Tag: حدیث

  • برائی Evil کا بیج نہ اگنے دیں

    برائی Evil کا بیج نہ اگنے دیں

    برائی Evil کا بیج نہ اگنے دیں

    Dubai Naama

    دین اسلام قانون سے بھی آگے بڑھ کر انسان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ نیک لوگوں کے نامہ اعمال میں نیکی کے  ارادے کا تو ثواب لکھ دیا جاتا ہے لیکن برائی (evil) کا گناہ تب تک نہیں لکھا جاتا ہے جب تک اس پر عمل نہ کر لیا جائے۔ یہ برائی (evil) کے خطرے سے واپس پلٹنے کی ایک مثالی ترغیب ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کے لیئے اسلام تقوی اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کسی نیک عمل کی حسرت پوری زندگی رہے مگر اس پر عمل کرنے کا موقعہ نہ ملے تو اس کا اجر تب بھی ملتا رہتا ہے۔ اگر برائی (evil)کے بارے سوچنے پر قانون سرے سے کوئی سزا یا حد ہی مقرر نہیں کرتا ہے تو یہ انسانی اخلاقیات کے نظام میں ایک سقم ہے کیونکہ (evil) برائی کے بارے سوچنے پر پابندی نہیں ہو گی تو بری سوچ ایک دن انسان کو برے اعمال کرنے پر مجبور کر دے گی۔ انسانی نفسیات کا یہ بنیادی خاصہ ہے کہ ایک فرد کی بری سوچ ہی اسے برائی پر اکساتی ہے۔ اسلام میں پرہیزگاری اور تزکیہ نفس پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے تاکہ کوئی مسلمان گناہ sin کرنا تو دور کی بات ہے وہ گناہ کرنے کا ارادہ ہی نہ کر سکے۔

    ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” ایک مسلمان muslim کو برائی evil کی نیت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے کیونکہ نیت ایک قسم کا ارادہ ہے جو موقعہ ملنے پر عمل پر اکساتا ہے۔ بری نیت گناہ کی ایک قسم کی تحریک ہے جو بلآخر اپنا کام دکھا کر ہی سانس لیتی ہے جبکہ زہنی پاکیزگی اور طہارت ایک عام مسلمان کو بھی پسندیدہ اور صالح انسان بناتی ہے۔ نیت کی خرابی دوسرے انسانوں کی حدود اور حقوق میں دراندازی کرنے کے برابر ہے۔ برائی (evil) کی نیت سے دوسرے انسان ہمیشہ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ حد درجہ خطرناک اور منافقانہ سوچ ہے کہ آپ سوچ کچھ اور رہے ہوتے ہیں اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں۔ اسلام تو پھر اسلام ہے دنیا کا کوئی غیرالہامی مذہب بھی بری نیت اور اعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا ہے۔ منفی خیالات  جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں اور برائی (evil) پر اکساتے ہیں۔ دنیا کا کوئی برے سے برا کلچر بھی اس سوچ کی ترجمانی نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ایسی بری نیت ناپائدار، قابل نفرت اور گھناؤنی ہوتی ہے۔

    دین اسلام عالمگیر اور  پائیدار انسانی بقا کی علامت ہے جو انسانی معاشرے میں زندہ رہنے کی خواہش wish میں توازن پیدا کرتا ہے تاکہ کوئی کسی کے بارے سرے سے برا سوچ ہی نہ سکے۔ فطرت سلیم پر قائم رہنے والے مسلمانوں میں آپ کو یہی سوچ ملے گی جو دوسروں کے بارے نیک تمناؤں کی حامل ہو گی۔ کسی بھی حقیقی الہامی دین Divine-religion جیسا کہ اسلام ہے اس کا یہ خاصہ ہے کہ وہ معاشرے کے تمام افراد کو اس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ متاثر کرے۔ یہ زندگی کے کامیاب اور وسیع تر نقطۂ نظر کی ترجمانی ہے جو انسان کی روح تک کو متاثر کرتی ہے۔ انسان کی باقی زندگی جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ انسان کی اسی نیت Intention اور اس کے بنیادی خیالات سے پھوٹتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، مذہب یا عقیدہ اس وقت تک اپنی بقا کی جنگ نہیں جیت سکتا ہے جب تک اس کے افراد کی نیت اور اعمال اصلی اور پاکیزہ نہ ہوں۔ خیالات کو ظاہر اور باطن کے جس پہلو سے بھی دیکھا اور پرکھا جائے وہ مکمل طور پر شفاف اور خالص نظر آنے چایئے۔ انسان کے اندر کی دنیا مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک قول ہے، جس کا مفہوم ہے کہ، "ماؤں mothers نے انسانوں کو آزاد جنا تھا تم نے کب سے ان کو غلام بنانا شروع کیا ہے؟” دنیا کی کوئی طاقت انسان کو سوچنے سے محروم نہیں کر سکتی ہے۔ سوچنا ہر انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے۔ یہ انسان کی واحد آزادی ہے جو ہرکس و ناکس کو حاصل ہے۔ انسان اتنی آزادی رکھنے کے باوجود خود کو برے خیالات سے بچا لے اور اپنی نیت اور خیالات کو پاکیزہ اور صاف رکھے تو اس کا درجہ خدا کے نزدیک دوبالا ہو جاتا ہے کیونکہ نیتوں کا حال خود انسان جانتا ہے یا اس کا خدا جانتا ہے۔

    دینی لحاظ سے نیک نیتی بقائے تہذیب کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ خالص اسلامی تہذیب کے قیام کے لیئے صرف یہی ایک صورت ہے کہ اچھی نیت اور خیالات برقرار رکھے جائیں تاکہ اعمال کے مثبت اور تعمیری نتائج برآمد ہوں۔ اچھی اور صالح نیت اعلی انسانی تہذیب کا جز ہے اور وہی تہذیب اسلامی کہلانے کی حق دار ٹھہرتی ہے جس کے تمام افراد نیک نیت ہوں۔ کسی مسلمان کے صالح اور پاک خیالات ہی دیرپا اسلامی تہذیب Islamic-civilization کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

    برائی Evil کا بیج نہ اگنے دیں

    بنی نوع انسان جبلتوں کا اسیر ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر گوناگوں جذبات پنپتے اور ابلتے رہتے ہیں جن کا بعض اوقات عام انسان کھل کر اظہار بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ انسان اندر سے جتنا بھی محض خیال آرائیوں اور شخصی تصورات پر مبنی ہو وہ اپنا سارا کچا چٹھا ہر انسان سے شیئر نہیں کر سکتا ہے۔ یہ کشمکش انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہے۔ انسان خود کو ہلکا کرنے کے لیئے برے خیالات پر عمل کر لیتا ہے یا انہیں جھٹک دیتا ہے۔ برے خیالات پر عمل کرنے سے انسان عموما تسکین محسوس کرتا ہے اور یا پھر پچھتاتا ہے۔ وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنے ہی برے خیالات میں کڑھ کڑھ کر مرنے لگتا ہے۔ اس ضمن میں نیت کی پاکیزگی اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہاں کسی کے انفرادی اعمال سے لامحالہ طور پر معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ کسی برے عمل کا تعلق فرد کے ساتھ جماعت سے بھی ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ ایک بدنیت انسان کی معاشرے میں کیا حیثیت ہے۔ جیسے سمندر پانی کے قطروں سے تشکیل پاتا ہے ایسے ہی معاشرہ بھی انفرادی انسانوں کے اکٹھے رہنے اور برتاو’ کرنے سے بنتا ہے۔ انفرادی خیالات اور خواہشات کسی قوم یا ملک کے مجموعی تصوراتی ڈھانچے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کسی کی نیت دل چیر کر دیکھی نہیں جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود کی عزت نفس بچانے کا ایک ہی ذریعہ بچتا ہے کہ خود کو لازمی طور پر بری صحبت اور نقصان دہ خیالات سے ہمیشہ دور رکھا جائے۔

    یہ حقیقت ہے کہ انسان کے سچے اور اعلی پائے کے معاشرتی وجود کی تعلیم و تربیت کے بعد ساری ذمہ داری خود انسان کی ہوتی ہے۔ انسان کے اس تشخص کا بڑا حصہ فرد کی کاوش فکر کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے انسان کی شخصیت کا نمایاں تخلیقی ظہور ہوتا ہے۔ اگر انسان اس نکتے کو نظر انداز کرے اور برے خیالات کو اندر آنے سے نہ روکے تو پھر اس کا برے اعمال سے بچنا محال ہو جاتا ہے۔ ذہن میں کوئی بھی برا خیال آئے تو اسے فوری طور پر رد کرنا چایئے اس سے پہلے کہ وہ جڑ پکڑ لے اور بلآخر آپ کو عمل کرنے پر مجبور کر دے۔ کوئی بھی برا خیال انسان کا دوست نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ نقصان کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ ایک پرہیزگار اور متقی انسان برے خیالات کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرتا جس سے اس کے دماغ میں عمل کرنے کی  الجھن پیدا ہو۔

    چنانچہ ہم میں سے ہر انسان کو اپنی تحلیل نفسی Psychoanalysis کرتے رہنا چایئے کہ کوئی بھی برا اور بد خیال ہمیں عمل پر مجبور نہ کر سکے۔ جب ایک بار دماغ میں کوئی برا خیال پیدا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے جڑ بھی پکڑ لیتا ہے تو پھر برے عمل سے بچنا تقریبا نامممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ایک برا خیال دوسرے کئی برے خیالات تک لے جاتا ہے۔ برے خیالات کا یہ ایسا تانتا بندھتا ہے کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ حیوانی خیالات عموما لذت آمیز بھی ہوتے ہیں۔ انسانوں کی اکثریت جبلی عادات سے  مجبور ہو کر برائی (evil) کرتی  ہے۔ کسی بھی برے خیال کو اپنی جبلت نہیں بننے دینا چایئے۔ انسانی فطرت کو بعض جبلتوں کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے جو بدل نہیں سکتی ہیں۔ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض سماجی نظاموں میں افراد کو بہ حیثیت فرد مسرت حاصل کرنے اور اپنی جائز خواہشات کو پوری کرنے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ نہ تو انسانی فطرت غیرتغیرپذیر ہے اور نہ سماج فرد کا دشمن ہے۔ یہ ہر اہل عقل پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر اور کس طریقے سے خود کو ان برے خیالات اور اعمال سے بچاتا ہے۔

    قرآن پاک کے مطابق "اسلام میں جبر نہیں ہے۔” اس کا اطلاق خود انسانی سوچ اور فکر پر بھی ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خود کو ان برے خیالات سے قبل از وقت نہیں بچائے گا تو وہ اکٹھے ہو کر انسان کو جبر کی حد تک عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ برائی (evil) کو ابتداء ہی میں مسل دیا جانا چایئے۔ برے خیالات کے بیج کو اگنے نہیں دینا چایئے۔ برے خیالات اگ آئیں تو پھر ان کے کانٹوں سے خود کو بچانا ممکن نہیں رہتا ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کا واحد راستہ path یہی ہے کہ خود کو برے خیالات اور اعمال سے بچانے کے لیئے ان کا ابتداء ہی میں قلع قمع کر دیا جائے۔

  • ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    Dubai Naama

    کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ 09 فروری 2026ء میں پاکستان کے ایک بنیادی اور اہم ترین مذہبی مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے اظہاریہ کا عنوان "اسلام کو آؤٹ سورس کرنے کی غلطی”، تھا، جس میں انہوں نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس وقت ریاست کا اپنا کوئی واضح اور شفاف مذہبی  بیانیہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف نہیں گئی ہے۔ کاش کہ ریاست کبھی یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ پاکستان میں دین اسلام کا کونسا سرکاری فقہ یا مسلک رائج ہے؟ آج تک کسی بھی حکومت نے کبھی مشترکہ سرکاری مذہبی بیانیہ کا اعلان نہیں کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تک دین اسلام کی تشریح و تعبیر پر مختلف مسالک اور فرقہ جات ہی کا قبضہ رہا ہے، جو دین اسلام کی تشریح و تعبیر اپنے ہی مذہبی عقائد اور مفادات کے تحت کرتے چلے آ رہے ہیں!

    پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 لاکھ 403 مساجد اور 36 ہزار 331 دینی مدرسے ہیں۔ سینٹ کے 2024ء کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 17ہزار 738 ہے جس میں رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 22 لاکھ 49 ہزار 520 ہے۔ پنجاب میں  10ہزار 12رجسٹرڈ مدارس اور طلبا کی تعداد 6لاکھ 64ہزار 65 ہے۔ سندھ میں رجسٹرڈ مدارس 2416 ہیں اور طلبا کی تعداد 1لاکھ 88ہزار 182 ہے۔بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 575 اور طلبا کی تعداد 71ہزار 815 ہے۔ کے پی کے میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 4ہزار 5 اور طلبا کی کل تعداد 12لاکھ 83ہزار 24 ہے۔ آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 445 اور طلبا کی تعداد 26ہزار 787 ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 199اور طلبا کی تعداد 11ہزار 301 ہے۔

    گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 86 اور طلبا کی تعداد 4ہزار 346 ہے۔ ان تمام دینی مدارس اور مساجد میں ہر جگہ اپنے اپنے فقے، مسلک اور فرقے کی تبلیغ اور ترویج کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں اور تقریبا ہر مسلمان گھر میں اپنے الگ شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی، اہل حدیث، منکرین حدیث، حنفی وغیرہ (اور ناجانے کیا کیا) مسلک، فقہ اور فرقہ جات وغیرہ کے مطابق اسلام پر قائم رہنے اور عبادات کرنے کا درس دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پرائیویٹ اور منقسم قسم کا مذہبی بیانیہ دین اسلام کی حقیقی روح کے بلکل منافی ہے کیونکہ قرآن پاک کی سورة آل عمران  کی آیت نمبر 103 میں واشگاف الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ، "تم سب (مسلمان) مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں (یعنی فرقوں اور مسالک وغیرہ) میں مت پڑو۔” جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ جدا جدا نہ ہو جاؤ جیسا کہ آج پورا پاکستان "دین اسلام” کی بجائے "زہر آلود مذہبیت” میں ڈوبا ہوا ہے۔ دین اسلام کی بھائی چارے، اتحاد اور اجتماعی فکر سے اس انحراف اور فرقہ واریت ہی کی وجہ سے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ مذہبی منافرت پھیلی ہے جس کے نتیجے میں "خودکش” بم دھماکوں نے جنم لیا جس میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں 07فروری کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا افسوسناک خودکش بم دھماکہ بھی شامل ہے کہ جس میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ 

    اس سے قبل مذہبی جنونیت پر مبنی پاکستان میں صرف چند خودکش حملوں کا جائزہ لیں جن سے پورا ملک وقفے وقفے سے افسوس اور غم میں ڈوبتا رہا تو پتہ چلتا ہے کہ کس بے دردی سے مزہب کے نام پر ملک کو خون میں نہلایا جاتا رہا ہے۔ 4جولائی 2003ء کو کوئٹہ میں ایک امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا جس میں 54افراد شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں خودکش حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی۔ موجودہ حملہ میں خودکش حملہ آور دو تھے۔ 29فروری 2004ء کو راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ 3افراد زخمی ضرور ہوئے تھے۔ مئی 2004ء میں کراچی میں دہشت گردی کے اعتبار سے افسوسناک تھا جب 7مئی 2004ء کو ایک بار پھر امام بارگاہ حیدری اور 31 مئی 2004  کو امام بارگاہ علی رضا میں ظہر اور مغرب کی نمازوں کے دوران بم دھماکے ہوئے، یہ دونوں حملے بھی خودکش تھے۔ امام بارگاہ حیدری کے واقعے میں 24افراد شہید اور 100زخمی ہوئے تھے جبکہ امام بارگاہ علی رضا میں خودکش حملے میں 23افراد شہید اور 40زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر 2004ء کو سیالکوٹ کی امام بارگاہ میں بھی خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 25افراد ہلاک اور 50زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ 27مئی 2005ء کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں مجلس عزا کے دوران بم دھماکے میں 28افراد ہلاک اور 67زخمی ہوئے تھے۔ 30مئی 2005 کو کراچی میں امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکار کی جانب سے حملہ آور کو امام بارگاہ کے باہر ہی روک دینے پر زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن  اس حملے میں پھر بھی 3افراد شہید اور 23زخمی ہوئے تھے۔ ہنگو میں 9فروری 2006ء کو 10محرم کے جلوس میں خودکش حملہ ہوا جس میں 40افراد شہید اور 26زخمی ہوئے تھے، 

    ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    اور اس کے بعد آج تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک و مذہب دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا کر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آخر یہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ یہ واضح طور پر  دہشتگردی ہے جس کا دین اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حیرت انگیز طور پر وطن عزیز کے مسالک نے مل کر ان انسانیت کش واقعات کی کبھی کھل کر مذمت کی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کبھی کوئی مشترکہ فتوی جاری کیا ہے۔ یہ محض ایک اور سانحہ ہی نہیں بلکہ واقعی ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ بقول انصار عباسی، "یہ سوال صرف سیکورٹی کی ناکامی کا نہیں بلکہ ریاستی سمت، فکری الجھن اور تاریخی غلطیوں کا ہے۔” اس مذہبی دہشت گردی کے ناسور کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستان کا سرکاری اور قومی نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے جو "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ” کی اساس پر قائم ہوا۔ پاکستان کے آئین 1973ء میں بھی اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب لکھا گیا ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات میں بھی پاکستان میں مسالک اور فرقہ پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ قائدِاعظم فرقہ واریت، صوبائیت اور لسانی تعصب کے سخت مخالف تھے اور پاکستان کو ایک متحدہ قوم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا عقیدے سے ہو، ریاست کے سامنے برابر ہیں اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ ان کا ماننا تھا کہ فرقہ واریت ملک کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔

    ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کے دور حکومت میں 2021ء میں کے پی کے میں امام مسجد کی تنخواہوں کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے بھی کچھ عرصہ پہلے پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لئے وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کا تھا اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ حکومت پنجاب نے آئمہ کرام کی ضروریات پوری کرنے کے لہے بھی باقاعدہ مالی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس دوران سرکاری خطبہ جاری کرنے کو بھی زیر غور لایا گیا تھا لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی مفصل پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس نوع کا سرکاری مذہبی  بیانیہ تمام عرب ممالک میں رائج ہے جہاں فرقہ واریت نام کا کوئی ناسور پایا جاتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی طرح مذہب کے نام پر کبھی خود کش بم دھماکوں جیسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔ 

    ممکن ہے کہ اس نوع کے دہشت گردی کے خودکش حملوں کے پیچھے امریکی مفادات کیلئے پاکستان کی طرف سے لڑی جانے والی جنگیں، افغانستان اور بھارت کی سازشیں وغیرہ کے عوامل شامل ہوں لیکن اس کی تلخ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم عقیدے کی بنیاد پر بطور مسلمان متحد امہ نہیں بن سکے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے مقابلےکے لیئے بارہا عسکری اقدامات اٹھا چکی ہے، آپریشنز ہوئے، دہشت گرد مارے گئے اور نیٹ ورکس توڑے گئے لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری یہ دہشت گردی آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔ قرآن پاک ایک معصوم جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے تو پھر ایک خودکش مذہبی بمبار بھلا جنت میں کیوں کر جا سکتا ہے۔ یہ صرف مذہبی انتہاء پسندی ہے جو دہشت گردوں کی "برین واشنگ” کر کے انہیں یہ اقدامات اٹھانے پر قائل کر لیتی ہے۔ دہشتگردی کا یہ ملک گیر سنگین مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہو گا۔ جتنے مرضی نیشنل ایکشن پلان بنا لیں جب تک دین اسلام کے عقائد اور تعلیمات کے مطابق تمام مسالک کو حکومت کے ایک "مشترکہ اسلامی بیانیہ” پر اکٹھا نہیں کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

    میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاشرے میں مزہب کے نام پر پھیلے ان فرقوں کو اسلام کی من مرضی کی غیر منطقی اور غیر سائنسی تعبیر پیش کرنے کی اجازت دینا اسلام کو ریاستی سطح پر واقعی "آوٹ سورس” کرنے کے مترادف ہے۔ دین اسلام کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنا اسلام کی روح کو مسخ کرنے جیسا عمل ہے۔ اگر پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان بھی واضح طور پر کہتا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، جس کو قرآن و سنت کے مطابق چلایا جانا چاہیئے تو پھر عملی طور پر ریاست نے ہمیشہ سے دین اسلام سے یہ دوری کیوں قائم کر رکھی ہے؟ اس خلا کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف خودکش دہشت گردی نے جنم لیا ہے بلکہ اس سے پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے یعنی لبرل بننے کے چکر میں اسلام ہی کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ یوں دین کی تشریح، تعلیم اور تبلیغ مکمل طور پر انہی گروہوں، فرقوں اور مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی آوٹ سورسنگ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دین اسلام کو ایک تو دنیا سے نکال کر آخرت تک محدود کیا گیا ہے دوسرا اس میں دہشت گردی جیسی لعنت کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ آج اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ ہر فرقہ دوسرے سے الگ تھلگ ایک اپنا ہی اسلام پیش کرتا ہے، ہر مذہبی گروہ نے اپنے نظریئے کو حق اور باقی سب کو باطل قرار دے رکھا ہے۔ حتی کہ ایک ہی شہر اور گاؤں میں ہر فرقے کی الگ مسجد ہے، یہ فلاں کی مسجد ہے اور وہ فلاں کی ہے، اور بعض فرقے تو اس قدر نفرت سے بھرے ہوئے ہیں کہ دوسرے کی مسجد میں داخل ہونے والے کو دائرہ اسلام ہی سے خارج قرار دینے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پاکستان میں کافر کافر کے یہ فتوے کب تک دیئے جاتے رہیں گے؟ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی انتشار اور نفرت کو جنم دیتی ہے بلکہ خودکش دہشت گردی جیسی انتہاپسندی کے لیئے بھی زمین ہموار کرتی ہے۔ 

    اگر ریاست کا اپنا کوئی اسلامی بیانیہ نہیں ہے تو پھر یہ دینی مدارس اور ان کے طلباء ہی وہ کھیپ ہیں جو اس خلا کو یونہی پر کرتے رہیں گے۔ دین اسلام کو اس طرح چوں چوں کا مربہ نہیں بنایا جانا چایئے۔ حکومت اپنے اسلامی بیانیہ کی کوئی رٹ قائم نہیں کرتی تو یہ دہشت گردی پہلے ختم ہوئی اور نہ کبھی آئیندہ ختم ہو گی۔ ہمارے پیارے ملک میں مدت سے جاری دہشت گردی کی فکری جڑیں اسی خلا میں پنپ رہی ہیں جسے ان غیر اسلامی فرقوں کی بجائے حکومت کو پر کرنا چایئے۔ نوجوان نسل کی ذہنی زمین میں ماحول جو بیج بوئے گا وہی پھلے پھولے گا۔ اگر ان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ریاست کا متفقہ، مستند اور ذمہ دار اسلامی بیانیہ کیا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی شدت پسند نعرے کے ہتھے چڑھ سکتی ہے۔ انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں، "یہ صرف مدرسوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرتی بیانیے کا مسئلہ ہے۔” ریاست کو اپنا اسلامی  بیانیہ قائم کرنے کا فریضہ فوری طور پر انجام دینا چایئے۔ "دیر آید درست آید” ریاست کو پاکستان کے قیام اور آئین پاکستان کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے۔ ریاست کا خود کو دینی تعلیم، خطباتِ جمعہ، مدارس، مساجد اور گھروں میں قائم مذہبی نظام سے یوں علیحدہ رکھنے کا چلن درست نہیں ہے، اسے اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ورنہ معصوم جانوں کا خون یونہی بہتا رہے گا۔

    سورہ مائدہ ⁦‪5:32‬⁩ میں ارشاد باری تعالی ہے کہ  ‏“جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” ‏نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: ‏“مسلمان کا خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں”

    ‏(صحیح مسلم)۔ ‏“دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مسلمان کا خون ناحق بہایا جائے” ‏(سنن نسائی)۔

    Title Image by Ahmed Sabry from Pixabay

  • میرے شہر کا لیاقت ، میرے شہر کی شناخت

    میرے شہر کا لیاقت ، میرے شہر کی شناخت

    میرے شہر کا لیاقت ، میرے شہر کی شناخت


    از:عتیق الرحمان اعوان


    برسوں قبل میں نے ایک ریاستی اخبار میں عنوان بالا کے تحت ایک مضمون پڑھا جس میں نو مرحوم سائیں لیاقت کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ آج بہ تاریخ 12 جون 2025 سائیں لیاقت کے جنازے میں شرکت ہوئی تو میری نگاہوں کے سامنے وہ مضمون گھومنے لگا اور دماغ کے دریچوں پر اس کے مندرجات دستک دینے لگے تو اسی وقت فیصلہ کیا کہ سائیں لیاقت کے لیے بساط بھر تحریر ضرور لکھوں گا، سو میری تحریر حاضرِ خدمت ہے۔

    قارئینِ کرام! بات یوں شروع کرتا ہوں کہ اس چیز سے قطع نظر کہ سائیں لیاقت اللّٰہ کے ولی تھے کے نہیں، وہ صاحبِ تصرف بزرگ تھے کہ نہیں، بہر طور میں اپنے آپ کو یہ کہنے میں حق بہ جانب سمجھتا ہوں کہ آج ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ایک جنتی کے جنازے میں شرکت کی ہے، جس میں ناچیز بھی شامل تھا۔ اگر ہم سائیں لیاقت کو ایک محبوط الحواس شخص مان کر ہی اپنی تحریر کو آگے بڑھائیں تو ہر مسلمان کو علم ہے کہ ایسے لوگوں پر شریعت نافذ نہیں ہوتی، اور ایسے لوگ بالیقین بعد از مرگ جنتوں کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں، میرے اس بیان پر یقیناً تمام مسالک کے لوگ متفق ہوں گے تو پھر مجھے یہ کہنے دیجیے کہ آج مجھ ناچیز سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں لوگ ایک جنتی کے جنازے میں شریک ہوئے اور اپنا حصہ لے کر ہی واپس لوٹے۔ خدائے بزرگ و برتر کا ہزار ہاء شکر کے اس نے ہمیں اس عظیم مجمعے کا حصہ بنایا۔
    احباب!
    روحانیت کا مضمون بہت گہرا اور گنجلک ہے، جسے سمجھنے کے لیے انسان کے پاس اسی درجے کا علم اور فہم و فراست ہونی چاہیے میرے جیسے عام اور دنیا دار انسان کے لیے اس موضوع پر گفت گو کرنا انتہائی مشکل بل کہ ناممکن ہے۔ ہم نے سہیلی سرکار علیہ رحمہ کے بارے میں بہت سی داستانیں سن رکھی ہیں، معتقدین انہیں دل و جان سے قبول کرتے ہیں اور ناقدین ٹھٹھہ مذاق میں اڑاتے ہیں، ہر ایک کا اپنا نظریہ اور طرزِ فکر ہے کسی سے اختلاف کیے بغیر ہم اپنی بات آگے بڑھاتے ہیں۔ ویسے تو ہر کلمہ گو اللّٰہ کا محبوب ہے، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو درجات میں بہت آگے نکلے ہوئے ہیں۔ اس پر کتبِ دین میں بے شمار براہین و دلائل موجود ہیں۔ کہیں سے حدیث قدسی سنی کہ جو بندہ اللہ کا محبوب ہو جائے اس کے لیے آسمانوں پر اعلان کیا جاتا ہے کہ اے سکانِ فلک میں فلاں بندے سے پیار کرتا ہوں تم بھی اس سے پیار کرو، پھر اہل زمین میں یہ اعلان کروایا جاتا ہے کہ فلاں انسان خدا کا محبوب ٹھہرا ہے تمہیں خدا کا حکم ہے کہ تم بھی اسے محبوب بنا لو۔ جس جس کے کانوں میں یہ آواز پہنچتی ہے وہ اس بندے سے پیار کرنے لگتا ہے۔ کسی کو اس حدیث کا حوالہ درکار ہو تو انباکس میں رابطہ کر لے، ان شاء اللّٰہ کوشش کر کے حوالہ دے سکتا ہوں۔

    میرے شہر کا لیاقت ، میرے شہر کی شناخت


    خیر بات لیاقت سائیں کی ہو رہی تھی، ہم نے بہت پہلے سنا کہ کسی نے سائیں کو دریا کے اوپر چلتے دیکھا، کسی سے یہ بھی سنا کہ زلزلہ 2005 سے کچھ دیر قبل انہوں نے بہت شور و غوغا کیا اور بھی بہت سے باتیں ان سے منسوب ہیں جن کی سچائی کے بارے میں خدا بہتر جانتا ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ ان کے معتقدین نے اپنے پاس سے ایسی کہانیاں گھڑ لی ہوں بہرحال میں اپنی حالت آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے شاید کبھی بھی سائیں لیاقت سے مصافحہ نہیں کیا، نہ کبھی تھپکی لی اور نہ ہی ان کے پاس بیٹھا مگر جو بات میرے مشاہدے میں آئی وہ یہ ہے کہ انہیں جب بھی دیکھا ایک کیفیت میں دیکھا، جذب و مستی میں دیکھا، یوں محسوس ضرور ہوا کہ اس شخص کی لو کہیں "اور” لگی ہوئی ہے، ورنہ خالی دیگچے گھسیٹنا، گھسٹنے سے پیدا ہونے والے ارتعاش و آواز پر مسکرانا اور خوش ہونا، گلوب گھمانا اور اسی طرح کی اور حرکتیں کرنا محبوط الحواس لوگوں کے کرنے کے کام نہیں ہیں یہ صرف میری رائے ہے آپ مجھ سے نااتفاقی کا ارتکاب بہ خوشی کر سکتے ہیں۔ سائیں لیاقت کی نظریں اکثر آسمان کو کھوجتی تھیں اور چہرہ ہمیشہ متفکر ہوا کرتا تھا واللہ اعلم ان تمام حرکات و سکنات میں کون سے راز پوشیدہ ہیں کوئی صاحب بصیرت و بصارت شخص ہی بہتر رہنمائی کر سکتا ہے۔
    البتہ آج شہرِ مظفرآباد ان کے دیگچے کی جھنکار سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا، ان کے مریدین و معتقدین ان کی رفاقت سے محروم ہو گئے تاہم ناقدین پہلے بھی اکثر ان کے بارے میں اپنی فلسفیانہ و عالمانہ رائے کا برملا اظہار کرتے رہتے تھے اور وہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، اللہ انہیں بھی برکت دے۔
    میری تحریر کا آخری حصہ ان کے جنازے کا احوال ہے۔ قارئین کرام ایک دن قبل سوشل میڈیا کے ذریعہ ان کے انتقال کی خبر ملی اور پھر ان کے ورثاء کے بارے میں بننے والا تنازعہ اپنی نوعیت کا ایک عجیب واقعہ تھا، جس سے مجھے بابا گرو نانک کی لاش کے بارے میں سنا واقعہ یاد آ گیا کہ سکھ ان کی چتا جلانا چاہتے تھے اور مسلمان انہیں دفنانا چاہتے تھے جس پر تنازعہ کھڑا ہو گیا مسلمان انہیں مسلمان مانتے تھے اور سکھ سکھ مت کا پیروکار۔ بالآخر ان کی میت از خود غائب ہو گئی اس واقعہ کی صحت پر بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، میں نے محض مماثلت کی وجہ سے یہاں بیان کیا۔ البتہ ان کی میت وصولی کے حوالے سے بننے والا ڈیڈ لاک انہیں ملک اور بیرون ملک تک متعارف کروا گیا مجھے تو یہ قضیہ بھی ان کی شہرت کے لیے کیا گیا خدائی انتظام ہی معلوم ہوا، ہمارے بھائی حق نواز مغل نے اس بارے میں بہت گہری بات لکھی تھی جس سے مجھے سو فی صد اتفاق ہے۔ بہر حال بلا مبالغہ آج میں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے اجتماع میں شرکت کی ہے، اتنا بڑا ہجوم میں نے مظفرآباد میں کسی کے جنازے میں نہیں دیکھا اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کئی دھائیوں تک لیاقت سائیں کے جنازے کا ریکارڈ قائم رہے گا۔ عدالت العالیہ سے متصل گراؤنڈ عوام و خواص سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے صفوف کی ترتیب بھی درست کرنا ممکن نہ تھی جسے جہاں جگہ ملی ٹیڑھی سیدھی صفوں میں کھڑا ہو کر نمازِ جنازہ ادا کر دی۔ ہزاروں لوگ گراؤنڈ سے باہر موجود تھے جنہوں نے باہر سڑک کے دونوں جانب اور لیاقت شہید کے مزار تک کھڑے ہو کر نمازِ جنازہ ادا کی۔ اعداو شمار شاید کوئی تنظیم جاری کرے ہمارے شمار میں اتنا بڑا ہجوم آنا مشکل ہے۔ کسی بزرگ کا قول سنا تھا کہ جنازے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون کس درجہ کا مسلمان ہے۔ کسی نے فیس بک پر یہ تبصرہ بھی فرمایا تھا کہ تمام لوگ صرف اس وجہ سے جنازے میں آئے تھے کہ نیک انسان کا جنازہ ہے ہماری بھی بخشش ہو جائے گی، یہ سوچ ہی بہت بابرکت ہے کہ لوگ کم سے کم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ لیاقت سائیں ایک نیک انسان تھا۔
    لیاقت سائیں خدا سے دعا ہے کہ آپ کو ہمیشہ جنتوں میں آسودہ رکھے اور آپ کے طفیل ہمارے حال پر بھی رحم فرمائے۔ آمین

  • اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    Dubai Naama

    اسلام واقعی ایک آفاقی نظام عمل ہے تو اس کے عقائد اور تعلیمات کو ہر عہد کے تقاضوں اور ضروریات پر پورا اترنا چاہئیے۔ اسلام کے مطابق کامیاب زندگی گزارنے کے لیئے قرآن پاک دین اسلام اور اہل ایمان کا پہلا الہامی زریعہ ہے جس کی آیات مبارکہ اس مجوزہ معیار پر مکمل طور پر پورا اترتی ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات کا دوسرا بڑا منبع احادیث نبوی ﷺ ہیں جو کئی ہزار کی تعداد میں ہو سکتی ہیں لیکن احادیث کی کل تعداد کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ان میں محدثین کے مختلف اقوال بھی شامل ہیں۔ محدثین کی اصطلاح میں صرف آپ ﷺ کے ارشادات کو حدیث نہیں کہا جاتا، بلکہ آپ ﷺ کے افعال، اخلاق، احوال اور آپ کی موجودگی میں لوگوں کے کئے ہوئے وہ کام جن پر آپ نے گرفت نہیں فرمائی، اور اس کے ساتھ صحابہ کے اقوال، ان کے مفتیوں کے فتاویٰ، زمانۂ خلافت میں ان کی عدالتوں کے فیصلے، بلکہ تابعین کے فتاویٰ اور جج ہونے کی حیثیت میں ان کے فیصلے، اور قرآنی آیات پر تشریحی نوٹس بھی احادیث میں شمار کئے گئے ہیں۔

    اس کے باوجود کہ احادیث کی کل تعداد متعین نہیں ہے تاہم، احادیث کی مشہور کتب میں صحیح بخاری (بشمول تکرار) 9086 اور صحیح مسلم میں 7275 احادیث شامل ہیں۔ غیر مکرر احادیث کی تعداد بخاری میں 2,600 اور مسلم میں تقریباً 4,000 ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں کل سورتوں اور آیات کی تعداد مخصوص ہے جس میں 114 سورتیں ہیں جن میں 86 مکی اور 28 مدنی سورتیں سرفہرست ہیں جبکہ  قرآن مجید میں کل آیات کی مشہور تعداد 6666 ہے، جبکہ محققین اور ماہرینِ قرآنیات کے مطابق صحیح تعداد 6236 ہے۔ یہ اختلاف آیات کو الگ الگ یا ملا کر گننے کی وجہ سے ہے، تاہم قرآنی متن اور پیغام میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ چونکہ قرآن فرقان آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺ پر اترا اور نبی مکرم ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے بند ہو گئے ہیں تو اب یہ اسلامی علمائے عظام، مفسرین، فقہاء، محدثین و مفکرین اور خاص طور پر مجددین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ ﷻ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی تشریح و تعبیر ہر عہد کے جدید سے جدید ترین علوم اور پیمانوں کی زبان اور معیار کے مطابق پیش کریں تاکہ جہاں اسلام کو آسانی سے سمجھا جا سکے وہاں اسے روزمرہ زندگی پر لاگو کرنا بھی آسان ہو جائے۔

    الہامی پیغام اور تعلیمات و عقائد غیرمتبدل اور ہر عہد کا علم اور حالات متبدل ہوتے ہیں جن کے درمیان توازن قائم نہ کیا جائے یا اس کے تقاضوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو مذہبی علوم اور عقائد کے قدیم (آوٹ ڈیٹڈ) ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ آج کی ترقی یافتہ دنیا اسلام اور مسلمانوں پر "دقیانوسی” اور "جہلا” وغیرہ کے الزامات لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیئے محدثین اور مجددین اسلامی تعلیمات اور عقائد کا احیاء کرتے ہیں تاکہ "اسلامی ضابطہ حیات” جدید ذہن کی سمجھ میں آ سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے یعنی اسلامی تعلیمات اور عقائد کے نئے مفاہیم اور مطالب کو عام نہ کیا جائے تو اسلام کا مکمل ادراک اور اسے ہر عہد میں عملی زندگی کا حصہ بنانا ناممکن نہیں تو تقریبا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا بنیادی حل علماء اسلام، مسلم فقہاء، مفسرین، شارع اور مترجمین پیش کر سکتے ہیں جن کے ذہن کی رسائی جدید علوم مثلا کوانٹم سائنس، نفسیات اور مائنڈ سائنسز پر بھی ہو۔ جہاں ان سائنسی علماء کا مشاہدہ تیز ہو وہاں وہ مستقبل کے جدید علوم پر بھی نظر رکھ سکیں کہ انسان ان کے ذریعے کس بلندی تک ترقی کا سفر طے کر سکتا ہے اور اس میں دین اسلام کیا کردار ادا کر سکتا ہے مثال کے طور پر پاکستان کے قومی شاعر، مفکر اور فلسفی ڈاکٹر علامہ اقبال کا واقعہ معراج کے بارے یہ شعر ملاحظہ کریں، جس میں وہ فرماتے ہیں،
    "سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
    کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں ” 

    واقعہ معراج کی ایک تشریح وہ ہے جو علمائے دین اللہ تعالی ﷻ سے نبی کریم ﷺ کی ملاقات اور دیدار کے حوالے سے کرتے ہیں اور دوسری وہ ہے جو علامہ اقبال کی نظر میں آسمان کی بلندیوں تک سائنسی علوم کی ترقی کے ذریعے ہے جس کی زد میں سات آسمان (گردوں) آتے ہیں۔ اس مد میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ علیہ کی تعلیمات میں جدید اسلامی فکر کے نمایاں پہلو ملتے ہیں جبکہ مولانا مودودیؒ نے بھی اس میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ دور جدید سائنسی عروج کا عہد ہے اور نت نئی ایجادات نے قدیم انسانی تہذیب کے نمایاں عناصر کے بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔

    مولانا مودودیؒ اسلامی فکر کو ترویج دینے کے قائل تھے۔ انہوں نے اسلامی فکر کے مسلسل ارتقاء میں رہنے کا جو نظریہ دیا وہ قابل تعریف ہے اور یہی مسلمانوں میں علمی تعطل کا واحد حل بھی ہے۔   امام مودودیؒ فرماتے ہیں کہ، "مدینہ سے مماثلت پیدا کرنے کا مفہوم کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبے پر قائم ہے اس سے رجعت کر کے اس تمدنی مرتبے پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اصحابؓ کا یہ مفہوم سرے سے غلط ہے اور اکثر دین دار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسا لباس وہ پہنتے تھے ویسا ہی ہم پہنیں جس قسم کے کھانے وہ کھاتے تھے اسی قسم کے کھانے ہم بھی کھائیں جیسا طرز معاشرت ان کے گھروں میں تھا بعینہٖ وہی طرز معاشرت ہمارے گھروں میں بھی ہو۔ تمدن و حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بلکل متحجر صورت میں قیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں اور ہمارے اس ماحول سے باہر کی دنیا میں جو تغیرات واقع ہو رہے ہیں ان سب سے آنکھیں بند کر کے ہم اپنے دماغ اور اپنی زندگی کے اردگرد ایک حصار کھینچ لیں جس کی سرحد میں وقت کی حرکت اور زمانے کے تغیر کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔” 

    اسلامی تعلیمات اور جدید دور کے تقاضے

    دراصل وقت کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کا یہ جدید نقشہ پیش کرنا ان مجددین کا کام ہے جو اسلام کی تشریح ان جدید علوم کی روشنی میں کر سکیں جو درحقیقت ہر عہد کے جدید علوم کے معیار پر عین پورا اترتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ اس مد میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اتباع کا یہ تصور جو دور انحطاط کی کئی صدیوں سے دین دار مسلمانوں کے دماغوں پر مسلط رہا ہے درحقیقت روح اسلام کے بالکل منافی ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔

    میرے رائے میں بھی اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثار قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو قدیم تمدن کا ایک تاریخی ڈرامہ بنائے رکھیں۔ اسلامی فکر ہمیں رہبانیت اور قدامت پرستی نہیں سکھاتی ہے۔ اسلامی ضابطہ اور جدید تعلیمات کا مقصد دنیا میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا نہیں ہے جو تغیر و ارتقا کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، بلکہ اسلام کا مطلب و مقصود اس کے بالکل برعکس ہے اور اسلام مسلمانوں کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جو تغیر و ارتقا کو غلط راستوں سے پھیر کر صحیح راستے پر چلانے کی کوشش کرے یعنی جدید علوم کا حصول ممکن بنا کر خود بھی ترقی کرے اور دوسری اقوام کو بھی کروائے۔

    دین اسلام میں "امامت” کا مفہوم دوسروں کے لیئے خیر کا باعث بننا ہے۔ ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم یہ ہے کہ، "تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیئے منافع بخش ہو۔” اسلام کا اجتماعی درس بھی یہی ہے کہ جو امت کو قالب نہیں دیتا بلکہ روح دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ زمان و مکان کے تغیرات سے زندگی کے جتنے بھی مختلف قالب قیامت تک پیدا ہوں ان سب میں امت مسلمہ یہی روح بھرتی چلی جائے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں امت نبوی ﷺ کا مشن یہ ہے کہ مسلمان "امت خیر” بنے رہیں، جنہیں اس لیئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ ارتقاء کے راستے پر چلیں اور اس سلسلے میں وہ دوسروں کی بھی امامت اور رہنمائی کرتے چلے جائیں۔

  • دبئی قونصلیٹ امارات

    دبئی قونصلیٹ امارات

    دبئی قونصلیٹ امارات

    Dubai Naama

دبئی قونصلیٹ امارات

    ڈاکٹر عطاء الرحمن کا دستخط شدہ ایک "ڈیتھ سرٹیفکیٹ” میرے سامنے ہے۔ ڈاکٹر موصوف، آفس آف پلگرمز افیئرز پاکستان، مکہ مکرمہ میں میڈیکل آفیسر (حج) ہیں۔ یہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ دبئی کی رہائشی ایک پاکستانی برٹش خاتون کا ہے جو امسال حج کے دوران مکہ مکرمہ میں 3جون کو فوت ہوئیں۔ یہ ڈیتھ سرٹیفکیٹ 8جون کو جاری کیا گیا۔ لیکن لواحقین کو یہ تفصیل نہیں بتائی گئی کہ دبئی، برطانیہ یا پاکستان میں اسے استعمال کرنے کے لیئے اس سرٹیفکیٹ کو پہلے پاکستان قونصلیٹ جدہ اور پھر فارن آفس (جسے مختصرا "موفا” کہتے ہیں) سے اٹیسٹ کروانا بھی ضروری ہے۔ اول ایسے کسی ڈاکومنٹ کی موفا تصدیق ہی ایک تھکا دینے والی جدوجہد ہے۔ دوم جب اس کاغذ کو متحدہ عرب امارات، دبئی (یا کسی دیگر ملک وغیرہ) میں استعمال کرنا ہو تو دبئی قونصلیٹ سے کونٹر اٹیسٹیشن کروانا پڑتی ہے، جس کے بعد دبئی سے بھی دوبارہ موفا اٹیسٹیشن ہوتی ہے، اور دبئی قونصلیٹ کسی ایسے ڈاکومنٹ کی اس وقت تک تصدیق کرنے نہیں کرتا ہے جب تک اسے واپس سعودی عرب لے جا کر پاکستان قونصلیٹ جدہ اور موفا سے تصدیق نہ کروایا جائے۔

    اس پیچیدہ عمل پر طرفہ لطیفہ یہ ہے کہ دبئی قونصلیٹ میں ایسا کوئی انتظام نہیں ہے کہ سعودی عرب جانے کے لیئے ویزہ، ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل وغیرہ پر خرچ سے بچنے کے لیئے دبئی قونصلیٹ ہی میں، پلگرمز افیئرز پاکستان، مکہ مکرمہ (یا مدینہ) کے ایسے ڈاکومنٹ کو تصدیق کر دیا جائے، یعنی آپ عدم معلومات کی وجہ سے ایسا ڈاکومنٹ لے کر دبئی آ گئے ہیں تو آپ کو سعوی عرب کا کم و بیش دو ہفتوں کا دوبارہ چکر لگانا پڑے گا جس پر آپ کا کل ملا کر مبلغ 20 ہزار درہم تک خرچہ اٹھے گا، جو کہ پاکستانی روپے میں تقریبا 16 لاکھ بنتا ہے۔

    اس ڈاکومنٹ کی دبئی قونصلیٹ سے تصدیق کے لیئے مجھ سے مرحومہ کے خاوند نے رابطہ کیا تو یہ تلخ اور مشکل معلومات میرے علم میں آئیں۔ میں چار پانچ دفعہ پاکستانی سفارت خانہ ابوظہبی گیا ہوں جہاں میری ملاقات پاکستانی سفیر سید فیصل نیاز ترمذی صاحب سے ہوئی، اور پاکستان قونصلیٹ بھی بہت دفعہ چکر لگا ہے۔ ان دونوں جگہوں پر درجنوں پاکستانیوں کو تپتی دھوپ پر کھڑے دیکھا، اور ان کو سنا بھی، جس وجہ سے مجھے وہاں فائلیں اور کاغذات اٹھائے سائلین کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کا علم ہے۔ خاص طور پر دبئی قونصلیٹ کے باہر جو پاکستانی نیشنلز پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیو کروانے آتے ہیں انہیں بہت زیادہ مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ابوظہبی سفارت خانہ اور دبئی قونصلیٹ میں ایک تو انفارمیشن ڈیسک اور "آوٹ سائڈ” انتظار گاہیں نہیں ہیں، دوسرا وہاں آنے والوں کو یہاں پہنچ کر پتہ چلتا ہے کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیو کروانے کے لیئے، پہلے آن لائن اپونٹمنٹ بک کروانی پڑتی ہے جو بعض دفعہ ایک ہفتہ سے لے کر ایک ماہ تک ملتی ہے۔ دوبئی کونسلیست کے باہر کچھ ایجنٹ بھی یہ کام کرتے ہیں اور اس کے سامنے ایک ٹائپنگ سنٹر بھی اپونٹمنٹ لے کر دیتا ہے۔ لیکن ان کی فیس تین سو پچاس درہم تک ہے اور ارجنٹ اپونٹمنٹ لو تو فیس دگنی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ پھر ان کو منہ مانگے پیسے دو تو اسی دن کی بکنگ بھی ہو جاتی ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ وہ یہ اپونٹمنٹ لینے کے لیئےقونصلیٹ میں کیا "ذریعہ” استعمال کرتے ہیں یا اس میں کون اہل کار ملوث ہیں۔ اگر اپونٹمنٹ اپنے طور پر لی جائے اور زیادہ وقت لگے تو اس دوران بعض سائلین کے ویزے ختم ہو جاتے ہیں اور ان کا جرمانہ شروع ہو جاتا ہے، پاسپورٹ کی ارجنٹ فیس پر دس دن اور نارمل فیس پر رینیوول کے لیئے ایک ماہ لگتا ہے۔ شناختی کارڈ کی رینیول کے لیئے بھی تقریبا اتنا ہی وقت لگتا یے۔ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دونوں اسلام آباد سے پرنٹ ہو کر آتے ہیں۔ حالانکہ ایک سو درہم یا مناسب فیس بڑھا کر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ رینیول اور پرنٹنگ کا احتمام ابوظہبی اور دبئی میں بھی کیا جا سکتا ہے۔ مقامی پرنٹنگ سے ایک تو حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو گا دوسرا سائلین کو بھی بروقت ڈلیوری ہو گی۔ اسی طرح ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیئے بھی دبئی اور ابوظہبی میں سعودی عرب کے سفارت خانوں سے آن لائن تصدیق کا احتمام کیا جا سکتا ہے جس سے وقت اور اخراجات میں بھی کمی آئے گی اور حکومت کی انکم میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔

    ہم سب جانتے ہیں کہ حج اور عمرے کے دوران ہر سال سینکڑوں حاجی مکہ اور مدینہ میں وفات پاتے ہیں جن کی اموات کے کاغذات کی تیاری اور تصدیق ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں ‘ڈیتھ سرٹیفکیٹ’ جائیداد کی ٹرانسفرز وغیرہ کے حوالے سے بہت اہم ڈاکومنٹ ہے جس کا مقامی انتظام کرنے سے جعل سازی، رشوت اور بہت سی دیگر پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بعض دفعہ ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں کہ زندوں کو "مردہ” اور مردوں کو "زندہ” ثابت کر دیا جاتا ہے۔ خاص طور سفارش اور رشوت کی بیماری عام ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا بذات خود ایک مشکل کام ہے، چہ جائیکہ بہت سے "اینجٹس” دے دلا کر ناممکن کام کو بھی ممکن بنا دیتے ہیں۔

    میں پاکستان کی بیوروکریسی، اس کے "فائل سسٹم ” اور "ایز پر پروسیجرز” کے بارے میں کافی جانتا ہوں۔ لطف کی بات ہے کہ میں نے اس ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے لیئے جو بھاگ دوڑ کی ہے اس سے بہت سارے دیگر حیران کن حقائق بھی میرے سامنے آئے، جن میں متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ میں "پاکستان سنٹر” کی تعمیر اور اس کا "ناجائز استعمال” بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ بھی کافی پیچیدہ، بلکہ گھناونا ہے کیونکہ لگتا ہے کہ اس میں گزشتہ سفارت کار کرپشن میں ملوث تھے۔ اس حوالے سے دبئی قونصلیٹ کے سی جی محمد حسین سے بھی میری دو دفعہ بات ہوئی ہے۔ وہ کافی ذمہ دار سفارت کار ہیں اور اس معاملے پر انہوں نے ایک تین رکنی کمیٹی بھی بنائی ہے۔تاہم اس موضوع پر کچھ مزید تحقیق کی ضرورت ہے، جس پر کسی اگلی نشست میں بات ہو گی۔

    حج کی فرضیت اور اہمیت قرآن و حدیث میں بڑی واشگاف الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ قرآن مقدس میں اللہ پاک نے حکم دیا یے: ’’جو استطاعت رکھے اس پر اس گھر کا حج فرض ہے اور جو کوئی انکار (کفر) کرے تو اللہ عالم والوں سے بے پرواہ ہے‘‘ ( آل عمران:۹۷)۔ اسی طرح ایک حدیث شریف کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ، ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ توحید و رسالت، نماز کا قیام، زکوٰۃ کی ادائیگی، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘

    یوں حج کرنا اسلام کے بنیادی فرائض میں شامل ہے مگر اس کے لیئے جہاں اسطاعت رکھنا لازم ہے وہاں مکمل طور پر صحتمند اور سفر کے قابل ہونا بھی ضروری ہے۔ بہت سے مسلمان مکہ اور مدینہ میں دفن ہونے کی خواہش کرتے ہیں مگر وہاں مرنے کی تمنا کرنا برحق نہیں ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو دین اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • ماہِ صفر کی بدعات اور حقائق

    ماہِ صفر کی بدعات اور حقائق


    ماہِ صفر کی بدعات اور حقائق

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ’’صفر المظفر‘‘ ہے، جو عرب جاہلیت کے دور میں منحوس اور بَلاؤں کا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے کے لوگ صفر میں شادی، نکاح، سفر اور دیگر امور زندگی انجام دینے سے گریز کرتے تھے۔ حیرت انگیز طور پر یہی باطل تصور امتِ مسلمہ کے بعض طبقات میں آج بھی موجود ہے، حالانکہ رسولِ اکرم ﷺ نے ان جاہلانہ عقائد کا نہ صرف انکار کیا، بلکہ ان کی بنیاد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔

    عربوں کے ہاں قبل از اسلام صفر کا مہینہ نحوست کا مظہر تھا۔ ان کے عقیدے کے مطابق یہ وہ مہینہ تھا جب آسمان سے بلائیں نازل ہوتیں  اور بیماریاں عام ہوتیں۔ اسی عقیدے کو تقویت دینے کے لیے وقت گزرنے کے ساتھ کچھ جعلی روایات بھی گھڑی گئیں، جنہیں بدقسمتی سے بعض مسلمان حلقے صحیح سمجھ کر عمل پیرا ہو گئے۔

    صفر کے بارے میں کئی من گھڑت حدیث موجود ہیں۔ صفر کی نحوست کو جواز دینے کے لیے جو حدیث مشہور کی گئی، وہ درج ذیل ہے: "مَنْ بَشَّرَنِیْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ، بَشَّرْتُہٗ بِالْجَنَّۃِ”

    ترجمہ: "جو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوشخبری دے گا، میں اسے جنت کی خوشخبری دوں گا۔”

    یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے اور اس کا کوئی اصل و سند نہیں۔ حدیث کے محدثین مثلاً ملا علی قاریؒ، علامہ شوکانیؒ، علامہ عجلونیؒ اور علامہ طاہر پٹنیؒ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔

    رسول اللہ ﷺ نے اس بات کی سختی سے تردید فرمائی کہ کسی مخصوص مہینے یا دن میں کوئی نحوست ہو سکتی ہے۔

    حدیث مبارکہ ہے: ’’لا عدویٰ ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر‘‘ (بخاری، کتاب الطب، حدیث: 5770)

    اس حدیث کے مطابق  اللہ کے حکم کے بغیر  بیماری خود بخود نہیں لگتی۔

    پرندوں  یعنی اُلو سے بدشگونی لینا غلط ہے،  صفر میں نحوست کا کوئی وجود نہیں،  صفر کے آخری بدھ کی بدعات بھی  ہمارے معاشرے میں  موجود ہیں۔ صفر کے آخری بدھ کو بعض لوگ  مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں، مخصوص نمازیں پڑھتے ہیں۔  چُوری اور حلوہ تیار کرتے ہیں ،   روزہ رکھتے ہیں اور جھوٹی روایت کے تحت نبی کریم ﷺ کے شفایاب ہونے کی خوشی مناتے ہیں۔

    یہ تمام اعمال نہ صرف خلاف سنت بلکہ غلط عقائد پر مبنی ہیں۔ درحقیقت تاریخ اسلام کے معتبر منابع بتاتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیماری کا آغاز صفر کے آخری بدھ ہی کو ہوا، نہ کہ آپ کو  شفا ملی۔

    مفتیان کرام اور علماے اہل سنت کے فتاویٰ بھی موجود ہیں۔ مفتی محمد شفیعؒ (امداد المفتین) کے مطابق   صفر کے آخری بدھ کا روزہ اور مٹھائی بدعت اور ناجائز ہے۔

    علامہ عبد الحی لکھنویؒ کے مطابق   آخری بدھ کی مخصوص نماز کا کوئی شرعی ثبوت نہیں، یہ ایجابی بدعت ہے۔

    فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ رشیدیہ، فتاویٰ محمودیہ، کفایت المفتی، احسن الفتاویٰ، فتاویٰ فریدیہ کے مطابق   سب نے ان رسومات کو جہالت، بدعت اور عوام الناس کی گمراہی قرار دیا ہے۔

    اگر بالفرض یہ حدیث درست بھی ہوتی (جو کہ نہیں ہے)، تب بھی اس کا تعلق صفر کی نحوست سے نہیں بلکہ رسول ﷺ کے شوقِ وصال سے جڑا ہوا ہو سکتا تھا، یعنی جو ربیع الاول کی آمد کی خبر دے، وہ محبوبِ خدا کی ملاقات کا وقت قریب لانے والا ہے۔

    ان بدعات کے کئی  منفی اثرات بھی ہیں۔  یہ بدعات توحید پر ضرب ہیں اور یہ  بدعات شرک کی جانب لے جاتی ہیں

    ان بدعات کی وجہ سے لوگ سنت سے دوری اختیار کرلیتے ہیں،  بدعتوں کی کثرت سنتوں کے ترک کا سبب بنتی ہے

    ان بدعات کی وجہ سے عوامی ذہنیت پر غلط اثر پڑتا ہے اور  لوگ غلط عقائد کو دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں

    ان بدعات میں سماجی خرچ اور ریاکاری  شامل ہوتی ہے۔ یہ  غیر شرعی تقریبات مالی اور روحانی نقصان کا سبب بنتی ہیں

    عوام الناس کو صحیح عقیدہ و عمل کی تعلیم دی جائے، خطباتِ جمعہ اور دروس میں صفر کی بدعات کی علمی اور دلیل سے نفی کی جائے۔  کمیونٹی لیڈرز، ائمہ، اور مدارس ان موضوعات پر بروقت روشنی ڈالیں،  کتب و پمفلٹس کی اشاعت کے ذریعے عوام کو باخبر کیا جائے، عوامی میلوں اور تقریبات سے علماء دوری اختیار کریں جن کی بنیاد بدعت پر ہو

    ماہِ صفر بذاتِ خود کوئی منحوس مہینہ نہیں۔ اس سے منسوب تمام توہمات، بدعات اور رسومات جہالت کی باقیات ہیں۔ اس مہینے کی نحوست سے متعلق حدیث من گھڑت  ہے، جسے رد کرنا دینی فریضہ ہے۔ اُمتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کی روشن تعلیمات کی روشنی میں ہر قسم کے جاہلانہ نظریات سے نجات حاصل کرے  اور شریعتِ محمدی ﷺ پر عمل پیرا ہو کر اپنی دنیا و آخرت کو سنوارے۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بدعت سے محفوظ رکھ کر سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

    Title Image by Mollyroselee from Pixabay

  • اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    Dubai Naama

اسلامک سائنس اور مذہبی فرقہ جات

    عموما مذہب اور سائنس کو ایک مغالطہ کے زیر اثر ایک دوسرے کا متضاد یا مدمقابل قرار دیا جاتا ہے۔ بالخصوص اسلام کو سائنس میں ڈھونڈنے کا الزام اسی ایک سطحی سوچ کا نتیجہ ہے۔ پوری قرآنی آیات اور تعلیمات و احادیث مبارکہ میں کسی ایک جگہ پر بھی سائنس اور ٹیکنالوجی یا دیگر جدید علوم کے برخلاف کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ چہ جائیکہ کہ قرآن کریم کبھی تفصیلا اور کبھی اشاروں کنایوں میں دین اسلام کے عالمگیر علوم اور زندگی کے عملی قواعد و ضوابط کا ایک مکمل اور بھرپور نمونہ پیش کرتا ہے۔

    قرآن کریم کے شائد بہت کم محققین اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ قرآن مقدس میں قیامت تک کی جدید سے جدید تر سائنسی و آفاقی تعلیمات کے بارے میں ارشادات باری آیات کی صورت میں موجود ہیں۔ اگر کسی قاری یا مفسر کی نظر اس طرف نہیں جاتی تو یہ ان کا قصور ہے قرآن مجید کا نہیں ہے۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے جن کو رب کائنات نے غیر متبدل اور اٹل طبیعاتی قوانین کے مطابق قائم رکھا ہوا ہے۔ قرآن بلیغ میں ایک ایک آیت کے لامتناہی مطالب اور مفاہیم ہیں جن کو وقت کے قدیم اور جدید پیمانوں پر جب بھی پرکھا جائے گا وہ ان کے معیار اور مقام پر عین پورا اتریں گے۔ قرآنی آیات کو اسی لیئے "آیات آفاق” بھی کہا جاتا ہے کہ ان سے ہر آنے والے جدید دور میں اس کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق ہمیشہ معانی اور مطالب نکلتے رہیں گے۔ اگر قرآن کی کچھ آیات کا لفظی ترجمہ کیا جاتا ہے، ان کی معنویت سے کچھ ناپسندیدہ چیز برآمد کی جاتی ہے تو اس میں انسانی فہم و فراست کی لغزش ہے ورنہ قرآن اقدس میں کسی بھی جگہ کم بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے یعنی قرآن فرقان کے ہم قارئین اور مبصرین و مبلغین کو کوئی غلطی لگ سکتی ہے مگر قرآن حکیم میں کسی غلطی یا لغزش کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    قرآن پاک میں مثال کے طور پر ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ، "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو،” جس کا ایک مطلب و مفہوم "اللہ کی رسی” سے متعلق ہے اور دوسرا "تفرقہ میں نہ پڑو” کے بارے میں ہے۔ اللہ کی رسی کو طبیعات کے بنائے گئے سائنسی قوانین سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اسے انسانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے جبکہ تفرقے میں نہ پڑو سے مراد یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے انہی سائنسی قوانین میں زندگی اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو بھٹک جاو’ گے اور ناکام رہو گے۔

    اللہ کی یہ رسی پوری کائنات کا احاطہ کیئے ہوئے ہے اور اس نے کائنات کی ایک عام سی چیز لکڑی اور پتھر وغیرہ سے لے کر زمین، چاند ستاروں اور کہکشاو’ں کو سائنس کی زبان میں کہا جائے تو "کشش ثقل” کے ذریعے ایک مضبوطی کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یہ کائنات تب تک قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ جب اللہ تعالی اپنی اس "رسی” (Gravity) کو کو کھول دے گا یا ختم کر دے گا تو سارے ستارے اور سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور "قیامت” برپا ہو جائے گی جس کی سائنس اور مذہب دونوں تصدیق کرتے ہیں کہ بلآخر ایک دن یہ کائنات منہدم ہو جائے گی۔

    اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم بنی نوع انسان زندگی، کائنات اور اپنے روزمرہ کے معاملات کو ان مصدقہ سائنسی اور فطری اصولوں اور قاعدوں کے مطابق نہیں چلائیں گے تو ہماری زندگی نہ صرف پرآسائش نہیں ہو گی بلکہ اس سے ہر دم ہمارا سامنا ایک "قیامت صغری” سے رہے گا۔ اس آیت مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم "مذہبی تفرقے” کے حوالے سے کیا جائے تو قرآن پاک میں واضح طور پر تفرقوں یا "فرقہ بندی” سے منع کیا گیا ہے مگر قرآن حمید کی اس آیت کریمہ کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت خود کو سنی، شیعہ، وہابی، دیوبندی اور اہل حدیث وغیرہ کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے حالانکہ یہ تمام فرقے قرآن کی اس آیت کو جھٹلاتے ہیں یعنی قرآن حکیم مسلمانوں کو فرقہ بندی سے منع کرتا ہے مگر ہم مسلمانوں کی اکثریت ان پر ایمان رکھتی ہے۔

    قرآن عظیم کی اس آیت مبارکہ کا دین اسلام پر صحیح اطلاق کیا جائے تو اس کی روشنی میں مسلمانوں کے تمام فرقے قرآن کے متضاد اور متوازی "فرقے” یا "مذاہب” ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی لینا دینا ہے، نہ اس کی مثال نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگیوں میں ملتی ہے اور نہ ہی صالحین ان پر ایمان رکھتے ہیں۔

    دین اسلام بہت سادہ اور سائنسی قواعد کا ضابطہ حیات ہے جن سے انحراف اسی طرح کی تنزلی سے دوچار کرتا ہے جس طرح سے آج مسلم دنیا زوال سے گزر رہی ہے۔ قرآن مجید میں وہ سائنس علوم بھی ہیں جن پر عمل کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس کا تخت لایا گیا تھا۔ آج دنیا جدید سائنسی علوم "ٹائم ٹریول” (Time Travel) اور "ٹیلی پورٹیشن” (Teleportation) وغیرہ کے زریعے ان قرآنی علوم تک عملی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح "مصنوعی ذہانت” (Artificial Intelligence) کے اشارے بھی قرآن پاک میں جا بجا موجود ہیں کیونکہ قرآن حمید میں مختلف حوالوں سے انسان کو عقل سے کام لینے اور غوروفکر کرنے کا 750 مرتبہ سے زیادہ زکر آیا ہے۔

    یہاں تک کہ آئندہ صدیوں میں آنے والا کوئی بھی نیا، جدید یا سائنسی علم ایسا نہیں ہو گا کہ جس کی ابتداء کے بارے میں قرآن مجید میں ارشادات ربانی اعلانیہ یا مخفیہ صورت میں نہ ملتے ہوں۔ یوں غور سے دیکھا جائے تو قرآن پاک خود ایک "اسلامک سائنس” ہے جو کسی بھی طرح سائنسی علوم کے متوازی یا متضاد ہے اور نہ ہی ان علوم کے حصول سے کسی جگہ منع کرتا ہے۔

    مغرب میں جو سائنسی انقلاب آیا اس کی وجہ "تحریک احیائے علوم” تھی جسے انگریزی زبان میں Renaissance
    کہا جاتا ہے. بنیادی طور پر یہ فرانسیسی لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ دوبارہ جنم Rebirth ہے۔ مغربی احیاء کی یہ علمی و اصطلاحی تحریک چودھویں صدی میں پہلی بار مڈل ایجز (Middle Ages) کے خاتمے کے بعد اٹلی سے متعارف ہوئی تھی جس کو عروج سنہ 1490ء سے لے کر 1520ء تک حاصل ہوا۔
    یہ تحریک یورپین جدید سائنسی علوم اور کلاسیکل تہذیب کی تجدید نو سے متعلق ہے۔ مسلم دنیا میں بھی ایک دن اسی طرح علمی اور تہذیبی انقلاب آئے گا جب وہ اپنے اسلامی علوم کا احیاء جدید ترین سائنسی علوم کی روشنی میں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں میں اس نوع کا "سائنسی انقلاب” اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وہ مذہبی تفرقہ جات سے باہر نہیں آتے یا اپنے حاضر درسی علوم کو قرآن مجید کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں نہیں ڈھالتے ہیں۔

    ایک حدیث مبارکہ ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے،” جس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسلام دینی و اخروی علوم کے علاوہ دنیاوی اور عصری علوم کو سیکھنے کا بھی برابر درس دیتا ہے جس کو قرآن پاک کی اس آیت سے بھی تقویت ملتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔

    اگر قرآن پاک مومنین کی اخروی کامیابی کو دنیا میں کامیاب ہونے سے مشروط کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان مومن ہو یا ایک عام غیرمسلم ہو وہ جدید یا سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر کامیابی حاصل کرے یا ترقی کر سکے؟ لھذا یہ سوال ایک لایعنی سی بات ہے کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے متضاد یا متوازی مضامین ہیں۔ یہ تو ایک سادہ سی منطقی بات ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم یا معاشرہ تب تک ترقی کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ نئے اور جدید علوم پر دسترس حاصل نہیں کرے گا۔

    دنیا کا کوئی دوسرا مذہب یا عقیدہ بھی اس وقت تک عوام الناس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا یے جب تک وہ جدید علوم سے ہم آہنگ نہ ہو یا نہ ان کا پرچار نہ کرتا ہو۔ جبکہ اسلام تخت صبا سے لے کر "واقعہ معراج” تک زمان و مکان (Time and Space) کی ہر قید کو سائنسی اور جدید علوم کے بل بوتے پر عبور کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سائنس کو قرآن میں ڈھونڈنے کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ قرآن تو خود روحانی اور سائنسی علوم کے ہر دور کا جدید ترین منبع ہے۔

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • لباس اور چہرے

    لباس اور چہرے

    تحریر و تحقیق: شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    ڈاکٹر علی شریعتی نے کہا تھا کہ ” لباس وہ ہے جس نے آپ کے آدمی ہونے کی حقیقت کو اپنے اندر چھپا لیا ہے ، کیونکہ لباس آدمی کو پہنتا ہے اور یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے کہ آدمی لباس کو پہنتا ہے "

    کپڑے جو تن ڈھانپنے کیلئیے تھے آج ان کا مقام یہ ہے کہ ہم اس شخص کو معتبر نہیں سمجھتے اس کو ساتھ بٹھانے کے لائق نہیں سمجھتے عہدے اور وقار کے اہل نہیں سمجھتے جس نے برینڈ یا قیمتی مخمل نہ پہنا ہو ، یہ ایک ذہنی مرض ہے جو کہ احساس کمتری کی ایک جڑ ہے اور اکثر کیا بلکہ بیشتر لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں اور ہر وقت اسی سوچ میں گم رہتے ہیں کہ کل کیا پہنوں ! کسی زمانے میں سفید پوش کا لفظ استعمال ہوتا تھا جو کہ اب صرف قصے کہانیوں اور محاوروں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ، کوئی سیاست دان ہو یا مولوی آج کل سب ہی زرق برق اور میچنگ لباس پہن کر ہی جلوہ افروز ہوتے ہیں پھر لوگ ان کو کاپی کرتے ہیں آج کل تو کپڑوں کیساتھ میچنگ جوتے اور فیس ماسک بھی دستیاب ہیں۔

    اسلام عمل کا نام تھا آجکل جب تک کوئی اچھے کپڑے نہ پہنے خواہ وہ کتنا بڑا عالم کیوں نا ہو اپنی جانب لوگوں کو متوجہ نہیں کر سکتا یقین نا آئے تو مارکیٹ میں دیکھ لیں اکثر کپڑوں کے برینڈ مولویوں کے ہی ہیں۔ ( کہیں پڑا تھا اور اب یاد آ گیا غالبا اشفاق احمد صاحب نے لکھا تھا کہ مرد کے دل میں ۔۔۔ اور عورتوں کی الماری میں نئے جوڑے کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔۔۔ بات کیونکہ کپڑوں کی ہو رئی ہے اس لئیے مرد کے دل کا معاملہ پھر کبھی )

    ایک بزرگ اور اپنے وقت کے جلیل القدر عالم ( مجھے اس وقت نام یاد نہیں آ رہا ) کسی محفل میں مدعو تھے جب وہاں پہنچے تو دربان نے ان کے سادہ لباسی کو دیکھ کر انہیں اندر نہیں جانے دیا اور وجہ معلوم کی تو پتا چلا کہ یہ رئیسوں اور امراء کی دعوت ہے آپ تو فقیر معلوم ہوتے ہیں یہ سن کر آپ مسکرائے اور وہاں سے لوٹ رہے گھر آ کر لباس فاخرہ زیب تن کیا اور پھر اسی محفل میں گئے تو اب کہ مرتبہ دربان نے جھک جھک کر سلام کیا اور پرتپاک استقبال کیا گیا جب کھانا لگا تو آپ اپنے کرتے کو سالن میں ڈبوتے اور کہتے کہ کھاؤ کھاؤ یہ سب تمہارے لئیے ہی تو ہے ، یہ ماجرا دیکھ کر لوگ حیران ہوئے اور میزبان نے پوچھا کہ حضرت آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ دیر پہلے کا سارا ماجرا سنایا اور کہا کہ اگر عزت میری ہوتی تو جس حال میں بھی آتا قبول ہوتا مگر یہاں تو عزت صرف لباس کی ہے تو کیوں نا اسے کھلاؤں ، اپنے اس عمل سے انہوں نے اس محفل کے شرکاء اور ہم سب کیلئیے ایک بہت بڑا نصیحت آموز سبق چھوڑا ہے میانہ روی اختیا کرو ، اپنے کردار کو مضبوط کرو اور دکھائے پر مت جاؤ۔

    لباس اور چہرے
    لباس اور چہرے

    زمانہ قدیم میں اور خاص طور پر اسلام کے ابتدائی دور میں زمانہ ترقی یافتہ نہیں تھا غلہ ، اناج اور کپڑے عام دستیاب نہیں تھے نہ ہی ہر کوئی لے یا بنا سکتا تھا۔ کھجور کے پتوں ، بھیڑ بکریوں کی کھال سے اور اونٹ کے چمڑے سے ہی بنتا تھا جو پہنا جاتا تھا علاقے ، موسم اور استعمال کے مطابق ، ایک راوی کا ذکر تھا جو کہ میں نے مرحوم جسٹس جاوید اقبال ( فرزند علامہ محمد اقبالؒ) کی ایک ریکارڈنگ میں سنا تھا کہ رسولﷺ کے زمانے میں غربت ایسی تھی کے تن ڈھانپنے کیلئیے پورا کپڑا میسر نہیں تھا کوئی نماز میں رکوع میں جاتا تو ستر پورا نا رہتا تھا ایک اور واقع یاد آیا جو کہ حضرت عمر  ؓ  کے ساتھ پیش آیا ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول ﷺپر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمر ؓ ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔ تو عمر فاروق ؓنے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبداللّٰہ ابن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق ؓ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہوں ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ایک طرف تو یہ حساب کتاب کے معاملات اور دوسری طرف روایات میں ملتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہو اُسے چاہیے کہ شکر کے جذبات اور اعتدال کے ساتھ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو استعمال کرے، چناں چہ اسے ریا ونمود ، خود پسندی اور دوسروں کی تحقیر کے جذبات سے بچتے ہوئے خوش لباس ہونا چاہیے۔ بعض صحابہ کرام ؓ سے نماز اور دیگر عبادات میں مستقل الگ اور قیمتی لباس کا استعمال اور بعض تابعین ، تبع تابعین ؒ سے روزانہ ہر درسِ حدیث سے پہلے نیا اور قیمتی لباس استعمال کرنا اور پھر اسے صدقہ کرنا منقول ہے۔ بعض مواقع پر نبی کریم ﷺسے بہت قیمتی چادر کا استعمال بھی ثابت ہے۔

    حدیث شریف میں آتا ہے:

    "عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم: ” إن الله عز وجل إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى أثر النعمة عليه”. 

    اب ہم اپنے موضوع کے دوسرے حصے ‘چہرے ‘ کے بارے میں بات کریں گے اللہ تعالی نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہمارے خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے تو ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم اپنے عمل اور کردار سے ظاہری طور پر ویسے ہی نظر آہیں جیسے کہ ہم باطنی طور پر ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ بنا بولے ہم کیسے اپنے مذہب کا پرچار کر سکتے ہیں تو حضور ﷺنے کہا کہ اپنے کردار سے جیسے چہرہ ہماری شخصیت کا نمایاں جز ہے ویسے ہی کردار۔

    اکثر لوگ اپنے کسی مقصد کے حصول کیلئیے بہت میٹھے اور مخلص بن کر ملتے ہیں اور مطلب نکل جانے کے بعد ایسے آنکھیں بدلتے ہیں کہ جیسے کبھی آشنا تھے ہی نہیں ہم سب نے کبھی نا کبھی ایسے لوگوں اور معاملات کا بزات خود تجربہ کیا ہوا ہے کوہ وہ بچپن میں تھا یہ اب ہماری عملی زندگی میں ہو  ، شاعر کہتا ہے ” ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی ، لوگ کتنے ہمیں اک شخص میں مل جاتے ہیں ” ( شاعر کا نام قارئین مجھے بتائیں گے تاکہ مجھے بھی پتہ چلے کے کیا واقعی آپ نے میری یہ تحریر پڑھی ہے )

    چہرے بدلنا شیطانی فعل ہے جو کہ ہزاروں سے گزر جانے کے بعد آج بھی کسی نا کسی روپ میں انسانوں کو اپنے بس میں کر کے ورغلا کر ان سے یہ کام کرواتا ہے جس کا احساس ہونے پر لوگ وقت گزرنے کے بعد شرمندہ بھی ہوتے ہیں۔ اور آپ تاریِخ کا مطالع کریں تو قصص الانبیاء میں ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقع بھی ملتا ہے جب وہ خواب کی تعبیر اور اللہ سے کئیے وعدے کو نبھانے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے لے جا رہے تھے تو راستے میں چہرہ بدل کر تین مقامات پر شیطان نے انہیں بہکانے کی کوشش کی اور ہر مرتبہ آپ علیہ السلام نے انہیں کنکریان مار کر بھگایا جس کی سنے آج بھی ماسک حج کو دوران منی کے مقام پر جمرات کرنے سے ادا ہوتی ہے۔

    یک دن جناب رسول اللہﷺنے فرمایا ’’اَلا اُخبرکم بخیارکم‘‘ کہ کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ ؓنے عرض کیا یا رسول اللہ! ضرور آگاہ فرمائیں۔ جناب نبی اکرم نے فرمایا ’’الذین اذا رأو اذکر اللّٰہ‘‘ وہ لوگ جنہیں دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے۔ یعنی جن لوگوں کو دیکھ کر خدا یاد آئے وہ تم میں سے اچھے لوگ ہیں۔ اس کی دو صورتیں بیان کی جاتی ہیں:

    ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جن کی عبادت، نیکی اور تقویٰ کی جھلک ان کے چہروں پر نور کی صورت میں دکھائی دیتی ہے اور انہیں دیکھ کر دل میں خیال آتا ہے کہ اس قدر با رونق اور پر نور چہرہ کسی اللہ والے کا ہی ہو سکتا ہے۔ عام طور پر انسان کے اندر کی کیفیات کا اس کے چہرے سے اندازہ ہو جاتا ہے اور چہرہ انسان کی باطنی حالت کا عکاس ہوتا ہے۔ غصہ ہو یا خوشی، غم ہو یا راحت، ناراضگی ہو یا رضا مندی، انسان کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کے نیک اعمال اور برے اعمال کے اثرات بھی چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔

    بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک خواب کا منظر بیان فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا جن کے چہروں کی کیفیت یہ تھی کہ چہرے کا نصف حصہ خوبصورت اور باقی نصف حصہ بد صورت تھا۔ فرشتوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو ’’خلطوا عملاً صالحا وآخر سیئًا‘‘ اچھے اور برے اعمال خلط ملط کرتے رہے ہیں۔ اعمال صالحہ بھی انہوں نے کیے ہیں اور اعمال سیۂ میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ ان کے نیک اعمال ان کے چہروں پر حسن کی صورت میں نظر آرہے ہیں اور برے اعمال چہروں پر بد صورتی کے طور پر نمایاں ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے نیک اور مخلص بندوں کے چہروں پر ان کے خلوص اور نیک اعمال کا نور ہوتا ہے اور ان کے بارونق اور نورانی چہروں کو دیکھ کر خدا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

    اس کا ایک معنیٰ یہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جن کے اعمال و حرکات، ان کا اٹھنا بیٹھنا، لین دین، عبادات و معمولات اور اخلاق و معاملات اللہ تعالیٰ اور رسول خدا ص۔ع کے احکام کے مطابق ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر ایک مسلمان کی عملی زندگی کا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور خدا یاد آتا ہے۔ بہر حال جناب نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جنہیں دیکھ کر خدا یا د آجائے۔ آج کی اس بحث کو سمیٹتے ہوئے میں اپنے معزز قارئین سے سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خرابیاں کوہ وہ لباس کے معاملہ میں اصراف ہو یا دنیاوی اور غلط مقاصد کے حصول کیلئیے چہرے بدل کر ملنا ہو یہ خرابیاں آج ہمارے درمیان موجود ہیں اور چونکہ ہم ان کے عادی ہو گئے ہیں، اس لیے ہمیں یہ محسوس نہیں ہوتیں اور ہم بلا تکلف یہ حرکتیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشادات اور اسلامی تعلیمات کا بار بار مطالعہ کرنا چاہیے، اس پر غور کرنا چاہیے اور پھر اپنے معمولات اور مزاج و عادات پر نظر ڈال کر اپنی کمزوریوں کو محسوس کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

    شاندار بخاری

    سیّد شاندار بخاری

    مدیر سلطنت آف عمان

    اٹک ویب میگزین