Tag: مشرقی پاکستان

  • عظیم ادیب اور صحافی الطاف حسن قریشی

    عظیم ادیب اور صحافی الطاف حسن قریشی

    عظیم ادیب اور صحافی الطاف حسن قریشی

    تحریر: علامہ عبدالستار عاصم

    مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں محترم جناب الطاف حسن قریشی کے علمی و فکری دائرۂ کار کا ایک ادنیٰ طالبعلم ہوں۔ میرا ان کے ساتھ محبت، عقیدت اور احترام کا ایک ایسا تعلق ہے جو وقت کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط ہوتا چلا گیا۔ میں ان کی شخصیت اور تحریروں کا گرویدہ ہوں اور ان کے اندازِ فکر سے ہمیشہ روشنی پاتا رہا ہوں۔
    مشہور کالم نگار جناب اوریا مقبول جان نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ انہوں نے الطاف حسن قریشی کو "مسیں بھیگنے کی عمر سے پڑھنا شروع کیا”، تو میں نہایت ادب کے ساتھ اس میں یہ اضافہ کرنا چاہوں گا کہ میں نے جناب قریشی صاحب کو تب سے پڑھنا شروع کیا جب "مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں”۔ ان کی تحریریں میرے فکری ارتقا کا ایک اہم حصہ رہیں اور مجھے ان سے بے شمار سیکھنے کا موقع ملا۔

    الطاف حسن قریشی کی زندگی، ان کی جدوجہد، ان کی مستقل مزاجی اور ان کا عزمِ پیہم میرے لیے ہمیشہ ایک مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بے باک صحافی اور شاندار ادیب ہیں، بلکہ پاکستان کی فکری و نظریاتی سمت کو متعین کرنے والے ان چند نایاب شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرتی شعور بیدار کیا۔ یہ ان کی محبت، شفقت اور اعلیٰ ظرفی ہے کہ وہ مجھے اپنے پہلو میں جگہ دیتے ہیں اور مجھے اپنے دوستوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہ میرے لیے ایک عظیم اعزاز ہے کہ ایسی قد آور علمی و فکری شخصیت کا قرب حاصل ہے۔ ان کے ساتھ گزرے لمحات میرے لیے قیمتی سرمایہ ہیں، اور ان کی صحبت سے میں ہمیشہ نئی روشنی اور نئی سمت پاتا ہوں۔
    الطاف حسن قریشی صرف ایک نام نہیں بلکہ ایک عہد کا نام ہے، ایک ایسی دانش گاہ جہاں سے علم و شعور کے متلاشی روشنی پاتے ہیں
    الطاف حسن قریشی پاکستان کا قیمتی علمی سرمایہ ہیں
    قارئین کی یاد دہانی اور نئی نسل کی معلومات کے لیے میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں کہ محترم الطاف حسن قریشی پاکستان کے صحافتی اور فکری اثاثے کا ایک قیمتی حصہ ہیں۔ وہ 3 مارچ 1932 ءکو سرسہ، ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ اپنی علمی، فکری اور صحافتی خدمات کے باعث وہ ہمارے ملک کے ان چند روشن ستاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی۔
    الطاف حسن قریشی ایک نامور صحافی، بلند پایہ ادیب اور پاکستان کے مقبول، منفرد اور ممتاز ڈائجسٹ "اردو ڈائجسٹ” کے مدیرِ اعلیٰ ہیں۔ "اردو ڈائجسٹ” کا اجراء نومبر 1960 میں ہوا، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ آج بھی یہ جریدہ اپنی آب و تاب کے ساتھ فکری اور علمی پیاس بجھا رہا ہے، اور معاشرتی شعور اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ جناب الطاف حسن قریشی کی صحافتی خدمات پاکستان کی تاریخ میں ان مٹ نقوش چھوڑ چکی ہیں۔ وہ صرف ایک مدیر نہیں بلکہ ایک فکری رہنما بھی ہیں، جن کی تحریروں نے نسلوں کو شعور، نظریاتی بیداری اور حب الوطنی کا پیغام دیا۔ ان کے قلم کی سچائی اور جرات نے ہمیشہ حقائق کو اجاگر کیا اور قوم کو درپیش چیلنجز سے روشناس کرایا۔ محترم الطاف حسن قریشی کا نام پاکستان کی صحافتی، فکری اور علمی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ قلم و قرطاس کے ساتھ ان کی وابستگی نصف صدی سے بھی زائد عرصے پر محیط ہے، اور ان کی تحریریں ہمیشہ سچائی، حب الوطنی اور نظریاتی استقامت کا مظہر رہی ہیں۔
    ان کی علمی و ادبی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک ان کی کئی معرکۃ الآرا کتب شائع ہو چکی ہیں، جن میں ملاقاتیں، جنگِ ستمبر کی یادیں،
    مقابل ہے آئینہ،
    چھ نکات کی سچی تصویر،
    قافلے دل کے چلے
    نوک زبان پر اور
    میں نے آئین بنتے دیکھا اور مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا شامل ہیں۔ یہ تمام تصانیف پاکستان کی تاریخ، قومی مسائل، نظریاتی بیداری اور اہم سیاسی و سماجی موضوعات پر ایک مستند حوالہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف پاکستان سے بے پناہ محبت نمایاں نظر آتی ہے بلکہ اسلام سے ان کی فکری و نظریاتی وابستگی بھی واضح طور پر جھلکتی ہے۔

    یہ خاکسار اور اس کا ادارہ القلم فاؤنڈیشن اس سعادت پر فخر محسوس کرتا ہے کہ اسے محترم الطاف حسن قریشی کی چند کتب شائع کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جن میں "مشرقی پاکستان ٹوٹا ہوا تارا” ، "قافلے دل کے چلے” اور "میں نے آئین بنتے دیکھا” شامل ہیں۔ الحمدللہ، مزید کتب بھی زیرِ اشاعت ہیں، اور انشاءاللہ ہم ان کی فکری وراثت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ میری بساط ہی کیا کہ میں محترم الطاف حسن قریشی جیسے عظیم صحافی، مفکر اور ادیب کے فن و شخصیت پر لب کشائی کر سکوں۔ ایسی نابغۂ روزگار ہستی کے بارے میں پاکستان کی نامور شخصیات ہمیشہ رطب اللسان رہی ہیں اور ان کے کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کرتی رہی ہیں۔ ان کی صحافت، تحریریں اور فکری جہدِ مسلسل ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہیں۔

    عظیم ادیب اور صحافی الطاف حسن قریشی

    عہد ساز صحافی مجیب الرحمٰن شامی نے جناب الطاف حسن قریشی کی کتاب "قافلے دل کے چلے” کے بارے میں نہایت خوبصورت الفاظ میں لکھا ہے: "جناب الطاف حسن قریشی کو بار بار حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ حرمین شریفین کا پہلا سفر 1967 میں کیا، اس کے بعد روز پھر دل کا قافلہ چلتا گیا۔شاہ فیصل سے ملاقات کا موقع بھی ملا اور سعودی عرب کے ان گوشوں میں جھانکنے کا موقع بھی ملا جہاں آنکھیں کم کم ہی پہنچتی ہیں۔ اپنے روحانی تجربات اور حیرت انگیز مشاہدوں کو اس طرح قلم بند کیا ہے کہ اہلِ دل آج بھی ان کا مطالعہ کرتے اور جھوم جھوم جاتے ہیں "۔ یہ الفاظ نہ صرف الطاف حسن قریشی کی علمی اور صحافتی عظمت کے عکاس ہیں بلکہ ان کے باطنی سفر، روحانی تجربات اور گہرے مشاہدات کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں جہاں پاکستان اور اسلام کی نظریاتی وابستگی کا عکس جھلکتا ہے، وہیں ان کی قلبی کیفیات اور روحانی واردات بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے، ان کے قارئین، اور ان کے ہم عصری صحافی انہیں ہمیشہ ایک استاد اور ایک رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں نئی نسل کے لیے بھی مشعلِ راہ ہیں اور رہیں گی۔
    محترم الطاف حسن قریشی کی شہرہ آفاق کتاب "مشرقی پاکستان: ٹوٹا ہوا تارا” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہے، ایک ایسا تاریخی حوالہ جس میں پاکستان کی ایک بڑی قومی سانحے کی تفصیلات پوری سچائی کے ساتھ رقم کی گئی ہیں۔
    میں نے اس کتاب کے بارے میں لکھا تھا:
    "پون صدی پر محیط یہ داستان ایک چشم کشادہ، محوجستجو صحافی لکھتا رہا، جسے مشرقی پاکستان بار بار جانے، ہفتوں قیام کرنے، قریہ قریہ عوام کا حالِ دل سننے اور اہم واقعات کو قریب سے دیکھنے کے نادر مواقع ملے۔ تحقیق و جستجو کے اس کھٹن سفر میں عصبیتوں کے مارے سیاسی لیڈروں، اقتدار کے حریص جرنیلوں کی اندرونی کہانیوں اور بھارتی حکمرانوں کی خوفناک سازشوں کے ان گنت پہلو سامنے آئے۔ خفیہ ٹھکانوں تک پہنچنا پڑا، خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنے والوں سے بھی ملاقات کرنا پڑی۔ بہت سارے چہرے اور بڑے اہم راز بھی منکشف ہوئے۔ انہی اندھیروں میں ان عظیم بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کے لازوال کارنامے جگمگاتے ہیں جو چاروں طرف سے مصیبتوں میں گھری ہوئی فوج کے شانہ بشانہ وطن کی سالمیت پر نثار ہو گئے۔ تلخ حقیقتوں کو کبھی چھپے اور کبھی کھلے انداز میں لکھ دینے پر مارشل لاء حکام کی دھمکیاں جاں خشک کرتی رہیں اور سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے زنداں میں وقفے وقفے سے قید کاٹنا پڑی۔”
    یہ کتاب پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہے جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ مشرقی پاکستان کے سانحے کے پسِ پردہ کیا عوامل کارفرما تھے، کن طاقتوں نے اس المیے کو جنم دیا، اور کیسے ایک منظم سازش کے ذریعے پاکستان کو دولخت کیا گیا۔ الطاف حسن قریشی نے نہایت باریک بینی سے ان تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے، جو عام طور پر تاریخ کے اوراق میں دھندلا دیے جاتے ہیں۔
    یہ کتاب محض ماضی کی کہانی نہیں، بلکہ ایک سبق بھی ہے، جو ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے والی قومیں تاریخ میں بار بار نقصان اٹھاتی ہیں۔ الطاف حسن قریشی کی یہ تصنیف آج بھی نئی نسل کے لیے ایک رہنما کی حیثیت رکھتی ہے، جو حقائق سے پردہ اٹھا کر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

    یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ ہمیں الطاف حسن قریشی جیسے بے باک صحافی اور سچائی کے متلاشی مصنف کی رہنمائی حاصل ہے، جنہوں نے ہمیشہ تاریخ کو اس کی اصل حقیقت کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی۔
    ۔ ان کی کتاب "میں نے آئین بنتے دیکھا” حال ہی میں شائع ہو چکی ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کے آئینی ارتقا، اس میں شامل شخصیات، اور پس پردہ عوامل پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب تاریخ، سیاست، اور قانون میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک بیش قیمت دستاویز ثابت ہو رہی ہے۔
    اس کے ساتھ ہی، الطاف حسین قریشی نے اپنی زندگی میں مختلف اہم شخصیات کے انٹرویوز کیے، جن میں سیاست، ادب، صحافت، اور دیگر شعبوں کی نامور شخصیات شامل ہیں۔ ان نایاب انٹرویوز کو پانچ جلدوں ،تابش نمو،داش گفتگو،آتش آرزو اور کاوش جستجومیں شائع کیا جا رہا ہے، اور اس سلسلے کی پہلی کتاب "دانش گفتگو” اشاعت کے آخری مراحل میں ہے۔ اس کتاب میں قارئین کو وہ علمی، فکری، اور تاریخی مواد ملے گا، جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سیاست اور سماجی منظرنامے کو سمجھنے میں مدد دے گا۔ یہ سلسلہ پاکستان کے فکری، سیاسی، اور ادبی پس منظر کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جو نئی نسل کے لیے تحقیق اور مطالعے کا ایک نایاب خزانہ ثابت ہو گا۔ اس کا سب ٹائٹل "اہم شخصیات کے جیتے جاگتے انٹرویوز”کے عنوان سے یے۔جس کی ترتیب و تدوین عزیزم ایقان حسن قریشی نے کی ہے۔ ان انٹرویوز کو مختلف ادوار میں تقسیم کر دیا گیا ہے تابش گفتگو میں 1961 تا 1964 اور دانش گفتگو میں 1964 را 1970 کے انٹرویوز شامل ہیں۔یہی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محترم الطاف حسن قریشی صاحب کو صحت و تندرستی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، ان کے قلم کو مزید برکت دے اور انہیں دین، ملک اور قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق بخشے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا کرے اور ان کی علمی و فکری میراث کو ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھے۔

    ہم دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت انہیں اپنی رحمتوں اور برکتوں کے سائے میں رکھے، ان کی محنتوں کو اجرِ عظیم سے نوازے اور ہمیں بھی ان کے علمی، فکری اور نظریاتی سرمائے سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

  • بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    بنگلہ دیش کا خونی انقلاب اور موتی چور کے لڈو

    یہاں ہر خاص و عام پاکستانی بنگالیوں کو بنگالی بھائی کہتا ہے۔ متحدہ پاکستان میں سنہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ سے پہلے تک کوئی بنگالی چاہے لاہور، فیصل آباد اور کراچی وغیرہ میں تھا یا ڈھاکہ، سلہٹ اور چٹاگانگ وغیرہ میں تھا ہر پاکستانی سرراہ ملنے والے دوسرے بنگالی کو صرف بنگالی کہنے کی بجائے "بنگالی بھائی” ہی کہہ کر پکارتا تھا۔ جب تک بنگلہ دیش نہیں بنا تھا تب تک ان دونوں ملکوں کو "متحدہ پاکستان” کہا جاتا تھا جیسا کہ آج امارات کی ساتوں ریاستوں کو متحدہ عرب امارات یا انگلینڈ کے تمام حصوں (اور کوونٹریز) کو یونائیٹڈ کنگڈم (یو کے) کہا جاتا ہے۔ تب متحدہ پاکستان دو حصوں پر مشتمل تھا۔ ایک کو "مشرقی پاکستان” اور دوسرے کو "مغربی پاکستان” کہا جاتا تھا۔

    میں انگلینڈ میں نو سال رہا ہوں اور وہاں بھی میں نے پاکستانی کمیونٹی کی اکثریت کو انہیں بنگالی بھائی کہتے دیکھا اور سنا ہے۔ بنگالی بھائیوں کے لیئے میرے دل اور دماغ میں اس گہرے تصور کی وجہ سے میں جب بھی کسی بنگالی ریسٹورنٹ یا کیفٹیریا سے گزروں تو میں کوئی نہ کوئی بنگالی ڈش ضرور ٹرائی کرتا ہوں۔ کام سے واپسی پر رستے میں پڑنے والے ایک بنگالی کیفٹیریا پر میں اکثر رک جاتا ہوں۔

    حسب معمول میں آج اس کیفٹیریا پر بیٹھا تو میں نے "ثنا پوری” اور "پیٹھا” کا آرڈر کیا۔ ویٹر نے مسکراتے ہوئے ثنا پوری تو میرے سامنے رکھ دی مگر پیٹھا کے بارے بتایا کہ "صاحب پیٹھا ختم ہو گیا ہے۔” ثنا پوری سفید خشک اور بھنے چاولوں کی ڈش ہے جس میں نمک مرچ اور سلاد مکس ہوتا ہے جبکہ پیٹھا بھی چاول اور میدے سے بنایا جاتا ہے مگر یہ بنگلہ دیشیوں کی ایک "سویٹ ڈش” ہے۔ میں نے ابھی ثنا پوری کا پیالہ ختم نہیں کیا تھا کہ اچانک ایک بنگالی بھائی نے میرے سامنے پڑی خالی پلیٹ میں ایک "موتی چور لڈو” رکھ دیا۔ میں نے سڑک پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو دو بنگالی بھائی گزرنے والوں کے درمیان پاکستان کے بنے ہوئے مشہور موتی چور لڈو بانٹ رہے تھے۔

    یہ محض ایک واقعہ ہے مگر یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین اتفاق ہے کہ بنگالیوں نے بھائی ہونے کا اپنا حق ادا کر دیا۔ گزشتہ روز بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے جب بنگالی طلبہ کے احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور انڈیا بھاگنے پر مجبور ہوئی تو ان بنگلہ دیشی لوگوں نے اس خوشی میں یہاں پاکستان کے بنے ہوئے لڈو تقسیم کیئے۔

    یہ لڈو بانٹنے والے بنگالی بھائی اس مشرقی پاکستان کے بزرگوں کی اولاد تھے جنہوں نے متحدہ پاکستان کو توڑنے کے لیئے مجیب الرحمن اور انڈیا کی بغل بچہ "مکتی باہنی” کی سازش اور غداری کا ساتھ دیا تھا۔ اچھا ہوا بنگلہ دیش کی نوجوان نسل نے اس کا ازالہ کر دیا جس کا داغ دھونے کے لیئے ڈھاکہ میں مجیب الرحمن کے مجسمہ کو احتجاج کرنے والے طالب علموں نے توڑا اور اس کی دیگر تمام "باقیات” کو پاش پاش کر دیا جس مقصد کو حاصل کرنے کے لیئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انہوں نے کم و بیش 500 شہادتوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    اس خونی انقلاب کے پیچھے مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان محبت کے مقابلے میں ایک دوسرے کے خلاف پھیلائی جانے والی نفرت کی ایک پوری داستان ہے کہ 71ء کے عام انتخابات میں ایک طرف شیخ مجیب الرحمٰن اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو تھے جنہوں نے "کرسی” کے لالچ میں اس کی گھناونی بنیاد رکھی تھی۔ بھٹو کو فوجی ڈکٹیٹر ضیاءالحق نے پھانسی دی اور مجیب الرحمن اور اس کے خاندان کے تمام افراد کو بنگالی فوج نے گولی ماری جس میں ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد وہاں نہ ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ جب بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو کو دو بار اقتدار ملا تو وہ لیاقت باغ میں گولی کا نشانہ بنیں اور حسینہ واجد 19سال بنگلہ دیش پر حکومت کرنے، اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کے باوجود وہ اپنے باپ کی لگائی ہوئی نفرت اور غداری کی آگ کا خود ہی نشانہ بن گئیں۔

    شیج حسینہ واجد جب تک بنگلہ دیش کی وزیراعظم رہیں انہوں نے انڈیا کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا۔ وہ اسی بنگلا دیش کی وزیراعظم رہیں جہاں 52 سے 53 سال پہلے غیر بنگالیوں پہ ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تھے۔ باقاعدہ منصوبہ بندی سے بہاریوں کی نسل کُشی کی گئی تھی۔ آج اُن سب شہداء کی ارواح یقینا بہت خوش ہوئی ہونگی کہ ان پہ ظلم ڈھانے والوں کی اگلی نسل بھی ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ وہ مکتی باہنی جس نے کبھی مشرقی پاکستان میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا، آج بنگلہ دیش سے اُس کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ طلبہ کے احتجاج کا مقصد یہی تھا کہ سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں اس کوٹا سسٹم کو ختم کیا جاۓ جو مکتی باہنی کے اراکین کی اولادوں کے لئے مُختص یے۔ شیخ حسینہ واجد نے اس احتجاج کو کُچلنے کے لیئے ہر جابرانہ و قاہرانہ حربہ استعمال کیا لیکن عوامی جذبات کے سیلِ رواں کے سامنے نہ ٹھہر سکیں۔ احتجاج کرنے والوں نے ہر ظلم کا ڈٹ کر سامنا کِیا اور آخِرکار انھوں نے کرفیو کو توڑ کر اور جان کی بازی لگا کر وزیراعظم ہاوس پر قبضہ کر لیا جس کے بعد حسینہ واجد جان بچا کر بھارت بھاگ گئیں۔

    یہ واقعہ ایک غیرمعمولی موڑ ہے جو کامیابی کے بعد بنگلہ دیش کی نہیں بلکہ مشرقی پاکستان کی تاریخ بن گیا ہے جس کا سب سے بڑا اہم سبق یہ ہے کہ تاریخ کبھی بھی کسی سرکش، غدار یا باغی کو معاف نہیں کرتی ہے اور اسے انجام تک ضرور پہنچاتی ہے۔

    جس کا تازہ نمونہ یہی ہے کہ بپھرے ہوۓ عوام کا ایک سمندر تھا جو حسینہ واجد کی رہائش گاہ کے گرد غیض و غضب سے نعرے بازی کر رہا تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دُہراتی ہے۔ پانچ عشرے قبل جس ڈھاکا میں پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تصویروں کی بے حرمتی کی گئی تھی، اُسی ڈھاکہ میں آج اس کے بانی مجیب الرّحمٰن کی تصویروں پہ سیاہی اور جُوتے پھینکے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مجیب الرحمٰن کے قد آدم بتوں کو بھی توڑ دیا گیا۔ یہ وہ شخص تھا جو بنگلہ بوندھو یعنی قوم کا باپ کہلاتا تھا لیکن اب وہ قوم جس نے کل تک اسے باپ کا درجہ دیا تھا، آج اس کی نشانیوں کو پیروں تلے روند رہی تھی اور اس کی خوشی میں ملک و ملک موتی چور کے لڈو بانٹ رہی تھی۔ یہ منظر گویا زبان حال سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ "دیکھو مُجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔”

    بنگلہ دیش کے آرمی چیف نے کہا ہے کہ ملک میں فوج کا حکم چلے گا مگر مناسب وقت پر الیکشن کروا دیئے جائیں گے۔ ایسا ہوا تو اسمبلی میں حسینہ واجد کی پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں ہو گا اور خونی انقلاب سے گزرنے والے انہی انقلابی طلباء کو اقتدار کا سنگھاسن ملے گا جو پاکستانی حکومت کے لیئے بہترین موقع ہے کہ وہ بھارت کو بچھاڑ کر اپنے بنگالی بھائیوں کی محبت و دوستی کو گلے لگا لے۔

  • خبردار!   آگے خطرناک موڑ ہے

    خبردار!   آگے خطرناک موڑ ہے

    ( وطن عزیز پاکستان اس وقت جن کٹھن ، نامساعد اور تشویشناک حالات و واقعات سے گزر رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن انجام سے بے خبر ،  ہم سب ،  آنکھیں بند کرکے ،  ایک خطرناک موڑ کی طرف سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں ، نتیجہ کیا ہوسکتا ہے ، اسی پر چند سطور پیش خدمت ہیں ) 

    تجزیہ و تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    یوں تو تاریخ عالم ایسے واقعات و حادثات کے ذکر سے بھری پڑی ہے  جن کے نتیجے میں ملک ٹوٹے ، قومیں بکھریں لیکن ہمیں دور جانے کی ضرورت نہیں ، اگر ہم 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان پر ہی نظر دوڑا لیں تو بات سمجھ میں آجاتی ہے ۔

    میری نسل ( Generation ) کے لوگ اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ ماضی میں جب ہم اسی قسم کے فکری اور سیاسی اختلاف و انتشار کا شکار ہوئے تو قوم و ملک کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ قیام پاکستان کے صرف 25 سال کے اندر ملک ٹوٹ گیا ، 90 ہزار کے قریب فوجی اور سویلین جنگی قیدی بنا لئے گئے ، نہ صرف عالمی سطح پر جگ ھنسائی اور شرمندگی ہمارے حصے میں آئی بلکہ ہمیں از سر نو بچے کھچے پاکستان کی تعمیر کرنا پڑی جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی بجائے , ایک جھٹکے میں 25 سال پیچھے چلے گئے ۔

    میرے وطن کے نوجوان اس بات سے آگاہ نہیں کہ جنرل ایوب خان سے یحیی خان کے دور تک سیاسی حالات کیا تھے ۔ کون کیا کہ رہا تھا ۔ دشمن نے کیا کیا چالیں چلیں اور پھر ہم کس عذاب سے گزرے ۔ یقین جانیئے اس وقت بھی ہم بعینہ آج کی طرح ، کئی گروہوں میں بٹے مختلف راگ الاپ رہے تھے کہ دشمن نے ہمیں گردن سے دبوچ لیا ۔ پاکستان ٹوٹ گیا ۔ گھر گھر صف ماتم بچھ گئی ۔  وہ بنگالی پاکستان کو چھوڑ کر بنگلہ دیشی بن گئے کہ جو  پاکستان کے بانی تھے ۔ یاد رہے پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کسی پنجابی ، سندھی ، بلوچ یا پٹھان نے قائم نہیں کی ، بلکہ اس کی بنیاد 1905 میں سر حمید اللہ خان نواب آف ڈھاکہ کے گھر مشرقی بنگال ( بعد میں مشرقی پاکستان ) میں رکھی گئی اور اس جماعت کا پہلا صدر ، ایک شش امامی شیعہ سر آغا خان کو منتخب کیا گیا ۔

    تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم کوئی ڈراونا خواب دیکھ رہے ہیں ۔ ہزار سال تک برصغیر پر حکمران رہنے والے 1857 میں مکمل طور پر غلام بنادئے گئے ۔ یہیں سے جنگ آزادی کا آغاذ ہوا اور تقریبا 100 سال تک مسلسل لڑتے لڑتے آخر کار 1947 میں لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرایا اور ابھی ہم سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ 1971 میں ، جبکہ پاکستان کی عمر صرف 25 سال تھی ، ہمیں ، ہماری کوتاھہیوں کی بناء پر ایک اور سانحے سے گزرنا پڑا ۔

    خیال یہ تھا کہ اتنے بڑے سانحے سے گزرنے کے بعد ہم ہوش کے ناخن لینگے ، سب مل کر وطن کی ترقی اور استحکام کے لئے کام کرینگے  تاکہ اقوام عالم کے سامنے سر اٹھا کر چل سکیں لیکن یہ سپنا بھی ٹوٹتا نظر آرہا ہے ۔

    باہمی اختلاف تو اپنی جگہ لیکن سب سے خطرناک بات یہ کہ اب ماضی کے برعکس ، جانے مانے محب وطن بھی افواج پاکستان پر طعنہ زنی کرتے نظر آتے ہیں جو ایک نہایت تشویشناک بات ہے ۔ اس سے قبل چند پاکستان مخالف گروہ اور مفاد پرست سیاست دان ہی ، پاک فوج اور اس کی قیادت  کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے لیکن اب اس میں ، بغیر سوچے سمجھے ، وہ آوازیں بھی شامل ہوگئی ہیں کہ جن سے اس بات کی توقع نہ تھی ۔

    میرے ناقص خیال کے مطابق ہمارے موجودہ مسائل کا حل یہ نہیں کہ ہم اپنی ہی فوج کے خلاف محاذ کھول دیں بلکہ اس سازش کی تہہ تک جانے کی ضرورت ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم اس صورت حال تک پہنچے ہیں ۔ ہمیں دشمن کی اس چال کو سمجھنا ہوگا ۔ اس نے کمال ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسا ماحول تخلیق کیا کہ جس میں  نہ صرف ہم آپس میں گتھم گتھا ہیں بلکہ سب نے مل کر فوج کو بھی برا بھلا کہنا شروع کردیا ہے ۔ غلطیاں ہوئی ہیں اس بات سے انکار ممکن نہیں لیکن کیا ہمیں ذاتی مفاد ، اقتدار اور  جھوٹی انائیں ملکی سلامتی سے زیادہ عزیز ہیں ۔ حزب اقتدار اور اپوزیشن دونوں کے لئے امتحان کا وقت ہے ۔ اگر اس جنگ کے نتیجے میں کوئی بڑا حادثہ رونماء ہوگیا تو نقصان ملک و قوم کا ہوگا ۔

    military
    Image by Joan Greenman from Pixabay

    قارئین کرام

    کسی بھی ملک و قوم کی سلامتی ، استحکام اور بقاء کے لئے تین چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں ۔

    اولا یہ کہ ، پوری قوم یا کم از کم اس کی واضع اکثریت ملکی نظام کو چلانے کے لئے ہم خیال ہو یعنی

     وہ کسی ایک سیاسی جماعت یا راہنماء کی پیروی پر متفق ہوں ۔

    دوسری اہم ترین چیز  کسی بھی ملک کی مضبوط اور توانا معیشت یا مالی حالت

    اور تیسرے نمبر پر مضبوط اور بہادر فوج کا ہونا دفاع کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔

    بدقسمتی سے ہم اس وقت ان تین اوصاف میں سے  دو

     1. قومی اتحاد و اتفاق 

    اور

     2. معیشت

    کو کھو چکے ہیں ۔

     سیاست میں  دشمنی ، انتقام ، خودغرضی  اور مفاد پرستی کی بھرمار نے قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔ 

    ماضی میں قومی خزانے سے ہونے والے کھلواڑ  سے معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ۔ ملک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے اس برے طریقے سے دبا ہے کہ ہمارے پاس غیرملکی قرضوں کا سود دینے کے لئے بھی رقم موجود نہیں ۔

    رہی بات ہماری بہادر اور مضبوط فوج کی تو اب ہم اس کا مورال گرانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں ۔

    رک جائیے ، ابھی ہم نتیجے پر نہیں پہنچے ۔ یہ مان کر چلتے ہیں کہ اختلافات فروعی اور وقتی ہیں ، ہوسکتا ہے آگے چل کر ختم ہوجائیں ، ہماری فوج بھی مضبوط ہے الحمدللہ ، لیکن معیشت کا کیا ہوگا جو اس وقت انتہائی نگہداشت یا آئی سی یو وارڈ میں وینٹیلیٹر پر ہے  ؟

    یاد رکھیں ، سابق سوویت یونین فوجی لحاظ سے ایک سپر پاور تھی اور آج بھی روس کے پاس ایک مضبوط اور بڑی فوج موجود ہے لیکن خراب معیشت اور اندرونی اختلافات نے اس کے 15 ٹکڑے کردئے ۔ سری لنکا سیاست دانوں کی لوٹ مار اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے حال ہی میں کنگال ہوچکا ۔ لھذا اگر ہم نے بھی باہمی جنگ و جدل جاری رکھا ، باہم مل کر قومی معیشت کو نہ سنبھالا تو خدا نخواستہ ہمارا حشر بھی سوویت یونین اور سری لنکا جیسا ہوسکتا ہے ۔

     اس لئے میں  پوری قوم سے گزارش کرتا ہوں  کہ وقت کی نزاکت اور پکار پر دھیان دیتے ہوئے چلیں

    آگے خطرناک موڑ کا بورڈ صاف نظر آرہا ہے کہیں ہم اتنی گہری کھائی میں نہ جا گریں جہاں سے نکلنا مشکل ہو ۔

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    مسقط، سلطنت عمان