Tag: یوسف

  • موسیؑ علیہ السّلام کی کہانی

    موسی علیہ السّلام کی کہانی

    ( Story of  Prophit Moses )

    ( مذہبی تاریخ سے جڑے میرے  مضامین ،

    حضرت سلیمان اور ملکہ بلقیس ،

    بنی اسرائیل کی کہانی ،

    فرعون کی کہانی اور

    ہاروت ماروت

    کے بعد پیش ہے حضرت موسیؑ کی کہانی )

    تحقیق و تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    انبیاءکرام کے قصے اور کہانیاں پڑھتے وقت اور انہیں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے ذھن میں ایک خدا ، اللہ اور مالک و خالق کے موجود ہونے کا تصور جاگزیں ہو ۔ یہ اس لئے ناگزیر ہے کہ اگر آپ کسی خالق اور نگہبان پر ہی یقین نہیں رکھتے تو بنی نوع انسان کی راہنمائی اور فلاح و بہبود کی خاطر اس کے بھیجے نمائندوں ، انبیاء و رسل اور  پیغام بروں ( Messengers ) کی ضرورت ، حیثیت اور اہمیت کو کیسے جان پائینگے ۔ اس بنیادی خیال کو ذہن نشین کرلینے کے بعد یہ سمجھ لیں کہ اللہ نے تخلیق کائنات کے بعد اسے لاوارث نہیں چھوڑ دیا بلکہ نگہبان اعلی کی حیثیت سے انسانوں کی شکل میں ، ہر دور اور ہر قوم کی طرف ہادی اور راہنماء ( Spirtual Guide and Mentor ) بھیجے تاکہ نظام کائنات اس کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق رواں دواں رہے اور بنی آدم ایک قائدے کے تحت اسے اپنا خالق ، مالک اور معبود ( Supreme Deity ) مان کر پاکیزہ اور پرامن زندگی بسر کرسکیں ۔

    اس سلسلہء ہدائیت و راہنمائی پہ اگر غور کیا جائے تو بڑی دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے اور وہ اس طرح کہ معروف انبیاء (  Well    known Messengers of Allah) کی اکثریت ، بنی اسرائیل یا مشرق وسطی ( Middle East ) کی طرف بھیجی گئی ۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ مشرق وسطی بالخصوص فلسطین (سابقہ کنعان )میں مبعوث ہونے والے انبیاء کا منبع ( Fountain ) عراق تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء آل ابراھیمؑ  میں سے ہیں  یعنی( Descendants of Prophit Abraham ) اور حضرت ابراھیم ؑکا آبائی وطن وادی بابل ( babylon )تھا جہاں کے ظالم بادشاہ نمرود کے مظالم سے تنگ آکر آپ فلسطین ہجرت کرگئے ۔ آج اسی خاندان کے ایک جلیل القدر نبی حضرت موسیؑؑ کی کہانی بیان کی جارہی ہے ۔

    حضرت موسیؑؑ بن عمران بن یصعر بن قابث بن لاوی بن یعقوبؑ بن اسحاق ؑبن ابراھیمؑ کا جنم حضرت عیسی ؑکی پیدائیش سے تقریبا 1500 سال قبل مصر میں ہوا ۔ آپ بنی اسرائیل میں سے اور ان ہی کی طرف بھیجے گئے نبی تھے ۔ حالانکہ ان کا اصل وطن فلسطین تھا لیکن حضرت یوسف ؑکے مصر چلے جانے کے بعد چونکہ جناب یعقوب ؑکی اولاد مصر میں پھلی پھولی لھذا موسی علیہ السّلام بھی ان ہی مہاجرین بنی اسرائیل کے ایک گھرانے میں وہیں 1520 ق م  کو پیدا ہوئے ۔ والد عمران ، ماں کا نام یوکابد ، بڑا بھائی ہارون ؑاور ایک بہن مریم تھی ۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ عیسی ؑکی والدہ کا نام بھی مریم ؑاور نانا کا نام عمران ہی تھا جن کا مزار سلطنت عمان کے شہر  صلالہ میں ہے ۔

    راقم کو نبی عمرانؑ کے دربار میں حاضری کے متعدد مواقع ملے ۔ الحمدللہ ۔

    کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے عرض کرونگا کہ میری تحریر کردہ ،  بنی اسرائیل اور فرعون کی کہانیوں میں حضرت موسیؑ کا ذکر ضمنا آچکا ہے لیکن آج یہ واقعات قدرے تفصیل سے بیان ہونگے ۔ ہوا کچھ یوں کہ جب بنی اسرائیل حضرت یوسفؑ کی وجہ سے مصر میں جاکر آباد ہوگئے تو اللہ نے انہیں عزت ، وقار اور مال و دولت سے نواز دیا  لیکن یہ کم بخت  عیش و عشرت کی زندگی پاکر  خدا کی یاد سے غافل ہوگئے  ۔

    اللہ کے احکامات کی  نافرمانی کرنے لگے ۔ ان کے غلط اعمال کی پاداش میں ، اللہ نے  جناب یوسفؑ کی وفات کے بعد  ان پر فرعون رعمیس دوم کی شکل میں ایک جابر حکمران مسلط کردیا جس کا تعلق قبطی قبیلے سے تھا اور وہ ان مہاجرین بنی اسرائیل کو پسند نہیں کرتا تھا ۔

    رعمیس دوم
    By , CC BY-SA 3.0, Link

    ایک رات فرعون رعمیس نے خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس ( فلسطین ) کی طرف سے آگ کے شعلے آئے جس سے قبطی قبائل جل کر خاکستر ہوگئے مگر اسرائیلیوں کو کوئی گزند یا نقصان نہیں پہنچا ۔ اس نے اپنے درباریوں ، جوتشیوں ، نجومیوں ، علماء اور کاہنوں ( مذہبی راہنماوں ) کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی تو بتایا گیا کہ

    اے بادشاہ تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیری خدائی کو چیلینج کردے گا ۔ یاد رہے فرعون اپنے آپ کو خدا کا اوتار بلکہ خدائے مطلق کہلواتا تھا ۔ خواب کی تعبیر سن کر فرعون کو پریشانی لاحق ہوگئی ۔ اس نے  حکم جاری کیا  کہ آج سے بنی اسرائیل کے کسی بھی خاندان میں جو بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے ۔ چنانچہ ہزاروں حاملہ عورتوں کے حمل ضائع کرادئے گئے اور ان گنت نومولود اسرائیلی بچوں کو قتل کرادیا گیا ۔

    اس قتل عام کی خبر جب قبطی قبیلے ( فرعون کا قبیلہ ) کے بزرگوں کو ملی تو وہ ایک وفد کی شکل میں فرعون کے پاس گئے اور کہا

    اے بادشاہ اگر آپ اسی طرح اسرائیلیوں کو قتل کرتے رہے تو ہمیں مصر میں نوکر ، چاکر ، غلام ، مزدور اور کھیتوں میں کام کرنے والے کہاں سے ملینگے ۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ حضرت یوسفؑ کے زمانے تک ،   بنی اسرائیل مصر میں ، زمینوں کے مالک ، تاجر اور سرکاری اہلکار تھے لیکن حضرت موسیؑؑ کی پیدائیش تک آتے آتے ، اپنے بد اعمال کے نتیجے میں ، بھکاری اور غلام بن گئے ۔ قصہ مختصر ، فرعون نے  قبیلے کے بڑوں کی بات سن کر اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے نیا حکم جاری کیا کہ ایک سال اسرائیلی بچوں کو مارا جائے اور ایک سال نہ مارا جائے تاکہ یہ قتل بھی ہوتے رہیں لیکن ان کی تعداد کم نہ ہو جیسا کہ بزرگ قبطیوں نے مطالبہ کیا تھا ۔ چنانچہ نہ مارنے والے سال میں حضرت موسیؑ کے بڑے بھائی حضرت ہارون ؑپیدا ہوئے جبکہ مارنے کے حکم والے سال میں جناب موسیؑ ؑنے جنم لیا ۔

    کہانی بڑی دلچسپ ہے لیکن ساتھ ساتھ اس قصے میں پوشیدہ بعض اہم نکات ، فلسفے اور حکمتیں بیان کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں تاکہ قارئین  اسے محض کہانی سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ اس میں چھپے خدائی راز بھی جان سکیں ۔

    جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا ، انبیاء کے حالات زندگی اور واقعات کو سمجھنے کے لئے اس کائنات کے خالق و مالک کو ماننا اولین شرط ہے ورنہ ہر چیز افسانہ نظر آئیگی ۔ لھذا روز اول سے ، تا قیامت رو نماء ہونیوالے واقعات ، حادثات اور معاملات کا لکھاری (  Script Writer ) اور منصوبہ ساز ( Planner ) وہ مالک خود ہے کہ جس نے اس کی بنیاد رکھی ۔ چونکہ حضرت موسیؑ کو ایک مشن دیکر بھیجنا مقصود  تھا لھذا اس مشن کی کامیابی کے لئے سازگار ماحول مہیاء کرنا بھی ضروری ٹھہرا ۔

    کتنی حیران کن بات ہے کہ فرعون اسرائیلی بچوں کو مروا رہا ہے لیکن جس بچے نے آگے چل کر اس کی جھوٹی خدائی کو چیلینج کرنا تھا وہ اسی کے گھر میں پل کر جوان ہوتا ہے ۔ یہ اس کی پلاننگ کا نتیجہ ہے کہ حضرت موسیؑ کی ماں حاملہ تو ہوئیں لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان پر حمل کے آثار نمایاں نہ ہوئے ورنہ فرعون کی مقرر کردہ دائیاں ( Midwives ) گھر گھر جاکر خواتین کا جسمانی معائنہ کرتی پھر رہی تھیں ۔

    جب پیغمبر خدا حضرت موسیؑ اس دنیاء میں تشریف لائے تو ماں کو فکر لاحق ہوگئی کہ کہیں فرعون کے گماشتے میرے بچے کو قتل نہ کر ڈالیں ۔ اسی سوچ و فکر میں مبتلا تھیں کہ اللہ کے فرشتے نے آکر ڈھارس بندھائی ،

    قرآن حکیم میں ارشاد ہے :

    اور ہم نے موسیؑ کی ماں کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو دودھ پلاو ۔ جب تم کو اس کے بارے میں کچھ خوف پیدا ہو تو اسے دریاء میں ڈال دینا ۔ اور تو خوف اور رنج نہ کرنا ہم اس کو تمہارے پاس لوٹا دینگے اور پھر اسے پیغمبر بنادینگے ۔

      سورة القصص ۔ آیت 7

    قارئین کرام

    ایک روایت کے مطابق جناب موسیؑ کی والدہ ،  یوکابد نے ، اپنے بچے کو تین دن اور دوسری روآیت کے مطابق 3 ماہ دودھ پلایا لیکن فرعون کے اہلکاروں کی گھر گھر تلاشیوں کے خوف سے ،  باالآخر ننھے موسیؑ کو ایک ٹوکرے یا صندوق میں رکھ کر اللہ کی بتلائی ہوئی تدبیر کے عین مطابق دریائے نیل کے سپرد کردیا ۔ ٹوکرا دریاء میں بہانے کے ساتھ ہی اپنی بیٹی مریم ( موسیؑ کی بڑی بہن ) سے کہا کہ وہ اس ٹوکرے پر نظر رکھے ،  وہ کس سمت اور کہاں جاتا ہے ۔ چنانچہ مریم دریاء کے کنارے کنارے صندوق کے ساتھ  چلتی رہی تا آنکہ وہ فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا ۔ اتفاق کی بات اس وقت فرعون اور اس کی چہیتی ملکہ آسیہؑ ( سلام اللہ ) محل کی بالکونی میں بیٹھ کر دریاء کا نظارہ کررہے تھے ۔

    ملکہ نے صندوق کو دیکھ کر تجسس ( Suspense )  کا اظہار کرتے ہوئے اسے باہر نکالنے کا حکم دیا ۔ جب صندوق اس کے سامنے لاکر کھولا گیا تو اسے ،  یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ( Delightful Confusion ) ہوئی کہ ایک نہآیت خوبصورت ، ننھا منا بچہ منہ میں انگوٹھا لئے لیٹا ہوا ہے ۔

    Moses found
    Image by Gordon Johnson from Pixabay

    فرعون نے جب بچے کو دیکھا تو اسے نجومیوں کی بات یاد آگئی اور ارادہ کیا کہ اسے ماردیا جائے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا لھذا

    قرآن کے مطابق :

    اور فرعون کی بیوی ( آسیہؑ ) نے کہا ، یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا ۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔ اور وہ انجام سے بے خبر تھے ۔

    سورِة القصص آیت نمبر 9

    جب حضرت موسیؑ کو صندوق سے نکالا گیا تو وہ بھوک کی شدت سے بلبلاء رہے تھے ۔ آسیہؑ کے محل میں موجود خواتین نے بچے کو اپنا دودھ پلانے کی کوشش کی مگر پیغمبر خدا نے کسی بھی عورت کا دودھ پینے سے انکار کردیا اور مسلسل روتے رہے ۔

    القرآن :

    اور ہم نے پہلے ہی اس پر سب دائیوں کا دودھ حرام کردیا تھا ۔

    سورة القصص

    ادھر ان کی بہن مریم صندوق کا پیچھا کرتے کرتے محل کے دروازے تک پہنچ گئی ۔ جب اس نے یہ ماجرا دیکھا تو گویا ہوئی ،

    ” کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ نہ بتاوں کہ جس کی عورت کے دودھ کو یہ بچہ پسند کرے ۔ آسیہؑؑ سے  ننھے موسیؑ کا رونا دھونا دیکھا نہیں جارہا تھا ۔ اس نے مریم کی آفر فورا قبول کرلی اور اس عورت کو  بلانے کا کہا ۔ مریم گھر جاکر ماں کو ساتھ لے آئی اور حضرت موسیؑ نے ماں سے لپٹ کر دودھ پینا شروع کر دیا ۔ یہ منظردیکھ کر فرعون کے وزیر ہامان نے موسیؑ کی والدہ سے کہا ، یہ بچہ تمہارا ہی تو نہیں جس پر انہوں نے جواب دیا ، نہیں یہ بچہ میرا نہیں بلکہ میرے دودھ میں ایسی خوشبوء اور ذائقہ ہے کہ ہر بچہ اسے خوشی سے پی لیتا ہے ۔ یہ جواب سن کر وہ مطمئن ہوگیا ۔

     اس موقع پر انبیاء کی عصمت و پاکیزگی کے مظاھرے کو مت بھولئیے ۔ آپ نے دیکھا کہ ننھے موسیؑ نے پالنے  ( Cradle ) میں بھی مشرکین سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے کسی مشرکہ عورت کا دودھ پینے سے انکار کردیا ،  کیونکہ انہوں نے آگے چل کر شرک کے مقابلے میں توحید کا علم بلند کرنا تھا ۔  یہاں دو باتیں واضع ہوکر سامنے آتی ہیں اوّلاً یہ ، کہ نبی یا رسول ، کسی ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کی طرح ،  ٹریننگ کے بعد مقرر ( Appoint ) نہیں ہوتے بلکہ انہیں پیدا ہی اسی غرض سے کیا جاتا ہے . پیغمبری ان کی ساخت میں رکھ دی جاتی ہے لیکن اس کا اعلان وہ اپنے رب کے حکم سے وقت مقررہ پر کرتے ہیں ۔ تاہم نبوت کی صفات کا اظہار ان کے  بچپن ہی سے شروع ہوجاتا ہے ۔  جیسا کہ حضرت موسیؑ نے مشرک عورتوں کا دودھ پینے سے انکار کرکے کیا ۔ دوئم یہ کہ ان کی تربیت مومنین و مومنات کے ہاتھوں ہوتی ہے جس طرح حضرت موسیؑ کو دودھ تو اپنی والدہ یوکابد نے پلایا لیکن پرورش سیّدہ  آسیہؑؑ ( فرعون کی زوجہ ) نے کی ۔

    موسیؑ ع ابھی چھوٹے تھے کہ ایک دن سیّدہ  آسیہؑؑ نے انہیں فرعون کی گود میں بٹھادیا ۔ آپ نے کھیلتے کھیلتے فرعون کی داڑھی پکڑ لی اور بال نوچ ڈالے ۔ ایک اور روآیت میں ہے کہ اس کے منہ پر زوردار مکہ دے مارا ۔ اس پر فرعون نے غصے میں آکر آسیہؑ ؑسے کہا ، دیکھا ، میں نے نہیں کہا تھا کہ یہ بچہ خطرناک ہے ہمیں اس کو قتل کردینا چاہئیے ۔ آسیہؑ ؑنے فرعون کو تسلی دی اور کہا یہ بچہ ہے اسے اچھے برے کی کیا تمیز ۔ اگر تم امتحان لینا چاہو تو میں اپنی بات سچ ثابت کرسکتی ہوں چنانچہ اس نے ایک طشت ( Tray ) میں  ایک سمت یاقوت ( Ruby )  اور دوسری طرف دہکتے انگارے ( burning charcoal )  رکھ کر لانے کا حکم دیا ۔ یاد رہے یاقوت ایسا نگینہ ہے جس کی رنگت دہکتے انگارے جیسی ہوتی ہے ۔ جب خادمہ طشت لیکر آئی تو اسے موسیؑ کے سامنے رکھا گیا ۔ جناب موسیؑ نے یاقوت کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر فرشتے نے ان کا ہاتھ پکڑ کر انگارے کی طرف کردیا لھذا موسیؑ نے انگارہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا جس سے ان کی زبان جل گئی اور  زبان میں لکنت پیدا ہوگئی ۔    اس پر آسیہؑ نے فرعون سے کہا ، دیکھ لیا آپ نے ، بچہ ہے نادان ہے ورنہ انگارے کو منہ میں نہ ڈالتا ۔ اس بات پر فرعون کو یقین آگیا اور اس کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ۔

    یاد رکھئے  ،  آسیہؑؑ مومنہ تھی اور وہ جنت میں جائیگی کیونکہ نہ صرف اس نے حضرت موسیؑ کو قتل ہونے سے بچاکر خدائی مشن کو کامیاب بنایا بلکہ ایک نبی کی پرورش کرکے انہیں جوان کیا اور جب ان کے معجزات دیکھے تو ایمان لے آئی لیکن فرعون کے ڈر سے اسے مخفی رکھا ۔ وہ ہمیشہ حضرت موسیؑ کے مشن کی حمایتی اور مددگار رہی ۔ جب فرعون کو علم ہوا تو اس نے اسے منع کیا مگر وہ باز نہ آئی جس پر فرعون نے اسے ٹکٹکی پر باندھ کر ھاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیں اور چلچلاتی دھوپ میں رکھ دیا ۔ اس کرب سے گزرتے ہوئے سیّدہ  آسیہؑؑ نے رب سے دعاء کی :

    القرآن :

    اے میرے رب میرے لئے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش ۔

    سورة التحریم : آیت نمبر 12

    فرعون نے سیّدہ  آسیہؑ پر بے پناہ تشدد کیا تاکہ وہ موسیؑ کے دین کو چھوڑ دے مگر اس مومنہ نے سانس کی ڈوری تو چھوڑ دی لیکن فرعون کا کہا نہ مانا ۔ آپ کی قبر مصر میں ہے ۔

    حضرت موسیؑ جوانی کو پہنچے تو بہت خوبصورت اور وجیہہ ( Pretty ) تھے ۔ مصر کے لوگ انہیں شہزادہ ( Prince ) اور فرعون کا  لے پالک بیٹا ( adopted son )خیال کرتے تھے لیکن آپ کو تائید الہی سے اس بات کا علم تھا کہ وہ قبطی یا فرعون کے خاندان سے نہیں بلکہ اسرائیلی اور آل ابراھیم ؑمیں سے ہیں ۔ آپ اکثر فرعون اور اس کے حواریوں ( Associates ) کی طرف سے مصر میں رہنے والے اسرائیلیوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم ، تشدد اور ان کے ساتھ ہونیوالی سماجی نا انصافیوں ( Social Injustice ) کے خلاف آواز اٹھاتے ۔ایک دن جب لوگ سو رہے تھے آپ شہر کی گشت پر نکلے اور دیکھا کہ ایک قبطی اور اسرائیلی لڑ رہے ہیں ۔ اسرائیلی نے موسیؑ کو دیکھ کر مدد کے لئے پکارا ۔ موسیؑ پاس گئےاور  اپنے ہم قبیلہ اسرائیلی کو اس سے چھڑانے کی کوشش کی مگر قبطی مسلسل اسے مار رہا تھا ۔ موسیؑ نے غصے میں آکر اسے ایک ایسا مکہ ( Punch ) مارا کہ اس کی موت واقع ہوگئی ۔ آپ وہاں سے نکل لئے لیکن  دوسرے روز پھر دیکھا کہ وہی اسرائیلی ایک اور قبطی سے لڑ رہا ہے ۔ آپ نے کہا تم اچھے انسان نہیں ، ہر ایک سے لڑتے ہو ۔ جب آپ اس پر چلائے تو اسرائیلی سمجھا یہ مجھے مارنے کا ارادہ رکھتا ہے لھذا وہ بہ آواز بلند گویا ہوا ، موسیؑ تم نے کل ایک قبطی کو مار ڈالا تھا آج مجھے مارنا چاہتے ہو ۔ اس کی یہ بات قبطی نے فرعون تک پہنچا دی جو پہلے ہی اگلے روز ہونیوالے قتل کے مجرم کو تلاش کرنے کا حکم دے چکا تھا ۔ جب اسے علم ہوا کہ کل ہونیوالا قتل موسیؑ نے کیا تھا تو اس نے ان کی فوری گرفتاری اور قتل کا آرڈر جاری کردیا ۔ موسیؑ کو اس بات کا علم نہ تھا اور اس سے قبل کہ وہ گرفتار ہوجاتے فرعون کے ایک درباری حزقیل ( جسے بعد میں” مومن آل فرعون ” کہا گیا )  نے آکر حضرت موسیؑ کو خبر دی کہ آپ قتل کردئے جائینگے لھذا بہتر یہی ہے کہ بلا تاخیر شہر چھوڑ دیں ۔ چونکہ حزقیل فرعون کے مشیروں میں شامل تھا اس لئے اس کی بات کو صحیح مان کر حضرت موسیؑ شہر  سے نکل گئے لیکن ساتھ ہی اللہ سے معافی مانگی کہ میں نے قبطی کو قتل کی نیت سے مکہ نہیں مارا تھا اس لئے مجھے معاف کردیا جائے چنانچہ اللہ نے جو دلوں کے بھید جانتا ہے ، موسیؑ کو معاف کردیا ۔

    Moses did great things
    Image courtesy of outsetministry.org

    8 دن تک پا برہنہ ( barefoot ) بغیر کسی زاد راہ ، خوراک نہ پانی ، گھوڑا نہ گاڑی ، عرب کے دشوار گزار راستوں پر چلتے ہوئے ایک جگہ پہنچے جہاں لوگوں کی بھیڑ جمع تھی ۔ آپ نے دیکھا کہ ایک کنویں کے گرد چرواہے اپنے مال مویشیوں کو پانی پلانے کے لئے جمع ہیں ۔ مرد حضرات کنویں سے لوٹے کے ذریعے پانی نکال کر اپنے چوپائیوں کو پلارہے ہیں لیکن دو نوجوان لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہیں اور انہیں کوئی آگے نہیں بڑھنے دے رہا ۔ آپ نے ان کے قریب جاکر پوچھا ،

    بی بی کیا بات ہے ؟

    سب لوگ اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن آپ پیچھے ہٹ کر ایک طرف کھڑی ہیں ۔ اس پر ان لڑکیوں نے جواب دیا

    اے اجنبی ! ہمارا باپ بوڑھا ہے اس لئے ہمیں ہی مال مویشی کی دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور یہاں جب انہیں پانی پلانے آتی ہیں تو کوئی ہمارا خیال نہیں کرتا ۔ جبتک یہ سب لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاکر چلے نہ جائیں ، ہمیں انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ لوٹا اتنا بھاری ہے کہ ہم اسے کھینچ نہیں سکتیں لھذا چرواہوں سے بچا کھچا پانی اپنی بکریوں کو پلاکر چلی جاتی ہیں ۔ 

    موسیؑ اس وقت بھرپور جوان تھے یہ بات سن کر طیش میں آگئے ۔ لوگوں کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور کہا سب ہٹ جاؤ ان لڑکیوں کے جانوروں کو میں پانی پلاونگا ۔ آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ جوان لڑکیاں اتنی دیر سے کھڑی ہیں ۔ موسیؑ کی جوانی اور شیر جیسی دھاڑ سن کر لوگ ایک طرف تو ہوگئے لیکن ایک بھاری پتھر کنویں کے منہ پر رکھ کر آپس میں طے کرلیا کہ پانی کا لوٹا کھینچنے میں اس کی مدد نہیں کرنی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس کنویں سے پانی نکالنے کے لئے چمڑے کا بنا ہوا لوٹا اتنا بڑا تھا کہ اسے رسی کی مدد سے 4 لوگ بہ مشکل اوپر کھینچ سکتے تھے اس لئے ان چرواہوں نے خیال کیا کہ یہ نوجوان اکیلے نہ تو اتنا بھاری پتھر اٹھا سکے گا اور نہی لوٹا کھینچ سکے گا ۔لھذا اسے سبق سکھانے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا جائے لیکن وہ کم بخت یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا پالا اللہ کے نبی سے پڑا ہے جسے آگے چل کر معجزات دکھانے ہیں ۔

    قصہ مختصر حضرت موسیؑ نے اکیلے ہی وہ پتھر جسے 10 لوگ مل کر اٹھاتے تھے ، کنویں کے اوپر سے ہٹایا اور لوٹا کھینچ کر ان کی بکریوں کو پانی پلادیا ۔ لکھا ہے کہ معجزاتی طور پر  موسیؑ کے نکالے ہوئے ایک ہی لوٹے سے سب جانوروں نے سیر ہوکر پانی پی لیا ۔  لڑکیاں ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے جانور ہانک کر گھر چلی گئیں ۔ اس دن خلاف معمول جب وہ شام سے پہلے گھر پہنچیں تو بوڑھے باپ نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی ۔ لڑکیوں نے کہا ، والد بزرگوار ، آج ایک اجنبی نوجوان نے جانوروں کو پانی پلانے میں ہماری مدد کی اس لئے ہمیں کنویں پر انتظار نہیں کرنا پڑا اور ہم جلد گھر پہنچ گئیں ۔

    moses and jethro's daughters

    موسیؑ مصر سے مدائین تک کے طویل سفر میں  پیدل چلتے چلتے تھک کر چور ہوچکے تھے ۔ راستے میں جڑی بوٹیاں اور درختوں کے پتے کھانے سے پیٹ کمر سے جا لگا تھا ۔ اس بے بسی اور بے کسی کی حالت میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اللہ سے دعاء کی کہ اے میرے پروردگار میری مدد فرماء ۔

    تھوڑی ہی دیر میں دیکھا کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک ، لجاتی اور شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی اور کہا

    آپ نے ہماری مدد کی اس لئے ہمارے والد آپ کو اس کی اجرت دینا چاہتے ہیں ۔ آپ میرے ساتھ چلیں ۔ وہ آگے آگے چل دی اور موسیؑ اس کے پیچھے لیکن پیغمبر خدا کو یہ صورت اچھی نہ لگی اور لڑکی سے کہا میں آگے چلونگا اور تم پیچھے ۔ جس طرف مڑنا ہو اس طرف ایک کنکر پھینک دینا ۔ لڑکی کو اجنبی کی اس شرافت نے بہت متاثر کیا ۔ وہ گھر پہنچے تو لڑکی نے باپ سے موسیؑ کے بھاری پتھر اٹھانے اور اکیلے لوٹا نکالنے پر طاقت اور کردار میں شرافت کی تعریف کی ۔ والد نے بیٹیوں کو ان کی خاطر مدارت کا حکم دیا اور موسیؑ سے کہا کہ تمہاری ، جوانی ، حسن ، طاقت اور شرافت دیکھ کر میرا جی چاہتا ہے کہ اجرت کے بدلے  تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دیدوں ۔ موسیؑ نے ان کی بات کو قبول کیا اور طے پایا کہ حق مہر اداء کرنے کے لئے انہیں ( موسیؑ کو ) 8 سال تک ان کی بکریوں کی دیکھ بھال کرنی ہوگی ۔

    قارئین کرام

    جن لڑکیوں سے موسیؑ کی ملاقات کنویں پر ہوئی ، ان کے بوڑھے والد دراصل ( موسیؑ کے پیشرو پیغمبر )  حضرت شعیب علیہ السّلام تھے اور ان کی جس بیٹی سے حضرت موسیؑ کی شادی ہوئی اس کا نام صفورہ تھا ۔ ہماری مسلم سوسائیٹی میں بچیوں کا نام صفورہ رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک پیغممبر خدا حضرت شعیب علیہ  السّلام کی بیٹی اور موسیؑ کی بیوی کا بابرکت نام ہے ۔

    حضرت موسیؑ اپنی بیوی سیّدہ  صفورہ سلام اللہ کا حق مہر ادا کرنے کے لئے کم وبیش 10 برس تک مدائن میں اپنے سسر حضرت شعیب ؑ کی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے رہے ۔ یاد رہے یہ جگہ بحیرہ احمر ( Red Sea ) اور خلیج عقبہ کے کنارے پر ہے ۔

    حضرت شعیب ؑسے کئے گئے وعدے کے مطابق مدت پوری ہونے پر اپنے اہل و عیال اور بھیڑ بکریوں کو لیکر واپس مصر روانہ ہوگئے ۔ دن بھر چلنے کے بعد جب اندھیرا چھایا تو وادی ایمن کے قریب راستہ بھول گئے ۔ اندھیری رات تھی ، ایک جگہ رک گئے ۔ ابھی اسی سوچ میں گم تھے کہ صحیح راستے کا اندازہ کیسے ہو ،  دور ایک جھاڑی میں شعلے لپکتے نظر آئے ۔ سوچا وہاں سے آگ لے آؤں تاکہ روشنی ہو اور راستے کا پتا چل سکے لھذا اپنی بیوی سے کہا ،

    القرآن

    ” ٹھہر جاؤ میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں تمہارے پاس اس میں سے ایک شعلہ لے آوں یا اسی آگ پر رستہ پاؤں "

    سورة طہ آیت نمبر 10

    وہ آگ طویٰ کی مقدس وادی میں جل رہی تھی ۔ حیرت کی بات یہ کہ آگ بڑھ رہی ہے اور درخت مزید ہرا بھرا ہوتا چلا جارھا ہے ۔ موسیؑ قریب گئے اور شعلے کو پکڑنا چاہا تو شعلے ان سے لپٹ گئے ۔ عجیب صورت حال تھی آگ لپٹ گئی لیکن جلایا نہیں ۔ دراصل یہ آگ نہیں تجلی تھی ۔ آپ  ابھی اسی تذبذب اور خوف میں مبتلاء تھے کہ ماجرا کیا ہے ، وہاں سے پیچھے ہٹنا چاہا کہ اچانک آواز آئی ،

    میں تیرا رب ہوں سو تو اپنے جوتے اتار دے کیونکہ تو اس وقت طویٰ کی مقدس وادی میں کھڑا ہے اور میں نے تجھے نبوت کے لئے چن لیا ہے ۔ سو اسے سن جو وحی کی جاتی ہے

    سورة طه 12
    طور سیناء – وادی طوی
    CC BY-SA 3.0، ربط

    یہاں وادی ایمن میں آپ کو نبوت عطاء ہوئی ۔ اللہ نے اسلامی احکام کی تعلیم دی اور پوچھا موسیؑ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ۔ کہا ، لاٹھی ہے ، اس سے جانوروں کو ہانک لیتا ہوں ، درختوں سے پتے توڑ کر بھیڑ بکریوں کو کھلا تا ہوں ۔ تھک جاوں تو اس سے ٹیک لگا لیتا ہوں ۔ اللہ نے کہا اسے زمین پر پھینک ۔ زمین پر پھینکا تو وہ سانپ بن کر چلنے لگا ۔ موسیؑ خائف ہوئے ۔ آواز آئی خوف نہ کھاؤ ہم اسے دوبارہ لاٹھی بنا دینگے ۔ اسے پکڑ کر اٹھا لو ۔ جب اٹھایا تو وہ سانپ دوبارہ لاٹھی میں تبدیل ہوگیا ۔ یہ پہلا معحزہ تھا جو عطاء ہوا اور جو آگے چل کر فرعون کے دربار میں کام آنے والا تھا ۔ پھر آواز آئی ، اپنا ہاتھ بغل میں ڈالو ، جب موسیؑ نے ہاتھ بغل میں ڈال کر نکالا تو اس میں سورج اور چاند جیسی چمک تھی ۔ ویسے تو حضرت موسیؑ کو 9 معحزے عطاء ہوئے لیکن یہ دو ( 2 )  ، کوہ طور کے دامن میں واقع وادی ایمن میں دیے گئے  ۔ نبوت ملنے پر موسیؑ کو اپنی زبان میں لکنت یا توتلے پن کا خیال آیا جو فرعون کے محل میں انگارہ منہ میں ڈالنے سے پیدا ہوگئی تھی لھذا رب سے دعاء کی ،

    القرآن

    رب اشرح لی صدری ۔۔۔۔۔۔۔.  ترجمہ

    اے میرے رب میرے لئے میرا سینہ کشادہ کردے ۔ اور میرے کار رسالت میرے لئے آسان فرماء ۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات آسانی سے سمجھ سکیں ۔ اور میرے لئے گھر والوں میں سے میرا ایک وزیر بنادے

    سورة طہ آیت 25 – 29

    آواز آئی ، موسیؑ تیری دعاء قبول ہوئی ۔ اب تو مصر واپس جا اور فرعون کی سرکوبی کر ، کیونکہ اس نے گمراہی پھیلا رکھی ہے خود کو خدا کہتا ہے ۔ چنانچہ حضرت موسیؑ مع اہل و عیال مصر پہنچے ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ چونکہ موسیؑ نے وادی ایمن میں جو دعاء مانگی تھی اس میں اپنے گھر والوں میں سے کسی کو اس کا وزیر یا مددگار بنانے کی استدعاء بھی شامل تھی لھذا آپ کے مصر پہنچنے سے قبل آپ کے بھائی حضرت ہارونؑ کو نبوت عطاء ہوچکی تھی ۔ جب آپ 10 سال کے عرصے کے بعد اپنے علاقے میں وارد ہوئے تو جناب ہارونؑ نے استقبال کیا اور گھر لیکر گئے ۔

    ایک یا دو دن اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ گزارنے کے بعد دونوں بھائی فرعون کے دربار میں گئے اور اسے اسلام کی دعوت دی ۔ فرعون نے آپ کو پہچان کر کہا ، کیا تو وہی موسیؑ نہیں جو میرے گھر میں پل کر جوان ہوا ۔ جواب دیا ، ہاں میں وہی ہوں اور تمہیں توحید کی دعوت دینے آیا ہوں ۔ فرعون نے پوچھا ، تم کس خدا کی بات کرتے ہو ، کہا ، وہی جو تمہارا ، تمہارے باپ دادا کا رب تھا اور جو زمینوں ، آسمانوں اور اس میں جو کچھ ہے ، اس سب کا مالک و خالق ہے ۔ فرعون نے کہا ، موسیؑ تم وہی نہیں ہو جس نے ایک قبطی کو قتل کردیا تھا ۔ کہا ، ہاں میں وہی ہوں ۔ مجھ سے غلطی ہوگئی لیکن میں نے اسے قتل کرنے کی نیت سے نہیں مارا اور پھر اللہ سے معافی مانگی اور اس نے مجھے معاف کردیا ۔ میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا تھا مگر اسی عرصے میں اللہ نے مجھے حکمت و دانائی بخشی اور رسالت عطاء کی ۔ میں تمہیں اپنے سچے خدا کی طرف بلاتا ہوں اور تم سے مطالبہ کرتا ہوں کہ میری قوم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ واپس فلسطین جانے دو ۔فرعون نے موسیؑ کی باتیں سن کر اپنے درباریوں سے کہا ، دیکھو یہ شخص تمہیں گمراہ کرنے آیا ہے ۔ یہ تم سے سب کچھ چھین لینا چاہتا ہے ۔

    اپنے درباریوں اور حواریوں سے مشورے کے بعد ، فرعون نے موسیؑ سے کہا اگر تم سچے ہو تو اپنی سچائی کا ثبوت دو ۔ اس پر موسیؑ نے اپنا عصاء زمین پر پھینکا جو اژدھا بن گیا ۔ پھر اپنا ہاتھ بغل میں ڈال کر نکالا تو اس سے سورج اور چاند جیسی روشنی نکلنے لگی ۔ یہ سب دیکھ کر فرعون نے کہا ، یہ تو کوئی بہت بڑا جادوگر ہے ۔ یہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال دینا چاہتا ہے ۔ درباریوں نے فرعون کی باتیں سن کر کہا ، ان کو مہلت دی جائے اور آپ بھی پورے مصر سے جادوگر جمع کریں تاکہ اس سے مقابلہ کیا جائے ۔ چنانچہ فرعون نے حضرت موسیؑ سے کہا ، ہم بھی تمہارے مقابل جادوگر لائینگے ۔ تم ایک دن مقرر کرلو ۔ دن مقرر ہوا اور ہزاروں لوگ علی الصبح فرعون کے دربار کے قریب میدان میں جمع ہوگئے ۔ ایک طرف فرعون کے حواری اور درباری خوش گپیوں میں مصروف تھے تو دوسری طرف حضرت موسیؑ اور ان کے بھائی ہارون ، اللہ سے دعاء گو کہ انہیں فتح و نصرت نصیب ہو ۔ جب فرعون تخت پر بیٹھ گیا تو اس نے جادو گروں کو حکم دیا کہ مقابلہ شروع کریں ۔ جادوگروں نے موسیؑ سے پوچھا کہ تم پہلے اپنا کمال دکھاوگے یا ہم دکھائیں ۔ موسیؑ نے کہا تم پہلے اپنا جادو دکھاو ۔ یہ جواب پاکر جادوگروں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی رسیاں جب زمین پر ڈالیں تو وہ سانپوں کی طرح دوڑتی نظر آنے لگیں ۔ یہ دیکھ کر موسیؑ پریشان ہوگئے لیکن وحی آئی ، اے موسیؑ پریشان نہ ہو ۔ اپنا عصاء زمین پر پھینکو فتح تمہاری ہوگی ۔ حضرت موسیؑ نے اللہ کے حکم سے جب عصاء زمین پر پھینکا تو اس نے ایک بہت بڑے اژدھے کی شکل اختیار کرکے  جادوگروں کے بنائے تمام سانپوں کو نگل لیا ۔ یہ دیکھ کر جادوگر سمجھ گئے کہ موسیؑ جادوگر نہیں بلکہ اللہ کا سچا نبی ہے لھذا وہ ان پر ایمان لے آئے ۔

    فرعون کو یہ بات ناگوار گزری ۔ اس نے جادوگروں کو سولی پر لٹکانے کا حکم دیا کیونکہ وہ اس کی خدائی کا انکار کرکے موسیؑ کے خدا پہ ایمان لے آئے تھے ۔ اس نے جادوگروں کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے اور کہا کہ موسیؑ سچا ہے اور ہم اس کے سچے خدا کے لئے سولی پر چڑھنے کے لئے تیار ہیں لھذا انہیں مار دیا گیا ۔

    اس واقعے کے بعد تقریبا 20 سال تک حضرت موسیؑ مصر میں مقیم رہ کر فرعون اور اس کی قوم کو دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے مگر وہ نہ مانے ۔ اللہ کی اس نافرمانی کی پاداش میں ان پر متعدد عذاب نازل ہوئے ۔ ہر عذاب پر وہ موسیؑ کے پاس آتے اور عذاب ٹالنے کے لئے اللہ سے دعاء کی اپیل کرتے مگر عذاب ٹل جانے کے بعد دوبارہ نافرمانی شروع کردیتے ۔ اس عرصے میں آل فرعون پر 5 قسم کے عذاب نازل ہوئے ۔

    1. ٹڈی دل کا عذاب

    Jahvè disse a Mosè

    2. پانی کا عذاب / طوفان

    water

    3. خون کا عذاب

    blood

    4. مینڈکوں کا عذاب

    frogs

    5. کیڑے مکوڑے /جوؤں کا عذاب

    ہر عذاب سات دن تک جاری رہتا اور پھر حالات اصلی صورت میں واپس آجاتے ۔

    اس دوران فرعون کی سرکشی اور بنی اسرائیل پر اس کے ظلم و ستم جاری رہے ۔ بالآخر اللہ نے وحی کے ذریعے حضرت موسیؑ کو حکم دیا کہ اپنی قوم کو لیکر مصر سے نکل جاو ۔ چنانچہ آپ رات کے پہلے پہر بنی اسرائیل کے تقریبا ساڑھے چھ لاکھ مردوں ، عورتوں اور بچوں کو ساتھ لیکر بحیرہ قلزم ( Red Sea ) کی طرف نکل پڑے ۔ قوم بنی اسرائیل پریشان تھی کہ موسیؑ ہمیں کہاں لیکر جارہا ہے ۔ پیچھے فرعون اور آگے ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیکن موسیؑ نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ میرا رب میرے ساتھ ہے آپ پریشان نہ ہوں ۔ ادھر فرعون کو صبح کے وقت موسیؑ اور اس کی قوم کے نکل جانے کی خبر ملی تو وہ بھی ایک بھاری فوج لیکر ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔

    map Moses cross red sea
    موسیؑ کے مصر سے خروج اور سمندر میں رستہ بننے کا نقشہ

    جب موسیؑ اور ان کی قوم بحیرہ احمر / قلزم پر پہنچے تو وحی ہوئی ، اے موسیؑ اپنا عصا پانی پر مار ۔ حضرت موسیؑ نے جب عصا پانی پر مارا تو اس میں خشکی کے 12 راستے پیدا ہوگئے لھذا بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے ایک ایک راستہ اختیار کرکے دوسرے کنارے پر پہنچ گئے ۔ اسی اثناء میں فرعون بھی اپنے لشکر کے ہمراہ وہاں آن پہنچا ۔ اس نے اپنی فوج کو موسیؑ اور بنی اسرائیل کا پیچھا جاری رکھنے کا حکم دیا  چنانچہ فرعون کے لشکر نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جس پر چل کر حضرت موسیؑ بحیرہ قلزم سے پار ہوئے لیکن جب وہ عین وسط میں پہنچے تو پانی دوبارہ آپس میں مل گیا اور آل فرعون وہاں غرق ہوگئے ۔

    موسیؑ علیہ السّلام کی کہانی
    فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی

    موسیؑ اور اور ان کی قوم بنی اسرائیل کے وہاں سے چلے جانے کے بعد سمندر نے فرعون کی لاش کو باہر پھینک دیا جو ابتک مصر کے عجائب گھر میں نظارہ عبرت ہے ۔

    mummy
    فرعون کی لاش

    یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلی جائے کہ بعض مورخین کے نزدیک جس فرعون کے گھر حضرت موسیؑ نے پرورش پائی اس کا نام رعمیس دوم تھا لیکن جس فرعون کو دعوت اسلام دینے گئے وہ رعمیس دوم کا بیٹا منفتاح تھا ۔ اللہ یعلم باالصواب۔

    یہ بات اس لئے گڈ مڈ ہوجاتی ہے چونکہ اس وقت کے ہر مصری حکمران کو فرعون کہا جاتا تھا ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے میرا مضمون

    فرعون کی کہانی ” ۔

    نوٹ : یہ موسیؑ کی کہانی کا پہلا حصہ ہے )

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست اعلی آئی اٹک ای میگزین

  • بنی اسرائیل کی کہانی

    بنی اسرائیل کی کہانی

    ( عالم اسلام بالخصوص پاکستان میں ریاست اسرائیل اور یہودیوں کو انتہائی بری نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ان سے تعلق اور دوستی گناہ کبیرہ خیال کئے جاتے ہیں ۔ زیر نظر مضمون میں اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جائیگی کہ اصل حقائق کیا ہیں )

    تحقیق و تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    حضرت اسحاق بن ابراھیم علیہ السلام  کے دو بیٹے تھے ۔ محیص اور یعقوب ۔ باپ بڑے بیٹے محیص اور ماں چھوٹے یعنی یعقوب علیہ السلام سے.  زیادہ محبت کرتی تھی ۔ ایک دن باپ نے بڑے بیٹے سے فرمائش کی کہ انہیں شکار کا گوشت کھلایا جائے ۔ یہ سن کر محیص شکار کی غرض سے جنگل کی طرف چل دیا جبکہ ماں نے یعقوب سے کہا تم جلدی سے بکری ذبح کرکے باپ کو گوشت پیش کرو اور دعائیں لے لو ۔  جب بڑا بیٹا شکار کرکے واپس آیا تو یہ دیکھ کر سخت پریشان اور رنجیدہ ہوا کہ یعقوب ؑنے اس کے آنے سے پہلے ہی والد کو گوشت کھلا دیا ۔ اس بات پر اس کے دل میں بھائی کے خلاف دشمنی پیدا ہوگئی ۔ صورت حال کو بھانپتے ہوئے ماں نے یعقوب کو مشورہ دیا کہ وہ بھائی کے غیض و غضب سے بچنے کے لئے گھر چھوڑ کر اپنے مانموں کے پاس عراق کے شھر حران چلا جائے ۔ چونکہ اس مشورے میں والد کی رائے بھی شامل تھی لھذا یعقوبؑ رات کے پہلے پہر ہی گھر سے نکل گئے ۔ وہ رات اور اگلا دن سفر میں گزارنے کے بعد اگلی رات ایک آبادی کے قریب  کھلی جگہ میں پتھر کو تکیہ بناکر سو گئے ۔ آنکھ لگی تو خواب دیکھا کہ زمین سے آسمان تک ایک سیڑھی لگی ہوئی ہے جس کے ذریعے فرشتے اوپر نیچے آ جا رہے ہیں ۔ اسی اثناء میں اللہ نے آپ سے مخاطب ہوکر کہا ،

    ” میں تجھکو عنقریب برکت دونگا اور تیری اولاد کو کثیر کردونگا ۔ یہ زمین تیرے لئے کردونگا اور تیرے بعد تیری اولاد کے لئے "

    beige painted museum
    Photo by Haley Black on Pexels.com

    کہانی بہت طویل اور دلچسپ ہے لھذا یہ جملے یاد رکھئے جو اللہ نے کہے کہ یہ زمین تیرے اور تیری اولاد کے لئے کردونگا ۔ اسی وعدے اور بات کو لیکر بنی اسرائیل ( یہود ) آج تک دعوی کرتے ہیں کہ یہ زمین (فلسطین ) تو خدا نے ہمارے نام کردی ہوئی ہے ۔ اللہ کی طرف سے ھبہ ( Gift ) ہے ، لھذا کوئی دوسری قوم ( فلسطینی مسلمان ) کس طرح اس پر اپنا حق جتا سکتی ہے ۔

    حضرت یعقوبؑ جب خواب سے بیدار ہوئے تو بہت خوش تھے ۔ اللہ کا شکر ادا کیا اور منت مانی کہ , جب  بھی میں ، سلامتی کے ساتھ  اپنے والدین کے پاس واپس پہنچا تو اس جگہ ،  جہاں سپنا دیکھا تھا ، اللہ کی عبادت کے لئے ایک گھر تعمیر کرونگا اور اپنے مال کا دسواں حصہ راہ للہ خیرات کردونگا ۔ چنانچہ اس جگہ کوچھوڑنے سے پہلے آپ نے اس پتھر پر ( جسے تکیہ بنا کر سوئے تھے ) تیل مل دیا تاکہ واپس آکر پہچاننے میں آسانی ہو ۔

    قصہ کوتاہ حضرت یعقوبؑ اپنے مانموں ” لابان ” کے پاس حران شھر پہنچے ۔ مانموں بھانجے کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔ سینے سے لگایا اور خوب خاطر تواضع کی ۔ لابان کی دو بیٹیاں تھیں ۔ بڑی کا نام "لیا” ( Liya)

     اور چھوٹی کا راحیل ( Raheel ) تھا ۔

    چونکہ چھوٹی بہت ہی حسین و جمیل تھی لھذا یعقوبؑ نے مانموں سے اس کا رشتہ  مانگا ۔ جس پر لابان  نے کہا ، تم 6 سال تک میری بکریاں چراو تو میں تمہاری شادی راحیل سے کردونگا ۔ اس وعدے پر یعقوبؑ 6 سال تک مانموں کی بکریاں چراتے رہے ۔ جب مدت مکمل ہوئی تو لابان نے عزیز و اقارب اور دوستوں کو جمع کرکے یعقوبؑ کا نکاح اپنی بیٹی سے کردیا ۔ سہاگ رات جب یعقوبؑ اپنی دلہن کے پاس گئے تو پتا چلا کہ نکاح راحیل سے نہیں بلکہ بڑی بیٹی  لیا سے کردیا گیا ہے ۔ صبح ہوئی تو مانموں سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ مانموں نے جواب دیا ، ہمارے رواج کے مطابق بڑی بیٹی کے ہوتے ہوئے چھوٹی بیٹی کی شادی نہیں ہوسکتی ۔ لیکن میں نے تو چھوٹی کا ہاتھ مانگا تھا ، یعقوبؑ نے جواب دیا ۔ اس پر لابان نے کہا اگر تمہیں اس سے شادی کرنی ہے تو مزید سات سال میری بکریوں کی دیکھ بھال کرنی ہوگی ۔ یہ سن کر یعقوبؑ نے مزید سات سال مانموں کی بکریاں چرانے کی حامی بھر لی اور جب سات سال مکمل ہوئے تو لابان نے راحیل کی شادی بھی یعقوبؑ سے کردی ۔ ( یاد رہے اس وقت دو بہنوں سے ایک مرد کی شادی ممنوع نہ تھی اور یہ بھی نوٹ کرلیں کہ ہمارے ہاں جو بڑی بیٹیوں کو پہلے بیاہنے کا رواج ہے یہ نیا اور معیوب نہیں بلکہ انبیاء کے دور سے چلا آرہا ہے )

    dome of the rock jerusalem
    Photo by BECCA SIEGEL on Pexels.com

    حضرت یعقوبؑ نے راحیل سے شادی کے بعد کچھ وقت مانموں کے پاس گزارا اور پھر مع اھل و عیال اپنے وطن کنعان ( موجودہ فلسطین ) واپس جانے کی اجازت چاہی ۔ یہ سن کر لابان بہت غمگین ہوا کیونکہ اس کی دو بیٹیاں،  بچے اور بھانجا جس نے بیس سال اس کے پاس گزارے ، اب  بچھڑ رہے تھے  ۔ اس نے یعقوبؑ کو مزید رکنے کے لئے کہا مگر انہیں اللہ کی طرف سے حکم تھا کہ اب واپس اپنے وطن کنعان ( یاد رہے فلسطین کا پرانا نام کنعان تھا ) جاکر , دین اسلام کی تبلیغ کریں لھذا وہ مانموں سے اجازت لیکر واپسی کے سفر پر روانہ ہوگئے ۔ بھانجے کو رخصت کرتے ہوئے لابان  نے اپنی بیٹیوں کو جہیز کے طور پر بہت ساری بھیڑ بکریاں اور سامان خورد نوش ساتھ دیا ۔

    حضرت یعقوبؑ نے سفر کرتے ہوئے کنعان کے نزدیک پہنچ کر ، ایک ایسی جگہ پڑاو ڈالا جہاں قریب ہی ان کا بھائی محیص رہتا تھا لیکن یعقوبؑ کو اس بات کا علم نہ تھا ۔ گاؤں کے لوگوں نے محیص کو خبر دی کہ ایک قافلہ ، خواتین ، بچوں اور بھیڑ بکریوں کے ساتھ حران سے کنعان جارہا ہے اور قافلہ سالار کا نام یعقوبؑ ہے ۔ یہ سن کر پہلے تو محیص پریشان اور متعجب ہوا کہ یہ کون لوگ ہیں جو اتنا مال اسباب لیکر یہاں سے گزر رہے ہیں لیکن پھر جلد ہی 20 سال پرانی کہانی یاد آگئی کہ ہو نہ ہو یہ میرا بھائی یعقوبؑ ہے لھذا وہ 400 بھیڑ بکریاں اور کچھ ساتھیوں کو لیکر اس کی طرف چل پڑا ۔ جب یعقوبؑ کو یہ خبر ملی تو بہت غمگین ہوئے  کہ جس بھائی کی وجہ سے مجھے وطن چھوڑنا پڑا ، اگر وہی آرہا ہے تو مجھے پریشان کرے گا مگر عین اسی وقت آسمان سے فرشتے نے آ کر کہا ،  غمگین نہ ہوں اور بھائی کا استقبال کریں ۔ یہ سن کر ان کی ڈھارس بندھی ، اپنے ریوڑ سے کچھ جانور بطور تحفہ لئے اور آگے بڑھ کر بھائی کا استقبال کیا ۔ محیص نے جب اتنی مدت کے بعد بھائی کو دیکھا تو غصہ جاتا رہا ۔ پاس آکر یعقوبؑ کو سینے سے لگالیا اور ساتھ لیجاکر خوب خاطر تواضع کی ۔ حضرت یعقوبؑ چند روز بھائی کہ میزبانی میں گزار کر جب آگے بڑھے تو 20 سال پرانے راستوں کو تلاش کرتے ہوئے  یروشلم کے قریب اس مقام تک  پہنچ گئے جہاں انہوں نے بیس سال قبل پتھر کے تکیئے پر سر رکھ کر رات گزاری تھی ۔ انہیں اپنی منت یاد آگئی لھذا  بیٹوں کو ساتھ لیکر اس پتھر کو تلاش کرنا شروع کیا جس پر تیل مل کر گئے تھے ۔ اگرچہ بہت عرصہ گزر چکا تھا لیکن اللہ کی مدد و تائید حاصل تھی اس لئے جلد ہی وہ پتھر تلاش کرلیا اور اپنی مانی ہوئی منت کے مطابق بیٹوں کے ساتھ مل کر وہاں اللہ کا گھر تعمیر کیا ، جسے آج ہم  "بیت المقدس ” کے نام سے جانتے ہیں ۔

     یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ حضرت یعقوب کے بعد داود علیہ السلام  نے اس عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کیا اور پھر ان کے بیٹے جناب سلیمان علیہ السلام نے جنات کی مدد سے یہاں ایک عمارت تعمیر کی جسے یہودی ہیکل سلیمانی کے نام سے پکارتے ہیں ۔ یہ عمارت رومیوں اور بابلیوں کے حملوں میں تباہ ہوگئی مگر اس کی ایک دیوار باقی ہے جسے دیوار گریہ کہاجاتا ہے ۔ آپ نے تصویروں میں  یہودیوں کو اکثر اس دیوار کے ساتھ کھڑے ہوکر تورات پڑھتے دیکھا ہوگا ۔ یہودیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دور اقتدار میں عین اس جگہ پر مسجد اقصی تعمیر کی کہ جہاں کبھی ہیکل سلیمانی موجود تھا اس لئے ہمیں جب بھی موقع ملا مسجد اقصی کو گراکر دوبارہ گریٹ ہیکل تعمیر کرینگے ۔

    یاد رہے ، حضرت یعقوب کی 2 بیویاں اور 2 باندیاں تھیں ۔  لیا (Liya )اور راحیل ( Raheel ) دو سگی بہنیں اور مانموں کی بیٹیاں جن سے شادی کرکے آپ عراق سے یروشلم واپس جارہے تھے ۔ باندیوں میں  ذلفہ ( Zulfa ) اور بلہا ( Balha )  ۔ ان سب کے بطن سے پیدا ہونیوالی اولاد اور جس نمبر پر ان بچوں کی پیدائیش ہوئی ، اس کی تفصیل کچھ اسطرح ہے :

    الف . پہلی بیوی  لیا  Liya

    1. رئبون Reuben    ( بیٹا )

    2۔  شمعون   Simeon    "

    3۔  لاوی  Levi. . . . . . . "

    4. یہودہ  Judah . . . . .”

    9. لسیا کار Issachar….”

    10. ذبولون Zebulunn  "

    11. دینا  Dinah………  بیٹی

    ب : دوسری بیوی راحیل ( Raheel)

    12. یوسف Joseph .. بیٹا

    13. بن یامین Benjamin ۔۔ بیٹا

    ج :  ذلفا ( Zulfa ) باندی

    7. جاد  jad …. بیٹا

    8۔  آشر  Ashir .. بیٹا

    د :  بلہا ( Balha ) باندی

    5. دان  Dan … بیٹا

    6۔  نفتالی  Naphtali … بیٹا

    کل 12 بیٹے اور ایک بیٹی دینا ہوئی  ۔ ان ہی بارہ بیٹوں سے آگے چل کر بنی اسرائیل کے 12 قبیلے وجود میں آئے ۔ بنی اسرائیل سے مراد ، اسرائیل کی اولاد کیونکہ حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا جس کا مطلب ہے ،  اللہ کا بندہ لیکن حضرت یعقوب کے ایک بیٹے یہوداہ کے نام کی مناسبت سے انہیں یہودی بھی کہا جاتا ہے ۔

    اس قصے کی ابتداء ، دراصل حضرت ابراھیم علیہ سے ہوتی ہے ، اور وہ اس لئے ،  کہ   حضرت یعقوب ، اسحاق علیہ  السلام  کے بیٹے اور ابراھیم علیہ السلام کے پوتے ہیں ۔ اس طرح اصلا یہ آل ابراھیم ہیں اور ہم مسلمان ،  ہر نماز میں آل ابراھیم علیہ  السلام پر درود بھیجتے ہیں ۔ لیکن میں نے اسے قصدا حضرت یعقوبؑ سے شروع کیا کیونکہ ان کے والد ، حضرت اسحاقؑ کے جنکشن سے ، آل ابراھیم ، دو حصوں ، بنی اسرائیل اور بنی اسماعیلؑ میں بٹ جاتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں مولوی ملا یہودیوں کو برا بھلا تو کہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ یہ ہیں کون اور بنی اسماعیل سے ان کا کیا رشتہ ہے ۔

    یہ تو آپ جانتے ہونگے کہ حضرت ابراھیم کی دو بیویاں تھیں ۔ پہلی بیوی بی بی سارہ سے اولاد نہ ہونے پر آپ نے فرعون مصر کی بیٹی سیدہ حاجرہ سے دوسری شادی کرلی ، جن کے بطن سے ،  اللہ نے آپ کو حضرت اسماعیل کی شکل میں فرزند عطاء کیا ۔ اگرچہ یہ اللہ کا حکم اور ارادہ تھا لیکن بعض مورخ لکھتے ہیں کہ جب دوسری بیوی حاجرہ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا  تو دو خواتین کے درمیان چپقلش شروع ہوگئی لھذا حضرت ابراھیم ، بی بی حاجرہ اور نومولود اسماعیل  کو یروشلم سے کوسوں دور وادی مکہ میں صفاء اور مروہ کے مقام پر چھوڑ آئے اور یہی جگہ آج ہمارے حج کا ایک اہم رکن ہے ۔ یعنی اگر آپ بی بی حاجرہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ، صفاء اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان 7 چکر نہ لگائیں تو حج اور عمرہ مکمل نہیں ہوتا ۔

    بی بی حاجرہ اور حضرت اسماعیل کے مکہ چلے جانے کے بعد اللہ نے

    بی بی سارہ کو بھی بیٹا عطاء کردیا ،  جس کا نام اسحاق رکھا گیا اور اسی اسحاقؑ کے بیٹے یعقوبؑ کی نسل کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اسحاقؑ اور اسماعیلؑ دو بھائی تھے ۔ چھوٹے بھائی ( اسحاق ؑ)کی نسل ، جو فلسطین میں پھلی پھولی ، بنی اسرائیل کہلائی جس میں  سے دانیالؑ ، یوسفؑ ،  ایوبؑ ، داود ، ایلیا ؑ، سلیمان ؑ، موسیؑ اور عیسی ؑجیسے عالی مرتبت انبیاء نے جنم لیا  جبکہ بڑے بیٹے  ( اسماعیلؑ ) کی اولاد ، سرزمین حجاذ ، موجودہ سعودی عرب کی وادی مکہ میں  آل اسماعیل کے نام سے آگے بڑھی ۔ اس طرح رشتے کے لحاظ سے بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل فرسٹ کزن یا سگے چچا زاد بھائی ہیں اور  اسی بنی اسماعیل کے ایک قبیلے قریش کی شاخ ، بنی ھاشم میں ، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ  کا جنم ہوا ۔

    اب ہم اس مقام پر آن پہنچے ہیں جہاں آپ کو یہ بات بتانی ہے  کہ ( عربوں ) مسلمانوں اور یہودیوں میں جھگڑے کی اصل وجہ کیا ہے ۔ ذرا سا پیچھے جاکر یاد کریں جب حضرت یعقوب ؑنے مانموں کے گھر جاتے ہوئے راستے میں پتھر پر سر رکھ کر رات گزاری اور وہ سپنا دیکھا جس میں اللہ نے انہیں بشارت دی کہ ،

    ” کہ میں تجھے برکت دونگا ، تیری اولاد کو کثیر کردونگا ( بڑھا دونگا )

    اور یہ زمین تیرے لئے کردونگا اور تیرے بعد تیری اولاد کے لئے "

    اس خدائی وعدے کو لیکر یہودی یا بنی اسرائیل یہ دعوی لئے گھوم رہے ہیں کہ اللہ نے تو ہمارے دادا یعقوب بن اسحاق سے برکت کا عہد کیا تھا لھذا بنی اسرائیل سے باہر بالخصوص بنی اسماعیل سے کیسے کوئی نبی آ سکتا ہے  اور یہ زمین ( فلسطین ) تو اس وقت سے ہمارے نام ھبہ ( Gift ) کردی گئی تھی لھذا ہم بنی اسماعیل کے نبی ( حضرت محمد ص ) کو مانتے ہیں اور نہ ہی ارض فلسطین کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ یہ ہمارے دادا یعقوب کو اللہ نے خود عطاء کی ہے ۔

    آپ کی آگاہی کے لئے یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ، بنی اسرائیل ، والدہ اسماعیل علیہ السلام  , بی بی حاجرہ کو لونڈی ( House Maid ) کا درجہ دیتے ہیں ۔ اسرائیلی لٹریچر کے مطابق فرعون مصر نے ان کے پردادا حضرت ابراھیم علیہ کو لونڈی عطاء کی تھی اور لونڈی کبھی مالکن ( سارہ ، والدہ اسحاق علیہ  السلام) کی ہم مرتبہ نہیں ہوسکتی ۔ ان کا  اپنی کتابوں میں یہ بات لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اسماعیل علیہ السلام  کو لونڈی کا بیٹا ظاہر کر کے ، اپنے دادا حضرت اسحاق علیہ السلام  سے کم تر ثابت کیا جائے ۔

    دراصل ہوا یوں کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام  ،

    تبلیغ اسلام کی وجہ سے ، عراق کے بادشاہ نمرود کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے اور  تنگ ہوکر ، جب  اپنا آبائی وطن ,  وادی بابل( Masopotimia )

    چھوڑنے پرمجبور ہوئے تو اپنی اہلیہ بی بی سارہ کو لیکر فلسطین کی طرف نکل پڑے ۔ راستے میں مصر کا ملک آتا تھا ،  وھاں پہنچے تو بادشاہ مصر ،  فرعون کو اس کے کارندوں نے خبر کردی کہ ابراھیم نام کا ایک مسافر آیا ہے جس کے ساتھ اس کی انتہائی حسین و جمیل بیوی بھی ہے ۔ فرعون کا معمول تھا کہ اگر کسی باھر سے آنیوالے شخص کی بیوی خوبصورت ہو تو وہ اسے اپنے پاس رکھ لیتا تھا لھذا اس نے حکم دیا کہ اس عورت کو میرے سامنے پیش کیا جائے ۔ جب حضرت ابراھیم علیہ السلام  کے پاس فرعون کے کارندے اس غرض سے آئے کہ اپنی بیوی سارہ کو بادشاہ کے پاس بھیجو ،  تو انہوں نے اللہ سے دعاء کی کہ اے رب ، جس طرح تونے مجھے نمرود کی آگ سے بحفاظت نکالا اسی طرح اس بادشاہ کی بری نیت سے میری پاکباز بیوی سارہ کو محفوظ رکھنا ۔ چونکہ آپ مسافر اور اکیلے تھے لھذا بے بسی کی حالت میں بی بی سارہ کو فرعون کے دربار میں روانہ کردیا ۔ جب  پیغمبر خدا کی بیوی فرعون کے سامنے گئیں تو وہ ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر دیوانہ ہوگیا اور خراب نیت سے ان کی طرف بڑھنے لگا ۔ یہ دیکھ کر بی بی سارہ نے نماز پڑھنی شروع کردی اور اللہ سے دعاء کی کہ اے مالک میں نے اپنے خاوند کے سواء کسی کو نہیں دیکھا ، مجھے فرعون کے غلط ارادے سے محفوظ رکھنا ۔ جب نمازسے فارغ ہوئیں تو فرعون نے پھر ہاتھ بڑھایا لیکن اس دوران اسے عذاب الہی نے آن لیا ۔ وہ بے ہوش ہوکر گرپڑا ، مورخین لکھتے ہیں ، اس کے منہ سے جھاگ  نکلنے لگی اور قریب تھا کہ وہ مرجاتا ۔ یہ دیکھ کر بی بی سارہ پریشان ہوگئیں کہ اگر یہ مرگیا تو بادشاہ کے قتل کا الزام مجھ پہ عائد ہوگا ۔ انہوں نے پھر اللہ سے دعاء کی کہ اسے ٹھیک کردے ۔ جب وہ ٹھیک ہوگیا تو اس نے دوبارہ وہی حرکت کی اور بی بی سارہ کو دوبارہ دعاء کرنا پڑی ۔ جب دو دفعہ عذاب سے گزرا تو اسے یقین ہوگیا کہ یہ عورت انسان نہیں بلکہ جنات میں سے ہے ۔ اس نے اپنے کارندوں سے کہا ، تم تو کسی جن کو میرے پاس لے آئے ہو ۔ اسے واپس اس کے خاوند کے پاس لےجاو ۔ وہ سارہ سلام اللہ کی شخصیت اور کرشمات سے اسقدر متاثر ہوا کہ جاتے ہوئے اس نے اپنی بیٹی حاجرہ انہیں تحفے میں دیدی جسے بی بی سارہ نے حضرت ابراھیم کی خدمت میں پیش کیا اور انہوں  نے اس سے نکاح کرلیا کیونکہ تب تک ان کی کوئی اولاد نہ تھی اور اسطرح ،  بی بی حاجرہ کے بطن سے اللہ نے حضرت ابراھیم کو پہلا بیٹا عطاء کیا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا ۔

    بنی اسرائیل نے فرعون کی بیٹی حاجرہ کو ، قصدا کنیز لکھا ( بحوالہ بائبل )  تاکہ اس کی اولاد یعنی بنی اسماعیل کا مرتبہ کمتر کیا جاسکے ۔

    قارئین کرام !

    یہ ہے وجہء نزاع عربوں ( مسلمانوں ) اور یہودیوں کے بیچ ۔ کہ وہ حضرت اسحاق کے علاوہ کسی کو اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی بنی اسرائیل سے باھر کسی کو نبی تسلیم کرتے ہیں ۔ یہودی اس بات پر بھی اصرار کرتے ہیں کہ حضرت ابراھیم نے اللہ کے حکم سے جس بیٹے کو قربان کرنا چاھا وہ اسحق تھے نہ کہ اسماعیل ۔ جیسا کہ ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے ۔ رہی بات ارض فلسطین کی ، تو اسے وہ خدا کی طرف سے انعام اور آل یعقوب ( بنی اسرائیل ) ہونے کی وجہ سے اپنی وراثت خیال کرتے ہیں ۔ وراثت سے یاد آیا کہ یہودی ، ہم مسلمانوں اور مسیحوں کی طرح کسی تبلیغ کے نتیجے میں دوسرے مذاہب کو چھوڑ کر  یہودی نہیں ہوئے بلکہ ان کا دعوی ہے کہ وہ سب کے سب حضرت یعقوب کی اولاد ہیں اسی لئے انہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے ۔

     حضرت یعقوب کی وطن واپسی کا قصہ بیان کرتے کرتے نہ جانے ہم کہاں سے کہاں آگئے ۔  عرض ہے کہ بیت المقدس کی تعمیر کے بعد وہیں پر حضرت یوسفؑ کی والدہ راحیل کے ھاں دوسرے بیٹے بنیامین ( Benjamin ) کی ولادت ہوئی اور دوران زچگی راحیل کا انتقال ہوگیا ۔ حضرت یعقوبؑ نے اپنی چہیتی بیوی راحیل کو بیت المقدس میں ہی دفن کرکے ،   ان کے سرھانے نشانی کے طور پر  ایک پتھر گاڑھ دیا جو ابتک موجود ہے ۔

    حضرت یعقوب ؑکو اپنی بیوی راحیل سے اسقدر محبت تھی کہ ان کی وفات سے سخت رنجیدہ ہوئے اور بیت المقدس کو چھوڑ کر اپنے والد حضرت اسحاق کے پاس حیبرون

    ( الخلیل شھر ) آگئے ۔ ان کا بڑا بھائی محیص بھی وھاں آگیا اور دونوں بیٹوں کی موجودگی میں حضرت اسحاق  180 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ۔ یاد رہے حضرت ابراھیم اور جناب اسحاق کی قبریں اسی شھر میں ہیں جسے یہودی حیبرون اور مسلمان ” الخلیل ” کے نام سے پکارتے ہیں ۔

    حضرت یعقوبؑ نے بڑی کٹھن اور دکھ بھری زندگی گزاری ۔ شروع میں بڑے بھائی کے ڈر سے 20 برس تک والدین سے جدا رہے پھر چہیتی بیوی یوسفؑ اور بنیامین کی ماں راحیل داغ مفارقت دے گئی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دسوں بیٹوں نے اپنے سوتیلے بھائیوں  یوسفؑ اور بنیامین کو بہت ستایا ۔ چونکہ حضرت یعقوب کو راحیل کے بیٹوں یوسف ؑاور بنیامین سے بہت پیار تھا لھذا ہر وقت انہیں ساتھ رکھتے تھے جس پر باقی دس بیٹے ناراض ہوگئے اور انہوں نے سازش کرکے یوسفؑ کو کنوئیں میں ڈال دیا ۔ یہ الگ بات کہ بعد میں حضرت یوسفؑ مصر پہنچ کر وہاں کے حاکم بنے اور بھائیوں سمیت اپنے والد کو وہاں بلالیا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب حضرت یعقوبؑ مصر گئے تو ان کے ساتھ کنبے کے فقط 93 افراد تھے لیکن بعد میں جب حضرت موسیؑ اسرائیلیوں کو قبطی عیسائیوں کی غلامی سے چھڑا کر واپس یروشلم لائے تو ان کی تعداد 6 لاکھ ستر ھزار تھی ۔

    حضرت یعقوبؑ، یوسفؑ کی جدائی میں چالیس سال تک روتے رہے اور باالآخر باپ بیٹا اس وقت ملے جب یوسفؑ ، والئی مصر تھے ۔ ملاقات کے بعد جناب یعقوبؑ کی بینائی لوٹ آئی اور وہ 24 برس تک بیٹے کے پاس مصر میں مقیم رہے لیکن یوسف کو وصیت کی کہ موت کے بعد میری میت اپنے وطن فلسطین لیجاکر مجھے میرے باپ اسحاقؑ کے قدموں میں دفن کرنا ۔ حضرت یوسفؑ نے باپ کی وصیت کے مطابق ، ان کی وفات کے بعد حضرت یعقوبؑ کی میت ایک صندوق میں بند کرکے فلسطین پہنچائی اور حسب وصیت حضرت اسحاقؑ کے پاس دفن کیا ۔ اس دن سے بنی اسرائیل نے اپنے مردوں ( Dead Bodies ) کو صندوق میں بند کرکے دفنانا شروع کردیا اور یہ رسم آج بھی جاری ہے ۔

    امید کرتا ہوں یہانتک آکر آپ بنی اسرائیل کے بارے میں کافی حد تک جان چکے ہونگے ۔ جہاں تک ارض فلسطین اور بیت المقدس پر کنٹرول اور حاکمیت کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ یہ سرزمین ، تین بڑے مذاہب ، اسلام ، مسیحییت اور یہودیت کے نزدیک یکساں تقدیس ( Holiness/Divinity ) کا درجہ رکھتی ہے ۔ سب کے سب اس کا احترام کرتے ہیں اور وہ اس لئے کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیاء اسی سرزمین

    پر آئے اور اکثر یہیں پر محو استراحت ہیں ۔ حضرت عیسی ابن مریم علیہ السلام بھی اسی خطہء ارض پر تشریف لائے ۔ یہیں پر انہیں مصلوب کرنے کی کوشش کی گئی اور یہیں سے اللہ نے انہیں اپنے پاس آسمانوں پر بلالیا ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم ان ہی میں سے اور ان ہی اسرائیلیوں کی طرف نبی بناکر بھیجے گئے تھے مگر انہوں نے ان کا انکار کیا اور جن لوگوں نے انہیں اللہ کا سچا نبی تسلیم کرلیا وہ بعد میں مسیحی کہلائے ۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ حضرت عیسی ابن مریم ، بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے اور ان کے تقریبا 575 برس بعد , خطہ حجاز ، موجودہ سعودی عرب میں آباد ، بنی اسرائیل کے کزن قبیلے ،  بنی اسماعیل سے اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفے  صلی اللہ علیہ و آلہ مبعوث ہوئے ۔ کزن قبیلے کی اصطلاح سے قطعا متعجب نہ ہوں کیونکہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام، حضرت اسماعیل بن ابراھیم علیہ السلام  کی اولاد سے ہیں جو حضرت یعقوبؑ ( اسرائیل ) کے چچا تھے ۔

    یہودیوں اور مسیحوں کی طرح ہم مسلمانوں کے لئے فلسطین اس لئے مقدس ہے کہ یہاں ہمارا قبلہ اول واقع ہے اور قرآن کے مطابق معراج کی شب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ  و آلہ وسلم اسی بیت المقدس سے آسمانوں پر تشریف لے گئے ۔ یہ ہیں وہ بنیادی وجوہات جن کی بناء پر یہ خطہ گزشتہ کئی صدیوں  سے مسلسل کشمکش اور جنگ و جدل سے لبریز چلا آرھا ہے ۔ جو قوم طاقتور ہوئی اس نے بڑھ کر اس پر قبضہ کرلیا ۔ مسیحی ، یہودی اور مسلمان باری باری کئی مرتبہ اسے فتح کرکے یہاں اپنا اقتدار قائم کرچکے ہیں لیکن ابتک کوئی پائیدار حل سامنے نہیں آسکا اور آج بھی فلسطین دنیاء کے سامنے ایک حل طلب مسئلے کے طور پر موجود ہے ۔ یہاں اس طرف بھی اشارہ کردوں کہ اگرچہ یہ سرزمین عالم مسیحییت کےلئے بھی اتنا ہی پیاری اور مقدس ہے کہ جتنا اسے یہودی اور مسلمان پیار کرتے ہیں لیکن کرسچین ورلڈ ( امریکہ ، برطانیہ ) نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت 1948 میں اسے مسلمانوں (اردن ) سے لیکر یہودیوں کے حوالے کردیا ۔ فلسطین اور وہاں موجود مقامات مقدسہ کی مذہبی و حربی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو میری ناقص عقل کے مطابق اس کا واحد حل یہ ہوسکتا ہے کہ بیت المقدس کی حدود کا انتظام و انصرام ،  تینوں مذاھب کی ایک مشترکہ کمیٹی کے حوالے کردیا جائے ورنہ قیامت تک اس پر اقتدار کے لئے خون بہتا رہیگا ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری