Tag: راجستھان

  • بھارتی کرکٹ ٹیم کا شرمناک رویہ

    بھارتی کرکٹ ٹیم کا شرمناک رویہ

    بھارتی کرکٹ ٹیم کا شرمناک رویہ

    Dubai Naama

    دبئی کے حکمران اور امارات کے پرائم منسٹر محترم المقام محمد بن راشد ال مکتوم نے بھی انڈین کرکٹ ٹیم کے غیر اخلاقی رویئے کی سرزنش کی ہے جس کے باعث پہلے انڈین ٹیم نے میچ شروع ہونے کے تعارفی سیشن میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملایا تھا اور جب پاکستان کے خلاف بھارت نے فائنل جیتا تو بھارتی ٹیم نے ایشیا کرکٹ کپ وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا ایسا غیر مناسب رویہ ہے جو کھیل کے روایتی و اخلاقی ضابطوں کی نفی کرتا یے۔ اس سے بھارت کی جگ ہنسائی تو ہوئی ہی ہے مگر اس شرمناک رویئے پر خود بھارت میں بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

    بھارت کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مشہور کھلاڑی سنیل گواسکر نے کہا ہے کہ، "مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ سوریا کمار نے ایشیا کپ کی افتتاحی تقریب میں چیئرمن پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہاتھ ملایا، اس سمے آپ کی ‘دیش بھگتی’ کہاں تھی؟ جب آپ نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیل ہی لیا ہے تو پھر کھلاڑیوں کا آپس میں ہاتھ نہ ملانا اور فائنل جیت کر ٹرافی وصول نہ کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جسے کوئی بھی عقل مند آدمی قبول نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ اپنا مذاق اڑاوانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ میرے خیال میں بھارتی کرکٹ بورڈ کو اپنی پالیسی واضح کر لینی چایئے اور وہ ایسا کوئی کام نہ کرے جو بھارت کے لئے ندامت کا باعث بنے۔” اسی طرح بھارت کے سابق کرکٹ کپتان ایم ایس دھونی نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، وہ انتہائی افسوسناک تھا۔ یہ اچھی بات نہیں۔ مانا کہ پاکستان ہمارا ‘سیاسی دشمن’ ہے، لیکن کرکٹ ایک کھیل ہے، جنگ نہیں ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں کے اس عمل سے ہمیں خود شرمندگی ہوئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہم نے بھی کرکٹ کھیلی ہے، لیکن کبھی بےادبی نہیں کی۔ ہم تو دوست ہوا کرتے تھے، ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے لیکن آج ہماری نئی جنریشن تو مصافحہ کرنے کو بھی تیار نہیں ہے۔ اس رویئے سے نہ صرف کرکٹ کا وقار مجروح ہوا ہے بلکہ ہمارے ملک کو بھی شرمندگی اٹھانا پڑی ہے۔ بھارتی کرکٹروں کا یہ رویہ واقعی قابل مذمت ہے جس کو کسی بھی اخلاقی و انسانی اقدار کے حوالے سے "مہذب” قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔

    یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کھیل کے میدان دو دشمن ممالک کو قریب لانے اور قربتوں کو بڑھانے کا باعث بنتے ہیں۔ شائد قارئین کو یاد ہو گا جب 1987ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی تھی اور دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر تھے تو اس وقت پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاءالحق 21 فروری 1987ء کو بھارت (جے پور) میں اچانک کرکٹ کا ٹیسٹ میچ دیکھنے چلے گئے تھے جہاں ان کی ملاقات بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی سے ہوئی تھی، جس کے بعد سرحدی کشیدگی میں کمی آ گئی تھی۔ اس پر ضیاءالحق کے مخالفین نے بہت تنقید کی تھی اور بڑے مضحکہ خیز افسانے گھڑے تھے مگر اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات فورا معمول پر آ گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دوران ضیاءالحق نے راجیو گاندھی کے ساتھ کوئی سرگوشی کی تھی جس سے راجیو کے ماتھے پر پسینہ آ گیا تھا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ضیاءالحق کی یہ "کرکٹ ڈپلومیسی” بہت کامیاب رہی۔ اس سے پاکستان اور بھارت جنگ کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے قریب آ گئے تھے۔ 90 کی دہائی کے آخری برسوں میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان پر روانگی سے قبل اس وقت کے بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپائی نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی تھی کہ "صرف میچ ہی نہیں بلکہ دل جیت کر واپس آنا ہے۔” اسی طرح جنرل پرویز مشرف بھی اپریل 2005ء میں اپنے پیش رو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نئی دہلی میں ہونے والا پاک بھارت میچ دیکھنے ہندوستان گئے تھے۔ تاہم ان کا یہ دورہ وزیرِاعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر ہوا تھا۔ کرکٹ کے بہانے ہونے والے اس دورے کے دوران جنرل مشرف کی بھارتی وزیرِاعظم سے ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں دونوں قوموں پر زور دیا گیا تھا کہ وہ "مسئلہ کشمیر” کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

    بھارتی کرکٹ ٹیم کا شرمناک رویہ

    لیکن دبئی میں منعقدہ ایشا کپ 2025ء کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کا رویہ انتہائی متکبرانہ رہا۔ غور سے دیکھا جائے تو بھارتی کرکٹر کے دل میں پائی جانے والی یہ نفرت مئی 2025ء میں پاکستان کی بھارت کے خلاف 3 روزہ جنگی فتح کا نتیجہ ہے جس کا اظہار کرنے میں بھارتی کھلاڑیوں نے کھیل کے میدان کو چنا، جو کسی بھی عالمی برادری کے اخلاقی تقاضوں کے منافی ہے۔ بھارت نے کرکٹ کے میدان میں اپنی فتح کو اس حقارت انگیز رویئے کے ذریعے شکست میں بدل لیا ہے جس پر بجا طور پر نہ متحدہ عرب امارات میں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ اسے بھارت کے غیرجانبدار اور معزز طبقات بھی ناپسندیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کے اس رویئے کی وجہ سے بھارت کے دبئی میں کھیلنے پر پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ دبئی حکومت کی طرف سے بھارتی کرکٹ ٹیم کے لیئے یہ ایک قسم کی وارننگ ہے۔بھارتی کرکٹ ٹیم ایسے تماشے اور ڈرامے اپنے ملک میں کریں انہیں امارات جیسے پرامن ملک، اور خاص طور پر دبئی کی ریاست اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔

    بھارت کو اس ضمن میں تحریری طور پر پاکستان اور عالمی کرکٹ بورڈ سے معذرت کرنی چایئے، بلکہ پاکستان یہ معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے تاکہ کھیل کو تناو’ اور نفرت کا ذریعہ بنانے سے روکا جا سکے۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی یہ ایسی احمقانہ حرکت ہے کہ اس پر بھارتی کرکٹ ٹیم پر کچھ عرصہ کے لیئے پابندی بھی لگائی جانی چایئے۔ ماضی میں کرکٹ پاکستان اور بھارت کو یکجا کرنے کا باعث بنی اور آج وہی کرکٹ ایک دوسرے میں دوریاں پیدا کر رہی ہے۔ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے جس کا دوونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کے لیئے تدارک کیا جانا از حد ضروری ہے۔

    بھارت کی جانب سے 1986ء کے اواخر میں "آپریشن براس ٹیکس” کے نام سے صوبہ راجستھان میں فوجی مشقیں کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ نومبر 1986 سے مارچ 1987 تک 5 ماہ جاری رہنے والی مذکورہ مشقیں "جنگِ عظیم دوم” کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت تھی جس میں پوری ہندوستانی فوج شریک تھی۔ لیکن اسے پاکستان کے فوجی حکمران ضیاءالحق نے "کرکٹ ڈپلومیسی” سے ختم کر دیا تھا۔ آج بھارتی ٹیم نے کرکٹ ک اسی کھیل کو "جنگ” سمجھ کر تو کھیلا اور فائنل بھی جیت لیا مگر یہ بزدلانہ حرکت کر کے اس نے کھیل کو امن اور محبت کی بجائے "نفرت” کا نمائندہ بنا دیا، جو اس "ہندو توا” کی سوچ کا نتیجہ ہے، جس میں مہاتما گاندھی کے "آہنسا” کے امن پسند نظریئے کو یکسر طور پر رد کیا گیا ہے۔ پاکستان اور بھارت زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے طرح کھیلوں کے مقابلوں اور خصوصاً کرکٹ میں بھی ایک دوسرے کے روایتی حریف سمجھے جاتے ہیں اور ایسے کسی بھی مقابلے میں حریف پر فتح حاصل کرنا ہر دو قوموں کیلئے قومی وقار اور انا کا مسئلہ قرار پاتا ہے، جسے بھارت نے اب "متنازعہ” بنانے کی کوشش کی ہے۔

  • سینیٹر تاج حیدر: ایک سیاستدان اور فلسفی کی رحلت

    سینیٹر تاج حیدر: ایک سیاستدان اور فلسفی کی رحلت

    سینیٹر تاج حیدر: ایک سیاستدان اور فلسفی کی رحلت

    (8 اپریل 2025ء، یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    تاج حیدر پاکستان کی سیاسی، علمی، ادبی، فکری اور فلسفیانہ دنیا کا ایک ایسا روشن چراغ تھے، جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے تک ہر میدان میں بصیرت، سچائی، جمہوریت اور ترقی پسندی کی شمع روشن کیے رکھا۔ وہ نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اراکین میں شامل تھے بلکہ ملکی پالیسی سازی، تعلیم، سوشل ویلفیئر، فنونِ لطیفہ، ڈراما نگاری اور ایٹمی منصوبہ بندی جیسے حساس شعبوں میں بھی اپنے افکار و کردار کی چھاپ چھوڑ گئے۔

    تاج حیدر 1942ء میں کوٹہ (راجستھان) میں پیدا ہوئے اور ہجرت کے بعد کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ تعلیم کے میدان میں ان کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے جامعہ کراچی سے ریاضی میں بی ایس سی (آنرز) اور بعد ازاں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ علمی فکر اور تجزیاتی سوچ ان کے فکری پس منظر کا حصہ بن گئی۔

    ادب اور فنونِ لطیفہ سے تاج حیدر کی محبت ان کے ڈراموں، کالموں اور تحریروں سے جھلکتی ہے۔ پاکستان ٹیلی وژن پر ان کے لکھے ہوئے ڈرامے جیسے آبلہ پا، چارہ گر، جنہیں راستے میں خبر ہوئی اور لب دریا عوامی شعور کو جگانے کا ذریعہ بنے۔ ان کے ڈراموں میں ہمیشہ سماجی ناانصافی، پسماندہ طبقات کی محرومیاں اور سیاسی شعور کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں۔

    تاج حیدر نے 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے والے سوشلسٹ کنونشن میں شرکت کی اور پھر تاحیات اس پارٹی کے وفادار اور متحرک رکن رہے۔ ان کا سیاسی فلسفہ عوامی مسائل کا حل، ریاستی اداروں میں توازن اور جمہوریت کی بالادستی پر مبنی تھا۔ وہ 1995ء میں پہلی بار سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے، بعد ازاں 2014ء میں دوسری مرتبہ سینیٹ میں نمائندگی کی۔

    سینیٹر تاج حیدر: ایک سیاستدان اور فلسفی کی رحلت

    تاج حیدر نے بطور پالیسی ساز کئی کلیدی منصوبوں میں بنیادی کردار ادا کیا، جن میں ہیوی مکینیکل کمپلیکس، حب ڈیم، تھر کول پراجیکٹ، منچھر جھیل کی بحالی اور سینڈیک انٹیگریٹڈ منیرل ڈویلپمنٹ پروجیکٹ شامل ہیں۔ ان کے ترقیاتی وژن میں ماحولیات، تعلیم، صحت اور انرجی جیسے بنیادی شعبے شامل تھے۔

    ان  کی فکری وابستگی بائیں بازو کی سیاست اور مارکسسٹ فلسفے سے تھی۔ ان کی تحریریں معاشرتی جمہوریت، ریاستی طاقت کے توازن اور سماجی شعور کے فروغ کا پتا دیتی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا دور میں ان کی تحریریں اور مزاحمت بھرپور انداز میں سامنے آئیں۔ نیوکلیئر پالیسی کے سلسلے میں ان کی بیباکی اور قومی خودمختاری کے حق میں دلیرانہ مؤقف قابلِ ستائش ہے۔

    تاج حیدر نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا اور عالمی سیاسی و سماجی رجحانات کو پاکستانی معاشرے سے جوڑنے کی سعی کی۔ ان کا وژن بین الاقوامی سطح پر پختگی اور شعور کا حامل تھا۔

    8اپریل 2025ء کو کراچی میں سرطان کے باعث ان کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات پاکستان کے علمی، ادبی، سیاسی اور فکری حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

    ان کی شاندار خدما ت کے اعتراف میں حکومت پاکستان  نے انہیں ستارہ امتیاز کا اعلیٰ اعزاز عطا کیا ہے۔ پی ٹی وی نے نے انہیں بہترین مصنف کاایوارڈ  2006ء میں عطا کیا ہے۔ وہ ایک بہترین ریاضی دان، جنگ مخالف کارکن، سیاستدان، ڈرامہ نگار، فلسفی اورنڈر  کالم نگار تھے۔

    تاج حیدر ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے علم، ادب، سیاست، فلسفہ اور عوامی خدمت کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی تحریروں، ڈراموں، سیاسی موقف، پالیسی سازی اور فکری استقامت کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ معاشرتی ترقی، فکری آزادی اور انسانی وقار کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ ”تاج حیدر زندہ رہے گا ہر اس لفظ میں جو سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہے، ہر اس قدم میں جو ظلم کے خلاف اٹھتا ہے”۔

  • سرفراز بزمی کی “حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ

    سرفراز بزمی کی "حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ

    سرفراز بزمی کی "حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
    rachitrali@gmail.com

    سرفراز بزمی کا تعلق بھارت کی ریاست راجستھان کے سوائی مادھوپور ضلع سے ہے علوم دینیہ میں فارغ التحصیل اور عصری علوم میں انگریزی ادب میں پوسٹ گریجویٹ سرفراز بزمی کے تین شعری مجموعے ہیں نوائے صحرا اور رود ریگزار ان کی غزلوں اور نظموں کے مجموعے ہیں
    عصری اور دینی ہر دو قسم کے علوم سے بہرہ ور سرفراز بزمی نعت، غزل، نظم، قطعات کے ساتھ ساتھ حمدیہ شاعری بھی کمال کی کرتے ہیں، آپ کی "حمدیہ شاعری” (حمد باری تعالی)میں روحانی تعظیم اور الوہیت کے تئیں خوف کی گہری تحقیق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ خوبصورت اشعار کے ذریعے، سرفراز بزمی وجود کے جوہر کو تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، تخلیق اور مہارت کو ایک واحد الٰہی ہستی سے منسوب کرتے ہیں۔یہ نظم تشکر، عاجزی، اور کائنات کے پیچیدہ باہمی ربط کے موضوعات پر مبنی ہے۔
    بزمی کی شاعرانہ کاریگری ان کی بہترین منظر کشی اور استعاراتی زبان کے استعمال سے چمکتی ہے۔ وہ فطرت کی شان و شوکت کی ایک خوبصورت تصویر پینٹ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، چہچہاتے پرندوں سے لے کر دیو قامت پہاڑوں تک ہر عنصر کو الٰہی تخلیق کے مظہر کے طور پر ہر موضوع کو شاعری میں سمویا ہے۔ خاموشی اور راگ، روشنی اور تاریکی کا امتزاج، سرفراز بزمی کے خدائی صفات پر غور و فکر کی گہرائی کو مزید واضح کرتا ہے۔
    پوری نظم میں، بزمی قارئین کو الٰہی قدرت کی ہمہ گیریت پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہوئے لگتے ہیں، خواہ نرم ہوا میں ہو یا آسمان کی وسعتوں میں۔ ہر بند ایک روحانی سفر کی طرح کھلتا چلا جاتا ہے، جو قاری کو کائنات کے پیچیدہ ڈیزائن کی گہرائی سے سمجھنے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
    نظم کا ایک سب سے متاثر کن پہلو کائنات کے اتحاد باہمی اور مکمل ہم آہنگی پر زور دینا ہے۔ بزمی خوبصورتی سے تمام جانداروں اور بےجانوں کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اورومربوط ہونے کو یعنی پھول سے لے کر اُڑتی ہوئی تتلیوں تک کو، توحید ربوبیت کے مظہر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اتحاد کا یہ موضوع الٰہی اور ایک دوسرے سے انسانیت کے موروثی تعلق کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔

    مزید برآں، بزمی کی رحمت الٰہی اور حکمت کی کھوج قارئین کے دل میں گہرائیوں سے اثر کرتی ہے۔ تمام نعمتوں کے منبع کے طور پر الٰہی احسان کی تصویر کشی شکر اور عاجزی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ قدرت کی نعمتیں ہوں یا زندگی کی آزمائشوں کے ذریعے، بزمی قارئین کو وجود کے ہر پہلو میں موجود گہری حکمت کی یاد دلاتا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرفراز بزمی کی "حمدیہ شاعری” (حمد باری تعالی) روحانی غور و فکر اور شاعرانہ اظہار کا شاہکار ہے۔ اپنی بھرپور تصویر کشی اور گہرے موضوعات کے ذریعے، نظم قارئین کو خود شناسی اور الہی تعظیم کے سفر پر مدعو کرتی ہے۔ بزمی کی شاعرانہ ذہانت ان کی شاعری میں خوب چمکتی ہے، شاعر وجود کی خوبصورتی اور پیچیدگی کو تشکر اور خوف کی عینک سے روشن کرتا ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے سرفراز بزمی کی حمد شریف پیش خدمت ہے۔
    *
    حمد باری تعالی
    خالق ہے تو خدایا ! مالک ہے تو خدایا !
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

    بلبل کو بیکلی دی کلیوں کو خامشی دی
    مہکے ہوۓ گلوں کو خاموش دل کشی دی
    آب رواں بنایا موجوں کو خود سری دی
    ماہ تمام‌ دے کر ٹھنڈی سی روشنی دی

    سورج کو دی تمازت بخشا شجر کو سایہ
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

    سجدے کریں زمیں پر جب پربتوں کےساۓ
    بے نور ہوکے سورج صحرا میں ڈوب جاۓ
    پھولوں کو آکے شبنم‌ جس دم وضو کراۓ
    سارا نظام قدرت وحدت کی لے سناۓ

    ثانی ہے کون تیرا یکتا ہے تو خدایا !
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

    یہ مرغزار تیرے یہ کوہسار تیرے
    نغمات گار ہے ہیں یہ آبشار تیرے
    چڑیوں کے چہچہوں میں نغمے ہزار تیرے
    قربان سارا عالم پروردگار تیرے

    تیرا رہین رحمت کیا خویش کیا پرایا
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

    کاشانہء چمن میں شاداب رنگ تیرے
    سب گوسفند تیرے ‘ آہو پلنگ تیرے
    شاہ و وزیر تیرے مست و ملنگ تیرے
    اے کن فکان والے سب رنگ ڈھنگ تیرے

    مالک ہے تو خدایا ! خالق ہے تو خدایا
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

    وہ جھیل کے افق پر مرغابیوں کے ٹولے
    سورج اتر رہا ہے دھرتی پہ ہولے ہولے
    چھاۓ فسوں فضا پر جب رات زلف کھولے
    "سبحان تیری قدرت ” سارا جہان بولے

    ہر شئے پہ لوٹ آئے تیرے کرم کا سایہ
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

    دے دے تو تیری نعمت نہ دے تو تیری حکمت
    اور دے کے چھین لے تو مولی تری مشیت
    سر پر گدا کے رکھے دستار ما بدولت
    صدقہ تیرے کرم کا شاہوں کی بادشاہت

    تیری عطا سے پایا دنیا نے جو بھی پایا
    اک لفظ کن سے تونے سارا جہاں بنایا

  • سرفراز بزمی کی نظم “اقبال نامہ” کا تجزیاتی مطالعہ

    سرفراز بزمی کی نظم "اقبال نامہ” کا تجزیاتی مطالعہ

    یوم اقبال پر سرفراز بزمی کی نظم "اقبال نامہ” کا تجزیاتی مطالعہ


    (یوم اقبال کے حوالے سے خصوصی تحریر)


    اقبالیات


    آہنگ اقبال کے بقید حیات شعراء میں سرفراز بزمی ایک معروف نام ہے جن کے کئ اشعار علامہ سے منسوب ہوکر عوام میں مقبولیت پاچکے ہیں جیسے
    اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
    اولاد بھی املاک بھی جاگیر بھی فتنہ
    ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
    شمشیر ہی کیا نعرہء تکبیر بھی فتنہ
    (تعلیم کی جگہ تعمیر پڑھیں )
    سرفراز بزمی سوائی مادھوپور راجستھان انڈیا سے تعلق رکھنے والے ادیب، حافظ، عالم فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ راجستھان یونیورسٹی سے بی اے فارسی اور ہسٹری، ایم ڈی ایس، یونیورسٹی اجمیر شریف سے ایم اے انگریزی ادب اور لنگویج مائنورریٹی ایل ایم کالج اجمیر سے ٹیچرس ٹریننگ کورس کرکے محکمۂ تعلیم راجستھان سے بطور ماہر تعلیم وابستہ ہیں، آپ کی کتابوں میں ”نوائے صحرا”، ”رود ریگزار” اور ”سوئے حرم” شامل ہیں۔
    سرفراز بزمی کی نظم "اقبال نامہ” بچوں کے لیے اقبالیات کے موضوع پر ایک بہترین نظم ہے جو علامہ محمد اقبال کی زندگی اور خدمات کو سامنے لاتی ہے۔ یوم اقبال کے موقع پر بچوں کے لیے لکھی گئی یہ نظم اقبال کی ابتدائی زندگی سے لے کر ایک مشہور فلسفی، شاعر،ماہر قانون اور مفکر بننے تک کے سفر کو بیان کرتی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اقبال کے ایک نوجوان طالب علم سے ایک ممتاز فلسفی تک کے سفر کی واضح تصویر کو شاعرانہ انداز میں خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

    سرفراز بزمی کی “حمدیہ شاعری” کا تجزیاتی مطالعہ
    جناب سرفراز بزمی

    نظم "اقبال نامہ” کا مرکزی موضوع علامہ اقبال کی زندگی اور کارناموں کے بارے میں بچوں کو متاثر کرنا اور ان کو تعلیم دینا ہے۔ یہ علم، استقامت، اور کسی کی ثقافتی اور روحانی جڑوں کے ساتھ گہرے تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔ اقبال کی زندگی کی کہانی کے ذریعے سرفراز بزمی کی نظم بچوں کو بڑے خواب دیکھنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
    اس نظم کو ایک بیانیہ کے طور پر خوبصورتی سے ترتیب دیا گیا ہے، جس میں اقبال کی پیدائش سے لے کر ان کی بیرون ملک قانون کی اعلیٰ تعلیم اور ان کے گہرے فکری اور روحانی سفر تک کی زندگی کا پتہ لگایا گیا ہے۔ اس میں تاریخی حقائق اور کہانیوں کو ایک ساتھ باندھا گیا ہے، نظم اقبال نامہ میں اقبال کی زندگی کا ایک تاریخی بیان پیش کیا گیا ہے۔ یہ ڈھانچہ نوجوان قارئین تک ایک واضح اور پرکشش پیغام پہنچانے میں مدد کرتا ہے اور اسے ایک موثر تعلیمی ذریعہ بناتا ہے۔سرفراز بزمی "اقبال نامہ” کے اثرات کو بڑھانے کے لیے مختلف ادبی آلات استعمال کرتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
    استعارہ: اقبال کو ایک چمکتے ہوئے ستارے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو ان کی چمک دمک اور اثر و رسوخ کی علامت ہے۔
    "بخت اقبال” اور "ستارہ روشن تھا” جیسے فقروں میں انتشار کا استعمال بیانیہ میں تال اور موسیقیت کا اضافہ کرتا ہے۔
    امیجری: اس نظم میں اقبال کے سفر اور تجربات کی واضح منظر کشی پیش کی گئی ہیں، جس سے نوجوان قارئین کے لیے ان کی زندگی سے جڑنا آسان ہو جاتا ہے۔
    علامت نگاری: دنیا میں علامہ اقبال کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے نظم میں "اقبال نایاب” جیسی علامتیں استعمال کی گئی ہیں۔
    نظم "اقبال نامہ” شاعر مشرق علامہ اقبال کی ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک سفر تک، ان کی زندگی کا ایک جامع بیان فراہم کرتا ہے۔ اس میں علم کے لیے اس کی پیاس پر زور دیا گیا ہے، جس کی مثال ان کے علمی مشاغل اور متعدد ممالک کے اسفار سے ملتی ہے۔ علم کی اس پیاس نے بالآخر اسے ڈاکٹر اور بیرسٹر بننے میں مدد کی، اعلیٰ تعلیم کے شوق نے فکری نشوونما کے لیے اقبال کی لگن کو ظاہر کیا۔
    یہ نظم اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس سے اقبال گزرے، خاص طور پر جب وہ مغربی تہذیب سے مایوس ہو گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اقبال کی روحانی بیداری نے انہیں مغرب کے جھوٹے وہموں کو چھوڑ کر اپنے عقائد کو اپنی ثقافت کی اقدار سے ہم آہنگ کرنے پر مجبور کیا۔
    سرفراز بزمی کی یہ شاعری اقبال کی صوفیانہ شاعری سے فلسفیانہ فکر کی طرف منتقلی کی خوبصورتی سے عکاسی کرتی ہیں، ایک شاعر اور مفکر کے طور پر ان کے فکر و فن کے ارتقا کو سمیٹتی ہیں۔ نظم میں ان کی مشہور تصانیف جیسے "رموزِ بیخودی” پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے، جو ادب اور فلسفے میں ان کے تعاون کو اجاگر کرتی ہے۔
    شاعری کا اختتام اقبال کے اکسٹھ سال کی عمر میں انتقال پر ان ان کی شاندار خدمات کی پُرجوش عکاسی کے ساتھ ہوتا ہے، جو ان کے پائیدار اثرات اور مشرق کے لیے امید کی کرن کے طور پر ان کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو پورا کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرفراز بزمی کا "اقبال نامہ” علامہ اقبال کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتا ہے، جو نوجوان قارئین کو اس نامور فلسفی اور شاعر کی زندگی اور نظریات کا ایک قابل رسائی اور متاثر کن تعارف پیش کرتا ہے۔ یہ بچوں کو اقبال کے نقش قدم پر چلنے، علم، روحانی ترقی اور معاشرے کی بہتری کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے سرفراز بزمی کی نظم پیش خدمت ہے۔
    "اقبال نامہ”
    سنو پیارے بچو کہانی سنو
    یہ اک داستاں جاودانی سنو
    کہانی ہے اک شہر پنجاب کی
    کہانی ہے اقبال نایاب کی
    خدا دار ایک شیخ جنت مقام
    کہ نور محمد ہوا جن کا نام
    خدا کی عطا ان کے دو لال تھے
    کلاں تھے”عطا "خرد "اقبال” تھے
    بلندی پہ تھا بخت اقبال کا
    ستارہ منور تھا اس لال کا
    اٹھارہ کا سن تھا ستتر کا سال
    کہ پیدا ہوا یہ سراپا کمال
    تھے استاد اک مولوی میر حسن
    لیا آپ نے ان سے درس کہن
    لگائی جو رہوار ہمت پہ چوٹ
    چلے آئے لاہور از سیالکوٹ
    تشفی کے لیکن بجھے جب دیے
    تو لاہور سے کیمبرج چل دیے
    براؤن ، نکلسن ، ٹگرٹ ، سارلی
    نمایاں ملے ان کو استاد بھی
    تھےسر آرنلڈ ان میں سب سےشہیر
    وہ دنیاۓ علم و ادب کے امیر
    بڑھی اور جب علم کی تشنگی
    گئے بہر تعلیم تا جرمنی
    رقم کی وہاں فلسفے پر کتاب
    تو اس پر ملا ڈاکٹر کا خطاب
    مگر تشنگی اور بڑھتی گئ
    تو لندن سے کی پاس بیرسٹری
    رہے شہر لندن میں ایسے مقیم
    کہ دربار فرعون میں جوں کلیم
    ولایت سے جب ڈاکٹر ہو گئے
    نوازا حکومت نے ، سر ہوگئے
    وہ انیس سو پانچ سے آٹھ تک
    رہے ارض یورپ پہ بن کر فلک
    مگر جب کھلے اس تمدن کے عیب
    وہ حاضر کی دنیا یہ دنیائے غیب
    ہوئے جب عیاں بھید سب ناشکیب
    تمدن تفنن کے جھوٹے فریب
    تو بیزار مغرب ہوئے اسقدر
    پلٹ کر نہ دیکھا ادھر عمر بھر
    اثر تھا یہ مغرب کے طوفان کا
    مسلماں کو جس نے مسلماں کیا
    غرض جب کھلاحق، ہوئےشرمسار
    کلام الٰہی پڑھا اشکبار
    کھلے دل پہ اسرار ہائے ازل
    تو پھر بحر عرفاں میں ڈوبی غزل
    تو پھر عارض و زلف و لب کھوگئے
    روایات کہنہ کے ڈھب کھو گئے
    ہوئی شاعری پھر بلوغ المرام
    قلم سے لیا تیر و نشتر کا کام
    وہ پیغام مشرق زبور عجم "
    رموز خودی بیخودی ” کا علم
    سنائی زمانے کو بانگ ‌ درا
    کہ بیدار ہو نیند سے قافلہ
    بتائے ہمیں راز تفصیل سے
    اڑے عرش تک بال جبریل سے
    خوشا ! ضرب مومن وہ ضرب کلیم
    ہوجس ضرب سےقصر باطل دو نیم
    دیا قوم کو ارمغان حجاز
    وفا کا ترانہ محبت کا ساز
    غرض کیا بتاؤں وہ کیا شخص تھا
    وہ افکار قرآں کا اک عکس تھا
    بالآخر ہوئی عمر اکسٹھ برس
    بجا موت کے کارواں کا جرس
    یہ خورشید انیس سو اڑتیس کو
    چھپا صبح اپریل اکیس کو
    قفس سے اڑا عندلیب حجاز
    سوئے خلد ، مشرق کا دانائے راز
    چراغ خودی کا نگہباں گیا
    قلندر تھا اک شعلہ ساماں گیا
    جو کہتا تھا لوگو مکاں اور ہیں
    ستاروں سے آگے جہاں اور ہیں
    وہ کہتا تھا تم صقر و شاہین ہو
    تو پھر کیوں غلام سلاطین ہو
    کہاں فکر عصفور شاہیں کہاں
    خدا کا جہاں سب تمہارا جہاں
    وہ کرتا تھااس ضرب مومن کی بات
    گریں منھ کےبل جس سےلات و منات
    روایات شیخ و برہمن سے بیر
    وہ من کا مسافر حرم ہو کہ دیر
    وہ تن کی رفاقت سے بیزار سا
    وہ من کی تمازت سے تلوار سا
    وہ دستور منصور و سرمد کا پاس
    وہ ملبوسئ فقر سے خوش لباس
    سکھائی زمانے کو نکتے کی بات
    خودی کیا ہے بیدارئ کائنات
    سپر عقل ہے عشق شمشیر ہے
    یہ دنیا تو مومن کی جاگیر ہے
    کہا جس نے بیباک انداز سے
    لڑا دو ممولے کو شہباز سے "
    دعا کی کہ اے خالق بحر و بر !
    جوانوں کو دے میری آہ سحر
    عطا کر انھیں وہ جنون عمل
    ہوں شق ان کی ٹھوکر سے دشت و جبل
    نظر عشق و مستی میں سرشار کر
    خرد کے تماشوں سے بیزار کر
    وہ رستہ دکھا ان کو پروردگار
    چلے جس پہ تیرے اطاعت شعار
    ترا ہو کے رہنے کی توفیق دے
    "دل مرتضی سوز صدیق دے”
    خدا رحم فرمائے اقبال پر
    جو روتا رہا قوم کے حال پر
    محبت میں بزمی نے جو کچھ کہا
    کہو پیارے بچو وہ کیسا لگا

    Title Image Wikipedia
    Title Image background by QASIM REHMANI from Pixabay

  • کراچی کا بازار حسن ( Red Light Area of Karachi)

    کراچی کا بازار حسن ( Red Light Area of Karachi)

    ( اس سلسلے کا یہ پہلا مضمون ہے جس کا پلاٹ  بی بی سی اردو سے لیا گیا ۔ آئندہ کا موضوع

    ” ھیرا منڈی  لاھور تاریخ کے آئینے میں ”  زیر تحقیق ہے )

    کراچی کی نیپیئر روڈ کے قحبہ خانے اور کوٹھے کیسے اجڑے؟

    تلخیص و پیشکش :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    عید کا دن تھا کچھ نوجوان کراچی کے نیپیئر روڈ کے بازارمیں کھڑے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ چار خوبصورت لڑکیاں انتہائی چست لباس میں سڑک پار کر رہی ہیں جن میں سے ایک نے سرپر دوپٹہ جما رکھا ہے۔ نیپیئر روڈ پر ایسا نظارہ تو معمول کی بات تھی لیکن اتنی دلچسپی کیوں؟ اصل بات یہ تھی کہ ان لڑکیوں میں سے جس نے سر پر دوپٹہ جما رکھا تھا وہ اداکارہ بابرہ شریف تھیں جو اپنی خالہ سے عید ملنے آئی تھیں۔

    بابرہ شریف
    بابرہ شریف

    کراچی کا نیپیئر روڈ شہر کا قدیم بازار حسن یا ریڈ لائٹ ایریا تھا۔

     ’اس دشت میں اک شہر تھا‘

    کے مصنف ، اقبال رحمان مانڈویا  لکھتے ہیں کہ بابرہ شریف فلموں میں کامیاب ہو کر لاہور منتقل ہونے سے قبل اسی نیپیئر روڈ پر واقع شمشاد منزل کی دوسری منزل پر رہتی اور کام کرتی تھیں۔

    نیپیئر روڈ پر خستہ حالت عمارتیں اور بالکونیوں یہاں کئی بہاریں دیکھ کر اب بیوگی کا لباس تن کیے ہوئے ہیں جہاں کئی کہانیوں نے جنم لیا اور وہیں دفن ہو گئیں۔ اس محلے کے در و دیوار میں کئی ایسے راز ہیں جو کبھی دہلیز کی دوسری طرف نہیں گئے۔

    میں جب اس نیپیئر روڈ پر پہنچا تو ہر کوئی اس کو قصہ ماضی سمجھ کر بھول چکا تھا یا لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آیا۔ بالآخر سفید ٹوپی پہنے ہوئے ایک بزرگ شخص نے موجودگی کی وجہ پوچھی اور بے اختیار ان کے منھ سے ’ہائے رے‘ کے الفاظ نکلے۔

    فہیم (فرضی نام) نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سامنے جو عمارت ہے یہاں بابرہ شریف رہتی تھیں اس کے بعد مختلف عمارتوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں فردوس، وہاں زیبا اور نجمہ رہتی تھیں۔

    ’اب تو یہ موچی بازار بنا ہوا ہے نہ تو کوئی بائی رہی نہ ہی کوئی خان صاب، یہ بازار اجڑ چکا ہے۔‘

    بازار حسن کا قیام

    برصغیر یعنی موجودہ انڈیا اور پاکستان میں بازار حسن کی روائت قدیم ہے۔ رخسانہ افتخار

    جنرل آف دی ریسرچ سوسائٹی آف پاکستان  ،میں اپنے مقالے

    ’کلونیئل ڈیزائر اورینٹ بیوٹی‘

    میں لکھتی ہیں کہ برطانوی فوجیوں میں جنسی امراض کے بعد 1864 میں جنسی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کا قانون آیا جس میں ترامیم ہوتی رہیں۔ اس قانون کے تحت جسم فروشی کو قانونی حیثیت اور تحفظ حاصل ہوا۔

    اس قانون کے تحت برطانیہ کے زیر انتظام انڈیا میں کنٹونمنٹ ایریاز میں مخصوص جگہوں پر ریڈ لائیٹ ایریا یا قحبہ خانوں کے قیام کے اجازت نامے جاری کیے گئے۔

    Red Light Area of Karachi
    Red Light Area of Karachi کراچی کا بازار حسن

    رخسانہ افتخار کے مطابق اس دھندے میں ملوث خواتین کے جسمانی معائنے اور پولیس کو کسی جسمانی بیماری کا شکار خواتین کی گرفتاری کا بھی اختیار دیا گیا، اس قانون کا مقصد برطانوی فوج کے سپاہیوں کو سہولت فراہم کرنا تھا جو اپنے ملک سے دور دراز کے علاقوں میں تعینات تھے۔

    اس تحقیقی مقالے سے فحاشی کے اڈوں میں یورپی خواتین کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے، جس کے مطابق 1910 میں 300 سے 350 یورپی خواتین جسم فروشی کے کاروبار میں شامل تھیں۔ کلکتہ، بمبئی، رنگون، کچھ تعداد میں کراچی میں وہ اپنے دلالوں کے ذریعے یہ کاروبار چلاتی تھیں۔

    عالمی جنگیں اور کراچی کی معشیت

    جنگ عظیم اول اور دوئم کے کراچی کی معشیت پر مثبت نتائج مرتب ہوئے اور یہاں پیسے کی ریل پیل ہوئی، ’کراچی ملکہ مشرق‘

    کی مصنفہ محمودہ رضویہ لکھتی ہیں کہ ’1914 میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی اور کراچی کو فوجی نقل و حرکت کا مرکز قرار دیا گیا۔

    یہاں سےافواج خلیج فارس اور عراق میں آسانی سے پہنچ سکتی تھیں، یہاں ہر قسم کی جنگی ضروریات کے تحت ادارے اور دفاتر کھولے گئے جس کے باعث کراچی کی آبادی پچاس فیصد تک بڑھ گئی۔ مکانات اور دکانوں کی قلت ہونے لگی کئی عمارتیں بنیں، جنگ کے چار برس کے دوران  یہاں کے تاجروں نے لاکھوں روپے کمائے۔‘

    اس دور میں راجستھان، ممبئی اور گوا سے سیلاوٹ ،  پارسی اور گونز کمیونٹی کے لوگ یہاں نقل مکانی کر کے آئے اور یہاں کی معشیت میں مددگار ثابت ہوئے۔

    نیپیئر روڈ کا حسن

    سر چارلس نیپیئر کی سربراہی میں تاج برطانیہ نے سندھ پر قبضہ کیا تھا۔ انھوں نے ہی سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد سے کراچی منتقل کیا، بندر روڈ سے لی مارکیٹ تک کی سڑک ان کے نام سے منسوب کی گئی تھی۔

    نیپیئر روڈ کا حسن
    نیپیئر روڈ کا حسن

    کراچی میونسپل نے نیپیئر روڈ کا ریڈ لائٹ ایریا کے لیے کیوں انتخاب کیا؟ اس سوال کے جواب میں

    ’اس دشت میں اک شہر تھا‘

    کے مصنف ، اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ اس بازار کے گاہک مسافر ہوتے ہیں یہ علاقہ بندرگاہ سے نزدیک تر ہونے کی بنا پر شپ کریو اور غیر ملکی مسافروں کے لیے پرکشش تھا، اسی طرح سٹی ریلوے سیشن سے نزدیک تر ہونے کے باعث یہ علاقہ،اندرون ملک کے مسافروں کے لیے بھی پسندیدہ تھا۔

    بلوچستان و ایران سے آنے والی بسوں کا اڈہ بھی نزدیک تھا اسی سبب اطراف میں بے شمار رہائشی ہوٹل تھے یوں یہ علاقہ بازار حسن کے لیے مناسب قرار پایا۔

    تمام تر قانونی تحفظ کے ساتھ یہ بازار حسن بھی ہندوستان میں قدیم زمانے سے فن، آداب اور روایات کے سائے تلے پروان چڑھا جہاں رقص اور موسیقی کی دنیا پوری آب و تاب سے قائم ہوئی اور ساتھ قحبہ خانے بھی چلے۔

    بازار حسن، فلمی صنعت کی نرسری

    قیام پاکستان کے بعد نیپیئر روڈ سمیت کئی بازار حسن نومولود اسلامی ریاست کو ورثے میں ملے۔ ’اس دشت میں اک شہر تھا‘  کے مصنف اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ کبھی ان کی سرپرستی اس دور کے نواب اور راجہ کرتے تھے مگر قیام پاکستان کے بعد جب نوابوں اور راجاؤں کی راج دہانیاں ختم ہو گئیں تو نیپیئر روڈ کا علاقہ کراچی میں بننے والی فلموں کے لیے فنکار تیار کرنے کی نرسری بن گیا۔

    رانی اور بندیا- ماضی کی معروف اداکارائیں
    رانی اور بندیا- ماضی کی معروف اداکارائیں

    یہاں قحبہ خانے اور کوٹھے مختلف معیار کے تھے، تماش بین  جس قدر مہذب اور خوش زوق تھے اسی اعتبار سے یہاں مختلف کوٹھوں پر مجرا ہوتا تھا۔

    جب سرشام اطراف کی مارکیٹیں بند ہونے کی تیاری میں ہوتیں تو یہاں زندگی میں بیداری کی لہر آتی اور بالا خانوں سے آتی گھنگھروں کی چھنا چھن کا ہلکا پھلکا آغاز ہوتا اور جوں جوں چاند بلند ہوتا اس مارکیٹ کی رونق کو ایک کے بعد ایک چاند لگتا جاتا۔

    گھنگھروں کی چھنا چھن بڑھتی، بالکونیوں کے در کھلتے اور مجرے سے قبل کی ریہرسل شروع ہو جاتی جو دراصل تماش بینوں کو متوجہ کرنے کا ایک انداز ہوتا، کہیں کہیں رقاصہ رقص کرتی گھنگھروں کی چھنا چھن بکھیرتی بالکونی میں آ جاتی۔

    گھنگرو اور مجرا
    گھنگرو اور مجرا

    ہار، گجرے اور کرارے نوٹ

    نیپیئر روڈ پر اس وقت چپلوں، چینی دندان ساز، حکمت کی دواؤں سمیت متعدد دکانیں ہیں، ایک قدیم پان شاپ والے احمد (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ یہاں میوزک سینٹر اور گھڑیوں کی دکانیں بھی ہوتی تھیں، بازار کی خواتین کلائی پر گھڑیاں پسند کرتی تھیں۔

    اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ ’رات دس بجے تک پورا علاقہ روشنی کی چکا چوند سے جگمگانے لگتا، ہار گجرے کی دکانیں اور ہاتھ میں مالا بیچتے لڑکے سب فعال ہو جاتے۔‘

    یہ سارا تماشہ روپے پیسے سے منسلک ہوتا لہذا اس بازار کی ایک روایت بڑی دلچسپ ہے۔

    مجرے میں جو بھی رقم نذر یا نچھاور کی جاتی وہ ہمیشہ نئے کرارے نوٹ کی صورت میں ہوتی، جو یہاں کے مستقل شائق ہوتے وہ نئے کرارے نوٹوں کا انتظام کر کے آتے اور جو نہ کر پاتے ان کے لیے بازار ہی میں پھولوں اور گجرے والوں کے پاس نئے نوٹ دستیاب ہوتے، آخری حربے کے طور پر کوٹھے کی نائکہ بھی اس کا انتظام کر رکھتی۔ روزانہ نچھاور کئے جانے والے نئے نوٹوں کی گڈیاں ان کی معرفت دوبارہ استعمال ہوتی رہتی۔

    ہار اور گجرے
    ہار اور گجرے

    ’آؤٹ آف باونڈ ایریا‘

    نیپیئر روڈ کا یہ بازار نابالغوں کے علاوہ فورسز کے اہلکاروں کے لیے بھی ممنوع علاقہ تھا۔ کراچی کی تاریخ اور مقامات پر کتاب

    ‘ایسا تھا میرا کراچی‘

    کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ شام ڈھلے گلی کے باہر نمایاں جگہ پر ایک چھوٹا سا بورڈ رکھ دیا جاتا تھا جس پر

    ’آؤٹ آف باونڈ ایریا‘ لکھا ہوتا تھا جس کا مطلب عام فہم میں یہ تھا کہ یہاں مسلح افواج اور دوسرے سرکاری ملازمین کا داخلہ ممنوع ہے۔

    البتہ وہاں سادہ لباس میں ہر وقت پھرتے ہوئے پولیس کے اہلکار ہر آنے جانے والے پر نظر رکھتے تھے۔

    اقبال رحمان مانڈویا لکھتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز کا انٹلیجنس نظام اس بازار میں متحرک رہتا تھا تا کہ فورسز کے اہلکاروں کو اس بازار سے دور رکھا جائے اگر کوئی رنگروٹ یا اہلکار اس بازار میں نظر آجائے تو اس کی اطلاع اوپر ہو جاتی تھی اور فوری طور پر ایک نظام حرکت میں آ جاتا۔

    سیٹو سینٹو اور بازار حسن

    پاکستان جب 1960 کی دہائی میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے ساتھ سیٹو سینٹو کا رکن بنا تو ایک بار پھر غیر ملکی جنگی بیڑے اور فوجیوں نے یہاں کا رخ کیا اور یہ بازار چمک اٹھا۔

    ’ایسا تھا میرا کراچی‘

    کے مصنف محمد سعید جاوید لکھتے ہیں کہ جن دنوں کیماڑی کی بندرگاہ پر غیر ملکی نیوی کے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے تو ان کے ملاح اور ملازم ٹولیوں کی صورت میں باہر نکلتے تھے، ان کے کا پیسے کی ریل پیل ہوتی اور وہ گولی کی طرح سیدھے یہاں (نیپیئر روڈ) پہنچتے تھے جہاں نیچے بنے مے خانوں میں شراب اور اوپر سجے کوٹھوں اور قحبہ خانوں میں شباب ان کو میسر ہوتے۔

    مصنف کے مطابق حکومت اس کاروبار میں مداخلت نہیں کرتی تھی بلکہ غیر ملکیوں کے وہاں تک داخلے اور واپسی کے عمل کو ممکن اور سہل بناتی تھی، علی الصبح تک وہاں بگھیاں ان مہمانوں کی منتظر رہتی تھیں۔

    ’ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں جب ماحول قدرے آزاد تھا، کراچی میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح اور خصوصاً امریکی، برطانوی اور دوسرے ملکوں کے نیوی کے ملاح جن کے بحری جہاز مختصر عرصے کے لیے کراچی کی بندرگاہ پر رکتے وہ یہاں کا رخ کرتے تھے۔‘

    قحبہ خانے اور کوٹھے ویران کب ہوئے؟

    نیپیئر روڈ کے پان شاپ کے مالک احمد نے کیبن کے ساتھ واقع ہوٹل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ پرانا ہوٹل ہے اس میں ڈانس کی محفلیں ہوتی تھی۔‘

    روڈ کی دوسری جانب ایک تین منزلہ ہوٹل کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہاں بھی محفل سجتی تھی، سب کے پاس اجازت نامہ ہوتا، کوئی غیر قانونی عمل نہیں تھا۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ’جنرل ضیا الحق کی حکومت کے بعد تبدیلی آئی پہلے رات نو سے 12 بجے کا وقت مقرر کیا گیا اس کے بعد یہ سلسلہ ہی بند کر دیا گیا ورنہ 24 گھنٹے یہ بازار آباد رہتا تھا۔‘

    ’اس دشت میں اک شہر تھا‘  کے مصنف اقبال رحمان مانڈویا کا خیال ہے کہ یہ بازار دو مرتبہ زبوں حالی کا شکار ہوا وہ لکھتے ہیں کہ جب کراچی کی فلم انڈسٹری ختم ہوئی تو یہاں کی انڈسٹری سے روزی روٹی کمانے والے بہت سارے خاندان لاہور منتقل ہوگئے جس کے سبب بازار کی چہل پہل میں فرق پڑا۔

    دوسرا اس وقت جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحریک نفاذ مصطفیٰ کے دباؤ میں آکر ملک میں نائٹ کلب، ریس کورس اور جوا خانے بند کر دیے تو اس بازار پر بھی ضرب پڑی، اس کے بعد کے دور میں اسلامی ذہن رکھنے والے جنرل ضیاالحق نے اس بازار پر ایسی ایسی پابندیاں لگائیں اور آنے والے تماشائیوں کو پولیس نے اتنا ہراساں کیا کہ یہ بازار واقعی اجڑ گیا اس بازار میں 200 سے زائد گھرانے تھے جو سکڑ کے 25 سے 30 رہ گئے تھے۔

    ’محفل نہیں اب کھپ ہوتی ہے‘

    نیپیئر روڈ کی عمارتوں کے نام بھی دلکش تھے، جیسے بلبل ہزار داستان، جمیلہ شکیلہ بلڈنگ، شمشاد منزل، سنگیت محل، فنکار محل، موسیقی محل لیکن اب یہ تمام خاموش ہیں، بلبل ہزار داستان سمیت کچھ کی تعمیر نو کی گئی ہے۔

    بلبل ہزار داستان کے داخلی راستے اور اس کے عقب میں واقع عمارت میں اب بھی کچھ خواتین نظر آتی ہی جو بات کرنا پسند نہیں کرتیں۔

    نعیم نے بتایا کہ’ ایک ٹی وی چینل نے یہاں چھاپہ مار کر لڑکیوں کی ویڈیوز بنائیں اس کے بعد پولیس ان کے پیچھے پڑ گئی حالانکہ یہاں سے لڑکیاں اب اسٹیج اور نجی محفلوں میں پرفارمنس کے لیے جاتی ہیں۔‘

    نیپیئر روڈ کا آخری سکینڈل شاید سنہ 2000 میں سامنے آیا تھا، جب فاخرہ نامی ایک لڑکی پر تیزاب پھینکا گیا تھا۔ اس مقدمے میں غلام مصطفیٰ کھر کے بیٹے بلال کھر کو نامزد کیا گیا تھا، جس نے ضمانت کروا لی تھی، جبکہ فاخرہ کے متعدد آپریشنز کیے گئے لیکن اس کا چہرہ ٹھیک نہیں ہوا اور واقعے کے تقریباً دس برس بعد اخبارات میں اس کی خود کشی کی خبر آئی تھی۔

    نگار سینیما چوک سے اگلے چوک پر امام بارگاہ کے قریب طبلے کی مرمت اور فروخت کرنے والوں کی دکانیں ہیں، جن میں سے کئی جانتے تو بہت کچھ ہیں لیکن بتانا نہیں چاہتے۔

    وقار نامی ایک طبلہ مستری کا صرف اتنا کہنا تھا کہ ’اب محفل کہاں اب تو صرف کھپ ہوتی ہے۔ نوٹ :   ریاض سھیل کے اس تحقیقی مضمون کا خلاصہ بی بی سی اردو سے لیاگیا۔