Tag: نوشہرہ

  • ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    اٹک (نمائندہ خصوصی ملک کامران ) علم و ادب کی فضاؤں میں ایک خوشگوار اضافہ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ، خیبر پختون خوا کے شعبۂ اردو کی ہونہار طالبہ عَلِینہ مَسعُود نے اپنے ایم فل کے تحقیقی مقالے کی کامیاب تکمیل کی۔

    یہ تحقیقی مقالہ معروف نعت گو شاعر سید حُب دار قائم کے تین نعتیہ مجموعوں مدحِ شاہِ زمن، صبحِ نعت اور روحِ جمال کے فکری و فنی محاسن پر مبنی ہے، جس کا موضوع تھا:

    "سید حُب دار قائم کی نعت گوئی علمِ بیان و بدیع کے تناظر میں”

    مقالہ نگار نے اپنی تحقیق میں نعتیہ شاعری کے لطیف اسالیب، صنائع بدائع اور بیان کی دل نشین جہتوں کو نہایت باریک بینی سے اجاگر کیا ہے۔ سید حُب دار قائم کی نعت گوئی کو علمی و ادبی اصولوں کی روشنی میں پرکھتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا کہ ان کا کلام عشقِ رسول ﷺ کی سچائی، فنی پختگی اور لفظی حسن کا حسین امتزاج ہے۔

    اس تحقیقی سفر میں رہنمائی کے فرائض لیکچرر اردو ڈاکٹر سبحان اللہ نے انجام دیے، جن کی علمی بصیرت اور رہنمائی نے مقالے کو وقار بخشا۔

    ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ میں اردو تحقیق کا نیا سنگِ میل

    مقالے کے جائزے کے لیے منعقدہ اجلاس میں معزز ججز میں ڈاکٹر سید طاہر علی شاہ (صدر شعبہ اردو)، ڈاکٹر سبحان اللہ (نگران مقالہ)، ڈاکٹر نعیم اللہ (ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سوشل سائنسز) اور ڈاکٹر راحیلہ شامل تھے۔ تمام اساتذہ نے مقالے کو تحقیقی و ادبی لحاظ سے ایک قابلِ قدر اضافہ قرار دیا۔

    اس موقع پر مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ نعتیہ ادب ہماری روحانی و ادبی روایت کا نہایت اہم حصہ ہے، اور اس نوعیت کی تحقیقات نہ صرف اردو ادب کو وسعت دیتی ہیں بلکہ نئی نسل میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے جمالیاتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔

    علینہ مسعود کی یہ کاوش نہ صرف ان کی ذاتی علمی کامیابی ہے بلکہ شعبۂ اردو کے لیے بھی باعثِ افتخار ہے، جو تحقیق و تخلیق کے میدان میں مسلسل اپنی شناخت مضبوط کر رہا ہے۔

  • گل بخشالوی کا اردو شعری مجموعہ ” سوچ سفر”

    گل بخشالوی کا اردو شعری مجموعہ ” سوچ سفر”

    گل بخشالوی کا اردو شعری مجموعہ ” سوچ سفر”

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    شعری مجموعہ ” سوچ سفر” روایتی شاعرانہ اظہار کی حدود سے ماورا ایک پشتون شاعر کی اردو شاعری ہے۔ گل بخشالوی کی خواہش تھی کہ میں ان کے مجموعہ کلام پر سیر حاصل تبصرہ لکھوں ، ادب دوست گل بخشالوی کی اس خواہش کا احترام لازم تھا ، میں بخشالوی کی ادبی خدمات کا شیدائی ہوں ایک پختو ن اردو ادب سے اپنے پیار میں اس قدر صادق اور امین ہے ، میں جانتا ہوں ہم پختونوں کو اپنے پختوں بھائی پر ناز ہے
    گل بخشالوی کی ادبی خدمات کا معترف تو میں ہوں ،میں انکی شاعری بھی پڑھتا اور سنتا رہتا ہوں لیکن میری آسانی کے لئے بخشالوی نے شعری مجموعہ "سلگتے خواب” میں اپنی شاعری مجھے ارسال کی اور میں نے گہرائی میں بخشالوی کی شاعری کو پڑھا اور ان کی شاعری کو پرکھا ، تب میں قلم اٹھایا اور لکھنے لگا

    گل بخشالوی


    شعری مجموعہ "سلگتے خواب” میں گل بخشالوی نے شاعرانہ شکلوں کی متنوع رینج کو شامل کیا ہے "سلگتے خواب” میں ، حمد، نعت، غزل، نظم، اور اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے دل سے لکھی گئی شاعری ہے۔ کتاب کا آغاز ایک دل کو چھونے والی حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے اس کے بعد نعت رسول مقبول کو شامل کیا گیا ہے، جس میں گل بخشالوی کی روحانی گہرائی اور تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔ شاعر کی داستان حیات سے میں بخوبی واقف ہوں ، اس کی پیدائش بخشالی ضلع مردان، خیبر پختونخواہ سے لے کر اپنی ماں اور اپنے پیارے ملک پاکستان کے لیے اس کی گہری محبت تک کی کہانی کو شاعری کے انداز میں اس کتاب ”سلگتے خواب” میں شامل کیاگیا ہے۔ وہ اپنی ایک تالیف میں اپنی ماں کو اپنی پہلی محبت قرار دے کر لکھتے ہیں کہ ”میری پہلی محبت میری ماں ہے۔ شعور کی دہلیز پر پاکستان کی سوہنی دھرتی نے میرا استقبال کیا، ماں اور ماں دھرتی سے میری محبت میری زندگی کا حسن ہے۔صوبہ خیبر پختون خوا کا باشندہ ہوں، مردان کے مضافاتی گاﺅں بخشالی میں 30 مئی 1952ءکو پیدا ہوا، والدین نے میری شناخت کیلئے میرا نام سبحان الدین رکھا اور گلشن ادب میں آ ج میری پہچان گل بخشالوی ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول نوشہرہ میں آ ٹھویں جماعت تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی میرے والد محترم اسرار الدین (مرحوم)، اے سی سینٹر نوشہرہ کے چونگی نمبر2میں عبدالحکیم خان کے مال گودام میں ملازم تھے غربت کو میں نے سنا نہیں بلکہ انتہائی قریب سے دیکھا ہے”۔
    گل بخشالوی کی ابتدائی زندگی پاک فوج میں ان کے دور میں ایک بیداری سے گزری۔ ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ انکاو نٹر نے مارشل لاءاور جمہوریت کے درمیان فرق کے بارے میں ان کی بیداری کو ہوا دی، جس سے ان کے اندر شاعرانہ اظہار اور مزاحمتی شاعری کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ایک سپاہی سے شاعر میں اس کی تبدیلی ان سماجی اور سیاسی اثرات کی عکاسی کرتی ہے جنہوں نے اس کی شاعرانہ شناخت کو تشکیل دیا۔وہ لکھتے ہیں۔ ”میں پاک فوج کی دادِ شجاعت پر میرا دل دھڑکنے لگا میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر 1966ءمیں وطن عزیز کا سپاہی بن گیا لیکن شعور کی پرواز کچھ اور تھی ذہن نے پاک فوج میں مزدور سپاہی اور افسربادشاہ کے فرق کو تسلیم نہیں کیا، جون 1968ء میں پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقارعلی بھٹو نے ایوبی مارشل لاءکے خلاف تحریک جمہوریت کا عَلم بلند کردیا تو مارشل لاء اور جمہوریت میں فرق کے احساس نے میرے شعور وفکر کو جھنجھوڑا میرے وجود میں لفظوں کے رِدم میں کہنے کا جذبہ مچلنے لگا۔ میں ا ±س وقت کھاریاں چھاﺅنی میں پاکستان فوج کا سپاہی تھا سخت پابندیوں کے باوجود میں کھاریاں شہر میں جی ٹی روڈ پر کاروانِ جمہوریت کے قائد ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخی استقبال کو دیکھنے چلا آ یا، اور بھٹو صاحب سے ہاتھ ملانے میں کامیاب ہو گیا ، جمہوریت کے علمبردار نے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا اور میں نے اپنی مادری زبان پشتو میں پہلی نظم کہی جو میں نے اپنے والد صاحب (مرحوم )کو سنائی جو نیشنل عوامی پارٹی کے سرخ پوش بنیادی رکن تھے۔ میری نظم سے میرے والد صاحب کی سوچ میں تبدیلی نے مجھے حوصلہ دیا 1971ءکی جنگ سے پہلے پاک فوج کو میں نے خیر باد کہہ دیا اور واہ فیکٹری میں ملازمت اختیار کر لی واہ فیکٹری سے ہفت روزہ پرچہ واہ کاریگر شائع ہوتا تھا اس پرچے کے ایک شمارے میں ا ستاد دامن کی ایک نظم کے جواب میں ایک مزاحیہ نظم کہی جو بغیر کسی سے اصلاح لیے میں نے ہفت روزہ واہ کاریگر کے ایڈیٹر کو دی اور وہ شائع ہوگئی یہ میری ا ردو کی پہلی نظم تھی”۔
    گل بخشالوی کے ادبی سفر میں زبان اور تعلیم اہم چیلنج بن کر ابھرے۔ان کی مادری زبان پشتو ہے اور لسانی رکاوٹوں کی وجہ سے نامکمل رسمی تعلیم کے باوجود گل بخشالوی کی اردو ادب سے وابستگی غیر متزلزل رہی۔ ان کی ابتدائی تحریریں، خاص طور پر پشتو اور بعد میں اردو میں ان کی ادبی خدمت کی آئینہ دار ہیں۔ اپنی تعلیم کے ادھوری رہنے کے بارے میں گل بخشالوی رقمطراز ہیں۔ ” واہ فیکٹری میں ملازمت کے دوران( پرائیویٹ ) میٹرک کا امتحان پہلی پوزیشن میں پاس کیا تو حوصلہ ملا اور ایف کا امتحان دیا لیکن انگریزی میں تین نمبر کم ہونے کی وجہ سےفیل کر دیا گیا انگریزی نہ تو میری مادری زبان تھی نہ قومی اس طرح میری خواہش کے باوجود میری تعلیم انگریزی کی و جہ سے ادھوری رہ گئی”۔

    گل بخشالوی کا اردو شعری مجموعہ ” سوچ سفر”


    گل بخشالوی کہتے ہیں کہ پہلے انہوں نے ادب کی خدمت کے لیے ‘بزم گل’ کے نام سے ادبی تنظیم بنائی ، لیکن ادب دوستوں کے مشورے پر نام تبدیل کر کے ”قلم قافلہ” رکھ دیا ، استاد ِ محترم علامہ انیس لکھنوی کی سرپرستی میں قلم قافلہ کی پہچان نے ادبی سفر میں آگے آنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    گل بخشالوی نے ممتاز شاعروں کے قلمی تعاون سے 1984 میں غزل انتخاب ”سوچ رت“کی اشاعت کا اہتمام کیا ایک سال کی بھر پور محنت سے 376 شعراءاور شاعرات کے کلام پر مشتمل غزل انتخاب سوچ رت 1984ءشائع ہوا جو دنیائے اردو ادب میں آ ج بھی میری پہچان ہے”۔تاہم ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ گل بخشالوی کی زندگی کا سفر مشکلات سے خالی نہیں تھا۔ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے ہجرت اسے سعودی عرب، برطانیہ اور بالآخر امریکہ تک لے گئی۔ شاعر نے اپنے خاندان کی کفالت کے ساتھ ساتھ ادب کی بھی بھرپور انداز میں خدمت کرتے رہے۔ معاون ادبی حلقوں کی مدد سے امریکہ میں ادبی دنیا میں اپنا نام بنایا اور پاکستان واپسی نے کھاریاں میں آکر بحر اوقیانوس کے اس پار ان کی اہمیت کو اپنے سفرناموں کے ذریعے بیان کیا۔ گل بخشالوی کی تحریروں میں نیک بختوں کے ساتھ ساتھ کچھ بدبختوں کا ذکر جا بجا ملتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ”کچھ بدبخت لوگ خوش بختوں کے زوال کے دل وجان سے خواہش مند ہوتے ہیں اور میں ایسے ہی کچھ بدبختوں کے ہاتھوں گر پڑا تھا لیکن میرے ذہن میں سعدی ؒ کا یہ قول دمک رہا تھا۔”لوگوں کے ہاتھوں سے کوئی تکلیف پہنچے تو رنجیدہ نہ ہو کیونکہ راحت اور رنج آ دمی کے بس میں نہیں ،دوست اور دشمن کی طرف سے آ نے والی مخالفت اور تکلیف کو خدا ہی کی طرف سے سمجھ اس لیے کہ ان دونوں کے دل ا ±سی کے قبضہ قدرت میںہیں ‘ بخت اور دولت کا انحصار لیاقت اور تجربے پر نہیں ،یہ تو تائید یزدانی کے کرشمے ہیں اگرروزی کا انحصار عقل ودانش پر ہوتا تو مجھ جیسے ناداں بھوکے مرجاتے۔مصائب ٹوٹ پڑنے سے قبل آ دمی زندگی کے آ رام کی قدروقیمت نہیں جانتا ،اسی طرح کسی چیز کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ چھن جائے”۔
    گل بخشالوی کا امریکہ میں ایک جنرل اسٹور میں انتھک محنت کرنا، مشکلات پر قابو پانے کے لیے ان کے غیرمتزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی پاکستان واپسی اردو ادب سے ان کی وابستگی کو دوبارہ زندہ کرنے کی علامت ہے، جو اپنی ثقافتی جڑوں سے ان کے غیر متزلزل تعلق کو تقویت دیتا ہے۔امریکہ میں قیام کے دوران اردو ادب کی خدمت کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ” امریکہ میں ایک جنرل سٹور سیون الیون میں ملازمت ملی تین سال تک قلم اور کا غذ کو چھوڑ کر پہلے خود کو اور پھر خاندان کے بچوں کوپاﺅں پہ کھڑا کیا ، تین سال بعد امریکہ میں ادب دوستوں سے رابطہ کیا ادب دوستوں سے رابطے میں ممتاز کالم نگار اشرف سہیل اور ممتاز شاعر مامون ایمن نے بھر پور ساتھ دیکر ادبی دنیا میں لا کھڑا کیا ، نیو یارک میں ادب دوستوں نے میرے اعزاز میں محفل سجائی اور مختصر عرصہ میں ، میں امریکہ میں کھاریاں کی پہچان بن گیا میرے دونوں بچے شاہد بخشالوی اور امجد بخشالوی ساوتھ افریقہ گئے اللہ تعالیٰ کے کرم نوازی سے جب دونوں بھائی پاﺅں پر کھڑے ہو گئے تو بچوں کی خواہش پرمیں بارہ سال بعد ( 2010امریکہ سے ساﺅتھ افریقہ گیا ایک ماہ اپنے بچوں کے ساتھ قیام کے بعد مستقل طور پر پاکستان چلا آ یا اور ادبی زندگی کے لئے ایک بار پھر خود کو وقف کر دیا ہے۔ ان شاءاللہ جب تک صحت ، انگلیوں، اور ا ٓنکھوں کا ساتھ ہے ، جب تک وجود میں صحت مند زندگی دوڑ رہی ہے ارودو ادب سے وابستہ رہوں گا اس لئے کہ میری پہچان اردو ، اور اردو کے قدر دان ہیں”۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ "سلگتے خواب” صرف ایک شعری مجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ گل بخشالوی کی اردو ادب کے لیے ان کے غیر متزلزل جذبے اور اپنے وطن سے ان کی گہری محبت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ یہ شاعر کے ادبی سفر کی آئینہ دار ہے – یہ ایک پشتو بولنے والے اردو شاعر کی ایک ایسی تاریخ ہے جو مشکلات، استقامت، اور شاعری کے فن کے لیے ایک انتھک لگن سے لکھی گئی ہے۔
    کتاب کا عنوان، "سلگتے خواب” شاید گل بخشالوی کے ان سلگتے خوابوں کی عکاسی کرتا ہے جنہوں نے ان کی شاعرانہ شوق کو ہوا دی- ایک ایسا سفر جو خوبصورت افکار و خیالات سے بھڑکایا گیا ہو اور مشکلات سے آزمایا گیا ہو اور تخلیقی صلاحیتوں کے نہ ختم ہونے والے شعلے سے روشن ہوا ہو۔
    بخشالوی کی داستان حیات ان کی شاعری میں بھی نظر آرہی ہے، ان کی جدوجہد اور کامیابیوں کا ذکر ان کے شعرے مجموعہ "سلگتے خواب” میں بہترین اردو شاعری کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ یہ کتاب نہ صرف اشعار کے مجموعے کے طور پر اردو کے ادبی منظر نامے کا حصہ بنا ہے بلکہ ایک ایسے پشتون شاعر کی اردو زبان میں شاعرانہ اظہار اور غیر متزلزل جذبے کا ثبوت ہے جس کی زندگی کی کہانی ہر بند میں نظر آتی ہے۔ میں شاعر کو "سلگتے خواب” کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتاہوں۔

  • شاعر سپاہی، محمد عنایت حیدری

    شاعر سپاہی، محمد عنایت حیدری

    تحریر:خضر حیات خان

    بقول شخصے کیمبل پوراٹک کی سرزمین میں شاعری کے جراثیم پائے جاتے ہیں مگر بندہ پولیس جیسے خشک محکمے میں ہو  جہاں زبان کی سختی بھی محکمانہ مجبوری کے زمرے میں آتی ہو  وہاں کسی کا باذوق ہونا اور شعر و ادب سے وابستگی  بڑی انہونی بات لگتی ہے  مٹھیال گاؤں کے  محمد عنایت حیدری صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔

    ہمارے کالج دور میں جب ضلع کے ایس پی جناب چوہدری محمد اکرم تعینات ہوئے جو  سابق صدر پاکستان فضل الہی چوہدری کے  داماد تھے، شعر و ادب سے بلا کا شغف رکھتے تھے  کالج میں ایک عجیب سا واقع ہوا تھا جس کی تفصیل  یاد نہیں کسی امیر زادے کالجیٹ نے اپنے اغوا کا ڈھونگ  رچایا تھا تو ایس پی صاحب کالج آئے اور تقریر کی تو لگا جیسے ادیب شاعر پروفیسر ہو ان ایس پی صاحب کو حیدری صاحب کے بارے میں پتہ چلا  جو اس وقت وہاں سب انسپکٹر تھے   انہیں دفتر  بلایا گپ شپ لگائی اور شاعر سپاہی کا خطاب دیا۔ کسی مقامی اخبار نے سرخی بھی لگائی تھی۔    

    مزے کی بات ہے  حیدری صاحب نے  اپنے شاعر ہونے کا  کبھی اقرار نہیں کیا تھا  مگر انکے شاعر دوست اور ہر سال کی ڈائریوں میں لکھے شعر  جن کے ساتھ نامعلوم شاعر لکھا ہوتا تھا اور انکے شاعر دوست گواہی دیتے تھے۔ ایسے کئی شعر میں یہاں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اگر کسی اور کے ہوں تو بتایا جائے مگر کوئی دعویدار سامنے نہیں آیا۔

    جیسے اپنے جواں سال بھانجے صفدر علی خان مرحوم کے پورٹریٹ پر (چونکہ بہت اعلی خطاط تھے انکی لکھائی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی) لکھا  شعر۔ 

    اتنی ویراں تو نہ تھی اپنی گزرگاہ حیات

    کون اس راہ سے گزرا ہے  کہ سناٹا ہے

    یا

    کون ساحل پہ دعا مانگ رہا ہے یا رب

    طوفان بچ کے میری کشتی سے نکل جاتے ہیں

    روشنی کی بھیک مانگوں غیر سے

    اتنا بھی ویراں میرا گھر نہیں

    بر محل شعر کہنے میں ان کا جواب نہیں تھا  کالج میں  ان کے ایک عزیز کسی مسئلے کا شکار ہو گئے  تو انہیں کالج میں سفارش کرنے کیلئے کہا  حیدری صاحب نے اسے ڈاکٹر سعد اللہ کلیم   صاحب کے نام رقعہ لکھ کر دیا۔ اور اس پر صرف ایک شعر لکھا اور کہا میرا سلام اور یہ رقعہ دے دینا۔

    افلاس نے بچوں کو سنجیدگی دے دی ہے

    سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

    کلیم صاحب  رقعہ پڑھ کر بہت ہنسے اور ان کے عزیز کو کہا کہ حیدری صاحب کو میرا سلام دینا اور آئندہ کالج میں کوئی شرارت نہ کرنا۔

    گولڑہ شریف کے پیر نصیرالدین نصیرؒ  جو خود  صاحب دیوان شاعر تھے وہ حیدری صاحب کے بہت اچھے دوست تھے  جب بھی جاتے انکی محفل میں تو پیر صاحب سب سے پہلے شعر سنتے “حیدری صاحب! آج وت کے سنا سو۔ “

    ایک دن حیدری صاحب نے کہا۔ “ہلا جی پیر صاحب آج فر سنو”

    ڈھونڈنے والوں کو  دقت نہیں ہوتی

    وہ میرا گھر ہے جہاں روشنی نہیں ہوتی

    پیر صاحب تڑپ گئے  اور بولے کہ یہ شعر کس کا ہے تو حیدری صاحب نے بتایا کہ جناب یہ شعر کلیم نوشہروی کا ہے جو کہ اک بزرگ شاعر ہیں  اور نوشہرہ میں تمباکو کا کھوکھا ہے انکا۔  پیر صاحب نے سب حاضرین سے معذرت کی کہ میں اور حیدری صاحب نوشہرہ جارہے   ہیں

    Khizar Hayat

    خضر حیات خان