Tag: انگریزی

  • دانشور نوح ہراری اور  انسانی مستقبل

    دانشور نوح ہراری اور  انسانی مستقبل

    اسرائیلی دانشور نوح ہراری اور  انسانی مستقبل

    Dubai Naama

    اسرائیلی مورخ یووال نوح ہراری، 24 فروری 1976ء کو حیفہ میں پیدا ہوئے۔ عمر صرف 49 برس ہے مگر انہیں 21ویں صدی کا سب سے بااثر "دانشور” کہا جاتا ہے۔ 17 سال کی عمر میں حیفہ یونیورسٹی جوائن کی۔ 1993-1998 میں تاریخ میں BA اور MA کیا۔ 2002ء میں آکسفورڈ سے PhD کی، موضوع تھا: "قرون وسطیٰ میں جنگ اور امن”۔ 2009ء سے وہ Hebrew University of Jerusalem میں تاریخ اور ارتقائی حیاتیات کے پروفیسر ہیں۔

    ہراری نے لکھاری بننے کا سفر 2011ء میں کتاب Sapiens سے شروع کیا۔ پہلے یہ عبرانی زبان میں اسرائیل ہی میں "بیسٹ سیلر” بنی۔ 2014ء میں انگریزی ترجمہ آیا جس کی باراک اوبامہ، بل گیٹس اور مارک زکربرگ نے بھی تعریف کی۔ یہ کتاب 45 زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ 2016ء میں Homo Deus اور 2018ء میں 21 Lessons for the 21st Century شائع ہوئی۔ 2022ء میں بچوں کے لیے Unstoppable Us سیریز لکھی۔ اب تک ان کی 30 ملین سے زیادہ کتابیں فروخت ہو چکی ہیں۔

    دانشور نوح ہراری اور  انسانی مستقبل

    ہراری کی تینوں کتابیں بنی نوع انسان کے مستقبل پر ہیں۔ وہ ایک ایسے مورخ ہیں جو 70,000 سال پیچھے جا کر انسان کا ماضی بتاتے ہیں، اور 70 سال آگے جا کر اس کے مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

    ان کی پہلی کتاب کا پورا نام Sapiens: A Brief History of Humankind اور دوسری کا Homo Deus: A Brief History of Tomorrow ہے۔ ہراری کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ "انسان باقی جانوروں سے اس لیے آگے نکلا کیونکہ وہ ‘کہانیوں’ پر یقین کر سکتا ہے”۔ ان کے مطابق ملک، پیسہ، کمپنیاں اور مذہب سب "فرضی کہانیاں” ہیں۔ فطرت، پہاڑ اور شیر حقیقی ہیں۔ لیکن ڈالر کی ویلیو صرف اس لیے ہے کہ ہم سب اس کہانی پر یقین کرتے ہیں۔

    ہراری کے خیال میں جو انسان خدا بننے کی تگ و دو میں AI، بائیو ٹیک اور ڈیٹا پر انحصار کر رہا ہے، یہی اس کے مستقبل کا سب سے بڑا "خطرہ” ہے۔ وہ 21ویں صدی کے سب سے بڑے مسئلے کو "معانی کا بحران” کہتے ہیں۔

    ان کی نظر میں 21ویں صدی کا سب سے بڑا مذہب "ڈیٹا ازم” بنے گا۔ حکومت، گوگل اور میٹا آپ سے زیادہ آپ کو جانیں گے۔ AI کی وجہ سے کروڑوں لوگ "بے کار طبقہ” بن جائیں گے۔ انسان کی معاشی ویلیو کم ہو جائے گی۔ اسی لیے وہ AI کو "نیوکلیئر بم سے بڑا خطرہ” قرار دیتے ہیں۔

    ہراری کہتے ہیں کہ انسانی تہذیب ہمیشہ بیانیوں کے نیٹ ورک پر قائم رہی ہے۔ ماضی میں کتاب یا خبر انسان کے ذہن سے نکلتی تھی۔ اب الگورتھم خود طے کرتے ہیں کہ کون سی خبر پھیلے گی، کون سا خیال زیادہ لوگوں تک پہنچے گا اور کون سا "بیانیہ” طاقتور بنے گا۔ یعنی معلومات کا کنٹرول اب انسان کے ہاتھ سے نکل کر AI کے پاس جا رہا ہے۔

    ہم نے انٹرنیٹ کو اس امید سے قبول کیا تھا کہ یہ ہمیں زیادہ باخبر اور آزاد بنائے گا۔ مگر ہراری یاد دلاتے ہیں کہ تاریخ میں معلومات ہمیشہ سچائی کی خدمت نہیں کرتیں۔ سلطنتیں، مذاہب اور جدید میڈیا، ہر دور میں معلومات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

    بہت سے مورخین کہتے ہیں کہ ہراری تاریخ کو "اوور سمپلیفائی” کرتے ہیں تاکہ کہانی دلچسپ لگے۔ لیکن وہ ایک آئینہ دکھاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم کہاں سے آئے، کیا بن چکے ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں۔

    آسان الفاظ میں: نوح ہراری وہ دانشور ہیں جو آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ "آپ 70,000 سال پہلے کے ایک بندر کی نسل ہیں، اور اگلے 70 سال میں AI آپ کی جگہ لے سکتی ہے”۔ ان کی کتابیں پڑھنے کے بعد دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل جاتا ہے۔

  • عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    تجزیہ کار                راحت امیر نیازی

    اردو کی نظمِ معرّیٰ  جسے انگریزی میں بلینک ورس کہتے ایسی نظم ہوتی ہےجو قافیہ اور ردیف کی قید سے  آزاد ہو، لیکن بحر اور وزن کی پابند ہو۔ یہ آزاد نظم سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں عروضی وزن برقرار رہتا ہے۔

    اگر اس کے آغاز و ارتقا اور روایت کی بات کی جائے تو نظمِ معرّیٰ مغربی ادب ،بہ طور ِ خاص انگریزی ادب سے آئی۔ انگریزی میں اس کی بنیاد سولہویں صدی میں پڑی، جبکہ ہنری ہاورڈ  کو انگریزی نظمِ معرّیٰ کا اولین شاعر مانا جاتا ہے۔ بعد ازاں شیکسپیئر اور جان ملٹن نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔

    اردو میں نظمِ معرّیٰ کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ مغربی ادب کے اثرات اور جدید شعری رجحانات نے اردو شعرا کو قافیہ و ردیف کی پابندی سے ہٹ کر اظہار کی نئی راہیں تلاش کرنے پر آمادہ کیا۔

    ابتدائی دور میں مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے جدید نظم کی فضا ہموار کی، جب کہ باقاعدہ نظمِ معرّیٰ کو فروغ دینے والوں میں ن.م. راشد اور میراجی کا نام نمایاں ہے۔ بعد میں مجید امجد، اخترالایمان، وزیر آغا، منیر نیازی اور دیگر جدید شعرا نے اس صنف کو مزید وسعت دی۔اس نئے تجربے کو شعرا نے سراہا بھی اور قبول بھی کیا۔جس سے نظم کے دامن میں جدت بھی آئی اور وسعت بھی۔

    رفتہ رفتہ نظمِ معرّیٰ اردو شاعری کی ایک اہم صنف بن گئی۔ اس کے ذریعے شاعر نے:

    فکری گہرائی اور فلسفیانہ موضوعات کو بہتر انداز میں پیش کیا۔ سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسائل کو زیادہ آزادی سے بیان کیا۔

    روایتی قافیہ و ردیف کی پابندی سے نکل کر اظہار کے نئے اسالیب اختیار کیے، مگر عروضی وزن برقرار رکھا۔

    نظمِ معرّیٰ اردو شاعری کی ایک اہم جدید صنف ہونے کے باعث  روایت اور جدت کے درمیان توازن قائم ہوا۔ اس نے شاعروں کو اظہار کی نئی جہتیں عطا کیں اور جدید اردو نظم کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔

                اس جدید سلسلے کی ایک کڑی عاصم بخاری بھی ہے۔جس نے نظم معریٰ کو صرف اپنایا ہی نہیں کمال قدرت سے نبھایا بھی ہے۔

    عاصم بخاری کی شاعری کے موضوعات منفرد اور اپنے ہیں۔وہ فطرت سے زیادہ متاثر ہیں۔اور سبھی کو اس سے لطف اندوز ہونے اور فنا  و بے ثباتی کی تعلیم دیتے  نظر آتے ہیں۔ہیں۔ایک معریٰ نظم ملاحظہ ہو

    کچے رستے

    اک ضرورت تھے روڈ بھی مانا

    کچے رستوں کا لطف اپنا تھا

    درس عاصم فنا کا دیتےتھے

    کچے رستوں کا لطف اپنا تھا

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    اگرچہ خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے ملنے کی تاکید کی گئی ہے۔ لیکن شاعر مشاہدہ اور مشاہدہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔اگر چہ وہ اس بات کے معترف بھی ہیں کہ احسن عمل ہے مگر ہمارے سماج میں ہنس کے ملنا اور گھلنا ملناکبھی کبھی مہنگا بھی پڑتا ہے۔نظم معریٰ

    ہزار

    ہنس کے ملنا بھی چاہیے لیکن

    ہنس کے ملنے میں بھی بخاری جی

    مسئلے  تو  ہزار ،  ہوتے  ہیں

    عاصم بخاری کا موضوع موسم اور نظارے بھی رہے ۔بخاری صاحب موسموں پر بات کرتے ہوئے دُھند  کو علامتی انداز میں اپنی اس نظم کو برت رہے ہیں۔

    دھند (فوگ)

    آنے والا  بخاری وہ موسم

    چھانے والا ہے ہر سُو وہ موسم

    جس میں سردی سے کانپنا ہوگا

    جسم  کوٹوں سے ڈھانپنا ہو گا

    جس میں عاصم دکھائی مت دے گا

    جس میں کچھ بھی سجھائی مت دے گا

    لوگ محصور جس میں ہوں گے سب

    سرد موسم  ہی حکمراں ہوگا

    چین گھر میں کسے کہاں ہو گا

    دن بدن بڑھتی جائے گی سردی

    یہ الگ بات اپنے گھر ہوں گے

    ایک دوجے سے بے خبر ہوں گے

    جلد بارش خدایا دے دینا

    ٹل وبا جائے جس سے یہ فوگی

    عرض کرتے ہیں پیش تر روگی

            عاصم بخاری کے ہاں مٹتی قدروں  اور انسانی رویوں کی حیران کن اور تشویش ناک تصویر کشی بھی اپنے کمال پر نظر آتی ہے۔ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنا سب کچھ اولاد پر لُٹا دیا۔ اس اولاد کا ماں باپ کے ساتھ رویہ ملاحظہ ہو

     دفن کر دینا

    ٹکٹیں  کنفرم اپنی "لندن” کی

    وقت "پرواز” کا بھی ہونے کو

    "بیوی بچے” ہیں بیٹھے گاڑی میں

    جانے کی بھی جنہیں بہت "جلدی”

    "دامن ِ وقت” میں نہ گنجائش

    جلد ، "مَیَّت وصول” ، کر لیجو

    "باپ” میرے کو "دفن”، کر دینا

    فون کرتے ہوئے بخاری جی

    ایک "بیٹے” نے بولا "ایدھی” کو

    دہشت بربریت اور خوف کی فضا دل و دماغ پر حاوی ہے۔عدم۔تحفظ اور غیر یقینی کے سائے ہیں۔ ماں باپ کے تفکرات و خدشات کی ترجمانی ایک نظم معریٰ میں کچھ یوں کرتے ہیں

    (دھماکے)

    آئی آواز ہے دھماکے کی

    بیٹا مسجد گیا تھا جمعہ کو

    خیر سے شالا لوٹ کر آئے

    امن و امان کی صورت یہ ہے کہ خدا کے گھر خدا کی نماز پڑھنے جاتے ہوئے بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ شال بیٹا خیر سے واپس آۓ۔

    ماں

    حافظُ ، اَلحفیظ ، پڑھ  کے  ہی

    "جمعہ” پڑھنے کے واسطے یارب

    بھیج بیٹا رہی ، ہوں "مسجد” میں

              ۔

    بے رحمی اور سنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا جاتا۔انہیں بھی خدا کے گھر اور حالت ِ نماز میں مار دیا جاتا ہے۔اور پوچھا تک نہیں جاتا۔

     بچے

    کل دھماکے میں ایک مسجد میں

    دُکھ ہے مارے جواں گئے لیکن

    موت تڑپا گئی ، ہے "بچے” کی

      ہم مسلمان ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر مانتے ہیں۔خوفِ خدا نہیں مگر کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے ڈرتے ہیں۔تقابلی نظم معریٰ دیکھیں

    ڈر

    پہلے ڈرتے تھے کیمرے سے سب

    آج کل سی سی ڈی سے ڈرتے ہیں

    رب سے اب بھی مگر نہیں ڈرتے

           معاشرتی رویوں اور طرز ِ عمل پر عاصم بخاری کی کڑی نگاہ ہے۔رشوت چوری ڈاکا  سینہ زوری اور بھتہ خوری کے حوالے سے وہ گدھ پرندے کی مثال خوب صورتی سے پیش کرتے ہیں۔

     حرام خوری

    گدھ کی فطرت ہے یہ بخاری جی

    اُلٹی کثرت سے اسکو آتی ہے

    پیٹ گدھ کا کبھی نہیں بھرتا

    ہضم ہوتا نہیں حرام ایسے

    ہاں سبق  اس میں  ایک پوشیدہ

    کھاتے ہیں جو حرام کثرت سے

    عقل والوں کے واسطے عاصم

    یہ اشارا ہے کوئی سمجھے تو

     عمرے کو وہ ہوا روانہ جب

             عاصم بخاری نظمی موضوع بامقصد ہے اظہار کاقالب دل چسپ ہے۔وہ عبادات اور اعمال کے حوالے سے فکری و فلسفیانہ انداز ِ فکر اپناتے ہوئے لوگوں کے کام آنے کیدعوتدیتے ہیں کہ یہی عمرہ کرنےکی عملی تعلیمات ہیں ۔

    نظم ملاحظہ ہو۔

    بارے سیلاب کے بتاؤں کیا

    بیش تر ساتھ لے گیا پانی

    کیا مناظر دکھاؤں میں تجھ کو

    ساری بربادی سامنے تیرے

    الاماں الاماں  قیامت  ہے

    حافظ و الحفیظ کے نعرے

    بچنے والے تھے بھوکے پیاسے سب

    جن میں بیمار بوڑھے لاغر بھی

    عورتیں جن میں چھوٹے بچے بھی

    حال بے حال تھے پڑوسی بھی

    مرنے والے تھے سب قریبی ہی

    لاشے بھی جن کے مل نہ پائے تھے

         کچھ بچا تھا نہ رشتہ داروں کا

    ” عمرے "کو وہ ہوا ، روانہ جب

    گاؤں ڈوبا ہوا تھا پانی میں

         عاصم بخاری نیچری ہیں فطرت پرست ہیں ۔قدرتی مناظر انہیں اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔اور پھریہ اپنی محسوسات کا قلمی و شعری اظہار بھی برملا کرتے ہیں۔حمد کاپیرائیہ  کیا خوب صورت انداز میں نبھایا ہے۔

    حمدیہ نظم

    شکر شہری بھی ہیں بچا لاتے

    شہری بھی  شکر ہیں بجا لاتے

    حمد ربی کا لطف گاؤں  میں

    رات کو جلد سب کا سو جانا

    خواب راحت میں اور کھو جانا

    سنتے آذان فجر کی سب کا

    جاگنا  رخ وہ کرنا  مسجد کا

    باجماعت نماز کا پڑھنا

    چہچہانا درخت پر چڑیاں

    روح پرور  بخاری وہ  گھڑیاں

    سینوں سے وہ لگا کے قرآں کا

    بچوں کا مسجدوں کا رخ کرنا

    بچیوں کے وہ سر پہ دوپٹہ

    پڑھنا قرآن وہ  مساجد میں

    اونچی آواز میں وہ بچوں کا

    دل کو بھاتا ہے دل کو بھاتا ہے

    وہ پرندوں کا اپنی بولی میں

    شکر  پروردگار کا کرنا

    شوق سجدہ میں جھومنا سبزہ

    سجدہ شکر میں سبھی فطرث

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں

    عاصم بخاری کے موضوعات و عنوانات کا اپنا دائرہ اور زاویہ ہے۔ان کے موضوعات میں ایک اہم موضوع بزرگان اور والدین بھی ہیں۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جنکی طرف ہماری توجہہی نہیں ہوتی ۔اس معاشرتی سماجی اور اخلاقی رویے کے کرب کو یوں بیان کرتے ہیں۔ نظم دیکھیں

      ۔

     کم سے کم جیتے جی مرے بیٹو

    کم سے کم جیتے جی مرے بیٹو

    مجھ کو اک ساتھ ہی نظر آ ؤ

    گھر میں دیواریں تو اٹھاؤ مت

    ہوں چراغ ۔ سحر  تمہیں  یہ علم

    ماں کو تو پہلے لے یہ ڈوبا غم

    اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے

    ٹوکنے والا صرف میں ہی تھا

    روکنے والا کون ہے تم کو

    بعد میں جی میں آ ئے جو کرنا

    دکھ بڑا میں یہ سہہ نہ پاؤں گا

    دست بستہ یہی گزارش ہے

    موت اپنی ہی مجھ کو مرنے دو

    قبر میں تو مجھے اترنے دو

           عاصم بخاری کے ہاں ہمیں جہاں جدید اصناف ِ نظم کا برتاؤ ملت ہے وہاں موضوعات کا اچھوتا پن اور مقامیت و مشرقیت کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے۔ قافیہ ردیف کی قید سے آزاد ہوکر انکے ہاں فطرت اور دیہات نگاری کی بہترین مرقع نگاری ملتی ہیے۔ایک نظم بے فکری دیکھیں۔

    بے فکری

    گاؤں میں اک ، چھپر ہوتا

    جس کے سائے ہر اک سوتا

    کیا گورے کیا ، عاصم کالے

    مل کے رہتے سب گھر والے

    مرکز  قائم  ،  رکھا  جاتا

    ایسی تو بے خبری ، کب تھی

    رشتوں کی نا قدری کب تھیں

    سب کو سمجھایا جاتا تھا

    مل کے ہی ، کھایا جاتا تھا

    بجلی  پنکھے  کولر   کب  تھے

    اےسی ڈی سی سولر کب تھے

    کیسے  ڈاکے ،  کیسی  چوری

    دولت کم تھی بے فکری تھی

                   ***

    Title Photo by bernahanım

  • میری معلمہ ، میرا فخر

    میری معلمہ ، میرا فخر

    میری معلمہ ، میرا فخر

    محمد اسداللہ نے خوب کہا تھا کہ:

     رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

    استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

    انسانی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک خوب صورت احساس کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، حالات بدلتے رہتے ہیں، زندگی نئے موڑ لیتی رہتی ہے مگر کچھ چہرے، کچھ آوازیں اور کچھ رویے ہمیشہ دل کے نہاں خانوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محبت، خلوص، شفقت اور کردار سے انسان کی زندگی پر ان مٹ نقوش مرتب کر جاتے ہیں۔ اَساتذہ کی شخصیات بھی انہی روشن کرداروں میں شامل ہوتی ہیں۔ ایک اچھا استاذ صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ انسان کے اندر امید، حوصلہ، اعتماد اور شعور کی شمع روشن کرتا ہے۔ میری زندگی میں میڈم انجم اکبر بخاری بھی ایسی ہی ایک عظیم اور یادگار معلمہ ہیں جن پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔

    2001-02ء کی بات ہے۔ میں جی۔سی۔ٹی پشاور چھوڑ کر واپس گھر آ چکا تھا۔ تعلیمی سفر سے میرا دل مکمل طور پر اچاٹ ہو چکا تھا۔ طبیعت میں بے زاری اور مستقبل کے حوالے سے عجیب سی بے یقینی موجود تھی۔ انہی دنوں مظفرآباد میں اورینٹل سائنس کالج نیا نیا قائم ہوا تھا۔ ادارے میں محترم پروفیسر بابر میر، محترم پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیدر بخاری سمیت دیگر ممتاز  اہلِ علم اور آزاد کشمیر کے نامی اساتذہ  موجود تھے۔ اگرچہ میرا دل مزید تعلیم کی طرف مائل نہیں تھا مگر والد محترم کی خواہش اور حکم میرے لیے ہمیشہ اہم رہا اس لیے بادلِ نخواستہ میں نے اورینٹل سائنس کالج میں داخلہ لے لیا۔

    اس زمانے میں کالج  غازی چوک لوئر چھتر میں قائم تھا۔ صبح سات بجے سے شام چار بجے تک کلاسوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ابتدا میں میرا دل وہاں بھی زیادہ نہ لگتا تھا لیکن جلد ہی اس ادارے کے اساتذہ کے اخلاق، شفقت اور محنت نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ حماد ہاشمی صاحب سے قائم ہونے والا تعلق آج بھی دل میں تازہ ہے جس پر کبھی تفصیل سے بات کروں گا۔ اس وقت جس شخصیت کا تذکرہ مقصود ہے وہ ہردل عزیز معلمہ پروفیسر انجم بخاری ہیں ۔

         میڈم انجم اکبر بخاری اس وقت تدریس کے میدان میں نئی نئی وارد ہوئی تھیں۔ وہ سید صابر نقوی صاحب کے ساتھ انگریزی پڑھانے آیا کرتی تھیں۔ نوجوانی کی تازگی، شگفتہ مزاجی، اعتماد اور خوش اخلاقی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ وہ نہایت خوش اسلوبی سے پڑھاتیں اور مشکل ترین اسباق کو بھی اس انداز سے پڑھاتیں کہ بہت آسانی سے طلبہ کی سمجھ میں آ جاتا۔ ان کی کلاس میں محض سبق نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک خوش گوار اور دوستانہ ماحول بھی موجود ہوتا تھا۔ وہ طلبہ کو خوف اور دباؤ کی بہ جائے محبت اور حوصلے سے سیکھنے کی طرف راغب کرتی تھیں۔

    ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا رویہ تھا۔ وہ ہر طالب علم کے ساتھ شفقت اور احترام سے پیش آتیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ طلبہ ان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ، شائستہ تکلم اور  تدریس کا دل کش انداز آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ وہ ان اساتذہ میں سے تھیں جن کے سامنے بیٹھ کر انسان صرف علم ہی نہیں بلکہ تہذیب اور اخلاق بھی سیکھتا ہے۔

    وقت گزرتا گیا اور زندگی اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھتی رہی۔ میں نے بھی کالج سے ناتا توڑ لیا۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے 2014ء میں نمل سے ایم۔اے مکمل کیا اور بعد ازاں ایم۔فل کا کورس مکمل کرنے کے بعد واپس مظفرآباد آ گیا۔ یہاں ماڈل سائنس کالج میں جزوقتی لیکچرر کے طور پر تدریسی ذمے داریاں سنبھالنے کا موقع ملا۔ یہیں ایک مرتبہ پھر میڈم انجم اکبر بخاری سے ملاقات ہوئی۔ برسوں بعد جب انھیں دوبارہ دیکھا تو محسوس ہوا کہ وقت نے ان کی شخصیت کو مزید نکھار دیا ہے۔

    اب وہ ایک تجربہ کار، باوقار اور نہایت محترم پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کے اندر وہی خلوص، وہی محبت، وہی خوش اخلاقی اور وہی شگفتگی موجود تھی جو طالب علمی کے زمانے میں دیکھی تھی۔ ان کی گفتگو میں اعتماد اور وقار نمایاں تھا جب کہ طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ آج بھی اتنا ہی مشفقانہ تھا جتنا کئی برس ادھر رہا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد بلکہ ایک اعلا انسان بھی ہیں۔

    میڈم انجم اکبر بخاری کا تعلق مظفرآباد کے ایک معزز اور تعلیم دوست خاندان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے ہائیر سیکنڈری اسکول سہیلی سرکار سے حاصل کی۔ بعد ازاں فاطمہ جناح گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن مکمل کی۔ اعلاتعلیم کے لیے جامعہ آزاد کشمیر کا انتخاب کیا جہاں سے انگریزی ادب میں ایم۔اے اور ایم۔فل کی اسناد حاصل کیں۔ وہ شروع ہی سے ایک ذہین، محنتی اور باصلاحیت طالبہ رہی ہیں اور یہی خوبیاں بعد میں ان کی تدریسی زندگی میں بھی نمایاں نظر آئیں۔

    میری معلمہ ، میرا فخر

    2004ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور مستقل طور پر محکمہ ہائر ایجوکیشن سے وابستہ ہو گئیں۔ یہ کامیابی ان کی قابلیت اور علمی بصیرت کا ثبوت تھی۔ انھوں نے گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج،مظفرآباد میں اپنی خدمات کا بڑا حصہ گزارا جہاں وہ انگریزی کی ایک نہایت مقبول پروفیسر کے طور پر جانی گئیں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اٹھمقام، گورنمنٹ کالج ہٹیاں اور ہٹیاں دوپٹہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔

    ہر ادارے میں ان کی موجودگی تعلیمی ماحول کے لیے ایک مثبت اضافہ ثابت ہوئی۔ وہ صرف اپنے مضمون تک محدود نہیں رہتیں بلکہ طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک استاذ کا منصب صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ انسان سازی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد آج بھی ان کا ذکر بے حد احترام اور محبت سے کرتے ہیں۔

    اگست 2025ء سے وہ کالج ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں چیف انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس منصب پر ان کا تقرر دراصل ان کے برسوں کے تجربے اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ اب وہ نئی نسل کے اساتذہ کی تربیت میں مصروف ہیں اور اپنی بصیرت اور تجربے کی روشنی دوسروں تک منتقل کر رہی ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت تعلیمی اداروں کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔

    11 مئی کو جب پندرہ روزہ ورکشاپ کے سلسلے میں میرا انتخاب ہوا اور وہاں میڈم انجم اکبر بخاری سے ملاقات ہوئی تو دل خوشی اور فخر کے جذبات سے بھر گیا۔ ایک شاگرد کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی معلمہ کو اسی وقار، محبت اور خلوص کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے دیکھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے برسوں کا سفر طے ہی نہ کیا ہو۔

    میڈم انجم اکبر بخاری کی شخصیت میں علم کے ساتھ ساتھ اخلاقی حسن بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وہ خوش لباس ہیں مگر ان کی اصل خوب صورتی ان کے کردار میں ہے۔ وہ خوش گفتار ہیں مگر ان کی اصل تاثیر ان کے لہجے کی محبت میں ہے۔ وہ باصلاحیت ہیں مگر ان کی اصل عظمت ان کی عاجزی اور انکساری میں ہے۔ یہی خوبیاں انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور میڈم انجم اکبر بخاری جیسے اساتذہ اس کردار کو نہایت خوب صورتی سے نبھا رہے ہیں۔ وہ نئی نسل کے لیے امید، حوصلے اور روشنی کی علامت ہیں۔ ان کی تدریسی خدمات اور انسان دوستی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    بلاشبہ میڈم انجم اکبر بخاری صرف میری معلمہ ہی نہیں بلکہ میرا فخر ہیں۔ ان جیسی شخصیات زندگی میں بار بار نہیں ملتیں۔ وہ ان خوش نصیب اساتذہ میں شامل ہیں جن کے شاگرد نہ صرف ان سے علم حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایمان اور صحت والی حیاتِ جاوداں عطا فرمائے گا کہ وہ اسی طرح علم کی شمعیں روشن کرتی رہیں اور آنے والی نسلیں ان کے فیض سے مستفید ہوتی رہیں۔ بردارم ڈاکٹر اسحاق وردگ کا یہ شعر میڈم کے نام کر کے اجازت چاہوں گا: 

    اَساتذہ نے مرا ہاتھ تھام رکھا ہے

    اسی لیے تو میں پہنچا ہوں اپنی منزل پر

    20 مئی 2026ء، بدھ

  • دو منفرد کتابوں کی تقریب رونمائی

    دو منفرد کتابوں کی تقریب رونمائی

    دو منفرد کتابوں کی تقریب رونمائی

    Dubai Naama

    یہ رائے بلکل غلط ہے کہ کتب کا یہ آخری دور ہے۔ اس رائے کو تقویت دینے کے لیئے یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی وجہ سے کتابوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے، اور آنے والے ادوار میں یہ اہمیت مزید کم ہوتی جائے گی، جس وجہ سے کتابیں بھی بہت کم پڑھی جائیں گی۔ حالانکہ یہ رائے اپنے اندر کوئی معتبر وزن نہیں رکھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے، اور اگر کتاب "پی ڈی ایف” میں بھی ملتی ہے تو وہ بھی کتاب ہی ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ آئیندہ پرنٹ میڈیا کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کا کتاب کی افادیت اور ضرورت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کتاب کو ہاتھ میں پکڑ کر پڑھا جائے یا اس کا مطالعہ فون کی سکرین پر کیا جائے، کتاب ان دونوں صورتوں میں "کتاب” ہی رہتی ہے۔

    میرے خیال میں آنے والی ہر صدی کتابوں کی ہے۔ اب اگر پرنٹ میڈیا کی اہمیت دھیرے دھیرے کم ہو رہی ہے تو اس کی جگہ پی ڈی ایف لے رہی ہے اور جب مزید جدید ذرائع ابلاغ آ جائیں گے اور پی ڈی ایف بھی نہیں رہے گی تو کتابوں کو پڑھنے کی کوئی نئی اور دوسری صورت سامنے آ جائے گی، مگر کتاب کے مطالعہ کی اہمیت کبھی بھی ختم نہیں ہو گی۔ کتاب تعلیم و تربیت، علم و فضل، سائنس و ٹیکنالوجی اور معلومات کی ترسیل کا ایک مفصل اور معتبر ترین ذریعہ ہے۔ جس قدر مرضی جدید دور آ جائے کتاب کی عظمت دائم قائم رہے گی۔

    پاکستان کے سفارت خانہ ابوظہبی میں گزشتہ روز دو کتابوں کی تقریب رونمائی ہوئی۔ ان دونوں کتابوں کی مصنفین خواتین تھیں۔ میں پہلی کتاب کے بارے میں یہ کہوں کہ یہ کتاب ایک بچی نے لکھی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس کتاب کا نام "دی ٹرتھ بی ہائینڈ دی ایول” ہے، جس کا اردو ترجمہ میں نے "برائی کی بنیادی حقیقت” کیا ہے۔ اس کتاب کی مصنفہ دعا فرحان احمد ہیں اور جن کی عمر محض 15 سال ہے۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ کتاب کا ٹائٹل بہت چونکا دینے والا ہے یہ عنوان آپ کے ذہن میں کیسے آیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس عنوان کا مفہوم میرے ذہن میں تھا مگر اسے الفاظ کی ترتیب میری ماما نے دی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ کتاب کتنے عرصے میں مکمل کی تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کتاب لکھنے میں دو سال لگے جب میں نے یہ کتاب لکھنی شروع کی اس وقت میری عمر 12 سال تھی۔ یہ کتاب 200 صفحات کی ہے جو "شارٹ سٹوریز” پر مبنی ہے جسے انگریزی زبان میں لکھا گیا ہے۔ اتنی کم عمری میں غیر مادری زبان میں اس قدر دلچسپ اور اہم کتاب کی مصنفہ بن جانا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔

    دو منفرد کتابوں کی تقریب رونمائی

    دوسری کتاب کا نام "گرل ہڈ ڈائریز” ہے جس کی مصنفہ آمنہ منور خان ہیں۔ یہ کتاب بھی انگریزی زبان میں ہے جس کا اردو ترجمہ کرنے میں مجھے مشکل پیش آ رہی ہے۔ انگریزی لفظ "گرل ہڈ” انتہائی خوبصورت اصطلاح ہے جو میں نے پہلی بار پڑھی ہے۔ اس انگریزی لفظ کو پڑھ کر اس کا مفہوم ذہن میں آ رہا ہے مگر اسے اردو زبان میں کیا لکھوں اس کی سمجھ نہیں آ رہی ہے۔ آپ انگریزی لفظ "بوائے ہڈ” کا ترجمہ "لڑکپن” کر سکتے ہیں جو درست بھی ہے مگر آپ کو کہا جائے کہ "گرل ہڈ” کا درست اردو ترجمہ کریں تو شاید آپ بھی مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔ بسیار کوشش کے باوجود مجھے اردو میں اس کا ایسا کوئی مناسب لفظ میسر نہیں آیا جو اس کا درست اور بہتر مفہوم بیان کرتا ہو۔ یہ کتاب اڑھائی سو صفحات پر مبنی ہے جس میں خواتین کی شخصیت اور مستقبل کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ یہ کتاب کافی حد تک موٹیویشنل ہے، جو خواتین کے لیئے ایک "گائیڈ بک” حیثیت رکھتی ہے۔

    کتابوں کی اہمیت کے بارے میں ایک بزرگ مقرر امیر خان صاحب نے اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کیا جن کا خلاصہ میں نے کتابوں کی اہمیت کی مد میں کالم کے آغاز میں بیان کیا ہے۔ ایک اور کام کی بات امیر خان صاحب نے یہ کہی کہ ہمیشہ اپنی قومی زبان اردو میں بات کریں اور اردو ہی کو پروموٹ کریں کہ دنیا میں ترقی کرنے کا بنیادی راز قومی زبان ہے، جو نئی اور جدید اصطلاحات کو جنم دیتی ہے۔ اس ضمن میں تقریب کے میزبان اور صدر مجلس پاکستان کے سفیر سید فیصل نیاز ترمذی صاحب نے بھی اردو زبان کی نشر و اشاعت پر زور دیا۔ خاص طور پر انہوں نے "اردو بکس ورلڈ” کے ڈائریکٹر سرمد خان اور مجھے سٹیج پر بلا کر، ہم دونوں کی اردو خدمات کو سراہا۔ سرمد خان نے اپنی تقریر میں نومبر کے وسط میں شارجہ میں منعقد ہونے والے "کتاب میلہ” کا ذکر کیا اور حاضرین کو "اردو بکس ورلڈ” کے "جناح پاکستان پویلئین” پر آنے کی دعوت دی۔ گزشتہ ابوظہبی کے کتاب میلہ میں جناح پاکستان پولئین کی منظوری ہوئی تھی۔ شارجہ بک فیئر میں بھی اردو بکس ورلڈ کے لیئے یہی نام منظور کر لیا گیا ہے۔

    اس تقریب کے سٹیج سیکریٹری کے فرائض سلمان احمد خان نے ادا کئے جنہوں نے خواتین مصنفین کا تعارف کروانے سے پہلے اقبال کا یہ شعر پڑھا کہ، "وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ،
    اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ درُوں۔” اس تقریب میں ابوظہبی، دبئی اور دیگر ریاستوں سے کثیر تعداد نے شرکت کی، جس میں سینئر صحافی عارف شاہد سمیت دیگر صحافیان شامل ہیں۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی تواضح کھانے سے کی گئی۔ پاکستان کے سفیر سید فیصل نیاز ترمذی صاحب آخر تک مہمانوں کے ساتھ رہے۔ یہ سفارت خانہ میں ان کی آخری تقریب تھی۔ ان کا تبادلہ ماسکو میں ہو گیا ہے۔ وہ اب صرف تین ہفتے مزید خدمات انجام دیں گے۔ وہ انتہائی سادہ طبیعت کے شریف النفس سفارت کار ہیں۔ وہ مطالعہ اور علم و ادب کے فروغ سے دیوانگی کی حد تک پیار کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم سمندر پار پاکستانی فیصل نیاز ترمذی صاحب کو تا دیر یاد رکھیں گے۔

    گو کہ یہ دونوں کتابیں انگریزی زبان میں ہیں مگر کتابوں کی مصنفین اور دیگر مقررین نے اردو زبان میں تقاریر کیں۔ اردو زبان کا خاصہ ہے کہ یہ ہر زبان کو اپنے اندر سمو لیتی ہے۔ ان دونوں کتابوں کے عنوانات منفرد اور فوری توجہ کھینچ لینے والے ہیں۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ اب خواتین مصنفین بھی علم و ادب کے فروغ میں مردوں کے برابر کردار ادا کرتی نظر آ رہی ہیں۔

  • آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟

    آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟

    آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟


    تحریر محمد ذیشان بٹ
    برطانیہ وہ عظیم سلطنت ہے جس نے پوری دنیا کو دو چیزیں ضرور دیں: ایک انگریزی زبان، اور دوسرا ’سر‘ کا خطاب۔ پہلا تو سب نے زبردستی سیکھ لیا، لیکن دوسرے کے لیے اب تک صرف وہی اہل ٹھہرے ہیں جن کے پاس یا تو ولایتی پاسپورٹ ہو، یا ولایتی واسطہ۔ باقی سب خواہ جتنے مرضی چھکے مار لیں، جتنے مرضی ورلڈ کپ جتوا دیں، ان کے حصے میں صرف واہ واہ ہی آئے گی، ’سر‘ کبھی نہیں۔

    کرکٹ کی دنیا میں پہلا ’سر‘ جس نے ہم جیسے ناتمام کھلاڑیوں کی نیندیں اڑا دیں، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود سر ڈان بریڈمین تھے۔ جی ہاں، وہی آسٹریلوی جن کی بیٹنگ دیکھ کر گیند بازوں نے نوکری چھوڑ کر بیکریاں کھول لیں۔ انہوں نے 99.94 کی اوسط سے رنز بنا کر یہ ثابت کیا کہ بعض انسان دنیائے فانی میں بھی افسانہ بن سکتے ہیں۔ بادشاہ سلامت نے سوچا کہ ایسا بلے باز تو شاید اگلی صدی میں بھی پیدا نہ ہو، چنانچہ جھٹ سے تلوار نکالی اور ’سر‘ کا خطاب دے مارا۔

    پھر یہ روایت چل نکلی۔ ویسٹ انڈیز والوں نے بھی کمال کر دکھایا۔ سر گارفیلڈ سوبرز، سر ویو رچرڈز، سر کلائیو لائیڈ، سر کرٹلی ایمبروز — گویا پوری ٹیم ہی ’سر‘ ہو گئی۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ گیند باز وسیم اکرم نے کہا، “یار انگریز بلے بازوں سے نہیں، ان کے خطابوں سے ڈر لگتا ہے۔”

    ادھر نیوزی لینڈ نے بھی اپنی قسمت آزمائی اور سر رچرڈ ہیڈلی کو آگے کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب صرف تیز گیند، سوئنگ اور ایک آدھ ہیٹ ٹرک کافی تھی ’سر‘ بننے کے لیے۔

    پھر آیا انگلینڈ کا دور، جس میں سر ایان بوتھم، سر ایلکس اسٹیورٹ اور بعد میں سر ایلسٹر کک بھی شامل ہوئے۔ اب کک صاحب کو ’سر‘ بننے پر مرغی فروشوں نے خاص رعایت دی کیونکہ ان کا نام ہی کُک تھا، اور ’سر کک‘ کہنے میں جو مزہ ہے، وہ شاید ’سر تنویر‘ یا ’سر بشیر‘ میں نہیں۔

    لیکن آئیے اب بات کریں برصغیر کی، جہاں سچن ٹنڈولکر کا نام سن کر بچے بھاگ کر بیٹ لینے لگتے تھے اور گیند باز بھاگ کر ویزا اپلائی کرنے۔ اگر ٹنڈولکر برطانوی ہوتے، تو یقینی طور پر ’سر‘ بننے کے بعد بکنگھم پیلس کے لان میں کرکٹ سکھا رہے ہوتے۔ لیکن کیا کریں، بندہ بھارتی ہے، سو صرف ’بھارت رتن‘ پر گزارا کرنا پڑا۔

    آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟

    اسی طرح وسیم اکرم، جس کی سوئنگ پر ابھی بھی ہوا کا دباؤ بگڑ جاتا ہے، اگر برطانوی ہوتا تو ’سر وسیم‘ بن کر لندن کی پارلیمنٹ میں ’’ریورس سوئنگ پر لیکچر‘‘ دے رہا ہوتا۔ لیکن چونکہ وہ پاکستانی ہے، تو اسے صرف کرکٹ بورڈ سے معطلی، سیاسی تجزیے، اور وکٹوں کی یادگاریں ہی ملی ہیں، ’سر‘ نہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ آخر ایشیائیوں کا کیا قصور ہے؟ کیا ’سر‘ کا خطاب لینے کے لیے وکٹ کے ساتھ پاسپورٹ بھی برطانوی ہونا ضروری ہے؟ کیا چھکا لگانے کے بعد ’God Save The King‘ گانا بھی گانا لازمی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں کرکٹ نہیں، انگریزی جھنڈا پکڑ کر چائے بیچنی چاہیے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ کھلاڑیوں کو "Honorary Knighthood” بھی دیا گیا، جیسے سچن ٹنڈولکر کو۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ’سر‘ نہیں کہلا سکتا، کیونکہ قانون کہتا ہے: "اگر تم ولایتی نہیں، تو تم صرف اعزازی ہو، باقاعدہ ’سر‘ نہیں!” یعنی خطاب بھی دیا، مگر استعمال کی اجازت نہیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے بچے کو آئسکریم دے کر کہنا: "دیکھ تو سکتا ہے، کھا نہیں سکتا۔”

    اب تک آخری کھلاڑی جسے ’سر‘ بنایا گیا، وہ سر ایلسٹر کک ہے — ایک شریف النفس اوپنر، جس کی بلے بازی بھی چائے کی پیالی کی طرح دھیمی مگر پائیدار تھی۔ اس کے بعد کچھ اور انگلش کھلاڑیوں کے نام زیرِ غور ہیں، لیکن کوئی ایشیائی فہرست میں نہیں۔ ہم لوگ بس تماشائی ہیں، جھاڑو دے کر ’سر‘ کہنے والے، اور وہ خطاب لے کر ’سر‘ بننے والے۔

    آج بھی اگر کوئی پاکستانی بچہ اپنے نام کے آگے ’سر‘ لگائے، تو استاد کہتا ہے، “پہلے ہوم ورک تو مکمل کر لے، پھر ’سر‘ بننا!”

    تو صاحبو، بات سیدھی سی ہے، کرکٹ تو کھیل سکتے ہو، دل بھی جیت سکتے ہو، لیکن ’سر‘ بننے کے لیے یا تو ولایتی ہو، یا ولایتیوں کے خاص بندے ہو۔ ہم تو بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ کبھی کسی دن عمران خان، ٹنڈولکر، سنگاکارا اور وسیم اکرم کے اعزاز میں کوئی ’عالمی سر کانفرنس‘ ہو، اور تب یہ سب بغیر پاسپورٹ کے ’سر‘ کہلائیں۔

    جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہم اپنے دل سے بس یہ کہتے رہیں گے:
    سر! معاف کیجیے، ہم ابھی بھی پاکستانی ہیں۔

  • حسن نصیر سندھو:طنز و مزاح کا ایف 16

    حسن نصیر سندھو:طنز و مزاح کا ایف 16

    حسن نصیر سندھو:طنز و مزاح کا ایف 16

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

    rachitrali@gmail.com

    حسن نصیر سندھوطنزیہ و مزاحیہ تحریریں لکھتے ہیں بہت اچھا لکھتے ہیں آپ کی تحریر قارئین کے چہرے پر مسکراہٹ لاتی ہے، آپ طنز و مزاح کے ایف 16 ہیں۔ آپ نے اپنی دلچسپ تحریر ”ماں بولی پنجابی” میں پنجابی زبان کی اہمیت اور اس کی چاشنی پر روشنی ڈالی ہے، آپ کی یہ تحریر ایک دلکش، طنزیہ، اور جذباتی انداز میں پنجابی زبان کی وکالت کرتی ہے۔ اس تحریر میں نہ صرف پنجابی زبان کی خوبصورتی کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقابلے میں انگریزی اور اردو کے استعماری اثرات کو بھی طنز کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔حسن نصیر سندھو لکھتے ہیں”جیتے جی اگر اپنی ماں بولی پنجابی کے حسن پر نہ لکھا تو پھر کیا لکھا۔ اگرچہ میں بھی ان مظلوم بچوں میں سے تھا، جنہیں بچپن سے ہی یہ وہم دل میں ڈال دیا جاتا ہے، کہ اردو اور انگلش بولنے والے ہی صرف تہذیب یافتہ ہوتے ہیں اور پنجابی بولنے والے پینڈو۔ جب کہ میرے نزدیک پنجاب کا مطلب ہی یہ ہے، کہ پنجابی بولنے والوں کا علاقہ۔ خیر جب ہم ایف سی کالج لاہور گیارہویں جماعت میں ہاسٹل میں رہنے کے لیے گئے، تو مختلف علاقوں اور دیہاتوں سے آئے گبرو جوانوں کی پنجابی سن کر اس زبان کے گرویدہ ہو گئے۔اور پنجابی باقاعدہ سیکھی۔ اور اب عادت یہ ہے، کوئی انگلش میں بھی بات کر رہا ہو، تو جواب ہمارا پنجابی ہی ہوتا ہے۔ شروع شروع میں لاہور کی لڑکیوں نے ہمیں پینڈو پینڈو کہہ کر مجھے اور مجھ جیسوں کو احساس کمتری کا شکار کرنے کی کوشش ضرور کی، پر انہیں منہ کی کھانی پڑی، کیونکہ ہم لڑکوں میں اس احساس نامی چیز کی کمی اور oucre سے سفید لٹھا کا سیلا سوٹ اور بوٹس کی لمبے منہ والی جوتی پہننے کی لگن زیادہ تھی”۔

    تحریر کا آغاز مصنف کے ذاتی تجربات سے ہوتا ہے جہاں وہ اپنے بچپن کے اُن لمحات کا ذکر کرتے ہیں جب پنجابی بولنے والے بچوں کو احساس کمتری کا شکار بنایا جاتا تھا۔ اس بیان سے وہ معاشرتی تعصب کو نمایاں کرتے ہیں جو مقامی زبانوں کے خلاف عام ہے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ "پنجابی بولنے والے پینڈو” تصور کیے جاتے ہیں، اس بات کا غماز ہے کہ ہماری تہذیبی شناخت پر بیرونی اثرات نے کیسا گہرا اثر ڈالا ہے۔ حسن نصیر رقمطراز ہیں ” پنجابی میں ہم oh my God نہیں کہتے،بلکہ اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ہائے او میرے ربا بولتے ہیں۔ پنجابی میں ہم Are you happy now نہیں بولتے کتے بلکہ بولتے ہیں ” پے گئی ہن تھنڈ کلیجے نوں” ۔

    پنجابی میں ہمbuzz off نہیں بولتے بلکہ منہ کو تھوڑا سا اوپر کر کے "در فٹے منہ” بولتے ہیں۔ پنجابی میں ہم Get off my back نہیں کہتے،بلکہ اپنے دائیں ہاتھ کو ہوا میں نچاں کر کہتے ہیں "جا مگروں وی لے جا”۔ پنجابی میں ہم To each their own نہیں کہتے، بلکہ سکھ کا سانس لیتے ہوئے کہتے ہیں "سانوں کی”۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں پنجابی میں ہم what’s upنہیں کہتے، بلکہ "ہور کوئی نوی تازی سنا ویرا ” کہتے ہیں۔”

    حسن نصیر سندھو نے پنجابی اور انگریزی/اردو کے عام الفاظ اور جملوں کا دلچسپ تقابل کیا ہے، جو تحریر کو دلکش اور مزاحیہ بناتا ہے۔ مثلاً:”Oh My God” کے مقابلے میں "ہائے او میرے ربا”، "Get off my back” کے بدلے "جا مگروں وی لے جا”، "Social distancing” کو "پراں مر” سے بدلنا، یہ مثالیں نہ صرف پنجابی زبان کے جاندار اور فطری اظہار کی عکاس ہیں بلکہ زبان کی ثقافتی جڑوں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ مصنف نے یہ واضح کیا ہے کہ پنجابی اپنی منفرد مٹھاس اور طنز کے ذریعے انسانی جذبات کو زیادہ قریب سے بیان کرتی ہے۔ مصنف لکھتے ہیں ” پنجابی میں ہم Behave yourself نہیں کہتے بلکہ "بندے دا پتر بن جا” کہتے ہیں۔ پنجابی میں ہم That’s more than sufficient نہیں کہتے،بلکہ "جناب ہور کی چاہیدا” کہتے ہیں۔پنجابی میں ہم All the bestنہیں کہتے بلکہ پورے مان کے ساتھ بولتے "او چک دے پھٹے”۔ پنجابی میں ہم Get out نہیں بولتے بلکہ سادگی سے بولتے "دفع ہوجا” ۔ پنجابی میں ہم Leave it be نہیں بولتے مجھے بلکل کہ معاملے کو ختم کرنے کے لیے بقول مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین "مٹی پاؤ جی” کہتے ہیں۔

    پنجابی میں ہم Mind your own business نہیں کہتے بلکہ ہم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں "تینوں کی”۔ پنجابی میں ہم Welcome نہیں بولتے بلکہ دونوں بازو اور سینہ کشادہ کر کے "جی آیاں نوں” بولتے ہیں۔ پنجابی میں ہم Social distancing نہیں بولتے بلکہ پیار سے بولتے ہیں "پراں مر”۔ اور بقول پاکستانی فلم سٹار میرا ہم Kill the waves نہیں کہتے بلکہ "موجاں مار” کہتے ہیں۔”

    مصنف نے زبان کے ذریعے تہذیبی شناخت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح پنجابی بولنے والے نوجوانوں کو معاشرتی سطح پر کمتر سمجھا گیا، لیکن انہوں نے اس احساس کو اپنی زبان سے محبت میں بدل دیا۔ لاہور کی لڑکیوں کے "پینڈو” کہنے پر طنزیہ ردعمل اور خود کو پنجابی زبان کے لیے وقف کرنا ایک مضبوط پیغام ہے کہ اپنی جڑوں سے جڑے رہنا کتنا ضروری ہے۔حسن نصیر لکھتے ہیں ” ہم چھوٹے بچے کو Baby بےبی نہیں بولتے بلکہ کا بولتے ہیں اور لڑکیوں کی تعریف کے لیے Such a Gorgeous lady نہیں بولتے بلکہ "دودھ تے مکھن نال پلی مٹیارے” بولتے ہیں۔
    اگر یہ تحریر پڑھ کر آپ کو سمجھ آئی ہے یا نہیں آئی۔ پر اگر اپکے دل کو لگی تو سمجھ لیں آپ کے اندر بھی ایک چھوٹا سا پینڈو زندہ ہے اس لئے ہم آپ کو Congratulate نہیں کہتے بلکہ تہانوں ودھائی ہو کہتے ہیں۔اور اگر آپ کو مزہ نہیں آیا تو ہم پنجابی لوگ ہیں ہمیں جتنا مزہ یہ کہنے میں آتا ہے کہ "میری جوتی نو وی پرواہ نہیں” اتنا I don’t care کہنے میں نہیں آتا۔”

    حسن نصیر سندھو کا اندازِ بیان دلکش اور طنزیہ ہے۔ وہ قاری کو ہنساتے ہوئے ایک اہم معاشرتی پیغام بھی دیتے ہیں۔ پنجابی زبان کی اصطلاحات اور انگریزی جملوں کے مابین فرق کو مزاحیہ انداز میں پیش کرنا قاری کو غور و فکر کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیوں ہم اپنی زبان کو کمتر سمجھتے ہیں۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ حسن نصیر سندھو کی یہ تحریر صرف پنجابی زبان کی وکالت نہیں کرتی بلکہ ہر مقامی زبان کے تحفظ اور فروغ کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔نصیر سندھو نے اپنی ماں بولی کے حسن کو اس خوبصورتی سے پیش کیا ہے کہ قاری اپنے اندر کے "پینڈو” کو زندہ محسوس کرتا ہے اور اپنی زبان سے محبت کا ایک نیا پہلو دریافت کرتا ہے۔ تحریر کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو نہ صرف ہنساتی ہے بلکہ سوچنے اور غور و فکر کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کی زندہ تصویر ہے۔

  • کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

    کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

    ( پاکستان کا مرثیہ )

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    یوں تو پاکستان میں کئی علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن اردو ہماری قومی زبان اور لسانی پہچان ہے ۔ اس کا جنم مغل شہنشاہ شاہ جہان کے زمانے میں دلی میں ہوا اور بقول محمود خان شیرانی ، اردو دلی میں جنمی ، اترپردیش میں بیاہی گئی اور اب بڑھاپا پنجاب میں کاٹ رہی ہے ۔ یہ بات درست ہے یا غلط ، اس بحث میں الجھے بغیر ماننا پڑے گا کہ دنیاء کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اس نوزائیدہ زبان نے جملہ اصناف ادب ، نثر و نظم میں ایسے ایسے روشن ستارے پیدا کئے کہ جو ابدی کہکشاؤں میں ضم ہوجانے کے باوجود آج بھی دنیائے اردو کے آکاش پر جگمگ جگمگ کرتے نظر آتے ہیں ۔

    اگر شعراء کی بات کی جائے تو اس زبان کے اولین شعراء ، ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی سے غالب ، میر اور اقبال تک ایک طویل فہرست بنتی ہے ، کہ جن کا کلام اردو ادب کا اثاثہ ہے ، لیکن اس میدان میں کچھ ایسے شاہسوار بھی وارد ہوئے جو آندھی کی طرح آئے اور بگولہ بن کر نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میرا اشارہ ان شاعروں اور ادیبوں کی طرف ہے جو عین جوانی میں یا جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ۔  اگرچہ یہ لوگ اساتذہ کے درجے پر فائز نہیں لیکن اس قلیل مدتی زندگی میں انہوں نے جو نقوش شاہراہ اردو ادب پر ثبت کئے ، انمٹ اور انمول ہیں ۔ سعادت حسن منٹو جیسا شہنشاہ افسانہ نگاری اور انوکھی طرز تحریر کا مالک وقت سے بہت پہلے چل تو دیا لیکن ہمارے لئے عقل و خرد اور معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ایسی تحریریں چھوڑ گیا کہ اگر ہم ان پر غور کریں تو بہت ساری گھتھیاں سلجھ سکتی ہیں ۔  ۔ اس دیوتا نے تو کسی طرح زندگی کی پانچویں دھائی میں قدم رکھ ہی لیا تھا جبکہ ملتان کا آنس معین ابھی بارھویں جماعت میں ہی تھا کہ سکھر کے ایک مشاعرے میں جب اس نے اپنا یہ شعر پڑھا ،

    ” ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج

    اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے "

    تو ، صدر مشاعرہ حضرت جوش ملیح آبادی نے اٹھ کر اس کے ماتھے کو چوما اور سامعین سے مخاطب ہوکر کہا اس بچے کا خیال رکھنا ، وقت سے پہلے اس دنیاء میں آگیا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اس بچے نے ٹرین کے نیچے لیٹ کر خود کشی کرلی ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آج کے مضمون کا عنوان بھی ایک ایسے ہی جوہر قابل کی شاعری سے منتخب کیا ہے کہ جو فقط 32 برس اس دنیاء میں مقیم رھا ۔

    شکیب جلالی بدایوں کا رہنے والا تھا  ہجرت کرکے پاکستان آگیا ۔ پنڈی اور لاھور سے ہوتا ہوا سرگودھا پہنچا اور آنس معین ہی کی طرح نوعمری میں ریل کے آگے لیٹ کر جان دیدی ۔

    اس جوانمرگ شاعر کو اہل ادب تو جانتے ہیں لیکن عام آدمی کو علم نہیں کہ نصرت فتح علی خان مرحوم کی گائی ہوئی جس غزل پر وہ سر دھنتے ہیں وہ در اصل اسی شکیب جلالوی کا پیغام ہے ۔ اسی غزل کے مطلعے یا پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ میرا آج کا موضوع سخن ہے ، شعر ملاحظہ فرمائیں :

    ” سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

    کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    قارئین کرام !

    شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا دماغ ہوتے ہیں ۔ فلسفےکی زبان میں انہیں تیسری آنکھ یا

    Third Eye of the Society

    بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ اپنی اضافی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا ۔ اس درجے پر فائز لوگ مستقبل بین ہوتے ہیں انہیں پہلے سے علم ہوجاتا ہے کہ آنیوالا وقت کیا پیغام لیکر آرھا ہے ۔

    شکیب جلالی نے اپنے شعر میں آج سے کئی برس قبل آج کے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات کی تھی ۔ آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ ،  ایسا نہیں بلکہ شکیب نے تو اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر شعر کہا ، تو حضور والا چونکہ میرا محبوب ، میرا وطن پاکستان ہے لھذا میں اس شعر کی تشریح موجودہ پاکستان اور اس میں موجود پاکستانیوں کو ہی سامنے رکھ کر کرونگا ۔

    کیا یہ حقیقت نہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ہماری سیاسی سوچ اتنی پاک صاف اور معصومانہ تھی کی ہم ایک پنجابی اقبال کے سپنے کو حقیت جان کر اس کی طرف لپکے ، کیا ہم واقعی معصوم نہیں تھے جب ایک اثناء عشری شیعہ محمد علی جناح کو قائد مانا ۔ کیا یہ درست نہیں کہ ہم نے کرنال کے ایک نواب کو قائد ملت کا خطاب دیا ۔ کیا ہم نے ایک بلوچ قاضی عیسی کو تحریک پاکستان کا رہبر نہیں مانا ۔ کیا ہم  ایک پٹھان  سردار عبد الرب نشتر کی راھنمائی میں آگے نہیں بڑھے ۔ کیا ہم نے ایک شش امامی اسماعیلی شیعہ کو پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا پہلا صدر منتخب نہیں کیا ۔ ایسی لاتعداد مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے ذہن اس وقت ان سیاسی غلاظتوں سے ایسے  پاک تھے  کہ ہمارے اندر کوئی شیعہ تھا نہ سنی ، پنجابی تھا نہ کوئی پٹھان ، مہاجر تھا نہ کوئی سندھی ، بلوچ تھا اور نہ کوئی گلگتی یا بلتی بلکہ ہم سب ایک قوم پہ یقین رکھتے تھے اور یہی وہ خوبی اور قوت تھی کہ جس نے ہمیں انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی سے نجات دلائی اور یہاں آکر شکیب کے پہلے مصرعے کی تشریح مکمل ہوجاتی ہے جس میں اس نے کہا ،

    سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

    اور

    اب

    اگلا مصرعہ

    ” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    قائد اعظم ،  قائد ملت اور تحریک پاکستان کے عظیم راہنماوں کی رخصتی کے بعد ، قوم ، گدھ نماء مردہ خوروں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں ، مفاد پرستوں اور ملک دشمنوں کے نرغے میں آگئی ۔ سب سے پہلا وار  ایک قوم کے نظریئے پر ہوا ۔ بنگالی قومیت کو ہوا دی گئی اور پاکستان بننے کے صرف 25 سال کے اندر آدھا ملک ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا ۔ اب یہ کہنا کہ غلطی کس کی تھی ایک لمبی بحث ہے ۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ ہم مخلص ،  ایماندار اور محب وطن قیادت سے محروم تھے ورنہ اختلاف کہاں نہیں ہوتا ۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا جھگڑا پیدا کرکے ان بنگالیوں سے جان چھڑائی کہ جنہوں نے مسلم لیگ بنائی تھی ۔ اس کام سے فارغ ہوئے تو مغربی پاکستان یا موجودہ ملک میں قومیتوں کے جھگڑے شروع کرادئیے  ۔ سندھی ، پختون ، بلوچی ، سرائیکی اور پنجابی ازم کے بیج بوئے گئے ۔ اس پہ بھی تسلی نہ ہوئی تو مولوی صاحب نے میدان میں آکر کفر کے فتوے بانٹنے شروع کردئے تاکہ جو کسر باقی ہے وہ بھی نکال دی جائے ۔

    غور کیجئیے کتنی منظم سازش ہے پاکستان کو کم زور کرنے کی ۔ پہلے لسانی اور علاقائی بنیادوں پر قوم کو بانٹا گیا اور پھر ان لسانی اکائیوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی اور بریلوی کے خانوں میں تقسیم کیا جارھا ہے ۔ اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کھلے عام صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کی شان میں تقریریں کی جارہی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جو امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگے ، کیا یہ محض اتفاق ہے ؟

    ایسا نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کا منصوبہ تیار ہوا ہے تاکہ ملک کو افراتفری اور مکمل انتشار میں دھکیل دیا جائے ۔

    صرف یہی نہیں کہ لسانی اور فرقہ وارانہ جنگوں کے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ  ایک مدت سے پاک فوج کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے تاکہ اگر حالات بگڑیں تو فوج اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکام ہو ۔

    پاکستانیو !

    خدا را دشمن کی ان چالوں کو سمجھو ۔ ہمارے بعض سیاست دان اور کچھ حلوہ خور مُلاں دشمن کی بولی بول رہے ہیں ۔ یاد رکھو مسئلہ عمران خان کا نہیں ، ملک کی سلامتی کا ہے ۔ عمران خان آج ہے کل نہیں ہوگا ۔ ہمیں ملک کی فکر کرنی چاھئیے ۔ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے آپ کو تقسیم مت کرو ۔ اپنی ہی فوج کو گالیاں مت دو ورنہ برا وقت آنے میں دیر نہیں لگتی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن کامیاب ہوجائے اور ہم سب معصوم لوگ مہاجر کیمپوں میں بیٹھے ہوں کیونکہ ان جعلی سیاستدانوں نے تو اپنے گھر ، دولت اور آل اولاد سب کو بیرون ملک محفوظ کررکھا ہے اگر ملک ٹوٹا تو برباد عام آدمی ہوگا ۔ میری باتوں پر غور کرو ۔ آذادی اس وقت ملی جب ہم سب صرف مسلمان تھے اور پاکستانی تھے اب اگر اس آذادی کو برقرار رکھنا ہے تو وہی روش اپنانی ہوگی جو تحریک پاکستان کے وقت اپنائی تھی ورنہ ملک گنوا بیٹھوگے اور شکیب جلالی کا یہ مصرعہ یاد آئیگا ۔

    ” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین