Tag: ہندو مت

  • آگے کنواں پیچھے کھائی

    آگے کنواں پیچھے کھائی

    ( ھندوستان میں کسان تحریک کیا رخ اختیار کریگی ۔ مودی جی کہاں کھڑے ہیں ۔ کیا خالصتان تحریک دوبارہ زندہ ہوچکی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں میرا آج کا کالم )

    تجزیاتی تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    دنیاء بھر میں مختلف کھیل کھیلے جاتے ہیں اور ہر کھیل ( Game ) کے ماہرین نے ان کے لئے قواعد و ضوابط یا رولز و ریگولیشنز بنا رکھے ہیں تاکہ کھلاڑی مخصوص اور محدود حرکات کے دائرے میں رہ کر ہی کسی کھیل کو کھیل سکیں ۔ جہاں خلاف ورزی ہوئی ، سیٹی یا وسل کی زوردار آواز سنائی دیتی ہے ۔ جج اور ریفری اسی غرض سے مقرر کئے جاتے ہیں تاکہ کھیل کو اس کے لئے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق کھیلا جائے ورنہ افراتفری ، زور زبردستی ، چھینا جھپٹی اور جیت کے حصول کے لئے مار پیٹ تک نوبت پہنچ سکتی ہے ۔

    کھیلوں کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو کھلاڑیوں کے بدن کی طاقت ، پھرتی اور چستی کے محتاج ہوتے ہیں مثلا ، ھاکی ، کرکٹ ، فٹ بال ، ٹینس ، بیڈ منٹن ، کشتی ، رسہ کشی ، اسکواش وغیرہ ، لیکن کچھ کھیل ایسے بھی ہیں جو زمین پر یا میز کے گرد بیٹھ کر فقط دماغ کے طاقت سے کھیلے جاتے ہیں ۔ ان میں تاش ، کیرم ، لڈو اور شطرنج کے علاوہ کئی روائتی اور علاقائی کھیل شامل ہیں ۔

    کہتے ہیں کہ شطرنج کا کھیل پورے طور پر دماغ کی طاقت سے کھیلا جاتا ہے ۔ اس کے لئے تیز ترین دماغ اور دور بین نگاہوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شطرنج کے کھلاڑی تھکا دینے والی خاموشی میں گم سم ، بساط ( Chess Board ) پہ نگاھیں جمائے ، گھنٹوں اس سوچ میں گم رھتے ہیں کہ کونسی گوٹی کو حرکت دی جائے تاکہ مد مقابل کی گوٹی بھی ھاتھ آجائے اور اسے بعد از آں حملہ کرنے کے موقع بھی نہ مل سکے ۔ دراصل ہر حرکت شہ یا شطرنج کے بادشاہ کو گھیرنے کی کوشش ہوتی ہے اور اگر شہ گھیر لیا گیا تو سامنے والے کو شہ مات ہوجاتی ہے ۔ وہ بازی ھار جاتا ہے ۔

    golden temple near water in evening
    Photo by Nav Photography on Pexels.com

    استادان سیاست کا کہنا ہے کہ سیاست بھی ، شطرنج ہی کی طرح کا ایک کھیل ہے ۔ جس کھلاڑی یا سیاست دان نے بہترین چال چلی وہ بادشاہ یا مد مقابل کو گھیر کر بازی پلٹ سکتا ہے ۔ اس کھیل میں بھی دماغ کا تیز ہونا اور صحیح وقت پر صحیح چال چلنا ، شطرنج کے کھیل کی طرح اولیں شرط ہے ۔ یہاں یہ بھی جان لیں کہ ایک تاریخی روائت کے مطابق شطرنج کا کھیل برصغیر یا متحدہ ھندوستان میں ایجاد ہوا اور سنسکرت میں اسے ” چتو رانگا ” ” چترنگ ” یا چار کونوں والا کہا گیا لیکن جب یہ عربوں کے ھتھے چڑھا اور چونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں ” چ ” اور ” گ ” موجود نہیں لھذا انہوں نے چ کو ش اور گ کو ج سے بدل کر ، اسے چترنگ سے شطرنج بنادیا اور اسطرح اس کا نام ہمارے ھاں اردو وغیرہ میں شطرنج ہی لکھا اور بولا جاتا ہے ۔ بات طویل ہوجائیگی لیکن ذھن میں آگئی تو بتاتا چلوں کہ قوم مغل کا نام بھی دراصل منگول سے بگڑ کر مغل ہوا ۔ یہ چنگیز خان کا قبیلہ ہے لیکن عربوں کی مہربانی سے یہاں بھی گ کو غ سے بدل کر پہلے پہل مغول اور بعد میں مختصر کر کے مغل پکارا جانے لگا ۔

    بات سیاست کی شروع ہوئی تھی کہ سیاست بھی شطرنج کے کھیل کی طرح کا ہی ایک کھیل ہے ۔ پہلے زمانے کا بادشاہ اسے کھیل ہی سمجھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور جوں جوں انسان کے علم اور مسابقت میں اضافہ ہوتا گیا ، سیاست ، کھیل کی حدود سے نکل کر سائینس میں داخل ہوگئی اور اب دنیاء بھر کے نظام ھائے تعلیم میں علم سیاسیات یا پولٹیکل سائینس ( Political Science ) ایک اہم مضمون کی حیثیت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے ۔

    چونکہ سیاست اب سائینس میں تبدیل ہوچکی ہے لھذا پڑھے لکھے اور ترقی یافتہ معاشروں میں اسے سائینسی اصولوں کے مطابق ، انسانی فلاح و بہبود اور عالمی امن و بھائی چارے کے فروغ کے لئے استعمال کیا حارھا ہے ، لیکن کچھ ملکوں کے سیاست دان اسے ابتک صرف کھیل سمجھے ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاء کے کچھ ممالک اندرونی طور پر انتشار و خلفشار کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ بعض دیگر اقوام سے بھی جنگ و جدل میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔ ھندوستان ہی کو دیکھ لیں ، ان کے سیاسی ذعماء کے غیر منطقی اور بچگانہ رویوں نے ابتک برصغیر کی اقوام کو مسائل کی دلدل میں پھنسا رکھا ہے ۔ اگر ہمارے باھمی جھگڑے سلجھ گئے ہوتے تو دفاع پر خرچ ہونیوالی خطیر رقوم معاشرے کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتی اور آج ھندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور نیپال وغیرہ کے ان گنت شھری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر نہ کر رہے ہوتے ۔

    یوں تو بھارت کی تمام سیاسی پارٹیاں شروع سے پاکستان مخالف رہی ہیں اور کسی نے بھی ہمیں چین سے رھنے نہیں دیا لیکن موجودہ برسر اقتدار پارٹی BJP یا بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو اس دشمنی اور عداوت کو انتہاء تک پہنچادیا ہے ۔ ان سے پہلے والے بھی اگرچہ ھندو ہی تھے لیکن انہوں نے چہرے پر سیکولرازم کی نقاب چڑھارکھی تھی جبکہ بی جے پی اور بالخصوص مودی سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کے اندر کا ھندو دیوتا بےنقاب ہوکر سامنے آگیا اور اب یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علی الاعلان ھندو راشٹر یا ھندو ملک بننے اور بنانے کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔

    ھندیوتا ( Hinduism ) کا پرچار شروع ہونے سے ھندوستان بھر میں اقلیتیں ( Minorities ) بالخصوص مسلمان اور سکھ کمیونٹی کے لوگ زیر عتاب ہیں ۔ مسلمان تو شروع سے مار کھاتے چلے آرہے تھے جبکہ سکھوں کے خلاف نفرت کی پہلی جنگ ، بنگلہ دیش کی بانی ، اندرا گاندھی نے ، ان کے امرتسر میں واقع متبرک ترین مقام گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی سے شروع کی اور بعد از آں اسی حملے کا بدلہ چکانے کے لئے ، اس کے محافظ سکھوں نے اسے قتل کردیا ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ کانگرسی لیڈر اندرا گاندھی کے 1984 میں قتل کے واقعے پر مشتعل ہوکر ھندو انتہاء پسندوں نے دلی اور اس کے گرد و نواع میں ھزاروں سکھوں کا قتل عام کیا ۔ انہیں زندہ جلایا گیا ۔ ان کی عورتوں اور عبادت گاھوں کی بے حرمتی کی گئی ۔ ٹائر جلا کر زندہ سکھوں کے گلوں میں ڈالے گئے ۔ پنجابیوں کی تاریخ میں دو قتل عام انتہائی کرب بھرے اور ناقابل فراموش ہیں ۔ تقسیم ھند سے قبل 1919 میں جلیانوالا باغ امرتسر میں بیساکھی کے تہوار کے موقع پر ، انگریز جنرل ڈائر کے حکم پر چلنے والی گولی جس سے سینکڑوں بے گناہ افراد لقمہ اجل بنے اور دوسرا 1984 میں ھندوں کے ھاتھوں سکھوں کی نسل کشی ۔

    یہاں یہ بھی جان لیں کہ جنرل ڈائر کو ایک سکھ نوجوان نے جلیانوالہ باغ کا بدلہ لینے کے لئے لندن جاکر قتل کردیا تھا جبکہ اندرا گاندھی کو اکال تخت پر فوج کشی کے جرم میں خود اس کے اپنے سکھ محافظوں نے موقع پاکر وزیراعظم ھاوس دلی کے اندر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

    یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ، ھندوستان میں موجودہ کسان تحریک ، جس میں اگرچہ ہریانہ ، یوپی اور دیگر ریاستوں کے کسان بھی شریک ہیں ، بہ ظاھر کسانوں کے حقوق کی آواز نظر آتی ہے لیکن میرے خیال سے ، یہ فقط آلو پیاز کی فصل بارے بننے والے قوانین کا ہی شاخسانہ نہیں ، بلکہ اس کے اندر سابقہ رنجشیں ، عداوتیں اور مودی جی کی طرف سے پھیلائی جانیوالی ھندیوتا وباء یا ھندو کٹڑ پن سے چھٹکارے کا عزم اور ارادہ بھی واضع نظر آرھا ہے ۔

    یاد رہے اس تحریک کا آغاذ پنجاب سے ہوا اور اب دیگر صوبوں کے کسان بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کی روح ، پنجاب ھریانہ اور یوپی کے سکھ ہی ہیں ، جو اب ذھنی طور پر ھندوں کی غلامی سے تنگ آچکے ہیں ۔ اگرچہ وہ اس وقت ، کھلے عام اپنے لئے الگ وطن خالصتان کی بات نہیں کررہے لیکن دلی حکومت اور بی جے پی ان پر یہ الزام تھونپ رہی ہے کہ یہ خالصتانی ہیں ۔ دھشت گرد ہیں ۔ پاکستانی ایجنٹ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہی نہیں بلکہ اپنے الزامات کو صحیح ثابت کرنے کی غرض سے بی جے پی کی دلی شاخ نے اپنے زرخرید افراد سے ایک سازش کے تحت دلی کے لال قلعے پر سکھوں کا مذھبی پرچم

    ” نشان صاحب ” بھی لہرا دیا تاکہ انہیں ملک دشمن اور فسادی ثابت کیا جاسکے ۔

    غور طلب بات یہ کہ ، آخر ان سکھ کسانوں پر خالصتانی ہونے کا الزام کیوں لگایا جارھا ہے ؟ وہ تو صرف ان قوانین کی منسوخی کے لئے نکلے ہیں کہ جو مودی حکومت نے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے منظور کئے ۔ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔ ھندوتا کے ان پجاریوں کو شاید احساس ہوچلا ہے کہ ہماری نفرت کی پالیسی کے نتیجے کے طور پر ، سکھ قوم اب میدان میں آچکی ہے اور کسان تحریک دراصل خالصتان تحریک ہے ۔ میرے خیال سے انہیں ان کا ضمیر یہ بھی باور کرا رھا ہوگا کہ تم بلوچستان میں جو کچھ کرتے آ رہے ہو یہ اس کا جواب بھی ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے وہ سکھوں کو پاکستان کا ایجنٹ ، خالصتانی اور دھشت گرد قرار دے رہے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے ھندوتا پارٹی نے حالات کا صحیح اندازہ لگا لیا ہو کہ شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے اور ہماری طرف سے چلائی جانے والی آذاد بلوچستان کی چال کا جواب اب ہمیں کسان تحریک کی صورت میں دیا جارہا ہے اس لئے وہ انہیں پرامن بھارتی شھری تصور نہیں کررہے ۔

    یہ تحریک کہاں جاکر رکے گی ۔ شطرنج کی یہ بازی کون جیتے گا اور اس کے کیا نتائج برآمد ہونگے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایک بات واضع ہے کہ مودی جی اور سکھ دونوں ہی ایک ایسی گھمبیر صورت حال سے دوچار ہوچکے ہیں کہ جس کا نتیجہ تباہ کن اثرات کا حامل ہوگا ۔ مودی اگر سکھوں یا کسانوں کے مطالبات مان لے تو اس کی سیاسی موت واقع ہوسکتی ہے ۔ اس کی ساری بدمعاشی اور اکڑ خاک میں مل جائیگی ۔ اگر کسان یا سکھ اپنے موقف سے پیچھے ھٹے تو وہ کہیں کے نہیں رھینگے اور تحریک کی ناکامی کی صورت میں سکھوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا جائیگا ۔ میری ناقص عقل کے مطابق اب دونوں کوآگے کنواں اور پیچھے کھائی نظر آرہی ہے ۔

    مضمون کے آخر میں یہ بھی لکھتا چلوں کہ اگر سکھ اور مودی اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو بھڑنت یا تصادم ہوسکتا ہے ۔ خون بہہ سکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا نتیجے میں خالصتان تحریک کا ابھر کر سامنے آنا پولٹیکل سائینس کی روء سے کوئی حیرت کی بات نہ ہوگی ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین
  • ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    اس موضوع پر لکھنا آسان نہیں ، اس لئے کہ جہالت ، ذاتی اور گروہی مفاد پر مبنی سیاست اور مولویت نے پاکستان میں کینسر کے مرض کی طرح پنجے گاڑھ رکھے ہیں ۔ حالت بہ ایں جا رسید کہ ایک مخصوص اور پیشہ ور ٹولے کے علاوہ کسی دوسرے کو اس وادی میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں بلکہ اگر کوئی ان سے رتی برابر اختلاف کرے تو فورا کفر اور غداری کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں ۔ بیشمار محب وطن سیاسی کارکن ، علماء اور صلحاء ، سیاسی سوجھ بوجھ اور علمی و تبلیغی استطاعت رکھنے کے باوجود ، جہالت مافیاء کے خوف سے  خاموشی کو ترجیع دینے پر مجبور ہوئے یا ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں ۔ 
    میں ، عالم ہوں نہ مولوی اور نہ ہی سیاست دان ۔  مجھے کسی فقہی یا شرعی مسئلے پر بات کرنی ہے اور نہ وعظ و نصیحت  بلکہ ایک عام پاکستانی شھری کی حیثیت سے جو دیکھ رہا ہوں ، محسوس کررہا ہوں ،

    معاشرے کی اس حالت اور سوچ پر اپنی رائے کا اظھار کرنا چاھتا ہوں ۔ 
    اس سے پہلے کہ بات کو آگے بڑھاوں ، اس قومی دکھ اور کرب کا برملا اظھار کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نام پر ، اللہ کے نام پر ، رسول اللہ ص کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ، بحیثیت مجموعی ہم سب نے اور بطور خاص نام نہاد ، مفاد پرست ، جھوٹے سیاست دانوں اور ان پڑھ اور مفتن ملاوں نے کیا ، اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے ۔ 
    میری باتیں تلخ ضرور ہونگی لیکن اگر آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے ،  گروہی و مسلکی عینکیں اتار کر ان پر غور کیا تو کوئی نقطہ آپ کو غلط نظر نہیں آئیگا اور حقیقت حال واضع ہوجائیگی ۔ 
    آپ کوئی بھی ٹی وی چینل آن کریں ، کوئی سا بھی اخبار یا رسالہ اٹھا کر پڑھیں ، کسی بندے سے گفتگو کریں ، ایسا محسوس ہوگا کہ پاکستان میں تو سب اولیاء بستے ہیں بلکہ یہی تو انبیاء کرام کی سرزمین ہے ۔ صبح شام ، اٹھتے بیٹھتے ، اسلام ، اسلام  اور اسلام کی گردان سننے کو ملیگی ۔ جس آبادی ، گاوں ، قصبے یا شھر میں چلے جائیں ،  خوبصورت مسجدیں اور ان کے 100 سو فٹ بلند مینار نظر آئینگے ۔ آذان کا وقت ہو تو لاوڈ اسپیکروں کا شور زلزلہ پیدا کردیتا ہے ۔ مذھبی تقریبات کی بھرمار ، جس طرف دیکھو پیر فقیر ، باوے اور  ڈھونگی اپنی اپنی دوکانیں چمکائے بیٹھے ہیں لیکن معاشرہ اخلاقی طور پر اندر سے اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ، 
    دودھ ، دہی ، گھی ، مصالحہ جات اور ادویہ سمیت کوئی بھی چیز خالص دستیاب نہیں ۔ ہر شے میں ملاوٹ ۔ 
    آٹا ، چینی اور سبزیاں تک غائب کردی جاتی ہیں اور عوام کو ان اشیاء کی عدم دستیابی یا بڑھی ہوئی قیمتوں کے خلاف جلوس نکالنے پڑتے ہیں ۔ 
    قصابوں کے ھاں بکنے والے گوشت ، (بالخصوص بڑے شھروں میں )  کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ۔ گدھے کا ہے یا کتے ذبح کئے گئے ہیں ۔ مرغیاں زندہ ذبح کرکے بیچی جارہی ہیں یا بیماری سے مرجانیوالے پرندوں کا گوشت بیچا جارہا ہے ۔ 
    ڈاکٹری جیسے مقدس اور محترم پیشے کی دکانیں قطار اندر قطار نظر آئینگی لیکن اندر قصائی اور دولت کے پجاری بیٹھے ملینگے جن کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت نہیں بلکہ بنگلے ، زمینیں اور مارکیٹیں کھڑی کرنا ہے ۔ 
    آپ کسی کنسٹرکشن ٹھیکیدار یا راج مستری کو ایک مرتبہ گھر میں آنے دیں پھر دیکھیں وہ آپ کی کیا درگت بناتا ہے ۔ 
    پورے ملک میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ تھانیدار اور پٹواری تو ویسے ہی بدنام ہیں ۔ آپ سوئی گیس ، بجلی ، پانی اور ٹیلیفون کا کنکشن تک بغیر جیب گرم کئے حاصل نہیں کرسکتے ۔ 
    چوری ، ڈاکے ، اسٹریٹ کرائم ، زنا ،  معصوم بچوں اور نہتی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور اغواء جیسے جرائم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔
    منشیات ، ناجائز اسلحہ ، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی جیسے گھناونے کاروبار کل بھی جاری تھے آج بھی جاری ہیں ۔ 
    آذادی اظھار رائے کے نام پر درجنوں ٹی وی چینلز اور اخبارات ، جھوٹ اور افواہ سازی کی فیکٹریاں نہیں تو اور کیا ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ” پیسہ ڈال تے بہہ جا نال ” ، جو خبر نشر کرانی ہو ، جس قسم کا بھی پروپیگنڈہ کرانا مقصود ہو ، پیسے کے زور پر ممکن ہے ۔ 
    معاشرے کی مکمل تصویر کشی کروں تو کتاب بن جائے ۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ؟ اگر کسی کی اولاد بگڑ جائے تو کہتے ہیں ، ماں باپ نے تربیت اچھی نہیں کی ۔ بتائیے اس سارے معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے ؟  ظاھر سی بات ہے جنہوں نے اس سوسائیٹی کو پروان چڑھایا ۔ سیاسی بگاڑ کے ذمہ دار سیاستدان اور مذھبی و اخلاقی اقدار کی پستی کے ذمہ دار وہ سب ، جو منبروں ہر بیٹھ کر فرقہ واریت ، توھمات ، شرک اور بدعت کی تعلیم دیتے رہے ۔ جنھوں نے بھائی کو بھائی سے لڑایا ۔ 
    مجھے حیرت ہوتی ہے جب یہ کہتے ہیں ، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا مگر اب یہ سیاستدانوں اور مولویوں کا قلعہ ہے جہاں عام آدمی ایک قیدی کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ اگر میں غلط کہ رہا ہوں تو آپ اپنے علاقے کے کسی سیاست دان یا مولوی کے خلاف آواز اٹھاکر دیکھیں ، لگ پتہ جائیگا ۔ 
    آپ اس معاشرے کی ذھنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں اور نوسربازوں کے حق میں جلوس نکلتے ہیں ، جلسے ہوتے ہیں ، ٹاک شوز میں سرعام ان کے غلیظ کرتوتوں کا دفاع کیا جاتا ہے ۔ اخبارات اپنی شہ سرخیوں میں انہیں ھیرو بناکر پیش کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ہم اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر اور 27 رمضان کو وجود میں آیا تھا لھذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ 

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی


    قارئین 
    اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں ۔ خدا اور رسول ص کے احکامات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں ۔ کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کرلئے ہیں کہ جن کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ اگر جواب ھاں میں ہے ۔  آپ ایک کامیاب ، مضبوط اور طاقتور قوم بن چکے ہیں تو ،  ضرور بندوقیں اٹھاکر دنیاء بھر کے مسلمانوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوں ۔ کفار کو چیلینج کریں لیکن اگر 73 برس بعد بھی کشکول ھاتھ میں ہے ۔ قرضوں کے انبار تلے دبے ہیں ۔ سوئی گیس ، بجلی ، آٹا اور چینی کے حصول کے لئے جلوس نکالنے پڑ رہے ہیں ۔ روزی روٹی کی تلاش کے لئے در بہ در ٹھوکریں کھارہے ہیں تو عزت اسی بات میں ہے کہ پہلے اپنے گھر کو سنواریں ، اپنے پاوں پر کھڑے ہوں اور اس کے بعد اس بات پر غور کریں کہ عالم اسلام میں کیا ہورہا ہے ۔ کس کس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور کیوں کیا ۔ پنجابی زبان کا ایک اور محاورہ یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” آپ نہ جوگی تے گوانڈ ولاوے "یعنی اپنے لئے گھر میں ہے کچھ نہیں اور گوانڈیوں کی مدد کرنا چاھتی ہے ۔ 
    آخر میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں لیکن اگر کوئی دوسرا ملک اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کا داخلی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاھئیے اور بلاوجہ ان پر تنقید کرکے باھمی تعلقات نہیں بگاڑنے چاھئیں ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ امہ یا امت مسلمہ کی اصطلاح  کتابوں اور شاعری کی حد تک درست ہے ۔ اس سے آگے یا پیچھے کچھ بھی نہیں لھذا اس چکر سے باھر آکر پاکستانی معاشرے کی اصلاح و ترقی اور توانائی کا علم اٹھائیں ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاھئیے کیونکہ ہم سارے مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ۔ 

  • دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    دھیان کی منزل( گزشتہ سے پیوستہ ) 
    آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اتنی کٹھن منزل کون طے کریگا جس میں گھر بار ، بیوی بچے ، روزگار ، لین دین غرضیکہ پورے کا پورا کاروبار حیات ہی ٹھپ کرنا پڑ جائے ۔ یہی سوال ذھن میں رکھتے ہوئے میں نے دھیان کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستے تجویز کئے ہیں ۔ ایک دائمی یا مکمل سنیاس اور دوسرا موقت یعنی عارضی ۔یاد رکھئیے دائمی سنیاس لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ  تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنیاسی ، تیاگی اور گیانی  جنہیں عرف عام میں ولی اللہ ، سینٹ (Saint)  یا بھگت کہا جاتا ہے ،  پیدائیشی طور پر اپنے اندر ایک مخصوص روح یا اسپیشل سوفٹ وئر ( Special Soft Ware ) لیکر اس دنیاء میں قدم رکھتے ہیں ۔ بھگتی اور ولائت کسبی نہیں کہ کسی ٹریننگ اسکول سے تربیت اور ڈگری لیکر ، ڈاکٹر اور وکیل کی طرح کوئی بھی شخص  ولی یا بھگت ہونے کا دعوی کردے  بلکہ یہ توعطائے خالق ہے ۔ اس ضمن میں فارسی کا ایک شعر یاد آگیا ، کہتے ہیں ، 
    ” ایں سعادت بہ زور بازو نیست .  تا نہ بخشد او خدائے بخشندہ ” 
    یعنی اس مقام و مرتبے تک رسائی انسان کے بس کی بات نہیں جبتک کہ عطاء کرنے والا ( مالک و خالق ) اسے بخشیش یا انعام کے طور پر از خود عطاء نہ کردے ۔ 
    قارئین کرام ،
    آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذھن نشین کرلیں کہ میری اس تحریر کا مقصد ہرگز  تصوف پر لیکچر دینا نہیں ، کیونکہ  ، یہ راہ بہت کٹھن ، پرپیچ ، اتنی عمیق ، دقیق اور پرخطر ہے کہ اگر کہیں ذرہ برابر لغزش ہوئی ، زبان یا قلم کے قدم پھسلے ،   تو انسان راہ راست سے بھٹک کر گمراہی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچتا ہے اور یہ کہ ، تصوف پہ گفتگو اور اسے سمجھنا  عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ 
    مضمون کی ابتداء میں لکھا ، زندگی کیا ہے ، کیا کبھی اس بات پر غور کیا  ؟   پیدائیش سے موت یا ماں کی کوکھ سے قبر کی آغوش تک کا سفر ، عجیب سلسلہء واردات ہے  جسے ہم کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گزار دیتے ہیں ۔ زمانہء حال میں جدید مشینوں کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور  آبپاشی کے لئے زیر زمین سے پانی کھینچ کر کھیت تک پہنچانے کے لئے بجلی کی موٹریں اور پمپ ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے بٹن کو دبائیں تو پانی خود بہ خود کھچ کر ایک جستی نالی یا پائپ کے ذریعے باہر آجاتا ہے جبکہ کچھ ہی زمانہ پہلے الیکٹرک موٹر اور واٹر پمپ کی بجائے رھٹ میں بیل جوت کر یہ ضرورت پوری کی جاتی تھی ۔ بیل کی آنکھوں پر کھوپے یا پٹی باندھ دیتے تھے  تاکہ وہ دائیں بائیں ، ادھر ادھر  نہ دیکھ سکے ، اسے یہ علم ہی نہ ہو  کہ وہ کس سمت میں سفر کررہا ہے لھذا عالی مرتبت بیل  چار سے چھ گنٹے تک ، اس وہم اور خوشی میں گھومتا  رھتا تھا کہ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی نئی منزل تک پہنچ جائیگا  لیکن اے کاش ایسا ہوتا ۔ اسے کیا معلوم کہ آنکھوں پر بندھی پٹی اسے احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ سیدھی سمت میں سفر کرنے کی بجائے گول گول گھوم رہا ہے ۔ اس کا مالک جب کھیتوں کو سیراب کرنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی ھٹاتا ہے تو بیچارہ بیل اپنے آپ کو اسی جگہ کھڑا پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاذ کیا تھا ۔ یاد رکھیں ” دھیان ” یا غور و فکر کے بغیر بسر کی جانیوالی زندگی بھی  رھٹ کے اس بیل کی حالت جیسی ہے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا نظر آتا ہے ۔ 
    دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ  مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو  بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔  اس کے ساتھ ساتھ ،  کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور  سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے  ۔ اٹھنا ، بیٹھنا ،سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور بچے پیدا کرنا توجبلت  (Instinct) یا خداداد صلاحیت ، اہلیت اور ضرورت ہے اس کا عقل و خرد اور سوچ بچار سے کیا واسطہ ،   یہی سب کچھ تو حیوانات اور چرند پرند بھی کرتے ہیں بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی سے ملتی جلتی ،  کئی ایک جبلی  خصوصیات ( Inherited Values ) تو عالم نباتات میں بھی پائی جاتی ییں ۔ مثلا ،  پودے ، پھول ، جڑی بوٹیاں اور درخت سب کے سب پیدا ہوتے ہیں ، جنم لیتے ہیں  ، بیمار پڑتے ہیں ۔ ان پر بھی ،  بچپن ، لڑکپن اور جوانی طاری ہوتی ہے ۔ خوراک اور پانی انہیں بھی درکار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ کھاد کی شکل میں مختلف وٹامنز کے طلب بھی رکھتے ہیں ۔  بیماری ان پر بھی حملہ کرتی ہے . انہیں باقائدہ دواء دارو کی حاجت پیش آتی ہے ۔ پھل ، پھول ، پتوں اور بیج کے نام سے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔   آپ جانتے ہونگے کہ عالم نباتات ،  یعنی  درختوں اور پودوں میں بھی انسانوں اور حیوانات کی طرح ،  نر ( Male ) اور مادہ ( Female )کی تخصیص و تفریق موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ نر کم اور مادہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں اور انہی کے بطن سے پھل ، پھول یا بچہ پیدا ہوتا ہے  ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں موجود پھل دار درخت پھل نہیں دیتے اور بعض کے پھل ابتدائی حالت میں گرجاتے ہیں ۔ پھل بالکل نہ لگنے کی صورت میں جان لینا چاھئیے کہ یہ درخت نر , یعنی (Male Tree ) ہے ۔ اور کچا پھل گرجانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قریب میں کوئی نر ، Male درخت موجود نہیں کہ جسکا تولیدی مادہ یا ( Pollen ) اسے درکار ہے ۔  
    اس ساری بحث سے مراد اس نکتے کو سمجھنا ہے ،  کہ جبلی طور پر انسان ، حیوان اور نباتات کئی ایک مشترکہ جبلی ( Instinct )  خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوصف حیوانات  و نباتات اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان کو خالق کائنات نے عقل کے نام سے ایک اضافی خوبی یا خاصیت عطاء کی ہے ، کہ جس کی مدد سے وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ حیوانات اور نباتات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرسکتا ہے جبکہ اول الذکر فقط قانون قدرت کی پابندی سے ،  سوچ و سمجھ اور آذادانہ فیصلے کی قوت سے محروم رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی فلسفے کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے :
    ” تقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکام الہی کا ہے پابند ” 
    اقبال کہتے ہیں تقدیر اور مقدر کی پابندی صرف درختوں ، پودوں ،  پہاڑوں ، چٹانوں ، ٹیلوں اور ان دیگر مخلوقات پر عائد ہوتی ہے کہ جو سوچ اور سمجھ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کسی ایک جگہ پر مقید ہوکر زندگی گزارنے کے پابند ہیں جبکہ انسان مکمل طور پر آذاد ہے اور یہ آذادی اسے اس کی ساخت اور عقل نے عطاء کی ، وہ نباتات کی طرح ایک جگہ رک کر یا جمادات کی طرح بے جان اور ساکن و ساکت رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کا جیون احکام الہی کا پابند ہے ۔ 
     دھیان کے اس اسٹاپ تک پہنچنے پر  علم ہوا ،  کہ اگرچہ ، انسان ، حیوان اور نباتات ، جبلی طور پر بعض مشترکہ بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس جنکشن یا دوراہے سے انسانی گاڑی ” عقل ” کا انجن لگاکر الگ لائین پر چڑھ جاتی ہے ۔ اس کا راستہ الگ ہوجاتا ہے اور یہیں سے آگے  اس ایکسپریس کو دنیاء نے  ” اشرف المخلوقات "( The Most Honorable Creatures )کے نام سے جانا ، پہچانا اور مانا ۔ 
    اس مقام تک آکر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، عقل اور ارادہ ، انسان کو حیوانات و نباتات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ،  کیا عقل چند لوگوں کے حصے میں آئی یا ہر انسان کو عطاء کی گئی ۔ جواب یقینا یہی ہوگا کہ تمام بنی آدم اس نعمت خداوندی سے مستفید ہیں ،  الا  وہ محدودے چند افراد ،  کہ جو ذھنی امراض ( Mentle Disorder) کا شکار ہوں ۔  جب ایسا ہی ہے ،  سب انسان عقل کے مالک ہیں ۔ قدرت نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے یکساں طور پر نوازا ہے تو کاروبار حیات کے رنگ اور روپ  مختلف کیوں ہیں ۔ 
    ( بحث جاری ہے )

  • دھیان ،  گیان اور نروان (قسط اوّل)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط اوّل)

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کبھی غور کیا ، زندگی کیا ہے ؟

    بہت کم لوگ دنیاء میں ایسے ہوئے کہ جنہوں نے اس موضوع پہ غور کیا ، اس کی حقیقت کو جانا اور پھر اس کے چھپے راز اور رموز اوروں تک پہنچائے ۔ یہ موضوع جسقدر دلچسپ ہے اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل بھی ۔ شاید اسی لئے چند گنے چنے لوگ ہی اس طرف متوجہ ہوئے جنھیں عالم مسیحیت میں سینٹ ( Saint ) یا مقدس شخص ، اسلام میں ولی اللہ ( Wali Allah )، یہودیت میں راھب ( Rahab ) اور کاھن ( Ka’han ) ، ھندو مت میں رشی ( Rashi) ، منی ( Muni ) ، یوگی ( Yogi ) اور سنیاسی ( Sanyasi ) ، بدھ مت میں ارہت ( Arhat ) اور مہاتما ( Muhatima ) ، جبکہ سکھ ایسے شخص کو بھگت ( Bhagtt )کہ کر پکارتے ہیں ۔ یہ القاب و خطابات انہیں اس لئے دئیے گئے کہ ان افراد نے زندگی کا راز پانے کی خاطر ، دنیاوی عیش و آرام ، مال و دولت اور ازدواجی زندگی تک کو ترک کرکے ، آبادیوں سے دور ، پہاڑوں ، جنگلوں اور ویرانوں کو اپنا مسکن بنایا اور من کی جوت جگاکر اس حقیقت کا کھوج لگانے میں مشغول رہے جسے ہم عرف عام میں زندگی کہتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دنیاء بھر میں موجود مختلف مذاھب کی خانقاھیں ، چلہ گاھیں ، مزار ، معبد اور متبرک مقامات آبادیوں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ، جنگلوں اور دشوار گزار مقامات پر پائے جاتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔

    عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ ایسے افراد دراصل اللہ ، بھگوان ، یزدان ، خدا ، ایشور یا گاڈ (GOD) کی قربت حاصل کرنے کی خاطر اس

    ریاضت , تپسیا اور Exercise کو اپناتے ہیں , اگر ایسا ہے تو یہ قرب ، مسجد ، مندر ، دھرم شالا ، چرچ ، گوردوارے اور سینی گوک میں بیٹھ کر مالا جپنے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے ترک دنیاء اور ویرانوں میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    اس سوال کا عام فہم اور سادہ جواب یہ ہے کہ اللہ کا قرب آخری اسٹاپ ہے ۔ اس تک پہنچنے کے لئے ایک طویل اور دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ قرب الہی حاصل کرنے سے پہلے ، عرفان زیست حاصل کرنا اولین شرط ہے ۔ جسطرح میٹرک کئے بغیر ایف اے ، ایف اے کئے بغیر بی اے اور بی اے کئے بغیر ایم اے کی سند حاصل نہیں ہوسکتی بعینہہ اسی طرح زندگی کو سمجھے بغیر ، زندگی پیدا کرنے والے خالق اور مالک تک رسائی ممکن نہیں ۔ پہلے مخلوق کو پہچانو ، اس کا شعور حاصل کرو تب جاکر کہیں خالق کے وجود سے آشنائی حاصل ہوگی ۔

    اگرچہ اسلامی دنیاء میں ، تصوف یا مسلک صوفیاء ، ایک متناذعہ موضوع ہے اور علماء اسلام کا ” ایک بڑا گروہ ” اس کی حقیقت اور ضرورت سے واضع طور پر انکار کرتا ہے لیکن جب ہم دیگر ادیان اور مذاھب پر نظر دوڑاتے ییں تو ہمیں ہر جگہ تصوف کی مختلف شکلیں موجود نظر آتی ہیں ۔

    میرے نزدیک تصوف ایک راستہ ہے ، کھوج لگانے کا ، تلاش کا ، حقیقت آشنائی کا ، حصول علم کا ، اس لئے اس کی مخالفت یا اسے کفر قرار دینا ، اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ٹھہرتا ہے اور وہ اس لئے کہ خود قرآن نے کئی آیات میں غور و فکر کی بار بار دعوت دی ہے ۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ تصوف سے میری مراد پیری فقیری ، تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک نہیں بلکہ غور و فکر اور تلاش حقیقت ہے ۔ مخلوقات پر غور و فکر سے منکشف ہونے والی ٹھوس حقیقتیں ہی آپ کے اندر خالق کائنات ( Creator of Universe ) کے تصور اور عقیدے کو مستحکم کرتی ہیں ۔

    اس راہ پر چلنے والوں کو تین مناذل سے گزرنا پڑتا ہے ،

    1۔ دھیان – ( غور و فکر )

    2۔ گیان – ( آگہی )

    3۔ نروان – ( نجات یا چھٹکارہ )

    دھیان کی منزل کیا ہے ؟

    اس سے قبل اولیاء اللہ ، سنیاسیوں اور بھگتوں کی بات ہورہی تھی کہ وہ کیوں سنیاس لیکر ویرانوں میں جابسے تو عرض ہے کہ ، انہوں نے زندگی کا گیان حاصل کرنے کی خاطر ویرانوں کا انتخاب کیا تاکہ روزمرہ کے ھنگاموں سے آذاد ہوکر اس مسئلے پر غور کیا جائے اور حقیقت تک پہنچ سکیں ۔ یاد رہے دھیان یا غور و فکر کے لئے کامل ارتکاذ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جسکا حصول ھنگامہ خیز زندگی میں ممکن نہیں ۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آپ کسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر موجود ہوں اور فون کال آجائے تو وہ جگہ چھوڑ کر علیحدگی اور تنہائی میں جاکر بات سنتے ہیں تاکہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھ سکیں ۔ اس مثال سے اندازہ لگالیں کہ اگر ایک عام آدمی کی فون کال سننے کے لئے ھنگامے سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے تو زندگی کی حقیقت کو جاننے کے لئے کیا کیا ضروری ہوگا ۔ اگر یہاں تک میں اپنی بات واضع کرسکا ہوں تو اب یہ بھی جان لیجئیے کہ ابدی حقیقتوں کو پانے کے لئے عمومی شور و غل اور بھیڑ بھاڑ سے ہی بچنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مکمل یا موقت سنیاس لینا پڑتا ہے ۔ گھر بار ، بیوی بچے ، نفع نقصان اور دنیاوی لین دین ، سب کے سب ھنگامے ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے ارتکاذ توجہ پیدا کرنا ممکن ہی نہیں ۔

    ( جاری ہے )