Tag: ملک

  • میرا گاؤں غریب وال  – 2

    میرا گاؤں غریب وال – 2

    گاؤں کی گلیاں:۔

    گاؤں کی گلیاں82 ۔1981 میں یونیسف ادارے کے تعاون سے بنی تھیں جو کہ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ووٹ لینے والے وعدہ کرتے رہے ہیں لیکن ووٹ کے بعد گاؤں سے چشم پوشی کرتے ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کی گلیاں انتہائی خراب ہیں جن کی مستقبل میں بھی ٹھیک ہونے کی امید نہیں ہے۔ کیوں کہ سیاسی لحاظ سے عوام میں اتفاق نہیں ہے۔

    بجلی کی منظوری :۔

     بجلی 1963 میں شکار پر آئے ہوئے جنرل ایوب خان سے ملک مظفر خان نے منظور کرائی تھی گاؤں میں ٹرانسفارمرز ملک صاحبان کے گھروں کے قریب لگائے گئے جس کی وجہ سے لو ولٹیج کا مسئلہ رہا۔ مدینہ مسجد کے تعمیر کنندہ منظور حسین عرف  صاحب نے درخواست دے کر ایک ٹرانسفارمر اپنے محلے میں لگوایا باقی گاؤں میں اب تک لو وولٹیج کا مسئلہ ہے لیکن حل نہیں کیا جا رہا۔

    گیس کی منظوری:۔

      گیس کی منظوری  2007 میں ملک سمین خان نے کرا کر دی۔ جو کہ ان کا منفرد کام ہے

    واٹر سپلائی:۔

    واٹر سپلائی کا کام ملک مظفر خان کے توسط سے ہوا۔ کیونکہ 1981 میں جب میجر اکبر نرگھی ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے تو انہوں نے غریبوال کی واٹر سپلائی کا یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اس گاؤں میں  چار جُھگیاں ہیں پانی کی ان کو کوئی ضرورت نہیں ہے تو ملک مظفر خان نے لاہور سیکرٹریٹ میں جا کر اس کی منظوری کرا لی اور گاؤں کو پانی سے سیراب کیا۔ جو کچھ عرصہ چل کر خراب ہوگیا اور سیاست گردی کا شکار ہو گیا جو اب ملک عمران نے منظور کرا کر گاؤں کو دوبارہ مہیا کیا۔

    قبرستان:

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ کے مزار کے مغرب کی طرف غیر سادات کا قبرستان جبکہ مزار کے جنوب کے طرف سادات کا قبرستان ہے دونوں کی ٹوٹل لمبائی 116 کنال اور 19 مرلے ہے۔ جن میں لینڈ کمیشن نے 55 کنال اور باقی ملک مظفر خان نے وقف کی ہے ۔لمبائی چوڑائی رجسٹرڈ ہے جس پر کوئی بندہ تعمیر وغیرہ نہیں کرسکتا ۔

    مزارات:۔

    غریبوال میں مندرجہ ذیل مزارات ہیں ۔

     ا۔ حضرت معصوم بادشاہؒ:۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا رحضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں غریب وال میں انوار بانٹ رہا ہے۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ
    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّد زادی سے جبکہ دوسری شادی  اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹوں شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پیر ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سید حاجی امام ؒ، سید شاہ محمد غوث ؒ ،سید محمد شاہ لہری اور سید جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہیں ہوئی جبکہ حضرت سید شاہ محمد غوث اور حضرت سید حاجی امام ؒ سے موج دریا ؒ     کی نسل چلی۔

    حضرت علی اصغر ؒ   جو کہ معصوم بادشاہ کے نام سے مشہور ہیں آپ مادر زاد ولی  متولد ہوئے آپ کو پرانے زمانے کے لوگ ” آنڑاں پیر "کے نام سے پکارتے تھے جبکہ غریبوال تحصیل پنڈی گھیب میں آپ کے روضہ مبارک پر آپ کا نام سیّد غوث شاہ لکھا ہوا ہے آپ حضرت رحمت اللہ شاہ کے ایسے فرزند ہیں جنھوں نے پیدا ہوتے ہی حضرت بی بی مریم علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیسی علیہ اسلام کی سنت ادا کی اور کلام فرمایا کیونکہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو اس وقت آپ کے والد گھر میں موجود نہیں تھے آپ علیہ رحمہ مریدین میں گئے ہوئے تھے یہ واقعہ میری دادی اماں بی بی ستاراں نے ہمیں اس طرح سنایا ہے ” جب معصوم بادشاہ پیدا ہوئے تو ناڑ کاٹنے کے لیے چھری کی ضرورت پیش آئی تو سارے گھر میں چھری ڈھونڈنے کے باوجود نہ ملی دائی اماں نے جب آپ کی والدہ ماجدہ کو بتایا کہ ناڑ کاٹنے کے لیے چھری نہیں مل رہی تو آپ کی والدہ بھی پریشان ہو گئیں والدہ کی پریشانی دیکھی تو آپ نے فورا کہہ دیا کہ چھری آٹا پیسنے والی چکی کے نیچے پڑی ہے آپ کی والدہ اور دائی جہاں حیران ہوئیں وہاں خوشی کی انتہا نہ رہی کہ بچہ مادر زاد ولی ہے اور کس طرح بول پڑا ہے بہرحال دائی نے چکی کے نیچے دیکھا تو چھری واقعہ ہی وہاں پڑی تھی آپ نے چھری لی اور ناڑ کاٹی اور باقی رسوم بچے کی ادا کیں۔

    جب آپ کے والد گھر تشریف لائے تو ان کی زوجہ اور بچے کی دائی نے آپ کو مبارک باد دی آپ نے خیر مبارک کہا اور ساتھ ہی دونوں نے کرامت کا ذکر کیا کہ معصوم بادشاہ نے چھری نہ ملنے پر چھری کی خبر دی ہے۔ آپ کے والد خوش ہوئے اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا برخوردار میرا انتظار بھی نہ کیا اور میری زندگی کے اندر ہی کرامت دکھا ڈالی۔ چونکہ ایک جگہ دو ولی نہیں رہتے اس لیے بتاو کہ اب دائی لو گے یا مائی ۔ دونوں میں سے ایک لے کر غریبوال گاؤں میں جا کر سکونت اختیار کر کے اپنا فیض تقسیم کرو۔ معصوم بادشاہ نے کہا کہ مائی سے ابھی اور بچے دنیا میں آنے ہیں اس لیے مجھے دائی دے دیں میں غریب وال چلا جاتا ہوں ۔

    دائی اماں ملنے کے بعد آپ زیارت سے پرواز  کرکے غریبوال آ گئے سب سے پہلے آپ نے جس جگہ قیام کیا  وہ اب میرا گھر ہے اس جگہ قیام کے بعد گاؤں کے دو اور مقام پر رہے اور پھر آخر تک جہاں اب  مزار ہے وہیں پر آپ کا بسیرا رہا”

     ہماری دادی اماں کہتی تھیں کہ گاؤں کے مستری خاندان کے ایک نیک دل شخص کی خواب میں معصوم بادشاہ آئے اور کہا کہ ہماری قبر بنا دو بزرگ اٹھا لیکن بات سمجھ میں نہ آئی دوسرے دن پھر خواب میں آئے  اور  فرمایا میری اور میری دائی اماں کی قبر بنالو صبح اٹھ کر مستری پریشان ہوا لیکن بات سمجھ میں نہ آئی گھر والوں کو خواب سنایا تو انہوں نے کہا کہ آج خواب آے تو پوچھو کہ آپ کون ہیں اور کہاں آپ کی قبر بناوں چنانچہ مستری سویا خواب میں معصوم بادشاہ پھر آئے  اور فرمایا  تیسرے دن سے کہ رہا ہوں کہ ہماری قبر بناو مستری نے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں پر آپ کی قبر بناوں تو آپ نے فرمایا کہ میں چھانگلا ولی موج دریا رحمت اللہ  شاہ بخاری کا بیٹا ہوں اور ساتھ ہی میری دائی اماں ہیں مستری نے پوچھا کہ قبریں کہاں بناوں تو آپ نے فرمایا کہ گاؤں کی مغرب کی طرف جانا سفید رنگ کی زمین میں دو دراڑیں پڑی ہوں گی اور ان میں سے دو کپڑے باہر نکلیں ہوں گے وہاں پر ہمارا مسکن ہے مغرب کی طرف دائی اماں کی اور مشرق کی طرف میری قبر بنانا۔ مستری خواب سے بیدار ہوا تو اس نے گھر والوں کو پورا خواب سنایا ۔خواب سن کر سب گھر والے صبح سویرے گاؤں کی مغرب والی طرف گئے تو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے زمین میں دو دراڑیں پڑی تھیں جن میں سے دو کپڑے باہر نکلے ہوئے تھے ایک مردانہ کپڑا جبکہ دوسرا زنانہ کپڑا تھا مستری اور اس کے گھر والوں نے مل کر دو قبریں بنا دیں۔ ان قبروں کے ساتھ بعد میں کئی سادات دفن ہوئے جن میں معروف بزرگ بابا دامن شاہ بخاری علیہ رحمہ بھی ہیں۔

    حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ کی ظاہری طور پر تین ہی کرامتیں ہیں جن میں پیدا ہوتے ہی کلام کرنا, دائی اماں سمیت پرواز کرنا اور خواب میں آ کر مستری کو بتا کر زمین سے دو دراڑیں ظاہر کر کے دو کپڑے باہر نکال کر اپنی قبروں کی نشاندہی کرنا

    اس کے علاوہ بے شمار کرامات کا اب تک ظہور ہو چکا ہے جس کے سینکڑوں بندے گواہ ہیں ہم چیدہ چیدہ کا ذکر کریں گے تا کہ اولیائے اللہ سے محبت کرنے والوں کا ایمان مزید مضبوط ہو جائے۔

    مزار پر اژدھا کا آنااور اپنی دم سے صفائی کرنا

    میرا دربار پر چڑیا کو مارنا اور یکمشت ١٠ سے ١۵ منٹ میں تین سانپوں کا دیکھنا جس کے تین گواہ سید مشتاق حسین بخاری اور میرے علاوہ سید نظار حسین شاہ بخاری ہیں۔

    مزار کی تعمیر کرتے وقت زمین کا وسیع ہونا اس کے گواہ مستری غلام محمد مرحوم ،میرے بابا جان سید شاہ گل محمد ،میری دائی اماں ماسی راجاں مرحومہ اور چچا امید علی شاہ مرحوم اور میں خود ہوں۔

    بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے زیارت پر میلہ لگتا تھا جس میں صرف قرآن خوانی،نعت خوانی اور وسیع لنگر کا اہتمام ہوتا شام کو جب برتن سمیٹ رہے ہوتے تھے بارش کا ہر سال برسنا اس کا پورا گاؤں گواہ ہے۔لیکن آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب تین میلے ہوتے ہیں لیکن بارش ندارد۔

    حضرت معصوم بادشاہؒ سے فقر و استغنا،زہد و اتقا،رشد و ہدایت اور علم و عمل حاصل کرنے والے کئی لوگ ایسے ہیں جو بتاتے ہیں کہ چلہ کشی میں معصوم بادشاہ ملاقات کرتے ہیں اور آنکھ والا ہی یہ تماشا دیکھ سکتا ہے ایسے لوگ بتاتے ہیں کہ معصوم بادشاہ ملاقات میں زیادہ تر سبز کرتہ اور شلوار قمیض اور سر پر امامہ باندھے ہوئے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ کبھی کبھار کالے جوڑے میں بھی زیارت سے مستفید فرما کر سینہ روشن کر دیتے ہیں۔  آپ کے روضہ مبارک پر جنات بھی آتے ہیں اور سلام کرتے ہیں۔ پنجابی کتاب  "اکھیاں وچ زمانے” میں حضرت معصوم بادشاہ سے متعلقہ تقریبا گیارہ واقعات کا ذکر ہے جس میں آپ کی موجودہ زمانے کی ہونے والی زندہ کرامات ہیں اور ایسی بے شمار کرامات لوگوں کے سینوں میں بھی دفن ہیں جن کو اگر اکھٹا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے زائرین کے لیے ایک خاص بات لکھ دوں کہ جب بھی کوئی مراد لے کر جائیں تو دعا مانگتے وقت یہ کہیں کہ اے اللہ کے ولی اگر میری یہ مراد پوری ہو جائے تو میں آپ کے مزار پہ آنے والی چڑیوں کو میٹھی چوگ (چینی) ڈالوں گا یا آپ کے لیے جھولا لے کر آوں گا آپ اللہ کی بارگاہ سے میرا یہ کام کروا دیں تو مراد بہت جلد پوری ہو گی۔

    حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ابن چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری ؒ  کی  سب سے زیادہ مشہور زیارت ہے۔ جو گاؤں کے مغرب کی طرف قبرستاں کے پاس موجود ہے ان کا تذکرہ میری پنجابی کتاب "اکھیاں وچ زمانے” میں پڑھا جا سکتا ہے۔

    ب۔ مزار  بابا شہیداں آلا:۔

    گاؤں کے مشرق میں پنڈی روڈ کے ساتھ مزار  ہے جس کے گرد چاردیواری ہے ابھی مزار تعمیر نہیں ہوا۔ کسی دور میں ایک میٹھی بیری کا درخت اس کے ساتھ ہوتا تھا جس سے پورے گاؤں کے بچے اور بڑے تک بیر کھاتے تھے جو کہ "شہیداں آلا بروٹہ” کے نام سے مشہور تھا جس کی اب باقیات کم رہ گئی ہیں۔

    بی بی تُرُت مراد کا ڈیرہ:۔

    امام بارگاہ سے دس پندرہ قدم آگے جنوب کی طرف بی بی تُرُت مراد کا ڈیرہ ہے جس پر لوگ مرادیں مانگتے تو اللہ تعالیٰ فورا دعاوں کو قبول کر لیتا۔ ان کے بارے میں کسی کو زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔تاہم اس پر اب بھی چراغ روشن ہوتا ہے اور پرانے لوگ دعائیں مانگتے ہیں ولی کے وسیلے سے دعائیں اب بھی مستجاب ہوتی ہیں۔

    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ :۔

    حضرت حاجی امام ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا حضرت رحمت اللہ بخاری ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا رح کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل جنڈ کے گاؤں زیارت میں انوار بانٹ رہا ہے

    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ
    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ –فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّد زادی سے جبکہ دوسری شادی  اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹوں شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پیر ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سید حاجی امام ؒ، سید شاہ محمد غوث ؒ ،سید محمد شاہ لہری اور سید جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہیں ہوئی جبکہ دو بیٹوں حضرت شاہ محمد غوث رح اور سید حاجی امام ؒ سے موج دریا ؒ کی نسل چلی۔

    میری دادی اماں سیدہ ستاراں بی بی زوجہ سید فضل حسین شای بخاری نے ہمیں بتایا کہ پرانے زمانے میں لوگ قافلوں کی صورت میں سفر کرتے تھے ایک دن بابا چھانگلا ولی موج دریا نے ایک شادی کے قافلے کی کمان اپنے بیٹے حضرت حاجی امام رح کو دی آپ نے بارات کو سفر کی ہدایات دے کر سواریاں لیں اور اپنے گاؤں زیارت سے چل پڑے موجودہ غریبوال کے بالکل شمال مشرق پر قافلہ رک گیا کیونکہ مشکیزوں والا سارا پانی ختم ہو گیا تھا اور دور دور تک پانی کا کوئی نشاں نہ تھا عورتیں اور بچے سخت گرمی میں بلکنے لگے ایک عورت نے آپ سے کہا کہ آپ ولی کی اولاد ہیں یہاں پانی کا چشمہ نکالیں ورنہ قافلہ یہاں ہی ٹھہرے گا۔ عورت کی ضد پر آپ زمین پر ایک بڑی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے ۔کافی دیر جب آپ نہ اٹھے تو عورت نے آپ کو آوازیں دینا شروع کردیں تو آپ نے کہا ذرا ٹھہرو دودھ کا چشمہ نکال رہا ہوں تو عورت نے فورا کہا کہ ہمیں پانی کی ضرورت ہے دودھ کی نہیں  اور ساتھ ہی آپ کی چادر کھینچی تو آپ نے اپنا سر ایک چھوٹے سے گڑھے سے اٹھایا تو نیچے سے ایک ٹھنڈا پانی کا چشمہ نکل پڑا جس پر آپ نے حکم دیا کہ سارے قافلے والے پانی پی لیں اور اپنی مشکیزے بھی پانی سے بھر لیں۔چناں چہ لوگوں نے پانی پی کر ساتھ ہی مشکیزے بھرے اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑے۔  اس چشمے کو گاؤں والے اب تک بابا چوآ کہتے ہیں آپ نے فرمایا تھا کہ یہ چشمہ آب شفا ہے اس سے ہر کوئی استفادہ کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ جن کے بچوں کو دانے پھوڑے پھنسیاں وغیرہ نکل آتیں تو وہ عورتیں اس بابرکت چشمے سے پانی بھر کر ساتھ ہی غسل کراتیں اور پینے کا پانی گھر لے جاتیں تو بچے ٹھیک ہو جاتے۔ سخت گرمیوں میں ہر طرف جب پانی خشک ہو جاتا تو تب بھی یہ چشمہ گاؤں والوں کو پیاسا نہ رہنے دیتا۔ ملک میجر طارق نے جب ڈیم بنایا تو یہ چشمہ پانی کے اندر آ گیا لوگوں کی شکایت پر ملک طارق نے چشمے کے گرد چار دیواری بنوا دی لیکن وہ لذت اور وہ پہلے والا کراماتی حسنِ کرم نہ رہا۔ چشمہ اب بھی باقی ہے اور لوگوں کو اولیاء کی کرامات یاد دلاتا ہے ۔حضرت حاجی امام ؒ کا مزار مبارک زیارت گاؤں میں بابا چھانگلا ولی موج دریا ؒ کے احاطے کے اندر ہی واقع ہے۔

    جاری ہے …..

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    حبدار قائم

  • میرا گاؤں غریب وال – 1

    میرا گاؤں غریب وال – 1

    غریبوال گاؤں پنڈیگھیب کے جنوب مشرق  میں واقع ہے ۔ پنڈیگھیب سے راولپنڈی جاتے ہوئے تقریبا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر بالکل سڑک کے کنارے پر یہ گاؤں آج سے تقریبا پانچ سو سال پہلے ہندووں نے آباد کیا تھا جو تقسیم کے بعد انڈیا چلے گئے اور زمینیں اپنے مزارعین کے حوالے کر گئے  ۔ کئی بزرگ تین سو سال پہلے غریبوال کی ابتداء بتاتے ہیں جو اس لیے درست نہیں ہے کہ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ کی وفات اُچ شریف کے ایک  شجرے میں 1604  لکھی ہوئی ہے اس سے ثابت ہوا کہ حضرت معصوم بادشاہ کی ولادت 1500 سے 1604  کے درمیان میں کہیں ہوئی اور وہ ولادت کے فورا بعد غریبوال بھیجے گئے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ غریبوال 500 سال پہلے آباد ہوا تھا۔1947 کی تقسیم سے پہلے اخلاص گاؤں کے ایک راجپوت گھرانے کے ملک شیر خان اخلاص سے ہجرت کر کے غریبوال میں آ گئے۔ 1889 کے محکمہ مال کے کاغذات میں بھی اس کا نام غریبوال ہی تھا کیونکہ کچھ لوگ اس کو گربال کہتے تھے جو ہنوز جاری ہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ڈھلیاں کمپنی میں انگریزوں کی کافی تعداد تھی جو اپنی زبان سے "غ”  کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے اور غریب وال کو گریبال کہتے تھے جو رفتہ رفتہ گربال تک کی مسافت طے کر گیا اور کچھ لوگوں کی زبانوں پر اب بھی جاری ہے لیکن اصل نام تو غریبوال ہی ہے ۔اب یہ گاؤں پنڈیگھیب کا ایک محلہ بننے کو ہے کیونکہ پنڈیگھیب کی آبادی غریبوال کی طرف مسلسل بڑھ رہی ہے چونکہ پنڈیگھیب کے شمال میں اخلاص اور شمال مغرب میں شہباز پور اور دندی و نوشہرہ گاؤں ہیں جن کے قریب آبادی جا پہنچی ہے اور اب آگے جانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ درمیان میں برساتی نالا "سیل ” بھی ہے

    غریبوال گاؤں کے مشرق میں ڈھلیاں اور ڈھلیاں چوک ، مغرب میں  ڈھوک کمہار موجودہ ڈھوک اعوان و پڑی گاؤں ، جنوب مغرب میں ڈھوک جٹ اور ڈھلیاں کمپنی سٹاپ نمبر ایک، شمال مشرق میں ڈھوک ناشہ اور ساتھ ہی آگے مگھ (گہری کھائیاں) اور نانگاوالی گاؤں ہے۔ پنڈی روڈ کے تقریبا 300 میٹر کے فاصلے پر ڈھوک ریحان آباد ہے اور مغرب کی طرف پکی سڑک توت اور میرا شریف کی طرف جاتی ہے جو ڈھوک اعوان کے پہلے چھوٹے سے گاؤں کو کراس کرتی ہے۔

    شروع میں غریبوال گاؤں میں اکثریت ہندووں کی تھی تقسیم کے بعد اس میں تین خاندان آ کر آباد ہوئے تھے جن میں تَرُڈ موجودہ راجپوت ، تریڑ موجودہ اعوان اور میال شامل تھے میال قوم نَکہ ریحان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے یہاں کی زیادہ زمین ایک ہندو راجہ چُنی لال کی تھی اور اس کا اٹک آئل کمپنی موجودہ پی او ایل میں ٹرانسپورٹ کا ٹھیکہ تھا جس نے کھوڑ کمپنی اور ڈھلیاں آئل کمپنی میں گاڑیاں لگا رکھی تھیں۔ بعد میں یہ کھڑپہ آئل کمپنی تک کام پھیل گیا ۔جس  میں ملک مظفر خان کسی بڑی پوسٹ پر فائز تھے اور ساتھ ہی ملک مظفر خان چُنی لال کے بزنس پارٹنر بھی تھے ۔ جب پاکستان بنا تو ہندو بھارت میں چلے گئے تو چُنی لال نے ملک مظفر خان کے آباو اجداد سے کہا کہ اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو ہم واپس آ جائیں گے اگر واپس نہ آ سکے تو آپ ان زمینوں پر امانت کے طور پر قبضہ کر لینا۔ جس کی وجہ سے اس گاؤں کی زیادہ زمین ملک مظفر خان کے خاندان کے پاس ہی رہی چُنی لال کے مزارعین نے اس زمین کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں دائر کیا جس کے مدعیان میں حاجی میاں احمد، نور احمد اور محکم دین تھے لیکن ملک مظفر خان جیت گئے بعد میں اس زمین کو  مختلف بندوں نے خرید کر مکانات بنائے اور کئی افراد کھیتی باڑی کے لیے استعمال کر رہے ہیں

    کرہ ارض پر غریبوال کی پوزیشن:۔

    Latitude 33.211383 عرض بلد

    Longitude 72°18’1. 09” E طول بلد

    altitude  410m ارتفاع

    سطح سمندر سے بلندی:۔

    سطح سمندر سے اس کی بلندی 410 میٹر ہے

    مساجد:۔ غریبوال گاؤں میں چھ مساجد ہیں

    ا۔ جامع مسجد غوثیہ سب سے پہلی مسجد ہے جس میں پورے گاؤں کے لوگ مل کر نماز پڑھتے تھے اس وقت شیعہ سنی کی تفریق نہیں تھی مسجد کے پہلے پیش نماز قاری میاں جان محمد تھے۔

     جامع مسجد غوثیہ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
     جامع مسجد غوثیہ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ب۔ مسجد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ

    ج۔ مسجد سیدنا عثمان غنیؓ

    د۔ مدینہ مسجد جو منظور حسین  المعروف "صاحب” نے بنائی۔

    ذ۔ علیؑ مسجد اہل تشیع نے مل کر بنائی جس میں اب محرم الحرام بھی منایا جاتا ہے

    ر۔ مسجد معصوم بادشاہ:۔ یہ مسجد” ماسی راجاں” نے بنائی جو کہ زیارت معصوم بادشاہ کی وجہ سے اب اہل تشیع کے پاس ہے۔

      مسجد معصوم بادشاہؒ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
      مسجد معصوم بادشاہؒ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    بنہیں یا خشک تالاب:۔

    گاؤں میں چار بارشی کچے تالاب ہیں اور ایک پکا تالاب ہے۔

    ا۔ روڈی بنھ”۔

    یہ تالاب بوائز پرائمری سکول کے ساتھ واقع ہے پورا گاؤں اسے پینے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کو گاؤں والے ہر سال پانی ختم ہونے پر ٹریکٹر لگا کر صاف کرتے تھے اور جس طرف سے پانی آتا تھا اس زمین میں پیشاب کرنے کی سخت ممانعت تھی جس پر پورا گاؤں سختی سے عمل کرتا تھا

    ۔

    ب۔ میالاں آلی بنھ:۔

    گاؤں کے جنوب کی طرف پنڈی روڈ کے بالکل قریب یہ تالاب تھا جس کو نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کرتے تھے گاؤں کے جوان اس میں جا کر پیراکی کرتے اور اپنے آپ کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت مند رہتے کیونکہ پیراکی بہت زبردست ورزش ہے۔

     میالاں آلی بنھ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
     میالاں آلی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ت۔ موچیاں آلی بنھ:۔

    گاؤں کے جنوب مغرب میں یہ تالاب واقع ہے جس میں بارش کا پانی اکھٹا ہوتا تو سارا سال لوگ اپنے جانوروں کو یہاں پانی پلاتے۔ عورتیں یہاں کثرت سے کپڑے دھونے کے لیے جاتیں کیونکہ اس طرف مردوں کا بہت کم جانا تھا اور یہ روڈ سے اور گاؤں سے ہٹ کر  ذرا دور واقع تھا۔

     موچیاں آلی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ج۔ گُستانے آلی بنھ:۔

    گاؤں کے مغرب کی طرف بالکل قبرستان کے ساتھ یہ تالاب تھا جو وضو کے لیے استعمال ہوتا گھروں میں بھی کپڑے دھونے کے لیے لوگ اس کا پانی استعمال کرتے تھے گاؤں کی شمال مشرقی آبادی  اس تالاب سے مال مویشیوں کو پانی پلاتے تھے۔ اب بھی یہ خشک تالاب موجود ہے لیکن وضو کے لیے گاؤں کے لوگوں نے ایک نلکا لگوا لیا ہے۔

    قبرستان والی بنھ
    قبرستان والی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    د۔ تلاء:۔

    ملک مظفر خان نے گاؤں کے جنوب میں ملک ارشاد خان کی کوٹھی کے تقریبا ایک فرلانگ کے فاصلے پر ایک پکا تالاب بنوایا تھا جو صرف پینے کے پانی کے لیے استعمال ہوتا تھا اس تالاب کا وجود پورے گاؤں کے لیے رحمت تھا اس کو بھی خشک ہونے پر گاؤں والے مل کر صاف کرتے۔ اس تالاب کی موجودہ حالت خطرے میں ہے کیونکہ اب گھر گھر میں پانی کی سہولت دستیاب ہے اور یہ تالاب ایک تاریخی ورثے کی حیثیت سے قائم ہے اور اس کو قائم رہنا چائیے۔ اس میں نہانا اور کپڑے دھونا سخت ممنوع تھا۔ گاؤں کے سب لوگوں نے اس کو مل کر کھودا تھا۔ گاؤں کی عورتیں دو دو گھڑے سر پر رکھ کر اور ایک ایک کمر پر بازوں میں لے کر یہاں سے پانی بھرتی تھیں جو اب صرف فلموں میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گاؤں کی یہ خوب صورتی اب صرف یاد ہی کی جا سکتی ہے

    Ghreebwal  Pond
    تالاب – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    کنویں:۔

    پورے گاؤں میں پکا کنواں نہیں تھا ۔حضرت حاجی امام ؒ کے چشمے کے مشرق میں تقریبا 150 میٹر کے فاصلے پر ہر سال کنویں کھودتے تھے تھوڑی سی زمین کھودنے پر پانی آ جاتا تو لوگ اپنی بانگیوں میں بھر کر گھروں میں لے جاتے۔ سردیوں میں یہ کنویں بند کر دیے جاتے تھے۔ کیونکہ کسی انجان بندے کے گرنے کا احتمال تھا۔

    فلاحی تنظیمیں:۔

    گاؤں میں فلاحی کاموں کی کمیٹی قاضی محمد بشیر  نے بنائی ہے جس کو لبیک ویلفیئر سوسائٹی کا نام سے پکارا جاتا ہے اس  کے صدر حافظ رمضان جب کہ چیئرمین قاضی محمد بشیر ہیں ۔ اس کی تمام فنڈنگ باہر سے کرتے ہیں جس میں پنڈیگھیب کے کئی نیک سیرت لوگ بھی تعاون کرتے ہیں ۔اس فلاحی تنظیم کے تعاوں سے غریب بچوں میں ہر سال کتابیں،بستے،کاپیاں اور قلم دیے جاتے ہیں ۔اس دفعہ بھی اس تنظیم نے چالیس بچوں کی مدد کی اور گزشتہ رمضان میں پینسٹھ ہزار کا راشن تقسیم کیا گیا۔ قاضی محمد بشیر گاؤں کی ویلفیر کے لیے کوشاں رہنے والے واحد آدمی ہیں ان کے ساتھ اقراء سکول کے سرپرست حافظ رمضان بھی شریک ہیں ۔گاؤں کے کروڑ پتی افراد ابھی تک اس ویلفیر کمیٹی میں شامل نہیں ہوئے۔ لیکن قاضی محمد  بشیر کی مدبرانہ کاوش اس کو جاری رکھے ہوئی ہے۔ یہ ویلفیر کمیٹی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کیونکہ رجسٹرڈ کرانے کے بہت سارے مسائل ہیں۔ جب کبھی ملک میں کوئی سیلاب یا زلزلہ وغیرہ آتا ہے تو حکومت چندہ اکھٹا کرنے کا حکم دے دیتی ہے جو محدود وسائل کی وجہ سے مشکل ہوتا ہے

    میلہ:۔ بزرگ سید شاہ گل محمد حضرت معصوم بادشاہ ؒ پر ہر سال خشک سالی کے موقع پر میلے کا انتظام کرتے تھے پورا گاؤں شاہ جی کے ساتھ مل کر چندہ اکھٹا کرتا تھا۔قرآن خوانی کا اہتمام ہوتا تھا شام کو جس وقت میلے کی چیزیں اور برتن سمیٹ رہے ہوتے سخت بارش شروع ہو جاتی۔ اور پورا گاؤں جل تھل ہو جاتا۔ برادری کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب سال میں تین میلے  تین مختلف لوگ کراتے ہیں لیکن پہلے والی برکات اب بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ۔اب بھی اگر لوگ سید عارف حسنین شاہ کے ساتھ مل کر میلہ لگائیں تو سابقہ خیر و برکات واپس آ سکتی ہیں ۔ کیونکہ عارف شاہ  گدی نشین ہے۔

    لنک روڈ:۔

     ملک مظفر خان نے جنرل ایوب خان سے ملک ارشاد خان  کی کوٹھی اور اپنے بنگلے  تک منظور کرایا۔باقی گاؤں کے دو مشہور راستے ابھی تک راہ مسیحا دیکھ رہے ہیں۔ جو کہ ملک مظفر خان کی طرح کام کرائے اور بس سٹاپ سے لڑکوں کے سکول اور امام بارگاہ تک اس کے ساتھ ہی بس سٹاپ سے واٹر سپلائی کی ٹینکی تک اور سید عمران شاہ بخاری کے گھر تک روڈ بنوائے۔ تیسرا روڈ جو دو سو سال پرانا راستہ ہے وہ معصوم بادشاہ ؒ کے موڑ سے چوآ حاجی امام ؒتک سڑک بنائے۔ سادات کے محلہ سے قبرستان تک راستہ بھی پکا ہونا چائیے کیونکہ میت لے جاتے وقت بہت مشکل پیش آتی ہے۔

    جاری ہے ………..

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    ۔

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال

    ضلع اٹک

  • فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

    فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

    ( چند روز قبل

    بنی اسرائیل کی کہانی "

    کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ  السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم  علیہ  السلام  سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )

    تحقیق و تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

     آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔

    arab men in white traditional wear praying on embankment
    Photo by Thais Cordeiro on Pexels.com

     اسی طرح ،  اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ،  لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔  دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ  ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ  السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔

    اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ”  نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔   جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر  موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں  اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے  لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔

    یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ،  قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت  پیدا کرتی ہیں ۔

    کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ،  داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری  ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ  کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔

    photo of a pyrmaid
    Photo by Rain Ican on Pexels.com

    یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ  السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے  اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ  السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔

    اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی  تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔

    فرعون کی کہانی ( Pharaoh )
    Photo by Pixabay on Pexels.com

    یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،

    مثلا ،

    چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )

    روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے

    حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )

    والوں نے ” نجاشی ” کہا

    ایران میں ” کسری ” ( کسرا )

    اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے

    سلطنت عمان میں ” سلطان "

    سعودی عرب میں ” ملک "

    متحدہ عرب امارات میں ” امیر "

    ھندوستان میں ” شہنشاہ "

    برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔

     پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔

    بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،

    آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔

    great sphynx of giza egypt
    Photo by Arralyn on Pexels.com

    چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد  مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ  السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام  مصر پڑا ۔

     الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔

    حضرت ابراھیم علیہ  السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون " بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔

    حضرت یوسف علیہ  السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ  السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔  آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ  السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔  وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف  علیہ  السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ  ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء )  کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ  السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے

    اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ  السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔

    قارئین

    یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ  السلام  نے وزارت کا عہدہ            ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ  السلام  اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور  یوں  حضرت یعقوب علیہ  السلام  ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ  السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ  السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ  السلام کو ان کی مدد ،  راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔

      موسی علیہ  السلام  کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا  رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی  اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی  اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ

    بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں  ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔

    یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ،  فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون  علیہ  السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ  السلام پیدا ہوئے ۔

    جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی  علیہ  السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ  السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔

    جب حضرت موسی علیہ  السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی  علیہ  السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ  السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی  علیہ  السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔

    اور جب حضرت موسی  علیہ  السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش  ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔

    فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی  علیہ  السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین