Tag: ہجرت

  • آؤ میکسیکو  Mexico  چلیں  

    آؤ میکسیکو Mexico چلیں  

    آؤ میکسیکو Mexico چلیں  

    Dubai Naama

    یہ عجیب رنگ ڈھنگ کا ملک ہے۔ ایک طرف غربت، گلیوں میں رنگین مکان، اور دوسری طرف دنیا کا سب سے خطرناک منشیات کا مافیا بھی اسی ملک میں ہے۔ یہاں  ایک طرف تہواروں کا شور ہے تو دوسری طرف صحرا جیسی خاموشی بھی اسی ملک کا حصہ ہے! 

    لیکن یہی میکسیکو ہے جہاں 1995ء میں ایک غریب خاندان کا بیٹا "کارلوس سلم روز” بل گیٹس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، دنیا کا امیر ترین آدمی بنا۔ جی ہاں، میکسیکو سٹی کے ایک درمیانے گھر میں پلنے والا لڑکا جس نے "ٹیلمیکس” Telmex اور "امریکہ موویل” América Móvil کے ذریعے پورے لاطینی امریکہ کی ٹیلی کام پر قبضہ کر لیا۔ 2010 سے 2013 تک وہ فوربس کی فہرست میں لگاتار دنیا کا نمبر 1 امیر آدمی رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میکسیکو میں غربت ہے، مگر وہاں مواقع بھی ہیں۔ اگر ہنر اور ہمت ہو تو "کھوپڑیوں کے دیس” میں بھی امارت کی سلطنت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    میکسیکو کا 3145 کلومیٹر بارڈر امریکہ سے ملتا ہے۔ دنیا کی سب سے لمبی اسی سرحد پر دنیا کی سب سے بڑی تجارت بھی ہوتی ہے، اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت بھی اسی بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہ بارڈر میکسیکو کے لیے نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ نعمت اس لیے کہ امریکہ کی معیشت سے جڑ کر میکسیکو کی فیکٹریاں چلتی ہیں اور اسی راستے سے جہاں سامان اور منشیات کی سمگلنگ ہوتی ہے، وہان ایشیا سمیت دنیا بھر کے لوگ اسی راستے کو امریکہ جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    اسی میکسیکو نے جون جولائی 2026ء میں تاریخ رقم کی۔ وہ دنیا کا پہلا اور واحد ملک بن گیا جس نے "تیسری مرتبہ فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی” کی۔ 1970 میں پیلے، 1986 میں میراڈونا اور اب 2026 میں لینونل میسی اور دنیا کے نئے ہیرو لامین یامال (میسی ثانی) نے میکسیکو ہی میں ورلڈ کپ کے دوران اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ وہی میکسیکو سٹی کا تاریخی "ازٹیکا سٹیڈیم” Azteca Stadium جس کی گیلریوں میں کبھی فٹبال کے بادشاہوں نے جام اٹھائے تھے، اس بار پھر دنیا بھر کے تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اب اسٹیڈیم جدید تھے، ٹرانسپورٹ وقت پر چل رہی تھی، ہوٹل تیار تھے اور مہمان خوش ہو کر واپس گئے۔ 

    یہ محض جدید دور کا اتفاق نہیں تھا۔ یہ میکسیکو حکومت کی 10 سال کی پلاننگ کا نتیجہ تھا۔ میکسیکو کا اصل خزانہ اس کا فیصلہ اور عمل ہے۔ ہمارے اور میکسیکو کے درمیان  فرق صرف ایک ہے۔ ہمارے پاس بھی نوجوان ہیں، ٹیلنٹ ہے، مٹی سونے جیسی ہے لیکن میکسیکو کے پاس ایک ہنر زیادہ ہے کہ: "انہوں نے جو کام کرنا ہو وہ اس کا فیصلہ 10 سال پہلے کر لیتے ہیں اور پھر کر کے دکھاتے ہیں”۔

    آؤ میکسیکو  Mexico  چلیں  

    ورلڈ کپ 2026 کا فیصلہ 2018 میں ہو گیا تھا۔ 8 سال بعد جب وہاں پہلا میچ ہوا تو پوری دنیا نے کہا "واہ”۔ ہمارے ہاں فیصلہ کل پر ٹلتا ہے، کل پرسوں پر، اور پرسوں فائل گم ہو جاتی ہے۔ میکسیکو نے ہمیں سکھاتا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، عزم اور عمل سے بنتی ہیں۔

    میکسیکو میں ایسا دلچسپ اور عجیب و پرکشش کلچر ہے، جو ہر نئے آنے والے کو گلے لگا لیتا ہے۔ وہاں کا کلچر کمال کا دوستانہ ہے۔ یہاں کے باسیوں میں غرور نام کی کوئی چیز نہیں۔ رنگین لباس، ماریاچی کے گیت، دیواروں پر "مورلز” Murals، اور کھانے میں مرچ کی جتنی تندی اتنی ہی میزبانی میں مٹھاس ہے۔ یہاں ” ڈائی ڈے لوس میورٹس” Dia de los Muertos منایا جاتا ہے۔ مردوں کے دن لوگ قبرستان میں جا کر گاتے ہیں، کھاتے ہیں، ہنستے ہیں۔ وہ موت یا مردوں کو دیکھ کر ڈرتے نہیں، بلکہ انہیں دیکھ کر جشن مناتے ہیں۔ یہی خوش مزاجی ان کی زندگی کے ہر شعبے میں پائی جاتی ہے۔ 

    اسی لیے جو بھی میکسیکو جاتا ہے، وہ وہاں کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ وہاں آپ کو کوئی اجنبی نہیں سمجھتا۔ ایک پلیٹ ٹیکو اور ایک کپ کافی میں آپ گھر والے بن جاتے ہیں۔

    میکسیکو سٹی میں "ایکسو چملکو” Xochimilco کی نہروں پر رنگین کشتیاں چلتی ہیں۔ پانی کے اوپر سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔ وہاں کے باسیوں کو کھوپڑیوں کا جنون ہے کیونکہ موت سے کسی کو خوف نہیں آتا۔ چینی اور چاکلیٹ کی رنگین کھوپڑیاں تحفے میں دی جاتی ہیں۔

    وہاں سانپ والا ایک  اہرام "چِچِن اِتزہ” ہے جس پر سورج کی روشنی سے ایک بڑے سانپ کا سایہ بنتا ہے۔ یہ 1000 سال پرانی انجینئرنگ ہے۔ میکسیکو میں "گزریوں کا جزیرہ” بھی ہے۔ اسے ایک آدمی نے 50 سال تک نہر سے ملنے والی گڑیوں کو درختوں پر لٹکا کر بنایا تھا۔ آج وہ دنیا کا سب سے "ڈراؤنا سیاحتی مقام” ہے۔

    میکسیکو کی سیر سے آپکو سیکھنے کے 3 سبق ملیں گے۔ ایک یہ کہ غربت تقدیر نہیں ہوتی۔ کارلوس سلم روز جیسے محنتی لوگ اسے توڑ دیتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بڑے کام راتوں رات نہیں ہوتے۔ ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے 10 سال پہلے اینٹ رکھنی پڑتی ہے۔ تیسرا یہ کہ کلچر ہی اصل طاقت ہے۔ جب لوگ مہمان نواز ہوں تو دنیا خود چل کر آتی ہے۔ میکسیکو صرف سیر کے لیے نہیں، سیکھنے کے لیے بھی جانا چایئے۔ یہ سیکھنے کے لیے کہ کیسے ایک قوم اپنی خامیوں کے باوجود دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ فیصلہ ہمارا ہے کہ ہم شکایت کریں گے یا میکسیکو کی طرح کچھ کر کے دکھائیں گے؟

  • پانی جیسا بننے کا ہنر

    پانی جیسا بننے کا ہنر

    تحریر محمد ذیشان بٹ

    پانی جیسے بنو—یہ جملہ سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اتنا ہی گہرا اور بامعنی ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر انسان کی بقا تک، پانی ایک بنیادی حقیقت ہے۔ قرآنِ مجید میں صاف لفظوں میں بتایا گیا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، انسان کے جسم میں بھی پانی غالب عنصر ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم پانی کو صرف پینے کی حد تک تو یاد رکھتے ہیں، اس سے سیکھنے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں۔ بروس لی نے کہا تھا کہ انسان کو پانی جیسا ہونا چاہیے۔ یہ کوئی فلسفیانہ نعرہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نسخہ ہے، بس شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھ اور سیکھنے والا دل ہو۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نصیحت ہمیشہ اس وقت مانگتے ہیں جب حالات ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سیکھنے والا انسان دیوار پر لکھی ہوئی بات سے بھی سبق لے لیتا ہے، اور جو نہ سیکھنا چاہے، اس کے سامنے اگر سمندر بھی رکھ دیا جائے تو وہ پیاسا ہی رہتا ہے۔ پانی کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچک ہے۔ آپ اسے جس برتن میں ڈالیں، وہ اسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نہ شکوہ، نہ ضد، نہ انا۔ بس حالات کو قبول کرتا ہے اور اپنی اصل برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہمارے نوجوان سب سے زیادہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ آج کا نوجوان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دنیا اس کی سہولت کے مطابق چلے گی۔ نوکری ایسی ہو جو دل کو بھی بھائے، تنخواہ بھی زیادہ ہو، باس بھی پسند کا ہو، کام بھی کم ہو اور عزت بھی بے حساب ملے۔ اگر ایسا نہ ہو تو فوراً جملہ آتا ہے: “یہ میری کمفرٹ زون نہیں ہے۔” حالانکہ زندگی کا سادہ اصول ہے کہ کمفرٹ زون میں رہ کر صرف آرام ملتا ہے، ترقی نہیں۔ خاص طور پر ہماری بچیاں، جو شادی کے بعد ایک نئے گھر میں جاتی ہیں، اکثر شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ “ان کی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے، ماحول مختلف ہے، لوگ میرے جیسے نہیں ہیں۔” سوال یہ ہے کہ اگر ہر کوئی یہی ضد پکڑ لے کہ سامنے والا میرے جیسا ہو تو پھر رشتے چلیں گے کیسے؟ انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنے کے لیے خود کو بھی تو ڈھالنا پڑتا ہے۔ پانی یہی سکھاتا ہے کہ ماحول کو سمجھو، اس کی اچھی چیزیں اپناؤ، غیر ضروری ٹکراؤ سے بچو، تاکہ سامنے والا بھی تمہیں سمجھنے لگے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ لچک کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت دیکھ لیجیے۔ مکہ میں تیرہ برس تک سخت ترین مخالفت، طعنے، اذیتیں اور سماجی بائیکاٹ—لیکن نہ ضد، نہ انتقام، نہ انا۔ حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدلی، ہجرت کی، صبر کیا، اور جب فتح نصیب ہوئی تو وہی رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تھے جنہوں نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔ یہ کمزوری نہیں تھی، یہ پانی جیسی طاقت تھی۔ صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں بھی اسی اصول کی عملی تصویر ہیں۔ حضرت عمرؓ جیسے جری انسان بھی جب حق سامنے آیا تو خود کو بدل لیا، اور یہی لچک انہیں عظیم بنا گئی۔ پانی کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مطمئن مگر طاقتور ہوتا ہے۔ نہ شور، نہ ہنگامہ، نہ ہر وقت اپنی طاقت کا اظہار۔ خاموشی سے بہتا ہے، لیکن اگر راستہ نہ ملے تو پہاڑ بھی کاٹ دیتا ہے۔

    ہمارے ہاں اس کے بالکل الٹ چلن ہے۔ ذرا سی طاقت ملی نہیں کہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ عہدہ ملا تو رعب، تھوڑی سی شہرت ملی تو غرور، دو پیسے آئے تو خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت وہ ہوتی ہے جو نظر نہ آئے مگر محسوس ہو۔ پانی اگر تھوڑا بھی ہو اور جہاں نہ ہو، وہاں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی مقدار نہیں، افادیت اصل چیز ہے۔ نوجوانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر وقت اپنی طاقت ضائع کرنا دانشمندی نہیں۔ ہر بحث میں کود پڑنا، ہر معاملے پر رائے دینا، ہر جگہ خود کو منوانے کی کوشش کرنا—یہ سب ذہنی تھکن کے سوا کچھ نہیں۔ اگر آپ واقعی اہم ہیں تو آپ کی غیر موجودگی خود بولے گی۔ ادارہ ہو یا گھر، اگر آپ کا کام بولتا ہے تو آپ کو شور مچانے کی ضرورت نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی دیکھ لیجیے۔ نہ جذباتی نعرے، نہ غیر ضروری جوش، نہ فالتو تقریریں۔ خاموش، مطمئن، مگر دلیل میں اتنے مضبوط کہ بڑے بڑے لیڈر لاجواب ہو جاتے تھے۔ یہی پانی جیسی قوت ہے۔ اشفاق احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ خاموشی میں بڑی طاقت ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ بزدلی نہ ہو بلکہ شعور ہو۔ واصف علی واصفؒ نے تو پوری زندگی انسان کو یہی سبق دیا کہ بہاؤ کے ساتھ چلو، ضد میں آ کر خود کو نہ توڑو۔ ان کے نزدیک سکون سب سے بڑی دولت تھا، اور سکون وہی پاتا ہے جو ہر وقت اپنی انا کو آگے نہ رکھے۔ قاسم علی شاہ آج کے نوجوان کو یہی سمجھاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے سب سے پہلے اپنے اندر نظم و ضبط اور برداشت پیدا کرو۔ یہ سب باتیں مختلف انداز میں کہی گئیں، مگر اصل پیغام ایک ہی ہے: پانی جیسے بن جاؤ۔ پانی کی تیسری اور شاید سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ٹکراؤ سے بچتا ہے۔ سامنے چٹان آ جائے تو لڑتا نہیں، شور نہیں مچاتا، بلکہ خاموشی سے راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں، مگر بہاؤ جاری رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کے برعکس، ٹکراؤ کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔ ذرا سی بات پر لڑائی، اختلافِ رائے کو دشمنی بنا لینا، منفی لوگوں کے ساتھ الجھتے رہنا—یہ سب ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ اصل جیت یہ نہیں کہ آپ نے کتنے لوگوں کو لاجواب کیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ کتنی لڑائیوں سے بچ کر اپنی منزل تک پہنچے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کی توانائی فالتو جھگڑوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس کی زندہ مثال ہے۔ نہ ختم ہونے والی بحثیں، ذاتی حملے، کردار کشی—اور آخر میں ہاتھ کیا آتا ہے؟ کچھ بھی نہیں، سوائے ذہنی بوجھ کے۔ پانی ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر پتھر سے سر نہ ٹکراؤ، بعض کو نظرانداز کر کے آگے بڑھ جانا ہی عقل مندی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ یہی تھا کہ غیر ضروری جھگڑوں سے بچتے، مگر حق کے معاملے میں ڈٹ جاتے۔ فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں طنزاً کہا جاتا ہے کہ “جو جھکتا ہے وہی کمزور ہوتا ہے”، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جھکنا جانتا ہے وہی ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔ پانی اگر اکڑ جائے تو تالاب بن کر سڑ جاتا ہے، بہتا رہے تو صاف رہتا ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ جو خود کو حالات کے ساتھ بہنے دیتا ہے، وہ سیکھتا ہے، نکھرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ اور جو ضد میں اڑا رہے، وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جاتا ہے۔ آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ زندگی کوئی مقابلۂ کشتی نہیں کہ ہر ایک کو پچھاڑنا ضروری ہو۔ زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں پانی جیسا ہونا سب سے بڑی حکمت ہے: لچکدار، مطمئن، طاقتور اور ٹکراؤ سے بچنے والا۔ اگر ہم نے یہ تین خوبیاں اپنا لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی آسان ہو جائے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ ورنہ ہم پانی کے بغیر زندگی تو ناممکن سمجھتے رہیں گے،آخر میں ہمیشہ کی طرح تجربہ شرط ہے تھوڑا نہیں مکمل غور کیجے

    TitleImage by Kawita Chitprathak from Pixabay

  • قومی تشخص کا بقاء- ایک مزاحیہ تحریر

    قومی تشخص کا بقاء- ایک مزاحیہ تحریر

    ( مصنف واجد علی)
    اخبار بینی کا شوق دورِ حاضر میں بہت حد تک کم ہوچکا ہے اور اب آپ کو خال خال ہی وہ لوگ نظر آئیں گے جو کسی ہوٹل ، دفتر ، گھر یا اپنی دکان پر بیٹھے منہ کو اخبار کے پیچھے چھپائے مصروفِ مطالعہ دکھائی دیں۔ہماری اس نئی نسل کو شاید علم نہ ہو لیکن کسی زمانے میں اخبار پڑھنا مہذب اور شریف لوگوں کا شعار سمجھا جاتا تھا اور معاشرہ اُن لوگوں کو صاحبِ علم، اصحابِ بصیرت اور ذی عقل طبقے میں شمار کرتا تھا جو بلاناغہ اخبار پڑھتے تھے ۔اب مگر زمانہ بدلا سوچ تبدیل ہوئی اور اخبار کوسست رفتار زندگی کی علامت سمجھتے ہوئے کارِ بےکاراں میں شمار کیاجانے لگا ہے اور اُس کی جگہ انٹرنیٹ کی تیز ترین دنیا نے لے لی ہے جہاں ہر منٹ بعد منظر نامہ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔لیکن ان حقائق کے برعکس نواب حضرت جام محل آج بھی اُسی دنیا میں محوِ سفر ہیں جہاں اطلاعات کا مستند ذریعہ آج بھی اخبار ہے۔ آپ کے اپنے بقول آپ غیر منقسم ہندوستان کی کسی ریاست کے پشتینی نواب ہیں مگر والد ماجد کی طوائفوں میں حد سے زیادہ دلچسپی نے وہ دن دکھلائے کہ ریاست سمیت حویلی میں طوائف الملوکی کا دورہ دورہ ہوگیا۔ اسی طوائف الملوکی کی غارت گری کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ گئے اور اب بس ہر روز اپنےگھر کی ڈیوڑھی میں چارپائی پر بیٹھے محلے کےایک نوجوان سے دھیمی آواز میں اخبار سنتے ہیں اور موقع محل کی مناسبت سے تبصرے فرما کر دن بتاتے ہیں۔ آج صبح مگر وہ نوجوان باامرِ مجبوری نہیں آسکا تو ایسے میں اپنے پوتے کو آواز دے کر پاس بلایا اور اُسے یہ حکمِ شاہی دیا کہ ” ہمیں اخبار سنایا جائے”۔یہ فرمانِ شاہی سُن کر پوتا پہلے تو بہت چیں بہ جبیں ہوا ، نظر کی کمی کا بہانہ بنایا، اردو میں دسترس نہ ہونے کا عذر پیش کیا ، سکول کا کام کرنے کا افسانہ گھڑا لیکن سب بے سود اور دادا جی کی ضد کے آگے ہار مان کر چارو ناچار بیٹھ گیا۔ دادا جان نے پوتے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور پوتے نے اخبار پر نظریں پھیرتے ہوئے ایک صفحہ سامنے رکھا اور پہلی خبر سے دن کے خبرنامے کا آغاز یوں فرمایا،” لالی ووڈ میں پتلی کمر والی ہیروئنز کی کمی کی وجہ سے فلمساز مکھیاں مارنے پر مجبور”۔ دادا جان نے جب یہ خبر سُنی تو نہایت تاسف سے فرمایا،” ہائے! کیا زمانہ آگیا ہے۔ ایک وہ وقت بھی یاد ہے اپنا جب اُس محلے میں جاتے تھے ۔۔”، مگر پھر فورا یاد آگیا کہ پاس پوتا ہے بچپن کا کوئی دوست نہیں۔ اس پر فورا ” لاحول ولا قوۃ ” پڑھا جس پر پوتے نے خبر بدلتے ہوئے پڑھا،” سیاسی استحکام کیلئے معاشی پالیسی کا طویل المدتی ہونا اشد ضروری ہے اور۔۔۔” پوتے نے سانس لینے کیلئے پڑاؤ کیا تو بولے،” ارے بیٹا! وہی خبر پڑھو نا پہلے والی۔ دیکھو تو کس قدر غمگین کرنے والی خبر ہے۔ یہ معیشت کی درستگی ورستگی تو ہوتی رہے گی۔ اصل توجہ طلب مسئلہ وہ ہے جس کے بارے میں تم پہلے پڑھ رہے تھے”۔پوتے نے یہ سُن کر دادا جی کی طرف معنی خیز انداز میں دیکھا پھر گلا صاف کرکے گویا ہوا،” اس سلسلے میں لالی ووڈ فلم انڈسٹری کے صدر نے پریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہی کی ذمہ داری ہیروئنز کی ماؤں پر عائد ہوتی ہے جو اپنی بیٹیوں کو کھلا کھلا کر موٹا کردیتی ہیں اور یوں وہ پہلی فلم میں آنے تک اتنی فربہ ہوجاتی ہے کہ کیمرے کے فریم میں مکمل نہیں سما سکتی۔ ایسے میں اگر بارش والا سین فلمانا ہو ( دادا جی نے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک ٹھنڈی آہ بھری) تو سین کی ڈیمانڈ کے باوجود بھی نہیں بنا پاتے اور یوں فنونِ لطیفہ کے قدر دان مطلوبہ مسالہ نہ ملنے پر فلمساز کو گالیاں دیتے ہوئے فلم ادھوری چھوڑ کر سنیما سے نکل جاتے ہیں”۔اس دوران ایک دوسرے بزرگ اور نواب صاحب کے یارِ خاص میاں تفسیر صاحب بھی آن وارد ہوئے اور خاموشی سے ایک طرف بیٹھ کر خبر کا بقیہ حصہ سننے لگے۔” لہذا میں اُن تمام ماؤں سے جو اپنی بچیوں کو ہیروئنز کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہیں اُن کے آگے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ ہمارے حال پر رحم فرمائیں اور اپنی بچیوں کو کم کھلائیں تاکہ ہم اپنے بچوں کو کچھ کھلا سکیں۔ ورنہ یہی حالت رہی تو ہم اتنے بڑے بڑے فلمساز آپ کو لاری اڈے گاڑیوں میں سواریاں بٹھاتے نظر آئیں گے”۔دادا جان نے خبر سُنی اور میاں تفسیر کی طرف دیکھا جو نگاہ جھکائے کسی گہری سوچ میں غلطاں و پیچاں تھے۔نواب صاحب نے بات چیت سے پہلے پوتے کو ” تخلیہ” کا حکم دیا اور پوتا اپنی جان چھڑا کر یوں بھاگا جیسے قربانی کا بیل چھری کے نیچےسے رسی چھڑا کے بھاگتا ہے۔

    قومی تشخص کا بقاء- ایک مزاحیہ تحریر


    ” کچھ سُنا تم نے میاں تفسیر!”، نواب صاحب نے دوست کو سوچ کی وادی سے بلاتے ہوئے کہا تو میاں صاحب پاس اُن کے پاس چارپائی پہ بیٹھے اور فرمایا،” بھائی نواب سچ پوچھو اخبار سننے کا مزہ تو آج آیا۔ بھئی بہت خوب۔ تمہارے پوتے کی اردو بھی بہت اچھی ہے اور خبر بھی کیا غضب کی تھی”۔
    ” ارےبھائی! یقین مانو مجھے تو علم ہی نہیں تھا کہ اخبار میں ایسی خبریں بھی ہوتی ہیں۔ ورنہ وہ لمڈا تو روز آکے یہی سنا کے چلا جاتا، دس قتل ہوگئے، فلاں نے فلاں پر پھر حملہ کردیا، چین کا بحران ٹل گیا مگر چینی کا شروع ہوگیا۔پاکستان میں خشک سالی کا موسم طویل ہونے کا خدشہ وغیرہ وغیرہ۔ کیسی خشک اور غیر اہم خبریں پڑھتا تھا وہ لمڈا ۔گویا سارے مسائل کے تانے بانے میری حویلی سے ملتے ہیں "۔ نواب صاحب نے خاصے ناگوار انداز میں فرمایا۔
    ” اوپر سے کمبخت ایسی خبریں پڑھ کر اللہ خیر کرے، اللہ ایسی بھیانک موت سے بچائے، والعیاذ باللہ جیسے جملے بول بول کر ہمیں موت سے پہلے ہی موت سے ڈراتا تھا نامعقول کہیں کا”میاں تفسیر صاحب بھی خاصے برہم ہوئے اُن پر۔” اب دیکھو نا اصل اور اہم خبر تو یہ تھی جو آج تمہارے پوتے نے سنائی۔ ملک کی فلم انڈسٹری بند ہونے کے قریب ہے اور ہمیں علم تک نہیں۔ اتنا بڑا قومی سانحہ ہونے کو ہے اور ہم لمبی تان کر سو رہے ہیں”۔
    ” اجی پھر ہم پر دوسری قومیں حکومت نہ کریں تو کیا ہو۔ جس ملک میں فنونِ لطیفہ کے دلدادوں کو بارش کے سین والے گانے دیکھنے کیلئے پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھنا پڑیں اُس سے بڑا کیا قومی سانحہ ہو سکتا ہے؟ یہ تو ہمارے دو قومی نظریے کی جڑیں کاٹنے اور قومی تشخص کو مٹانےکے مترادف ہے بھائی۔ہم کب تک آخر یہود و ہنود پر انحصار کرتے رہیں گے اور اپنے ملک کے فلمسازوں کو فاقوں سے مرتا ہوا دیکھتے رہیں گے۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہم بوڑھوں کو آگے بڑھ کر اس زوال کے آگے بند باندھنا ہوگا ورنہ بارش والے گانے دیکھنے کیلئے ہم بوڑھوں کو بھی پڑوسی ملک کی فلمیں دیکھنا پڑیں گی”۔ نواب صاحب نے ایک مقرر کی سی جوشیلی تقریر ہی کر ڈالی۔
    ” بھائی! اب دیکھو نا تم لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے کس لئے آئے تھے یہاں۔ اُن ہندوؤں سے نجات حاصل کرنے۔ لیکن اگر عمر کے اس حصے میں پھر اُن ہندوؤں کی ہیروئنز کے بارش والے گانے دیکھنا پڑگئے تو اپنے بزرگو کو آگے جا کر کیا جواب دو گے؟”۔ یہ بات کہہ کر میاں تفسیر صاحب تو چلے گئے جبکہ نواب صاحب ڈیوڑھی میں ٹھوڑی کھجاتے اس اہم قومی تشخص کی بقاء کے حوالے سے سوچ میں جُت گئے۔

  • نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    Dubai Naama

    مغربی ممالک میں سیٹل ہونا، پاکستان کے بہت سے نوجوانوں کا خواب ہے۔ پاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ وسائل اور دولت کی ناہموار تقسیم ہے۔ اس وجہ سے غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہیں۔ ہمارے ہاں یہ غرباء اور متوسط طبقہ کے لوگ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیئے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ وہاں رہنے کا خواب بہت سے امیر لوگ بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے پیچھے مغربی آزادی اور وہاں ایک محفوظ ٹھکانہ بنانا ہے۔ اگر پاکستان دہشت گردی سے پاک ہو اور خاطر خواہ امن و سلامتی قائم ہو جائے تو یقین مانیں پاکستان میں جنت نظیر زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ لیکن ابھی اس منزل تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ بھارت کے خلاف جنگ نے پاکستان کو فتح کے بدلے میں یہ موقع فراہم کیا کہ اب ہر میدان میں پاکستان تیز رفتاری سے ترقی کر سکتا ہے۔

    اگر ان امیر ممالک کا سفر بھی کیا جائے تو وہاں سیٹل ہونے میں بھی دو نسلوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم اس حوالے سے برٹش پاکستانیوں کی حالت زار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سچی بات ہے کہ ہجرت صرف سرحد عبور کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل خراش منازل سے گزرنے کا عمل ہے۔ بہت سی خوشحال پاکستانی فیملیوں کو صرف اس وجہ سے بے حال دیکھا کہ ان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود وہ اپنی اولادوں سے تنگ اور نالاں نظر آئے۔ ماں کی آغوش، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور آبائی گھر کو خیرباد کہنا آسان نہیں ہوتا۔نوجوان طلباء اور روزگار کی تلاش میں ہم مادر وطن کو دل پر بھاری پتھر رکھ کر چھوڑ تو دیتے ہیں اور گھر میں خوشحالی بھی آ جاتی ہے مگر اسی دوران کچھ ایسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہماری بقیہ زندگی پر دکھ اور غم و الم کے گہرے نشانات چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ خواب دیارِ غیر میں دفن ہو جاتے ہیں، اور کچھ نسلوں کے کندھوں پر ادھورے خوابوں کا بوجھ لاد دیتے ہیں۔

    پاکستان سے ہجرت کرنے والے لوگ امریکہ، یورپ، کنیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ میں بھی مقیم ہیں۔ لیکن برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی داستان ایک ایسی گمشدہ نظم کی مانند ہے، جس کے پہلے مصرعے میں محنت کی آہٹ ہے اور دوسرے میں قرب کی دھڑکن ہے۔ 9 سال تک لندن میں رہنے اور وہاں ایک سیکورٹی کمپنی میں جاب اور دیگر شہروں کے وزٹ کے دوران مقامی پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ برطانوی پاکستانیوں کے بارے میں جو عمومی تصور پایا جاتا ہے، وہ مکمل سچ نہیں ہے۔ ہر فرد کے الگ خواب، تجربات اور تشریحات ہیں۔ ہر کوئی خوش حال ہے نہ خوش ہے، ان میں سے کوئی سمجھتا ہے کہ ہجرت اس کے لئے نشانِ منزل تھی، کسی کو اس پر پچھتاوا ہے، اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو "کنفیوژن” کا شکار ہے، جس کو واپسی کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مستقبل کی منزل دکھائی دیتی ہے۔

    سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کی کہانی صرف ہجرت، محنت اور قربانی کی داستان ہی نہیں، بلکہ یہ دو تہذیبوں کے بیچ پسے ہوئے لوگوں کا ایک المیہ ہے جو آئندہ نسلوں کے لئے ایک "انتباہ” کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی نسل، وہ مہاجر مزدور ہیں جنہوں نے سنہ 1960ء اور 70 کی دہائی میں برطانیہ کا رخ کیا۔ ان کی زندگیاں فیکٹریوں، برفیلے ریلوے اسٹیشنوں اور بسوں میں گزر گئیں۔ ان کا واحد خواب یہی تھا کہ آنے والی نسل کو ایک بہتر مستقبل نصیب ہو۔ کچھ لوگوں کے خواب پورے بھی ہوئے۔ لندن کے میئر صادق خان کا والد بس ڈرائیور تھا، سعیدہ وارثی کے والد کارخانے میں مزدور تھے۔ برطانیہ میں "بیسٹ ویز کیش اینڈ کیریز” کے مالک سر انور پرویز ابتداء میں بس ڈرائیور تھے۔ "یعقوب اینڈ سنز” نے بھی ترقی کا سفر نیچے سے اوپر کی طرف کیا۔ جبکہ سابقہ ممبر برٹش پارلیمنٹ اور "یونائٹڈ کیش اینڈ کیریز” کے مالک چوہدری محمد سرور ایک فیکٹری ورکر تھے، جو بعد میں دو بار پنجاب کے گورنر بھی رہے۔ اسی طرح لارڈ نذیر بھی عام ورکر تھے جنہوں نے ترقی کرتے کرتے لارڈ شپ کی منزل کو پایا۔ لیکن "ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں”، ٹھہر سکتا ہے۔ برطانیہ میں تارکینِ وطن ابتدا میں اپنے خاندانوں کو پاکستان سے ہی چلاتے رہے، پھر وقت کے ساتھ انہیں بھی برطانیہ بلوا لیا۔ بعض نے خوب پونڈ کمائے اور پاکستان میں بلا ضرورت خرچ کر دیئے۔ آج آپ میرپور آزاد، کشمیر یا جہلم جائیں تو دیکھیں گے کہ وہاں بلا مصرف کروڑوں اور اربوں روپے کے بنگلے ویران پڑے ہیں۔ برطانیہ آنے والوں نے دو براعظموں کی تہذیبوں کے درمیان پُل باندھنے کی کوشش کی، لیکن سوچوں میں اتنا فاصلہ تھا کہ دونوں کناروں پر مضبوط ستون نہیں اٹھ سکے۔ یہ نسل اپنے بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر خوش بھی ہوتی رہی، اور خود کو تنہا بھی پایا۔ اس کشمکش میں وہ اندر ہی اندر خوف زدہ رہے اور دو تہذیبوں کے بیچ بے گھر ہو گئے۔ نہ پاکستان میں کچھ رہا نہ برطانیہ میں کچھ حاصل ہوا۔

    برطانیہ میں آج پاکستانی نژاد افراد کی آبادی تقریباً 1.9 ملین (19 لاکھ) ہے، جو کل آبادی کا 2.8 فیصد بنتی ہے۔ یہ کمیونٹی زیادہ تر برمنگھم، بریڈفورڈ، مانچسٹر، لوٹن، پیٹربرو، نوٹنگھم اور لندن کے مضافات میں آباد ہے۔ پہلی نسل کا جو خواب ترقی، سکون اور آسائش کا تھا، وہ دوسری نسل کے لئے بحران بن گیا۔
    پاکستان میں رہنے والوں کو شاید اندازہ نہیں کہ برطانیہ میں نئی نسل کے پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت تعلیم، روزگار اور سماجی ہم آہنگی میں پیچھے رہ گئی ہے۔

    2023ء کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق، کئی علاقوں میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کی تعلیمی کارکردگی قومی اوسط سے نیچے رہی۔ خاص طور پر بریڈفورڈ اور اولڈھم میں نئی برٹش پاکستانی نسل میں نہ تعلیم، نہ ملازمت اور نہ ہی تربیت ہے۔ اس کی شرح تشویش ناک ہے۔

    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

    مزید یہ کہ کچھ نوجوان جرائم، گینگز، اور منشیات کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ پیٹربرو میں کمیونٹی لیڈران آپ کو انہی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ملیں گے کہ کیسے نوجوانوں کو ان گینگز سے نکالا جائے، اور دوسرے نوجوانوں کو ان کے راستے پر چلنے سے روکا جائے۔ لیکن کسی کے پاس بھی کوئی حتمی رائے یا حل نہیں ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ خرابیاں بطور کمیونٹی نہیں، بلکہ برطانوی نظام کی ناکامی ہے، یہ وہ نوجوان ہیں جو یہاں ہی پیدا ہوئے، یہاں ہی پلے پوسے، ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو کبھی پاکستان گئے ہی نہیں اور گئے بھی ہیں تو ایک دو بار۔ اگر یہ خرابی کی طرف گئے بھی ہیں تو اپنے برٹش ہم رکابوں کے اکسانے پر۔ یہ سارا بوجھ نظام پر نہیں ڈالا جا سکتا، والدین کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، یہ نوجوان اعلی تعلیم یافتہ بھی نہیں اور نہ ہنر مند ہیں، بس انگریزی بول لیتے ہیں، وہ تعلیم اور ہنر تو نہ ہوا۔ ان کا انگریزی لہجی بھی بڑا عجیب و غریب اور "سلینگ” سا ہوتا ہے۔ پاکستانی برٹش بارن انگریزی بولتے وقت کچھ اور نسل ہی لگتے ہیں۔ نہ وہ دیسی پاکستانی معلوم ہوتے ہیں اور نہ وہ پکے انگریز دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں "کاٹھے انگریز” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جب تعلیم و ہنر اور محنت کا جذبہ نہیں ہو گا تو باعزت روزگار نہیں ملے گا، تو اس نے خرابیوں کی طرف جانا ہی جانا ہے۔
    2021ء میں مانچسٹر، لیڈز اور بریڈفورڈ کی پولیس رپورٹس میں چاقو زنی، منشیات کی ترسیل، اور گینگ وائلنس میں ملوث نوجوانوں میں پاکستانی نژاد افراد کا ذکر نمایاں ملے گا۔
    پھر وہ بدنام زمانہ "گرومنگ گینگز” اسکینڈل سامنے آیا، روتھرم، ٹیلفورڈ، ہڈرزفیلڈ، روچڈیل، اوکسبرج، اور نیوکاسل جیسے شہروں میں ایسے دل خراش انکشافات ہوئے جن میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کے ملوث ہونے سے پوری کمیونٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔ حالانکہ یہ چند افراد کے انفرادی جرائم تھے، مگر میڈیا اور بھارتی لابیوں نے اسے پوری قوت کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی کے خلاف استعمال کیا۔
    نتیجتاً پاکستانی نوجوانوں کے خلاف نفرت، سوشل میڈیا مہمات، حتیٰ کہ "اسلاموفوبک” حملوں میں اضافہ ہوا۔ سیاسی ایوانوں میں مخالفانہ تقریریں ہوئیں اور سڑکوں پر مظاہرے بھی ہوئے۔
    پریس کی سرخیاں ہوں یا عوامی تاثرات، "ایشین گینگ”، "منشیات فروش”، اور "ریپ کلچر” جیسے الفاظ پوری کمیونٹی پر بدنما داغ بن کر چپک گئے، خاص طور پر کنزرویٹو ذہنیت کے گورے پاکستانیوں کے لئے واپس بھیجو کی مہم چلاتے رہے اور وقتا فوقتا اس میں تشدد بھی شامل ہو جاتا تھا جو تشویش ناک ہے۔ جس پر وہاں سنجیدہ حلقوں کو آج بھی خاصی تشویش ہے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان وجوہات پر غور کیا جنہوں نے ان بچوں کو اس راہ پر دھکیلا؟ کیا یہ صرف ان کی کوتاہی ہے یا برطانوی نظام کی ناکامی؟ کیا کبھی پاکستانی سفارت خانے نے کمیونٹی مسائل پر سنجیدہ غور کیا۔ کمیونٹی کے نمائندوں سے کبھی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، یا انہیں کبھی سمجھانے کی کوشش کی؟
    جن نوجوانوں نے یہاں آنکھ کھولی، انگریزی میں سوچا، وہ آج بھی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ نہ مکمل "برٹش” ہیں، نہ "پاکستانی” ہیں۔ اسکولوں میں نسلی تعصب، سڑکوں پر "واپس جاؤ” کی آوازیں، اور گھروں میں ثقافتی ٹکراؤ انہیں الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ اس مد میں پاکستانی فیملیوں کو بچوں کی شادیوں کا مسئلہ لاحق ہے جن میں 70فیصد تک طلاق ہو جاتی ہے۔

    لندن اور نوٹنگھم کے پارکوں میں واک کے دوران نکلو تو رات گیارہ بجے کے بعد ٹرام بند ہو جاتی ہے تو وہاں گینگسٹرز کا راج قائم ہو جاتا ہے، جن میں ہمارے ایشیائی نوجوان بھی شامل ہیں۔”

    برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مستقل ہجرت کرنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے۔ وہاں بہت سے لوگ "نسل پرستی” کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ وہاں "مگنگ” اور چاقو زنی بھی ہوتی ہے اور کالے لوگ راہ گیروں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اور وہاں جسم فروشی بھی ہوتی ہے۔

    ایک دفعہ ایک پاکستانی نوجوان سے لندن کناری وارف میں ملاقات ہوئی، جو فٹبال ٹیم کے ساتھ آیا تھا۔ میں نے اس سے سوال کیا، تو وہ کہنے لگا، "میرے والدین مجھے پاکستانی بنانا چاہتے ہیں، اسکول والے مجھے برٹش نہیں مانتے، اور میں خود کو کچھ بھی نہیں سمجھتا۔” یہی شناخت کا بحران، یہی خلاء، کئی ذہنوں کو اندھیرے میں لے جاتا ہے۔ پہلی نسل کی قربانیوں کی حفاظت کے لیے دوسری نسل کو تعلیم، تربیت اور رہنمائی دینا ضروری ہے لیکن توازن کے ساتھ۔ انہیں مجرم نہیں، ایک بگڑے ہوئے خواب کی تعبیر سمجھ کر سنوارنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔
    ورنہ ہجرت کی یہ داستان ایک اور ادھورا باب بن کر تاریخ کے ملبے تلے دب جاتی ہے۔ جہاں خواب تو تھے، تعبیر نہ ملی، نسلیں تھیں، مگر زبانیں جدا۔ خیر ایسا سب کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بہت سے ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی تقدیر بدل گئی۔ وہ وہاں آج بھی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ بس ساری بیماریوں کا ایک ہی حل ہے کہ نوجوانوں کو یونیورسٹیوں تک پہنچایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں تارکین وطن کے لئے یہ وقت صرف افسوس یا شکوے کا نہیں، بلکہ اقدام کا ہے۔ اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور مساجد کو مل کر نئی نسل کی ذہنی رہنمائی، تربیت اور ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ بدقسمتی سے پاکستانی کمیونٹی میں نہ کوئی مشترکہ تنظیم ہے اور نہ ہی اتحاد کی فضا۔ مسلک پرستی نے یہاں بھی، بالکل پاکستان کی طرح، کمیونٹی کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ مولوی حضرات نے لوگوں کو جوڑنے کی بجائے پارہ پارہ کر دیا۔ ایک دفعہ ایک کمیونٹی اجلاس میں جس میں پیٹربرو کا سابق مئیر اور اس وقت کا ایک کونسلر بھی موجود تھا، جن میں ایک سابق کونسلر ایسا بھی تھا جو 1965ء میں برطانیہ آیا تھا، ایک دوسرے کو صرف اس وجہ سے کوس رہے تھے کہ یہاں چھ ہزار ہندوں نے اپنے لئے کمیونٹی سینٹر لے لیا لیکن 30 ہزار مسلمانوں کے لئے ابھی تک کمیونٹی سینٹر نہیں بنا۔ لندن کی ایک بڑی مسجد میں عیدالاضحیٰ کے روز دو گروپوں کے درمیان دھینگا مشتی بھی دیکھی۔ اگلے جمعہ کے روز، جب ہم چند دوست وہاں تھے، تو دیکھا کہ مسجد کے منبر سے گزشتہ واقعات کی مذمت کی جا رہی تھی۔

    دوسرے یورپی ممالک کی طرح، برطانیہ میں مسجد کی تلاش میں دور دراز جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خاص طور پر لندن میں جگہ جگہ مسجدیں ہیں۔ سنٹرل لندن، سٹریٹفورڈ، ال فورڈ، لیٹن سٹون، لیٹن، سینٹرل لندن، پیکاڈلی اور والتھم سٹو وغیرہ کی تقریبا تمام مساجد میں جمعہ پڑھنے کا موقع ملا۔ ماشاءاللہ ایک ہی گلی یا محلے میں دو دو مساجد بھی دیکھیں، اور وہاں تقریباً ہر مسلک کی نمائندگی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر پیٹربرو کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے۔
    لیکن یہ مساجد دین کی اشاعت کی بجائے مسلکی تفریق کی علامت بن چکی تھیں۔ ہر محلے میں ایک مولوی ایسا ضرور موجود تھا جو اپنی تقریر سے مسلمانوں کی تعداد کم کرنے پر تُلا ہوا لگتا تھا۔ میں جس مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتا، وہاں کے خطیب اردو اور پنجابی میں تقریر فرما رہے ہوتے تھے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اہم عالمی مسلم مسائل سے صرفِ نظر کر کے وہ بار بار "منافق” کی تعریف بیان کر رہے ہوتے تھے۔ ان کی مثالوں اور اندازِ بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہوتا تھا کہ وہ کس فرد یا طبقے کو مخاطب کر رہے ہیں۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد بظاہر سینکڑوں میں ہوتی تھی، لیکن ان کی گفتار، لباس اور عمومی بود و باش سے یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں علم، تہذیب، سائنس و ٹیکنالوجی اور فکری قیادت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ نماز کے بعد جب میں مسجد سے باہر نکلتا تھا تو گلی کے دوسرے کونے پر اسی مسلک کی ایک اور مسجد نظر آتی تھی۔ ایک ہی مسلک کی دو الگ الگ مساجد بھی نظر آتی تھیں۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں اب مسجدیں مسالک سے بھی آگے نکل گئی ہیں، چوہدریوں کی مسجد، راجوں کی مسجد جاٹوں کی مسجد، وغیرہ وغیرہ اور تب اسی پر تلخی بھی ہوتی دیکھی اور لڑائیاں بھی۔

    اس صورت حال کے پیش نظر آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان میں باعزت روزگار ہے تو قید تنہائی کاٹنے سے اپنا ملک، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی قربت ہی بہتر ہے کہ وہاں جا کر میں اکثر فکر مند رہتا تھا کہ برطانیہ میں پیسہ تو اکٹھا کر لیا مگر بہت کچھ کھو بھی دیا۔ بہت سے ایسے رشتے اس 9 سال کے عرصے میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کئی بار پریشان ہوتا تھا تو سوچتا تھا کہ پونڈوں کا بھرا بریف کیس "دریائے تھیمز” میں پھینک کر واپس پاکستان چلا جاؤں مگر پھر پاکستان کی غربت اور بے روزگاری یاد آتی تھی، نہ لندن رہنے کو جی کرتا تھا اور نہ واپس پاکستان آنے کو۔ یہ دنیا داری اور امیر بننے کی خواہش ایسی ذہنی کشمکش تھی جو "نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم” سے ملتی جلتی ہے۔ انگلینڈ میں رہنے کو یاد کرتا ہوں تو آج بھی ایک عجیب و غریب سی ذہنی بیگانگی محسوس ہوتی ہے۔

    Title Image by CHÂU VIỄN from Pixabay

  • اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ

    اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ

    اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    حُسنِ ادب پبلشرز، فیصل آباد نے 259 صفحات پر مشتمل اختر شہاب کی کتاب الحین بھوم شائع کی ہے جو کہ ایک بہترین تخلیقی کاوش ہے۔ اردو ادب میں خود نوشت روداد، سفرنامہ اور جنگی یادداشتوں پر مبنی تحریریں ہمیشہ سے قارئین کی توجہ حاصل کرتی رہی ہیں۔ اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” بھی اسی روایت کا تسلسل ہے جو خاص طور پر خلیج جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی ایک منفرد تصنیف ہے۔ اس کتاب کو مصنف نے پردیسیوں کے نام منسوب کیا ہے، جو اس کی فکری جہت کو مزید گہرائی عطا کرتا ہے۔
    اختر شہاب نے پیش لفظ میں جس انداز میں کتاب کے پس پردہ محرکات بیان کیے ہیں، وہ ان کی تحریری سنجیدگی اور مشاہداتی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں دیکھے گئے تین بڑے جنگی ادوار—1965، 1971، اور خلیج کی جنگ—کا ذکر کرتے ہیں، جو ایک نہایت اہم تاریخی تسلسل پیش کرتا ہے۔ ان کی تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ "الحین بھوم” محض جنگ کی روداد ہی نہیں بلکہ ایک پردیسی کی جدوجہد، مشکلات اور تجربات کا مرقع بھی ہے۔
    یہ کتاب جنگی تجربات، بیرون ملک ملازمت کے مسائل اور سماجی روابط پر مبنی ہے جو اردو ادب میں ایک کم دریافت شدہ موضوع ہے۔ اختر شہاب کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ، لیکن دلنشین اسلوب ہے، جو قاری کو ابتدا سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ ان کا طرزِ بیان حقیقت نگاری پر مبنی ہے، جس میں مبالغہ آرائی کے بجائے مشاہدات کو فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر عارف حسین عارف کے مطابق، اختر شہاب کا طرزِ تحریر انتہائی سادہ مگر جاذبِ نظر ہے، جو قاری کو کتاب کے ایک ایک صفحے سے جوڑے رکھتا ہے۔ وہ مستنصر حسین تارڑ اور ابن انشا جیسے ادیبوں کی روایت کو آگے بڑھانے کا ہنر رکھتے ہیں جو اردو ادب کے لیے ایک خوش آئند پہلو ہے۔

    اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ


    کتاب میں کئی اہم موضوعات کو چھیڑا گیا ہے جن میں خلیج جنگ کے عینی مشاہدات شامل ہیں مصنف نے ایک ایسی جنگ کا حال بیان کیا ہے جسے جدید ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ پہلو اردو ادب میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
    مصنف نے پردیس میں گزارے گئے لمحات کو بھی بیان کیا ہے۔ کتاب میں ایک پردیسی کی ذہنی، جذباتی، اور سماجی کیفیت کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔
    حقائق پر مبنی بیانیہ کتاب میں شامل ہے۔ کہیں بھی مبالغہ نہیں بلکہ مصنف نے ہر واقعہ حقیقت کے قریب تر بیان کیا ہے۔
    کہیں کہیں طنز و مزاح بھی ملتا ہے، لیکن یہ شائستگی کی حدود میں رہتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔
    "الحین بھوم” اردو ادب میں ایک منفرد اضافہ ہے کیونکہ یہ خلیج جنگ جیسے موضوع پر لکھی گئی نادر تحریروں میں شامل ہوتی ہے۔ مصنف نے نہ صرف جنگ کے مناظر پیش کیے بلکہ اس کے اثرات، پردیسیوں کی مشکلات اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کو بھی عمدگی سے سمویا ہے۔ ان کی سابقہ کتب "من تراش” ، "ہم مہربان” اور ” سفرین کہانی ” کے بعد یہ تصنیف بھی ان کے ادبی قد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
    اختر شہاب کی "الحین بھوم” ایک ایسی کتاب ہے جو نہ صرف جنگی حالات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ پردیسیوں کے احساسات اور جذبات کو بھی سامنے لاتی ہے۔ اس میں حقیقت نگاری، سادہ بیانیہ اور موثر اسلوب کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اردو ادب کے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نایاب تجربہ ثابت ہوگا اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جنگ، ہجرت اور بیرون ملک زندگی کے تجربات کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔یہ کتاب بلاشبہ اردو ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے، جسے ہر سنجیدہ قاری کو پڑھنا چاہیے۔ میں مصنف کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

  • ہجرت کے دکھ 

    ہجرت کے دکھ 

    ہجرت کے دکھ 

    مصنفہ: سدرہ منور 

    زیبو بی بی اپنے نئے گھر کی تعمیر پر بہت خوش تھی کچے صحن میں چکنی مٹی کا لیپ کرنے کے بعد گھر کے آنگن میں  نیم کے درخت کے نیچے چارپائی ڈال کے بیٹھی زیبو بی بی اپنے پوتے کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھی۔

    "نی سرداراں! ویر گھر آون والا اے چھیتی روٹی پکا لے۔”

    "اچھا بی بی!” سرداراں نےدھیمے لہجے میں جواب دیا۔ سردارں بی بی اور محمد طفیل زیبو بی بی کا کل سرمایہ حیات تھے۔ دونوں ابھی بہت چھوٹے تھے جب والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کے بعد والد کی  عمر نے زیادہ دیر وفا نہ کی اور وہ بھی بچوں کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔  بیٹے اور بہو کی اس ناگہانی موت پر زیبو بی بی شدید رنجیدہ تھی۔ ان یتیم بچوں کا اللہ کے بعد واحد سہارا زیبو  بی بی تھی۔ ان دونوں کی دنیا بھی صرف اپنی دادی تک  ہی محدود تھی۔ زیبو بی بی کے چھ بیٹے تھے مگر صاحب اولاد ایک ہی بیٹا تھا یعنی محمد طفیل اپنے خاندان کا اکلوتا وارث اور دادی کا لاڈلا تھا۔ محمد طفیل نہایت سیدھا سادہ دنیا کے داؤ پیچ اور دھوکے سمجھنے سے قاصر نوجوان تھا۔

    وقت کا پہیہ چلتا رہا ماہ و سال گزرتے رہے یہاں تک کہ زیبو  بی بی نے اپنی پوتی سردارں بی بی کا نکاح کر دیا۔ اب وہ فکر مند تھی اپنے اکلوتے وارث کی شادی کے لیے۔زیبو بی بی نے بڑے چاؤ سے نیا گھر بنایا۔ یہ سال تھا  اگست 1947 کا زیبو بی بی کے گھر میں خوشیاں مہک رہی تھیں کیونکہ اس کے  پوتے کا رشتہ گاؤں کے  لمبڑدار ہدایت خان کی بیٹی صغری بی بی سے طے ہو گیا تھا۔ سردارں بھی خوشی سے سرشار اکلوتے بھائی کی شادی کی تیاری میں دادی کا ہاتھ بٹانے کے لئے آ چکی تھی پھر وہ دن آ گیا جب  صغری اور محمد طفیل کا نکاح ہو گیا۔ زیبو بی بی اور سرداراں صغری کے جہیز میں آنے والے رنگلے پلنگ، پیتل کے برتن، رنگ برنگے ہاتھ کے بنے بستر اور دیگر سامان سمیٹ رہی تھیں۔ صغری نہایت سمجھدار، معاملہ فہم، دور اندیش اور پرہیزگار خاتون تھی۔ زیبو بی بی نہایت خوش تھی کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئی مگر وہ کب جانتی تھی کہ اس کی یہ خوشی عارضی ہے۔ 

    محمد طفیل چارپائی پہ لیٹی دادی کے پاؤں دباتے ہوئے بتا رہا تھا۔”بی بی بڑا شور مچا ہے کہ ہندوستان کے دو حصے ہو جائیں گے ایک حصہ پاکستان بن جائے گا اور ایک حصہ ہندوستان۔”

    "میرا پتر تو دھیان نال اپنا کام کر ساڈا گھر اے اسیں کتھے جانا اے چھڈ کے اے  بس لوکاں دے منہ دیاں گلاں نے۔” ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ شور تیزی پکڑتا گیا۔ اب زیبو بھی فکر مند ہونے لگی۔ زیبو بی بی اپنی اس فکر کا اظہار اپنے پوتے اور بہو سے کر رہی تھی۔ دونوں نے تسلی دی کہ بی بی اللہ سے دعا کرو اللہ تعالی سب دی خیر کرے۔

    "پر پتر مینوں خیر نظر نہیں آ رہی۔” اسی فکر میں دن گزرتے گئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات خراب ہوتے گئے۔ اب ارد گرد کے گاؤں کے لوگوں نے اپنے مال مویشی اور قیمتی سامان محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ 

    بری خبروں کے آنے کا سلسلہ جاری تھا۔اب اس بات پہ سب کو یقین آ چکا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم ہو گی۔مگر اتنی دردناک یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ معمول کے مطابق زندگی رواں دواں تھی۔ دوپہر کے کھانے کے لیے صغری بی بی تندور پر گرم گرم روٹیاں لگا رہی تھی۔ مٹی کے مٹکے میں ٹھنڈی لسی مکھن سے بھرا پیتل کاپیالہ آنگن کی گھنی چھاؤں اور گھر کے بھولے مکین آنے والی مصیبت سے بےخبر اپنی زندگی میں مگن تھے۔ ایک دم سے باہر سے زوردار آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔

    "نسو نسو اپنی جان بچاؤ جتھے آ گئے نے۔” یہ آوازیں سن کے زیبو بی بی کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔

    "یا اللہ! خیر کری۔” اتنے میں کسی نے زور سے دروازہ پیٹا اور کہا۔

    "طفیل گھر دیا بیبیاں نو لے کے جلدی نکل جا۔ امرتسر ہندوستان داحصہ بن گیا اے۔” محمد طفیل نہایت پریشانی کے عالم میں اندر کی طرف پلٹا گھر کی خواتین کو کوئی بھی بات بتانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ساری بات سن چکی تھیں۔ صورتحال نہایت خوفناک تھی ۔ 

    بلوائیوں نے مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا۔ گاؤں کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہو رہے تھے اور تیزی سے گاؤں سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ زیبوبی بی نے بہو اور بیٹے سے کہا کہ ضروری سامان لو اور جلدی سے نکل جاؤ میری فکر نہ کرو میں گھر کا خیال رکھوں گی۔اس وقت سب کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ یہ فسادات چند دن کی بات ہے اس کے بعد سب اپنے گھروں کو واپس آجائیں گے۔ محمد طفیل اپنی دادی کو چھوڑ کر جانے کے لیے کسی طرح سے تیار نہیں تھا۔ جب کہ حملہ آور تیزی سے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ گاؤں کے مکین قافلے کی صورت میں گاؤں کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔ زیبو بی بی نے زبردستی اپنے بہو اور بیٹے کو قافلے کے ساتھ روانہ کیا۔ تینوں روتے ہوئے ایک دوسرے سے آخری دفعہ ملے۔ صغری بی بی نے پیتل کی ایک دیگچی میں   چند روٹیاں رکھیں قرآن پاک کو سینے سے لگایا اپنے گھر پر آخری نظر ڈالی اور روتے ہوئے بےسروسامانی کے عالم میں منزل سے بے خبر گھر سے چل پڑے۔ 

    جیسے ہی قافلہ گاؤں سے باہر نکلا تو حملہ آور گاؤں میں پہنچ گئے۔ مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا گیا۔ زیبو بی بی کا گھر بھی انہی لاکھوں بد قسمت گھرانوں میں سے ایک تھا۔ زیبو بی بی تن تنہا گھر میں بیٹھی ہے۔ اتنے میں حملہ آور گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل آئے جہیز کے سامان کو بے دردی سے لوٹنا شروع کر دیا۔

    "ہائے رحم کرو میری پوتی دا سامان نہ لے کے جاؤ۔” زیبو بی بی کی چیخ و پکار زمین و آسمان ہلا رہی تھی۔مگر کوئی سننے والا نہیں تھا۔ بوڑھی زیبو قیامت کا یہ منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی  بوڑھی آنکھوں میں قیامت خیز منظر دیکھنے کی سکت کہاں تھی۔ زیبو بی بی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ دوسری طرف قافلہ گاؤں کی حدود سے باہر نکل چکا تھا۔ 

    محمد طفیل نہایت رنجیدہ تھا اپنی دادی کو اس طرح اکیلے چھوڑنے پر، پھر ایک گہری سوچ کے بعد سب کے کہنے اور روکنے کے باوجود وہ گاؤں کی طرف واپس پلٹا سب نے لاکھ منع کیا کہ واپس نہ جاؤ مارے جاؤ گے مگر وہ نہ رکا۔ تیزی سے گاؤں میں داخل ہوتے ہوئے اپنے گھر کی طرف دوڑا مگر گھر کا منظر دیکھ کر کیا قیامت ٹوٹ پڑی بوڑھی دادی پاگل ہو چکی تھی۔ گھر لٹ چکا تھااس نے جلدی سے دادی کو کندھوں پر اٹھایا اور واپس قافلے کی طرف چل پڑا کوئی سواری پاس نہیں تھی۔ موت کا خطرہ ہر طرف منڈلا رہا تھا مگر مارنے والے سے بچانے والا زیادہ بڑا ہے۔ دونوں دادی پوتا بحفاظت قافلے کے ساتھ جا ملے۔ 

    چونکہ زیبو بی بی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی اس لیے وہ  چیخ و پکار کر رہی تھی جو منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا وہ اسی کا ماتم کر رہی تھی۔ قافلہ بغیر کسی منزل کے تعین کے چل رہا تھا۔ مرد عورتوں کے گرد ایک حفاظتی حصار بنا کے چل رہے تھے۔ سردارں بی بی  اپنی دو سال کی بیٹی کو اٹھائے انجان منزل کی طرف چل رہی تھی۔رات کا اندھیرا بے سر و سامانی کا عالم، بھوک اور پیاس کی شدت، موت کے منڈلاتے سائے، خون سے رنگین زمین، معصوم جان کہاں یہ سب سہہ سکتی تھی۔ سردارں بی بی کی بیٹی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔ ایسے کئی معصوم لاشے بےگور و کفن پڑے تھے۔ 

    تین یا چار دن کے بعد یہ لٹا پٹا قافلہ پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوا اور لاہور پہنچ گیا۔ محمد طفیل زیبو بی بی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر امرتسر سے لاہور تک لے آیا۔ اب یہ گاؤں کے تمام لوگ ایک مہاجر کیمپ میں تھے۔ مہاجر کیمپ میں جب قافلے پہنچ رہے تھے تو ہر طرف قیامت صغری برپا تھی۔زخموں سے چور مہاجر سکھوں کے ہاتھوں برباد عورتیں اور چیختے چلاتے ماں باپ سے بچھڑے بچے ہر طرف مہاجر کیمپ میں پھیلے ہوئے تھے۔اللہ کے کرم سے محمد  طفیل اور ان کا پورا گاؤں باحفاظت مہاجر کیمپ تک پہنچ گیا تھا۔ 

    کچھ دن مہاجر کیمپ میں رہنے کے بعد محمد طفیل اپنی بیوی اور دادی کو لے کر صغری بی بی کی بہن عائشہ کے خاندان کے ساتھ لایل پور کے نواحی قصبے ڈجکوٹ میں منتقل ہو گیا۔ جیسے ہی یہ لوگ اپنی منزل پر پہنچے اسی دن زیبو بی بی اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ قیامت کے بعد ایک اور قیامت مہاجر کیمپ میں ملنے والا کفن زیبو بی بی کو پہنا دیا گیا۔ یوں شہر کے قبرستان میں پہلی مہاجر زیبو دفن ہو گئی۔چند کلو گیہوں جو مہاجر کیمپ میں دیے گئے صغری بی بی ہاتھ میں لیے چکی ڈھونڈ رہی ہے۔ تاکہ اس کو پیس کے پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ کوئی اپنا پاس نہیں جو اس غم کی گھڑی میں تین وقت کا کھانا دے سکے۔ 

    صغری بی بی کے گاؤں کے تمام لوگ لائل پور کے ایک اور نواحی گاؤں میں منتقل ہو گئے تھے۔ صغری بی بی کے والد کا شمار گاؤں کے سرکردہ لوگوں میں ہوتا تھا اور محمد طفیل بھی اچھے زمیندار  گھرانے سے تھا۔ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ان کا پیار محبت اور انسیت تھی کہ گاؤں کے لوگ ان کو ڈجکوٹ شہر سے واپس اپنے پاس لے آئے۔ یوں زندگی ایک نئے انداز سے شروع ہو گئی۔ زندگی کا یہ رنگ بڑا اذیت ناک تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے وقت گزرتا گیا مگر صغری بی بی اور محمد طفیل کے ہجرت کے دکھ بر قرار تھے۔

    رات کو کھلے صحن میں بیٹھے صغری بی بی کے پوتے پوتیاں ہر روز فرمائش کرتے بڑی امی کہانی سناؤ آپ پاکستان کیسے آئے؟ اس کے ساتھ ہی آنسوؤں کی ایک لڑی صغری بی بی کی گالوں پر بہنے لگتی اور وہ کہانی سناتے ہوئے بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگتی اور بچے حیران ہو کے دیکھتے کہ بڑی امی رو کیوں رہی ہیں۔کیونکہ وہ اس درد سے نا آشنا تھے جس سے وہ گزری تھی۔ ان کے لیے وہ صرف ایک کہانی تھی مگر انہوں نے اس کہانی کے تمام دکھ اپنی جان پر سہے تھے۔

     میں صغری بی بی کی پوتی   73 سال کے بعد ان کے دکھ کی کہانی کو زیب قرطاس کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی۔ تو ان کا کرب کتنا شدید تھا جنہوں نے یہ سارے منظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ صغری بی بی کا انتقال 2001 اور محمد طفیل کا انتقال 2009 میں ہوا مگر آخری وقت تک ہجرت کے دکھ تازہ تھے۔ آج ہم نے 14 اگست کو میوزیکل نائٹ ون ویلنگ شور شرابہ اور انجوائے کرنے کا دن بنا لیا کیونکہ ہم ان دکھوں تکلیفوں اور بھیانک مناظر کو نہیں جانتے جو اس دن پیش آئے۔ آئیے عہد کریں اگست کے اس مہینے کو جاہلوں کی طرح نہیں بلکہ ایک مہذب قوم کی طرح منائیں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں گے۔ جس مقصد کے لیے یہ سرزمین پاک وجود میں آئی۔ اللہ اس سرزمین کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین

  • تقریظ

    تقریظ

    کرنل (ر) سیّد سجاد نقوی سائیکا ٹرسٹ
    برادر عزیز جنابِ مونس رضا کی عظیم کاوش پہ رائے دینا بالکل ایسے ہی ہے جیسے خود کو فاضل قرار دینا۔ بہرحال چند پرخلوص الفاظ نذر ہیں۔ 
    علم الانساب بلاشبہ بہت محترم اور ہر دور کا رائج علم ہے، عرب ہی اس فن کے بانی اور اس علم میں ممتاز تھے، اجدادِ ختمی مرتبتؐ میں ہر دور میں اس علم کے ماہر موجود رہے، دورِ رسالت مآبﷺمیں حضرت ابو طالب علیہ السّلام علم الانساب کے ماہر اور نقیب تھے اور ان کے بعد جنابِ عقیل ابنِ ابوطالب علیہ السّلام اس علم کے وارث ہوئے۔
    برصغیر میں یہ علم عرب سے ہجرت کر کے وارد ہونے والے سادات کے ذریعے ہی داخل ہوا، وہ لوگ اپنے شجرات اور تاریخ اپنے ساتھ لائے اور اسے مزید لکھتے بھی رہے، برصغیر میں انساب و تاریخ نویسی کی کتابی شکل میں ابتدا ساتویں صدی ہجری سے ملتی ہے مبارک شاہ حسینی نے قطب الدین ایبک کے دور میں بحرالانساب کے عنوان سے کتاب لکھی جسے برصغیر میں اس موضوع پر لکھی جانے والی پہلی کتاب تسلیم کیا جاتا ہے، اور پھر گذشتہ دو صدیوں میں تو یہ علم باقاعدہ ایک سائنس کی شکل اختیار کر چکا ہے اور جنابِ مونس رضا نے بھی جدید سائنسی خطوط پر تحقیق کی ہے جوکہ یقیناً قابلِ ستائش عمل ہے ۔

    Hijraton ki dastan


    ہجرتوں کو مہاجر سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے۔ ان کی ضرورت و افادیت کے ساتھ ساتھ کلفت و حزیمت۔۔۔۔گو کہ ہجرت کے بہت سارے رنگ و رخ ہیں۔ طََلَعَ الْبَدْرُعَلَیْنَا کی تھاپ میں یثرب کو مدینہ منورہ اور خون شہیداں سے نینوا کو کربلا معلی ہجرتوں نے ہی تو بنایا۔ میں خود ربع صدی قبل اٹک کی نگری میں بطور مہاجر وارد ہوا اور اس سرزمین اور اس کے باسیوں نے بالعموم اور کامل پور سیداں نے بالخصوص اپنائیت و اخوت کا سائبان تان دیا آج تک روح محبت و یگانگت کے رواں چشموں سے سیراب ہے۔ جناب مونس رضا کی ذات اس بستی کے علمی و ادبی ذوق کا ایک روشن عکس ہے۔ اس مختصرمگر انتہائی جامع کتاب میں انہوں نے نہ صرف معصومین علیہم السلام کی ہجرتوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا بلکہ نئی نسل کو تاریخِ اجداد سے متعارف بھی کروایا۔۔۔اسلاف کی پہچان بلاشبہ اصلاح و عروج کا باعٹ بنتی ہے۔ تحریر کی روانی اور عربی و فارسی کا شیریں امتزاج بلا شبہ جنابِ مونس رضا کی اعلیٰ ادبی صلاحیتوں کا ثمر ہے۔ سو اس تاریخ و ادب کے چشمہ علم سے ہم بھی سیراب ہوئے۔ اور اُمید ہے کہ آپ بھی اِن شآء اللہ مُستفید ہوں گے، اللہ تعالی مونس بھائی کی علمی صلاحیتوں کو اور زیادہ جِلا بخشے اور ہمیں مزید علمی خزانوں سے آگاہی ہو۔                                                            

    Sajjad Naqvi

    سجاد نقوی البُخاری

    اٹک

    تقریظ

  • ہجرت

    ہجرت

    ایک جگہ سے دوسری جگہ یا ایک وطن سے کسی نئے وطن کی طرف منتقل ہوجانے کو ہجرت کہا جاتا ہے۔

    منٹو نے بھی اس موضوع پر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے اس پاگل خانے کی داستان لکھی تھی جسمیں تقسیم کے بعد مذہبی بنیادوں پر زیر علاج لوگوں کو زبردستی ملک بدر کر دیا گیا تھا ، کہنے کو تو وہ دنیا والوں کی نظروں میں پاگل تھے مگر اپنی مٹی سے جڑے ہوئے تھے اور اسی طرح محبت کرتے تھے جیسے ہم کرتے ہیں. ہجرت خود اختیاری عمل نہیں ہے بلکہ آدمی بہت سے مذہبی ، سیاسی اور معاشی حالات سے مجبور ہوکر ہجرت کرتا ہے ۔ میں نے اس مختصر تحریر میں ہجرت کی مجبوریاں اور اس کے دکھ درد کو موضوع بنایا ہے۔

    دیار غیر میں مقیم کئی ہم وطنوں اور پردیسیوں کو اس تلخ تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔ کئی سال کہیں رہنے کے بعد ہم اس ماحول سے مانوس ہو جاتے ہیں اپنی تہذیب کے رنگوں میں اس دیس کے رنگ بھی شامل کر لیتے ہین اور ان رنگوں میں رنگ جاتے ہیں رچ بس جاتے ہیں۔

    ہجرت

    اس سال کرونا نے جہاں کئی پیاروں کو لقمہ اجل بنایا وہیں لاک ڈاون کی وجہ سے کئی کاروبار متاثر ہوئے اور کمپنیاں بند ہو گئیں جس کی وجہ سے کئی گھروں کے چولہے بھی بجھ گہے شو مئی قسمت اس کی زد میں میرے ایک دیرینہ ساتھی بھی شامل ہیں جو پچھلی چار دہایوں سے یہاں مقیم تھے ہنستا بستا گھر تھا اور ایک دن اچانک نوکری سے فارغ کر دئیے گئے ، کہیں اور کام بھی نہیں ملا کوئی تعلق کام نا آیا ویزہ ختم ہوگیا اور سواے واپس جانے کے اور کوئی راستہ بھی نہیں بچا گھر کا سامان بک گیا اور کچھ تقسیم کر دیا گیا مجھ سے کہنے لگے یار ایک پل میں سب کچھ چھن گیا سب ختم ہوگیا گھر والے بہت پریشان تھے لیکن اب تسلی دیتے ہیں بچے اس وقت ایکسائیٹڈ ہیں اور طرح طرح کے سوال پوچھتے ہیں ۔میں اپنے وطن تو جا رہا ہوں لیکن میں وہاں کبھی رہا نہیں مجھے تو یہ جگہ اپنا وطن لگتا ہے نہ مجھے کوئی وہاں جانتا ہے نہ میں راستوں سے واقف ہوں اپنے ملک جا کر بھی اجنبیت محسوس کروں گا اس لمحے مجھے برصغیر اور دنیا کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی انسانی ہجرت کا خیال آیا کہ اسی طرح لاکھوں لوگ در بدر ہوے قربانیاں دیں اور اب ان کی تیسری نسل اس دکھ اور عذاب سے نا آشنا ہیں جس سے ان کے بزرگ گزرے اور ہر روز کسی راستے کسی شخص کسی چیز کو دیکھ کر ان کو ان کا آبائی وطن یاد آتا ہوگا۔

    اب جب کہ میرا وہ دوست جا چکا ہے لیکن رابطے میں ہے اور اپنے پرانے ساتھیوں کی خبر لیتا ہے ، وہاں ایڈجسٹ نہیں ہو پا رہا لیکن وقت گزر رہا ہے اس تلخ حقیقت کو وہ قبول کر رہا ہےاور کہتا ہے کہ اکثر سوچوں میں گم تصور میں ہم وہاں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں گیا وقت کچھ دیر کیلئیے پلٹ آتا ہے اور دل بہل جاتا ہے مجھے بھی آتے جاتے وہ محلہ جہاں وہ رہتا تھا وہ گلی اور وہ پیار سے سجایا ہوا گھر جو اسی کی یاد سے اب بھی آباد ہے اسی کی یاد دلاتا ہے جیسے مغل بادشاہ تو نہ رہے لیکن تاریخ میں اب بھی موجود ہیں ان عمارتوں ان کھنڈروں میں ۔

    Shandaar bukhari

    شاندار بخاری

    مسقط

    ۱۴۴۲