Tag: چائے

  • لمبی دوڑ 

    لمبی دوڑ 

    لمبی دوڑ 

    صفدر علی حیدری 

    سردیوں کی ایک دھند آلود صبح تھی۔

    سورج ابھی پوری طرح جاگا نہیں تھا۔ شہر کی گلیاں سفید دھند کی چادر اوڑھے خاموش کھڑی تھیں۔ دور مسجد سے فجر کی اذان کی آخری صدائیں فضا میں تحلیل ہو رہی تھیں اور درختوں کی ننگی شاخوں پر شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح لرز رہے تھے۔

    حارث چھت کی منڈیر پر کہنیاں ٹکائے شہر کو دیکھ رہا تھا۔

    اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا، مگر چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔

    وہ شہر کو نہیں، اپنے گزرے ہوئے برسوں کو دیکھ رہا تھا۔

    اسے محسوس ہوتا تھا جیسے ہر چھت، ہر گلی اور ہر دیوار اس کی زندگی کا کوئی نہ کوئی باب جانتی ہو۔

    کچھ فاصلے قدموں سے طے ہوتے ہیں، کچھ برسوں سے، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان اپنے دل کے اندر طے کرتا ہے۔

    حارث کا اصل سفر انہی اندرونی راستوں پر جاری تھا۔

    لمبی دوڑ 

    نیچے گلی میں چند نوجوان دوڑ لگاتے ہوئے گزرے۔ ان کی ہنسی، ان کے قہقہے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی ضد نے اچانک اس کے ذہن کا ایک بند دروازہ کھول دیا۔

    وہ برسوں پیچھے چلا گیا۔

    "حارث… جلدی کرو… دوڑ شروع ہونے والی ہے!”

    وہ شاید دس برس کا تھا۔

    اسکول کے میدان میں سالانہ کھیلوں کا دن تھا۔

    سفید یونیفارم، کینوس کے جوتے اور چہرے پر ایک عجیب سا اعتماد۔

    اسے یقین تھا کہ وہ دوڑ جیت جائے گا۔

    تماشائیوں میں اس کے والد بھی کھڑے تھے۔

    سادہ شلوار قمیص، پرانا سا کوٹ اور چہرے پر وہی مانوس مسکراہٹ۔

    ریس شروع ہوئی۔

    سیٹی بجی۔

    تمام بچے تیر کی طرح نکلے۔

    حارث بھی پوری طاقت سے بھاگا۔

    چند لمحوں کے لیے وہ سب سے آگے تھا۔

    پھر اچانک اس کا پاؤں ایک ابھرے ہوئے پتھر سے ٹکرایا۔

    وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔

    گھٹنے چھل گئے۔

    ہتھیلیوں سے خون رسنے لگا۔

    دوسرے بچے اسے پیچھے چھوڑتے ہوئے منزل کی لکیر پار کر گئے۔

    کسی نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔

    حارث میدان کے بیچ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

    اسے دوڑ ہارنے کا غم کم تھا، سب کے سامنے گر جانے کی شرمندگی زیادہ تھی۔

    اسی لمحے ایک سایہ اس کے سامنے آ کر رکا۔

    وہ اس کے والد تھے۔

    انہوں نے جھک کر پہلے اس کے کپڑوں سے مٹی جھاڑی، پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا پھر پیار سے پوچھا 

    "چوٹ تو نہیں آئی، بیٹا؟”

    حارث نے روتے ہوئے کہا

    "میں ہار گیا ہوں، ابو…”

    والد مسکرائے۔

    "نہیں…”

    انھوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

    "تم ہارے نہیں ہو۔ تم صرف گرے ہو۔”

    حارث نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔

    والد نے میدان کی طرف اشارہ کیا۔

    "ہار وہ مانتا ہے جو گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے سے انکار کر دے۔”

    پھر انھوں نے ایک ایسا جملہ کہا جو آنے والے برسوں میں حارث کی پوری زندگی کی بنیاد بننے والا تھا۔

    "بیٹا… زندگی سو میٹر کی دوڑ نہیں ہوتی۔ یہ لمبی دوڑ ہوتی ہے ، میراتھن ریس ۔ اس میں وہ نہیں جیتتا جو شروع میں سب سے آگے ہو، بلکہ وہ جیتتا ہے جو آخر تک چلتا رہے۔”

    .

  • چائے کا ایک ٹھنڈا کپ

    چائے کا ایک ٹھنڈا کپ

    چائے کا ایک ٹھنڈا کپ

    صفدر علی حیدری

    وہ ہمیشہ چائے کے دو کپ بناتا تھا۔

    ایک ظاہر ہے اپنے لیے، اور دوسرا…

    دوسرا کسی کے لیے نہیں۔

    بس ویسے ہی۔

    ایک کپ اٹھا کر وہ ہونٹوں سے لگا لیتا اور دوسرا کپ اس کے سامنے دھرا رہتا تھا۔ چائے ٹھنڈی ہو جاتی لیکن کوئی اس کو اپنے ہونٹوں کے قریب نہیں لے جاتا تھا، وہ بھی نہیں۔

    پہلے پہل لوگوں نے پوچھا بھی۔

    "دو کپ کیوں بناتے ہو؟”

    وہ مسکرا کر بات ٹال دیتا۔

    "عادت ہے۔”

    حالاں کہ یہ عادت نہیں تھی، یاد تھی۔

    ایسی یاد جو انسان کے گھر سے زیادہ اس کے اندر آباد ہوتی ہے۔

    چائے کا ایک ٹھنڈا کپ

    کبھی اس میز کے دوسری طرف بھی کوئی بیٹھا کرتا تھا۔ چائے کی بھاپ کے ساتھ باتیں اٹھتی تھیں، ہنسی بکھرتی تھی، شکایتیں جنم لیتی تھیں اور پھر انہی کپوں کے درمیان دم توڑ دیتی تھیں۔

    پھر ایک دن وہ شخص چلا گیا، ہمیشہ کے لیے۔

    لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جانے والا تو چلا گیا، اس کے لیے رکھا جانے والا کپ نہیں گیا۔

    سال گزر گئے۔

    کپ بدلتے رہے، چائے کی پتی بدلتی رہی، موسم بدلتے رہے، مگر دوسرا کپ اپنی جگہ قائم رہا۔

    اس روز بھی اس نے دو کپ بنائے۔

    ایک سے چائے پیتا رہا اور دوسرا یونہی سامنے رکھا رہا۔

    اچانک اس کی نظر ٹھنڈی ہوتی چائے پر پڑی تو وہ مسکرا دیا۔

    ایک اداس، تھکی ہوئی مسکراہٹ۔

    "کتنی عجیب بات ہے…”

    وہ خود سے بولا۔

    "اب مجھے تمہارا انتظار بھی نہیں، لیکن تمھارے حصے کی چائے بنانا آج بھی نہیں بھولا۔”

    اور اسے پہلی بار احساس ہوا کہ بعض لوگ زندگی سے چلے جاتے ہیں، مگر روزمرہ کی چند معمولی چیزوں میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں۔

    جیسے پرانی کتاب میں رکھا ہوا سوکھا پھول۔

    جیسے کسی دروازے پر لٹکتی خاموش دستک۔

    اور جیسے ہر صبح میز پر رکھا ہوا…

    چائے کا ایک ٹھنڈا کپ۔

    .

  • تقریر : افسانچہ 106

    تقریر : افسانچہ 106

    تقریر : افسانچہ 106


    صفدر علی حیدری
    ۔۔۔۔
    بیگم صاحبہ نے گلاس میری طرف بڑھایا تو میں نے تھکے تھکے انداز میں اسے تھام لیا۔

    “میں چائے لاتی ہوں آپ کے لیے…”
    تھوڑی دیر بعد وہ چائے لے آئی تو میں نے اسے خوش دلی سے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

    “بہت شکریہ، بڑی طلب ہو رہی تھی۔”

    میں نے کھنکھار کر گلا صاف کیا تو اس نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

    “یہ آپ کے گلے کو کیا ہوا؟ صبح تو بالکل ٹھیک تھے۔”

    میں نے گردن صوفے کی پشت سے ٹکا دی۔

    “سکول میں تقریب تھی… میزبانی میرے ذمے تھی۔ مسلسل بولنا پڑا۔”

    “اچھا؟ موضوع کیا تھا؟”

    میں نے بند ہوتی آواز میں کہا، “خاموشی… ایک نعمت۔”

    وہ ایک لمحے کو مجھے دیکھتی رہی، پھر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور پل بھر میں وہ ہنسی میں بدل گئی۔ ہنستے ہنستے وہ کچن کی طرف بڑھی اور جاتے جاتے کہنے لگی:

    “خاموشی کی نعمت پر اتنی دھواں دھار تقریر کی کہ خود اپنی ہی نعمت گنوا بیٹھے؟ سچ ہے، دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت!”

    تقریر : افسانچہ 106

    میں نے ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر لانے کی کوشش کی، مگر گلے کی جکڑن نے ساتھ نہ دیا۔

    تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی۔ اس کے ہاتھ میں چائے کی پیالی اور نمک ملے نیم گرم پانی کا گلاس تھا۔

    “لیں، پہلے اس سے غرارے کریں…”

    اس نے پیالی میز پر رکھتے ہوئے ہلکے سے کہا،
    “…پھر اس ‘نعمت’ کا عملی تجربہ بھی شروع کر دیں۔ یعنی مکمل خاموشی!”

    میں نے گلاس ہاتھ میں لیا۔ بھاپ اٹھتی چائے کے پیچھے اس کا چہرہ دھندلا سا لگ رہا تھا۔
    گھر کی فضا میں ایک عجب سا سکوت پھیل رہا تھا—جیسے لفظ تھک کر اپنی جگہ بیٹھ گئے ہوں۔

  • محبت، مشاہدہ، معنویت

    محبت، مشاہدہ، معنویت

    محبت، مشاہدہ، معنویت

    کہانی محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ داخلی کرب، منتشر احساسات اور گہرے مشاہدے کی تخلیقی تشکیل ہے۔ جب ایک تخلیق کار زندگی کو صرف دیکھتا نہیں بل کہ اس کے باطن میں اتر کر محسوس کرتا ہے تو اس کی تحریر بیان سے آگے بڑھ کر تجربہ بن جاتی ہے۔ ادب کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ قاری کو واقعات نہیں سناتا بل کہ اسے ان واقعات کے اندر لے جاتا ہے۔ اسی تناظر میں رابعہ حسن کا افسانوی مجموعہ "تین دن محبت” کے معاصر اردو افسانے میں ایک بامعنی اور فکری اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ اس مجموعے کے افسانے اس امر کا ثبوت ہیں کہ جب مشاہدہ بےدار ہو، احساس سچا ہو اور فنی شعور پختہ ہو تو کہانی محض قصہ نہیں رہتی بل کہ سماج اور باطنِ انسان کی دستاویز بن جاتی ہے۔

    رابعہ حسن کے ہاں مشاہدہ سطحی نہیں تِہ دار ہے۔ وہ کرداروں کے چہروں سے آگے بڑھ کر ان کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ، محرومی اور خواہش کو محسوس کرتی ہیں۔ ان کے افسانے "دوسری محبت” کی یہ سطور ملاحظہ ہوں:

    "چیچک نے اس کے چہرے کو داغ کر رکھ دیا تھا اور اس داغے ہوئے چہرے نے اس کے دل کو بھی داغ دیا تھا۔ بچے اسے اپنے کھیل میں تو شامل کرتے مگر ساتھ ہی ساتھ اس کے دل سے بھی کھیل جاتے۔”

    یہاں چیچک کا داغ محض جسمانی بدصورتی نہیں سماجی بے حسی کا استعارہ ہے۔ چہرے کا داغ دل کے داغ میں تبدیل ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ ظاہری نَقص کو داخلی محرومی میں بدل دیتا ہے۔ بچے کھیل میں شامل کرتے ہیں مگر دل سے کھیل جاتے ہیں۔یہ جملہ معصومیت کے پردے میں چھپی غیر ارادی سنگ دلی کی عکاسی کرتا ہے۔ رابعہ حسن کی فنی مہارت یہ ہے کہ وہ کسی جذباتی شور یا مبالغے کے بغیر سادہ الفاظ میں گہری معنویت پیدا کر دیتی ہیں۔ یہاں مشاہدہ صرف منظر تک محدود نہیں بلکہ اس منظر کے پس منظر میں چھپی سماجی ذہنیت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

    اسی طرح "پھلاں دے رنگ کالے” میں طبقاتی غرور اور ذات پات کے امتیاز پر نہایت بلیغ طنز ملتا ہے۔ جب رضیہ سے کہا جاتا ہے:

    "ہم شریف اور معزز لوگ ہیں جو صرف اپنے جیسے شریف لوگوں میں رشتہ کرتے ہیں نہ کہ کمہاروں میں۔”

    تو "شریف” اور "معزز” جیسے الفاظ اپنی لُغوی معنویت کھو کر طنزیہ علامت بن جاتے ہیں۔ یہاں شرافت دراصل سماجی تکبر کی نِقاب ہے۔ کمہار کا حوالہ اس طبقاتی تقسیم کی نشان دہی کرتا ہے جو انسان کو اس کی محنت یا کردار سے نہیں بلکہ پیشے اور حسب نسب سے پرکھتی ہے۔ افسانے کا سب سے طاقت ور لمحہ وہ ہے جب رضیہ "نمکین سا قہقہہ” لگا کر کال کاٹ دیتی ہے۔ یہ قہقہہ محض ہنسی نہیں بھرپور احتجاج ہے اور ایک خاموش مگر کاٹ دار جواب۔ اس ایک منظر میں رابعہ حسن نے پورے سماجی ڈھانچے پر طنز کر دیا ہے۔

    محبت، مشاہدہ، معنویت

    افسانہ "ایک کپ چائے کا” تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے زندہ اور تلخ مسئلے کو موضوع بناتا ہے۔ مگر یہاں بھی مصنفہ مایوسی کو حاوی نہیں ہونے دیتیں۔ افسانے کا مرکزی کردار جب چائے خانہ کھولتا ہے تو یہ عمل محض معاشی ضرورت نہیں بل کہ خود داری اور استقلال کا اعلان ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:

    "اس نے اس محلے میں ایک چھوٹا سا صاف ستھرا چائے خانہ کھول دیا۔ جہاں پر کچھ کتابیں بھی اس نے گھر سے لا کر الماری میں سجا دی تھیں… دل میں ایک کسک سی تھی مگر وہ ذرا بھی ملول نہ ہوا۔ اس نے دیانت داری اور ایمان داری سے کام کیا۔ نتیجتاً اس کا چائے خانہ چل پڑا۔ کسٹمر اپنے ذوق کے مطابق چائے سے بھی لطف اندوز ہوتے اور مطالعہ بھی کرتے۔”

    یہاں چائے خانہ علامتی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ جگہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں علم اور مکالمے کا مرکز بن جاتی ہے۔ کتابوں کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ فکری بالیدگی اور رزقِ حلال ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایمن کی رخصتی اور چائے خانے کا افتتاح ایک ہی دن ہونا تقدیری تضاد کی فضا پیدا کرتا ہے مگر کردار کی خود داری اسے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ اس افسانے کا اختتام امید اور عمل کی قوت پر یقین کو مستحکم کرتا ہے۔

    "پارسا” اس مجموعے کا فکری عروج ہے۔ یہ افسانہ طبقاتی منافقت اور اخلاقی دوغلے پن کو بے نِقاب کرتا ہے۔ سبینہ اور پارسا کی جِدوجُہد محنت اور صبر کی علامت ہے جہاں معاشرہ ان کی غربت میں بے اعتنائی برتتا ہے اور خوش حالی میں کردار کُشی پر اتر آتا ہے۔ یہاں بے ساختہ سعادت حسن منٹو کا وہ قول یاد آتا ہے کہ معاشرہ عورت کی خود مختاری پر تو معترض ہوتا ہے مگر اس کے استحصال پر خاموش رہتا ہے۔ افسانے کے اختتام پر "پارسا” بہ طور نام نہیں بہ طور صفت معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ آگ کا منظر صرف مکان کو نہیں جلاتا اس سماج کی کھوکھلی اقدار کو بھی عیاں کر دیتا ہے جو خود کو "صاحب” کہلوانے کا اہل سمجھتا ہے مگر حقیقی پارسائی سے محروم ہے۔

    رابعہ حسن کی زبان ان کے فنی شعور کا اہم جزو ہے۔ ان کی نثر نہایت سادہ، رواں اور عام فہم ہے۔ وہ ثقیل اور پیچیدہ الفاظ کے استعمال سے گریز کرتی ہیں اور قاری کو بوجھل نہیں ہونے دیتیں۔ کہیں کہیں انگریزی الفاظ کا برمحل استعمال ان کے اُسلوب کی عصری جہت کو نمایاں کرتا اور شہری زندگی کی فضا کو حقیقت کے قریب تر بنا دیتا ہے۔ یہ امتزاج نہ تو تصنع پیدا کرتا ہے اور نہ ہی زبان کی لطافت کو متاثر کرتا ہے بل کہ کہانی کو موجودہ عہد سے ہم آہنگ بنا دیتا ہے۔

    مجموعی طور پر "تین دن محبت کے” ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے جو محبت کو محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ انسانی وقار، خود داری اور سماجی شعور کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ یہاں محبت کبھی احتجاج بن جاتی ہے، کبھی امید، کبھی خود شناسی اور کبھی آئینہ۔ رابعہ حسن کے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سچا ادب مشاہدے کی آنکھ اور احساس کی صداقت سے جنم لیتا ہے۔ ان کے ہاں کہانی محض بیان نہیں بل کہ باطن کی گواہی ہےایسی گواہی جو قاری کے دل میں دیر تک گونجتی رہتی ہے۔

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار 

    18فروری2026ء

    .

  • دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    جب سے ہوش سنبھالا ابو کو ہمیشہ سنجیدگی میں دیکھا۔ طبیعت میں چستی تھی اور قدموں میں پھرتی مگر چہرہ ہمیشہ خاموش جیسے کسی نہ ختم ہونے والے غور و فکر میں ڈوبا ہوا ہو۔ فجر کی اذان کے ساتھ ہی ان کی آنکھ کھل جاتی۔ وضو کر کے مسجد کی طرف روانہ ہوتے اور واپسی پر سورۂ یاسین کی تلاوت ان کا معمول تھا۔ ایک پیالی چائے اور ایک آدھ بسکٹ کے ساتھ دن کا آغاز کرتے اور ٹھیک پانچ بجے گھر سے نکل جاتے۔

    چار گھنٹے کا روزانہ سفر وہ بھی عوامی بس میں جو ہر پانچ منٹ بعد رکتی۔ گرمی، سردی، ہجوم اور تھکن سب ان کے ساتھ سفر کرتے مگر کبھی لبوں پر شکوہ نہ آیا۔ ذمہ داریوں کا بوجھ اور محنت کی لگن نے ان کے حوصلے کو کبھی پست نہ ہونے دیا۔

    وقت گزرتا گیا۔ مہنگائی نے آہستہ آہستہ پنجے گاڑ لیے۔ آٹھ بیٹیاں اور ایک بیٹا جو بی ایس کا طالب علم تھا گھر کی ضروریات بڑھتی گئیں۔ گزارہ مشکل ہونے لگا۔ ایک دن ابو نے اچانک فیصلہ کیا کہ چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جائے تاکہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے ہو سکیں۔

    گاؤں میں ہمارا واحد گھر تھا اور ابو کا سب سے بڑا شوق یہ تھا کہ ان کی بیٹیاں اعلا تعلیم حاصل کریں۔ معاشرے کی تنگ نظری، طعنوں اور رمزیہ باتوں کے باوجود انھوں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ لوگ کہتے،

    “ بیٹیوں کو اتنا پڑھا کر کیا کرنا ہے؟”

    مگر ابو مسکرا دیتے۔

    “علم کبھی ضائع نہیں جاتا۔” وہ مختصر جواب دیتے۔

    انھوں نے نہ دن دیکھا نہ رات۔ رات کے دو بجے روزگار کی فکر میں نکل جانا اور اگلی رات دس بجے تھکے قدموں کے ساتھ لوٹنا یہ ان کی زندگی کا معمول بن گیا۔ گرمیوں کی جھلسا دینے والی لو ہو یا سردیوں کی یخ بستہ ہوا وہ اپنے سکون پر اولاد کے سکون کو ترجیح دیتے رہے۔

    اکثر بھائی ان سے کہتے:

    “ابو جان! آرام صحت کے لیے ضروری ہے۔ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جایا کریں۔ آپ کو دن بھر خون پسینہ بہاتے دیکھ کر دل دکھتا ہے۔”

    بیٹے کے یہ الفاظ ان کے لیے مسکراہٹ کا باعث بنتے۔ ایک لمحے کو یوں لگتا جیسے برسوں کی تھکن کسی نرم ہوا میں بدل گئی ہو۔

    وہ ہمیشہ کہتے،

    “برے وقت کا کوئی علم نہیں ہوتا بیٹا! میانہ روی اختیار کرو اور کام جو بھی محنت سے کیا جائے اس کا ثمر ضرور ملتا ہے۔”

    شاید زندگی کے تلخ تجربات نے انھیں سکھا دیا تھا کہ وقت کے ظالمانہ فیصلوں کے آگے کبھی کبھی سر جھکانا پڑتا ہے مگر ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

    دھوپ کا سایہ (افسانہ)

    اللہ کا کرم ہوا جیسے جیسے تعلیم اور ضروریات بڑھتی گئیں کاروبار میں بھی برکت آنے لگی۔ ایک عام سا ملازم جو کل تک بسوں کی دھول کھاتا تھا اب اپنے کاروبار کا مالک بن چکا تھا۔ ابو کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون دکھائی دینے لگا۔ سنجیدہ آنکھوں کے پیچھے چھپا خواب اب حقیقت بنتا نظر آتا تھا۔

    انھوں نے اپنی خواہشیں جلا کر بچوں کے خواب روشن کیے تھے۔ ان کے دیے کی روشنی کبھی مدھم نہ پڑی۔مگر شاید قسمت کی آزمائش ابھی باقی تھی۔

    زندگی میں ایک ٹھہراؤ آیا ہی تھا کہ تقدیر نے نئی آزمائش کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ مالی خوش حالی کے بعد اب بیٹیوں کے نصیب امتحان میں ڈال دیے گئے۔ ابھی ماں باپ نے سکھ کا سانس لینا شروع ہی کیا تھا کہ ایک دن اچانک شور برپا ہوا۔

    “ابا! مرحا کا آنگن اجڑ گیا ہے…”

    بھائی کی کپکپاتی آواز نے فضا کو چیر دیا۔ لمحہ بھر میں گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ابو کے چہرے کی چمک جیسے کسی نے چھین لی ہو۔ جوانی کی محنت سے کمائی ہوئی روشنی یک دم مدھم پڑ گئی۔

    مرحا کی شادی کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا۔ ہم سب اسے ہنستا مسکراتا دیکھ کر مطمئن تھے۔ مگر قسمت نے اس کے حصے میں جدائی لکھ دی تھی۔ اس کا گھر ٹوٹ گیا تھا وہ خواب جو ابو نے اپنی ہتھیلیوں پر رکھ کر رخصت کیا تھابکھر چکا تھا۔

    ابو خاموش بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھےلیکن آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ شاید آنسو بھی ان کی ہمت سے ڈر گئے تھے۔

    “اللہ کے فیصلے قبول کرنے پڑتے ہیں…” انھوں نے دھیمی آواز میں کہا۔ان اس آواز میں برسوں کی تھکن چھپی تھی۔

    آنگن کے پھول مرجھانے لگے تھے۔ وہ باپ جو دھوپ میں جل کر اولاد کے لیے سایہ بنا رہا آج خود بے سایہ محسوس ہو رہا تھا۔ اس دن پہلی بار لگا کہ ابو بھی انسان ہیں محض حوصلے کا استعارہ نہیں۔

    باپ جیسی ہستی واقعی ان مول ہوتی ہے۔ ان کے قدموں کی دھول میں عجب سی خوش بو ہوتی ہے جو پورے آنگن کو مہکا دیتی ہے۔ ان کی موجودگی زندگی کے کڑے حالات کا مقابلہ آسان بنا دیتی ہے۔اس دن میں نے دیکھا کہ وہ مضبوط شجر بھی اندر سے زخمی ہو سکتا ہے۔

    وقت گزرتا رہا۔ مرحا نے صبر کا دامن تھاما۔ ابو نے ایک بار پھر ہمت باندھی۔

    “بیٹی کا گھر ٹوٹا ہے اس کی زندگی نہیں۔” انھوں نے کہا

    اور یوں وہ پھر سے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔

     اس واقعے کے بعد میں نے ابا کے چہرے پر وہ بے فکری والی مسکراہٹ کبھی نہ دیکھی۔ سنجیدگی پہلے سے گہری ہو گئی تھی جیسے آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے خزاں اتر آئی ہو۔

    پھر بھی وہ ہر صبح فجر کی اذان پر اٹھتے ،وضو کرتے ، مسجد جاتے اور سورۂ یاسین کی تلاوت کرتے ہیں۔ وہ اب بھی چائے کے ساتھ ایک بسکٹ لے کر زندگی کی بس میں سوار ہو جاتے ہیں۔

    فرق بس اتنا ہے کہ اب میں ان کے چہرے پر سنجیدگی کے پیچھے چھپی دعا کو پڑھ سکتی ہوں۔

    وہ دعا جو ہر باپ اپنے بچوں کے لیے مانگتا ہے۔

    “یا اللہ! میری اولاد کو دھوپ نہ دکھانا چاہے مجھے ساری عمر جلنا پڑے…”

    .

  • خوابِ ٹی ہاؤس

    خوابِ ٹی ہاؤس

    شاعر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    خواب دیکھتا رہوں میں، ہو ٹی ہاؤس بھکر میں
    روشنی کی کرنیں، ہوں کتابوں کے سحر میں

    ہر کونے میں بیٹھک، علم کی باتیں ہوں
    شاعری اور خیال، ہر دل کی راتیں ہوں

    چائے کی خوشبو، اور لفظوں کی محفل
    ہر دل میں جگمگ، ہر نظر میں سہل

    گزرے لمحے یادوں میں، باتیں اور شعر ہوں
    ہر دل سے جڑیں، ہوں محفل کے اثر ہوں

    یہ ٹی ہاؤس فقط عمارت نہیں رہا
    یہ شہر بھکر کی روح، اور خواب ہمارا رہا

    میں اور تو بیٹھیں، قلم اور خیالات میں
    ہر لفظ موتی ہو، ہر خیال کی کیفیت میں

    خوابِ ٹی ہاؤس

  • دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا

    دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا

    دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا


    اشوک کمار "خاموش” ،تھرپارکر

    جناب فرہاد احمد فگار کے اس شعر سے بات آغاز کرتے ہیں۔

    دھرتی کے علاوہ تو گزارا نہیں ہونا
    رہنا ہے مجھے خاک ستارہ نہیں ہونا

    وہ ٢٩ جون سن ٢٠٢٥ع کی ایک خوب صورت شام تھی اور بارش رُک رُک کر برس رہی تھی. موسم بالکل ایسا ہی تھا جیسے محبوب اپنی شرارتی اور نخریلی نگاہوں سے دیکھتا ہو.
    ہم وادئ کشمیر کے محبوب دریائے جہلم کے کنارے پر آباد شہر مظفر آباد کی سپریم کورٹ چوک چھتر کے قریب ایک پہاڑی پر موجود مہربان طبیعت میڈم خضرا منظور کے بہت پُر آسائش اور اچھی سروس کے ساتھ بہت صاف ستھرے ماحول والے سیون الیون گیسٹ ہاؤس میں موجود تھے۔گیسٹ ہاؤس کا سارا اسٹاف بہت مہرباں تھا اور نئے آدمی سے ایسے پیش آتے جیسے صدیوں پرانا تعلق جڑا ہوا ہے. خیر……!
    آزاد جموں کشمیر میں میرا یہ پہلا بسیرا تھا۔سیون الیون گیسٹ ہاؤس میں ہم یہاں کشمیر کے ایک معروف اور بڑے شاعر ، نقاد، محقق اور نام ور استاد محترم  ڈاکٹر فرہاد احمد فگار  صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔
    فرہاد احمد فگار صاحب کا اردو ادب میں بڑا نام ہے۔آپ گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں ضلع مظفرآباد میں اردو کے لیکچرار ہیں۔ اردو غزل کے بہترین شاعر کے ساتھ نقاد اور محقق بھی ہیں۔آپ کی نعت کا ایک شعر ہے کہ :

    گاؤں آباد ہوئے، شہر بسے، آپؐ آئے
    دشت گلزار بنے، پھول کھلے، آپؐ آئے

    جیسے ہی بارش تھوڑی سی رکی تو محترم فگار صاحب تشریف لائے۔ گیسٹ ہاؤس کےباہر رک کر مجھے کال کی اور کہا کہ موسم بہت اچھا ہے اور چلیں باہر کہیں چائے پیتے ہیں.
    میں نے اپنے دوستوں کو بھی باہر بلایا اور آپ کے ساتھ چل پڑے۔
    سبز پہاڑیوں اور دریائے جہلم کی بانہوں میں بسے ہوئے شہر مظفرآباد کی خوب صورت سڑکوں پر گذرتے ہوئے شہر سے باہر چرواہا کے مقام پر دریا کے کنارے ایک خوب صورت ہوٹل "مہمان سرائے” پر آ پہنچے۔
    چائے کا آرڈر دے کر ہم گفت گو میں محو ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد چائے اور باقرخانی آئی۔ ہم نے چائے کے ساتھ باقرخانی بھی کھائی۔ باقرخانی کشمیر کی مشہور سوغات ہے جو پراٹھے کی طرح ہوتی ہے اور چائے کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ یہ بہت لذیذ اور مزے دار ہوتی ہے۔

    دھرتی کے علاوہ گزارہ نہیں ہونا

    اس سے بھی جو زیادہ مزے دار بات تھی وہ یہ تھی کہ قریب ہی سے دریائےجہلم کی لہروں کا ہلکا سا شور تھا اور ساتھ میں سر فرہاد احمد فگار صاحب کی پُر وقار گفت گو تھی۔ آپ کے اندازِ گفت گو میں قدرت نے ایک ایسی موسیقی رکھی ہے بس کیا کہیں………!
    آپ بات کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ جیسے ہوا کے جھونکے کے ساتھ پہاڑوں سے گرتے ہوئے چشمے کی مدھم آواز آ رہی ہو۔ ہر بات ایک دلیل کے ساتھ اور ہر دلیل ایک خوب صورت شعر کے ساتھ۔
    اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے اردو ادب کا وسیع مطالعہ کیا ہے۔ اردو کے بہت پرانے اشعار زبانی یاد ہیں۔
    مطالعے کے ساتھ حافظہ بھی کمال کا ہے۔
    جنت کے ٹکڑے جیسی خوب صورت وادئ کشمیر کے مشکوک موسم اور رک رک کر برستی بوندوں کے ساتھ ہم بھی واپس گیسٹ ہاؤس پر آ ٹھہرے۔

    حضور آپ پہ قربان ہے یہ تن، من، دھن
    زبان ہی سے نہیں، دل سے ہم یہ کہتے ہیں
    فرہاد احمد فگار

    رات ہوتے ہی ایک اور دوست سالک محبوب اعوان بھی تشریف لائے۔ آپ بھی دو تین کتب کے خالق ہیں۔ آپ میرے لیے بھی کتب کا تحفہ لائے۔ نہ صرف ان کے نام میں محبوب لفظ ہے بل کہ آپ ایک محبوب شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ آپ کے اندازِ گفت گو سے محبوبیت کی خوش بُو آ رہی تھی۔ فرہاد صاحب کا ایک شعر ہے کہ :

    میں کنارے پہ رات کاٹوں گا
    شجرِ غم کے پات کاٹوں گا

    اب رات کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور ہم ساتھ میں گیسٹ ہاؤس کی پہاڑی سے اترے اور لوئر چھتر دریا کے کنارے پر آئے۔ رات کی مدھم روشنی اور دور دور تک پھیلی ہوئی بتیوں کی بارش، کہیں اوپر تو کہیں نیچے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہم آسمان پر سفر کر رہے ہیں۔ ہم دریا کے کنارے ایک ایسی جگہ پر رکے جہاں پہاڑ کے اندر سے بنائی ہوئی سرنگ سے دریائے کنہار آ کہ دریا جہلم سے ایسے چھپ چھپ کر مل رہا تھا جیسے ایک عاشق چھپ چھپ کر اپنے محبوب سے ملتا ہے۔ لہروں کا ہلکا سا شور جیسے کہ کوئی ستار کی تاروں سے راگ پہاڑی چھیڑ رہا ہو…..!

    یہ تصور ہی تسلی مجھے دیتا ہے فگارؔ
    چھٹیاں ہوں گی تو جاؤں گا حسن کی جانب
    فرہاد احمد فگار

    سارا نظارا دیکھ کر ہم سر فرہاد احمد فگار صاحب کے گھر پہنچے۔ آپ کے والد صاحب، بڑے بھائی شہزاد احمد اور چھوٹے چھوٹے بچوں نے ہمارا خیر مقدم کیا۔
    ہم نے اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھایا۔ گھر کا بنا ہوا بہت لذیذ کھانا کھا کر اور کشمیری بھائیوں کا اپنا پن دیکھ کر بہت سکون محسوس ہوا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ہمارا صدیوں پرانا تعلق ہے۔

    کھانا کھانے کے بعد سالک صاحب اور فگار صاحب ہمارے ساتھ گیسٹ ہاؤس تک آئے اور آتے وقت ہم نے پہاڑی کے اوپر پی سی ہوٹل سے مظفرآباد شہر کا نظارہ کیا۔ ہم لوگ بہت لطف اندوز ہو کر واپس آئے۔
    صبح جیسے ہی آنکھ کھلی تو ایک اور دوست کی کال آئی اور کہنے لگے کہ سر جی آپ سے ملنا بھی ہے اور ناشتا ہمارے ساتھ کرنا ہے۔ وہ تھے عتیق الرحمان صاحب!
    ہم کمرے سے نیچے آئے اور عتیق الرحمان صاحب سے ملاقات کی.
    کچھ دیر گپ شپ کے بعد فگار صاحب بھی آ پہنچے۔ ہم نے ساتھ میں مل کر ناشتا بھی کیا۔
    وہی اندازِ گفت گو، وہی شعروں کی برسات، ثقافتی باتیں، موسیقی، دریاؤں کی کہانیاں، کتابوں کے حوالے موضوع ِگفت گو تھے۔
    آخر کار الوداع کا وقت آ گیا اور ہماری کچہری کے موضوعات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
    آخر میں سر فرہاد احمد فگار صاحب نے مجھے اپنی کچھ کتابیں تحفے میں دیں.
    سالک محبوب صاحب، عتیق الرحمان صاحب اور فرہاد احمد فگار صاحب نے ہمیں اتنا اپنا پن دیا کہ ہمارے پاس دینے کے لیے اجرک اور سندھی ٹوپی کے علاوہ اور کوئی بھی قیمتی چیز نہ تھی.
    تو میں نے اجرک اٹھائی اور سر فرہاد احمد فگار صاحب اور عتیق الرحمان صاحب کے کندھوں پر رکھ دی.
    ان کے لبوں پر ایک لافانی مسکان دیکھ کر محسوس ہوا کہ ایک ثقافت دوسری ثقافت سے بے تحاشا پیار کرتی ہے۔
    میں دل میں یہ خیال لے کر الوداع ہوا کہ مجھے وادئ کشمیر ہمیشہ سندھو ماتھری کی طرح عزیز رہے گی اور دریائے جہلم مجھے سندھو دریا جیسا محبوب لگے گا.

    اور ہمارا سفر دریائے جہلم سے الوداع ہو کر دریائے کنہار کے کنارے سے رواں تھا. اب ہمیں گڑھی حبیب اللہ سے ہو کر وہاں سے بالاکوٹ جانا تھا.
    بلند پہاڑیاں، پہاڑیوں سے ڈبکیاں لگاتے ہوئے بادل، نانگن کی طرح بل کھاتی سڑکیں، چاروں طرف بکھرے ہوئے ہرے بھرے رنگ ، ان رنگوں میں بھری خوش بُو، ساتھ ساتھ بہتا ہوا دریا، دریا میں گنگناتا ہوا پانی، پانی میں ناچتی ہوئی لہریں، لہروں پر تیرتے ہوئے عکس، ٹھنڈی ہوائیں ، لوکل ٹرانسپورٹ کا مزا، سادہ سے لوگ، یہ سب نظارے ہمارے سفر کے ساتھی تھے. آخر میں ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی ایک غزل:

    کوئی دیوار اٹھائی نہ کوئی در رکھا
    اینٹ کو تکیہ کیا ریت کو بستر رکھا

    پہلے آنکھوں میں ترا عکس اتارا میں نے
    اور ان آنکھوں کو شیشے میں سجا کر رکھا

    اس سے تسکین نہیں ہوگا اضافہ دکھ میں
    دشت کا نام اگر ہم نے سمندر رکھا

    پھول بھجوائے کبھی شعر کیے نام ترے
    ہم نے اے شخص تجھے یاد ہے اکثر رکھا

    درمیاں اپنے فقط روح کی دوری بچی تھی
    ہم نے پھر بھی ترے پہلو میں نہیں سر رکھا

    ورنہ ہر اگلا قدم پیچھے ہٹاتا مجھ کو
    شکر صد شکر کہ کچھ دھیان نہ گھر پر رکھا

    مشورہ چاہیے تھا کل ترے بارے میں مجھے
    نہ ملا کوئی تو آئینہ برابر رکھا