Tag: سنی

  • واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    Dubai Naama

    یوم عاشورہ گزر گیا، مگر دل پر شہادتِ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غم کی چادر آج بھی تنی ہوئی ہے۔ یہ آلِ رسول کے قتال کا نوحہ نہیں، یہ سعادتِ شہادت کا فخر ہے جو دل چیر دیتا ہے۔ بڑی سعادت بڑی قربانی مانگتی ہے، اور یہ فیصلہ صرف نواسۂ رسول، امامِ عالی مقام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی فرما سکتے تھے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ 10 محرم 61 ہجری، کے دن نے میدانِ کربلا میں حق اور باطل کے درمیان وہ لکیر کھینچ دی جو آج تک قائم ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے خلافت کو آمریت بننے سے روکنے کے لیے اپنے اہلِ بیت سمیت جامِ شہادت نوش کیا۔ روایت ہے کہ یزید کے لشکر نے آواز لگائی: "حسین کو جلدی قتل کرو کہیں نماز قضا نہ ہو جائے”۔ یہ وہ منافقانہ سوچ تھی، جہاں عبادت کا ظاہر تو تھا مگر انصاف کی روح ختم ہو چکی تھی۔

    افسوس کہ بعض مسلکی فرقہ پرست مورخین واقعہ کربلا کو "سنی” اور "شیعہ” کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ داستانِ کرب و بلا صرف ایک مسلک کی نہیں، پوری امتِ مسلمہ کی میراث ہے۔ قرآن اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان، امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظمت اور اہلِ بیت کے مقام کا معترف ہے۔ محبتِ اہلِ بیت ہر سچے مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔

    واقعہ کربلا: مشترکہ مسلم میراث

    یزید کی بادشاہت پر جو لوگ "حق” کا لیبل لگاتے ہیں، وہ تاریخ کی کسوٹی پر پورے نہیں اترتے۔ یزید اور اس کے ساتھی مسلمان تو تھے، مگر ان کا عمل منافقین کے قریب تھا۔ قرآنِ پاک منافقین کے لیے جہنم کا سخت ترین عذاب بیان کرتا ہے۔ اس لیے اہلِ حق ہمیشہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے رہے، چاہے وہ کسی بھی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہوں۔

    محرم آتے ہی دل پر غم کے بادل چھا جاتے ہیں۔ یہ غم فرقے نہیں دیکھتا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اقتدار سے بڑھ کر اصول ہیں، جان سے بڑھ کر غیرت ہے، اور صلح سے بڑھ کر حق پر ڈٹ جانا ہے۔ اہلِ تشیع کا ادب بھی اسی قربانی کو خراج دیتا ہے، مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کوتاہی ہر طرف سے ہو سکتی ہے۔ اصل سبق اتحاد ہے۔

    امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: "میں اصلاح کے لیے نکلا ہوں”۔ یہ اصلاح آج بھی درکار ہے۔ جب امت فرقہ واریت میں الجھے، تو کربلا یاد آتی ہے کہ امتِ محمدیہ ایک جسم کی مانند ہے۔ 

    کربلا ہمیں وراثت میں نفرت نہیں، غیرت دیتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ دس فیصد اختیار سے نوے فیصد ظلم کے نظام کو للکارا جا سکتا ہے۔ یہ میراث ہر مسلمان کی ہے۔ اسے مسلک کی دیواروں میں قید نہ کریں، بلکہ اسے امت کے جوڑ کا ذریعہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شہدائے کربلا کے نقشِ قدم پر چلنے اور اتحاد قائم کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

  • ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    Dubai Naama

    کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ 09 فروری 2026ء میں پاکستان کے ایک بنیادی اور اہم ترین مذہبی مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے اظہاریہ کا عنوان "اسلام کو آؤٹ سورس کرنے کی غلطی”، تھا، جس میں انہوں نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس وقت ریاست کا اپنا کوئی واضح اور شفاف مذہبی  بیانیہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف نہیں گئی ہے۔ کاش کہ ریاست کبھی یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ پاکستان میں دین اسلام کا کونسا سرکاری فقہ یا مسلک رائج ہے؟ آج تک کسی بھی حکومت نے کبھی مشترکہ سرکاری مذہبی بیانیہ کا اعلان نہیں کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تک دین اسلام کی تشریح و تعبیر پر مختلف مسالک اور فرقہ جات ہی کا قبضہ رہا ہے، جو دین اسلام کی تشریح و تعبیر اپنے ہی مذہبی عقائد اور مفادات کے تحت کرتے چلے آ رہے ہیں!

    پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 لاکھ 403 مساجد اور 36 ہزار 331 دینی مدرسے ہیں۔ سینٹ کے 2024ء کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 17ہزار 738 ہے جس میں رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 22 لاکھ 49 ہزار 520 ہے۔ پنجاب میں  10ہزار 12رجسٹرڈ مدارس اور طلبا کی تعداد 6لاکھ 64ہزار 65 ہے۔ سندھ میں رجسٹرڈ مدارس 2416 ہیں اور طلبا کی تعداد 1لاکھ 88ہزار 182 ہے۔بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 575 اور طلبا کی تعداد 71ہزار 815 ہے۔ کے پی کے میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 4ہزار 5 اور طلبا کی کل تعداد 12لاکھ 83ہزار 24 ہے۔ آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 445 اور طلبا کی تعداد 26ہزار 787 ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 199اور طلبا کی تعداد 11ہزار 301 ہے۔

    گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 86 اور طلبا کی تعداد 4ہزار 346 ہے۔ ان تمام دینی مدارس اور مساجد میں ہر جگہ اپنے اپنے فقے، مسلک اور فرقے کی تبلیغ اور ترویج کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں اور تقریبا ہر مسلمان گھر میں اپنے الگ شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی، اہل حدیث، منکرین حدیث، حنفی وغیرہ (اور ناجانے کیا کیا) مسلک، فقہ اور فرقہ جات وغیرہ کے مطابق اسلام پر قائم رہنے اور عبادات کرنے کا درس دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پرائیویٹ اور منقسم قسم کا مذہبی بیانیہ دین اسلام کی حقیقی روح کے بلکل منافی ہے کیونکہ قرآن پاک کی سورة آل عمران  کی آیت نمبر 103 میں واشگاف الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ، "تم سب (مسلمان) مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں (یعنی فرقوں اور مسالک وغیرہ) میں مت پڑو۔” جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ جدا جدا نہ ہو جاؤ جیسا کہ آج پورا پاکستان "دین اسلام” کی بجائے "زہر آلود مذہبیت” میں ڈوبا ہوا ہے۔ دین اسلام کی بھائی چارے، اتحاد اور اجتماعی فکر سے اس انحراف اور فرقہ واریت ہی کی وجہ سے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ مذہبی منافرت پھیلی ہے جس کے نتیجے میں "خودکش” بم دھماکوں نے جنم لیا جس میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں 07فروری کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا افسوسناک خودکش بم دھماکہ بھی شامل ہے کہ جس میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ 

    اس سے قبل مذہبی جنونیت پر مبنی پاکستان میں صرف چند خودکش حملوں کا جائزہ لیں جن سے پورا ملک وقفے وقفے سے افسوس اور غم میں ڈوبتا رہا تو پتہ چلتا ہے کہ کس بے دردی سے مزہب کے نام پر ملک کو خون میں نہلایا جاتا رہا ہے۔ 4جولائی 2003ء کو کوئٹہ میں ایک امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا جس میں 54افراد شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں خودکش حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی۔ موجودہ حملہ میں خودکش حملہ آور دو تھے۔ 29فروری 2004ء کو راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ 3افراد زخمی ضرور ہوئے تھے۔ مئی 2004ء میں کراچی میں دہشت گردی کے اعتبار سے افسوسناک تھا جب 7مئی 2004ء کو ایک بار پھر امام بارگاہ حیدری اور 31 مئی 2004  کو امام بارگاہ علی رضا میں ظہر اور مغرب کی نمازوں کے دوران بم دھماکے ہوئے، یہ دونوں حملے بھی خودکش تھے۔ امام بارگاہ حیدری کے واقعے میں 24افراد شہید اور 100زخمی ہوئے تھے جبکہ امام بارگاہ علی رضا میں خودکش حملے میں 23افراد شہید اور 40زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر 2004ء کو سیالکوٹ کی امام بارگاہ میں بھی خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 25افراد ہلاک اور 50زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ 27مئی 2005ء کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں مجلس عزا کے دوران بم دھماکے میں 28افراد ہلاک اور 67زخمی ہوئے تھے۔ 30مئی 2005 کو کراچی میں امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکار کی جانب سے حملہ آور کو امام بارگاہ کے باہر ہی روک دینے پر زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن  اس حملے میں پھر بھی 3افراد شہید اور 23زخمی ہوئے تھے۔ ہنگو میں 9فروری 2006ء کو 10محرم کے جلوس میں خودکش حملہ ہوا جس میں 40افراد شہید اور 26زخمی ہوئے تھے، 

    ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟

    اور اس کے بعد آج تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک و مذہب دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا کر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آخر یہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ یہ واضح طور پر  دہشتگردی ہے جس کا دین اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حیرت انگیز طور پر وطن عزیز کے مسالک نے مل کر ان انسانیت کش واقعات کی کبھی کھل کر مذمت کی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کبھی کوئی مشترکہ فتوی جاری کیا ہے۔ یہ محض ایک اور سانحہ ہی نہیں بلکہ واقعی ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ بقول انصار عباسی، "یہ سوال صرف سیکورٹی کی ناکامی کا نہیں بلکہ ریاستی سمت، فکری الجھن اور تاریخی غلطیوں کا ہے۔” اس مذہبی دہشت گردی کے ناسور کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستان کا سرکاری اور قومی نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے جو "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ” کی اساس پر قائم ہوا۔ پاکستان کے آئین 1973ء میں بھی اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب لکھا گیا ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات میں بھی پاکستان میں مسالک اور فرقہ پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ قائدِاعظم فرقہ واریت، صوبائیت اور لسانی تعصب کے سخت مخالف تھے اور پاکستان کو ایک متحدہ قوم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا عقیدے سے ہو، ریاست کے سامنے برابر ہیں اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ ان کا ماننا تھا کہ فرقہ واریت ملک کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔

    ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کے دور حکومت میں 2021ء میں کے پی کے میں امام مسجد کی تنخواہوں کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے بھی کچھ عرصہ پہلے پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لئے وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کا تھا اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ حکومت پنجاب نے آئمہ کرام کی ضروریات پوری کرنے کے لہے بھی باقاعدہ مالی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس دوران سرکاری خطبہ جاری کرنے کو بھی زیر غور لایا گیا تھا لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی مفصل پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس نوع کا سرکاری مذہبی  بیانیہ تمام عرب ممالک میں رائج ہے جہاں فرقہ واریت نام کا کوئی ناسور پایا جاتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی طرح مذہب کے نام پر کبھی خود کش بم دھماکوں جیسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔ 

    ممکن ہے کہ اس نوع کے دہشت گردی کے خودکش حملوں کے پیچھے امریکی مفادات کیلئے پاکستان کی طرف سے لڑی جانے والی جنگیں، افغانستان اور بھارت کی سازشیں وغیرہ کے عوامل شامل ہوں لیکن اس کی تلخ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم عقیدے کی بنیاد پر بطور مسلمان متحد امہ نہیں بن سکے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے مقابلےکے لیئے بارہا عسکری اقدامات اٹھا چکی ہے، آپریشنز ہوئے، دہشت گرد مارے گئے اور نیٹ ورکس توڑے گئے لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری یہ دہشت گردی آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔ قرآن پاک ایک معصوم جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے تو پھر ایک خودکش مذہبی بمبار بھلا جنت میں کیوں کر جا سکتا ہے۔ یہ صرف مذہبی انتہاء پسندی ہے جو دہشت گردوں کی "برین واشنگ” کر کے انہیں یہ اقدامات اٹھانے پر قائل کر لیتی ہے۔ دہشتگردی کا یہ ملک گیر سنگین مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہو گا۔ جتنے مرضی نیشنل ایکشن پلان بنا لیں جب تک دین اسلام کے عقائد اور تعلیمات کے مطابق تمام مسالک کو حکومت کے ایک "مشترکہ اسلامی بیانیہ” پر اکٹھا نہیں کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔

    میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاشرے میں مزہب کے نام پر پھیلے ان فرقوں کو اسلام کی من مرضی کی غیر منطقی اور غیر سائنسی تعبیر پیش کرنے کی اجازت دینا اسلام کو ریاستی سطح پر واقعی "آوٹ سورس” کرنے کے مترادف ہے۔ دین اسلام کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنا اسلام کی روح کو مسخ کرنے جیسا عمل ہے۔ اگر پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان بھی واضح طور پر کہتا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، جس کو قرآن و سنت کے مطابق چلایا جانا چاہیئے تو پھر عملی طور پر ریاست نے ہمیشہ سے دین اسلام سے یہ دوری کیوں قائم کر رکھی ہے؟ اس خلا کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف خودکش دہشت گردی نے جنم لیا ہے بلکہ اس سے پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے یعنی لبرل بننے کے چکر میں اسلام ہی کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ یوں دین کی تشریح، تعلیم اور تبلیغ مکمل طور پر انہی گروہوں، فرقوں اور مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی آوٹ سورسنگ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دین اسلام کو ایک تو دنیا سے نکال کر آخرت تک محدود کیا گیا ہے دوسرا اس میں دہشت گردی جیسی لعنت کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ آج اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ ہر فرقہ دوسرے سے الگ تھلگ ایک اپنا ہی اسلام پیش کرتا ہے، ہر مذہبی گروہ نے اپنے نظریئے کو حق اور باقی سب کو باطل قرار دے رکھا ہے۔ حتی کہ ایک ہی شہر اور گاؤں میں ہر فرقے کی الگ مسجد ہے، یہ فلاں کی مسجد ہے اور وہ فلاں کی ہے، اور بعض فرقے تو اس قدر نفرت سے بھرے ہوئے ہیں کہ دوسرے کی مسجد میں داخل ہونے والے کو دائرہ اسلام ہی سے خارج قرار دینے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پاکستان میں کافر کافر کے یہ فتوے کب تک دیئے جاتے رہیں گے؟ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی انتشار اور نفرت کو جنم دیتی ہے بلکہ خودکش دہشت گردی جیسی انتہاپسندی کے لیئے بھی زمین ہموار کرتی ہے۔ 

    اگر ریاست کا اپنا کوئی اسلامی بیانیہ نہیں ہے تو پھر یہ دینی مدارس اور ان کے طلباء ہی وہ کھیپ ہیں جو اس خلا کو یونہی پر کرتے رہیں گے۔ دین اسلام کو اس طرح چوں چوں کا مربہ نہیں بنایا جانا چایئے۔ حکومت اپنے اسلامی بیانیہ کی کوئی رٹ قائم نہیں کرتی تو یہ دہشت گردی پہلے ختم ہوئی اور نہ کبھی آئیندہ ختم ہو گی۔ ہمارے پیارے ملک میں مدت سے جاری دہشت گردی کی فکری جڑیں اسی خلا میں پنپ رہی ہیں جسے ان غیر اسلامی فرقوں کی بجائے حکومت کو پر کرنا چایئے۔ نوجوان نسل کی ذہنی زمین میں ماحول جو بیج بوئے گا وہی پھلے پھولے گا۔ اگر ان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ریاست کا متفقہ، مستند اور ذمہ دار اسلامی بیانیہ کیا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی شدت پسند نعرے کے ہتھے چڑھ سکتی ہے۔ انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں، "یہ صرف مدرسوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرتی بیانیے کا مسئلہ ہے۔” ریاست کو اپنا اسلامی  بیانیہ قائم کرنے کا فریضہ فوری طور پر انجام دینا چایئے۔ "دیر آید درست آید” ریاست کو پاکستان کے قیام اور آئین پاکستان کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے۔ ریاست کا خود کو دینی تعلیم، خطباتِ جمعہ، مدارس، مساجد اور گھروں میں قائم مذہبی نظام سے یوں علیحدہ رکھنے کا چلن درست نہیں ہے، اسے اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ورنہ معصوم جانوں کا خون یونہی بہتا رہے گا۔

    سورہ مائدہ ⁦‪5:32‬⁩ میں ارشاد باری تعالی ہے کہ  ‏“جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” ‏نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: ‏“مسلمان کا خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں”

    ‏(صحیح مسلم)۔ ‏“دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مسلمان کا خون ناحق بہایا جائے” ‏(سنن نسائی)۔

    Title Image by Ahmed Sabry from Pixabay

  • پارہ چنار کا مسئلہ

    پارہ چنار کا مسئلہ

    پارہ چنار کا مسئلہ


    تحریر محمد ذیشان بٹ
    پارہ چنار کا مسئلہ ایک ایسا پیچیدہ اور گہرا مسئلہ ہے جس نے نہ صرف علاقے کی عوام کو متاثر کیا بلکہ پورے ملک میں تشویش پیدا کی ہے۔ اس مسئلے کی جڑیں نہ صرف حالیہ تنازعات میں ہیں بلکہ اس کی بنیادیں تاریخ میں بھی موجود ہیں۔ یہ مسئلہ آج کے دور میں شدت اختیار کر چکا ہے اور اس کی وجوہات کو سمجھنا اور ان کا حل نکالنا انتہائی ضروری ہے۔


    پارہ چنار ایک ایسا علاقہ ہے جو قدرتی خوبصورتی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود ہمیشہ مسائل کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے لوگ برسوں سے اپنی زمینوں، جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لیے لڑتے آئے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کی نوعیت اب بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ زمینوں کے تنازعات سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ فرقہ واریت، بدامنی، اور حکومتی بے حسی کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ یہاں زمینوں کا کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں، جو تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ چھوٹے جھگڑے بھی فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں، جس سے مسئلہ اور زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔
    یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر واقع ہے، اور یہ سرحدی تعلقات مسئلے کو مزید بگاڑتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ صرف ایک سڑک ہے جو تین ماہ سے بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مقامی کاروبار بند ہیں، اور لوگوں کی زندگی موت سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ یہاں سرد موسم میں نہ صرف بنیادی ضروریات کی کمی ہے بلکہ ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ہے۔ ایسے میں جو لوگ علاقے سے باہر ہیں وہ واپس نہیں آ سکتے، اور جو یہاں پھنسے ہوئے ہیں وہ اپنی زندگی کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں۔
    سیکیورٹی ادارے اور حکومتی مشینری اس مسئلے کو حل کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف وقتی اقدامات تک محدود ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی بے حسی اور لاتعلقی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ بن چکا ہے جہاں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قبائلی روایات اور طاقت کا راج ہے۔ یہاں کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے نہ تو کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی طویل مدتی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔
    فرقہ واریت اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سنی اور شیعہ کی بنیاد پر اختلافات نے یہاں کے ماحول کو زہر آلود کر دیا ہے۔ جب ایک فرقے کے لوگ احتجاج کرتے ہیں تو دوسرا فرقہ ان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے تنازعات کو ہوا دینے میں سوشل میڈیا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں چھوٹے سے معاملے کو منفی انداز میں پیش کر کے اسے بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ نفرت انگیز بیانیے اور غلط معلومات کی ترویج نے یہاں کے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
    اسلحے کی بے تحاشا دستیابی اور جنگجو گروہوں کی سرگرمیاں بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ یہ علاقہ ماضی میں افغانستان میں جاری جہاد کا مرکز رہا ہے، جہاں سے واپس آنے والے جنگجو اب ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اسلحے کی فراہمی اتنی آسان ہو چکی ہے کہ یہاں ہر قسم کا اسلحہ دستیاب ہے۔ ایسے حالات میں عام لوگ بھی اپنی حفاظت کے لیے مسلح ہو گئے ہیں، جو مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
    حکومت کی جانب سے مسئلے کو حل کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ سب ناکام ہوئیں۔ مختلف جرگوں کے ذریعے معاہدے کیے گئے، جن میں جنگ بندی، اسلحے کی واپسی، اور خوراک و ادویات کی فراہمی کی بات کی گئی۔ لیکن ان معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ لوگ اسلحہ واپس کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ انہیں اپنی زندگی کے تحفظ کا یقین نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، جرگے اور معاہدے عموماً عارضی اور ناقص ثابت ہوتے ہیں۔
    اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، حکومت کو علاقے میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز کو ایمانداری اور غیر جانبداری سے کام کرنا ہوگا۔ زمینوں کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے واضح اور شفاف نظام وضع کرنا ہوگا۔ مقامی جھگڑوں کو فرقہ وارانہ تنازعات میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا اور تمام فریقین کو اس بات کا پابند بنانا ہوگا کہ وہ امن قائم رکھیں۔
    افغانستان کے ساتھ سرحدی تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بارڈر فورسز کو مضبوط کیا جائے اور سرحد پر سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ نفرت انگیز بیانیے کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پر کنٹرول اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلحے کی فراہمی کو سختی سے روکا جائے اور علاقے میں غیر قانونی اسلحے کو ضبط کیا جائے۔


    مقامی جرگوں کو ختم کر کے ایک مشترکہ اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہوگی جس میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے۔ یہ مسئلہ صرف معاہدوں سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ پارہ چنار کے مسئلے کو صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ انسانی المیہ کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ جب تک لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔