Tag: ایمان

  • نوجوان نسل اور بے حیائی

    نوجوان نسل اور بے حیائی

    نوجوان نسل اور بے حیائی

    حیا کا لفظ حیات سے نکلا ہے حیات القلوب یعنی دل کی زندگی انسان فطرتا باحیا ہے لیکن گھر کا ماحول والدین کی تربیت اور معاشرے کا رہن سہن اس پر اثر انداز ہوتا ہے لکھنے پڑھنے اور سننے میں حیا ایک بہت چھوٹا سا لفظ ہے لیکن یہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے اور حصول تقوی کا ذریعہ ہے حیا کا لفظ جب بھی ذہن میں آتا ہے تو عورت کا تصور پہلے آتا ہے بلا شبہ حیا عورت کا زیور ہے لیکن مرد کے اندر بھی اس صفت کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک عورت کے لیے جیسے کہ سورہ نور میں جہاں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا وہیں مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا لہذا مرد و زن دونوں کا باحیا ہونا کسی بھی بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے بہت ضروری ہے

    اگر لب و لہجے،حرکات و سکنات اور عادات و اطوار میں شرم و حیا نہ رہے تو باقی تمام اچھائیوں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور دیگر تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وَقعت کھو دیتے ہیں۔ جب تک انسان شرم وحیا کے دائرے میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اِس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔
    آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں ۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے تو ایمان کی اس شاخ کو اگر آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھنے کے لیے اپنی نوجوان نسل کی طرف نظر دوڑائیں تو یہ بات نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے نوجوان نسل میں حیا کا عنصر ناپید ہوتا جا رہا ہے آج بے حیائی کو boldness کا نام دے کے glamorize کر دیا گیا ہے جو جتنا بے حیا ہوگا وہ اتنا ہی مقبول ہے ہ اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور ہر طرح کے غلیظ مواد تک باآسانی رسائی ہے
    جہاں ٹیکنالوجی کے آنے سے انسانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں وہیں اس ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کی وجہ سے بے راہ روی اور اخلاقی تباہی کا جو طوفان اٹھا ہے وہ تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے مختلف ایپلیکیشن کے استعمال نے نوجوانوں کو خبطی بنا دیا ہے ان کا مقصد صرف فالورز لائکس اور پیسہ کمانا ہے چاہے اس کے لیے اخلاق سے گری حرکتیں کرنی پڑے یا حیا سے عاری کنٹینٹ بنانا پڑے یہ سب کوئی بڑی بات نہیں ہے ٹک ٹاکر لڑکے لڑکیاں ویڈیوز بنانے کے لیے جوڑے کی حیثیت سے رہتے ہیں آج جو عورت جتنا مختصر لباس پہنے گی وہ اتنی ہی ماڈرن اور لبرل خیال کی جاتی ہے جب کے . با پردہ عورت اور سنت سے مزین چہرے والے مرد کو دقیانوسی کہا جاتا ہے عورت جب اپنے مقام سے گرتی ہے تو پھر کبھی نور مقدم کی طرح اک نا محرم کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہے اور کبھی منار پاکستان پر مردوں کو دعوت گناہ دیتے ہوئے بے ہوش ہوتی ہے ہمارا المیہ یہ ہے ہم اپنی اقتدار روایات اور اپنی پہچان سے ناواقف ہیں ہندوانہ اور مغربی تہذیب کے اثرات ہماری زندگی کے ہر پہلو سے عیاں ہیں ہماری شادی بیاہ کی رسومات ہوں لباس ہو یا ہمارا نظام تعلیم ہر جگہ اپ کو اغیار کی چھاپ نظر آئے گی ہر جگہ سے حیا کا جنازہ نکلتا ہوا نظر آئے گا اس چکر میں ہمارا حال آج دھوبی کے اس کتے کی طرح ہے جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا یہ تمام باتیں لکھتے ہوئے دل کے اندر ایک کرب کی کیفیت ہے کیونکہ آج ہماری نوجوان نسل جس اخلاقی پستی کا شکار ہے آنے والے وقت میں مزید پستی کی گہرائیوں میں جائے گی کیونکہ ہم نے گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیا اس بے حیائی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کو روکنے کے لیے ہم کوئی اقدامات نہیں کر رہے اس بے حیائی کے طوفان کے لیے ہم صرف ٹیکنالوجی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ اسی معاشرے میں باحیا باکردار اور باپردہ عورتیں بھی موجود ہیں اور نگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد بھی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ والدین استازہ اکرام ہمارے تعلیمی ادارے ہمارا نصاب تعلیم اور نہایت معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے کا وہ دین دار طبقہ جنہوں نے امر بالمعروف اور نہی المنکر کا کام چھوڑ دیا وہ بھی اس جرم میں شریک ہے ہمارے تعلیمی ادارے اور ہمارا نظام تعلیم ہر لحاظ سے اخلاقی تربیت اور کردار کی تعمیر کے لحاظ سے ناکام ہے والدین اور تعلیمی اداروں دونوں کا مقصد ایک ہی ہے بچے کو اچھے روزگار کے حصول کے قابل بنانا بچے کو ایک اچھا انسان بنانا ایک اچھا مسلمان بنانا اور امت مسلمہ کو ایک اچھا فرد دینا دونوں کی ترجیح نہیں ہے اگر ہمیں اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا اور اس کا صرف ایک ہی حل ہے اپنی زندگی کو اپنے رب کی امانت سمجھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق ڈھالنا شروع کریں اپنے دلوں کو قرآن کے نور سے منور کریں شیطان کے راستے کا انکار کر کے رحمان کے راستے کے مسافر بن جائیں اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا


    کیونکہ حیا نسل انسانی کی بقا ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے اور جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو اگر اپنی نسلوں کی حفاظت کرنی ہے اور تنزلی کے اس سفر کو چھوڑ کے کردار و اخلاق کی بلندی تک جانا ہے تو اپنے طرز زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنا ہوگا اسی میں ہماری عافیت اور کامیابی ہے

    Title Image by Shima Abedinzade from Pixabay

  • قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں

    قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں

    قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں!

    Dubai Naama

قرآن اور خدا پر ایمان، سائنس کی روشنی میں

    حقیقی اور غیر متبدل علم صرف "وحی” ہے باقی سب عقائد اور روحانی علوم ارتقاء پذیر تعلیمات ہیں۔ ہماری حقیقت وہی ہے جو ہماری جذباتی کیفیت ہے جو کہ ہمارے مضبوط ایمان پر مبنی ہے جسے ہم تقدس سے اپنے دل اور دماغ سے جوڑے رکھتے ہیں۔

    قرآن اور خدا پر ہمارا ایمان اندھے یقین پر مبنی نہیں ہونا چایئے بلکہ ایسا ہونا چایئے کہ جیسے قرآن کو ہم نے پڑھ لیا ہے اور خدا کو ہم نے دیکھ لیا ہے اور ہمارا پختہ یقین ہے کہ وہ ہے ناکہ ہم امید کریں کہ وہ ہو گا۔

    کوئی شخص اپنے ایمان سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایسا کامل یقین ہے جو دل کی گرفت میں آنے کی بجائے دل کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔

    ہر ایسا غیر سائنسی عقیدہ ہماری زندگی کو تباہ کر سکتا ہے جس کے بارے میں ہمارا عقلی علم ناقص ہو۔

    کوانٹم لیول پر خدا کو ہم بطور ناظر خدا کی صنائی اور قوانین کے اعتبار سے بہت قریب سے سمجھ سکتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے سفر میں ہم جتنی زیادہ دریافتیں کرتے ہیں خدا کی ذات پر ہمارے یقین کا درجہ اتنا ہی زیادہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اس بات کو کلاسیکل اور کوانٹم فزکس کی زبان میں سمجھنے سے پہلے آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ خدا پر ایمان قائم کرنے کے لئے یقین کے کتنے درجے ہیں:

    قرآن کے مفسرین اور اہل حق علماء یقین کے درج ذیل تین درجات بتاتے ہیں:
    1۔ یقین
    2۔ عین الیقین اور
    3۔ حق الیقین

    اس کی مثال یوں ہے کہ آپ آگ کو دیکھے بغیر سنتے ہیں کہ آگ حرارت رکھتی ہے اور جلاتی ہے، پھر آپ دھواں دیکھتے ہیں تو آپ یقین کر لیتے ہیں کہ دھواں اس بات کی دلیل ہے کہ آگ جلاتی ہو گی۔ یقین کے اس درجہ میں خدا پر ایمان اقرار کی حد تک ہوتا ہے۔ یہ یقین کا پہلا اور بنیادی درجہ ہے۔ یقین کا دوسرا درجہ عین الیقین کا ہے۔ ایمان کے اس لیول پر پہنچ کر یہ تجربہ ہوتا ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آپ آگ کے پاس بیٹھ کر اس کی تپش محسوس کرتے ہیں تو آپکا یقین زیادہ پختہ ہو جاتا ہے کہ آگ حقیقتا جلاتی ہے۔ جبکہ حق الیقین کا تیسرا اور آخری درجہ یہ ہے کہ آپ آگ میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں اور یقین کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آگ واقعی جلاتی ہے۔

    کائنات کو "خدا” نے بنایا ہے، یہ بات ایک مفروضہ، نظریہ یا عقیدہ ہے مگر یہ حق الیقین کے درجہ کا ایمان نہیں ہے۔ تاہم یہ ایمان یقین اور عین الیقین سے ہوتا ہوا حق الیقین میں اسی وقت بدلتا ہے یعنی خدا پر گہرا اور کامل ترین ایمان اسی وقت قائم ہوتا ہے جب آپ کائنات کو جاننے کے لئے سائنس کے علم تشکیک (یقین)، مفروضے و تجربے (عین الیقین) اور قانون (حق الیقین) سے گزرتے ہیں۔

    جب آپ سنتے ہیں کہ کائنات خدا نے بنائ ہے تو آپ میں تجسس پیدا ہوتا ہے کہ آخر خدا نے یہ کائنات کیسے بنائ، اب یہ کن اصولوں اور قوانین پر قائم ہے اور اسکے کام کرنے کا ‘طریقہ کار’ کیا ہے؟ اس نوع کے سوالات کا جواب جاننے کے بارے میں آپ کا یہی غور و فکر اور جستجو ‘سائنس’ کا علم ہے۔ جب آپ سنتے ہیں کہ کائنات خدا نے بنائ ہے تو آپ مادے اور اجرام فلکی کی ‘حقیقت’ جاننے کے لئے مزید تحقیق کرتے ہیں اور تجربات کرتے ہیں۔ جب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ مادہ تو ننگی آنکھ سے نظر نہ آنے والے چھوٹے چھوٹے ایٹموں سے بنا ہوا ہے، اس میں ایک نیوکلئیس ہے جس میں ایٹم سے بھی چھوٹے زرات پروٹان، نیوٹران، الیکٹران، گلوآن اور کوراک وغیرہ پائے جاتے ہیں۔ الیکٹران ایٹم کے مدار کے گرد چکر لگاتے ہیں، ہر عنصر کے الیکٹران مختلف تعداد میں ہوتے ہیں، ان الیکٹران میں کچھ مدار کے گرد گھومتے ہیں اور کچھ اپنے مدار سے باہر نکل کر دوسری دھاتوں اور عناصر سے کیمیائ تعاملات وغیرہ کرتے ہیں۔

    یہ کلاسیکل اور کوانٹم فزکس کا سائنسی علم ہے جو آپ کو حیرت زدہ کر دیتا ہے کہ سب اٹامک کے اتنے چھوٹے لیول پر یہ سب کچھ کیسے ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور "کون” کر رہا ہے تو آپ کی حیرت مزید بڑھتی ہے۔ آپ دنیا جہان کی سائنسی کتب، نظریات اور قوانین چھان مارتے ہیں مگر آپکو "کیسے” کا جواب تو مل جاتا ہے مگر "کیوں” اور "کون” کا جواب کہیں نہیں ملتا اور نہ ہی سائنس ابھی تک اس کا کوئ حتمی جواب دے سکی ہے۔

    چونکہ آپ مادے کے خواص اور کام کرنے کے اس طریقہ کار کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور آپکا یقین، "عین الیقین” سے ہوتا ہوا "حق الیقین” کے درجے تک پہنچ جاتا ہے تو آپ پکار اٹھتے ہیں کہ: "کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔”

  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل  کیا ہے ؟-2

    قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیا ہے ؟-2

    پہلی قسط میں یہ بیان کر دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقِّ مطلق ہے، جس کی حقیقت میں کسی بھی طرح کے ذرہ برابر بُطلان کی گُنجائش نہیں ہے، پس حق کُلی طور پر ذاتِ واجبُ الوجود میں ہی منحصر ہے اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء کو پیغمبر گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حق قرار دیا ہے کیونکہ پیغمبروں کی نبوت بھی حقِّ مطلق کی طرف سے واقعیت اور حقیقت کی حامل ہے اور سورۃ قصص کی آیت 47، 48 میں پیغمبر کا حق کے مصداق کے طور پر تعارف ہوا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    رَبَّنا لَولآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ آيٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ * فَلَمَّا جَآءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَا اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج
    وہ کہتے ہیں اے پروردگار ! تونے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اس پر ایمان لے آتے ، لیکن جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق (محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ گیا تو کہنے لگے کہ وہ موسیٰ جیسا معجزہ لے کر کیوں نہیں آیا، کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا بھی انکار نہیں کیا تھا

    close up of text on paper
    Photo by Tayeb MEZAHDIA on Pexels.com


    یہاں نبی اور معجزہ دونوں کو حق قرار دیا گیا ہے
    قُرآنِ مجید روزِ قیامت کو حق قرار دیتا ہے کہ قبروں سے اُٹھنا، اعمال کا حساب و کتاب ، ایک نئی، مکمل اور ابدی زندگی کا آغاز ایسے حقائق ہیں جن کی تمام پیغمبروں نوید دی ہے، اور اس پر یقینِ کامل کے بغیر دین معنوی لحاظ سے تکمیل نہیں پاتا سورۃ شوریٰ کی 18 ویں آیت میں قُرآن یُوں گویا ہوا کہ
    يَسْتَعْجِلُ بِھَاالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِھَا ج وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّھَاالْحَقُّ ط
    کافر لوگ قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ایمان لانے والے اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ حق ہے،
    اور سورۃ یونس کی آیت 53 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    وَيَسْتَنبِعُوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ط قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّه، لَحَقٌّ ط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ *
    اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم) وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا قیامت حق ہے کہہ دیجیئے کہ مجھے اپنے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ (قیامت) حق ہے اور تمہارے لیے گریز کی کوئی راہ نہیں
    اور حلال مال جو مقروض کے ذمہ واجب الادا ہے اسے قرض خواہ کا حق قرار دیتا ہے اور یہ حقِّ نسبی ہے کیونکہ اس مالِ حلال کے حاصل کرنے میں اس کے مالک نے جو کوشش اور محنت کی اُس نے اُسے اس مال کا حقدار بنایا ورنہ مالکِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے چنانچہ سورۃ بقرۃ کی آیت 282 میں اسے حق قرار دیا گیا،
    یہ تو ہوگئی حق و باطل کی تفصیل اب یہاں میرے ذہن میں یہ سوال اُبھر رہا ہے کہ کیا حقوق و فرائض بھی اسی زمرے میں داخل ہیں تو مجھے اس بات کا جواب بہت سی قُرآنی آیات سے ملا مثلاً سورۃ النساء آیت 17 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ
    یَا اَھلَ الکِتَابِ لَا تَغلُوا فِی دِینِکُم وَلَا تَقُولُوا عَلَی اللهِ اِلَّا الحَقّ
    اے اہلِ کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو، اور اللہ کی طرف حق اور واقعیت کے علاوہ کوئی اور نسبت نہ دو،
    اور سورۃ لقمان کی آیت 33 یوں راہنمائی کر رہی ہے کہ
    اِنَّ وَعدَاللہِ حَقُُ فَلَا تَغُرَّنَّکُم الحَیاۃُ الدُّنْيَا
    بےشک اللہ کے وعدے سچ اور واقعیت رکھتے ہیں، دنیاوی زندگی تمہیں کہیں دھوکہ نہ دے
    ان آیات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دنیاوی معاشرتی زندگی میں بننے والے قوانین کی بنیاد کہیں اپنی یا عوام کی خواہشات کے مطابق نہ رکھ لینا بلکہ وہ قوانین اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ انسانی سعادتوں کے امین ہوں جو فطرت و آفرینش کے خلاف نہ ہوں یعنی انسان کی ہر خواہش کو اس کا حق نہیں قرار دیا جا سکتا ، نشہ آور اشیاء چاہے تمام انسانوں کی خواہش ہو ان کا حق نہیں قرار دی جا سکتیں بلکہ ایسا قانون حقِّ مطلق اللہ کے ہاں باطل قرار پائے گا، قُرآن جس مقام پر بھی اللہ واحد و یکتا کی پرستش کے بارے میں بات کرتا ہے تو بلا فاصلہ فطرت و آفرینش کی بات کرتا ہے جیسا کہ سورۃ روم کی آیت 30 میں ارشاد ہوا
    فَاَقِمْ وَجْھَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفاً ط فِطْرَةَ اللهِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَيْھَا ط لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللهِ ط ذَالِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَالنَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ *
    اللہ کے سچے دین کی طرف رُخ کرو، وہ سچا دین جو اللہ کی آفرینش و خلقت ہے اور اُس نے اسی بنیاد پر انسانوں کو خلق کیا ہے، اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی محکم اور استوار دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

    یہ وہ منزِل ہے جہاں قُرآن و اسلام حقوق کے دیگر اداروں سے جُدا ہو جاتا ہے ہر وہ عمل جس سے قُرآن نے روک دیا اس سے رُک جانے میں ہی بھلائی ہے بےشک وہ کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگے، اور ہر وہ کام جس کے کرنے کا حکم قُرآن نے دے دیا اُس پر عمل میں بھلائی اور خیر ہے چاہے وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، قُرآن کی نظر میں وہی قانون حق ہے جس پر عمل سے انسان اپنے رب کی قُربت کا حقدار ٹھہرے، اور وہی قانون فطرت پر مبنی ہو گا اور انسان کی سعادت اور خُوش بختی کا ضامن ہو گا، تو پس میرے محترم قاری قُرآنی قوانین، حقوق و فرائض کا منبع و مآخذ بھی حقِّ مطلق کی طرف سے انسانی سعادتوں کے لیے ہے اور منزل اُخروی و ابدی کامیابی ہے

  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیاِ ہے ؟ -1

    یہ بات بالکل واضح ہے کہ حق عربی زبان کا لفظ ہے ، مگر  فارسی ، اُردو پنجابی میں بھی اس کے معانی و مطالب عربی سے چنداں مختلف نہیں ہیں،  آپ عربی زبان کی تمام چھوٹی بڑی لغات دیکھ لیجیئے اس کے جتنے بھی معانی بیان ہوئے ہیں اُن پر اگر گہرائی میں غور کیا جائے تو ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ جو واقعیت اور حقیقت رکھنے کی بنیاد پر استوار اور پائیدار ہو، اور لفظِ ,, حق  ،، باطل کی ضد ہے ,, باطل ،، یعنی  ڈگمگانے والی اور ناپائیدار چیز جو بے حقیقت و واقعیت ہو

    اللسان العرب اور دیگر ماہرین لغت کے اقوال کا ما حصل کچھ یوں ہے کہ ,, ہر وہ چیز جو ایسی واقعیت و حقیقت رکھتی ہو کہ جس کا نتیجہ استحکام، تیقن، اور دوام ہو وہ حق ہو گی جبکہ جو واقعیت و حقیقت نہ ہونے کی بنیاد پر تھوڑی سی نمائش کے بعد ختم ہو جائے وہ باطل ہو گی،،

    قُرآنِ مجید نے حق و باطل کے مسئلہ کو بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، آپ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجیئے کہ لفظِ ,, حق ،، اپنے تمام تر مشتقات کے ساتھ قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں 287 مرتبہ اور لفظِ ,, باطل ،،  35 مرتبہ آیا ہے، اور قُرآن نے حقِ مطلق پس اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ والا صفات کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ

    ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ھُوَالْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللهَ ھُوَالْعَلِیُّ الكَبِيْرُ * 

    یہ اس بناء پر ہے کہ وہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ جس کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ باطل ہے اور بےشک اللہ ہی بزرگ و برتر ہے

    یہی آیت اسی مضمون کے ساتھ سُورۃ لقمان 30 میں بھی وارد ہوئی  ہے مگر سورۃ لقمان میں (ھُوَ البَاطِلُ) کی جگہ (البَاطِلُ) بیان ہوا  ہے یہ بظاہر معمولی فرق عربی زبان و ادب کی ایک اعلیٰ و ارفع مثال ہونے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی الوہیت اور ربوبیت کو ذاتِ واجب الوجود میں منحصر کرتا ہے اور ان دونوں مقامات پر یعنی سورۃ حج اور سورۃ لقمان میں ان آیات سے پہلے کائنات کے وجود، گردشِ لیل و نہار ، سورج اور چاند کی تسخیر اور گردش کا ذکر ہوا ہے یعنی یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن کا بطلان کوئی ثابت کر ہی نہیں سکتا ،

    ہاں البتہ اگر حق کی نسبت الوہیت و ربوبیت نہ ہو بلکہ اس کی وجہ یا نسبت کسی معدوم شے سے مقابلہ ہو تو پھر وہ حق حقِ نسبی ہو گا جس کی نسبت ذاتِ لایزال سے ہو گی حقِ مطلق بہر صورت اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ والا صفات ہے اس کے علاوہ سورۃ یونس کی آیت 32 میں سورۃ نور آیت 25 میں، سورۃ کہف آیت 42 میں سورۃ مومنوں کی آیت 116 میں بھی اللہ تعالیٰ کو حقِ مطلق قرار دیا گیا ہے،

    بالذاتہ قرآن حکیم سے بڑھ کر اور کیا بڑی پائیداری و استواری کے ساتھ قائم و دائم حقیقت بھلا اور کیا ہو گی قرآن ایسا حق ہے کہ جس کی طرف باطل کی کوئی راہ نہیں ہے، قُرآن ہر طرح کے باطل سے مبری و منزہ ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا

    اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَأءَھُمْ  ج وَ اِ نَّه، لكِتٰبٌ عَزِيْزٌ * لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ط تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ *   سُورَة حٰم السجدة   آیت 41 42

    یہ عزت والی کتاب ہے جس میں باطل کے لیے کوئی راہ نہیں ہے، یہ اس حکیم کی طرف سے بھیجی گئی جو لائقِ حمد ہے،

    اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات حقِ مطلق ہے، اسی طرح اللہ کی کتاب بھی حقِ مطلق ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات جاودانی ہے ویسے ہی اللہ کی کتاب (قُرآن) ابدی و جاودانی ہے

    سورۃ بقرہ آیت 91 ، سورۃ یونس آیت 94 ، 108، 109 سورۃ سجدہ آیت 3 ، سورۃ سباء آیت 6، 48.، سورۃ فاطر آیت 31 میں بھی قُرآن کو حق قرار دیا گیا ہے،

    جب طویل اور مشکل و تکلیف دہ ترین جد و جہد اور گراں قدر قربانیوں کے بعد کفر و شرک کا قلعہ نابُود ہوا اور مکہ فتح ہوا تو پیغمبرِ گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ وحی ترجمان پر سورۃ اسراء کی آیت 81 کے یہ الفاظ جاری تھے

                وَ قُل جَأءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَھُوْقاً *

    اور اے میرے رسول کہہ دیجیئے کہ حق فتح مندی کے ساتھ جلوہ افروز ہوا اور باطل نابود ہو گیا اور بےشک باطل تو نابُود و نامراد ہی ہونے والا ہے

    یہ آیت اگرچہ اپنے اندر مطالب و معانی کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے مگر ہمارے موضوع کی واضح اور مکمل وضاحت کرتی ہے کہ حق سے مراد یکتا پرستی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات تمام صفات کے ساتھ قائم و دائم ہے اور قائم و دائم رہے گی اور ہر دور میں نئے نئے انداز سے ظاہر ہوتا رہا ہے، باطل کے معبود ہمیشہ نابودی کا شکار ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے

    اسلام ایک مکمل ضابطہءِ حیات ہے اور توحید اس کی اساس ہے اور یہی حق ہے چنانچہ سورۃ انفال کی 8 ویں آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ

                      لِیُحِقَّ الحَقَّ وَ یُبطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَو کَرِہَ المُجرِمُونَ *

    تاکہ حق کو پائیدار اور باطل کو ناپائیدار کر دے ، چاہے گنہگاروں کو یہ بات اچھی نہ لگے

    اور سورۃ سباء 49 ویں آیت میں یوں فرمایا کہ

                                 قُلْ جَأءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ *

    اے حبیب ان سے کہہ دیجیئے کہ حق تو آ چکا ہے اور باطل نہ ابتدا میں کچھ کرنے کے قابل تھا اور نہ انتہا میں کچھ کرنے کے قابل ہو گا

    یعنی اُن کے باطل خُدا نہ کچھ پیدا کرنے کے قابل تھے، نہ اپنا دفاع کرنے کے قابل تھے اور نہ ہی آئندہ کسی بھی شکل میں خُدا بن کر حق کے مقابل آئیں گے تو کسی قابل ہوں گے کیونکہ پائیداری اور استواری فقط حق کو حاصل ہے

    اعجاز یا معجزہ کو بھی قُرآن حق قرار دیتا ہے، اور اس کے مقابلے سحر اور جادو کو باطل قرار دیتا ہے، کیونکہ معجزہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ماتحت وقوع پذیر ہوتا ہے، اور حق کی ناقابل بُطلان حقیقت ہونے کے  بیان کے لیے ہوتا ہے چنانچہ سورۃ رعد کی آیت 38 میں ارشاد ہوا کہ

                      وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اَن یَّاتِیَ بِآیَاتِہ اِلَّا بِاِذنِ اللہِ  *

    کسی بھی پیغمبر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے،

    پس یہی وجہ ہے کہ سورۃ یونس کی آیت نمبر 76، 77 میں معجزہ کو حق کہا گیا ہے

    فَلَمَّا جَأءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اِنَّ ھٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ * قَالَ مُوْسٰی اَتَقُوْلُوْنَ لِلحَقِّ لَمَّا جَآءَ كُمْ ط اَسَحْرٌ ھٰذَا ط وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ * 

    جب ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو وہی کھلا جادو ہے، تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم حق(معجزے) کو جادو کہتے ہو اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے،

    چونکہ معجزہ اپنے اندر حقیقت استواری اور یائیداری لیے ہوئے ہوتا ہے اس لیے اسے حق کہا گیا ہے اور جادو آنکھوں کا دھوکہ، جزوقتی اور ناپائیدار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہءِ قاہرہ سے فناء ہو جاتا ہے اس لیے اسے باطل کہا گیا ہے چنانچہ سورۃ یونس کی آیت 8 میں ارشاد ہوا کہ

                مَا جِئتُم بِہِ السِّحرُ اِنَّ اللهَ سَیُبطِلُہ،.

    جو کچھ تم لائے ہو وہ تو جادو ہے اور اللہ اسے نابُود کر دے گا

                      فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطلَ مَا کَانُوا یَعمَلُون سورۃ اعراف؛ 118

    حق ظاہر ہو گیا اور ان کے کام باطل ہو گئے

    …………….. جاری ہے

  • قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ*

    وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتیّٰ يَبْلُغَ اَشُدَّه، ج

    اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، سوائے اس طریقہ کے کہ اس کے لیے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے ،

    یتیم کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قُرآن نے ہی ہمیں بتایا کہ گذشتہ تمام انبیاء اور شریعتوں میں بھی یہی قانونِ الٰہی تھا

    منشورِ حیات کے اس چھٹے اصول سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہے کہ بچہ انسانی معاشرے کی بنیاد کی خِشتِ اول ہے، بچے کی نگہداشت ، تربیت، درست بنیادوں پر پرورش بہترین اور توانا معاشرے کے لیے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں یتیم کے حقوق اور کیفیات کے بیان میں لفظِ یتیم اپنے دیگر مُشتقات کے ساتھ 23 مرتبہ استعمال ہوا ہے

    بچہ دراصل اپنی کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے کسی ایسے ہمدرد سرپرست کا محتاج ہوتا ہے جو اتنی بڑی اور اجنبی دنیا میں اُس کا ساتھ دے اس کے مادی و روحانی حقوق کا محافظ ہو، باپ اس فطری ذمہ داری کو جتنا بھی اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہے وہ ایسا کر نہیں پاتا  اسی طرح یتیم بھی ایسی سرپرستی اور شفقت ، مادی حقوق کی حفاظت کا مکمل حق رکھتا ہے لہٰذا قرآن مجید اس اہم ترین حق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس کے مادی و روحانی حقوق کے تحفظ کا حکم دے کر معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری کا تعین فرما رہا ہے کہ جو بچہ کسی بھی وجہ سے اپنے قدرتی و حقیقی سرپرست سے محروم ہو گیا ہو اُس کے قریبی اعزاء و اقارب اس کی سرپرستی و تربیت فریضے کی طرح ادا کریں، تاکہ بلوغت کے بعد وہ تمہارے معاشرے کا مفید فرد بن کر سامنے آئے،

    وَ اَوْفُواالْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ج

    ناپ تول کا حق انصاف کے ساتھ پُورا کرو ؛

    عدل و قسط اپنے اندر بے شمار معانی و مفاہیم لیے ہوئے ہے، اس کی وضاحت اور سمجھنے کے لیے ایک الگ نشست اور مضمون کی ضرورت ہے، البتہ یہاں چونکہ موضوع ناپ تول میں عدل و قسط ہے لہٰذا اسی پر مختصر بات کرتے ہیں،

    قُرآن میں معاشی و اقتصادی انصاف معاشرے کا بنیادی ترین اصول قرار دیا گیا ہے ناپ تول میں کمی سے مراد اجناس کے علاوہ ہر طرح کی ثروت و دولت؛ قدرتی وسائل اور نعمتوں کی تقسیم بھی ہے، ایک عام شہری سے حکمران تک اس آیت میں اور قُرآن میں مخاطب ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو، ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، کسی کے حق پر بےجا تصرف نہ کیا جائے، فقر و فاقہ اور طبقاتی امتیازات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے،

          لَا  نُکَلِّفُ  نَفساً  اِلَّا  وُسعَھَا ج

    ہم کسی انسان کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتے

    یہاں پر تو بظاہر ان الفاظ کا تعلق پچھلی بات سے بنتا ہے یعنی اقتصادی عدل؛ ناپ تول میں عدل و قسط یہ اتنا مشکل کام نہیں کہ جسے تم کر نہ سکو لیکن یہی بات سُورۃ بقرۃ کی آیت 233؛ سُورۃ اعراف کی آیۃ 42 ؛ سُورۃ مومنون آیت 62 میں مختلف معانی میں کہی گئی ہے، جس کا لب لباب یہ بنتا ہے کہ اسلام بطورِ دین اپنے اندر انسانیت کے لیے آسانیاں سمیٹے ہوئے ہے، اس پر عمل کرنے میں کوئی تنگی نہیں ہے، اور اسلام کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس پر عمل  کرنے میں انسان کے لیے تنگی اور مشکل پیدا ہو،

    وَ اِذَا  قُلْتُم  فَاعدِلُوا  وَلَو کَانَ ذَا قُربی  ج

    اور جب بات کرو تو عدل کرو خواہ وہ قرابت دار کے بارے میں ہی ہو

    عدل ایک ایسا بنیادی منبع و ستون ہے کہ جس پر انسانی معاشرے کی بنیاد پُختہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ یہاں اور قُرآن میں دیگر مقامات پر یہ واضح اصول دے رہا ہے کہ جب تم فیصلہ کرنے لگو تو کوئی رشتہ کوئی لالچ، کوئی خوف تمہیں حق پر فیصلہ کرنے سے نہ روک پائے اور قُرآن نے متعدد مقامات پر ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو عدل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے،

    وَ بِعَھْدِ اللهِ اَوْفُوْا ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ * 

    اور اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرو ؛ اللہ نے تمہیں اس کی تاکید کی ہے تاکہ تم ذکر کرتے رہو،

    عہد و پیمان اور وعدہ وفائی ایک فطری خُوبصُورتی ہے، اخلاقی بلندی؛ اعتماد اور معاشرتی اعلیٰ ظرفی کا واضح ثبوت ہے، جبکہ وعدہ و پیمان شکنی اخلاقی پستی کی مظہر ہے، وعدہ وفائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ قُرآن مجید میں اس کا ذکر 45 مرتبہ ہوا ہے، اور آیت کے آخری الفاظ تاکید کی گئی ہے کہ اس پر عمل کرو اور ان مندرجہ بالا امور کو دہراتے رہو، ذکر کرتے رہو،

    اور اس سے اگلی آیت 153 میں ارشاد رَبُّ العِزَّت ہو رہا ہے کہ

    وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوْهُ ط وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبَيْلِهٖ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  *

    یہ ہے ہمارا سیدھا راستہ اسی پر چلتے جاؤ اور دوسرے راستوں پر نہ چلو

    کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا کر متفرق کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے،

    صراطِ مستقیم کے متلاشیو! دنیا و آخرت کی کامیابی چاہنے والو ! قُرآن میں تلاش کرو تمہیں دنیا میں جنت مل جائے گی، مگر لالچ، ہوس ، بہتات کی حرص ، شہوت جیسے شیطان بھی تو صراطِ مستقیم کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، جو انسانوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا تے ہیں اور انسان اپنے کریم رب سے دوری اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ وہ کریم رب قدم قدم پر انسانوں کی راہنمائی فرما رہا ہے،

    اس کے علاوہ بھی قُرآن نے چار مقامات پر تسلسل کے ساتھ اپنے منشور کو واضح بیان فرمایا ہے، یہ سُورۃ بنی اسرائیل کی 22 ویں آیہ سے 39 ویں آیۃ تک 18 آیات ہیں اور پھر سُورۃ مومنون یہلی 10 آیات میں سات 7 بنیادی اصول بیان کیئے گئے

    سُورۃ فُرقان کی آیت 63 تا 77 میں 14 اصول پیش ہوئے جبکہ سُورۃ لقمان آیات 13 تا 19 میں بھی 12 اخلاقی و معاشرتی اصول بیان کیئے گئے ہیں ؛ ان تمام مشترکہ نکات کو ایک جگہ جمع کر کے مطالعہ کیا جائے تو قُرآن مجید کی حقانیت و حکمت کے سارے راز کھلتے ہیں، وہ حکیمِ مطلق دراصل نوعِ بشر کو سعادت و خوش بختی کی کن منازلِ پر دیکھنا چاہتا ہے قُرآن کو بطورِ منشورِ حیات اگر پڑھا اور سمجھا جائے اور عمل کی کوشش کی جائے تو سب کچھ آشکار ہوتا چلا جاتا ہے،

    سُورۃ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39  میں بیان کردہ  منشورِ حیات کے 14 نکات یہ ہیں

    1 – لَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھاً  آخَرَ

    اللہ کے ساتھ دوسرا شریک قرار نہ دیا جائے

    2  –  وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِيَّاهُ

    تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ عبادت فقط اسی کی کرو

    3  – وَ بَالوَالِدَینِ اِحْسَاناً

    اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو

    4  – وَاٰتِ ذَاالْقُرْبیٰ حَقَّه، وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنِ الْسَبِيْلِ

    اپنے قریبی رشتہ داروں؛ مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو

    5  – وَلَا تُبَذَِّر تَبذِیراً 

    اسراف اور فضول خرچی نہ کرو

    6 – وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اَلیٰ عُنُقِكَ  وَلَا تَبْسُطْھَا كُلَّ الْبَسْطِ

    نہ اپنے ہاتھوں کو بالکل گردن سے باندھ لو اور نہ ہی بالکل کُھلا چھوڑ دو (نہ کنجوسی؛ نہ فضول خرچی بلکہ میانہ روی)

    7 – وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ خَشیَۃَ  اِمْلَاقٍ

    اور نہ بھوک کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل کرو

    8 –  وَلَا تَقْرَبُواالزِّنیٰ

    زنا (بدکاری) کے قریب مت جاؤ

    9  – وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ اِلَّا بِالْحَقّ

    اللہ نے ناحق خون بہانے (قتل) کو حرام قرار دیا ہے

    10  – وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ

    احسن صورت کے علاوہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ

    11  – وَ اَوْفُوْا بِالعَھدِ

    اور اپنے وعدے ایفاء کیا کرو

    12  – وَ اَوْفُواالْكَيْلَ اِذَا کِلتُم وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ المُستَقِیمِ

    پیمانہ صحیح رکھو اور بالکل درست ترازو سے وزن کیا کرو

    13  – وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلَّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسئُولاً

    جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہو اُس کی پیروی نہ کرو، کان؛ آنکھ ؛ اور دل جواب دہ ہوں گے

    14  – وَلَا تَمْشِ فِی الاَرْضِ مَرَحاً

    اور تکبر و غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو