Tag: مقبول ذکی مقبول

  • مختصر تعارف مقبول ذکی مقبول

    مختصر تعارف مقبول ذکی مقبول

    مختصر تعارف مقبول ذکی مقبول

    تحریر : ریحانہ بتول ، بھکر
    جنرل سیکرٹری بزمِ اوجِ ادب ، منکیرہ ( بھکر)

    نام : مقبول حسین
    والدیت : اقبال حسین ( 1956۔ 18 دسمبر 2005ء)
    مقبول حسین خاندانی نام ہے جو کہ ان کے دادا غلام حسن نے رکھا تھا ۔ جوکہ دین داری و ایمان داری اور صوم و صلوات کی پابندی کی وجہ سے اپنے قبیلہ اور علاقے میں خاص پہچان رکھتے تھے ۔ چھ فٹ قد گندمی رنگت خوبصورت خدو خال سے ربِ اکبر نے نوازا تھا ۔ مقبول ذکی مقبول کی رنگت اور چہرہ اپنے والد اقبال حسین کے چہرہ سے مناسبت رکھتا ہے ۔ قد مناسب ہے اور دینداری و ایمانداری بالکل اپنے دادا غلام حسن کی طرح دیندار و ایمان دار ہیں شریف انسان ہیں نماز بھی اول وقت میں ادا کرتے ہیں ۔


    قلمی نام : مقبول ذکی مقبول
    تاریخ و مقامِ پیدائش : یکم جنوری 1977ء کینال کالونی لیہ شہر
    رہائش اور آبائی شہر تحصیل منکیرہ ضلع بھکر
    پیشہ : ملازمت
    باقاعدہ آغاز شاعری : 2005ء
    استاد شاعری نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، بھکر
    آغاز نثر : 2014ء
    پہلی تحریر : شائع ہوئی عالمی رنگِ ادب ، کراچی کتابی سلسلہ شمارہ نمبر 35 جون تا 30 ستمبر 2014ء صفحہ نمبر 274 تا 275 تک
    شاعری اور نثر مقامی ، ملکی اور غیر ملکی رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتی رہیں ہیں اور بعد میں کتابی شکل میں آئی ہیں
    تصانیف : چار شاعری
    اور
    چار نثر کی ہیں ۔
    نام درجِ ذیل ہیں ٫٫ سجدہ ،، (سرائیکی شاعری)21 مئی 2017ء
    ٫٫ منتہائے فکر ،، (سلام) 7 اگست 2020ء
    ٫٫ یہ میرا بھکر ،،(فردیات) فروری 2024ء
    ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، (اُردو ، پنجابی اور سرائیکی شاعری) اگست 2024ء
    ٫٫ سنہرے لوگ ،، (نام ور ادبی شخصیات کے انٹرویوز) جون 2023ء
    ٫٫ روشن چہرے ،،( معروف ادب شخصیات سے مصاحبے) جولائی 2023ء
    ٫٫ اعترافِ فن ،، ( عاصم بخاری تحقیق و تنقید) یکم جنوری 2024ء
    ٫٫ شذراتِ مقبول ،، (مضامین و تبصرے) جنوری 2024ء
    ٫٫ یہ میرا بھکر ،، فردیات کا مجموعہ جو کہ ضلع بھکر کے بارے میں ہے یہ اعزاز مقبول ذکی مقبول کو ہی حاصل ہوا ہے ۔ چند شعراء کے مجموعہ کلام سے ایک دو اشعار تو مقامیت کے حوالے سے مل جاتے ہیں لیکن مکمل مجموعہ کا شرف مقبول ذکی کو ہی حاصل ہوا اور اسی طرح مصاحبہ نگاری میں بھی یہ اعزاز انہی کو جاتا ہے کہ اِن کی دو کتابیں شائع ہوچکی ہیں
    مختلف ادبی تنظیموں سے گولڈ میڈلز ، شیلڈز ، اسناد ، ایوارڈز ، کیش اور دیگر انعامات حاصل کر چکے ہیں ۔
    ادبی تنظیم بزمِ اوجِ ادب (منکیرہ ، بھکر ، پنجاب پاکستان) کے بانی و چیئرمین ہیں ۔

    مختصر تعارف مقبول ذکی مقبول
     مقبول ذکی مقبول

    ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی رائے
    سوشل میڈیا پر مقبول ذکی کے جذبات و احساسات میری نظر سے گزرتے رہتے ہیں ۔ آپ کے حق میں دعاگو بھی ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ ان کی اس مثبت سوچ ، فکر اور رویے میں مزید اضافہ فرمائے ۔ ذکی کا خلوص عجز و انکساری اور ملنساری بڑی متاثر کن ہے ۔ اس دور میں ایسے لوگ کم یاب ہیں ۔ ایسے لوگوں کا وجود نعمت سے کم نہیں ۔

    مقبول ذکی مقبول کے اہلِ خانہ ، بہن بھائی ، پڑوسی ، اور دوست کی رائے وہ کیا کہتے ہیں ۔

    بیٹی اوج زہرا کی رائے
    میرے ابو جان نیک اور اچھے اخلاق و کردار کے مالک ہیں ۔ نماز اول وقت میں پڑھتے ہیں ۔ ہمیں بھی کہتے ہیں نماز اول وقت میں پڑھا کریں ۔

    بیٹے گلفام حسین کی رائے ۔
    میرے ابو جان نیک اور پریزگار انسان ہیں ۔ نہایت رحم دل اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں ۔
    میری بہن اور میری شرارتوں کو بھی برداشت کرتے ہیں ۔

    بھائی تنویر اقبال کی رائے ۔
    اعلیٰ اخلاق اور حسنِ سلوک انبیاء کرام علیہ السّلام اور معصومین علیہ السّلام کا شیوہ ہے ۔ الحمدللہ بھائی مقبول ذکی مقبول بھی اسی سنت پر عمل پیرا ہیں ۔ وہ ایک بااخلاق باکردار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نرم مزاج اور نرم طبیعت کے مالک ہیں ۔
    بیوی بچوں کے ساتھ ساتھ دوست احباب کے ساتھ ان کے تعلقات نہ صرف اعلیٰ بلکہ یوں کہنا کہ کسی ہرے بھرے سر شاداب پہاڑوں کی طرح بلند وبالا ہیں ۔ ان کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے ۔

    بہن شبانہ اقبال کی رائے ۔
    میرے بھائی مقبول ذکی مقبول ایک عظیم شاعر و ادیب ہیں ۔ ان کا اخلاق بہت اچھا ہے اور لین دین میں خیانت نہیں کرتے ۔ میری نظر میں ایک عظیم شخصیت کے مالک ہیں

  • مقبول ادیب

    مقبول ادیب

    مقبول ادیب


    مجھے یاد پڑتا ہے کہ مقبول ذکی ، سے میرا رابطہ اور تعلق معروف صحافی اور بھکر منکیرہ کے مشہور شاعر و ادیب سید علی شاہ مرحوم کی وساطت سے ہوا تھا ۔شاہ جی اللّٰہ کو پیارے ہو گئے لیکن مقبول ذکی مقبول نے اس رشتے کو مضبوطی سے استوار رکھا ۔

    مقبول ادیب


    مقبول ذکی مجھے دو حوالوں پیارے لگتے ہیں پہلی وجہ تو یہ ہمارے دوست علی شاہ مرحوم کی نشانی ہیں ۔ جب ملتے ہیں شاہ جی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ ان کی دوسری خوبی اور اچھی بات جو کہ نا صرف مجھے بلکہ ہر ادب دوست کو بھاتی ہے وہ ان کی شاہ صاحب کی ادبی جانشینی ہے ۔ یہ شاہ جی ادبی حوالے سے شاگرد کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور یقیناً شاہ جی کی روح بھی دن کی ادبی فرماں برداری پر خوش ہوتی ہوگی ۔


    اگر مقبول ذکی مقبول کی ادبی خدمات اور جہات کی بات کی جائے تو کثیر الجہات شاعر و ادیب ہیں ۔ نظم و نثر دونوں میدانوں میں سر زمین ِ بھکر کی نمائندگی کرتا ان کا ادبی پرچم صرف ملک بھر میں ہی نہیں اس کی دھمک اور بازگشت وہاں وہاں محسوس کی جا رہی ہے جہاں اردو دان اور ادب دوست طبقہ موجود ہے ۔

    سنہرے لوگ

    حالیہ کتاب "سنہرے لوگ ” میں ملک بھر سے بشمول آزاد کشمیر نمائندہ شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز کا کتابی شکل دینے کا احسن اقدام کیا ہے ۔اور اس پر مستزاد کہ مزید ایک انٹرویوز پر مشتمل ایک اور کتاب۔۔۔۔۔۔ لانے کی نوید بھی دے رہے ہیں۔”سنہرے لوگ” کے مطالعہ سے ان کے تحقیقی و تنقیدی شعور کی پختگی کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ اس طرح ایک ادبی تاریخ کا سلسلہ بھی مرتب ہوتا نظر آتا ہے ۔ انھوں نے اتنی شخصیات کی زندگیوں کے مختلف اور کامیاب گوشے قاری ء ادب کے سامنے رکھ کر میرے خیال میں بھکر کا نام اور ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔ ان کا یہ تحقیقی و تنقیدی کارنامہ انہیں ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گا ۔ آج کے ادب کو ضرورت بھی ایسے ہی کاموں کی ہے ۔دعا ہے سدا سلامت رہیں اور اس سے بھی زیادہ مقبول ہوں ۔ (آمین)

    پروفیسر سعید مجتبیٰ سعیدی

    اندرون قلعہ منکیرہ ضلع بھکر

  • بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    تحریر : پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر

    پاکستان کے تیسرے بڑے صحرا ، تھل ، میں واقع ضلع بھکر کی سرزمین اپنے وجود ، اپنی ثقافت اور اپنی خصوصیات سے پہچانی جاتی ہے ۔ برسوں پہلے والدِ مرحوم غلام محمد متین کوٹلہ جامی نے بھکر کی معروف چیزوں کے بارے میں ایک تاریخی شعر کہا تھا جو اُن کی کتاب ، گلدستہَ معانی ، میں موجود ہے ۔

    چار چیز است تحفہِ بھکر
    تیل و تربوز ، سبزی و مچھر

    اسی ادبی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ضلع بھکر کی صحرائی تحصیل منکیرہ کے باسی معروف شاعر مقبول ذکی مقبول نے اپنے صحرائی علاقے کی روایات ، رسوم ، موسم اورثقافت اور مناظر کو اپنی شاعری کا خصوصی موضوع بنایا ہے ۔ ان کی شائع شدہ فردیات ، بھکر کی سرزمین ، فصلوں ، روایات ، ماحول اورعقائد کا خوبصورت ذکر مناظر کی شکل میں موجود ہے ۔ انہوں نے علاقہ تھل میں ہونے والی چنے کی بارانی فصل کے مختلف مناظر کو اردو شاعری میں سرائیکی الفاظ لگا کر شعر میں روایت اور مقامی زبان کے امتزاج سے نیا تجربہ کیا ہے ۔

    بھکر کی یہ سوغاتیں ہیں
    "پلی”، ” ڈڈے ” اور ” تراڑا”

    چنے کے پودوں پر لگنے والے سبز پتوں کو پلی کہتے ہیں ۔ اس کو ساگ کی طرح سالن بنا کر کھایا جاتاہے ۔ پھر جب چنے کے پودوں پر لگنے والے دانے اپنی پھلیوں میں میں کچے ہوتے ہیں تو ان کو ” ڈڈے ” کہا جاتا ہے اور ان سے بہار کے موسم میں خوش ذائقہ سالن بنتا ہے ۔ اس کے بعد جب یہ پھلیاں اچھی طرح پک جاتی ہیں تو ان کو جلا کر زمین پر پکایا جاتا ہے جس کی خوشبو دور تک پھیل جاتی ہے اور سارا خاندان زمین پر بیٹھ کر کھاتا ہے ۔ اس روائتی ڈش کو "تراڑا” کہا جاتا ہے ۔ اس طرح چنے کی فصل تھل صحرا میں خوشیاں لاتی ہے ۔ مقبول ذکی نے تھل کے ٹٰیلوں کے مناظر ۔ چنے کی فصل میں لگے ننھے سرخ پھولوں ، گرم ہواؤں اور بھکر دیس کی مخصوص ثقافت اور مناظر کو اپنی فردیات کے اشعار کا منظر نامہ بنایا ہے ۔ اس طرح انہوں نے مقامیت اور گھریلو احساس کی عکاسی کی ہے ۔

    اپنا سا اک اس کا منظر ہوتا ہے
    تھل بھکر کا دیکھ کبھی تو بارش میں

    مقبول ذکی نے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتے ہوئے سخت گرمی کے موسم میں صحرائے تھل پرحدت کی شدت کے مناظر کو بھی موضوع سخن بنایا ہے ۔ سخت گرمی میں تھل کے ٹیلوں سے اُٹھنے والی ہولناک ہوا کی لپیٹیں
    دیکھ کر دشتِ کربلا کا منظر تصور میں آتا ہے ۔

    العطش کی صدائیں آتی ہیں
    کربلا کی فضا ہے بھکر کی

    مقبول ذکی نے اپنے دیس کے مناظر ، موسموں ، روایات اور آب و ہوا سے والہانہ محبت کا اظہار فردیات میں موجود اشعار کے ذریعے کیا ہے ۔ انہوں نے ہر شعر میں بھکر کا لفظ استعمال کر کے اپنے وطن اور اپنے وسیب کی چھوٹی اور بڑی باتوں کو موضوع سخن بنایا ہے ۔ مجھے تھل کے مرکز منکیرہ کے کامرس کالج میں بطور وائس پرنسپل دس سال کام کرنے کا موقعہ ملا ہے ۔ میں نہ صرف صحرائے تھل کی زندگی ، مناظر اور روایات سے بخوبی باخبر ہوں بلکہ مقبول ذکی کی زندگی ، سوچ اور فطرت سے بھی آگاہ ہوں ۔ایک فطرت پسند ، امن پسند اورسچے فنکار کی خوبیاں ان کے کلام میں موجود ہیں ۔ مقبول ذکی اپنی اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں یہ ان کی فردیات پڑھ کر معلوم ہوگا ۔ بہر حال یہ ایک منفرد اور مصورانہ فردیات ہیں جس پر مقبول ذکی مقبول بجا طور پر تحسین کے مستحق ہیں ۔ آخر میں چند فردیات ملاحظہ فرمائیں

    تیرے اشعار میں مقبول ذکی
    مسکراتا ہے پیار بھکر کا

    آ ، چنین مل کے بیریوں کے بیر
    تھل میں جوبن پہ بیریاں ہیں آج

    میرے صحرا کی ایک خوبی ہے
    اس میں کیچر کبھی نہیں ہوتی

    فرد کا تجربہ کریں ذکی
    لوگ کہتے ہیں کہ نہیں آساں

    روشنوں کے دور میں بھی مقبول ذکی
    آج بھی صحرا تاریکی میں ڈوبا ہے

    پروفیسر جاوید عباس جاوید

بھکر دیس کا ثناء خوان مقبول ذکی مقبول

    پروفیسر جاوید عباس جاوید

    بھکر

  • مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں “بھکر”

    مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں "بھکر”

    مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں "بھکر”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مبصر۔
    پروفیسر عاصم بخاری میانوالی

    اپنا سا اک ، اس کا منظر ہوتا ہے
    تھل بھکر کا دیکھ کبھی تو بارش میں

    بھکر کے ادبی منظر نامے پر اگر نظر دوڑائی جاۓ تو سر زمین ِ منکیرہ سے مقبول ذکی مقبول کا نام ادب میں برق رفتاری سے نمایاں ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ نظم و نثر ہر دو میدان میں ان کا رہوار ِ قلم رواں دواں ہے ۔ اس ادبی پودے کو لگانے میں معروف شاعر و ادیب اور بلند پایہ صحافی علی شاہ (مرحوم) منکیرہ ، کا مرکزی کردار ہے ۔ شومی ء قسمت جب یہ ادبی پودا تناور درخت بنا تو علی شاہ صاحب کو داعی اجل کو لبیک کہنا پڑ گیا لیکن مجھے یقین ہے کہ مقبول ذکی مقبول کی ادبی کامیابیوں پر علی شاہ صاحب کی روح ضرور خوش ہوتی ہو گی ۔ اللّٰہ پاک ان کی مغفرت فرماۓ ۔ ان کے درجات بلند فرماۓ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ۔
    مقبول ذکی آۓ روز مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ بھلا کیوں نہ ہو ۔ وابستہ آخر کس در ، سے ہے؟
    مدینہ العلم "سے
    اس کی کتب” سجدہ ” اور منتہاۓ فکر” گواہ ہیں ۔ ادب کی راہ پر چلنے والے مودب ہوتے ہیں ۔ روشن خیال ہوتے ہیں ۔ بیدار مغز ہوتے ہیں ۔شاعر دیکھتی آنکھیں ، سوچتا دماغ اور سنتے کان رکھتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول بھی بڑی متحرک اور جان دار ادبی شخصیت ہے ۔ عصری شعور اس کی شاعری میں جا بجا ملتا ہے ۔ اس کو اپنے وسیب اور ارد گرد کے وسائل و مسائل کا ادراک ہے ۔ بھکر کے جغرافیائی مسائل اور فصلوں کو کس لطیف پیراۓ میں بیان کرتا ہے شعر دیکھیۓ۔اردو کے ساتھ مقامی زیان کا تڑکا ، یہ تجربہ بھی اچھا لگا۔

    بھکر کی یہ سوغاتیں ہیں
    پَلی” ڈَڈے ” اور ” تراڑا”

    اپنے گاؤں منکیرہ کی سوغات جوکہ ملک بھر میں اپنی خوشبو اور مٹھاس کی وجہ سے مشہور ہے وہ منکیرہ کا خربوزہ ہے جو کہ اس علاقہ کی موسمی سوغات اور پہچان ہے شعر دیکھیۓ ۔

    پاکستان میں پہچاں میرے بھکر کی
    خربوزے مشہور ذکی ، "منکیرہ” کے

    اس قسم کی شاعری ، شاعر کے بیدار مغز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے عمیق مشاہدہ کا بھی پتا دیتی ہے کہ شاعر اپنے ماحول سے باخبر ہے اور اپنی مٹی سے محبت کے اظہار کا بھی ایک انداز ۔
    اپنے رہتل کے انداز اور طرز ِ زندگی پر بھی اس کو فخر ہے اور اس احساس کا اظہار بھی اس کی شاعری میں ہمیں نمایاں ملتا ہے شعر دیکھیۓ

    نمایاں منفرد ہر جا ، ملے گا
    لب ولہجہ تجھے میرے بھکر کا

    سر زمین ِ بھکر کے مسائل اور محرومیوں سے بھی شاعر آشنا ہے صرف خوش فہمیوں میں ہی نہیں یہ اپنے دیس کے مسائل کو بھی اجاگر کرتا دکھائی دیتا ہے جو بات اس کی فکری پختگی کی دلالت کرتی ہے ۔

    پیاسی زمیں اور ، باسی پیاسے
    بھکر بھی مقبول کرب و بلا ہے

    شاعر شعور سے ہوتا ہے اور مقبول ذکی کی شاعری کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے سماج پر کتنی کڑی نظر رکھے ہےچوں کہ اس کے پاؤں اپنی مٹی میں ہیں جس سے محبت کا اظہار بھی جابجا اشعار کی صورت کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ بھکر کی فضا کی منظر کشی کس خوبصورتی سے کرتا ہے ۔

    امن محبت پیار پریت سے رہنے کی
    بھکر کی تہذیب ، ثقافت اپنی ہے

    بھکر کی دھرتی کو اپنی شاعری میں سراہتے ہوۓ بھی یہ ہمیں اپنے اشعار میں دکھائی دیتا ہے جوکہ اس کی اپنی جنم بھومی سے محبت کا اظہار ہے ۔ اور حب الوطنی کے بارے میں آتا کہ حب ِ وطن از جزو ایمان” وطن سے محبت فطری بات ہے جس کا اظہار کچھ اس طریق سے شعر میں کرتے ہیں

    مجھ کو ہے جن پہ ناز ، میرا فخر مان جو
    قابل ہیں محنتی ہیں ، میرے بھکر کے لوگ

    اپنے وسیب کے لوگوں کی لیاقت اور قابلیت کا منظوم اعتراف در اصل مقبول ذکی کی اپنی مٹی کے ساتھ محبت اور خلوص کے جذبات کے اظہار کا معصوم انداز ہے اور ان کے حوصلے بلند کرنے کی ایک ترکیب بھی ۔
    بھکر کے مسائل یعنی عصری مسائل سے بھی بے خبر نہیں دکھائی دیتا بھکر کے ازلی مسئلہ کی طرف کس سلیقے سے ارباب ِ اختیار کو متوجہ کرتا دکھائی دیتا ہے شعر میں کیسا پیارا اسلوب اور پیرائیہء اظہار تلاشا ہے جس نے اپنے اندر سب فکری و فنی خوبیاں سمیٹ لی ہیں ۔
    شعر پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے ۔

    العطش” کی صدائیں آتی ہیں
    "کربلائی” فضا ، ہے بھکر کی

    ایک اور شعر دیکھیۓ جس میں اس نے بھکر کا باسی ہونے کا حق ادا کیا ہے اور لفظی تصویر ِ بھکر پیش کر دی ہے

    کاشت ہوتا ہے صرف یاں چَنا
    اور بھکر میں کچھ نہیں ہوتا

    جو بھکر کی ہیں پہچاں دیس بھر میں
    یہ تھل آباد ہے ذکی ادیبوں سے

    جس میں ہے مقبول ذکی کا ڈیرہ
    بھکر میں ہے شہر مرا منکیرہ

    آ ، لگا تے ہیں ریت میں تھل کی
    فرد گوئی کا پودا بھکر میں
    ایک اور رنگ ملاحظہ ہو
    بھکر دھرتی کا نہیں یہ فیض تو کیا
    بے نام عام ذکی سا مقبول ہو گیا

    ترے اشعار ، سے مقبول ذکی
    جھلکتی ہے محبت ہی بھکر کی
    اتنے اشعار ایک ہی موضوع پہ کہنا ذکی کا کمال بھی ہے اور اعزاز و امتیاز بھی اور اپنی مٹی سے محبت کا ثبوت بھی۔داد تو اس پر بنتی ہے۔
    مقبول ذکی مقبول کی
    شاعری میں مزید کئی ایک خوب صورت اشعار موجود ہیں جو کہ ان کی بھکر کے ساتھ قلبی لگاؤ ، خلوص اور محبت کے غماز ہیں مگر مضمون کی بے جا طوالت کے خوف اور آج کے نازک مزاج قاری کا خیال رکھتے ہوۓ اسی پہ اکتفا کیا جاتا ہے ورنہ۔۔۔

    asim bukhari

مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں “بھکر”

    پروفیسر عاصم بخاری

    میانوالی