Tag: جلال الدین محمد اکبر

  • قلعہ اٹک ایک لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیا

    قلعہ اٹک ایک لاکھ روپے میں فروخت کر دیا گیا

    تحقیق و تحریر: راجہ نور محمد نظامی

    ماخذ: سہ ماہی ذوق

    شاہ افغانستان محمودشاہ درانی کے وزیر فتح خان اور پنجاب کے حکمران رنجیت سنگھ کے درمیان 1812ء میں قلعہ رہتاس ضلع جہلم میں معاہد ہوا ۔ جس کے ذریعے رنجیت سنگھ نے کشمیر کی مہم سرکرنے کے لئے دیوان محکم چند کی سرکردگی میں بارہ ہزار سپاہی بطور امداد اور راجوری وپیر پنجال سے گزرتے وقت افغان فوج کو تمام سہولتیں پہنچانے کا وعدہ کیا۔ اس کے عوض اسے کشمیر کے مال غنیمت سے نولاکھ روپے اور ملتان پر حملہ کرنے کے لئے ایک فوجی دستہ وزیر فتح خان نے دینے کا وعدہ کیا۔فروری 1812ء میں وزیر فتح خان نے کشمیر پر حملہ کیا ۔معاہدہ مذکور کی وجہ سے دیوان محکم چند کے زیر کمان بارہ ہزار کی فوج ہمراہ تھی ۔ایک زبردست جنگ کے بعد گورنرکشمیر عطا محمد خان کو شکست ہوئی ۔عطامحمدخان اور معزول شاہ کابل شاہ شجاع گرفتار کر لئے گئے ۔ دیوان محکم چند نے ان دونوں کو اپنے قبضے میں کر لیا۔ انگریزمورخ مرے لکھتا ہے کہ کشمیر پر چڑھائی سے پہلے ہی رنجیت سنگھ اٹک کے حاکم سردار جہاں داد خان سے ساز باز کر رہا تھا۔ رہتا س میں وزیر فتح خان سے ملاقات کے بعد لاہور روانگی سے پیشتر رنجیت سنگھ نے اپنی فوج کا ایک دستہ دریائے سندھ کے آس پاس دیا سنگھ کی زیر کمان متعین کر دیا تھا۔

    وزیر فتح خان کی کامیابی اور اپنے بھائی عطا محمد خان کی گرفتاری کی خبر سن کر سردار جہاں داد خان نے رنجیت سنگھ کو پیغام بھیجا کہ قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لئے اپنے نمائندے بھیجے۔ رنجیت سنگھ نے فوری طورپر فقیر عزیز الدین کو قلعہ اٹک کا سودا کرنے اور قبضہ کرنے کے لئے بھیجا اور دیگر اشخاص بھی اس علاقے پر تسلط مضبوط کرنے کے لئے اس کے ساتھ تھے۔ اس نے کشمیر کی مہم کے لیڈر دیوان محکم چند کو حکم بھیجا کہ اٹک کی کارروائی کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی وہ لاہور پہنچ جائیںاور شاہ شجاع کو ہمراہ لائیں ان(سکھوں ) کے چلے جانے کے بعد اٹک کی کارروائی کا حال(وزیر فتح خان )کو معلوم ہواتو وہ بہت بگڑا اور غاصبانہ کارروائی پر بہت واویلا کیا۔اس بناء پر اس نے اپنے آپ کو ان شرائط پر پورا کرنے سے آزاد سمجھا جن کی رو سے اس نے سکھوں سے امداد لی تھی اور یہی سبب تھا کہ کشمیر میں حاصل کئے گئے مال غنیمت میںسے بھی سکھوں کو کوئی حصہ دیے بغیر چلتا کیا۔

    سوال یہ ہے کہ فتح خان کو اٹک پر قبضہ کا حال کشمیر سے محکم چند کی روانگی سے پہلے معلوم ہوا یا بعد میں ’’دوست محمد کی سوانح عمری ‘‘میں موہن لال لکھتا کہ سکھ سپاہی محکم چند نے وزیر فتح خان کو اس بات پر راضی کر لیا تھا کہ وہ غلام محمد خان کو اس کے ساتھ جانے کی اجازت دے اور غلام محمد خان ہی نے اپنے تیسرے بھائی جہاں داد خان والی ِ اٹک کو اپنا قلعہ سکھ حکومت کے ہاتھ بیچ ڈالنے پر زور دیا۔ رنجیت سنگھ نے قلعہ اٹک کے حاکم جہاں داد خان سے سازباز کر کے ایک لاکھ روپیہ کی معمولی قربانی کی بدولت قلعہ اٹک حاصل کر لیا۔ اس سلسلہ میں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے ۳۵۱۰من غلہ 439من گولہ بارود 70 بندوقیں اور کنڈے 4390من کوہستانی نمک اٹک کے قلعہ میں پایا اس طرح گویا سکھوں نے اہم جنگی مقام کو بہت ہی سستے داموں حاصل کر لیا ۔ یہ سب مارچ 1813ء میں ہواتھا۔

    منشی دیوی داس ،مت سنگھ ،بھرانیہ اور حکیم عزیز الدین نے اس ساز باز میں سکھوں کی طرف سے حصہ لیا۔ جاں دادخان حاکم اٹک کی طرف سے عبدالرحیم خان قلعہ دار اٹک نے سکھوں کی فوج کو قلعہ میں داخل ہونے دیا ۔وزیر فتح خان کو جب قلعہ اٹک پر سکھوں کے قبضے کا حال معلوم ہوا تو اس نے قلعہ واپسی کا مطالبہ کیا ۔ رنجیت سنگھ نے کہا کہ جب تک کشمیر کے مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا قلعہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ وزیر فتح خان کا موقف یہ تھا کہ سکھوں نے فتح کشمیر کے موقع پر بزدلی کا مظاہر کیا ہے ۔ لہٰذا وہ حصہ کے حق دار نہیں ہیں۔ انہی دنوں فتح خان کے وکیل گودڑ مل اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درمیان قلعہ اٹک کی واپسی کے لئے ملاقات بھی ہوئی مگر مہارا جہ نے انکار کردیا۔ وکیل گودڑ مل کے جانے کے بعد دوسرے مہینے رنجیت سنگھ کو خبر ملی کہ فتح خان نے ایک بڑے لشکر اور توپخانہ کے ساتھ قلعہ اٹک کا محاصرہ کر لیا ہے ۔ غلہ رسد کی کمی ہے۔ سکھ فوج قلعے میں محصو رہوگئی ہے ۔ اور نہایت تنگی کی حالت میں ہے ۔اگر مہاراجہ نے خبر نہ لی تو تمام فوج فاقوں سے مر جائے گی ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے فوری طور پر شہزادہ کھڑک سنگھ اور بھیارام سنگھ کی سرکردگی میں فوج روانہ کی جس نے سرائے کالا سے آگے حسن ابدال کی سرائے شاہجہانی میں قیام کیا یہاںسکھ فوج پرفتح خان کی فوجوں نے حملہ کر دیا جس میں سکھ فوج کو شکست ہوئی ۔

    اب دیوان محکم چند رنجیت سنگھ کے حکم پر خود کمک لے کر روانہ ہوا۔ اس کی رہنمائی میں سکھ فوج سرائے کالا سے حسن ابدال کی طرف بڑھی ۔فتح خان کی فوج نے حضر ومیں ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔ دیوان محکم چند نے سرائے شاہجہانی حسن ابدال اور سرائے برھان میں فوج کا کیمپ لگایا۔ 11جوائی 1813ء میں قلعہ اٹک کی محصور فو ج کو سامان رسد اور غلہ مہیا کرنے کے لئے جب دیوان محکم چند سکھ سپاہیوںکے ساتھ آگے بڑھ رہاتھا تو موضع سیدن ہٹیاں مڈبھیر ہوگئی ۔فتح خان کے بھائی دوست محمد خان کی فوج نے اچانک سکھوںپر حملہ کر دیا۔ سکھوں کی طرف سے توپوں او ربندوقوں کے فائر کئے گئے۔ کافی کشت وخون ہوا۔سکھوں کے قدم اکھڑے ہی تھے کہ افغانوں نے لوٹ مارشروع کر دی جس سے فتح شکست میں بدل گئی۔ سکھ فوج افغانوں کا تعاقب کرتے ہوئے حضرو تک پہنچ گئی اور افغانوں کے ڈیروں کو لوٹ لیا۔ افغان فوج فاقہ کشی اور گرمی کی وجہ سے بھاگ گئی ۔ان میں سے اکثر سپاہی دریائے سندھ پارکرتے ہوئے ڈوب کر مر گئے ۔28جون 1813ء کو سکھوں نے ایک شاندار فیصلہ کن فتح حاصل کر لی ۔ جن افغان فوجوں نے قلعہ اٹک کا محاصرہ کیا ہوا تھا جب ان کو فتح خان کی شکست کا حال معلوم ہوا تو محاصرہ اٹھا کر چلی گئی اور دیوان محکم چند قلعہ اٹک میں آسانی سے داخل ہوگیا۔

    چھچھ کے میدان میں اس لڑائی کی اہمیت نظرانداز نہیںکی جاسکتی ۔ ہیوجل لکھتا ہے ’’مسلمانوں کی طاقت ہندوستان میں گھٹ رہی تھی۔ اٹک کی معمولی لڑائی کے بعد آخری مسلمان فوجی دستوں کو سندھ پار بھگا دیا گیا۔ نریند ر کرشن سہنا ہیوجل کے جواب میں لکھتا ہے اس کی یہ رائے بالکل گمراہ کن ہے ۔کسی لڑائی کی اہمیت اس میں لڑنے والے سپاہیوں کی تعداد پر منحصر نہیں ہوتی ۔ اگر فتح خان جیت جاتا تو اس کانتیجہ کیا ہوتا۔ جھنگ اور سندھ ساگر دوآبہ کے مسلمانوں سرداریقیناایک بار پھر کابل کی اطاعت کر لیتے اور قدرتی طورپر رنجیت سنگھ کی شکست پنجاب پر اس کے اقتدار کو کاری ضرب لگاتی۔چھچھ کے میدان میں اگر فتح خان کامیاب ہوجاتا تو یقینا ہندوستان میں اس کی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ۔ کشمیر جیسے خوش حال ملک کی آمدنی تالپور کے امیروں کا خراج پشاور اوراٹک پر متحدہ قبضہ ،افغانستان کی طاقت اور سکھوں پر اس کی شاندار جیت اس کی اتنی ہمت بڑھاتی کہ احمد شاہ کی چھوٹی وراثت کو مکمل طورپر دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ چھچھ کی لڑائی میں افغانوںکی فتح سکھ قوم کی تاریخ میں اتنی ہی اہم ہوتی جتنی کہ شمال میں پانی پت کی تیسری لڑائی مرہٹوں کی تاریخ میں سمجھی جاتی ہے۔

    اس وقت پنجاب میں رنجیت سنگھ کی طاقت بہت زیادہ مضبوط نہ تھی ۔یہ شکست اس کے لئے تباہ کن ہی ثابت ہوتی ۔ سی ایم لطیف ہسٹری آف پنجاب میں لکھتا ہے لاہور میں رنجیت سنگھ نے اس فتح کی خوشی میں جشن عظیم الشان کیا۔ لاہور امر تسر اور وٹالہ میں بڑی دھوم دھام سے روشنی ہوئی ۔ اور دو ماہ تک لاہور میں اس فتح کا جو افغانوں پر سکھوں نے حاصل کی تھی ۔ خوشیاں منائی جاتی رہیں ۔ کنہیالال تاریخ پنجاب میںلکھتا ہے ۔ اس فتح کے حصول کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کمال اعزاز ورتبہ بڑھ گیا اور کسی سرکش کو طاقت گردن اٹھانے کی نہ رہی۔

    ماخذات:

    (1) رنجیت سنگھ مصنف ،نریندرکرشن سہنا

    (2) تاریخ پنجاب، کنہیالال ہندی

    (3) تاریخ پنجاب مرتبہ، کلب علی خان فائق

    (4) تاریخ ہزارہ ،ڈاکٹر شیر بہادر پنی

    (5) تاریخ وادی چھچھ، سکندر خان

    (6) تاریخ حسن ابدال منظور الحق صدیقی

    (7) تاریخ پنجاب سید محمد لطیف

    (8) عمدۃ التواریخ لالہ سوہسن لال

    (9) ٹیکسلاطلوع  اسلا م کے بعد راجہ نور محمد نظامی (قلمی )

  • اٹک قلعہ اور یلدرم

    شاندار بخاری
    شاندار بخاری

    تحریر : شاندار بخاری
    1442 ھجری
    مسقط

    ہمارے پردادا السیّد جعفر شاہ المعروف امام چاکر شاہ بخاری کا مزار ، مغل شھنشاہ اکبر اعظم کے تعمیر کردہ اٹک قلعہ کے سامنے جنوبی پہاڑی پر واقع ہے ۔ قلعہ کے آس پاس آنے جانے اور اس سڑک پر سے گزرنے کی ہر ایک کو اجازت نہیں کیونکہ قلعہ میں افواج پاکستان کی ایک مخصوص رجمنٹ مقیم ہے لیکن متصل گاوں ملاحی ٹولہ کے شھری اور ہمارے خانوادہ کے افراد اور امام چاکر شاہ بخاری کے معتقدین کو ضروری شناخت کرانے کے بعد مرقد پر حاضری کی اجازت دیدی جاتی ہے ۔ راستہ پیدل اور دشوار گزار ہے مگر دریائے سندھ کا کنارہ اور اٹک کی پہاڑیوں کا قدرتی حسن راستے کی تھکن زائل کردیتا ہے ۔ کئی سال پہلے میں پاکستان آیا ہوا تھا لھذا دادا کے سلام کے لئے چلا گیا لیکن جاتے ہوے اپنا شناختی کارڈ گھر بھول گیا ، نقطہ تفتیش پر پریشانی کا سامنا ہوا میرے ساتھ میرے چچازاد اور ماموں زاد بھائی بھی تھے جنہیں جانے کا اذن مل گیا سوائے میرے کیونکہ میری اور قسمت کی آنکھ مچولی کا کھیل ایک عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے تو ہونی انہونی ہوجاتی ہے اور انہونی کا کیا رونا خیر بات چیت کرتے ہوئے تفتیشی افسر جو کہ خلاف توقع بہت خوش مزاج واقع ہوئے ، انہوں نے ضمانت کے طور پر کارڈ رکھ لئیے اور چائے کی پیشکش کی جو کہ ذہنی تھکاوٹ کی بناء پر میں نے فورا قبول کر لی اور وہ ہمیں چوکی کیساتھ ملحقہ کمرے میں لے گئے جہاں ہم نے فوجی کینٹین کی بنی کڑک چائے پی اور باتوں باتوں میں پتا چلا کہ ہمارے میزبان پختون ہیں اور کیونکہ میرے والد محترم کی مادری زبان بھی پشتو ہے ، یہ جان کر وہ بہت خوش ہوئے میں نے مسقط کال کر کے ان کی بات بھی کروائی اور بتایا یہ گیا کہ آپ دادا کی مرقد سے ہو آ ئیں اور مجھ سے ملاقات کئیے بغیر نا جائیں کیونکہ اپنے کارڈ بھی واپس لینے تھے خیر ہم زیارت سے واپس لوٹے تو میزبان ہمارے منتظر تھے اور ہمیں بتایا کہ آپ کیلئیے خصوصی طور پر اجازت نامہ لیا ہے آپ کو اٹک قلعہ کی اندرونی اور بیرونی منازل کی سیر کروائی جائے گی اور رات کا کھانا آپ ہماری بیرک میں ہمارے ساتھ تناول فرمائیں گے اب تو عنایتوں کی مجھ پر جیسے برسات ہو گئی ہو اب ہو نا ہو والد محترم کی ان کی ہم زبان سے بات جو کروائی تھی اس کا اثر تھا خیر میں نے پہلی مرتبہ اٹک قلعہ کو اتنے قریب سے دیکھا اور اس کی خوبصورتی کو محسوس کیا ۔

    قلعہ کے کئی دروازے ہیں اور صدر دروازے پر جلی حروف میں تلوار اور آسمانی بجلی کے نشان بنے ہوئے تھے جس کے وسط میں یلدرم لکھا ہوا تھا پوچھنے پر پتا چلا کہ اس وقت ایس ایس جی کمانڈوز کا جو دستہ وہاں مقیم تھا ان کی رجمنٹ کا نام یلدرم ہے جو کہ ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں آسمانی بجلی۔ چلتے چلتے مختلف ابواب اور ادوار کے قصے سنائے گئے جو کہ بہت ہی دلچسپ تاریخی واقعات پر مبنی تھے جیسے کہ اس قلعے کی تعمیر 1581 سے لیکر 1583 صرف 2 سال کے عرصے میں مکمل کی گئی ، موجودہ ادوار میں کئی سیاسی راھنماء یہاں مقید ہوئے ۔

    یلدرم

    برطانیہ کے مشہور ماہر آثار قدیمہ مورٹیمر وییلر کی کتاب جس کا عنوان ” پاکستان کی 5000 سالہ تاریخ ” جو کہ 1950 میں شایع ہوئی تھی اس میں انہوں نے قلعہ میں استعمال کئیے گئے مختلف قیمتی نوادرات ، پتھروں اور اس قلعہ کی تعمیر سے متعلق دیگر معلومات کا مختصر لیکن جامع اور متفق علیہ تجزیہ لکھا ہے ( یہ کتاب میرے پاس پی ڈی ایف میں موجود ہے آپ قارئین میں سے جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں مجھ سے رابطہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں )
    پچھلے سال پڑوسی ملک میں بننے والی فلم ‘ پانی پت ‘ دیکھی تو فلم کی شروعات میں ہی اٹک قلعے کا ذکر آیا جو کہ اس دور میں بھی ایک اہم جگہ اور اسٹراٹیجیک اہمیت کا حامل تھا اور آج بھی ہے ۔ آج بھی مراٹھا سے تعلق رکھنے والے جب کسی کو باتوں میں مثال دیتے ہیں کہ ہم یہ ناممکن کام کر کے دکھائیں گے تو کہتے ہیں ‘ اٹاکے پار جھنڈے’ یعنی اٹک کے پار جھنڈے لگائینگے۔ 1758 میں مراٹھا نے مختصر مدت کیلئیے اٹک قلعے لاہور اور پشاور پر حکومت بنالی تھی جبکہ احمد شاہ ابدالی نے انہیں پانی پت کے معرکہ میں شکست دے کر واپس حاصل کیا اور اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اور پھر انگریزوں کے زیر استعمال بھی رہا ۔ یہ قلعہ سطح سمندر سے 2’758 بلند ہے۔ جو ایک خطرناک علاقے اور دو چٹانوں کمالیہ اور جلالیہ کے درمیان واقع ہے ان چٹانوں کا نام کمال الدین اور جلال الدین کے نام پر رکھا گیا جو روشنیہ فرقہ کے بانی کے دو بیٹے تھے جنہیں دریا میں سزا کے طور پر پھینکا گیا کیونکہ وہ اپنے باپ کے نظریات کا پرچار اکبر کے دور میں کرتے تھے۔

    اب میں آپ کو واپس قلعہ میں لے چلتا ہوں کیونکہ ہمارے میزبان دسترخوان سجائے ہمارا انتظار کر رہے ہیں اور یقین کریں کھانے میں کوئی تکلف نہیں برتا گیا بلکہ سادہ خوراک جو وہ تناول کرتے ہیں وہی ہمیں بھی پیش کی گئی جس میں چنے کی دال ، دہی اور تنور کی بڑی بڑی روٹیاں لیکن اس دال کا اپنا ہی لطف تھا اس کے بعد قہوہ کا دور چلا اور یوں ہماری دعوت یلدرم کا اختتام ہوا ۔

  • اٹک قلعہ

    اٹک قلعہ

    قارئین کرام کی بے حد ممنون ہوں جنہوں نے پہلے مضمون پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے تاریخ سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج قلعہ اٹک کے متعلق چند قیمتی معلومات آپ کے حوالے کرتی چلوں۔ جیسا کے اٹک قلعہ کی کچھ تاریخ پہلے مضمون میں بیان کی جا چُکی ہے جسے پڑھ کر یقیناٌ قلعہ کے بارے میں مزید جاننے کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے۔ آج کی یہ تحریراسی تشنگی کو مٹانے کی معموم سی ایک کوشش ہے۔ قلعہ کی تعمیر میں دو سال اور دو ماہ کا وقت لگا ۔لاہوری دروازے پر قلعہ کی بنیاد رکھنے کی افتتاحی تختی لگی ہوئی ہے لیکن اسے دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جگہ پہلے کوئی اور تھی۔

    اٹک قلعہ

    اٹک قلعہ میں تعمیر فن کا ایک بہترین نمونہ دیواروں کی تعمیر ہے۔ دیواریں تقریباً ایک میل سے زیادہ گولائی میں ہیں۔

    ان کے اندر ساتھ ساتھ ایک راہداری تعمیر کی گئی ہے جس کے نیچے لاتعداد گارڈ رومز ہیں ۔ اسی طرح کے گاارڈ رومز میناروں کے نیچے بھی موجود ہیں۔ دہلی گیٹ کے پاس ایک بڑا گاڑڈ روم موجود ہے جو قیام پاکستان سے پہلے تک کوارٹر گارڈ کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔

    مغل حمام میں داخلے کا راستہ دہلی گیٹ کے نزدیک ہے جس سے متصل کمرے تعمیر کئے گئے ہیں۔

    ان کمروں کی دیواروں میں ایسی جگہ دیکھی جا سکتی ہے جہاں گرم پانی تیار ہوتا تھا۔

    اسلحہ خانہ 1857 میں بنایا گیا تھا جو کہ پرانے لاہوری دروازے کی جگہ پر تھا۔

    دہلی دروازے کے اندر سے گزرتے ہوئے قلعہ کے نیچے والے حصے میں داخل ہوا جا سکتا ہے،

    پھر یہاں سے نئے لاہوری دروازے کو سڑک نکلتی ہے۔

    سڑک کی دوسری شاخ جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) کا حصہ تھی۔

    یہ ملاحی ٹولہ دروازے کی طرف جاتی ہے۔

    ملاحی ٹولہ اور خیرآباد کے درمیان دریا کا جو حصہ ہے اس کو عبور کرنا مشکل ہے کیونکہ یہاں دریائے  کابل اور سندھ کے ملاپ سے بھنور پیدا ہوتا ہے، اس ملاپ سے نیچے داہنے کنارے پر دو چٹانیں کمالیہ اور جلالیہ کے نام سے موجود ہیں جو دریا کے اندر تک گئی ہوئی ہیں جن کی وجہ سے یہ راستہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔

    کمالیہ بلکل قلعہ کے پانی والے دروازے کے مخالف ہے اور جلالیہ چند سو گز پر نیچے کی طرف ہے۔

     1883 میں اٹک خُرد کے پُل کی تعمیرسے پہلے دریائے سندھ کو پار کرنے کے لیئے سرائے تا خیرآباد کشتیوں کا ایک پل تھا اس پل کے ستون ابھی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سرائے ایک محفوظ مقبرے کی قسم ہے جو مغل بادشاہ جہانگیر کے عہد میں تعمیر کی گئی تھی۔

    اٹک قلعہ کے گردو نواح میں خوبصورت ترین مقامات میں سے ایک مقام باغ نیلاب ہے جہاں جہاں دریائے ہرو سندھ میں شامل ہوتا ہے۔  پانی کے پھیلاؤ اور کالا چٹا کی سر سبز پہاڑیاں جن کی بلندی 3800 فٹ ہے، اس علاقے کی خوبصورتی میں خاطر خواہ اضافہ کرتی ہیں۔

     اکبر بادشاہ کے فرزند ارجمند شہنشاہ جہانگیر نے اپنے دور حکومت میں تین بار قلعہ اٹک میں وردو کیا، پہلی مرتبہ 1016 ہجری میں کابل جاتے ہوئے جس کا زکر تزک جہانگیری میں کچھ یوں ہے "17 محرم کو میں نے دریائے نیلاب کے کنارے قیام کیا”.

    دوسری بار کابل سے واپسی پر اور تیسری مرتبہ 1626 میں کابل جاتے ہوئے قیام کیا۔ سب سے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر اثر کرنے والی جگہوں میں بلند قلعہ، پرانی سرائے اور وہ جگہ جہاں پہاڑ اور دریائے سندھ ملتے ہیں غروب و طلوع آفتاب خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی "اٹک قلعہ” کے متعلق دلچسپ معلومات پر یہ مضمون تمام ہوا۔ اس کےبعد ہمارا اگلا موضوع تحصیل اٹک کو تحصیل فتح جنگ سے ملانے والے انتہائی خوبصورت مقام "کالا چٹا” پہاڑ پر ہوگا انشاءاللہ۔ آپ تمام احباب کی حوصلہ افزائی کے پیش نظر ضلع اٹک کی تاریخی اور سیاحتی مقامات کی سیر جاری رہے گی۔

  • اٹک خورد

    اٹک خورد

    اٹک خورد

    یہ واقعہ اپریل 1813کا ہے جب فتح خان دُرانی ـ15000ـ سپاہیوں کو لے کر اٹک کی طرف روانہ ہوا۔ رنجیت سنگھ نے برہان سے اپنے لشکر کو روانہ کیا اور دونوں فوجوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے درانی فوج کو آگے نہ بڑھنے دیا یہاں تک کہ ماہ جولائی میں انکی زخیرہ شُدہ اشیاء خوردونوش ختم ہونے لگیں اور دُرانیوں کو واپس پلٹنا پڑھا۔ اس جنگ میں رنجیت سنگھ کی برتری کی سب سے بڑی وجہ قلعہ اٹک بتایا جاتا ہے۔ یہ قلعہ ایسے مقام پر واقع ہے جو شمال سے ہونے والی کسی بھی لشکر کشی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ قلعہ اٹک سن ـ1581ـ میں تعمیر ہوا۔ یہ مُغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کا ایک اور شاہکار ہے۔ بنیادی طور پرقلعہ اٹک کو اس لئے تعمیر کیا گیا تھا تاکہ دریائےسندھ کے بہاو کو قابو کیا جا سکے لیکن اسکے ساتھ ساتھ افغانستان اور وسط ایشیا سے ملحقہ خطرات کو بھی مدِ نظر رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قلعہ اٹک ہمیشہ سے برصغیر کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے قلعہ کا نظام و نسق حکومت پاکستان کی زیر نگرانی افواج پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ صوبہ پنجاب سے صوبہ خیبر پختون خواہ کو ملانے والے اٹک پُل سے اس قلعہ کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

    اٹک خورد

    اس پُل کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دنیا کہ ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں دو مختلف رنگوں کے دریا آ ملتے ہیں۔ ایسے دریا جو دو مختلف ممالک،زبانوں، قوموں، ثقافتوں، تہزیبوں اور تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں یعنی دریائے کابل اور دریائے سندھ۔۔ قلعہ اٹک کے چار دروازے ہیں، دہلی دروازہ، لاہوری دروازہ، کابلی دروازہ اور موری دروازہ۔ اٹک قلعہ اپنی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کے زیلی ادارے یونیسکو کا حصہ ہے۔ جس علاقے میں اٹک قلعہ واقع ہے اسے اٹک خُرد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اٹک خُرد صوبہ پنجاب کا آخری مقام ہے اور یہ نیم پہاڑی علاقہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ جس طرح صوبہ پنجاب کو صوبہ خیبر پختون خواہ سے براستہ سڑک ملانے میں اٹک پُل کی اہمیت ہے اسی طرح دونوں صوبے اٹک خُرد پُل کے ذریعہ سے براستہ ریل ملے ہوئے ہیں۔ پُل سے پیوستہ اٹک خُرد کا ریلوے اسٹیشن ہے۔

    گو کہ یہاں پر کوئی ریل گاڑی نہیں رُکتی لیکن یہ اسٹیشن ایک تفریحی مقام کی حیثیت حاصل کر چُکا ہے۔ ان خاموش پہاڑوں اور انکی گہرائی میں خاموشی سے بہتےہوئے دریائے سندھ میں ریل گاڑی ارتعاش پیدا کرتی ہوئی گزر جاتی ہے۔ اسٹیشن سے متصل پُل اور پھر اسکے بعد ایک سرنگ میں داخل ہوتی ہے۔ سرنگ سے نکلنے کے بعد ایک دفعہ پھر اسکا نظارہ کیا جا سکتا ہے جہاں سے وہ شمالی علاقہ جات کی طرف ایک اور موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اٹک خُرد کا پُل تفریحی حیثیت کے ساتھ ساتھ برطانوی انجنرینگ کے فن کا بھی اعلیٰ شاہکار ہے۔ یہ پُل ـ1883ـ میں تعمیر کیا گیا تھا جسکی مہر آج بھی آویزاں ہے۔ اس پُل کے دو حصے ہیں جن میں سے اوپر والا حصہ ریل اور نیچے والا حصہ سڑک پر مشتمل ہے۔ اٹک خُرد ضلع اٹک کا آخری شمالی خطہ ہے۔ ضلع اٹک کی 6 تحصیلیں اور 72 یونین کونسل ہیں۔ یہ پنجاب کا واحد ضلع ہے جسکے ساتھ سب سے زیادہ اضلاع کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس شہر میں ایک پُر اثرار خوبصورتی نظر آتی ہے جو تاریخ کے طالب علموں کے لئے کسی اثاثے سے کم نہیں۔ صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی اس شہر نے احمد ندیم قاسمی اور ایئر مارشل نور خان جیسے لوگ پیدا کئے ہیں۔ اٹک شہر کا پرانا نام کیمبل پور تھا جو ایک انگریز افسر کے نام پر رکھا گیا۔ لیکن اس سے قبل بھی اس علاقے کو اٹک کہا جاتا تھا۔ بعض تاریخ دانوں کے نزدیک اس علاقے سے دریائے سندھ اٹک اٹک کر گزرتا ہے جسکی نسبت سے اس شہر کا نام اٹک رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی آج کی تحریر کو تمام کرتے ہیں۔ ضلع اٹک کی تاریخ، کلچر، ثقافت اور سیاحت کے بارے میں انتہائی دلچسپ معلومات کا یہ سلسہ جاری رہے گا۔

    .