Tag: جہاد

  • جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار

    جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار

    جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار

    سدرہ منور
    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت کیا اور اہل مکہ کو دعوت توحید دی تب سے لے کے آج تک دشمنان اسلام اہل ایمان سے ٹکراتے رہیں ہیں۔ اور یہ ٹکراؤ قیامت تک جاری رہے گا کیونکہ کبھی بھی حق اور باطل ایک نہیں ہو سکتے اسلام حق ہے اور حق کے پیروکار کبھی بھی باطل کے سامنے نہیں جھک سکتے۔اسلام کبھی بھی جنگ کا اور خون ریزی کا حامی نہیں ہے۔ مگر اپنے دفاع اور دین کی سربلندی کے لیے جہاد کا حکم دیتا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والسلام نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ….

    لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ ​​کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھو۔
    بلکہ اللہ تعالی سے امان اور عافیت کی دعا کیا کرو۔

    البتہ جب دشمن سے مد بھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر اور استقامت کا ثبوت دو۔
    یاد رکھو کے جنت تلواروں کے سائے تلے ہے،
    اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والسلام نے یوں دعا کی۔

    «اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ مُجْرِيَ السَّحَابِ، هَازِمَ الْأَحْزَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ، وَزَلْزِلْهُمْ».

    ’’اے اللہ! اے کتاب نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور لشکروں کو شکست دینے والے! اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔‘‘
    صحیح بخاری 2966۔
    اسلامی تاریخ میں جس طرح سے مردوں نے بہادری جرات اور جواں مردی کی تاریخ رقم کی اسی طرح سے خواتین نے بھی تاریخ کی اوراق میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا غزوات هو یا جنگیں مردوں کے شانہ بشانہ شرکت کی ۔
    جہاد میں خواتین بھی برابر مردوں کے ساتھ شریک ہوتی تھیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے ہاتھوں سے مشک بھر بھر کر زخمی سپاہیوں کو پانی پلاتی تھیں۔ ان کے ساتھ دو اور صحابیات حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہ اور ام سلیط رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس خدمت میں شریک تھی ۔جنگ کے دوران صحابیات زخمیوں کو پانی پلاتی فوج کے کھانے کا انتظام کرتی شہدا کی قبریں کھود تی زخمی سپاہیوں کو میدان جنگ سے اٹھا کر لاتی اور زخمی سپاہیوں کی مرہم پٹی کرتی ضرورت کے وقت فوج کو ہمت دلانا ان کی مدد کرنا اور میدان جنگ میں خود نکل جانا ان تمام بہادر خواتین کے ذمے تھا ۔
    آج ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو پڑھنے کی ضرورت ہے اور اپنے بچوں کو یہ واقعات سنانے کی ضرورت ہے۔
    یہ ان چند غیر مسلم خواتین کے نام ہیں جنہوں نے جنگ میں خدمات سر انجام دی جن کے بارے میں یورپی تعلیمی اداروں میں باقاعدہ بچوں کو بتایا جاتا ہے اور ان کے کارناموں کو سراہا جاتا ہے ۔

    1. *جون آف آرک (فرانس)
    2. *فلورنس نائٹنگیل (برطانیہ
    3. *نور عنایت خان (برطانیہ):
    4. *لیوڈمیلا پاولچینکو (یوکرین/سوویت یونین)
    5. *بوبولینا (یونان)
    6. *ایڈتھ کیول (برطانیہ):
      اس کے مقابلے میں اسلامی تاریخ میں اس قسم کے سینکڑوں واقعات اور سینکڑوں نام ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے کان ان سے آشنا نہیں ہے۔ ان بہادر اور عظیم خواتین کے کارناموں سے آشنائی ضروری ہے ۔تاریخ کے اوراق سے چنے چند سنہری واقعات حوالہ قلم کروں گی ۔
      غزوہ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور تمام صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ یہودیوں سے لڑ رہے تھے کہ بنو قریظہ لڑتے لڑتے اس مقام کے قریب پہنچ کے جہاں مسلمان عورتیں اور بچے چھپے ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں ایک یہودی ان عورتوں کی طرف نکل آیا خوف یہ تھا کہ اگر یہ یہودی بنو قریظہ سے کہہ آیا کہ ادھر عورتیں ہیں تو میدان خالی پا کر وہ عورتوں پر حملہ کریں گے ۔حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی تھیں خیمے کا ایک ستون اکھاڑ کر خود میدان میں اتری اور اس یہودی کو اسی ستون سے مار کر وہی گرا دیا مورخ ابن اثیرجزری نے لکھا ہے یہ پہلی بہادری تھی جو ایک مسلمان عورت سے ظاہر ہوئی۔
      حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہا کے زمانے میں مسلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعوی کیا اور مقام یمامہ میں ایک خون ریز لڑائی کے بعد مسلمہ کذاب مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس جنگ میں جو جنگ یمامہ کے نام سے مشہورہوئی ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شریک تھی اور جب تک ان کا ہاتھ زخمی نہ ہوا دشمنوں سے لڑتی رہی اس دن ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ کو 12 زخم آئے۔
      جنگ یرموک کے موقع پر جب مسلمانوں کے قدم اکھڑنے لگے رومی فوج عورتوں کے خیموں کے قریب پہنچ گئی مسلمان خواتین انتہائی جوش کے ساتھ فور خیموں سے باہر نکل آئی اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں کا سیلاب جو نہایت سرعت سے آگے بڑھ رہا تھا دفعتا تھم کر پیچھے ہٹ گیا اب خواتین نے مسلمان فوج کی ہمت پڑھائی فوج کی پشت پر آ کر مسلمانوں میں جوش پیدا کرنے لگی عورتوں کی ان کوششوں کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں کے اُکھڑے ہوئے پاؤں پھر سنبھل گئے قریش کی عورتیں تلوار گھسیٹ گھسیٹ کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑی اور حملہ کرتے ہوئے مردوں سے آگے نکل گئی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت دلیری سے لڑ کر زخمی ہوئی ۔ ضرار بن ازور کی بہن خولہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ شعر پڑھ کر مسلمانوں کو غیرت دلاتی تھں۔

    پاک دامن عورتوں کو چھوڑ کر بھاگنے والو تم موت اور تیر کے نشانہ نہ بنو
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کی پھپھو زاد بہن اسماء بنت یزید نے تنہا نو رومیوں کو مار ڈالا ۔
    جنگ قادسیہ میں عرب کی مشہور شاعرہ خنسہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شریک تھی خنسہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ان کے چاروں بیٹے بھی شریک تھے۔ شب کےابتدائی حصے میں جب ہر سپاہی صبح کے ہولناک مناظر پر غور کر رہا تھا آتش بیاں شاعرہ نے اپنے بیٹوں کو یوں جوش دلانا شروع کیا ۔
    ترجمہ
    پیارے بیٹو; تم اپنی خواہش سے مسلمان ہوئے اور تم نے ہجرت کی اللہ واحد لا شریک کی قسم ہے کہ تم جس طرح ایک ماں کے بیٹے ہواسی طرح ایک باپ کے بھی بیٹے ہو میں نے تمہارے باپ سے بد نیتی نہیں کی اور نہ تمہارے ماموں کو ذلیل کیا ۔اور نہ تمہارے حسب و نسب میں داغ لگایا ۔ جو ثواب عظیم اللہ تعالی نے کافروں سے لڑنے میں مسلمانوں کے لیے رکھا ہے تم اس کو خود جانتے ہو۔ خوب سمجھ لو کہ آخرت جو ہمیشہ رہنے والی ہے اس دار فانی سے بہتر ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے مسلمانوں! صبر کرو اور استقلال سے کام لو اللہ تعالی سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو ؛ کل جب خیریت سے تم ان شاءاللہ صبح کرو تو تجربہ کاری کے ساتھ اور اللہ تعالی سے نصرت کی دعا مانگتے ہوئے دشمنوں پر جھپٹ پڑنا ۔اور جب دیکھنا کہ لڑائی زوروں پر ہے اور ہر طرف اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں کہ تم خاص آتش دان جنگ کی طرف رخ کرنا ۔اور جب دیکھنا کہ فوج غصے سے آگ ہو رہی ہے تو تم غنیم کے سپہ سالار پر ٹوٹ پڑنا اللہ تعالی کرے کہ تم دنیا میں مال غنیمت اور آخرت میں عزت پاؤ ۔

    جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار


    صبح کو جنگ چھڑتے ہی خنساء رضی اللہ تعالی عنہ کا چاروں بیٹے ایک ساتھ دشمن پر جھپٹ پڑے اور آخر کار بڑی بہادری سے لڑ کر چاروں شہید ہوئے خنساء رضی اللہ تعالی عنہ کو جب خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اس اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے بیٹوں کی شہادت کا مجھے شرف بخشا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ 800 دینار حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کو ان کے چاروں بیٹیوں کی تنخواہ دیا کرتے تھے۔
    حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب بنو امیہ کے مقابل حجاز میں اپنی خلافت قائم کی اور حجاج بن یوسف نے ان پر بڑے سر و سامان سے فوج کشی کی تو ان کے ساتھیوں نے ان سے علیحدہ ہونا شروع کر دیا ۔صرف چند مخلص ساتھیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ان کے ساتھ رہ گئی ۔اس وقت حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہا گھبرا کر اپنی ماں سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور اجازت طلب کی کہ; اگر مناسب ہو تو میں حجاج سے صلح کر لوں ؛ بہادر ماں نے جواب دیا،،
    فرزند من ! اگر تم باطل پر ہو تو آج سے بہت پہلے تم کو صلح کر لینی چاہیے تھی۔ اور اگر حق پر ہو تو ساتھیوں کی کمی سے پریشان نہ ہو حق کی رفاقت خود کیا کم نصرت ہے ؛ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ماں کے پاس سے واپس آئے اور تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر ماں سے اجازت طلب کی ماں نے سینے سے لگایا تو جسم بہت سخت نظر آیا پوچھا کیا واقعہ ہے فرمایا میں نے دوہری زرہ پہن لی ہے ۔حضرت اسما رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا یہ شہدائے حق کا شیوہ نہیں ،،ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے زرہ اتار ڈالی پھر کہا مجھے ڈر ہے کہ دشمن میری لاش کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے ؛فرمایا بیٹا جب بکری ذبح ہو جاتی ہے تو اس کو کھال کھینچنے کی تکلیف نہیں ہوتی ۔ااور اس طرح ماں نے بیٹے کو مقتل میں بھیجا اور حق و صداقت کی قربان گاہ پر اپنے جگر کے ٹکڑے کو نثار کر دیا ۔
    حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد حجاج نے ان کی لاش کو سر راہ سولی پر لٹکا دیا کچھ دنوں کے بعد حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہ کا جب ادھر سے گزر ہوا تو بیٹے کی لاش سولی پر لٹکی نظر آئی کون ایسی ماں ہوگی جو اس بھیانک منظر سے تڑپ نہ جائے لیکن وہ نہایت بے پرواہی کے ساتھ ادھر سے گزر گئی اور لٹکی لاش کی طرف اشارہ کر کے یہ بلیغ فقرہ کہا ۔۔کیا اب تک یہ سوار اپنے گھوڑے سے اترا نہیں ۔اس شجاعت اخلاقی جرات اور بے مثال صبر و استقلال کا نمونہ کہاں نظر آ سکتا ہے ۔ان تمام واقعات سے خواتین کا دینی ولولہ قومی ہمدردی غیرت اور بہادری کا جو جذبہ نظر آتا ہے وہ آج کے دور میں ناپید ہے ۔قائرین سے رخصت ہوتے ہوئے اس منظر کو ان کے سامنے کرنا چاہوں گی جب غرناطہ کا آخری سلطان ابو عبداللہ اپنے آخری قلعے کی کنجیاں عیسائی فاتحین کے سپرد کر رہا تھا اور اپنی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ اس سرزمین پر جہاں مسلمانوں نے 800 برس حکومت کی آخری نظر ڈالتے ہوئے آنسوؤں اس کی دونوں آنکھوں سے رواں تھے ۔اس وقت سلطان کی والدہ عائشہ آگے بڑھ کر کہتی ہیں کہ ،،بیٹا جس سلطنت کو تم مرد بن کر نہ بچا سکے اب اس کے لیے عورتوں کی طرح مت رو اس ایک جملے میں استقلال اور جرات کی کتنی روح ملتی ہے یہ گزشتہ بہادر مسلمان خواتین کی کارناموں کا ایک دھندلا سا خاکہ تھا ۔
    اب سوال یہ ہے کہ موجودہ خواتین اسلام
    آئندہ کی تاریخ اسلام کے لیے کیا کارنامہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتی ہیں ؟؟؟؟

  • پارہ چنار کا مسئلہ

    پارہ چنار کا مسئلہ

    پارہ چنار کا مسئلہ


    تحریر محمد ذیشان بٹ
    پارہ چنار کا مسئلہ ایک ایسا پیچیدہ اور گہرا مسئلہ ہے جس نے نہ صرف علاقے کی عوام کو متاثر کیا بلکہ پورے ملک میں تشویش پیدا کی ہے۔ اس مسئلے کی جڑیں نہ صرف حالیہ تنازعات میں ہیں بلکہ اس کی بنیادیں تاریخ میں بھی موجود ہیں۔ یہ مسئلہ آج کے دور میں شدت اختیار کر چکا ہے اور اس کی وجوہات کو سمجھنا اور ان کا حل نکالنا انتہائی ضروری ہے۔


    پارہ چنار ایک ایسا علاقہ ہے جو قدرتی خوبصورتی اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود ہمیشہ مسائل کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے لوگ برسوں سے اپنی زمینوں، جان و مال اور عزت کی حفاظت کے لیے لڑتے آئے ہیں۔ لیکن اس مسئلے کی نوعیت اب بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ زمینوں کے تنازعات سے شروع ہونے والا یہ مسئلہ فرقہ واریت، بدامنی، اور حکومتی بے حسی کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ یہاں زمینوں کا کوئی واضح ریکارڈ موجود نہیں، جو تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ چھوٹے جھگڑے بھی فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیتے ہیں، جس سے مسئلہ اور زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے۔
    یہ علاقہ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر واقع ہے، اور یہ سرحدی تعلقات مسئلے کو مزید بگاڑتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ صرف ایک سڑک ہے جو تین ماہ سے بند ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ مقامی کاروبار بند ہیں، اور لوگوں کی زندگی موت سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ یہاں سرد موسم میں نہ صرف بنیادی ضروریات کی کمی ہے بلکہ ہر طرف خوف و ہراس کا عالم ہے۔ ایسے میں جو لوگ علاقے سے باہر ہیں وہ واپس نہیں آ سکتے، اور جو یہاں پھنسے ہوئے ہیں وہ اپنی زندگی کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں۔
    سیکیورٹی ادارے اور حکومتی مشینری اس مسئلے کو حل کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف وقتی اقدامات تک محدود ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی بے حسی اور لاتعلقی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا علاقہ بن چکا ہے جہاں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ قبائلی روایات اور طاقت کا راج ہے۔ یہاں کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کے لیے نہ تو کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی طویل مدتی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔
    فرقہ واریت اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سنی اور شیعہ کی بنیاد پر اختلافات نے یہاں کے ماحول کو زہر آلود کر دیا ہے۔ جب ایک فرقے کے لوگ احتجاج کرتے ہیں تو دوسرا فرقہ ان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے تنازعات کو ہوا دینے میں سوشل میڈیا بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جہاں چھوٹے سے معاملے کو منفی انداز میں پیش کر کے اسے بڑا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ نفرت انگیز بیانیے اور غلط معلومات کی ترویج نے یہاں کے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
    اسلحے کی بے تحاشا دستیابی اور جنگجو گروہوں کی سرگرمیاں بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ یہ علاقہ ماضی میں افغانستان میں جاری جہاد کا مرکز رہا ہے، جہاں سے واپس آنے والے جنگجو اب ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اسلحے کی فراہمی اتنی آسان ہو چکی ہے کہ یہاں ہر قسم کا اسلحہ دستیاب ہے۔ ایسے حالات میں عام لوگ بھی اپنی حفاظت کے لیے مسلح ہو گئے ہیں، جو مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
    حکومت کی جانب سے مسئلے کو حل کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ سب ناکام ہوئیں۔ مختلف جرگوں کے ذریعے معاہدے کیے گئے، جن میں جنگ بندی، اسلحے کی واپسی، اور خوراک و ادویات کی فراہمی کی بات کی گئی۔ لیکن ان معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ لوگ اسلحہ واپس کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ انہیں اپنی زندگی کے تحفظ کا یقین نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، جرگے اور معاہدے عموماً عارضی اور ناقص ثابت ہوتے ہیں۔
    اس مسئلے کا مستقل حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، حکومت کو علاقے میں اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ سیکیورٹی فورسز کو ایمانداری اور غیر جانبداری سے کام کرنا ہوگا۔ زمینوں کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے واضح اور شفاف نظام وضع کرنا ہوگا۔ مقامی جھگڑوں کو فرقہ وارانہ تنازعات میں تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا اور تمام فریقین کو اس بات کا پابند بنانا ہوگا کہ وہ امن قائم رکھیں۔
    افغانستان کے ساتھ سرحدی تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ بارڈر فورسز کو مضبوط کیا جائے اور سرحد پر سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ نفرت انگیز بیانیے کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پر کنٹرول اور عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلحے کی فراہمی کو سختی سے روکا جائے اور علاقے میں غیر قانونی اسلحے کو ضبط کیا جائے۔


    مقامی جرگوں کو ختم کر کے ایک مشترکہ اور جامع حکمت عملی وضع کرنا ہوگی جس میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے۔ یہ مسئلہ صرف معاہدوں سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ پارہ چنار کے مسئلے کو صرف ایک علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ انسانی المیہ کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ جب تک لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

  • جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    Dubai Naama

جہاد اور صلیبی جنگوں کا انجام؟

    گلوبل نیوز کے مطابق "طوفان الاقصی” اور "بیت المقدس” کے حصول کی جنگ میں حزب اللہ کے شہید علی علاوؑالدین کی والدہ اس وقت اظہار تشکر کے لئے سجدے میں گر گئیں جب انہیں بیٹے کی شہادت کی خبر ملی۔ علی علاوؑالدین کی والدہ ایک شہید خاوند کی بیوہ ہیں۔ ان کے خاوند اور علی علاوؑالدین کے والد یوسف علاوؑالدین 2006 میں "الفجر آپریشن” کے دوران شہید ہوئے تھے۔ ایسی کوئی ایک شہادت ہو یا ہزاروں لاکھوں شہادتیں ہوں، وہ اسلامی جہاد کی صورت میں افغانستان میں ہوں، کشمیر میں ہوں، مشرق وسطی میں فلسطین کی آزادی کے لئے ہوں یا یہود و نصاری کی طرف سے صلیبی جنگوں کی شکل میں ہوں، ان دونوں صورتوں میں خون "انسانیت” ہی کا بہتا ہے۔

    بیت المقدس دنیا کا وہ واحد مقام ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لئے "مقدس مقام” کا درجہ رکھتا ہے۔ ان تینوں مذاہب میں سے جس مذہب کے پاس بھی طاقت آتی ہے وہ بیت المقدس پر اپنا تسلط قائم کر لیتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ  نے عیسائی بادشاہتوں اور رومن ایمپائر کے بازنطینی دور میں عیسوی سال 638 میں بیت المقدس کو فتح کیا۔ 1099ء میں بیت المقدس دوبارہ صلیبیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے تقریبا 90سال بعد سلطان نورالدین زنگی کے وزیر اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اکتوبر 1187ء میں بیت المقدس کو آزاد کر کے اسلامی حکومت قائم کی۔ اس دوران بیت المقدس کے حصول کے لیئے 8بڑی مذہبی جنگیں لڑی گیئں جن میں پہلی صلیبی جنگ 1097ء تا 1145ء، دوسری 1144ء تا 1187ء، تیسری 1189ء تا 1192ء، چوتھی 1202ء تا 1204ء، پانچویں اور چھٹی 1227ء، ساتویں 1248ء اور آٹھویں 1268ء میں لڑی گئی۔ یہ وہ مذہبی جنگیں ہیں جو صلیبی جنگوں (Crusades) کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں حالانکہ یہ مذہبی جنگیں نہیں تھیں بلکہ یہ جنگیں بیت المقدس اور "یروشلم” کے زمینی خطہ پر قبضہ جمانے کے لئے محض "مذہب” کے نام پر لڑی گئی جنگیں تھیں۔

    افغانستان پر امریکی حملے کو "9نویں صلیبی جنگ” بھی کہا جاتا ہے جو 9/11 کے واقعہ کے بعد 2001ء میں "دہشت کے خلاف جنگ” (War On Terror) کے نام سے عراق پر امریکی حملے سے شروع ہوئی تھی جو 20سال گزرنے کے باوجود کسی نہ کسی صورت میں تاحال جاری ہے۔ 11سمتبر 2001ء کو جب امریکہ کے شہر نیویارک اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی پر اغوا شدہ طیاروں کے ذریعے بالترتیب ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارات پر حملہ ہوا تو اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے "قصر ابیض” میں 16سمبر 2001ء کے اپنے ایک خطاب کے دوران اسے "صلیبی جنگ” کا نام دیا تھا۔ اس کے بعد 2003ء میں امریکہ اور اتحادی افواج نے عراق کے ایٹمی ہتھیاروں کے نام سے عراق پر حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ 22اکتوبر 2012ء میں نیٹو افواج کی موجودگی میں کرنل قذافی کی ہلاکت ہوئی جسے بہت سے تجزیہ کار "قتل” قرار دیتے ہیں اور اسی طرح 2011ء میں شام کی خانہ جنگی شروع ہوئی جس سے شام ابھی تک سنبھل نہیں سکا ہے۔

    یہ ہے 7اکتوبر کے حماس کے طوفان الاقصی کا مختصر سا پس منظر، جس میں ایک فلسطینی خاتون اپنے خاوند اور بیٹے کو "شہادت” کے رتبہ پر متمکن دیکھ رہی ہیں۔ قرآن کریم میں جہاد پر زور دیا گیا ہے اور "یہود و نصاری” کے بارے میں بھی قرآن پاک میں آیات ضرور موجود ہیں۔ لیکن قرآن کی اجتماعی فکر اور اسوہ حسنہ حضرت محمد مصطفی رحمت العالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم انسانیت افروزی پر مبنی ہیں۔ اس کے مطابق نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم یہودیوں کی خدمت مسجد نبوی میں ٹھہرا کر کرتے نظر آتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں، "کونو عباد اللہ اخوانا” کہ سب عبد (انسان) بھائی بھائی ہیں۔ اسلام ایسا دین نہیں جس طرح اس کی تشریح بعض مسلم مشاہرین قرب قیامت سے پہلے جنگ و جدل اور خون ریزی کا نمونہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح اصل الہامی مذاہب یہودیت اور عیسائیت بھی انسانی خون ریزی یا ایسی صلیبی جنگوں کی ہرگز اجازت نہیں دیتے ہیں جس طرح صلیبی جنگوں کے دعوے دار اس کی تعبیر پیش کرتے ہیں۔ جوں جوں اسرائیل فلسطین کی جنگ کے پھیلنے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ ایران کی حماس کے لئے کھلم کھلا فوجی و انسانی حمایت اور امریکہ اسرائیل کی امداد کر رہا ہے اور امریکہ کا فائٹر طیاروں اور اسلحے سے لدا بحری بیڑا حماس کے 7اکتوبر کے حملے کے فورا بعد بحرالکاہل میں پہنچ گیا ہے۔ اگر جنگ نے ایران کو بھی لپیٹ لپیٹ میں لے لیا یا روس اور چین بھی جنگ میں کود پڑے تو بیت المقدس کے قبضے کی یہ جنگ "تیسری عالمی جنگ”  میں بھی بدل سکتی ہے۔ تب  امریکی صدر جوبائیڈن جو اسرائیل کے "فاسفورس” بم چلائے جانے، فلسطینی بچوں اور عورتوں سمیت ہزاروں فلسطینیوں کے قتل اور غزہ  کے ہسپتالوں کو "قبرستان” بنانے پر خوش نظر آ رہے ہیں اور اقوام  متحدہ بھی جنگ بندی نہ کروا سکا تو کچھ زیادہ بعید از قیاس نہیں کہ سابق امریکی صدر جارج بش کی طرح موجودہ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی حالیہ اسرائیل فلسطین جنگ کو صلیبی جنگ (Crusade) کا نام دینے کی ناکام کوشش کریں گے۔

    صلیبی جنگوں یعنی مذہبی جنگوں کو سب سے پہلے قرون وسطی میں لاطینی کلیسا نے منظور کیا تھا۔ نومبر 1095ء میں پوپ اربن دوم نے اپنے خطبے میں کہا تھا کہ، "عیسائی دنیا یروشلم واپس لینے کے لئے اکٹھی ہو جائے”۔ خاص طور پر مشرقی بحیرہ روم کی مہمات کا مقصد "ارض مقدسہ” (موجودہ یروشلم) کو اسلامی حکمرانی سے آزاد کرانا تھا۔ اگر الہامی مذاہب امن و سلامتی کا نظام ہیں (اور ہیں) تو اس بات کو اس کے تینوں پیروکار "یہودی”، "عیسائی” اور "مسلمان” کب سمجھیں گے؟ کیا اس وقت جب اللہ تعالی اس انسانی نسل کو چھوڑ کر یہاں ایک اور انسانی "مخلوق” آباد کرے گا؟

  • جہاد

    جہاد

    یہ دیگر مذہب کے لوگ بڑے خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ ذرابھی آزادخیال نہیں ہوتے ہیں۔ مرنے مارنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ سالے مذہب کے نام پر ۔

    توتمہیں کس نے منع کیاہے؟تم بھی انہی کی طرح ہوجاﺅ۔

    جی ہمارامذہب ہمیں آزادخیالی اور بردباری سکھاتاہے۔

    یہ ان کی طرح اپنے مذہب کے لیے جان قربان نہ کرپانے کے بہانے ہے۔

    میں کیوں اپنی جان قربان کروں۔ہماری مذہبی کتابوں میں لکھاہے کہ مذہب کے لیے جان قربان کرنا شتریوں کاکام ہے اور میں توایک برہمن ہوں۔

    brahman
    Image by Vishnu Vasu from Pixabay

    اور بھائی صاحب آپ….آپ تو شتریہ ہے نا؟آپ اس مدعے پرکیاکہیں گے؟

    جناب یہ برہمن ہمیشہ سے ہی ہمارے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلاتے آئے ہیں۔اب ہم بیوقوف نہیں بننے والے ہیں۔

    اور جناب آپ؟

    جی میں توبنیابقال ذات کاہوں۔ مجھے تواپنے کاروبارسے ہی فرصت نہیں ملتی ہے۔جو میں اس مذہب وجہت کے فالتوپچھڑے میں پڑوں۔ہاں اگر مذہب کاروباربن جائے تو اور بات ہے۔

    اور آپ جناب؟

    میں دلت ذات سے ہوں۔ آپ کوشرم آنی چاہئے جوآپ مجھے اپنے مذہب کے لیے جان دینے کوکہہ رہے ہیں۔

    معنی….۱ہندومذہب میں لاگوذات سسٹم میں دوسرے نمبرکی اونچی ذات ۔رام اسی ذات کے تھے۔

    2 ذات سسٹم کی سب سے اونچی ذات۔

    3 افتاد :سب سے نیچی اچھوت ذات۔

    aalok-kumar-

    آلوک کمار ساتپوتے

    افسانہ نگار

    چھتیس گڑھ صوبہ کے سرکاری رسالہ کے مدیرکے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    ہندوستان کے تمام پروگیسیو اخبارات و رسائل میں افسانے شائع ہوچکے ہیں۔