ایران آج بھی جاپان سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں ایٹم بم سہنے کے بعد ہتھیار ڈالے تھے۔ ایران پر ابھی نہ ایٹم بم گرا ہے اور نہ ہی اسے مکمل شکست ہوئی ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایران اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ سپر پاور امریکہ سے وہ براہِ راست ٹکر نہیں لے سکتا ہے۔
جدید دور میں جنگیں میدان میں نہیں، فیصلوں میں ہاری اور جیتی جاتی ہیں۔ ایران اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کا ایک غلط قدم اسے تباہی اور دوسرا ایک درست قدم اسے بقا دے سکتا ہے۔ تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔ مگر اس حکمتِ عملی نے امریکہ کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا ایران کو عرب دنیا سے دور کیا۔ کویت کے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹ اور ایک بجلی گھر پر حملہ اس کی بڑی مثال ہے۔ وہاں امریکی فوجیوں کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی تھی۔ اس حملے سے ایران کو تو کوئی فائدہ نہ ہوا، الٹا امریکہ کو یہ جواز مل گیا کہ وہ ایران کے پانی اور توانائی کے مراکز کو اپنا ہدف بنا سکتا ہے۔
یہاں ایک خطرناک پہلو اور ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پاسداران کی صفوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس موجود ہیں۔ یہی لوگ ایران سے ایسی غلطیاں کروا رہے ہیں جس سے جنگ طول پکڑ سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کی جنگ جتنی طویل ہو گی ایران اسی حساب سے کمزور ہوتا جائے گا۔ ایرانی پاسداران میں موجود خفیہ ایجنٹوں کا مقصد شاید یہی ہے کہ ایران کو جاپان کی طرح مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔ یہ اندرونی غدار ایران کو پتھر کے دور میں دھکیلنے پر تلے ہوئے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کی سب سے زیادہ ضرورت خود ایران کو ہے۔ امریکہ بھی ایران کو مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ایران خلیج میں امریکہ کے لیے "شمالی کوریا” کی حیثیت رکھتا تھا۔ جس طرح جاپان شمالی کوریا کے خوف سے امریکی اڈے برداشت کرتا ہے، اسی طرح عرب ممالک بھی ایران کے ڈر سے امریکہ کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ اسی بہانے امریکہ عربوں کے وسائل تک رسائی رکھتا تھا۔ موجودہ جنگ نے یہ پردہ بھی اٹھا دیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران بچے گا کیسے؟ بچنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ایران فوراً مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ ایرانی قیادت کو جذبات اور انا کو ایک طرف رکھ کر عالمی تقاضوں اور اپنی قومی سلامتی کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ پاسداران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملک ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں بچتے، بصیرت سے بچتے ہیں۔
لھذا ایران کو اب اپنے اندر جھانکنا ہو گا۔ ایرانی معیشت پہلے ہی پابندیوں سے تباہ ہو چکی یے۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے تنگ ہیں۔ ایک طویل جنگ ایرانی معاشرے کی بنیادیں ہلا دے گی۔ جب گھر کے اندر فاقے ہوں تو باہر کی جنگ لڑنا ممکن نہیں رہتا۔
علاقائی سطح پر بھی ایران کو دوست کم اور دشمن زیادہ مل رہے ہیں۔ عرب دنیا پہلے ہی ایران سے بدظن ہو چکی ہے۔ ایسے میں مزید محاذ کھولنا خودکشی کے مترادف ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں وقت پر فیصلہ کر لیتی ہیں وہ بچ جاتی ہیں۔ جو ضد پر اڑ جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔ ایران کے پاس اب بھی وقت ہے۔ اگر ایران نے ہوش کا مظاہرہ نہ کیا تو جنگ مزید پھیلے گی اور اس کا خمیازہ عام ایرانی عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ خطے میں پہلے ہی عدم استحکام ہے۔
ایران کی بقا اسی میں ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کی طرف جائے، سفارتکاری کو موقع دے اور اپنے اندر موجود غدار عناصر کی سرکوبی کرے، ورنہ ایران کا بھی وہی حال ہو سکتا ہے جو جاپان، عراق، لیبیا اور شام کا ہوا۔ اس وقت ایرانی بقا اور سلامتی، تاریخ سے سبق سیکھنے میں ہے۔
جاپان کے قصبے اوشنو کے آتش فشاں پہاڑ فیوجی کے قریب 30کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا خودکشی نام کا ایک جنگل ہے جسے جاپانی زبان میں "اوکی گاہارا” کہا جاتا ہے۔ یہ جنگل سنہ 864ء کا ہے جب اس علاقے میں واقع یہ فیوجی نامی آتش فشاں پہاڑ لاوا اگلنے کے لئے اچانک پھٹ پڑا تھا۔ جب لاوا آہستہ آہستہ سرد ہوا تو وہاں پودے سر نکالنے لگے اور پھر آنے والے برسوں میں اسی جگہ پر ایک گھنا جنگل اگ آیا، جسے ایک مقدس جنگل کی حیثیت حاصل ہو گئی اور کئی جاپانی وہاں جا کر اس کی پوجا کرنے لگے۔
بدقسمتی سے 1970 کے عشرے میں اس جنگل سے کچھ مہم جو لکھنے والوں کا گزر ہوا جنہوں نے وہاں کچھ خوبصورت انسانی لاشیں دیکھیں اور ان پر ناول لکھے جس کے بعد اس موضوع پر فلمیں اور ٹیلی ویژن سیریز بننے لگیں جن میں خودکشی کے مناظر کو سہانے انداز میں فلمایا گیا تھا۔ اچانک کسی مصنف کی قوت تخیلہ نے اس جنگل کو خودکشی کے لئے ایک مثالی مقام بنا کر پیش کیا جس کے بعد جاپانیوں کا وہاں جا کر خودکشی کرنے کا رواج پڑ گیا۔ اس وجہ سے آج جاپان دنیا بھر میں خودکشیاں کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جہاں ہر سال اوسطا 20ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں۔ گذشتہ سال 2024ء میں بھی 25ہزار جاپانیوں نے خود کشی کی۔ خودکشی کے لیئے اس جنگل کا رخ کرنے والوں میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔ وہاں جا کر خودکشی کرنے والوں کی اکثریت اپنی جان خود لینے کو خوشی اور نجات کا ذریعہ، اور بعض اسے اپنے لیئے باعث فخر بھی سمجھتے ہیں لیکن دنیا کے کسی بھی دوسرے عقیدے یا فلسفے میں موت کو زندگی سے بہتر قرار نہیں دیا گیا ہے۔
زندگی قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے مگر اس کے منفی پہلو مثبت پر حاوی ہوتے ہیں اور ان میں آگ کی تاثیر ہوتی ہے۔ یونانی فلسفی سقراط کے بارے زہر کا پیالہ پی کر خودکشی کرنے کی کہانی بھی "من گھڑت” جس میں شہرت اور نمائش کے لیئے زندگی کی منفی سوچ کو ابھارا گیا ہے۔ حالانکہ اپنی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غور و فکر کے باعث سقراط نے اخیر عمر میں دیوتاوں کے حقیقی وجود سے انکار کر دیا تھا، جس کی پاداش میں جمہوریہ ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں اسے موت کی سزا سنائی تھی۔ ناکہ سقراط نے خود زہر کا پیالہ پی کر خودکشی کی تھی۔ جبکہ سقراط نے زہر کا پیالہ پینے سے پہلے یہ بھی نہیں کہا تھا کہ، "میں ایک ادنی اور کمتر جہان سے ایک اعلی اور برتر جہان کی طرف جا رہا ہوں۔” اس سارے قصے کو افلاطون نے اپنے استاد کو فقط امر کرنے اور زیب داستان کے لیئے کھڑا تھا۔
سقراط کے شاگرد افلاطون کی کتابوں "فاٹون” اور "اپولوجیا” میں سقراط کی موت کا ذکر ملتا ہے۔ ان دونوں تصانیف میں سقراط کی موت کی تفصیلات اور اس وقت کی گفتگو سے بحث کی گئی ہے جو "ڈرامہ” کی شکل میں ہے۔ فاٹون سقراط کی موت والے دن کا مکالمہ ہے، جبکہ اپولوجیا جیل میں سقراط کی آخری گفتگو اور مقدمے کی کارروائی بیان کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اسے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ یہ دونوں کتابیں اس دور کی روایت کے مطابق افلاطون کے روایتی اور فلسفیانہ تخیل کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اسے منفی انداز میں "گلیمیرائز” کیا گیا ہے۔ اسے آپ ڈرامہ یا فکشن تو کہہ سکتے ہیں مگر ان کا حقیقت نگاری سے کوئی تعلق نہیں ہے جسے سقراط کی خودکشی سے جوڑا جا سکے۔ دنیا کا ایک عظیم ترین دانشور اور فلسفی اپنے آخری وقت میں زندگی کے مقابلے میں خودکشی کر کے موت کی وکالت کیسے کر سکتا ہے؟ موت کا خود انتخاب کرنا دنیا کے کسی بھی نظریہ کی روشنی میں دانشمندانہ فعل نہیں ہے۔ خودکشی انسان کی حماقت اور کم عقلی کا مظہر یے جو ہر لحاظ سے آپ کی بے ہمتی اور عدم برداشت کو ظاہر کرتی ہے۔ خود کشی کرنے والے اپنے پیچھے اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کی توہین کرنے کی داستان چھوڑ جاتے ہیں، جس کی بدنامی اور شرمندگی کی سزا اس کے بے گناہ لواحقین کو بھی بھگتنا پڑتی ہے۔
زندگی جتنی بھی اذیت ناک ہو موت سے بہرکیف بہتر ہوتی ہے کیونکہ اگلی زندگی بھی اسی موجودہ زندگی ہی سے جڑی ہوتی ہے۔ یعنی، آخرت کی زندگی دنیا کی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر آپ دنیا میں خود کشی کرتے ہیں جو کہ زندگی کو اپنی مرضی سے ختم کرنے کا فیصلہ ہے تو آپ آخرت کی زندگی حاصل کرنے کے حق سے خود ہی محروم ہو جاتے ہیں۔
جاپان جہاں ریکارڈ خودکشیاں ہوتی ہیں اور جہاں خودکشی کرنے کا یہ مقدس جنگل بھی ہے، اسی جنگل کے داخلی دروازے پر انمول زندگی کا پیغام دینے والے سوشل ورکرز بھی ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔ ان نیک اور درد دل سوشل ورکرز کو جاپانی زبان میں "کوچی” کہتے ہیں۔ ان کے بازو میں ایک بورڈ نصب ہوتا ہے جس پر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ زندگی آپ کے والدین کی جانب سے آپ کو دیا جانے والا ایک قیمتی تحفہ ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یہاں سکون سے بیٹھ کر اپنے والدین، اپنے بہن بھائیوں اور اپنے بچوں کے بارے میں سوچیں۔ آپ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیئے جب تک زندہ ہیں کچھ سال مزید جیئیں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہمیں اس نمبر پر فون کریں۔ یہ سوشل ورکر خودکشی کرنے والوں کو جاپانیوں کی لمبی عمریں یاد دلاتے ہیں جہاں پوری دنیا سے زیادہ 90 سال کی عمر کے بوڑھے رہتے ہیں، جو کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ان کی "برین واشنگ” کرتے ہیں اور انہیں زندگی کی طرف پلٹنے کا ایسا خوشنما خواب دکھاتے ہیں کہ خودکشی کے ارادے سے آنے والوں میں بہت سے لوگ ان کو دعائیں دیتے ہوئے واپس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
جنگل کے مین گیٹ پر بہت سے رضاکار کوچی کئی سالوں سے گٹار بجا رہے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موت کا سکوت توڑنے کے لئے زندگی کا راگ بجاتے ہیں۔ واقعی، زندگی ایک حسین راگ ہے جس سے وہی لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں جو اس کے رنگوں اور سروں کی قیمت اور مٹھاس کو سمجھتے ہیں۔ زندگی کو حسین اور پرلطف طریقے سے جینے کا مطلب زندگی کی ہر مشکل اور ہر امتحان کو چیلنج سمجھ کر شکست دینا ہے۔ ایسا صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو زندگی کے بارے میں مثبت اور تعمیری رویہ اپناتے ہیں۔ اگر آپ زندگی کو منفی اور غیرتعمیری سوچ کے ساتھ گزارنے کے عادی ہیں تو کوئی معمولی سی رکاوٹ، دکھ یا مشکل بھی آپ کو اندر سے توڑ دے گی۔
اسلام آباد کے ایس پی عدیل اکبر کی خودکشی اس کی تازہ مثال ہے جس نے مایوسی سے شکست کھا کر "حرام” موت کو گلے لگایا اور ہمیشہ کے لیئے جہنم کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔ کاش کہ اسے بھی کوئی کوچی ملا ہوتا۔ ان جیسے لوگ زندگی کا سب کچھ ہونے کے باوجود مایوسی کی کافرانہ اور غیرطبعی موت مرتے ہیں۔ موت کے خلاف ایسے مثبت رویئے کا مظاہرہ وہی ہمت اور برداشت والے لوگ کرتے ہیں جو زندگی کے ہر غم اور کٹھن مرحلے کو بھی "حکمت” اور "دانش” کا ذریعہ سمجھ کر جیتے ہیں۔ مشکلات، دکھوں اور مسائل سے لڑنا آ جائے تو ان سے بھی بھرپور طور پر خوشی کشید کی جا سکتی ہے۔ پرامید اور جاگتے کے خواب دیکھنے والے لوگ مایوسی اور غموں کی وجہ سے زندگی کا خاتمہ نہیں کرتے کیونکہ وہ ہر حال میں جینے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ تقدیر اور توکل پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ جان کر کہ ایک روز ان کی ارادی خودکشی کا جنگل پھر سے عبادت کی مقدس جگہ بن جائے گا، وہ خود کو اتنا بدلیں گے کہ جن کے پاس ایک روز خودکشی کے متمنی لوگ زندگی کا درس لینے آئیں گے۔ زندگی اور موت کا اختیار صرف قدرت کو ہے، اگر آپ زندگی کی فطری تخلیق نہیں کر سکتے تو اسے زبردستی ختم بھی نہ کریں، اسی میں آپ کی فلاح ہے۔
کھوار زبان میں "پتھرانزَک" ایک ایسا لفظ ہے جسے اردو میں "بِجوکا” یا "بِجھوکا” اور انگریزی میں "Scarecrow” کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا بنیادی تعلق زرعی تہذیب اور دیہی زندگی سے ہے، جہاں کھیتوں میں کسان فصلوں کو پرندوں اور آوارہ جانوروں سے بچانے کے لیے انسانی شکل کا ایک ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔ یہ ڈھانچہ اکثر گھاس، بھوسے، لکڑی یا کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے اور کھیت کے وسط یا کنارے نصب کیا جاتا ہے تاکہ پرندے اسے انسان سمجھ کر خوف کھائیں اور فصل کو نقصان نہ پہنچائیں۔
"پتھرانزک” محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ کسان کی ذہانت، مشاہدے اور فطرت سے ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔ یہ کھوو تہذیب کی علامتی یادگار ہے، جو انسانی صورت میں غیر انسانی کردار نبھاتا ہے۔ بالائی چترال میں اب بھی کہیں کہیں ”پتھرانزک” نظر آرہے ہیں لیکن لوئر چترال میں اب یہ رسم معدوم ہوگئی ہے۔
پتھرانزک” یعنی بجوکا کی انسانی شباہت اس کی افادیت کا بنیادی پہلو ہے۔پرانے زمانے میں چترال میں اسے کبھی مٹی کا چہرہ دیا جاتا تھا، کبھی لکڑی کا، بعض اوقات پرانے کپڑے، ہیٹ یا چترالی کپھوڑ اور مفلر کے ذریعے اسے مکمل انسانی پیکر میں ڈھالا جاتا تھا۔ ”پتھرانزک” یعنی بجوکا دراصل خوف اور حفاظت کے بیچ ایک لطیف توازن کا نام ہے۔چترال کے کسان ”پتھرانزک” بناتے وقت جس انسان کی شبیہ تراشتا ہے، وہ گویا ایک "خاموش محافظ” بن جاتا ہے۔ ایک ایسا محافظ جو نہ بولتا ہے، نہ چلتا ہے، مگر اس کی موجودگی میں فصلیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ”پتھرانزک” کی موجودگی کو دیکھ کر چور اور پرندے بھاگ جاتے ہیں۔
شمالی یارک شائر (انگلینڈ) کے ماسٹن گاؤں میں ہر سال ”پتھرانزک” یعنی”بجوکا فیسٹیول” منایا جاتا ہے جو ایک ثقافتی جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔”پتھرانزک” انگلینڈ اور چترال کی مشترکہ علامت بن چکی ہے۔ اگرچہ انگلینڈ میں 1999ء سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا دیہی تہوار تھا، مگر اب یہ ایک بین الاقوامی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ یہاں رنگ برنگے بجوکے تیار کیے جاتے ہیں جو دیہی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔ لیکن چترال میں ”پتھرانزک” کااستعمال ریاست چترال سے پہلے موجود تھا اور اب بھی بالائی چترال میں موجود ہے۔
اسی طرح جاپان کے ناگورو گاؤں میں، جہاں انسانی آبادی کم ہو چکی ہے، وہاں ”پتھرانزک” کو زندگی کی نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ نہ صرف گاؤں کے خالی پن کو پر کرتے ہیں بلکہ تہذیبی یادداشت کا ایک متحرک استعارہ بھی بن چکے ہیں۔ ”پتھرانزک” اب چترال اور جاپان میں بھی مشترک علامت بن گئی ہے۔ اردواور کھوار ادب اور دیگر عالمی ادب میں بھی ”پتھرانزک” کو محض ایک دیہی شے کی بجائے ایک علامتی پیکر کے طور پر اپنایا گیا ہے۔
سعادت حسن منٹو نے 1954ء میں ہندوستان کے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک مشہور خط لکھا جس کا عنوان ہی "بجوکا” تھا۔ اس خط میں منٹو نے بجوکا کے ذریعے معاشرتی، سیاسی اور فکری زوال کی عکاسی کی۔ بجوکا یہاں خاموشی، لاچاری اور نمائشی پن کی علامت کے طور پر ابھرتا ہے۔
اسی طرح سریندر پرکاش کا افسانہ "بجوکا" بھی بجوکے کو ایک تلخ حقیقت کے پیکر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہوری، ایک کسان، جو آزادی کے بعد اپنی زمین اور فصل کے مالک ہونے پر خوش ہے، اس وقت چونک جاتا ہے جب اس کی فصل کاٹنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہی بجوکا نکلتا ہے، جسے اس نے حفاظت کے لیے بنایا تھا۔ یہ ایک گہرا استعارہ ہے جس میں اقتدار، غداری اور استحصال جیسے عناصر پوشیدہ ہیں۔
پتھرانزک یا بجوکا دراصل کھوو تہذیب کا محض ایک زرعی آلہ ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی ہے۔ جہاں ایک طرف یہ کسان کی ذہانت، مشاہدہ اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ بے جان انسانی شکل کی صورت میں ایک تلخ سماجی استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ ادب میں اس کا استعمال سماجی بے حسی، سیاسی استبداد اور عوامی استحصال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
سریندر پرکاش کے افسانے میں بجوکا ریاستی نمائندگی کا استعارہ ہے جو عوامی بھلائی کے لیے بنایا گیا تھا لیکن بالآخر وہی عوامی سرمائے پر قابض ہو گیا۔ اسی طرح منٹو کے خط میں بجوکا ایک ایسا معاشرہ ہے جو بول نہیں سکتا، احتجاج نہیں کر سکتا اور بس تماشا دیکھتا رہتا ہے۔
کھوار زبان کا "پتھرانزک” یا "بجوکا” اپنی سادہ ساخت کے باوجود ایک کثیر المعنٰی علامت بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف دیہی زراعت کی علامت ہے بلکہ معاشرتی و ادبی اظہار کا ایک اہم استعارہ بھی بن چکا ہے۔ کھوار زبان سے اردو اور اردو سے عالمی ثقافت تک یہ لفظ اور اس کے تصور نے انسانی تخیل اور فکری دنیا میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ یہ محض کھیتوں کا محافظ نہیں، بلکہ تہذیبوں کا گواہ، معاشرت کا ناقد اور سیاست کا بے زبان تماشائی بھی ہے۔
انڈین مفکر ارون دھتی رائے کہتی ہیں کہ پہلے دور میں جنگیں لڑنے کے لیئے ہتھیار بنائے جاتے تھے اور اب ہتھیار بیچنے کے لیئے جنگیں تخلیق کی جاتی ہیں۔ مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ کے پس و پیش کا باریک بینی پر مبنی جائزہ بتاتا ہے کہ اس جنگ کو بھی اسلحہ بیچنے کے لیئے دونوں ملکوں پر مسلط کیا گیا۔ پنجابی محاورے کی طرح شائد پاکستان اور بھارت تو امن و شانتی سے بستے رہتے مگر اسلحہ فروش اچکے انہیں بسنے نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نصاب میں لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر جھگڑے کی جڑ (Bone Of Contention) ہے۔ تقسیم ہند 1947ء کے وقت برطانوی سامراج نے مسئلہ کشمیر کو استصواب رائے کے لیئے چھوڑا تھا مگر بھارت نے سری نگر میں فوجیں اتار کر کشمیر کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ پاک بھارت 1948ء کی پہلی جنگ کی وجہ بھی "مسئلہ کشمیر” تھا، اور بعد کی تمام جنگیں بشمول 7مئی تا 10مئی کی حالیہ جنگ بھی مقبوضہ کشمیر (پہلگام) میں دہشت گردی اور بھارت کے پاکستان (بہاولپور) پر حملے کے باعث ہوئی۔ اس 3روزہ مختصر جنگ کے بعد نہ صرف پاکستان اور انڈیا کے درمیان اسلحہ خریدنے کی نئی دوڑ لگ گئی ہے، بلکہ مشرق وسطی کے ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی امریکہ سے اسلحہ خریدنے کے تاریخ ساز معاہدے کیئے ہیں۔
ایک جنگی مقولہ ہے کہ امن قائم کرنے کے لیئے طاقت کا توازن (Balance of Power) قائم کرنا ناگزیر ہے۔ پاک بھارت کی اس جنگ میں یہ فلسفہ غلط ثابت ہو گیا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان روایتی جنگ نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ ایٹم بم ایک رکاوٹ (Deterrent) کے طور پر کام کرتا ہے۔ اب اگر پاکستان اور بھارت وقت کے کسی موڑ پر دوبارہ روایتی جنگ میں الجھتے ہیں تو کسی ملک (پاکستان یا انڈیا) سے ایٹمی ہتھیار استعمال ہو جانا بعید از قیاس نہیں رہا ہے۔ پاک بھارت موجودہ جنگ کے بعد یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ جنگ کے دوران بھارت اور پاکستان کی دو جگہوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے اثرات محسوس کیئے گئے ہیں۔
بھارتی پنجاب کے براموس میزائل ڈپو پر خطرناک ریڈی ایشن (Radiation) کو رپورٹ کیا گیا، جبکہ پاکستان سرگودھا میں کیرانہ کی پہاڑیوں کے گردونواح میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والے اسی طرح کے اثرات کو نمایاں کوریج دی گئی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد "حالیہ تناو”، جنگ بندی (Cease Fire) کے باوجود دونوں ممالک کی طرف سے اسلحہ خریداری کی بناء پر کم نہیں ہوا بلکہ مزید بڑھا ہے، جس وجہ سے ساوتھ ایشیاء میں نیوکلیئر سیفٹی (Nuclear Safety) کے حوالے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ پاک بھارت جنگ گو کہ بڑے دورانیہ کی نہیں تھی مگر اس کے علاقائی، سیکورٹی اور ماحولیاتی اثرات کسی طرح بھی کم نہیں ہیں۔ جب بھارت نے پاکستان کے سٹریٹیجک ایٹمی اثاثے رکھنے والے مقام پر حملہ کیا تو میڈیا پر کیمیائی اخراج اور اثرات کے پھیلاو’ کی چہ می گوئیاں ہوئیں۔ اس حوالے سے اطلاعات میں اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ پاکستان کے اس علاقے میں ایک امریکی اٹامک ایمرجنسی ایئرکرافٹ کو اڑتے دیکھا گیا تھا، حالانکہ پاکستان نے اس خبر کی سختی سے تردید کی تھی، جبکہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے تصدیق کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ پاکستان کے کسی علاقے میں کیمیائی ریڈی ایشن (Radiation) نہیں ہوئی ہے۔ اس مد میں انڈیا کو بھی بیان جاری کرنا پڑا کہ اس نے پاکستان کے کسی نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والے ٹھکانے پر حملہ نہیں کیا تھا۔
اس کے علاوہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی ایک وضاحتی بیانیہ جاری کیا کہ اس قسم کی منفی افواہ (Disinformation) پاکستان کو بدنام کرنے کے لیئے بھارتی میڈیا نے پھیلائی ہے۔ اس نوع کے معمولی کیمیائی اخراج کے اثرات بھی انتہائی مہلک ہوتے ہیں جس کا احاطہ ہوا کے رخ میں 2000 کلومیٹر کی دوری تک ہو سکتا ہے۔ خدا ناخواستہ اس قسم کے ایٹمی اثرات ماحول میں پھیل جائیں اور پلوٹونیم 239، آئیوڈین 131 اور سیسئیم 137 کے ریڈیو ایکٹو آئزوٹوپس (Radioactive Isotopes) بننے لگیں تو یہ انسانوں میں کینسر، اغضاء کی بندش اور اموات کا باعث بنیں گے۔ جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے علاوہ جہاں یہ کیمیائی اخراج ظاہر ہو گا وہاں کی زمین ایک مدت تک فصلیں اگانے سے بھی قاصر ہو جائے گی۔
ان خبروں اور افواہوں کے دوران جنہیں خود بھارتی میڈیا نے پھیلایا تھا، انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مطالبہ کیا کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی جانچ پڑتال کرے۔ بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی، فوجی اور جنگی عدم اعتماد کی خلیج مزید گہری ہو گئی ہے۔ بھارت کی اس بدنیتی کے ہولناک اثرات ساوتھ ایشیاء کے علاوہ انسانی بداعتمادی، معیشت اور ماحولیات کے اعتبار سے عالمی سطح پر بھی نمایاں ہوں گے۔
بھارت میں امکانی طور پر ظاہر ہونے والے ایٹمی ہتھیاروں کے اس اخراج (Radiation) کی جھوٹی خبر بنیادی طور پر بھارتی براموس (BrahMos) میزائل ٹھکانے پر پاکستان کے ہوائی حملے کے بعد پھیلائی گئی جس کے تحت انڈیا کے اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (AERB) نے آن لائن دعوی کیا کہ اس حملے سے بھارت کے ان علاقوں میں کیمیائی اخراج ہوا ہے کیونکہ وہاں کچھ کیمیائی ہتھیار چلائے گئے تھے جس کے بعد انڈیا کے ان علاقوں کو عوام سے خالی بھی کروایا گیا تھا اور انہیں اس سے بچاؤ کے لیئے احتیاطی تجاویز بھی دی گئیں تھیں۔ لیکن بعد میں بھارتی سرکار اپنے ان بیانات سے مکر گئی اور ان خبروں کی سرکاری طور پر تردید کر دی۔
تاہم اس واقعہ سے عالمی سطح پر اس بات کی کھل کر تصدیق ہو گئی ہے کہ دو ایٹمی ملکوں کے درمیان اگر روایتی ہتھیاروں سے بھی جنگ ہوتی ہے تو وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے کتنی قریب پہنچ جاتی ہے جس سے پوری دنیا تباہی کے کنارے پر آن کھڑی ہوتی ہے۔ جنگ عظیم دوم میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر پانچ کلو وزنی ایٹم بم استعمال کیئے گئے تھے جس سے پہلے ہی دن لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، جبکہ پاکستان اور انڈیا کے پاس ان ایٹم بموں سے دس گنا زیادہ وزنی اور مہلک ایٹم بم موجود ہیں۔ ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں کا کچھ حفاظتی پروٹوکول اور کرسٹل قسم کی شفافیت ہوتی ہے، جو پاک انڈیا کی موجودہ جنگ میں بگڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جسے دوبارہ قائم نہ گیا گیا تو کچھ بعید نہیں کہ دو ہمسایہ اٹامک پاورز امکانی طور پر تباہی کے کنارے پر ہیں۔ اس سے غربت کے ستائے ہوئے یہ دونوں ملک تو تباہ ہوں گے، مگر اس کے ساتھ باقی دنیا کی بقا اور امن بھی شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔
اگر اسلحہ کی فروخت کے لیئے جنگیں ہی تخلیق کرنی ہیں تو اب وقت ہے کہ تخفیف اسلحہ کے لیئے دنیا کو آگاہی فراہم کی جائے۔ خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چوبیس گھنٹے کے ایسے فوری باہمی روابط ہونے چایئے جس سے آئیندہ روایتی جنگ کا بھی امکان پیدا نہ ہو سکے۔ لھذا ایٹمی جنگ ہونے کے امکان کو امن کے دنوں میں یاد رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس قسم کی فوجی چالوں کو دنیا اب قبول کرنے کے لیئے تیار نہیں ہے۔ اس کا ذمہ دار بھارت یا پاکستان، جو بھی ملک ہو اس کا دیگر ممالک کو مل کر محاسبہ کرنا چایئے تاکہ دنیا کو ایٹمی جنگ سے محفوظ، امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
کسی بڑے عہدے کا اہل ہونے کے لیئے زیادہ تعلیم یافتہ ہونا ضروری شرط نہیں ہے۔ آپ کے پاس احساس ذمہ داری ہے، خلوص نیت سے محنت کر سکتے ہیں اور ایماندار بھی ہیں تو دنیا میں کوئی بھی بڑا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔ پھر دنیا بھر کے عہدے کسی ایک گروہ یا مخصوص انسان کی وراثت نہیں ہیں۔ لھذا کوئی بھی بڑا اعزاز حاصل کرنے کے لیئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کے پاس کالج یا یونیورسٹی وغیرہ کی کوئی ڈگری بھی ہو۔
امریکہ کے سابق صدر ہیری ایس ٹرومین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک غریب کسان کا بیٹا تھا اور اس کے پاس صرف ہائی سکول کے میٹرک کا سرٹیفکیٹ تھا، جو 12 اپریل 1945ء کو دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کا سربراہ بنا۔سابق امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کی وفات کے بعد ہیری ٹرومین صرف 82 دن تک وائس پریذیڈنٹ رہنے کے بعد امریکہ کے 33ویں صدر کے عہدے پر فائز ہو گیا جس نے 20 جنوری 1953 تک صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔
یہ امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین 8 مئی 1884ء کو لامر، میسوری میں ایک غریب کاشتکار اور مویشیوں کے تاجر جان اینڈرسن ٹرومین کے گھر پیدا ہوا. اس کا باپ بہت لاپرواہ اور سست آدمی تھا جو بہت جلد دیوالیہ ہو گیا. خوش قسمتی سے ہیری کی ماں کو وراثت میں کچھ زمین ملی تھی جس پر اس کے باپ نے کاشتکاری شروع کر دی اور غربت کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے ہیری کو کالج نہ بھیج سکا. اس کے باوجود ہیری حساب کتاب میں ماہر تھا جس وجہ سے ہائی سکول کے بعد اسے بنک میں ملازمت مل گئی. اس کے باپ کی خواہش تھی کہ اس کا بیٹا کاشتکاری میں اس کا ہاتھ بٹائے. ہیری کو کھیتوں میں کام کرنا ہرگز پسند نہیں تھا مگر باپ کے اصرار پر ہیری بنک کی جاب چھوڑ کر کسان بن گیا. کاشتکاری میں اس نے حد درجہ محنت کی اور کچھ ہی عرصے بعد وہ علاقے کا بہترین کاشتکار کہلانے لگا. ہیری ٹرومین کو کتابوں کے مطالعے کا بہت شوق تھا اور اسے معلوم ہو گیا تھا کہ اچھی پیداوار کے لئے ایک فصل کے بعد دوسری کون سی فصل کاشت کرنی ہے. اسے مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ کھیتوں میں ہل چلاتے وقت بھی وہ کتابوں کا مطالعہ کرتا رہتا تھا. اس کا کہنا تھا کہ اس نے زندگی میں سب سے زیادہ کتابیں ہل چلاتے ہوئے پڑھی تھیں. ہیری کے بقول دس سالہ کاشتکاری کے دوران اسے کوئی منافع نہیں ہوا. وہ جو بھی کماتا تھا قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا تھا. یوں ہیری ٹرومین کا خاندان ایک عرصہ تک غربت کی چکی میں پستا رہا۔
سنہ 1914ء میں باپ کے انتقال کے بعد ماں، بہن، اور بھائی کی کفالت کا بوجھ بھی ہیری کے کندھوں پر آن پڑا. اس نے فارم کی دیکھ بھال کے لئے ایک مزارعہ رکھ لیا اور خود فوج میں بھرتی ہو گیا. فوج میں بھرتی ہونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ کاشتکاری کی زندگی سے دور بھاگنا چاہتا تھا.
یونیفارم میں ٹرومین، 1918
ہیری ٹرومین نے پہلی جنگ عظیم میں آرٹلری آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں. مقام حیرت ہے کہ موٹے عدسوں کی عینک استعمال کرنے والا انتہائی شرمیلا لڑکا جسے کھیل کود میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ فوج میں نہ صرف بھرتی ہو گیا بلکہ اپنی شاندار کارکردگی سے بہترین سپاہی اور کمانڈر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا. وہ جنگی سازوسامان کو صاف ستھرا اور ہر وقت تیار رکھتا تھا. اس نے بدمعاش آئرش ریکروٹوں کو فرسٹ ریٹ فوجیوں میں تبدیل کر دیا. ہیری کے آنے سے پہلے یہ ریکروٹ اپنے چار کیپٹن بھگا چکے تھے. ہیری نے کمان سنبھالتے ہی انہیں تیر کی طرح سیدھا کر دیا.
جنگ کے بعد ہیری نے کچھ عرصہ مردوں کے کپڑوں کی دکان چلائی. پھر کئی اور کاروبار کئے لیکن ہر کاروبار ناکام رہا. آخرکار ہیری نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا. اس زمانے میں سیاست میں قدم رکھنے کے لئے کسی سیاسی گروپ کا حصہ ہونا ضروری تھا. میسوری میں اس وقت دو سیاسی گروپ تھے. یہ بات ایک معمہ ہے کہ ہیری نے بدنام زمانہ "پینڈرگاسٹ” گروپ کو جوائن کرنے کا انتخاب کیوں کیا؟ پینڈرگاسٹ انتہائی بدعنوان اور شیطانی گروپ تھا. مختصر عرصہ میں پینڈرگاسٹ کی بدعنوانیوں اور پر تشدد سیاست نے ہیری کو نفسیاتی مریض بنا دیا. وہ سر درد، معدے کی خرابی اور کئی دیگر عوارض میں مبتلا ہو گیا.
اسی دوران ہیری ٹرومین نے فرضی نام سے پک وِک ہوٹل میں ملازمت اختیار کر لی. وہ بہت جلد صحت یاب ہو گیا اور پینڈرگاسٹ میں ہونے والی بدعنوانیوں پر لکھنا شروع کر دیا. اس کی یہ خفیہ تحریریں بعد میں "پک وِک پیپرز” کے نام سے مشہور ہوئیں. ان ریسرچ پیپرز میں وہ کئی بار خود سے سوال کرتا دکھائی دیتا ہے کہ، "کیا میں اخلاقی احمق ہوں؟”
ہیری ٹرومین کو سیاست میں آنے کے بعد 1922 سے 1934 تک جیکسن کاؤنٹی کا جج بننے کا موقع ملا جس کے بعد ہیری نے اپنے اختیارات ہی نہیں بلکہ سرکاری پیسہ بھی پوری ایمانداری اور دیانتداری سے استعمال کیا. اس نے لاکھوں ڈالر خرچ کر کے کچے راستوں کو پختہ سڑکوں میں بدل دیا تاکہ کسان اپنی پیداور آسانی سے منڈیوں میں لے جا سکیں. شہر میں دو خوبصورت ہال بھی بنوائے. ہیری کا دعوی تھا کہ اس نے ایک پیسے کا بھی غبن نہیں کیا. اس وجہ سے وہ ساری زندگی غریب ہی رہا. ٹام پینڈرگاسٹ ہیری کی دیانتداری سے نالاں تھا کیونکہ اس سے اس کی بالائی آمدنی کم ہو گئی تھی. اس نے ہیری سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اسے سینیٹ کا انتخاب لڑنے کی ترغیب دی. ہیری کو ججی کا منصب پسند تھا. لیکن پینڈرگاسٹ کے مجبور کرنے پر وہ 1935 میں میسوری سے ڈیموکریٹک کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہو گیا.
ٹرومین کافی جدوجہد کے بعد امریکی سینیٹ میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گیا. دوسری جنگ عظیم کے دوران اس نے ٹرومین کمیٹی کی قیادت کی. اس کمیٹی نے فوجی اخراجات میں فضول خرچی اور بدعنوانیوں کی تحقیقات کر کے اربوں ڈالر کی بچت کی. یوں ٹرومین کو قومی پہچان مل گئی.
فرینکلن روزویلٹ چوتھی بار صدارت کا انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے تھے. نائب صدارت کے لئے جمی برنس اور البن بارکلے کے نام زیر غور تھے. روزویلٹ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے. آخرکار نیویارک کا طاقتور سیاستدان ایڈ فلن واشنگٹن آیا اور اس نے ہیری ٹرومین کا نام تجویز کیا. روزویلٹ کے مشیروں نے اسے بتایا کہ ہم کئی بار ٹرومین سے پوچھ چکے ہیں. لیکن وہ نائب صدر بننے کے لئے تیار نہیں. ایڈ فلن کے اصرار پر انہوں نے ٹرومین سے رابطہ کیا. ٹرومین کا جواب یہ تھا کہ جب تک روزویلٹ خود پیشکش نہیں کرے گا وہ یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے کیونکہ روزویلٹ اسے پسند نہیں کرتا تھا. یہ حقیقت تھی کہ روزویلٹ ٹرومین کو پینڈرگاسٹ کا بدمعاش سمجھتا تھا. نیز اسے یہ اعتراض بھی تھا کہ ٹرومین کی تعلیم صرف ہائی سکول تک ہے یعنی وہ صرف میٹرک پاس ہے. لیکن ڈگریوں میں کیا رکھا ہے۔ ادھر وائٹ ہاؤس کی انتظامیہ میں اشرافیہ کے تعلیمی اداروں مثلا” ہارورڈ، پرنسٹون، برکلے اور سٹینفورڈ کے گریجویٹ موجود تھے. اس کے باوجود روزویلٹ کی نظر انتخاب نے بلآخر ٹرومین کو کال کرنے پر مجبور کر دیا.
اگلے سال فرینکلن ڈی روزویلٹ اور ٹرومین الیکشن جیت گئے. چند ماہ بعد 12 اپریل 1945ء کو روزویلٹ کا انتقال ہو گیا اور ہیری ٹرومین ریاستہائے متحدہ امریکہ کے تینتیسویں صدر بن گئے۔
صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی ہیری ٹرومین کو اپنے دور صدارت (1945-1953) میں بہت سے قومی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا. دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ (1945) سے پہلے ٹرومین نے "ہیروشیما” اور "ناگاساکی” پر ایٹم بم گرانے کی اجازت دی جس کے نتیجے میں جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے اور دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہو گیا.
اقوام متحدہ کا قیام سنہ 1945ء میں ہوا اور ٹرومین نے عالمی امن کے فروغ کے لئے اقوام متحدہ کے قیام کی حمایت کی. سنہ 1947ء میں ٹرومین نے نظریہ کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے "ٹرومین نظریہ” پیش کیا. یونان اور ترکی کو کمیونزم کی یلغار سے بچانے کے لئے امداد دی. مارشل پلان 1948 کے ذریعے جنگ زدہ یورپ کی تعمیر نو میں مدد کی اور امریکی اتحاد کو مضبوط کیا. برلن ایئر لفٹ (1948–1949) کے ذریعے سوویت یونین کی ناکہ بندی کے دوران مغربی برلن کے شہریوں کو فضا سے ضروریات زندگی پہنچانے کا انتظام کیا. 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت ٹرومین اسرائیل کی نئی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلے عالمی رہنما تھا. خیال رہے روزویلٹ اور ان کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ عربوں سے خوشگوار تعلقات کی وجہ سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں تھے. اسرائیل کے حامی عیسائی مبلغین نے ٹرومین کو قائل کر لیا کہ اسرائیل کا قیام بائبل کی پیش گوئی کے عین مطابق ہے. لہذا خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنا فرض کر لیا گیا. صدر ٹرومین نے سنہ 1949ء میں کانگریس کی مخالفت کے باوجود فئیر ڈیل کے ذریعے شہریوں کو ان کی بنیادی ضروریات مثلا” خوراک، رہائش، اور صحت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اصلاحات کیں. کوریائی جنگ (1950-1953) میں جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کے حملوں سے بچانے کے لئے اس جنگ کے دوران امریکی افواج کی قیادت کی. یہ کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کی پالیسی کا حصہ تھا. ایگزیکٹو آرڈر 9981 کے ذریعے امریکہ کی مسلح افواج میں نسلی علیحدگی کا باضابطہ طور پر خاتمہ کیا.
سنہ 1953ء میں وائٹ ہاؤس سے رخصتی کے بعد ٹرومین میسوری واپس چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی یادداشتیں لکھیں اور ٹرومین لائبریری قائم کی. ان کا انتقال 26 دسمبر 1972ء کو 88 سال کی عمر میں ہوا. ٹرومین کو ایک فیصلہ ساز رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے. ابتدائی غیر مقبولیت کے باوجود انہوں نے بہت سے جرات مندانہ فیصلے کئے. ان کے ان فیصلوں کی بدولت دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا، کمیونزم کی یلغار رکی، اور امریکہ جدید دنیا کا رہنما بن گیا. خارجہ پالیسی، شہری حقوق، اور معیشت کی بحالی میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں.
مسوری میں ٹرومین کا گھر
ہیری ٹرومین کی ازدواجی زندگی کی کہانی بھی بہت دلچسپ اور سبق آموز ہے. ہیری ٹرومین کو 6سال کی عمر میں اپنی کلاس کی ایک سنہرے بالوں والی خوبصورت لڑکی ایلزبتھ والیس سے عشق ہو گیا. وہ کلاس میں اس سے آگے بیٹھتی تھی. اس نے عہد کر لیا کہ وہ ایلزبتھ کے سوا کسی لڑکی سے شادی نہیں کرے گا. آخرکار 35 سال کی عمر میں ٹرومین 34 سالہ ایلزبتھ سے شادی کرنے میں کامیاب ہو گیا. یہ کیسے ممکن ہوا؟ ایلزبتھ کے چاہنے والے بیشمار دولت مند نوجوان موجود تھے. لیکن اس نے شادی کی ہر پیشکش ٹھکرا دی. کیوں؟ جب ایلزبتھ ابھی نوجوان تھی تو اس کے باپ ڈیوڈ والیس نے خودکشی کر لی تھی. اس زمانے میں خودکشی کو نہ صرف بہت برا سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ خاندان کی شہرت پر بدنما داغ بن جاتا تھا. لوگ خودکشی کرنے والے کو "پاگل” سمجھتے تھے. نیز انہیں یقین تھا کہ پاگل پن کا یہ جین اولاد میں منتقل ہو جاتا یے. اس شرمندگی سے بچنے کے لئے ایلزبتھ کی ماں بچوں کو لے کر میسوری سے ریاست کولوراڈو چلی گئی تھی. باپ کے غم کی وجہ سے ایلزبتھ کافی عرصہ ڈپریشن کا شکار رہی. اس وجہ سے بھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی. اسے خدشہ تھا کہ جونہی خاوند کو اس کے باپ کی خودکشی کا علم ہوا تو وہ اسے طلاق دے دے گا.
اس کے باوجود ہیری ٹرومین نے کسی نہ کسی طرح اسے شادی کرنے پر آمادہ کر لیا. نیز اس نے ایلزبتھ کو یقین دلایا کہ وہ اپنی زندگی میں اس کے باپ کی خودکشی کی کہانی پریس میں آنے نہیں دے گا. ٹرومین نے اپنا وعدہ پورا کیا. ٹرومین کے صدر بن جانے کے باوجود امریکی پریس اس کہانی سے بے خبر رہا. ٹرومین اور ایلزبتھ نے یہ کہانی اپنی اکلوتی بیٹی مارگریٹ سے بھی چھپائے رکھی.
ہیری اور بیس ٹرومین اپنی شادی کے دن، 28 جون، 1919 کو
ہیری ٹرومین ایک خاندانی آدمی تھے. وہ نہ صرف اپنی بیوی اور بیٹی سے بے پناہ محبت کرتے تھے بلکہ اس نے اپنی سیاسی مصروفیات کے باوجود اپنے وسیع خاندان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنائے رکھا. وہ اکثر اپنے آبائی شہر میسوری میں آزادی کے ساتھ آتا جاتا رہتا تھا.
اتنی کامیاب ترین زندگی گزارنے کے باوجود یہ کلنک کا ٹیکا بھی امریکی صدر ہیری ٹرومین کے ماتھے پر لگا کہ جب پرل ہاربر پر وہ جاپانی بمباری کو برداشت نہ کر سکا تو اس نے جنگ عظیم دوم میں پہلی اور آخری بار جاپان کے دو شہروں "ہیرشیما” اور "ناگاساکی” پر ایٹم بم گرانے کے پروانے پر دستخط کر دیئے۔ تعلیم کم ہونے کے باوجود ترقی تو کی جا سکتی ہے اور بڑے عہدوں پر بھی فائز ہوا جا سکتا ہے۔ لیکن تعلیم (اور علم) کو خود پر لاگو کیئے بغیر "انسانیت” نہیں سیکھی جا سکتی ہے۔ یہ ٹرومین کی شخصیت پر ایسا داغ ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران ہیری ٹرومین کے دور صدارت میں 6 اور 9 اگست 1945ء کو انسانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔ اس دن کو امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم گرائے جس سے دیکھتے ہی دیکھتے 2 سے 3 لاکھ کے درمیان لوگوں کی جان چلی گئی۔ آج اس دن کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسوں امڈ آتے ہیں کہ کیا دنیا میں ایسے انسان بھی ہو سکتے ہیں جو لاکھوں بے گناہ لوگوں کی جان منٹوں میں لے سکتے ہیں۔ اس واقعے نے پوری انسانیت کی دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایٹمی بمباری کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے معصوم لوگوں کے جسموں سے گوشت پگلھنے لگا تھا۔ اس دن کو تاریخ میں سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی بمباری کی وجہ ہے کہ آج بھی اگر ہیروشیما یا ناگاساکی میں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں کوئی نہ کوئی خلقی نقص پایا جاتا ہے۔
بالترتیب 6 اور 9 اگست 1945 کو ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم دھماکوں کی اجازت صدر ٹرومین نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر دی تھی۔
بے شک ہیری ٹرومین کو امریکہ، برطانیہ اور دیگر اتحادی قومیں جنگ عظیم دوم کا ہیرو مانتی ہیں مگر جس میٹرک پاس صدر نے ایٹم بم چلانے کی اجازت دی اور جس سے ایک ہی دن میں جاپان میں اتنی تباہی ہوئی اور لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتر گئے اسے باقی دنیا مسیحا کیسے مان سکتی ہے۔
ہمارے اعمال و کردار ترقی پذیر ممالک جیسے نہیں ہیں۔ ایک وقت تھا کہ راولپنڈی باڑا مارکیٹ میں خریداری کرنے جاتے تھے تو ہر اس چیز کو رد کرنا ہمارا معمول ہوتا تھا کہ یہ چائنا کی بنی ہوئی ہے۔ آپ مارکیٹ سے وہی چیزیں مثلا استری، تھرماس یا کلاتھ اور برتن وغیرہ خریدنے کو ترجیح دیتے تھے جن پر میڈ ان جاپان، اٹلی، انگلینڈ یا جرمنی وغیرہ لکھا ہوتا تھا۔ جس چائنا کو کبھی آپ ناقص یا سستا سمجھتے تھے آج امریکہ بھی اسی چائنا کا مقروض ہے۔ ماضی میں چین کی ان مصنوعات کی بہتات سے بآسانی پیش گوئی کی جا سکتی تھی کہ چین کتنا بڑا صنعتی ملک ہے اور مستقبل قریب میں وہ کتنی بڑی طاقتور معیشت بننے جا رہا ہے۔ یعنی کسی بھی ملک یا معاشرے کا ماضی اور حال اس کے مستقبل کی خبر دیتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو ہمارا معاشرہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ترقی دکھانے کی بجائے تنزلی ظاہر کر رہا ہے اور صنعت و ایکسپورٹ تو بلکل ہی تباہ ہو گئی ہے۔
ایک وقت تھا جب سنہ 1962ء تک چینی سربراہان مملکت پاکستان کی مثالی صنعتی ترقی کو دیکھنے کے لیئے پاکستان کے دورے کیا کرتے تھے اور اس وقت کے پاکستانی کاروباری گروپس سہراب، داؤد اور آدم جی وغیرہ کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے تھے۔ یہ پاکستان کی صنعتی ترقی کا وہی دور تھا جب آج کے امیر ترین ممالک جاپان اور جرمنی وغیرہ بھی پاکستان کے مقروض تھے۔ تب پاکستانی مصنوعات ہر ملک کو برآمد کی جا رہی تھیں۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج کہاں یہ ترقی یافتہ ممالک اور کہاں بیرونی قرضوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا پاکستان، بقول شاعر کہ: منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے، کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔
آپ ہمسایہ ملک ایران کی ترقی کرنے کی رفتار ہی کا جائزہ لے لیں کہ اس پر گزشتہ پینتالیس سالوں سے عالمی پابندیاں ہیں، اس کے باوجود ایران کی ترقی کرنے کی رفتار میں کمی نہیں آئی ہے۔ آپ کبھی ایران جا کر دیکھیں کہ پاکستان کے مقابلے میں وہ کس قدر ترقی یافتہ ملک ہے۔ ایران کی ترقی کی بنیادی وجہ ہی اس پر عائد کی گئی عالمی پابندیاں ہیں کہ اس نے خودانحصاری سیکھ لی ہے۔ جبکہ پاکستان نے خود انحصاری کی بجائے آئی ایم ایف اور بیرونی ممالک سے قرضوں پر انحصار کرنے کو ہی اپنی عادت بنا لی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں ہی کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، چین اور ملائشیا وغیرہ سے پاکستان میں انوسٹمنٹ کی آمد کو اپنی کامیابی کا زینہ سمجھ لیا ہے حالانکہ اس کے بدلے میں پاکستان مزید دوسرے ممالک پر انحصار کرنے کی دلدل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ ایران کی اس خودانحصاری کی بنیاد پر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی طرح ایران بھی ایٹمی قوت بن چکا ہے۔ لیکن پاکستان اور ایران کی معیشت کا فرق یہ ہے کہ ایران پر پاکستان کی طرح اتنا بڑا کوئی بیرونی قرضہ نہیں ہے۔ جبکہ ہر نئی پاکستانی حکومت بیرونی قرضوں ہی کو اپنی کامیابی کی بنیاد سمجھتی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے ہمیں آئی ایم ایف سے جو قرضہ ملتا ہے ہم اسے تعلیم کے فروغ یا نئی صنعتیں لگانے کی بجائے وفاق اور پنجاب میں اربوں نہیں تو کروڑوں کی گاڑیاں خرید لیتے ہیں جس کی مثال 80کروڑ کی پنجاب اور 61 کروڑ کی وفاق میں نئی گاڑیوں کی خریداری ہے۔ پاکستان کیسا ملک ہے کہ اسی نون لیگی حکومت نے پاکستانی عوام کو "کشکول” توڑنے کا نعرہ دیا تھا اب وہی حکومت سرمایہ کاری کے روپ میں کشکول کو دراز کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
چین پاکستان کے 2 سال بعد 1949ء میں آزاد ہوا مگر آج وہ دنیا کی دوسری بڑی "سپر ہاور” بن چکا ہے۔ پاکستان کی آج بھی نصف سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔ لیکن چین کو دیکھیں کہ اس نے کتنی تیزی سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو بھی ترقی کرنے میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ نے چین کو ٹیکساس میں پینتالیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا موقع فراہم کیا ہے جس میں سات بلین ڈالر مالیت کی جدید الیکٹرانکس اور چپس بنانے کی فیکٹری لگانے کا ٹھیکہ بھی شامل ہے۔
جدید دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے مگر پاکستان اس میں پیچھے ہی نہیں بلکہ اس طرف کوئی بھی نئی حکومت توجہ نہیں دے رہی ہے۔
چین پاکستان کا اچھا دوست ہے جس کے بارے ہماری ہر حکومت کا دعوی رہا ہے کہ اس سے ہماری دوستی ہمالیہ کے پہاڑوں سے بھی اونچی ہے مگر سوچنے کی بات ہے کہ گوادر منصوبے میں چین کے تعاون کے باوجود ہم نے اس سے کیا سیکھا ہے یا اس سے ہم نے کس حد تک دوستی کا حق ادا کیا ہے۔
سی پیک کے منصوبے ہی کو دیکھ لیں کہ اس مد میں آج تک 19 چینی انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کا قتل کیا جا چکا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں ملک دشمن عناصر اور دہشت گرد آج بھی آزادانہ گھوم رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ ہم ہمسایہ دوست ملک چین سے سائنس اور ٹیکنالوجی سیکھ لیتے یا خودانحصاری کے ذریعے اپنے پاؤں پر آپ ہی کھڑا ہونا سیکھ لیتے ہم آج بھی بیرونی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں یا ہماری یہ اجتماعی سوچ بن گئی ہے کہ پکی پکائی کھانی ہے یا قرض کی مے لے کر عیاشی کرنی ہے جو پہلے ہی تقریبا ہماری ہر حکومت کرتی چلی آ رہی ہے۔
جیسے پاکستانی برٹش ہیں، اسی طرح پاکستانی امریکی، پاکستانی کنیڈیئن، پاکستانی کورئین، پاکستانی آسٹریلین اور پاکستانی جاپانی وغیرہ بھی ہیں۔ یہ کہانی مجھے ایک پٹھان نے سنائی تھی جو سیر سپاٹا کر کے جاپان سے تازہ تازہ واپس اسلام آباد پلٹا تھا۔ میں اس پٹھان کا نام بھول گیا ہوں۔ یہ کوئی پینتیس سال پہلے کا واقعہ ہے کہ میں اسلام آباد کی ایک روڈ پر کھڑا تھا۔ انہوں نے مجھے کار میں لفٹ دی اور پھر وہ میرے دوست بن گئے۔ ان دنوں وہ پشاور موڑ کے ایک گھر میں رہتے تھے اور چک شہزاد میں "یاسین چکس” کے نام سے ان کا ایک مرغی فارم بھی تھا۔ شائد اس کے علاوہ وہ جاپان سے گاڑیوں کے امپورٹ کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ میں ان کا نام چونکہ اکثر بھول جاتا تھا اور ان کا نام آج بھی یاد نہیں آیا، تو میں نے اس کالم کا عنوان "جاپان والا پٹھان” رکھ دیا ہے۔
میرا تجربہ ہے کہ انسان کا دماغ اچھے کلمات، نصائح اور واقعات وغیرہ جو دل پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں انہیں تاحیات یاد رکھتا ہے۔ شائد دماغ کی یہ صلاحیت سب سے زیادہ بھاری اور طاقتور ہے کہ انسان جتنا مرضی بھلکھڑ ہو، وہ بار بار ذہن پر زور دے اور کوئی چیز یاد نہ آ رہی ہو مگر وہ اچانک یاد آ جائے تو دماغ کو فورا پتہ چل جاتا ہے کہ بھولی بسری یہ چیز وہی ہے جسے وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ عین اس موقع پر کچھ یاد آ جائے تو دل کو ایک عجیب سی راحت اور طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ جاپان کے بارے پہلی بار کوئی کہانی میں نے اسی "جاپان والا پٹھان” سے سنی تھی۔ بقول ان کے کہ وہ ٹوکیو سے کسی دوسرے شہر جا رہے تھے۔ جاپان میں یہ اصول ہے کہ آپ جب کسی ہوٹل کو چیک آو’ٹ کرتے ہیں تو ہوٹل کا عملہ آپ سے آپ کی اگلی منزل کا پتہ وصول کر لیتا ہے۔
جب وہ اگلے شہر میں ایک ہوٹل میں ٹھہرے تو کوئی تین گھنٹے بعد ان کے کمرے پر بیل ہوئی اور ہوٹل کے عملہ نے انہیں ایک پیکٹ پکڑایا اور کہا کہ "جناب آپ یہ سوٹ ٹوکیو کے ایک ہوٹل میں بھول آئے تھے!”
ظاہر ہے کہ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ جو سوٹ وہ ٹوکیو کے اس ہوٹل میں وافر سمجھ کر ارادتا جھوڑ آئے تھے وہ جاپانیوں نے اسے اگلے شہر میں اس کے ہوٹل تک اس خیال سے پہنچا دیا تھا کہ شائد وہ یہ سوٹ سہوا وہاں بھول گئے تھے۔
جاپانی دنیا کی ایمان دار و تہذیب یافتہ اور طاقتور ترین معاشی قوت ایسے ہی نہیں بنے، ان کے کردار کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جن پر وہ کبھی سمجھوتہ کرتے ہیں اور نہ ہی اسے انجام دینے میں کوئی کوتاہی کرتے ہیں۔
اسی طرح جاپان والا پٹھان نے ایک اور واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ وہ کسی شہر میں ایک ٹیکسی میں سفر کر رہے تھے جسے ایک جاپانی نوجوان چلا رہا تھا۔ ایک دوسرے جاپانی نے اس ٹیکسی میں اپنی گاڑی ٹھوک دی۔ نیچے اترے تو دونوں جاپانیوں میں بحث و تکرار ہو گئی جو کچھ طویل ہونے لگی تو ٹیکسی والے جاپانی نے کہا کہ "آپ نے دیکھا نہیں کہ میرے ساتھ ایک غیر ملکی مہمان سفر کر رہا تھا۔” اس کا یہ فقرہ کہنا تھا کہ جیسے دوسرے جاپانی کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ وہ فورا خاموش ہو گیا۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر اور جھک کر معافی مانگی اور جاپان والا پٹھان کو اپنا وزٹنگ کارڈ دے کر کہا کہ آپ کو چوٹ تو نہیں لگی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ حادثے کی کچھ چوٹوں کا اثر دیر سے ظاہر ہوتا ہے، آپ کو جب بھی کوئی تکلیف ہو تو مجھ سے فورا رابطہ کرنا، سارا خرچہ میں کروں گا۔
جاپان کے بارے انہوں نے ایک اور واقعہ سنایا کہ وہ جاپان کے ایک سٹور پر جوس خریدنے گئے اور خرید کر ابھی کار پارک میں نہیں پہنچے تھے کہ ان کے پیچھے ایک جاپانی لڑکی بھاگتے بھاگتے آئی اور واپس سٹور میں آنے کو کہا۔ جاپان والا پٹھان نے بتایا کہ سٹور کا پورا عملہ ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے اس سے معافی مانگی، جوس کے نئے ڈبے دیئے اور اتنی ہی قیمت کے کچھ تحائف بھی تھما دیئے اور وضاحت کی کہ یہ آوٹ ڈیٹڈ جوس کے ڈبے منیجر نے پھیکنے کے لیئے الگ نکال کے رکھے تھے جو غلطی سے آپ کو فروخت کر دیئے گئے۔
جاپان میں ہمارے ایک اور دوست خاور کھوکھر صاحب رہتے ہیں۔ ان کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ ہر سال جولائی کے مہینے میں اس اچھے جاپان میں "تاناباتا” کا تہوار منایا جاتا ہے۔ اس تہوار یعنی تاناباتا کو محبت، امید اور خوابوں کے رنگین جذبات کو منانے والا تہوار کہتے ہیں۔ کہانی اس کی کچھ یوں ہے کہ "اوری ہی مے” آسمان کے بادشاہ کی خوبصورت اور سحر انگیز حسن والی شہزادی تھی، اور "ہیکوبوشی” ایک گائے چرانے والا شہزادہ تھا۔
وہ دونوں ملکی وے یعنی کہکشاں دریا کے کنارے محبت کی پینگیں چڑھاتے تھے۔
اس کے کردار پنجاب کی کہانی سوہنی مہینوال سے ملتے جلتے ہیں۔ آسمانوں کے بادشاہ یعنی اوری ہیمے کے باپ کو پتہ چل جانے پر ان کے درمیان وچھوڑا ڈال دیا گیا، انکو دو ستارے بنا کر آسمانوں میں دور پھینک دیا گیا۔
ہر سال ساتویں مہینے کی سات تاریخ کی رات "اوری ہی مے” اور "ہیکوبوشی” کی ملاقات ہوتی ہے، جاپانی روایات میں اگر اس رات بادل چھائے ہوئے ہوں اور کہکشاں نظر نہ آ رہی ہو تو اوری ہی مے کو اپنے شہزادے کو ملنے کے لئے ایک مذید سال انتظار کرنا ہوتا ہے۔ جاپان میں تاناباتا کا تہوار بہت شوق سے منایا جاتا ہے، لمبے لمبے بانس لگائے جاتے ہیں جن پر مستطیل کاغذی پٹیاں جھول رہی ہوتی ہیں،
یہ کاغذی پٹیاں تاناباتا تہوار کی سب سے مشہور علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔
رنگین کاغذ کے سٹریمرز کی لمبی، پتلی پٹیاں، جنکو "تانزاکو” کہا جاتا ہے یہ کاغذات اور دیگر ڈیکوریشن پیس اور اوریگامی (کاغذوں کو موڑ کر ساختیں بنانے کا جاپانی آرٹ) کے ساتھ بانس کی شاخوں سے لٹکائے جاتے ہیں۔
بانس پر اپنی خواہشات یا دعائیں لکھ کر لٹکائی جاتی ہیں، اپنے بچھڑ جانے والے پیاروں سے ملاقات کی خواہش یا علیحدہ ہو جانے والے محبوب سے ملاپ کی دعائیں بھی درج ہوتی ہیں۔ اگر آپ جاپان میں رہتے ہیں تو بے شک آپ کسی بھی مذہب اور قومیت کے ہوں جولائی کی سات تاریخ کو ہونے والی اس ڈیکوریشن اور اور تاناباتا کے تہوار کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔
جاپانی لوگ کردار اور سیرت کی انہی ایماندارانہ اور مبحت بھری خوبیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک منفرد قوم ہیں۔ ان کا مہمانوں اور دوستوں کا جھک کر استقبال کرنے اور ملنے کا ایک عاجزانہ انداز ہے جسے دیکھ کر آنے والا دل پسیج کر رہ جاتا یے۔ وہ کسی اجنبی کو بھی ملتے ہیں تو ان کی ایک خاص مسکراہٹ اور "باڈی لینگویج” ہوتی ہے۔ اسی لیئے جاپان کو محبت کی ابھرتی دنیا کا ملک بھی کہا جاتا ہے۔ جاپانی شائد دنیا پر دوبارہ حکومت کرنے کا خواب تو نہ دیکھ سکیں مگر وہ آج دلوں پر حکومت کرنے کا اپنا خواب ضرور پورا کر رہے ہیں۔
علامہ افتخار احمد خالد کا تازہ ترین سفر نامہ "سفر سراب” دس ممالک بشمول جاپان، تھائی لینڈ، ترکی، برازیل، بولیویا، پیرو، ایکواڈور، دبئی، یوگنڈا اور کینیا کے دلفریب سفر کے بارے میں علامہ افتخار کا اردو سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامے میں مصنف کی مقامی دوستوں کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوئیں ہیں ان ملاقاتوں کی روداد کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے لیکن مصنف ذاتی مشاہدات میں جانے سے پہلے ہر ملک کے سماجی و اقتصادی منظرنامے کی معلومات انگیز تصویریں بھی فراہم کی ہیں۔ علامہ افتخار کا نقطہ نظر مختصر ہونے کے ساتھ ساتھ مستند بھی ہے، ہر ملک کے سفر کے واقعات کو مختصر تفصیلات اور حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جیسے کہ رقبہ، آبادی، اہم شہر، کرنسی، اور دیگر متعلقہ معلومات، قارئین کو ان ممالک میں گھومنے پھرنے کے لیے ایک سیاق و سباق کا پس منظر پیش کرتے ہیں۔کتاب کے پس ورق میں قاسم علی شاہ استاد، مصنف، مقرر اور چیئر مین قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن لکھتے ہیں "دنیا میں موجود ہر خطے، وادی اور شہر کی اپنی ایک الگ داستان ہے۔ ان داستانوں میں کئی بھٹکے مسافروں کے قصے، سیاحت کے شوقین افراد کی یادیں اور گردش ایام میں روز گار کے متلاشیوں کی تگ و دو ملتی ہے۔ سفر کرنے والا اگر لکھنے کا فن رکھتا ہوتو وہ ان مناظر کی ایسی دلکشی کرتا ہے کہ پڑھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب "سفر سراب ” بھی ایسی ہی داستانوں پر مشتمل ہے۔ مصنف نے بڑی خوبصورتی سے مختلف ممالک میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور اپنے تجربات کو بیان کیا ہے۔ کتاب کے موضوعات جیسے کہ غم روزگار کے” ،”اجنبی راہیں ” ، "کہاں جارہا تھا کہاں آگیا”، "میں کہاں کہاں سے گزر گیا ” وغیرہ اس سفر سے جڑی یادوں کو بیان کرتے ہیں۔ کتاب کا انداز دلنشین ہے اور پڑھنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ بھی ان مقامات کی سیر کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ الله تعالیٰ مصنف کے قلم کو مزید روانی عطا فرمائے آمین!”
اس سفرنامے کی مخصوص خصوصیات 12 صفحات پر پھیلی ہوئی 146 رنگین تصاویر بھی شامل ہیں، جو مصنف کے سفرنامہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا فوٹوگرافر ہونے کی بھی واضح طور پر عکاسی کرتی ہیں۔ 132 صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت صرف 500 پاکستانی روپے ہے۔ مصنف کی سفرنامہ کی روداد لکھنے کی صلاحیت، جیسا کہ ‘لب تشنا’ (ایک شاعرانہ انتھالوجی)، ‘گھر کیس لگا ہے’ (ایک اور سفرنامہ) اور ‘سفر نمدیدہ نمدیدہ’ (ایک سفری ڈائری) جیسی سابقہ تصانیف میں دکھایا گیا ہے، ‘سفر سراب’ میں چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے قارئین کو ثقافتی باریکیوں اور ذاتی عکاسیوں سے بھرپور دنیا میں مدعو کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب صحافتی ذہانت اور ادبی خوبیوں کے حسین امتزاج کے ساتھ بہترین اردو سفرنامہ ہے، مصنف ہر سفری ملاقات اور روداد کو ایک پُر اثر داستان میں بدل دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، فیض احمد فیض کے اس نوحہ کی بازگشت کہ دنیا کسی کی یادوں سے بے نیاز ہو گئی ہے، روزی روٹی کے فتنے دل کی پریشانیوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔ ‘سفر سراب’ مصنف کے ادبی مجموعے میں ایک زبردست اضافے کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ میں مصنف کو اتنا اچھا سفرنامہ لکھنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
پروفیسر انور جلال صاحب مرحوم و مغفور کا یہ سفرنامہ شمارہ سہ ماہی مجلہ ذوق میں شائع ہوا تھا۔ مدیر اعلی جناب نصرت بخاری صاحب نے سوچا کہ اسے آن لائن بھی شائع کیا جائے۔ہمارے اس میگزین کے لئے پروفیسر صاحب نے چونکہ پہلے بھی لکھا تھا تو ان کا اکاؤنٹ بنا ہوا ہے ، لھذا ان ہی کے نام سے اسے شائع کیا جا رہا ہے۔
آغا جہانگیر بخاری
روداد 7۔اگست2019 میں اپنے تمام جگر فروشوں کو یادوں میں سنائے سینے سے لپیٹا کر(جاپان) لایا ہوں۔۔جیسے شاعر نے کہا” جب کبھی گردن جھکائی دیکھ لی۔”کبھی ملک اشرف،کبھی عبدالرحمن رحمان سے سرگوشی کر لی،کبھی نثار صدیقی اور کبھی طاہر جاوید کو دیدار کرلیا۔یونہی سارے” لوگ” "آتے گئے اور کارواں بنتا گیا”۔ہو گئی دل کو تیری یاد سے اک نسبت خاص ۔’’اب شاید ہی میسر کبھی تنہائی ہو‘‘ 12اگست2019 سائی تامہ اور ٹوکیو کی گلیوں، سڑکوں پہ پھر رہے ہیں۔ہر شے چمکتی دمکتی،خواہ ریل گاڑیاں ہوں، سرکاری بسیں، پرائیویٹ ٹیکسیاں، موٹر سائیکلیں سائیکل۔سڑکیں، گلیاں، راستے نہایت خوشنما ۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ، کسی کو کسی سے مطلب نہیں۔ دوسرے کی طرف دیکھتا تک نہیں ایک نے ہاتھ میں موبائل فون تھاما ہوا ہے اور اتنی پریکٹس ہے کہ نگاہ موبائل سکرین پر ہے لیکن تیز رفتاری سے بلکہ بھاگتے ہوئے منزل مقصود کی جانب گامزن ہیں۔مجھے یاد آیا کہ ہمارے بچے سلفیاں لیتے ہوئے ریل گاڑی کے نیچے آجاتے ہیں یا دریا میں گر جاتے ہیں۔کسی دکان پہ چلے جاو، لگتا ہے، عاجزی،اعلی ترین اخلاق اور خوشی سے پھولے نہ سامنے کی سی کیفیت سے آپ کا استقبال ہو رہا ہے۔تمام بڑی سڑکیں گاڑیوں سے بھری ہوئی ہیں لیکن ہمارے ایسی حکومتی چمکتی بسیں کیوں نظر نہیں آتیں۔جگہ جگہ زیبرا کراسنگ،ہمارے ہاں کی طرح بنے ہو ہوئے ہیں۔لیکن افسوس ہمارے گاڑیوں والے،زہرا کراسنگ کے اوپر گاڑی کھڑی کرتے ہیں۔جبکہ ان کی نظروں میں عام آدمی کی بہت اہمیت ہے۔ چنانچہ انہوں نے گاڑیوں کے سرخ اور سبز سگنل کی طرح پیدل چلنے والوں کے لئے سبز اور سرخ سگنل لگا دئیے ہیں یعنی گاڑیوں کے سبز سگنل سے پہلے پیدل لوگوں کے لئے سبز سگنل ہوتا ہے اور زہرا کراسنگ والے پورے اطمینان سے اس تک گزرتے رہتے ہیں ،حتی کہ پیدل والوں کے لئے سرخ سگنل ہو جاتا ہے۔اب ذرا بتائیے،پاکستان میں یہ سب کرنا کتنا مشکل ہے ؟
14۔اگست 2019 ٹوکیو اور سائی تامہ کے گلی کوچوں میں گھومتے ہوئے،میں نے محسوس کیا کہ اگر عوام مردوں کی طرح سست اور ڈھیلے نہ پڑے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے مسائل دائمی طور، نہ حل ہوں۔جس طرح شہباز شریف ، اپنے بد دیانت ٹھیکداروں سے کام کراتا ہے،برسات میں بڑی سڑکوں اور گلیوں میں پانی ہمیشہ بھرا رہے گا ۔ دوسرے اصل مسئلہ اداروں، کی بددیانتی ہے۔ میونسپل کمیٹیوں سے لے کر، ایل ڈی اے،سی ڈی اے اور کنٹونمنٹ سب بدمعاشوں سے بھرے ہوئے ہیں۔۔۔ان میں خوف خدا کیسے آئے گا اور رزق حلال کمانے کا جذبہ کس طرح پیدا ہو گا۔ایک ہی طریقہ ہے خوفناک سزائیں۔ سچ پر مبنی تیز رفتار انصاف ہو اور تین پیشوں کے بعد نوکری سے فارغ۔میں سائی تامہ کی ایک ایک گلی میں اس نکتہ نظر سے پھرا ہوں کہ کہیں کوئی نقص نظر آجائے۔خدا کی قسم ذرا سا بھی جھول کسی کام میں نظر آیا ہو۔فلیٹو ں کے سلسلے دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔کہیں کہیں گھر بھی ہیں،جن کے اندر گاڑی کھڑی ہے۔باقی ہر گھر کے باہر خوب صورت کھلی پارکنگ ہے،گاڑی پارکنگ کے لئیے، ماہانہ کرایہ وصول کیا جاتاہے۔چھوٹے بچوں کے اور بڑوں کے لئے علیحدہ سائیکلوں کے رکھنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔بارش سے بچاؤ کے لئے،دو مضبوط لوہے 4×6 انچ کے پلر پر خوب صورت سٹیل کی چادر ایسے سنگل سے ڈالی گئی ہے کہ میں خود برستی بارش میں گیا،ایک قطرہ بھی بارش کا نہیں پڑا تھا۔اکثر لڑکے اور لڑکیاں سائیکل چلاتے ہیں ساری سڑکوں کے ایک طرف گھنے درختوں کے پرلی طرف سات یا آٹھ فٹ،جگہ بنی ہوئی ہے بائیں طرف پیدل چلتے ہیں اور دائیں طرف سائیکل سوار۔زمین کا کو ئی نشان نہیں خود رو گھاس نے ہر انچ کو ڈھانپ رکھا ہے۔ درختوں کے تنوں میں کھاد ڈال کر،اوپر باریک بجری ڈالی گئ ہے، اس پر پورےگھیرے کے برابر لوہے کی خوب صورت جا نما شیٹ لگی ہے۔لیکن اکا دکا درختوں پر،پتہ نہیں وہ درخت نادر ہیں اور یہ انہیں محفوظ رکھنے کا عمل ہے۔ایک شے جو مجھے بہت اچھی لگی،وہ سائی تامہ سے لے کر ٹوکیو تک( 60 کلومیٹر) نابینا کے لئے آٹھ چوڑی زمین سےآدھ انچ زمین سے اوپر اٹھی ہوئی چار لائینیں، جن پر زرد رنگ کیا گیا ہے،عام لوگوں کو اس سے ہٹ کر چلنے کی ہدایت ہے۔ نابینا لوگ اپنی اسٹک کی مدد سےچلتے ہوئے بآسانی راستہ طے کرتے ہیں۔
16۔اگست2019 آج سائی تامہ کا سرکاری ہسپتال دیکھا۔یہ کیسے لوگ ہیں،جنہوں نے اپنے مریضوں کو عزت سے بیٹھنے کے لئے ، بہت بڑ ے ہال میں شاندارصوبے سیٹ ڈال رکھے ہیں۔ سارے ہسپتال میں پھر کر دیکھا ہر راہداری میں یکھا،ہر ڈاکٹر کے کمرہ کے آگے صوفے پر وہ لوگ بیٹھے تھے جو ہال میں متعلقہ لوگوں سے مل کر، اپنے مطلوبہ ٹیسٹ کروا چکے تھے۔۔یا سامنےدرجنوں نرسوں کا سٹاف بیٹھا تھا،جن کے پاس پرانے مریضوں کا ریکارڈ موجود تھا۔میرے کیس میں ایک نرم چہرے والی،کوئی چالیس عمر والی خاتون مسکراہٹ،چہرے پر سجائے آئی۔یہ تو افسوس ہوا کہ زبان سمجھ نہیں آتی لیکن میرے بیٹے ڈاکٹر عدنان نے کچھ گزارا کر لیا۔اس نے مسکراتے ہوئے ساری بات سمجھ لی آور ایک کمرے میں چلی گئی۔چند منٹ بعد آئی اور ہمیں ساتھ لے گئی۔میرا ایکسرے لیاگیا۔پھر E C G لی اور آخر میں بلڈ پریشر لیا۔ہم اپنی سیٹوں پر بیٹھے کہ دس منٹ بعد ہی مسکراتا چہرہ نمودار ہوا اور ہمیں آگے لے چلا۔صرف چند قدم۔۔۔نوجوان جاپانی ڈاکٹر نے ہم سے آٹھ کا مصحافہ کیا میرا ایکسرے سامنے لائٹ والی مشین پر لگا تھااس نے کہا Mild Pneumoniaہے۔اس نے دوائیاں لکھ دیں اور کہا کہ اس حالت میں لمبا ائیر سفر نہیں کر سکتے۔ہماری ⁶ بجے فلایٹ تھی۔ اس نے دس منٹ انتظار کرنے کو کہا۔۔ہم باہر آ کے اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔وہی مسکراتا چہرہ ہمیں آ کر کاغذ دے گیا۔اب ہم نے ویزہ سیکشن جانا تھا۔۔ اتنی دیر میں ممتاز شاہ جی آ گئے۔وہ 1982 میں میرے نہایت قریب رہے تھے، میں انچارج سٹوڈنٹس یونین تھا اور شاہ جی جنرل سیکڑیڑی منتخب ہوئے تھے۔سو ہر وقت کا ساتھ !،7 2 سال سے جاپان میں تھے۔میرا ان کا میسنجر پر رابطہ تھا وہ بھی سائی تامہ میں رہتے ہیں انہوں نے پوری فمیلی کو پرتکلف کھانا کھلایا مونس رضا جی کا خاص ذکر ہوا۔۔انہیں ہمارے سارے پروگرام کا علم تھا۔جب عدنان کی زبانی میری بیماری کا معلوم ہوا تو بھاگتے آئے،یہی ہمارے علاقوں کی شان ہے۔ہمارے ساتھ ویزہ آفس آئے اور ان کے جاپانی بولنے نے بہت مدد کی۔ آخر کار ویزہ آفس نے دو ہفتے کا ویزہ بڑھا دیا۔میں سمجھتا ہوں اگر ہم اپنے لوگوں کی عزت افزائی کریں تو پوری قوم میں پیارومحبتبڑھے۔کسی کا کام مسکراتے ہوئے اور دوڑ کر کرنے سے آپ دوسرے کے دل میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں۔اگر آپ کبھی میو ہسپتال یا جناح یا کسی بڑے ہسپتال گئے ہیں تو وہاں جو حال ہے۔اللہ معافی ! ۔میرا تجربہ ہے کہ اگر ایم ایس، بندے کا پتر ہو تو پیار و محبت کا یہ بیج بویا جا سکتا ہے۔
وہ مقام جہاں دو رستے ایک دوسرے کو کاٹ کر آر پارگزر جاتے ہیں اور ان کے اس باہمی قطع و اتصال سے چار رستے وجود میں آجاتے ہیں ؛چورنگی, چوک, چورستہ یا چوراہا کہلاتا ہے۔ کسی زمانے میں چوراہا ہنڈیا پھوڑنے کی جگہ بھی ہوا کرتا تھا اور لوگ بیچ چوراہے کے ہنڈیائیں پھوڑا کرتے تھے لیکن اب وہ رواج ختم ہوا، اب ہنڈیا مٹی کی نہیں ہوتی اس لیے ہنڈیا پھوڑ مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ روایتی طریقے سے تیز رفتار اور قدرے پائدار بھی ہے۔ میرا آج کا موضوع اٹک شہر کے چوراہے ہیں۔ ہم چوراہے کو چوک کہتے ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ آپ کو سارے اٹک شہر کی اسی طرح سیر کراؤں شرط یہ ہے کہ آپ ساتھ ساتھ رہئے وہ جسے انگریزی میں Stay Tuned کہتے ہیں وہی میرا مطلب ہے۔ ہمارے شہر میں کچھ تو ایسے چوک بھی ہیں جو تین راستوں کے اتصال سے بنے ہیں لیکن چوک کہلاتے ہیں۔مثلاً تین میلا چوک ، بسال چوک ، گیدڑ چوک وغیرہ۔ تو شروع کرتے ہیں تین میلا چوک سے ہی، یہ چوک جو کہ چوک نہیں ، شہر کے شمال میں تین میل کے فاصلے پر ہوا کرتا تھا۔ اب بھی وہیں ہے لیکن اب شہر بھی وہاں تک پہنچ گیا ہے اور اس تین میل کو طے کرنے میں شہر کو سو برس سے زائد کا عرصہ لگا۔یہ تین راستوں کا اتصال ہے، ایک وہ سڑک جس سے ہم یہاں آئے ہیں یعنی اٹک شہر سے تین میلا تک، یہاں سے مغربی سمت جانے والی سڑک حاجی شاہ کے مقام پر جرنیلی سڑک سے جا ملتی ہے اور یہ اٹک سے مغرب کی طرف یعنی خیبر پختون خواہ اور تا بہ حد کاشغر بلکہ ماسکو، لندن اور اس سے آگے جانے کا راستہ ہے۔ مشرقی طرف والی قدیم سڑک قطبہ کے مقام پر جرنیلی سڑک سے ہم آغوش ہوتی ہے جبکہ اس کی جدید شاخوں میں سے ایک جھلا خان چوک سے ہوتی لارنس پور اور دوسری شاخ ہٹیاں کے قریب غازی بروٹھہ نہر کے پاس جی ٹی روڈ پر جا نکلتی ہیں۔یہ سڑکیں مشرقی اور شمالی سمت کے شہروں کو جاتی ہیں۔ شمال میں چین اور مشرق میں جاپان تک جایا جاسکتا ہے۔ پہلے یہاں صرف تین سڑکوں کا اتصال ہی تھا ،وقت گزرنے کے ساتھ ایک مخروطی چبوترہ بنایا گیا جس کا رقبہ اور شکل مختلف ادوار میں تبدیل ہوتی رہی ۔ اس وقت وہاں انتہائی خوبصورت یادگار ہے ، برقی قمقمے نصب ہیں ، درخت، پھولوں اور سر سبز گھاس سے سجے نہایت وسیع رقبے پر چبوترے اور دو رویہ سڑکیں موجود ہیں۔ اسی مقام کے آس پاس پرانا ریلوے اسٹیشن بھی تھا جس کے آثار اب نہین ملتے بڑے بوڑھے اسے پرانا ٹیشن بھی کہا کرتے تھے۔اس کا نام تین میلا اس دور کی یادگار ہے جب فاصلہ میلوں میں ناپا جاتا تھا۔ پھر نظام بدل گیا اور میل کی جگہ کلومیٹر نے لے لی۔ میل کلومیٹروں میں بدلے تو جناب عبدالقادرحسن نے لکھا تھا، ” میٹرک نظام اوزان کے رواج پذیر ہونے سے جہاں تاجر طبقے کو ڈنڈی مارنے اور فوری فوائد حاصل کرنے کے مواقع میسر آئے ہیں۔ وہاں کچھ لوگوں کو فوری نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ان لوگوں میں محض صارفین ہی شمار نہیں ہوتے بلکہ وہ مورخین بھی شامل ہیں۔ جو جذبات واحساسات کی تاریخ لکھتے ہیں اورعرف عام میں شاعر کہلاتے ہیں اورمیٹرک نظام اوزان ے رائج ہونے سے نقصان انہیں یہ ہوا ہے کہ اب وہ اس طرح کے شعر نہیں لکھ سکیں گے۔
طے کرے گی چکور کیا ماجد چاند تک فاصلہ ہے میلوں کا
یوں سب کچھ بدل گیا نہ وہ چکور ہیں نہ چاند پر جانے کی دھن نہ وہ فاصلہ نہ شہر ، جی ! جس شہر کا تین میلا تھا وہ تو کیمبل پور تھا اب تو وہاں شہر کی طرف آنے والی سڑک کے کنارے سنگ میل پر لکھا ہے “اٹک شہر 5 کلومیٹر “؛ چلیے اٹک شہر چلتے ہیں۔