Tag: فرعون

  • محمد حفیظ خان کا ناول "منتارا”: سیاست کے فرعونوں کی کہانی

    محمد حفیظ خان کا ناول "منتارا”: سیاست کے فرعونوں کی کہانی

    محمد حفیظ خان کا ناول "منتارا”: سیاست کے فرعونوں کی کہانی

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    اقصیٰ سرفراز ناول منتارا کے بارے میں لکھتی ہیں کہ "منتارا کی کہانی سیاسی عدم استحکام کی داستان ہے جس میں حالاتِ حاضرہ کا جائرہ لیا گیا ہے۔ ناول کا پلاٹ مجھے طاقتور لگا کیونکہ اس میں ملک کے وڈیروں، جاگیرداروں اور سرداروں کی ذاتی زندگیوں کی ترجیحات اور مطلب پرست مفادات کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ یعنی ۔۔۔۔۔نئے کردار آتے جا رہے ہیں

    مگر ناٹک وہی پرانا چل رہا ہے!”

    اردو ادب میں سیاسی اور سماجی تناظر کو فکشن میں سمو کر پیش کرنا ایک مشکل فن ہے، جس میں کامیاب وہی ہوتا ہے جو حقیقت اور تخیل کے امتزاج کو ایک خاص توازن کے ساتھ برتنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ محمد حفیظ خان سے میری ملاقات اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاؤس میں ایک ایوارڈ تقریب میں ہوئی تھی۔ اس تقریب میں ان سے علم و ادب کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ اس تقریب میں میری دو کتابوں رہبر اعظم ﷺ (کھوار) اور تلاش (اردو) کو ڈاکٹر مشتاق عادل صاحب نے ایوارڈز کے لیے نامزد کیا تھا یہ دونوں ایوارڈز میں نے محمد حفیظ خان اور ڈاکٹر مشتاق عادل صاحب سے وصول کیا تھا۔ محمد حفیظ خان کا ناول "منتارا” ناول نگار کی فنی مہارت کا مظہر ہے، جو نہ صرف پاکستان کے سیاسی پس منظر میں لکھا گیا ہے بلکہ سیاست کے پیچیدہ جبر، استحصالی نظام، اور طاقت کے کھیل کی پرتیں کھولتا ہے۔

    "منتارا” ایک سیاسی ناول ہے جس کا پلاٹ پاکستان کے موجودہ حالات پر مبنی ہے۔ اس ناول میں مصنف جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور سیاسی اشرافیہ کے کرداروں کے ذریعے ہمارے سیاسی و سماجی ڈھانچے کی تصویر کشی کی ہے۔ اقصیٰ سرفراز کے مطابق، یہ ناول ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ "نئے کردار آتے جا رہے ہیں مگر ناٹک وہی پرانا چل رہا ہے۔” یہ جملہ دراصل ناول کے مرکزی خیال کی بہترین عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاست کے چہرے بدلتے رہتے ہیں لیکن ان کا طرزِ عمل اور مقاصد وہی رہتے ہیں۔

    محمد حفیظ خان کا قلم بے باک ہے۔ وہ اپنے اسلوب میں کسی قسم کی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ کھلے انداز میں طاقت کے ایوانوں میں موجود کرپشن، منافقت اور سیاست کی اندھیر نگری کو بے نقاب کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ممتاز ادیب، شاعر اور دانشور انوار فطرت رقمطراز ہیں کہ "منتارا کی کہانی ایک عام سے منظر اور پس منظر میں کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر بہت دھیمے خرام کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔ حسن و عشق کی چہلیں ہیں، خود سپردگیاں ہیں، ناز و نخرے ہیں، جسموں کی گہرائیوں کے بھید بھی ہیں اور بھاؤ بھی۔ یوں کہانی دھیمے دھیمے رفتار پکڑتی ہے اور حاکمیت کے بے رحمانہ اسلوب ” ڈیپ سٹیٹ کے منجدھار میں پہنچ کر یہ رفتار دیوانگی کی خونیں حدوں میں داخل ہو جاتی ہے۔ کہانی کی زیریں لہروں کی بوقلمونی تہہ میں پڑی حیرتوں کی ریت کو اس وحشت و دہشت اور شدت کے ساتھ کھودتی ہے کہ قاری ہر ہر قدم پر خود کو نیچے ۔۔۔ اور نیچے دھنستا پاتا ہے۔ سیاسی جرائم کی لامتناہیئت دم لینے کی مہلت ارزانی نہیں کرتی۔ کہیں پڑھا تھا کہ قلوپطرہ کی ناک اگر ذرہ بھر مزید لمبی ہوتی تو تاریخ عالم کچھ اور ہوتی "منتارا” پڑھنے سے پہلے یہ جملہ کبھی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ ہر دور کی سیاسی قحبہ گیری ہو یا قلوپطرہ کی ناک "منتارا” کی قلوپطراوں کی یہاں کی سیاست پر فرماں روائی صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہاں "سیاسی طوائف” کی برانڈ نیو اصطلاح اپنی تمام تر معنوی برہنگی کے ساتھ موجود ہے۔ مخدوم ناظر حیات ایک سیدھا سادہ سا حسن پرست کردار ہے لیکن انتشاری مہاجرت نے اسے ہوس کا خانہ بدوش بنا رکھا ہے۔ ایک گرم آنوش اسے سیاسی وجاہت سے زیادہ عزیز ہے۔ محمد حفیظ خان نے اسے بڑی ہی خوب صورتی اور مہارت کے ساتھ تیار کیا ہے”۔

    محمد حفیظ خان کا ناول "منتارا”: سیاست کے فرعونوں کی کہانی

    ناول کا پلاٹ انتہائی جاندار اور مربوط ہے، جو آہستہ آہستہ قاری کو اپنی گرفت میں لیتا ہے۔ اس میں کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں سے لے کر ڈیپ سٹیٹ کے منجدھار تک کے سفر میں انسانی نفسیات، اقتدار کی کشمکش، ہوس، طاقت کے کھیل اور سیاسی گندگی کو تفصیل سے بلا خوف بیان کیا گیا ہے۔

    ناول کا مرکزی کردار مخدوم ناظر حیات ہے، جو ایک سیدھا سادہ، حسن پرست انسان ہے مگر سیاسی انتشار اور مہاجرت کی وجہ سے ہوس کا خانہ بدوش بن جاتا ہے۔ اس کردار کے ذریعے مصنف نے پاکستانی سیاست کے کئی چہروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ناول میں ایسے کئی دوسرے کردار ہیں جو ہمارے موجودہ سیاسی حالات کی نمائندگی کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ طاقت اور ہوس کا کھیل کس طرح معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

    یہاں "منتارا” کا استعارہ بھی خاصا معنی خیز ہے۔ یہ کسی خاص کردار کا نام نہیں بلکہ سیاست میں چھپے ان عناصر کی علامت ہے جو وقت کے ساتھ شکلیں بدلتے رہتے ہیں لیکن ان کا مقصد ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے: اقتدار پر قابض رہنا اور عوام کا استحصال کرنا وغیرہ وغیرہ۔

    محمد حفیظ خان کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی اس کی حقیقت نگاری اور بے باکی ہے۔ وہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کا نام لیے بغیر پورے سیاسی نظام کی بدنظمی کو سامنے لاتے ہیں۔ ان کے قلم میں سماجی و سیاسی شعور کی جھلک نمایاں طور پر محسوس کی جاسکتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ ناول صرف ایک کہانی ہی نہیں بلکہ ہمارے عہد کا سچ بھی ہے۔

    اس حوالے سے اقصیٰ سرفراز کا تبصرہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے وہ لکھتی ہیں کہ "مصنف کا قلمی موضوع ایک ہی ہے مگر اپنی ہر کتاب میں انہوں نے پہلے سے انوکھا انداز اپنایا ہے تاکہ قاری بیزار نہ ہونے پائے۔”

    یہی بات "منتارا” کے حوالے سے بھی صادق آتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک سیاسی ناول ہے، لیکن اس کا بیانیہ، اس کا اسلوب اور اس کی علامتیں اسے دیگر عام سیاسی کہانیوں سے الگ اور منفرد بناتی ہیں۔

    "منتارا” محض ایک سیاسی ناول ہی نہیں بلکہ ایک فکری احتجاج بھی ہے۔ مصنف کا اسلوب سادہ مگر پراثر ہے۔ تشبیہات، استعارے اور علامتوں کا استعمال اس حد تک چابکدستی سے کیا گیا ہے کہ ناول محض ایک بیانیہ نہیں رہتا، بلکہ ایک ادبی شاہکار بن جاتا ہے۔

    انوار فطرت نے درست لکھا ہے کہ "یہ کہانی دھیمے دھیمے رفتار پکڑتی ہے اور حاکمیت کے بے رحمانہ اسلوب، ‘ڈیپ سٹیٹ’ کے منجدھار میں پہنچ کر دیوانگی کی خونیں حدوں میں داخل ہو جاتی ہے۔”

    یہی وہ نکتہ ہے جہاں "منتارا” روایتی ناولوں سے مختلف نظر آتا ہے۔ یہ ناول کسی سیدھی لکیر کی طرح نہیں چلتا بلکہ اس میں کئی اتار چڑھاؤ اور نفسیاتی گہرائیاں بھی موجود ہیں، جو قاری کو ہر لمحہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔

    محمد حفیظ خان کا ناول "منتارا” نہ صرف ایک بہترین سیاسی ناول ہے بلکہ یہ ہمارے عہد کے سیاسی، سماجی اور نفسیاتی مسائل کا آئینہ بھی ہے۔ اس میں کردار صرف خیالی نہیں بلکہ ہمارے اردگرد موجود حقیقی چہرے ہیں۔ مصنف نے ناول میں منافقت، سیاست، طاقت کی ہوس اور انسانی بربادی کو جس بے خوفی سے بیان کیا ہے، وہ اسے ایک جراتمندانہ تخلیق کار کے طور شہرت کی بلندیوں پر پہنچائے گا۔

    محمد حفیظ خان نے اس ناول کے ذریعے اردو فکشن میں ایک نئی سمت متعین کی ہے، جو صرف کہانی سنانے کے بجائے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی زوال پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "منتارا” کو صرف ایک سیاسی ناول ہی نہیں بلکہ ایک فکری تحریک کا بھی درجہ دینا چاہیے۔ میں کتاب کی اشاعت پر مصنف کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ 

  • سیاست کے فرعون

    سیاست کے فرعون

    سیاست کے فرعون

    Dubai Naama

    ہر نئی آنے والی حکومت میں افراط زر اور مہنگائی وغیرہ میں تیزی سے اضافہ ہو جاتا ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں وہ معاشی حالات میں پیدا ہونے والے بدتری کے سیلاب کو نہیں روک سکی ہیں۔ آپ ڈالر اور روزمرہ کی قیمتوں کا ہر گزشتہ دور سے موازنہ کر کے دیکھ لیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ آج سے پانچ سال پہلے مہنگائی کم تھی، دس سال پہلے اس سے بھی کم تھی اور پندرہ سے بیس
    سال پہلے تو آج سے کئی گنا کم تھی۔ دنیا کے ہر ملک میں معاشی بحران کی وجہ سے مہنگائی ہوتی ہے مگر سمجھدار اور پائیدار پالیسیوں پر عمل کرنے والے ممالک میں فی کس آمدن میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی تو ہوتی ہے مگر یہاں فی کس آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

    جنرل ایوب خان اور پرویز مشرف کے ادوار میں مارشل لاء اور آمریت تھی مگر اس وقت ملک میں پھر بھی زیادہ خوشحالی تھی۔ ملک کے ترقی کرنے کا انحصار سیاسی استحکام، کردار اور امن و امان کی صورتحال پر ہوتا ہے۔ معاشی عدم استحکام ملک و ملت کے بگاڑ کا سبب تو بن سکتا ہے مگر یہ اس کے ٹھیک ہونے کا معیار نہیں ہو سکتا۔ ہماری معیشت اور سیاسی صورتحال میں تسلسل سے بگاڑ پیدا ہوتا رہا ہے۔ سیاسی اور معاشی استحکام چونکہ ایک دوسرے سے لازم و ملزوم ہیں لھذا جب تک ملک میں سیاسی کشمکش قائم رہے گی ملک میں معاشی ترقی کی کوئی سبیل پیدا نہیں ہو سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی حکومت سیاسی کھینچا تانی ہی کے دوران کرسی پر بیٹھتی ہے جس وجہ سے اسے مستقل معاشی پالیسیوں پر عمل کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے جس وجہ سے ہمیں ملک کو چلانے کے لیئے ہر سال ایک ایک ملئین کے لیئے دوست ممالک سے قرض کی بھیک مانگنا پڑتی ہے اور ساتھ ہی ہم پر ہر سال بیرونی قرضوں کا بوجھ بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک تو ہماری بحیثیت مجموعی عزت نفس مجروح ہوتی ہے دوسرا ملک میں مہنگائی اور افراط زر میں بے ہنگام اضافہ ہو جاتا ہے، افلاس کا تناسب بڑھ جاتا ہے اور لوگ گھروں کا چولہا جلانے کی خاطر جرائم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان لاء اینڈ آرڈر اور کرپشن کی بات تو کرتے ہیں مگر ان کے منہ سے ان مسائل کی وجوہات کا تعین کرنے کا آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا۔ حالانکہ مسائل کی بحث کرنے کی بجائے مسائل کے حل کو ڈسکس کرنا کہیں زیادہ اہم ہے۔

    سیاست کے فرعون

    ہماری غریب عوام اس سیاسی اور معاشی عدم تحفظ کی وجہ سے یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ حکمرانوں کے بچے پیدا ہوتے ہی ارب پتی کیسے بن جاتے ہیں اور ان کے بچوں پر ہر سال آئی ایم ایف کے قرضوں کا بوجھ کیوں بڑھ جاتا ہے؟ یوں دیکھا جائے تو ہمارے ملک نے ترقی کرنے کی بجائے تنزلی کی ہے۔ میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے الٹی چال چلی ہے اور ہم دوسرے ملکوں کی طرح عروج حاصل کرنے کی بجائے زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ غور سے دیکھیں تو ہمیں ماضی میں اپنے نظام کو بدلنا چایئے تھا مگر ہم صرف چہرے بدلتے رہے ہیں۔ اس پر دو طرفہ المیہ یہ ہے کہ ہم نے صحیح طریقے سے چہرے بھی نہیں بدلے ہیں اور آج تک ہم پر چند جاگیردار اور سرمایہ دار خاندانوں ہی کا ایک مخصوص طبقہ مسلط رہا ہے۔

    ہمارے ایک ایف سی کالج، لاہور کے ایک سال سینئر کلاس فیلو وکیل انجم نے 80 کی دہائی میں "سیاست کے فرعون” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے پنجاب کے ان جاگیرداروں کے عروج و زوال کی کہانی لکھی تھی جنہوں نے 1857 کی جنگ آزادی میں مسلم حریت پسند مجاہدین کے خون سے ہاتھ رنگے اور قومی تحریکوں میں ملت اسلامیہ سے غداری کی جس کے بدلے میں انگریز حکمرانوں نے انہیں جاگیروں، خطابات اور انعامات سے نوازا۔ لیکن حیرت ہے کہ ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو زوال ابھی تک نہیں آیا جیسا کہ اس کتاب میں کہا گیا تھا۔ آج بھی چہرے بدل بدل کر ملک پر انہی چند جاگیردار اور سرمایہ دار خاندانوں کی حکومت چل رہی ہے۔ سیاست کے یہ "فرعون” اب "لاڈلے” کہلاتے ہیں جو ہر نئی آنے والی حکومت میں قلابازیاں کھاتے ہیں اور ادھر سے ادھر ہو جاتے ہیں مگر رہتے ہمیشہ اقتدار میں ہیں۔ یہ پسند اور ناپسند کی جنگ ہے جس میں جیت اسی کی ہوتی ہے جو من پسند ٹھہرتا ہے جس میں ہار ہر دفعہ عوام کی ہوتی ہے۔ اس میں نظام وہی رہتا ہے مگر چہرے آتے جاتے رہتے ہیں۔ عمران خان صاحب کی جنرل فیض ضد تھے اور نواز شریف صاحب کی ضد حافظ صاحب تھے۔ جو کچھ آج ہم بھگت رہے ہیں یہ دو بڑوں کی ذاتی لڑائی تھی ناکہ یہ کوئی حق و باطل اور آئین و قانون کی جنگ تھی۔

    جب تک سیاستدانوں سمیت سارا نظام گرا کر نیا تعمیر نہیں کیا جاتا تب تک کچھ نہیں بدلنے والا، وہی مائی باپ ہوں گے، وہی لڑکھڑاتی کرسی ہو گی، وہی کمزور وزیراعظم ہو گا اور وہی بابو کریسی ہو گی جو ایک اشارے پر گھنگھرو پہن کر مجرا کرے گی۔

    ملک کو بدلنا کسی عمران خان، کسی نواز شریف یا کسی زرداری کے بس کا روگ نہیں ہے۔ یہ سب ہوا بھرے غبارے ہیں جن کی ہوا صرف مقتدرہ کی صرف ایک سوئی سے نکل جاتی ہے۔ ملک کو بدلنا ہے تو پورا نظام بدلنا ہو گا، کیونکہ پورا نظام ہی تبدیل کیئے جانے کا متقاضی ہے، کمشنری نظام، پولیس و کچہری کلچر، نچلی عدالتوں تا اوپر تک، حلقہ بندی کی سیاست، بدمعاشی کلچر، کرپشن و اقرباء پروری، آئین و قانون میں بڑی تبدیلیاں، بیورو کریسی کے اختیارات کا متوازن نظام اور سول بالادستی سمیت اس قوم کی ذہنی و جسمانی تربیت میں بھی بڑی اور بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ لیکن کسی ایک سیاسی جماعت کے پاس بھی ایسا کوئی پائیدار اصلاحی و انقلابی منشور نہیں ہے جو اس نظام کو بدل سکے اور سیاست کے ان فرعونوں کا قلع قمع کر سکے۔ اب ملکی مفادات کی جگہ ایسے جونک نما سیاست دانوں کے ذاتی مفادات کی کوئی جگہ باقی نہیں بچی ہے، جو مختلف ملکی ترقیاتی سکیموں کے نام پر قرضے تک لے کر ہڑپ کر جاتے ہیں۔ ملک میں ہر نئی آنے والی حکومت کو مزید مہنگائی کی کڑوی گولی نگلنی پڑتی ہے بلکہ وہ خوشی خوشی سے نگلتی ہے کہ اس سے خود ان کی اولادیں پہلے سے زیادہ فربہ ہو جاتی ہے۔

  • فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

    فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

    ( چند روز قبل

    بنی اسرائیل کی کہانی "

    کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ  السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم  علیہ  السلام  سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )

    تحقیق و تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

     آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔

    arab men in white traditional wear praying on embankment
    Photo by Thais Cordeiro on Pexels.com

     اسی طرح ،  اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ،  لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔  دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ  ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ  السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔

    اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ”  نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔   جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر  موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں  اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے  لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔

    یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ،  قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت  پیدا کرتی ہیں ۔

    کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ،  داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری  ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ  کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔

    photo of a pyrmaid
    Photo by Rain Ican on Pexels.com

    یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ  السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے  اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ  السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔

    اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی  تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔

    فرعون کی کہانی ( Pharaoh )
    Photo by Pixabay on Pexels.com

    یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،

    مثلا ،

    چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )

    روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے

    حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )

    والوں نے ” نجاشی ” کہا

    ایران میں ” کسری ” ( کسرا )

    اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے

    سلطنت عمان میں ” سلطان "

    سعودی عرب میں ” ملک "

    متحدہ عرب امارات میں ” امیر "

    ھندوستان میں ” شہنشاہ "

    برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔

     پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔

    بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،

    آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔

    great sphynx of giza egypt
    Photo by Arralyn on Pexels.com

    چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد  مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ  السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام  مصر پڑا ۔

     الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔

    حضرت ابراھیم علیہ  السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون " بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔

    حضرت یوسف علیہ  السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ  السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔  آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ  السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔  وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف  علیہ  السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ  ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء )  کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ  السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے

    اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ  السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔

    قارئین

    یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ  السلام  نے وزارت کا عہدہ            ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ  السلام  اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور  یوں  حضرت یعقوب علیہ  السلام  ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ  السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ  السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ  السلام کو ان کی مدد ،  راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔

      موسی علیہ  السلام  کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا  رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی  اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی  اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ

    بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں  ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔

    یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ،  فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون  علیہ  السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ  السلام پیدا ہوئے ۔

    جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی  علیہ  السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ  السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔

    جب حضرت موسی علیہ  السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی  علیہ  السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ  السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی  علیہ  السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔

    اور جب حضرت موسی  علیہ  السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش  ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔

    فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی  علیہ  السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین