Tag: لبنان

  • اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    تحریر: جوسف علی 

    اتوار کو قلم نہ چل سکا، دستخط نہ ہو سکے۔ میز پر رکھی "میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ” کی فائل مکمل تھی، مسودہ فائنل تھا، مگر سائن نہ کیئے جا سکے۔ بظاہر کہا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر نے حتمی منظوری کے لیے چند دن مزید مانگے ہیں۔ لیکن پردے کے پیچھے کہانی کچھ اور تھی۔ ایران کے قدم پیچھے ہٹنے کی اصل وجہ وہ دھماکہ تھا جو اتوار کی صبح بیروت کے آسمان پر گونجا۔ صہیونی اسرائیل نے لبنان پر ایک اور بم برسا کر امن کی میز لڑکھڑا دی۔

    شیڈول کے مطابق معاہدے پر دستخط 14 جون 2026، بروز اتوار ہونے تھے۔ لیکن اسی دن اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات داحیہ Dahiyeh میں ایک 5 منزلہ عمارت کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوج کا بیانیہ تھا کہ یہ حملہ حزب اللہ کے "کمانڈ سینٹر” کے خلاف تھا، جہاں سے حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر 3 راکٹ اور ڈرون داغے تھے۔ لبنانی سول ڈیفنس نے 3 افراد کی شہادت اور 16 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ 13 جون کو بھی اسرائیل نے لبنان پر شدید بم گرائے تھے۔ 17 اپریل کے سیز فائر کے بعد سے اسرائیل تقریباً 3,500 فضائی حملے کر چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ امن کے راستے میں رکاوٹ ایران نہیں، وہ اسرائیل ہے جو ہر معاہدے کے بیچ بارود بچھا دیتا ہے۔

    ایران امریکہ کشیدگی میں اسرائیلی رکاوٹیں نئی نہیں۔ مگر اتوار کو جو بات ہوئی اس نے آگ پر تیل کا کام کیا۔ معاہدے سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک غضب ناک پوسٹ ڈال دی: "ڈیل نہ ہوئی تو وہ ہولناک متبادل آئے گا جو تاریخ نے کبھی نہیں دیکھا”۔ مذاکرات کی میز پر دھمکی رکھ دینا، سفارتکاری نہیں، بالادستی کا اعلان ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ نے ثابت کر دیا کہ امریکہ ابھی تک "معاہدہ” نہیں، "اطاعت نامہ” چاہتا ہے۔

    اتوار معاہدے کا ڈراپ سین اور امریکی بالادستی کا سوال

    اصل گتھی کہیں اور اٹکی ہے۔ ایران وعدے کے مطابق اپنے 25 ارب ڈالر منجمد اثاثے بحال کروانا چاہتا ہے۔ وہ جوہری بم نہ بنانے کا وعدہ کرنے کو تیار ہے، لیکن امریکہ افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے پر بضد ہے۔ ایک فریق عزت مانگ رہا ہے، دوسرا سرنڈر۔ اسی لیے معاہدے کی سیاہی خشک ہونے میں مزید 8 سے 10 دن لگ سکتے ہیں۔

    طے شدہ فریم ورک کے مطابق جنگ بندی 60 دن کے لیے ہو گی۔ اس دوران یورینیم کی افزودگی اور جوہری پروگرام پر تکنیکی بات چیت مکمل کی جائے گی۔ مگر ابھی مسودے میں رخنے باقی ہیں۔ تہران کا موقف واضح ہے: مسودے کے سیاسی، قانونی اور تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وہ جلدی میں فیصلہ نہیں کرے گا، کیونکہ ہر لفظ اس کے بقا کا فیصلہ بنے گا۔

    سچ یہ ہے کہ یہ موقع شاید آخری ہو۔ خطے میں جنگ کی آگ پہلے ہی لبنان تک پہنچ چکی ہے۔ اگر اتوار کا ڈراپ سین آئندہ اتوار بھی دہرایا گیا، تو پھر میز پر امن نہیں، ملبہ ہو گا۔ امریکہ کی بالادستی کا سوال صرف ایران کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے امتحان بن چکا ہے۔ کیا دنیا طاقت کے ڈنڈے سے چلے گی، یا قانون اور برابری کی میز سے؟ جواب آنے والا ہے، اور وہ جواب صرف تہران واشنگٹن نہیں، بیروت کی شہید ماؤں کے آنسو بھی لکھیں گے۔

  • حالیہ کشیدگی کا اصل امریکی منصوبہ

    حالیہ کشیدگی کا اصل امریکی منصوبہ

    حالیہ کشیدگی کا اصل امریکی منصوبہ

    Dubai Naama

    ایران امریکہ امن معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں پر امریکی حملہ ہوا۔ امریکی صدر نے مسلم ممالک کے سربراہان کو مشترکہ فون کال کر کے انہیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کا بھی کہا۔ یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے امن معاہدے کو بھی مسلم ممالک کے "ابراہیم اکارڈ” میں شمولیت سے مشروط کر دیا۔ ابراہیم اکارڈ کا اصل مقصد ہی اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرانے سے جڑا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے سعودی شہزادے، قطری حکمران اور پاکستانی فیلڈ مارشل پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیئے دبا ؤ ڈالنے سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کا بنیادی مقصد بھی اسرائیل ہی کو تسلیم کرانا ہے۔

    غور کریں کہ امریکہ اور ایران مذاکرات جونہی معاہدہ ہونے کے قریب آتے ہیں صدر ٹرمپ اس میں کوئی نیا رخنہ ڈال دیتے ہیں۔ ایران امریکہ امن معاہدے میں بریک تھرو ہو گیا تھا مگر ٹرمپ نے پھر وہی کیا جو ایران سے حالیہ کشیدگی میں ان کا معمول رہا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ جب بھی بیان دیتے رہے ہیں اس میں ہر حال میں وہ ایران کو دھمکی دیتے رہے ہیں۔ اسرائیل بھی اس سے مکمل فائدہ اٹھاتا آ رہا ہے۔ کل بھی صہیونی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے النبطیہ پر شدید فضائی حملہ کیا۔ اسرائیل نہیں چاہتا ہے کہ اس کے ہمسائے میں کوئی ملک اس کے لیئے خطرہ بنے۔ لبنان کمزور ملک ہے جبکہ حماس اور غزہ کے فلسطینی مسلمان اس سے بھی زیادہ کمزور ہیں۔ ایران خطے کی  واحد طاقت ہے جو اسرائیل کی توسیع پسندی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے بارے میں ایک سعودی اعلی عہدے دار نے بھی کہا تھا کہ: "اگر ایران نہ ہوتا تو سارے خطے پر آج اسرائیل کا قبضہ ہوتا”۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں کو معلوم ہے کہ جب تک ایران طاقتور رہے گا تب تک "گریٹر اسرائیل” کا منصوبہ بھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ حالیہ خلیجی جنگ کے بعد مغربی ممالک میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف مخالفت اور نفرت پیدا ہوئی ہے۔ اب لگتا نہیں ہے کہ کبھی گریٹر اسرائیل کا صہیونی منصوبہ کامیاب ہو گا۔ پھر بھی اسرائیل اور  امریکہ کی پوری کوشش ہے کہ ایران کو جتنا بھی ہو سکے کمزور کیا جائے۔

    حالیہ کشیدگی کا اصل امریکی منصوبہ

    یہاں تک کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے ایران کا ایک نقشہ جاری کروایا تھا جس میں امریکی جھنڈا لہراتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ ایران کو تین حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی سامراجی منصوبہ ہے جس پر برطانیہ نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے تحت آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کی تھی۔ امریکہ سپر پاور ہے تو چند دہانیوں سے اس نے بھی سامراجی نظام کو قائم رکھنے کے لیئے مڈل ایسٹ میں یہی اصول اپنا رکھا ہے، جس کی مثال عراق، لیبیا، شام اور لبنان کے بعد ایران کی حالیہ کشیدگی ہے۔

    امن معاہدے کی امید افزاء اطلاعات آنے کے بعد بھی اگر ایران امریکہ امن معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے ہیں تو بھرپور جنگ دوبارہ چھڑنے کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بوجوہ یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ معاہدہ کب اور کیسے طے پا سکتا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مختصر دورہ تہران کے بعد کسی امن معاہدے کے امکان پر قیاس آرائیاں ہوئی تھیں۔ یہاں تک دعوی کیا گیا کہ اگلے چند دنوں میں معاہدے پر دستخط کرنے کے لیئے وفود اسلام آباد پہنچ جائیں گے لیکن اب صدر ٹرمپ نے "یو ٹرن” لے کر اسلامی ممالک کو آن بورڈ لیا ہے کہ ایران سے امن معاہدہ تبھی ہو گا جب اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا۔ خبروں کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے کافی قریب آ گئے تھے۔ امن معاہدے کی تفصیلات پر بھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔ یہاں تک کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ معاہدہ تقریبا طے پا گیا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اب صرف چند تفصیلات طے ہونا باقی ہیں۔ بھارت کے دورے پر گئے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ معاہدہ تکمیل کے قریب پہنچ چکا ہے اور چند گھنٹوں میں ہی اس کی تفصیلات سامنے آ جائیں گی مگر وہ وقت ابھی تک نہیں آیا ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری یہ غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو سکے۔ ایک پائیدار امن معاہدے کی حتمی خوشخبری سننے کے لیئے شاید ابھی مزید وقت لگے گا۔ اس کے لیئے پاکستان کو دونوں متحارب گروپوں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیئے سفارت کاری اور مزید محنت کی ضرورت ہے۔ 

    ابراہیم اکارڈ کی روشنی میں اسرائیل کو تسلیم کروانے ہی کے مقصود کی خاطر صدر ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں کہا تھا: "مذاکرات کرنے والوں کو عجلت کی ضرورت نہیں ہے ہمیں نہایت احتیاط سے حتمی معاہدے پر اتفاق کرنا ہو گا”۔ اس بیان کا بلواسطہ مقصود یہی ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان منظم اور تعمیری انداز میں مذاکرات ہوئے ضرور ہیں اور مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا ابھی بھی امکان موجود ہے لیکن جب صدر ٹرمپ اپنے نمائندوں کو یہ ہدایت جاری کرتے ہیں کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیئے جلد بازی نہ کی جائے تو اس سے ٹرمپ ایران سے جنگ کے اپنے اصل مقصد کو مدنظر رکھ رہے ہوتے ہیں جو خطے میں امریکی مفادات کے عین حق میں ہے، تاکہ اسرائیل باقی رہے اور مشرق وسطی میں امریکہ کے مفادات پورے ہوتے رہیں۔

  • خلیل جبران

    خلیل جبران

    خلیل جبران

    Dubai Naama

    ایک لبنانی مصنفہ جمانہ حداد ایک جگہ لکھتی ہیں کہ، "میں یہ نہیں چاہتی کہ تم میرے جیسا سوچو، نہ یہ کہتی ہوں کہ تم میرے عقائد کو اپنے دل میں بسا لو، نہ یہ طلب کرتی ہوں کہ تم میرے فیصلوں کی تائید کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔ میری بس ایک درخواست ہے، ایک تمنا ہے کہ تم میرے وجود کا احترام کرو، میرے مختلف اندازِ فکر کا مان رکھو، یہ تسلیم کرو کہ میرے عقائد میرے ہیں، جو تمہارے عقائد سے الگ ہیں، میرے فیصلے میرے ہیں، جو تمہارے فیصلوں سے یکسر جدا ہیں۔ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے عقائد اور فیصلوں کو اپنے اس لمحے میں جیوں، یہاں، اسی جگہ، اپنے پورے وجود کے ساتھ، بالکل اُسی طرح جیسے تم اپنے حق کے مطابق جیتے ہو۔”

    لبنان کے مشہور ادیب اور شاعر خلیل جبران کا تعلق بھی لبنان سے تھا جنہوں نے "The Prophet” (پیامبر) جیسی خوبصورت ادبی کتاب لکھی تھی۔ یہ انمول کتاب سنہ 1988ء میں سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن ڈویژن اسلام آباد کے میرے ایک سینئر افسر حنیف اورکزئی نے مجھے تحفتا دی تھی۔ میں نے یہ کتاب دو تین مرتبہ پڑھی مگر ہر بار اس کی ادبی تحریروں سے آزادی اور احساس کی ایک نئی خوشبو کو محسوس کیا جسے میں آج بھی اپنی روح میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک عورت ہی نہیں بلکہ تمام مرد و زن اپنی من مرضی کی ایک الگ تھلگ دنیا میں جینا چاہتے ہیں۔ سچ کہتے ہیں آزادی ایک نعمت ہے۔ یہ ایک ایسی آزاد اور منفرد دنیا یے کہ جس پر صرف انہی کی بادشاہت ہو۔

    خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں 6 جنوری 1883ء کو پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا۔ وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکہ ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ خلیل جبران اپنی کتاب "پیامبر” کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں سنہ 1923ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب بہت مشہور ہوئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتابوں میں شمار ہوئی۔

    کہا جاتا ہے کہ خلیل جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔

    خلیل جبران
    خلیل جبران

    خلیل جبران آزادی کے بارے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ، "آزادی کے بغیر زندگی ایسی ہے جیسے روح کے بغیر جسم ہو۔” آج فلسطین اسرائیل کی جنگ کے باعث لبنان بھی آگ اور خون کے شعلوں سے گزر رہا ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں کہتا ہوں کہ انسان جتنے بھی من پسند رشتوں میں گھرا رہتا ہو وہ اپنے اندر تشنہ تکمیلیت کا ایک مسلسل احساس محسوس کرتا ہے اور اسے تب تک اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا جب تک اسے سچی ذہنی اور جسمانی آزادی نہیں ملتی ہے جس کے لیئے آج فلسطینی اسرائیل کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔

    خلیل جبران نے اپنی مشہور زمانہ کتاب پیامبر کے علاوہ ٹوٹے پر، اشک و تبسم، ارضی دیوتا، اپنا اپنا دیس، آنسو اور مسکراہٹ، آندھیاں اور پاگل آدمی وغیرہ بھی لکھیں۔ ان کی مشہور تحریروں کو خطوط خلیل جبران میں بھی مرتب کیا گیا ہے۔ ان تمام کتب کا اردو سمیت دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ ان کی ہر کتاب ایک ادبی شاہکار ہے۔ لیکن جو لطف "پیامبر” کو پڑھ کر آتا ہے وہ ان کی کسی دوسری تصنیف میں شامل نہیں ہے۔ فلسفے کو ادب کی زبان میں پڑھنا ہو تو یہ کتاب ضرور پڑھنی چایئے۔

    خلیل جبران کی کتب اور تحریروں کے مقام اور درجے کا اندازہ ان کے درج ذیل الفاظ سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ خلیل جبران لکھتے ہیں: پھر ایک عورت نے جس کی گود میں بچہ تھا کہا، ہمیں بچوں کے متعلق کچھ بتا۔ اس نے کہا: "تمھارے بچے تمھارے نہیں ہیں۔ وہ قوت حیات اور جذبہ آفرینش کی اولاد ہیں۔ وہ اس زندگی کی اولاد ہیں جس کی فطرت خود اپنی نمو کے لیئے بے قرار رہتی ہے۔ وہ تمھارے واسطے سے بھیجے جاتے ہیں، مگر وہ تمھاری ملکیت نہیں ہوتے۔ تم اپنی محبت ان کو دو جس قدر دے سکو، جس قدر دینا چاہو، مگر اپنا تخیل ان کے حوالے نہ کرو۔ اس لیئے کہ ان کو تمھارے تخیل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنا تخیل اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ تم ان کے جسموں کو اپنے گھروں میں آسائش پہنچاو لیکن ان کی روحوں کو آزاد چھوڑ دو۔ اس لیئے کہ ان کی روحیں اس گھر میں رہتی ہے جس کو "فردا” کہتے ہیں۔

    خلیل جبران مزید لکھتے ہیں کہ وہ گھر اس "ماضی” اور "امروز” سے دور ہے جس میں تم سکونت رکھتے ہو۔ اس گھر میں تم نہیں جا سکتے، اس گھر کا تصور بھی تمھارے ذہن میں نہیں آ سکتا۔ تم چاہو تو ان کے قدم بقدم چلنے کی کوشش کرو۔ مگر ان کو ہرگز اپنے قدم بقدم چلانے کی کوشش نہ کرو۔ اس لیئے کہ زندگی پسپا نہیں ہو سکتی، اس کا قدم پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔