جب بالیدگی ٕ افکار الہام سے مسنیر ہوتی ہے تو فکری کاوش نعت کا طواف کرتی ہے نعت بھی درود کی طرح تب مکمل ہوتی ہے جب اس میں اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب بیاں کیے گۓ ہوں کٸی تنقید نگار میری اس بات سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن میں دلیل کے طور پر درود ابراہیمی سامنے رکھ دوں گا کیونکہ جب نماز ذکرِ اہل بیت رسول ﷺ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی تو نعت کیسے مکمل ہو سکتی ہے مجھے یہ خوشی ہے کہ سعید احمد راشد ڈیروی نے اپنی کتاب عقیدت دے رنگ میں مناقب بیان کیے ہیں جن کی خوشبو اس وقت تک آتی رہے گی جب تک یہ کتاب پڑھی جاتی رہے گی
سراٸیکی ادب میں سعید احمد راشد ڈیروی کے سلام و مناقب کا رنگ بھی جداگانہ ہے جن میں عشق و وارفتگی حرف حرف سے چھلکتی ہے جو ان کے وجدانِ قلب کو ظاہر کرتی ہے میں جتنی دیر کلام پڑھتا رہا ہوں ایک عجیب سا کیف مجھ پہ طاری رہا تبصرے کے لیے اشعار کا چناو بہت مشکل ہو گیا کیونکہ اس کتاب میں ہر شعر ہی تبصرے کے قابل ہے لیکن پھر بھی مجھے چند اشعار کا انتخاب کرنا پڑا جن پر لکھنا بہت ضروری ہے آج ہم تک جتنا علم پہنچا ہے وہ سب کتاب کے ذریعے پہنچا ہے علما ٕ اور اولیا اس کاوش میں برابر کے شریک ہیں لیکن جو کام شعرا و ادیب حضرات نے کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی کیونکہ علما بھی جب تقریر میں داد لینے کے خواہاں ہوتے ہیں یا وہ موضوع کو کسی منطقی انجام پر پہنچانا چاہتے ہوں تو وہ بھی شعرا کا دروازہ کھٹکھٹا کر داد وصول کرتے ہیں سعید احمد راشد ڈیروی کے کلام میں سلاست اور بلاغت نمایاں ہے علما ان کی کتاب سے فیض حاصل کر سکتے ہیں ان کا طرز تکلم اشعار سے عروج پا سکتا ہے سعید احمد راشد ڈیروی کا عشق ان کی شاعری کے ورق ورق پر خوشبو بکھیرتا ہوا نظر آتا ہے ان کے کلام میں اسلوبیاتی صباحت کے جام چھلکتے ہیں جو قاری کی توجہ حاصل کرتے ہیں ان کے کلام میں اسرارِ خودی بھی عیاں ہیں لیکن ان کا ذکر پھر کہیں کریں گے سراٸیکی ادب اس لحاظ سے بہت مضبوط ہے کہ اس میں سعید احمد راشد ڈیروی جیسے نام شامل ہیں جن کے جلاٸے ہوٸے چراغ کبھی مدھم نہیں ہونے پاٸیں گے کیونکہ ایسے ادیب اپنے وارث غلام مرتضٰی موہانہ کے روپ میں چھوڑ جاتے ہیں جن کا کام اساتذہ کی پزیراٸی کے ساتھ ساتھ ان کا کلام بھی اشاعت آشنا کرنا ہوتا ہے میں ذاتی طور پر غلام مرتضٰی موہانہ صاحب پر بہت خوش ہوں کہ انہوں نے سعید احمد راشد ڈیروی کی کتابیں مرتب کر کے سراٸیکی ادب کو ایک نٸی زندگی بخشی ہے اور نہ صرف زندگی بخشی بل کہ ان کتابوں کی ادب پرور شخصیات تک مفت ترسیل بھی ممکن حد تک کی ہے اس اہم کام پر یہ مبارک باد کے مستحق ہیں
سعید احمد راشد ڈیروی کے نگار خانہ ٕ شعر میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہاٸے جمیل ان اشعار کی رعناٸی میں ملاحظہ کیجیے:۔
پھلیں دی خوشبو دا ناں علی ہے فضا دا نعرہ علی علی ہے ہوا دے جھونکے درود پڑھدن دعا دا نعرہ علی علی ہے قطب قلندریں دی صف دے اندر ولا دا نعرہ علی علی ہے نبیﷺدا نعرہ علی علی ہے خدا دا نعرہ علی علی ہے علی عظیم اے عظیم تر ہے ایہ گالھ واضح ڈسا ڈتی سی علی دی عظمت دے کان مولا کٸینات کعبے جھکا ڈتی سی
قارٸین تبصرے کی طوالت کے پیشِ نظر سعید احمد راشد ڈیروی کے سلام و مناقب سے کچھ کلام آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کرتا ہوں اس پر آپ کی راٸے بھی مجھے درکار ہو گی اشعار ملاحظہ کیجیے:۔
علی دے کن وچ اَواز آٸی ہے سنبھال زرّہ تیار تھی گۓ اَزار اَکھیں دا بُھل کراہیں تے ذوالجناح تےسوار تھی گۓ فضا دیاں واگاں سنبھال ہتھ وچ کرامتیں دا معیار تھی گۓ علی پیا آندے مدینے کولوں اعلان ایہو چودھار تھی گۓ علی دی آمد داسن کراہیں زمیں وی جنبش توں تنب گٸ ہے زمیں دی حالت کوں ڈہدیں ہوٸیں سر یر مرحب دی کنب گٸ ہے
علی دے در توں ولا چلی ہے علی علی ہے علی علی ہے
علی نے غوث و ولی بڑاۓ علی قلندر سخی بڑاۓ علی دی خوشو کلی کلی ہے علی علی ہے علی علی ہے
کاٸنات دے مناظر پیارے طواف وچ ہن طرفیں دے مست کونے چارے طواف وچ ہن دھرتی طواف وچ ہے تارے طواف و چ ہن لہراں طواف وچ ہن دھارے طواف وچ ہن عرشاں توں آۓ قدسی سارے طواف وچ ہن قرآں طواف وچ ہے پارے طواف وچ ہن حیدر دا علم گھن کے بی بی دا زین آگۓ صلوٰت بھیج مومن مولا حسین آگۓ
عیدیں دیاں پُشا کاں قدسیں دے ہتھ دیاں سیتیاں عرشوں منگا کے پاون اے کم حسین دا ہا بولی نماز ہک ڈینہ افضل ہے شان میڈا جھگڑا اُتھٸیں مکاون اے کم حسین دا ہا کِھل کِھل صبح دی تسبیح سلطان انبیا ٕ توں ستّر دفعہ پڑھاون اے کم حسین دا ہا
حسین کن دی ندا دا حاطف حسین صحیفہ ہے اِنّما دا حسین کامل حلیم سیرت حسین پیارا ہے خود خدا دا حسین زہرا دے ہاں دی ٹھنڈک حسین حاتم سخی سخا دا حسین حیدر دے دل دا ٹکڑا حسین مالک جمیع رضا دا
خدا دی خلقی زمیں دی پُٹھ تے کُٸ نام عرشی رکھا نٸیں سگدا ہے گال دعوے دے نال میڈی حسین ڈوجھا کُٸ آنٸیں سگدا
غازی دی سوچ غازی ،غازی دا ہوش غازی غازی دی تیغ غازی، غازی دا جوش غازی غازی دا جسم غازی، غازی دا پوش غازی غازی دا یول غازی، غازی خاموش غازی شفقت دی لاج جیویں اِکلاس تے ختم ہے قصہ وفا دا راشد عبّاس تے ختم ہے
اصغر تیڈی گواہی اہل وفا کوں یاد اے تیڈی گواہی دا صدّقہ اسلام زندہ باد اے چھی ماہ دا بال کوٸی آں اُوں الا نٸیں سگدا الفاظ العطش دے چیتے ٹِکانٸیں سگدا تیڈی عغیم عظمت انمول تر جہاد اے اصغر تیڈی گواہی اہل وفا کوں یاد اے
ایک قطعہ بھی ملاحظہ کیجیے علی حقیقی عطا دا ناں ہے علی عطا بے بہا دا ناں ہے ایں کیٹے ملّاں کوں سدھ جوکٸینی علی خدا دی رضا دا ناں ہے
آخر پر دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت سعید احمد راشد ڈیروی کو جنت الفردوس میں گھر عطا فرماٸے اور سراٸیکی ادب کی روایت کو زندہ رکھنے والی شخصیات غلام مرتضٰی موہانہ اور ارشاد ڈیروی کو سلامت تا قیامت رکھے۔ آمین
ہمارے محلے میں ایک کوچوان رہتا تھا جو مٹی کا تیل بیچتا تھا، سب اسے چچا نفتی کہتے تھے۔ میں ایک دن کسی کام سے جا رہا تھا چچا نفتی اپنی خچر گاڑی کے پاس بیٹھے تیل بیچ رہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو بولے “آغا ! اک بات پوچھ سکتا ہوں؟ “، میں نے کہا جی چچا پوچھئے۔ کہنے لگے کیا آپ نے اپنے گھر میں گیس لگوا لی ہے ؟ میں نے کہا جی لگوا لی ہے نفتی بولے “تبھی آپ کے سلام کا انداز بدل گیا ہے”۔ میں نے تعجب سے کہا وہ کیسے ؟ یعنی کیا ہوا؟ نفتی کہنے لگے “ ہوا یہ کہ پہلے آپ سلام کرتے پھر رک جاتے میرا احوال میرے گھربار بچوں حتی کہ میرے خچر کا بھی حال پوچھتے، اب کبھی کبھار سلام علیک چلتے ہوئے بے نیازی سے کر جاتے ہیں۔ باقی محلے والے بھی ایسے ہی تھے اب جس جس کے گھر گیس لگتی جا رہی ہے وہ آپ جیسا سلام کرنے لگا ہے۔ میں جس سلام میں تیس سال تہذیب ، اخلاقیات اور انسانیت کی خوشبو سمجھتا رہا وہ تو دراصل مٹی کے تیل کی بُو تھی۔ میں سر جھکائے سنتا رہا اور آہستہ آہستہ چلنے لگا لیکن میں سر اٹھا نہیں رہا تھا میرے دل و دماغ میں یہی چل رہا تھا کہ میں تیس سال تک انسانیت کی بجائے ضرورت کے تحت اس شخص کو اخلاق اور گرمجوشی سے سلام کرتا رہا، خود کو بہت مہذب ، عالم گردانتا رہا اور آج جب میرے گھر میں گیس کا کنکشن لگ گیا تو لاشعوری طور پر میں نے سوچا اب اس شخص کی ضرورت نہیں اس کو سلام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یاد رکھیں، ہمارے سلام میں سے ضرورت کی بو نہیں آنی چاہیے۔
نفتی : فارسی میں تیل کو نفت کہتے ہیں۔ نفتی بمعنی تیل والا
کسی کے بس میں کہاں ہمسری حسینؑ کی ہے کمال و اوج میں وہ برتری حسینؑ کی ہے یہاں زمانوں کو سیراب ہوتے دیکھا ہے بلا کی فیض رساں تشنگی حسینؑ کی ہے بہشت کی جو طلب ہے تو آ حسینؑ کے پاس تجھے خبر ہے کہ جنت سخی حسینؑ کی ہے فساد، ظلم، جفا، غیر کا تعارف ہے وفا، خلوص، اماں، آشتی حسینؑ کی ہے دیار عقبی کو جاتے ہیں کربلا سے حُر بصد خوشی کہ وہ اقلیم بھی حسینؑ کی ہے پھر ان کے در سے ہمیں تو کہیں نہیں جانا کہ کائنات میں جب خواجگی حسینؑ کی ہے میان باطل و حق امتیاز کی خاطر لکیر خون سے کھینچی گئی حسینؑ کی ہے میرے خدا تیری توحید کے ثبوت میں بھی گواہی سب پہ جو بھاری رہی حسینؑ کی ہے
یہ بات ہر مسلمان جانتا اور مانتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات اور پیدائیش سے موت تک ، انسان کی پوری زندگی کے ہر ہر گوشے کے لئے راھنمائی فراہم کرتا ہے ۔ نہ صرف موت تک ، بلکہ ، عالم برزخ یعنی قبر میں قیام سے لیکر یوم حساب تک ، اور وھاں سے ، جنت و جہنم کی منزلوں کا پتہ بھی دیتا ہے ، یہ الگ بات کہ ہم اسلام کو سمجھے ہی نہیں ۔
میری بات آپ کے لئے حیرانی کا باعث ہوگی کہ ” ہم اسلام کو سمجھے ہی نہیں ” جی ھاں ، بالکل ، آج کا مسلمان ، سوچ سمجھ اور جان پہچان کر مسلمان نہیں ہوا بلکہ مسلمان ماں باپ کے گھر پیدا ہوجانے سے مسلمان کہلاتا ہے ۔ مسلمان تو وہ تھے جنہیں دور نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہوا ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کے دور میں پیدا ہوئے ، تابعین اور تبع تابعین کا زمانہ دیکھا ۔
پریشان مت ہوں ، مجھے آپ کے ایمان پر شک نہیں البتہ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے ، کہ ، میں ، آپ اور ہم سب نسلی ، خاندانی یا حادثاتی طور پر مسلمان کہلاتے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو غور کرکے دیکھ لیں ۔ اگر مسلمان کی جگہ کسی ھندو ، سکھ یا کسی بھی غیر مسلم ماں باپ کے ھاں جنم لیتے تو کیا ہم مسلمان کہلاتے ؟ اگرچہ یہ اس مالک و خالق کی مہربانی اور فضل ہے کہ کسی مشرک یا کافر کے گھر پیدا نہیں کیا لیکن اس میں ہمارا کیا کمال ۔ ہم نے کونسا تیر مارا جو اتنے فخر سے مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔ ہمیں تو پکی پکائی روٹی مل گئی ۔ مزہ تو جب ہے کہ اب ہم اس نعمت خداوندی کا شکر ادا کرتے ہوئے ، اسلام کو سمحھ کر اپنی زندگی اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزاریں ۔ یہی ایک طریقہ ہے کہ جس سے ہم اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرسکتے ہیں ورنہ ڈالڈے کے ڈبے پر خالص دیسی گھی کے لیبل سے زیادہ ہماری کوئی حیثیت نہیں ۔
اوپر بیان کرآیا ہوں کہ اسلام ایک ایسا دین اور مذھب ہے جو پیدائیش سے موت تک انسان کے حق میں مفید اور راھنماء اصول فراھم کرتا ہے ۔ یہ الگ بات کہ ہم نے کبھی ان پر غور نہیں کیا ۔ اس ضمن میں کہنے اور سننے کو بہت کچھ ہے مگر میرا آج کا موضوع اسلام کا فقط ایک حکم اور اصطلاح ہے جسے ہم سب
” السّلام علیکم ” کی شکل و صورت میں کہتے ، سنتے ، لکھتے اور پڑھتے ہیں ۔
اس سے پہلے کہ بات کو آگے بڑھاوں یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ یہ اصطلاح نئی نہیں بلکہ جب حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا تو اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جاو فرشتوں کو سلام کرو لھذا انہوں نے ایسا ہی کیا اور فرشتوں نے جواب میں وعلیک السلام و رحمة اللہ و برکاتہ کہا ۔ یہاں اس بات کی طرف بھی توجہ مبذول کرادوں کہ اسلام کو آئے چودہ یا پندرہ صدیاں نہیں ہوئیں بلکہ اس کی ابتداء حضرت آدم علیہ سے ہوئی ، وہ پہلے ، اور حضرت محمد مصطفے ص , اسلام کے آخری نبی تھے ۔ ہم اپنے نبی علیہ السلام کو آخری نبی اور خاتم النبیین اسی لئے مانتے ہیں کہ جس نبوت اور دین اسلام کی ابتداء حضرت آدم علیہ سے ہوئی اس کی تکمیل ہمارے نبی کے آنے سے ہوگئی ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے قرآن میں واضع طور پر کہ دیا ،
” الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا "
( سورة المائدہ 3 )
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور نعمت تمام کردی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کیا ۔
اس آیت مبارکہ سے علم ہوا کہ ہمارے آقا و مولا ص پہ آکر دین اسلام مکمل ہوا لیکن یہ بھی جان لینا چاھئیے کہ اسلام کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور جتنے بھی انبیاء کرام حضرت آدم اور محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان آئے وہ سب اسلام کے داعی تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے لئے تمام نبیوں اور آسمانی کتابوں پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ اور یہ بھی سمجھ لیں کہ نماذ ، روزہ ، حج ، ذکواة اور دین کے جملہ احکام تمام پچھلی امتوں پر یکساں نافذ کئے گئے ۔ اسی لئے جب روزے یا صوم کا حکم آیا تو کہا گیا ، اے ایمان والو تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے ۔
اس ساری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ
مسلمان معاشرے میں جو ایک دوسرے کو سلام کہنے کی روائت ہے ، یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس کی ابتداء ابوالبشر حضرت آدم سے ہوئی اور اس کا حکم خود اللہ نے دیا اس لئے اسے عام بات نہ سمجھا جائے ۔ اس کے اندر حکمت پوشیدہ ہے ۔ اس کا ایک فلسفہ ہے ۔ یہی نہیں بلکہ میں تو اسے عبادت سمجھتا ہوں ۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ دنیاء بھر میں مختلف مذاھب کے ماننے والے ، حتی کہ دہریے یا خدا کے منکر بھی جب ایک دوسرے سے ملیں تو اس موقع پر چند مخصوص الفاظ ادا کرتے ہیں ۔ مثلا ، انگریز گڈ مارننگ اور گڈ ایوننگ کہتے ہیں ۔ ھندووں کے ھاں ” نمستے ” یا
"جے رام جی کی ” کہنے کا رواج ہے ۔ سکھ آپس میں ملیں تو
” ست سری اکال ” کے لفظ ادا کرتے ہیں جبکہ عربوں کے ھاں صباح الخیر اور مساء الخیر کی اصطلاحات مروج ہیں ۔ ان تمام الفاظ اور اصطلاحات پر غور کریں ، ان میں سے کہیں بھی آپ کو دعائیہ مفہوم نہیں ملیگا ۔ مثلا ھندو اپنے بھگوان رام جی کی "جے ” یا بڑائی کا اعلان کرتے نظر آتے ہیں ۔ سکھ اپنے اکال یا دھرم کو ست یا سچا ثابت کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ انگریز صبح یا شام کو اچھا کہتے ہیں ۔ اسی طرح عرب ، قبل از اسلام کی اصطلاح صباح الخیر یعنی خیر والی صبح کا پیغام دیتے ہیں جبکہ یہ صرف اسلام ہے جس نے ایک دوسرے کے لئے دعاء کرنے کی تلقین کی اور دعاء یقینا عبادت کا حصہ ہے ۔
جیسا کہ اوپر بیان کیا ، ہم کسی سوچ ، سمجھ اور اختیار سے مسلمان نہیں بنے اور یہی وجہ ہے کہ اپنے دین اور اس کے احکامات و اصطلاحات کو بھی رواج اور رسم سمجھ کر ادا کرتے چلے جارہے ہیں ۔ کبھی غور کیا کہ السّلام علیکم کا مطلب اور فائدہ کیا ہے ۔
سلام ، عربی میں امن اور سلامتی کو کہتے ہیں لھذا جب ہم یہ الفاظ اداکرتے ہیں تو اس کا واضع مطلب یہ ہوتا ہے کہ تمہیں امن اور سلامتی نصیب ہو ۔ کیا یہ دعاء نہیں ؟ اور جب آپ کسی کو یہ دعاء دیتے ہیں تو سامنے والا جوابا وعلیکم السلام کہ کر آپ کے لئے بھی امن اور سلامتی کی دعاء کرتا ہے ۔ سبحان اللہ کتنا عظیم مذھب ہے جس نے دعاء کا ایک ایسا آٹومیٹک نظام وضع کردیا جو دن رات مسلسل حرکت میں رھتا ہے ۔ اندازہ کریں دنیاء بھر میں بسنے والے کروڑوں مسلمان صبح سے شام اور شام سے صبح تک کتنی بار یہ دعاء پڑھتے ہیں ۔ تمہیں امن نصیب ہو ، تمہیں سلامتی نصیب ہو ۔ ہر ایک ، دوسرے کے لئے امن و سلامتی کی دعاء کرتا چلا جا رھاہے ۔
سلام کے خدائی حکم ہونے کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ یہودی اور مسیحی برادری بھی ، ھندووں اور سکھوں کے برعکس ایک دوسرے کے لئے سلام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔ مسیحیت کے ماننے والے عندالملاقات ” آپ پر سلامتی ہو ” کے الفاظ استعمال کرتے ہیں جبکہ یہودی ” شلوم ” کہتے ہیں جو سلام کا عبرانی تلفظ ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ توریت ، انجیل اور زبور خدا کا کلام ہے اور خدائی احکام سب امتوں پر ایک جیسے ناذل ہوئے ۔
امید کرتا ہوں کہ یہاں تک آکر سلام کی اہمیت واضع ہوگئی ہوگی لھذا اب یہ بھی بیان کردوں کہ اسلام نے عبادات اور دعاء کے لئے کچھ اصول اور قوانین وضع کئے ہیں جن کی پابندی لازم ہے ۔ مثلا ،
1. ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو السلام علیکم کہنا اگر سنت رسول ص ہے تو اس کا جواب دینا واجب ہوجاتا ہے یعنی جواب ضرور دیا جائے اور اس میں اگر رحمةاللہ و برکاتہ کا اضافہ کردیں تو ثواب دوگنا ملیگا ۔
2. سلام کے آداب
الف : باھر سے آنیوالا گھر یا محفل میں موجود افراد کو سلام دے ۔
ب : چلتا ہوا شخص کھڑے یا بیٹھے شخص / اشخاص کو سلام کہے ۔
ج : گھوڑے ، گدھے ، موٹر کار ، سائیکل ، موٹر سائیکل یا کسی بھی سواری پر سوار شخص پیدل چلنے والوں کو سلام کہے ۔
د : نماذ یا رفع حاجت میں مشغول شخص کو سلام دینا اور اس کی طرف سے جواب ممنوع ہے ۔
ح : کم عمر بچہ اپنے سے بڑوں کو سلام دے ۔
خ : اگر چلتا ہوا ، سوار یا باھر سے آنیوالا شخص کسی محفل میں موجودکثیر تعداد کو سلام کہے تو ان میں سے کسی ایک کی طرف سے جوابا وعلیکم السلام کہ دینا کافی ہوگا ۔
آج کے اس آرٹیکل کا مقصد یہ ہے کہ ہم سلامتی کی اس دعاء کو سوچ سمحھ کر عام کریں تاکہ تمام مسلمانوں کو امن و سلامتی نصیب ہو اور بھائی چارے کا مضبوط کیا جا سکے ۔ والحمد للہ رب العالمین