ڈالر جنگی مہمات، پراکسی گروہوں اور عسکری مداخلتوں پر جھونک دیئے جس کا نتیجہ بلآخر نہ صرف ایرانی عوام میں شدید غم و غصہ اور محرومی کی شکل میں نکلا ہے بلکہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کو اپنی پرانی ہزیمت کا بدلہ لینے کا موقع بھی فراہم کر دیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ صرف احتجاج، خانہ جنگی یا ایران پر امریکی حملے کا سوال نہیں بلکہ یہ وہی "جیو پولیٹیکل وار” (ارضی سیاسیات کی جنگ) ہے جو خطے کا نقشہ بدلنے کے لیئے اس سے پہلے عراق، لیبیا اور شام میں لڑی جا چکی ہے۔
دوسری جانب، ایرانی عوام کی جرات مندانہ مزاحمت کو دیکھ کر شاہی نظام کے باقیات رضا شاہ پہلوی، جو اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں اور خود کو ایران کا متبادل حکمران تصور کرتے ہیں، ایک بار پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی مزاحمت جاری رکھیں اور اعلان کیا ہے کہ جب سپریم لیڈر خامنہ ای ملک سے فرار ہوتے ہیں تو وہ اقتدار سنبھال لیں گے۔ اس سلسلے میں ان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بارہا مداخلت کی اپیلیں کی جا رہی تھیں تاکہ امریکہ طاقت کے ذریعے "ملا رجیم” کا تختہ الٹ دے۔ ایران میں اس نازک صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی اپنے ہفتہ وار خطاب میں مظاہرین کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ان کے ساتھ کھڑا ہے، جبکہ اس پر ایرانی حکومت نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران ردعمل کے طور پر خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کرے گا
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت بھی ہے کہ ایرانی کی مذہبی حکومت نے حق مانگنے پر اپنے ہی شہریوں کو پھانسیوں پر لٹکایا، عورتوں کے بنیادی حقوق غصب کیئے، اختلافِ رائے کو جرم بنایا اور عوام کو نان و نفقہ کا محتاج کر دیا۔ آج جب عوام سڑکوں پر نکل کر احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں تو یہ عمل محض ایک ریاستی یا داخلی معاملہ نہیں رہا۔ عوامی احتساب جب اس درجہ و مرحلے پر پہنچتا ہے تو اس کے اثرات جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کی سیاست، طاقت کے توازن اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ امریکہ خطے میں حسب سابق عراق، لیبیا اور شام کی طرح خطے کی ارضی تبدیلی کے تحت ایران پر حملہ کرے گا، اور یہی وجہ ہے کہ اس خطرے اور ایرانی ردعمل کے پیش نظر اسرائیل میں بھی "ہائی الرٹ” کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
( اس سلسلے کا یہ پہلا مضمون ہے جس کا پلاٹ بی بی سی اردو سے لیا گیا ۔ آئندہ کا موضوع
” ھیرا منڈی لاھور تاریخ کے آئینے میں ” زیر تحقیق ہے )
کراچی کی نیپیئر روڈ کے قحبہ خانے اور کوٹھے کیسے اجڑے؟
تلخیص و پیشکش :
سیدزادہ سخاوت بخاری
عید کا دن تھا کچھ نوجوان کراچی کے نیپیئر روڈ کے بازارمیں کھڑے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ چار خوبصورت لڑکیاں انتہائی چست لباس میں سڑک پار کر رہی ہیں جن میں سے ایک نے سرپر دوپٹہ جما رکھا ہے۔ نیپیئر روڈ پر ایسا نظارہ تو معمول کی بات تھی لیکن اتنی دلچسپی کیوں؟ اصل بات یہ تھی کہ ان لڑکیوں میں سے جس نے سر پر دوپٹہ جما رکھا تھا وہ اداکارہ بابرہ شریف تھیں جو اپنی خالہ سے عید ملنے آئی تھیں۔
بابرہ شریف
کراچی کا نیپیئر روڈ شہر کا قدیم بازار حسن یا ریڈ لائٹ ایریا تھا۔
’اس دشت میں اک شہر تھا‘
کے مصنف ، اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ بابرہ شریف فلموں میں کامیاب ہو کر لاہور منتقل ہونے سے قبل اسی نیپیئر روڈ پر واقع شمشاد منزل کی دوسری منزل پر رہتی اور کام کرتی تھیں۔
نیپیئر روڈ پر خستہ حالت عمارتیں اور بالکونیوں یہاں کئی بہاریں دیکھ کر اب بیوگی کا لباس تن کیے ہوئے ہیں جہاں کئی کہانیوں نے جنم لیا اور وہیں دفن ہو گئیں۔ اس محلے کے در و دیوار میں کئی ایسے راز ہیں جو کبھی دہلیز کی دوسری طرف نہیں گئے۔
میں جب اس نیپیئر روڈ پر پہنچا تو ہر کوئی اس کو قصہ ماضی سمجھ کر بھول چکا تھا یا لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آیا۔ بالآخر سفید ٹوپی پہنے ہوئے ایک بزرگ شخص نے موجودگی کی وجہ پوچھی اور بے اختیار ان کے منھ سے ’ہائے رے‘ کے الفاظ نکلے۔
فہیم (فرضی نام) نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سامنے جو عمارت ہے یہاں بابرہ شریف رہتی تھیں اس کے بعد مختلف عمارتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں فردوس، وہاں زیبا اور نجمہ رہتی تھیں۔
’اب تو یہ موچی بازار بنا ہوا ہے نہ تو کوئی بائی رہی نہ ہی کوئی خان صاب، یہ بازار اجڑ چکا ہے۔‘
بازار حسن کا قیام
برصغیر یعنی موجودہ انڈیا اور پاکستان میں بازار حسن کی روائت قدیم ہے۔ رخسانہ افتخار
جنرل آف دی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان ،میں اپنے مقالے
’کلونیئل ڈیزائر اورینٹ بیوٹی‘
میں لکھتی ہیں کہ برطانوی فوجیوں میں جنسی امراض کے بعد 1864 میں جنسی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کا قانون آیا جس میں ترامیم ہوتی رہیں۔ اس قانون کے تحت جسم فروشی کو قانونی حیثیت اور تحفظ حاصل ہوا۔
اس قانون کے تحت برطانیہ کے زیر انتظام انڈیا میں کنٹونمنٹ ایریاز میں مخصوص جگہوں پر ریڈ لائیٹ ایریا یا قحبہ خانوں کے قیام کے اجازت نامے جاری کیے گئے۔
Red Light Area of Karachi
کراچی کا بازار حسن
رخسانہ افتخار کے مطابق اس دھندے میں ملوث خواتین کے جسمانی معائنے اور پولیس کو کسی جسمانی بیماری کا شکار خواتین کی گرفتاری کا بھی اختیار دیا گیا، اس قانون کا مقصد برطانوی فوج کے سپاہیوں کو سہولت فراہم کرنا تھا جو اپنے ملک سے دور دراز کے علاقوں میں تعینات تھے۔
اس تحقیقی مقالے سے فحاشی کے اڈوں میں یورپی خواتین کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے، جس کے مطابق 1910 میں 300 سے 350 یورپی خواتین جسم فروشی کے کاروبار میں شامل تھیں۔ کلکتہ، بمبئی، رنگون، کچھ تعداد میں کراچی میں وہ اپنے دلالوں کے ذریعے یہ کاروبار چلاتی تھیں۔
عالمی جنگیں اور کراچی کی معشیت
جنگ عظیم اول اور دوئم کے کراچی کی معشیت پر مثبت نتائج مرتب ہوئے اور یہاں پیسے کی ریل پیل ہوئی، ’کراچی ملکہ مشرق‘
کی مصنفہ محمودہ رضویہ لکھتی ہیں کہ ’1914 میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی اور کراچی کو فوجی نقل و حرکت کا مرکز قرار دیا گیا۔
یہاں سےافواج خلیج فارس اور عراق میں آسانی سے پہنچ سکتی تھیں، یہاں ہر قسم کی جنگی ضروریات کے تحت ادارے اور دفاتر کھولے گئے جس کے باعث کراچی کی آبادی پچاس فیصد تک بڑھ گئی۔ مکانات اور دکانوں کی قلت ہونے لگی کئی عمارتیں بنیں، جنگ کے چار برس کے دوران یہاں کے تاجروں نے لاکھوں روپے کمائے۔‘
اس دور میں راجستھان، ممبئی اور گوا سے سیلاوٹ ، پارسی اور گونز کمیونٹی کے لوگ یہاں نقل مکانی کر کے آئے اور یہاں کی معشیت میں مددگار ثابت ہوئے۔
نیپیئر روڈ کا حسن
سر چارلس نیپیئر کی سربراہی میں تاج برطانیہ نے سندھ پر قبضہ کیا تھا۔ انھوں نے ہی سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد سے کراچی منتقل کیا، بندر روڈ سے لی مارکیٹ تک کی سڑک ان کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔
نیپیئر روڈ کا حسن
کراچی میونسپل نے نیپیئر روڈ کا ریڈ لائٹ ایریا کے لیے کیوں انتخاب کیا؟ اس سوال کے جواب میں
’اس دشت میں اک شہر تھا‘
کے مصنف ، اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ اس بازار کے گاہک مسافر ہوتے ہیں یہ علاقہ بندرگاہ سے نزدیک تر ہونے کی بنا پر شپ کریو اور غیر ملکی مسافروں کے لیے پرکشش تھا، اسی طرح سٹی ریلوے سیشن سے نزدیک تر ہونے کے باعث یہ علاقہ،اندرون ملک کے مسافروں کے لیے بھی پسندیدہ تھا۔
بلوچستان و ایران سے آنے والی بسوں کا اڈہ بھی نزدیک تھا اسی سبب اطراف میں بے شمار رہائشی ہوٹل تھے یوں یہ علاقہ بازار حسن کے لیے مناسب قرار پایا۔
تمام تر قانونی تحفظ کے ساتھ یہ بازار حسن بھی ہندوستان میں قدیم زمانے سے فن، آداب اور روایات کے سائے تلے پروان چڑھا جہاں رقص اور موسیقی کی دنیا پوری آب و تاب سے قائم ہوئی اور ساتھ قحبہ خانے بھی چلے۔
بازار حسن، فلمی صنعت کی نرسری
قیام پاکستان کے بعد نیپیئر روڈ سمیت کئی بازار حسن نومولود اسلامی ریاست کو ورثے میں ملے۔ ’اس دشت میں اک شہر تھا‘ کے مصنف اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ کبھی ان کی سرپرستی اس دور کے نواب اور راجہ کرتے تھے مگر قیام پاکستان کے بعد جب نوابوں اور راجاؤں کی راج دہانیاں ختم ہو گئیں تو نیپیئر روڈ کا علاقہ کراچی میں بننے والی فلموں کے لیے فنکار تیار کرنے کی نرسری بن گیا۔
رانی اور بندیا- ماضی کی معروف اداکارائیں
یہاں قحبہ خانے اور کوٹھے مختلف معیار کے تھے، تماش بین جس قدر مہذب اور خوش زوق تھے اسی اعتبار سے یہاں مختلف کوٹھوں پر مجرا ہوتا تھا۔
جب سرشام اطراف کی مارکیٹیں بند ہونے کی تیاری میں ہوتیں تو یہاں زندگی میں بیداری کی لہر آتی اور بالا خانوں سے آتی گھنگھروں کی چھنا چھن کا ہلکا پھلکا آغاز ہوتا اور جوں جوں چاند بلند ہوتا اس مارکیٹ کی رونق کو ایک کے بعد ایک چاند لگتا جاتا۔
گھنگھروں کی چھنا چھن بڑھتی، بالکونیوں کے در کھلتے اور مجرے سے قبل کی ریہرسل شروع ہو جاتی جو دراصل تماش بینوں کو متوجہ کرنے کا ایک انداز ہوتا، کہیں کہیں رقاصہ رقص کرتی گھنگھروں کی چھنا چھن بکھیرتی بالکونی میں آ جاتی۔
گھنگرو اور مجرا
ہار، گجرے اور کرارے نوٹ
نیپیئر روڈ پر اس وقت چپلوں، چینی دندان ساز، حکمت کی دواؤں سمیت متعدد دکانیں ہیں، ایک قدیم پان شاپ والے احمد (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ یہاں میوزک سینٹر اور گھڑیوں کی دکانیں بھی ہوتی تھیں، بازار کی خواتین کلائی پر گھڑیاں پسند کرتی تھیں۔
اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ ’رات دس بجے تک پورا علاقہ روشنی کی چکا چوند سے جگمگانے لگتا، ہار گجرے کی دکانیں اور ہاتھ میں مالا بیچتے لڑکے سب فعال ہو جاتے۔‘
یہ سارا تماشہ روپے پیسے سے منسلک ہوتا لہذا اس بازار کی ایک روایت بڑی دلچسپ ہے۔
مجرے میں جو بھی رقم نذر یا نچھاور کی جاتی وہ ہمیشہ نئے کرارے نوٹ کی صورت میں ہوتی، جو یہاں کے مستقل شائق ہوتے وہ نئے کرارے نوٹوں کا انتظام کر کے آتے اور جو نہ کر پاتے ان کے لیے بازار ہی میں پھولوں اور گجرے والوں کے پاس نئے نوٹ دستیاب ہوتے، آخری حربے کے طور پر کوٹھے کی نائکہ بھی اس کا انتظام کر رکھتی۔ روزانہ نچھاور کئے جانے والے نئے نوٹوں کی گڈیاں ان کی معرفت دوبارہ استعمال ہوتی رہتی۔
ہار اور گجرے
’آؤٹ آف باونڈ ایریا‘
نیپیئر روڈ کا یہ بازار نابالغوں کے علاوہ فورسز کے اہلکاروں کے لیے بھی ممنوع علاقہ تھا۔ کراچی کی تاریخ اور مقامات پر کتاب
‘ایسا تھا میرا کراچی‘
کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ شام ڈھلے گلی کے باہر نمایاں جگہ پر ایک چھوٹا سا بورڈ رکھ دیا جاتا تھا جس پر
’آؤٹ آف باونڈ ایریا‘ لکھا ہوتا تھا جس کا مطلب عام فہم میں یہ تھا کہ یہاں مسلح افواج اور دوسرے سرکاری ملازمین کا داخلہ ممنوع ہے۔
البتہ وہاں سادہ لباس میں ہر وقت پھرتے ہوئے پولیس کے اہلکار ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتے تھے۔
اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کا انٹلیجنس نظام اس بازار میں متحرک رہتا تھا تا کہ فورسز کے اہلکاروں کو اس بازار سے دور رکھا جائے اگر کوئی رنگروٹ یا اہلکار اس بازار میں نظر آجائے تو اس کی اطلاع اوپر ہو جاتی تھی اور فوری طور پر ایک نظام حرکت میں آ جاتا۔
سیٹو سینٹو اور بازار حسن
پاکستان جب 1960 کی دہائی میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے ساتھ سیٹو سینٹو کا رکن بنا تو ایک بار پھر غیر ملکی جنگی بیڑے اور فوجیوں نے یہاں کا رخ کیا اور یہ بازار چمک اٹھا۔
’ایسا تھا میرا کراچی‘
کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ جن دنوں کیماڑی کی بندرگاہ پر غیر ملکی نیوی کے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے تو ان کے ملاح اور ملازم ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے تھے، ان کے کا پیسے کی ریل پیل ہوتی اور وہ گولی کی طرح سیدھے یہاں (نیپیئر روڈ) پہنچتے تھے جہاں نیچے بنے مے خانوں میں شراب اور اوپر سجے کوٹھوں اور قحبہ خانوں میں شباب ان کو میسر ہوتے۔
مصنف کے مطابق حکومت اس کاروبار میں مداخلت نہیں کرتی تھی بلکہ غیر ملکیوں کے وہاں تک داخلے اور واپسی کے عمل کو ممکن اور سہل بناتی تھی، علی الصبح تک وہاں بگھیاں ان مہمانوں کی منتظر رہتی تھیں۔
’ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جب ماحول قدرے آزاد تھا، کراچی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح اور خصوصاً امریکی، برطانوی اور دوسرے ملکوں کے نیوی کے ملاح جن کے بحری جہاز مختصر عرصے کے لیے کراچی کی بندرگاہ پر رکتے وہ یہاں کا رخ کرتے تھے۔‘
قحبہ خانے اور کوٹھے ویران کب ہوئے؟
نیپیئر روڈ کے پان شاپ کے مالک احمد نے کیبن کے ساتھ واقع ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ پرانا ہوٹل ہے اس میں ڈانس کی محفلیں ہوتی تھی۔‘
روڈ کی دوسری جانب ایک تین منزلہ ہوٹل کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہاں بھی محفل سجتی تھی، سب کے پاس اجازت نامہ ہوتا، کوئی غیر قانونی عمل نہیں تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جنرل ضیا الحق کی حکومت کے بعد تبدیلی آئی پہلے رات نو سے 12 بجے کا وقت مقرر کیا گیا اس کے بعد یہ سلسلہ ہی بند کر دیا گیا ورنہ 24 گھنٹے یہ بازار آباد رہتا تھا۔‘
’اس دشت میں اک شہر تھا‘ کے مصنف اقبال رحمان مانڈویا کا خیال ہے کہ یہ بازار دو مرتبہ زبوں حالی کا شکار ہوا وہ لکھتے ہیں کہ جب کراچی کی فلم انڈسٹری ختم ہوئی تو یہاں کی انڈسٹری سے روزی روٹی کمانے والے بہت سارے خاندان لاہور منتقل ہوگئے جس کے سبب بازار کی چہل پہل میں فرق پڑا۔
دوسرا اس وقت جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحریک نفاذ مصطفیٰ کے دباؤ میں آکر ملک میں نائٹ کلب، ریس کورس اور جوا خانے بند کر دیے تو اس بازار پر بھی ضرب پڑی، اس کے بعد کے دور میں اسلامی ذہن رکھنے والے جنرل ضیاالحق نے اس بازار پر ایسی ایسی پابندیاں لگائیں اور آنے والے تماشائیوں کو پولیس نے اتنا ہراساں کیا کہ یہ بازار واقعی اجڑ گیا اس بازار میں 200 سے زائد گھرانے تھے جو سکڑ کے 25 سے 30 رہ گئے تھے۔
’محفل نہیں اب کھپ ہوتی ہے‘
نیپیئر روڈ کی عمارتوں کے نام بھی دلکش تھے، جیسے بلبل ہزار داستان، جمیلہ شکیلہ بلڈنگ، شمشاد منزل، سنگیت محل، فنکار محل، موسیقی محل لیکن اب یہ تمام خاموش ہیں، بلبل ہزار داستان سمیت کچھ کی تعمیر نو کی گئی ہے۔
بلبل ہزار داستان کے داخلی راستے اور اس کے عقب میں واقع عمارت میں اب بھی کچھ خواتین نظر آتی ہی جو بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔
نعیم نے بتایا کہ’ ایک ٹی وی چینل نے یہاں چھاپہ مار کر لڑکیوں کی ویڈیوز بنائیں اس کے بعد پولیس ان کے پیچھے پڑ گئی حالانکہ یہاں سے لڑکیاں اب اسٹیج اور نجی محفلوں میں پرفارمنس کے لیے جاتی ہیں۔‘
نیپیئر روڈ کا آخری سکینڈل شاید سنہ 2000 میں سامنے آیا تھا، جب فاخرہ نامی ایک لڑکی پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ اس مقدمے میں غلام مصطفیٰ کھر کے بیٹے بلال کھر کو نامزد کیا گیا تھا، جس نے ضمانت کروا لی تھی، جبکہ فاخرہ کے متعدد آپریشنز کیے گئے لیکن اس کا چہرہ ٹھیک نہیں ہوا اور واقعے کے تقریباً دس برس بعد اخبارات میں اس کی خود کشی کی خبر آئی تھی۔
نگار سینیما چوک سے اگلے چوک پر امام بارگاہ کے قریب طبلے کی مرمت اور فروخت کرنے والوں کی دکانیں ہیں، جن میں سے کئی جانتے تو بہت کچھ ہیں لیکن بتانا نہیں چاہتے۔
وقار نامی ایک طبلہ مستری کا صرف اتنا کہنا تھا کہ ’اب محفل کہاں اب تو صرف کھپ ہوتی ہے۔ نوٹ : ریاض سھیل کے اس تحقیقی مضمون کا خلاصہ بی بی سی اردو سے لیاگیا۔