Tag: مہاجر

  • گم شدہ ٹکٹ

    گم شدہ ٹکٹ

    از: کوچہ نادہندگان
    شہر: بد حال پورہ
    محترم جنرل منیجر صاحب!
    آداب!
    میں نادان ادھاری مہاجر میرٹھی حال وارد سکنہ بدحال پورہ ریٹائرڈ ہیڈ کلرک درجہ دوئم پاکستان ریلوے دراصل ایک بہت اہم کام کے سلسلے میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں اور مجھے امید واثق ہے کہ آپ میری نگارشات پر ضرور غور فرمائیں گے۔ اصل قصہ کچھ یوں ہے کہ میں کاتب مکتوب ھذا عرصہ دو سال پہلے ایک ریل حادثے کی انکوائری کے سلسلے میں آپ کے شہر آیا تھا اور رات کو آپ کے ہوٹل میں قیام کی غرض سے ٹھہرا تھا ۔ میں نے اُس رات کھانا تو آپ کے فری مینیو سے کھالیا تھا جس کی مد میں آپ نے مجھے بد مزہ نہاری کے ساتھ باسی نان تناول کرنے کیلئے دیے تھے مگرصبح ناشتے کے بغیرچلا گیا تھا جس پر آج تک اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوں ۔اُس دن دراصل مجھے کیونکہ ایک ضروری کام تھا اس لئے جلدی میں نکل گیا تھا مگر بعد میں گھر جاکے پتہ چلا کہ میری واپسی کا بس کا ٹکٹ کہیں گم ہو گیا ہے۔یاد رہے وہ ٹکٹ بس کا تھا کیونکہ میں حفظ ِ ماتقدم کے تحت ریل کے سفر سے حتی الوسع اجتناب برتتا ہوں کیونکہ اُس میں مالی نقصان کے علاوہ جانی نقصان کا اندیشہ بھی بہت زیادہ ہے۔ میں عرصہ دو سال سے اُس گمشدہ بس کےٹکٹ کو تلاش کر رہا ہوں تاکہ بس کمپنی کو دکھا کر اُن سے پچاس فیصد کرایہ جو کہ مبلغ اڑھائی سو رپے بنتا ہے وہ واپس لے لوں لیکن ابھی تک ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا۔آپ یہ بات ضرور سوچیں گے کہ دو سال بعد تمہیں یاد آیا پہلے کیوں نہیں تو میں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔دراصل میں اس دو سال کے عرصے میں بیماری کا بہانہ بنا کر سرکاری خرچے پرہر اُس جگہ گیا ہوں اور ٹکٹ کا پوچھا ہے جہاں جہاں میں نے پڑاؤ کیا چاہے زیادہ دیر کیلئے چاہے تھوڑی دیر کیلئے۔ لیکن کمبخت مجھے وہ ٹکٹ کہیں نہیں ملا۔ میں نے اس پر بھی ہمت نہیں ہاری اور ایک دن کاغذ پر اُن تمام مقامات کی فہرست بنائی جہاں میں گیا، میرا گزر ہوا یا مجھے رہنے کا اتفاق ہوا۔ میں کیونکہ کمزور حافظے کا انسان ہوں اور صبح کا کھایا ہوا دوپہر تک بھول جاتا ہوں اس لئے اپنے ایک پڑوسی کو وہ فہرست دکھائی تاکہ وہ اس کو دیکھ کر اس بات کی تصدیق کرے کہ یہ فہرست مکمل ہے۔ اُس پڑوسی نے میری فہرست کو غور سے پڑھا پھر مجھے پڑھا اور اُس کے بعد یہ تصدیق کردی کہ فہرست جامع اور مکمل ہے جس میں مزید کسی کمی بیشی کی گنجائش باقی نہیں۔ میں یہ فہرست لیکر گھر آیا ہی تھا کہ میرا سامنا اچانک میرے بھتیجے سے ہوگیا جس نے اس وقت وہ جوتے پہن رکھے تھے جو میں آپ کے ہوٹل سے ارادتا نہیں بلکہ غلطی سے بیگ میں ڈال کےلے آیا تھا اور تب فورا میرے ذہن میں آپ کے ہوٹل میں قیام کرنا اور بد مزہ نہاری کھا کر کھٹی ڈکاریں مارنایاد آگیا۔مجھے اس وقت کمرہ ، تاریخ اور دن تو یاد نہیں البتہ اتنا یاد ہے کہ اُس وقت آپ کسی بندے کو فون پر ” سانڈے کا تیل” لانے کی فرمائش کر رہے تھے کیونکہ آپ کے بقول آپ کا گھٹنا ٹھیک کام نہیں رہا تھا جو کہ بالکل جھوٹ تھا کیونکہ میں نے خود آپ کو اپنی آنکھوں سے ہوٹل کی چھت پر ٹپوسیاں لگاتے دیکھا تھا ۔ میں معذرت کرتا ہوں کہ اس کے علاوہ مجھے کچھ یاد نہیں۔ ہاں ! یادآیا کہ اُس وقت ایک نیلے رنگ کی کار جس کا نمبر چار سو چھیاسی تھا وہ مین دروازے کے باہر آکر رکی تھی جس میں سے ایک بوڑھا آدمی کلین شیو، سر کے بال براؤں، سیاہ رنگ کی پینٹ اور نیلے رنگ کی شرٹ پہنے، آنکھوں پہ رے بین کا چشمہ جس کا ایک سرا تھوڑا سا اٹھا ہوا تھا وہ لگائے ، ہاتھ میں رولیکس کی گھڑی پہ ٹائم دیکھتا ہوا ایک خاص انداز سے اندر آرہا تھا جس سے ہر کوئی پہچان سکتا تھا کہ موصوف عالمِ بالا کی سیر کر تے ہوئے تشریف لارہے ہیں۔ اس کے علاوہ تو مجھے کوئی قابلِ ذکر بات یاد نہیں، مگر یہ یاد آتا ہے آپ لوگوں نے اُس دن باسمتی چاول جو رات کو پکائے تھے اُس میں پانی زیادہ ڈالے جانے کی وجہ سے ، وہ بہت زیادہ گل گئے تھے اور کئی لوگوں نے آپ کو میس ہال میں بلا کر آپ کی عزت افزائی فرمائی تھی جس کے جواب میں آپ محض ” سوری سر، سوری میم۔ آئندہ ایسے نہیں ہوگا” وغیرہ جیسے ڈپلومیٹک الفاظ استعمال کرکے اپنی جان چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا البتہ ہال میں اُس وقت چوبیس افراد تھے کیونکہ میں جب ہال میں جانے لگا تھا تب دربان نے مجھے باہر ہی روک لیا تھا کہ سر! ابھی دو درجن بندے اندر کھانا کھا رہے ہیں اور مزید کرسیوں کی گنجائش نہیں ہے۔

    گم شدہ ٹکٹ


    میں از حد شرمندہ ہوں کہ آپ کو دو سال بعد خط لکھ کر تکلیف دے رہا ہوں مگر مجھے پورا یقین ہے کہ آپ اپنے ہوٹل کے سیکیورٹی انچارج کو بلوا کر اس انتہائی اہم معاملے پر گفت و شنید فرما کر اُس گمشدہ ٹکٹ کے بارے میں ضرور تفتیش کا آغاز فرمائیں گے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ میں اگرچہ بلا کا مصروف انسان ہوں اور پوتے پوتیوں سے دل بہلانےاور دوستوں کی محفل میں تاش کھیلنے جیسا مصروف دھندہ اپنانے کی وجہ سے میرے پاس بالکل بھی فالتو وقت نہیں ہوتا ورنہ میں خود بنفسِ نفیس آپ کے شہر آجاتا اور ٹکٹ کو ڈھونڈ لیتا۔ لیکن آپ کے پاس میرے ناقص خیال کے مطابق کیونکہ تیرہ گھنٹے ڈیوٹی دینے کے بعد بھی اچھا خاصا وقت بچ جاتا ہے لہذا اگر آپ صدقِ دل سے ارادہ کریں اور ہمت باندھ لیں تو میں آپ کو یہاں بیٹھے بیٹھے یقین دلاتا ہوں کہ آپ میرے اس گم شدہ ٹکٹ کے بارے میں پوچھ گچھ اور تلاشی کا کام کرسکتے ہیں۔ اگر کولمبس اتنی بڑی دنیا میں ایک چھوٹا سا ملک امریکہ ڈھونڈ سکتا ہے تو میرے خیال میں اُس ٹکٹ کا ڈھونڈنا تو کوئی مشکل کام ہے ہی نہیں ۔ بلکہ یہ تو امریکہ ڈھونڈنے سے کہیں زیادہ آسان کام ہے جس میں نہ کشتی کی ضرورت، نہ کھانے پینے کے سامان کی نہ نقدی کی ، بس تھوڑی تکلیف کیجیے اپنے کمرے سے نکلیے اور میرے اُس کمرے میں جس کا نمبر مجھے اب یاد نہیں وہاں جا کر اُس ٹکٹ کو ڈھونڈیے۔خدا جھوٹ نہ بلوائے اُس ٹکٹ کا رنگ گندمی تھا اور اُس پر نمبر نو سات آٹھ پانچ چھ دو چار پانچ سرخ روشنائی سے درج تھا اور میری قمیص کی بائیں جیب سے گرا تھا کیونکہ دائیں جانب میری جیب ہوتی ہی نہیں۔ اُس ٹکٹ کی ایک خاص نشانی یہ بھی تھی کہ اُس پر میں نے ” حسینہ چالباز” بھی لکھا تھا جو دراصل اُس لڑکی کا نام تھا جس سے میں نے لاری اڈے پر ٹکٹ لیا تھا۔ مجھے کمرہ نمبر تو یاد نہیں البتہ میرے کمرے کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ اس کے دائیں اور بائیں جانب والے کمرے بھی بالکل میرے کمرے جیسے تھے۔ اس کے علاوہ میں دو سال پہلے جب اُس کمرے کا دروازہ صبح نکلتے وقت لاک کر رہا تھا تب ایک حاجی صاحب میرے سامنے والے کمرے سے ٹوپی سیدھی کرتے ہوئے باہر نکل رہے تھے اور اُنہوں نے مجھ سے مسجد کا راستہ پوچھا تھا جو میں نے ٹھیک ٹھیک بتا دیا تھا۔ آپ چاہیں تو اُن حاجی صاحب کو فون کرکے میرے بارے میں پوچھ سکتے ہیں۔یہ وہ چند نشانیاں ہیں مجھے یاد رہ گئی ہیں سوائے کمرہ نمبر، دن اور تاریخ کے ۔لیکن مجھے یقین ہے کہ ان کی مدد سے آپ یقینا میرے کمرے کی نشاندہی کرنے میں ضرورکامیاب ہوجائیں گے جہاں میرا وہ ٹکٹ گرا تھا۔ اس نیک کام میں میری دعائیں قدم قدم پر آپ کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ نے وہ ٹکٹ ڈھونڈ نکالا تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے وہ جوتے میں ہمیشہ اپنے پاس بطورِ نشانی سنبھال کر رکھونگا اور کسی کو نہیں دونگا۔وہ ٹکٹ ملتے ہی مجھے منی آرڈر کر دیجیے گا ۔ منی آرڈر کے پیسوں کی مطلق فکر نہ کیجیے گا جتنا مانگیں اُن کو دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔ کر بھلا ہو بھلا۔
    آپ کے جواب کا منتظر
    نادان ادھاری
    متلاشی گمشدہ ٹکٹ

  • ہجرت کے دکھ 

    ہجرت کے دکھ 

    ہجرت کے دکھ 

    مصنفہ: سدرہ منور 

    زیبو بی بی اپنے نئے گھر کی تعمیر پر بہت خوش تھی کچے صحن میں چکنی مٹی کا لیپ کرنے کے بعد گھر کے آنگن میں  نیم کے درخت کے نیچے چارپائی ڈال کے بیٹھی زیبو بی بی اپنے پوتے کے گھر آنے کا انتظار کر رہی تھی۔

    "نی سرداراں! ویر گھر آون والا اے چھیتی روٹی پکا لے۔”

    "اچھا بی بی!” سرداراں نےدھیمے لہجے میں جواب دیا۔ سردارں بی بی اور محمد طفیل زیبو بی بی کا کل سرمایہ حیات تھے۔ دونوں ابھی بہت چھوٹے تھے جب والدہ کا انتقال ہو گیا۔ والدہ کے بعد والد کی  عمر نے زیادہ دیر وفا نہ کی اور وہ بھی بچوں کو چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے۔  بیٹے اور بہو کی اس ناگہانی موت پر زیبو بی بی شدید رنجیدہ تھی۔ ان یتیم بچوں کا اللہ کے بعد واحد سہارا زیبو  بی بی تھی۔ ان دونوں کی دنیا بھی صرف اپنی دادی تک  ہی محدود تھی۔ زیبو بی بی کے چھ بیٹے تھے مگر صاحب اولاد ایک ہی بیٹا تھا یعنی محمد طفیل اپنے خاندان کا اکلوتا وارث اور دادی کا لاڈلا تھا۔ محمد طفیل نہایت سیدھا سادہ دنیا کے داؤ پیچ اور دھوکے سمجھنے سے قاصر نوجوان تھا۔

    وقت کا پہیہ چلتا رہا ماہ و سال گزرتے رہے یہاں تک کہ زیبو  بی بی نے اپنی پوتی سردارں بی بی کا نکاح کر دیا۔ اب وہ فکر مند تھی اپنے اکلوتے وارث کی شادی کے لیے۔زیبو بی بی نے بڑے چاؤ سے نیا گھر بنایا۔ یہ سال تھا  اگست 1947 کا زیبو بی بی کے گھر میں خوشیاں مہک رہی تھیں کیونکہ اس کے  پوتے کا رشتہ گاؤں کے  لمبڑدار ہدایت خان کی بیٹی صغری بی بی سے طے ہو گیا تھا۔ سردارں بھی خوشی سے سرشار اکلوتے بھائی کی شادی کی تیاری میں دادی کا ہاتھ بٹانے کے لئے آ چکی تھی پھر وہ دن آ گیا جب  صغری اور محمد طفیل کا نکاح ہو گیا۔ زیبو بی بی اور سرداراں صغری کے جہیز میں آنے والے رنگلے پلنگ، پیتل کے برتن، رنگ برنگے ہاتھ کے بنے بستر اور دیگر سامان سمیٹ رہی تھیں۔ صغری نہایت سمجھدار، معاملہ فہم، دور اندیش اور پرہیزگار خاتون تھی۔ زیبو بی بی نہایت خوش تھی کہ وہ اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئی مگر وہ کب جانتی تھی کہ اس کی یہ خوشی عارضی ہے۔ 

    محمد طفیل چارپائی پہ لیٹی دادی کے پاؤں دباتے ہوئے بتا رہا تھا۔”بی بی بڑا شور مچا ہے کہ ہندوستان کے دو حصے ہو جائیں گے ایک حصہ پاکستان بن جائے گا اور ایک حصہ ہندوستان۔”

    "میرا پتر تو دھیان نال اپنا کام کر ساڈا گھر اے اسیں کتھے جانا اے چھڈ کے اے  بس لوکاں دے منہ دیاں گلاں نے۔” ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ شور تیزی پکڑتا گیا۔ اب زیبو بھی فکر مند ہونے لگی۔ زیبو بی بی اپنی اس فکر کا اظہار اپنے پوتے اور بہو سے کر رہی تھی۔ دونوں نے تسلی دی کہ بی بی اللہ سے دعا کرو اللہ تعالی سب دی خیر کرے۔

    "پر پتر مینوں خیر نظر نہیں آ رہی۔” اسی فکر میں دن گزرتے گئے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات خراب ہوتے گئے۔ اب ارد گرد کے گاؤں کے لوگوں نے اپنے مال مویشی اور قیمتی سامان محفوظ مقام پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ 

    بری خبروں کے آنے کا سلسلہ جاری تھا۔اب اس بات پہ سب کو یقین آ چکا تھا کہ ہندوستان کی تقسیم ہو گی۔مگر اتنی دردناک یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ معمول کے مطابق زندگی رواں دواں تھی۔ دوپہر کے کھانے کے لیے صغری بی بی تندور پر گرم گرم روٹیاں لگا رہی تھی۔ مٹی کے مٹکے میں ٹھنڈی لسی مکھن سے بھرا پیتل کاپیالہ آنگن کی گھنی چھاؤں اور گھر کے بھولے مکین آنے والی مصیبت سے بےخبر اپنی زندگی میں مگن تھے۔ ایک دم سے باہر سے زوردار آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔

    "نسو نسو اپنی جان بچاؤ جتھے آ گئے نے۔” یہ آوازیں سن کے زیبو بی بی کا کلیجہ منہ کو آ گیا۔

    "یا اللہ! خیر کری۔” اتنے میں کسی نے زور سے دروازہ پیٹا اور کہا۔

    "طفیل گھر دیا بیبیاں نو لے کے جلدی نکل جا۔ امرتسر ہندوستان داحصہ بن گیا اے۔” محمد طفیل نہایت پریشانی کے عالم میں اندر کی طرف پلٹا گھر کی خواتین کو کوئی بھی بات بتانے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ساری بات سن چکی تھیں۔ صورتحال نہایت خوفناک تھی ۔ 

    بلوائیوں نے مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا۔ گاؤں کے تمام لوگ ایک جگہ جمع ہو رہے تھے اور تیزی سے گاؤں سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ زیبوبی بی نے بہو اور بیٹے سے کہا کہ ضروری سامان لو اور جلدی سے نکل جاؤ میری فکر نہ کرو میں گھر کا خیال رکھوں گی۔اس وقت سب کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ یہ فسادات چند دن کی بات ہے اس کے بعد سب اپنے گھروں کو واپس آجائیں گے۔ محمد طفیل اپنی دادی کو چھوڑ کر جانے کے لیے کسی طرح سے تیار نہیں تھا۔ جب کہ حملہ آور تیزی سے گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ گاؤں کے مکین قافلے کی صورت میں گاؤں کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔ زیبو بی بی نے زبردستی اپنے بہو اور بیٹے کو قافلے کے ساتھ روانہ کیا۔ تینوں روتے ہوئے ایک دوسرے سے آخری دفعہ ملے۔ صغری بی بی نے پیتل کی ایک دیگچی میں   چند روٹیاں رکھیں قرآن پاک کو سینے سے لگایا اپنے گھر پر آخری نظر ڈالی اور روتے ہوئے بےسروسامانی کے عالم میں منزل سے بے خبر گھر سے چل پڑے۔ 

    جیسے ہی قافلہ گاؤں سے باہر نکلا تو حملہ آور گاؤں میں پہنچ گئے۔ مسلمانوں کے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیا گیا۔ زیبو بی بی کا گھر بھی انہی لاکھوں بد قسمت گھرانوں میں سے ایک تھا۔ زیبو بی بی تن تنہا گھر میں بیٹھی ہے۔ اتنے میں حملہ آور گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل آئے جہیز کے سامان کو بے دردی سے لوٹنا شروع کر دیا۔

    "ہائے رحم کرو میری پوتی دا سامان نہ لے کے جاؤ۔” زیبو بی بی کی چیخ و پکار زمین و آسمان ہلا رہی تھی۔مگر کوئی سننے والا نہیں تھا۔ بوڑھی زیبو قیامت کا یہ منظر اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی  بوڑھی آنکھوں میں قیامت خیز منظر دیکھنے کی سکت کہاں تھی۔ زیبو بی بی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی۔ دوسری طرف قافلہ گاؤں کی حدود سے باہر نکل چکا تھا۔ 

    محمد طفیل نہایت رنجیدہ تھا اپنی دادی کو اس طرح اکیلے چھوڑنے پر، پھر ایک گہری سوچ کے بعد سب کے کہنے اور روکنے کے باوجود وہ گاؤں کی طرف واپس پلٹا سب نے لاکھ منع کیا کہ واپس نہ جاؤ مارے جاؤ گے مگر وہ نہ رکا۔ تیزی سے گاؤں میں داخل ہوتے ہوئے اپنے گھر کی طرف دوڑا مگر گھر کا منظر دیکھ کر کیا قیامت ٹوٹ پڑی بوڑھی دادی پاگل ہو چکی تھی۔ گھر لٹ چکا تھااس نے جلدی سے دادی کو کندھوں پر اٹھایا اور واپس قافلے کی طرف چل پڑا کوئی سواری پاس نہیں تھی۔ موت کا خطرہ ہر طرف منڈلا رہا تھا مگر مارنے والے سے بچانے والا زیادہ بڑا ہے۔ دونوں دادی پوتا بحفاظت قافلے کے ساتھ جا ملے۔ 

    چونکہ زیبو بی بی اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی اس لیے وہ  چیخ و پکار کر رہی تھی جو منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا وہ اسی کا ماتم کر رہی تھی۔ قافلہ بغیر کسی منزل کے تعین کے چل رہا تھا۔ مرد عورتوں کے گرد ایک حفاظتی حصار بنا کے چل رہے تھے۔ سردارں بی بی  اپنی دو سال کی بیٹی کو اٹھائے انجان منزل کی طرف چل رہی تھی۔رات کا اندھیرا بے سر و سامانی کا عالم، بھوک اور پیاس کی شدت، موت کے منڈلاتے سائے، خون سے رنگین زمین، معصوم جان کہاں یہ سب سہہ سکتی تھی۔ سردارں بی بی کی بیٹی منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئی۔ ایسے کئی معصوم لاشے بےگور و کفن پڑے تھے۔ 

    تین یا چار دن کے بعد یہ لٹا پٹا قافلہ پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوا اور لاہور پہنچ گیا۔ محمد طفیل زیبو بی بی کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر امرتسر سے لاہور تک لے آیا۔ اب یہ گاؤں کے تمام لوگ ایک مہاجر کیمپ میں تھے۔ مہاجر کیمپ میں جب قافلے پہنچ رہے تھے تو ہر طرف قیامت صغری برپا تھی۔زخموں سے چور مہاجر سکھوں کے ہاتھوں برباد عورتیں اور چیختے چلاتے ماں باپ سے بچھڑے بچے ہر طرف مہاجر کیمپ میں پھیلے ہوئے تھے۔اللہ کے کرم سے محمد  طفیل اور ان کا پورا گاؤں باحفاظت مہاجر کیمپ تک پہنچ گیا تھا۔ 

    کچھ دن مہاجر کیمپ میں رہنے کے بعد محمد طفیل اپنی بیوی اور دادی کو لے کر صغری بی بی کی بہن عائشہ کے خاندان کے ساتھ لایل پور کے نواحی قصبے ڈجکوٹ میں منتقل ہو گیا۔ جیسے ہی یہ لوگ اپنی منزل پر پہنچے اسی دن زیبو بی بی اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ قیامت کے بعد ایک اور قیامت مہاجر کیمپ میں ملنے والا کفن زیبو بی بی کو پہنا دیا گیا۔ یوں شہر کے قبرستان میں پہلی مہاجر زیبو دفن ہو گئی۔چند کلو گیہوں جو مہاجر کیمپ میں دیے گئے صغری بی بی ہاتھ میں لیے چکی ڈھونڈ رہی ہے۔ تاکہ اس کو پیس کے پیٹ کی آگ کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔ کوئی اپنا پاس نہیں جو اس غم کی گھڑی میں تین وقت کا کھانا دے سکے۔ 

    صغری بی بی کے گاؤں کے تمام لوگ لائل پور کے ایک اور نواحی گاؤں میں منتقل ہو گئے تھے۔ صغری بی بی کے والد کا شمار گاؤں کے سرکردہ لوگوں میں ہوتا تھا اور محمد طفیل بھی اچھے زمیندار  گھرانے سے تھا۔ اپنے گاؤں کے لوگوں کے ساتھ ان کا پیار محبت اور انسیت تھی کہ گاؤں کے لوگ ان کو ڈجکوٹ شہر سے واپس اپنے پاس لے آئے۔ یوں زندگی ایک نئے انداز سے شروع ہو گئی۔ زندگی کا یہ رنگ بڑا اذیت ناک تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے وقت گزرتا گیا مگر صغری بی بی اور محمد طفیل کے ہجرت کے دکھ بر قرار تھے۔

    رات کو کھلے صحن میں بیٹھے صغری بی بی کے پوتے پوتیاں ہر روز فرمائش کرتے بڑی امی کہانی سناؤ آپ پاکستان کیسے آئے؟ اس کے ساتھ ہی آنسوؤں کی ایک لڑی صغری بی بی کی گالوں پر بہنے لگتی اور وہ کہانی سناتے ہوئے بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگتی اور بچے حیران ہو کے دیکھتے کہ بڑی امی رو کیوں رہی ہیں۔کیونکہ وہ اس درد سے نا آشنا تھے جس سے وہ گزری تھی۔ ان کے لیے وہ صرف ایک کہانی تھی مگر انہوں نے اس کہانی کے تمام دکھ اپنی جان پر سہے تھے۔

     میں صغری بی بی کی پوتی   73 سال کے بعد ان کے دکھ کی کہانی کو زیب قرطاس کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکی۔ تو ان کا کرب کتنا شدید تھا جنہوں نے یہ سارے منظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ صغری بی بی کا انتقال 2001 اور محمد طفیل کا انتقال 2009 میں ہوا مگر آخری وقت تک ہجرت کے دکھ تازہ تھے۔ آج ہم نے 14 اگست کو میوزیکل نائٹ ون ویلنگ شور شرابہ اور انجوائے کرنے کا دن بنا لیا کیونکہ ہم ان دکھوں تکلیفوں اور بھیانک مناظر کو نہیں جانتے جو اس دن پیش آئے۔ آئیے عہد کریں اگست کے اس مہینے کو جاہلوں کی طرح نہیں بلکہ ایک مہذب قوم کی طرح منائیں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کریں گے۔ جس مقصد کے لیے یہ سرزمین پاک وجود میں آئی۔ اللہ اس سرزمین کا حامی و ناصر ہو آمین یا رب العالمین

  • کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

    کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے

    ( پاکستان کا مرثیہ )

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    یوں تو پاکستان میں کئی علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن اردو ہماری قومی زبان اور لسانی پہچان ہے ۔ اس کا جنم مغل شہنشاہ شاہ جہان کے زمانے میں دلی میں ہوا اور بقول محمود خان شیرانی ، اردو دلی میں جنمی ، اترپردیش میں بیاہی گئی اور اب بڑھاپا پنجاب میں کاٹ رہی ہے ۔ یہ بات درست ہے یا غلط ، اس بحث میں الجھے بغیر ماننا پڑے گا کہ دنیاء کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اس نوزائیدہ زبان نے جملہ اصناف ادب ، نثر و نظم میں ایسے ایسے روشن ستارے پیدا کئے کہ جو ابدی کہکشاؤں میں ضم ہوجانے کے باوجود آج بھی دنیائے اردو کے آکاش پر جگمگ جگمگ کرتے نظر آتے ہیں ۔

    اگر شعراء کی بات کی جائے تو اس زبان کے اولین شعراء ، ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی سے غالب ، میر اور اقبال تک ایک طویل فہرست بنتی ہے ، کہ جن کا کلام اردو ادب کا اثاثہ ہے ، لیکن اس میدان میں کچھ ایسے شاہسوار بھی وارد ہوئے جو آندھی کی طرح آئے اور بگولہ بن کر نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میرا اشارہ ان شاعروں اور ادیبوں کی طرف ہے جو عین جوانی میں یا جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ۔  اگرچہ یہ لوگ اساتذہ کے درجے پر فائز نہیں لیکن اس قلیل مدتی زندگی میں انہوں نے جو نقوش شاہراہ اردو ادب پر ثبت کئے ، انمٹ اور انمول ہیں ۔ سعادت حسن منٹو جیسا شہنشاہ افسانہ نگاری اور انوکھی طرز تحریر کا مالک وقت سے بہت پہلے چل تو دیا لیکن ہمارے لئے عقل و خرد اور معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ایسی تحریریں چھوڑ گیا کہ اگر ہم ان پر غور کریں تو بہت ساری گھتھیاں سلجھ سکتی ہیں ۔  ۔ اس دیوتا نے تو کسی طرح زندگی کی پانچویں دھائی میں قدم رکھ ہی لیا تھا جبکہ ملتان کا آنس معین ابھی بارھویں جماعت میں ہی تھا کہ سکھر کے ایک مشاعرے میں جب اس نے اپنا یہ شعر پڑھا ،

    ” ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج

    اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے "

    تو ، صدر مشاعرہ حضرت جوش ملیح آبادی نے اٹھ کر اس کے ماتھے کو چوما اور سامعین سے مخاطب ہوکر کہا اس بچے کا خیال رکھنا ، وقت سے پہلے اس دنیاء میں آگیا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اس بچے نے ٹرین کے نیچے لیٹ کر خود کشی کرلی ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آج کے مضمون کا عنوان بھی ایک ایسے ہی جوہر قابل کی شاعری سے منتخب کیا ہے کہ جو فقط 32 برس اس دنیاء میں مقیم رھا ۔

    شکیب جلالی بدایوں کا رہنے والا تھا  ہجرت کرکے پاکستان آگیا ۔ پنڈی اور لاھور سے ہوتا ہوا سرگودھا پہنچا اور آنس معین ہی کی طرح نوعمری میں ریل کے آگے لیٹ کر جان دیدی ۔

    اس جوانمرگ شاعر کو اہل ادب تو جانتے ہیں لیکن عام آدمی کو علم نہیں کہ نصرت فتح علی خان مرحوم کی گائی ہوئی جس غزل پر وہ سر دھنتے ہیں وہ در اصل اسی شکیب جلالوی کا پیغام ہے ۔ اسی غزل کے مطلعے یا پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ میرا آج کا موضوع سخن ہے ، شعر ملاحظہ فرمائیں :

    ” سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

    کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    قارئین کرام !

    شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا دماغ ہوتے ہیں ۔ فلسفےکی زبان میں انہیں تیسری آنکھ یا

    Third Eye of the Society

    بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ اپنی اضافی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا ۔ اس درجے پر فائز لوگ مستقبل بین ہوتے ہیں انہیں پہلے سے علم ہوجاتا ہے کہ آنیوالا وقت کیا پیغام لیکر آرھا ہے ۔

    شکیب جلالی نے اپنے شعر میں آج سے کئی برس قبل آج کے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات کی تھی ۔ آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ ،  ایسا نہیں بلکہ شکیب نے تو اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر شعر کہا ، تو حضور والا چونکہ میرا محبوب ، میرا وطن پاکستان ہے لھذا میں اس شعر کی تشریح موجودہ پاکستان اور اس میں موجود پاکستانیوں کو ہی سامنے رکھ کر کرونگا ۔

    کیا یہ حقیقت نہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ہماری سیاسی سوچ اتنی پاک صاف اور معصومانہ تھی کی ہم ایک پنجابی اقبال کے سپنے کو حقیت جان کر اس کی طرف لپکے ، کیا ہم واقعی معصوم نہیں تھے جب ایک اثناء عشری شیعہ محمد علی جناح کو قائد مانا ۔ کیا یہ درست نہیں کہ ہم نے کرنال کے ایک نواب کو قائد ملت کا خطاب دیا ۔ کیا ہم نے ایک بلوچ قاضی عیسی کو تحریک پاکستان کا رہبر نہیں مانا ۔ کیا ہم  ایک پٹھان  سردار عبد الرب نشتر کی راھنمائی میں آگے نہیں بڑھے ۔ کیا ہم نے ایک شش امامی اسماعیلی شیعہ کو پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا پہلا صدر منتخب نہیں کیا ۔ ایسی لاتعداد مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے ذہن اس وقت ان سیاسی غلاظتوں سے ایسے  پاک تھے  کہ ہمارے اندر کوئی شیعہ تھا نہ سنی ، پنجابی تھا نہ کوئی پٹھان ، مہاجر تھا نہ کوئی سندھی ، بلوچ تھا اور نہ کوئی گلگتی یا بلتی بلکہ ہم سب ایک قوم پہ یقین رکھتے تھے اور یہی وہ خوبی اور قوت تھی کہ جس نے ہمیں انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی سے نجات دلائی اور یہاں آکر شکیب کے پہلے مصرعے کی تشریح مکمل ہوجاتی ہے جس میں اس نے کہا ،

    سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے

    اور

    اب

    اگلا مصرعہ

    ” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    قائد اعظم ،  قائد ملت اور تحریک پاکستان کے عظیم راہنماوں کی رخصتی کے بعد ، قوم ، گدھ نماء مردہ خوروں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں ، مفاد پرستوں اور ملک دشمنوں کے نرغے میں آگئی ۔ سب سے پہلا وار  ایک قوم کے نظریئے پر ہوا ۔ بنگالی قومیت کو ہوا دی گئی اور پاکستان بننے کے صرف 25 سال کے اندر آدھا ملک ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا ۔ اب یہ کہنا کہ غلطی کس کی تھی ایک لمبی بحث ہے ۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ ہم مخلص ،  ایماندار اور محب وطن قیادت سے محروم تھے ورنہ اختلاف کہاں نہیں ہوتا ۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا جھگڑا پیدا کرکے ان بنگالیوں سے جان چھڑائی کہ جنہوں نے مسلم لیگ بنائی تھی ۔ اس کام سے فارغ ہوئے تو مغربی پاکستان یا موجودہ ملک میں قومیتوں کے جھگڑے شروع کرادئیے  ۔ سندھی ، پختون ، بلوچی ، سرائیکی اور پنجابی ازم کے بیج بوئے گئے ۔ اس پہ بھی تسلی نہ ہوئی تو مولوی صاحب نے میدان میں آکر کفر کے فتوے بانٹنے شروع کردئے تاکہ جو کسر باقی ہے وہ بھی نکال دی جائے ۔

    غور کیجئیے کتنی منظم سازش ہے پاکستان کو کم زور کرنے کی ۔ پہلے لسانی اور علاقائی بنیادوں پر قوم کو بانٹا گیا اور پھر ان لسانی اکائیوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی اور بریلوی کے خانوں میں تقسیم کیا جارھا ہے ۔ اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کھلے عام صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کی شان میں تقریریں کی جارہی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جو امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگے ، کیا یہ محض اتفاق ہے ؟

    ایسا نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کا منصوبہ تیار ہوا ہے تاکہ ملک کو افراتفری اور مکمل انتشار میں دھکیل دیا جائے ۔

    صرف یہی نہیں کہ لسانی اور فرقہ وارانہ جنگوں کے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ  ایک مدت سے پاک فوج کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے تاکہ اگر حالات بگڑیں تو فوج اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکام ہو ۔

    پاکستانیو !

    خدا را دشمن کی ان چالوں کو سمجھو ۔ ہمارے بعض سیاست دان اور کچھ حلوہ خور مُلاں دشمن کی بولی بول رہے ہیں ۔ یاد رکھو مسئلہ عمران خان کا نہیں ، ملک کی سلامتی کا ہے ۔ عمران خان آج ہے کل نہیں ہوگا ۔ ہمیں ملک کی فکر کرنی چاھئیے ۔ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے آپ کو تقسیم مت کرو ۔ اپنی ہی فوج کو گالیاں مت دو ورنہ برا وقت آنے میں دیر نہیں لگتی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن کامیاب ہوجائے اور ہم سب معصوم لوگ مہاجر کیمپوں میں بیٹھے ہوں کیونکہ ان جعلی سیاستدانوں نے تو اپنے گھر ، دولت اور آل اولاد سب کو بیرون ملک محفوظ کررکھا ہے اگر ملک ٹوٹا تو برباد عام آدمی ہوگا ۔ میری باتوں پر غور کرو ۔ آذادی اس وقت ملی جب ہم سب صرف مسلمان تھے اور پاکستانی تھے اب اگر اس آذادی کو برقرار رکھنا ہے تو وہی روش اپنانی ہوگی جو تحریک پاکستان کے وقت اپنائی تھی ورنہ ملک گنوا بیٹھوگے اور شکیب جلالی کا یہ مصرعہ یاد آئیگا ۔

    ” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین