Tag: بہار

  • سالی دگر ز عمر من و تو به باد شد

    سالی دگر ز عمر من و تو به باد شد

    سالی دگر ز عمر من و تو به باد شد

    سال کے اختتام و آغاز کے تناظر میں ایرانی شاعر محمد تقی بہار کے چند اشعار ، اگرچہ لطف فارسی میں ہے لیکن اردو ترجمہ بھی قابل غور ہے

    سالی دگر ز عمر من و تو به باد شد
    بگذشت هرچه بود، اگر تلخ اگر لذیذ

    بگذشت بر توانگر و درویش هرچه بود
    از عیش و تلخ‌کامی، وز بیم و از امید

    ظالم نبرد سود، که یک سال ظلم کرد
    مظلوم هم بزیست که سالی جفا کشید

    تقویم کهنه‌ایست جهنده جهان که هست
    چندین هزار قرن ز هر جدولش پدید

    هرچند کهنه است‌، به هر سال نو شود
    کهنه ‌بدین نوی به جهان گوش کی شنید

    میری اور آپ کی عمر کا ایک اور سال ضائع گیا، میٹھا یا کڑوا جیسا بھی تھا گزر گیا۔ امیر و غریب جو بھی تھا، عیش و آرام، امید و خوف سب گزرگیا۔ ظالم نے ایک سال ظلم کیا کچھ حاصل نہ کر سکا اور مظلوم بھی سال بھر ظلم سہہ کر زندہ ہے۔ کیلنڈر وہی پرانا ہے دنیا آگے جارہی ہے۔ اس کی ایک ایک گرہ سے ہزار ہا صدیاں برامد ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہ ہے تو بہت قدیم لیکن ہر سال نیا ہوجاتا ہے۔
    دنیا اس پرانے کو نئے ڈھنگ سے کب برتے گی ؟

  • سعید قادری کی نظم “رمضان آ گیا”

    سعید قادری کی نظم "رمضان آ گیا”

    سعید قادری کی نظم "رمضان آ گیا” کا فنی و فکری جائزہ

    سعید قادری اردو زبان کے ممتاز شاعر ہیں آپ کا تعلق صاحبگنج مظفرپور بہار سے ہے، رمضان المبارک کے بابرکت موقع پر آپ نے "رمضان آگیا ہے” کے نام سے ایک بہترین نظم تخلیق کی ہے۔ جیسے ہی رمضان کا بابرکت مہینہ آیا ہے، یہ اپنے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے امید اور روحانی تجدید کا احساس لے کر آتا ہے۔نظم "رمضان آ گیا” کے شاعرانہ اشعار اس مقدس مہینے کے جوہر اور اہمیت کو خوبصورتی سے سمیٹتے ہیں۔
    رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں خود ہمیں غور و فکر کرنے، روزہ رکھنے اور عبادات سے تعلق کا گہرا موقع میسر آتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور الله کی رحمت ان پر نازل ہوتی ہے جو اس کی شدت سے انتظار میں ہوتے ہیں۔ پہلے دس دن رحمت کی مدت کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، اس کے بعد بخشش اور آگ سے خلاصی کے دن ہوتے ہیں۔
    رمضان کی پابندی کا مرکز روزے کا عمل ہے، جو خود الله کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے اور دیگر دنیاوی لذتوں سے پرہیز کرنے کے ذریعے، مسلمان خود نظم و ضبط اور عقیدت کے روحانی سفر کا آغاز کرتے ہیں۔مسلمان اس مہینے میں ہر اس چیز سے پرہیز کرتے ہیں جس سے منع کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ: "روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دونگا”۔ یہ آیت اس اخلاص اور اطاعت کی نشاندہی کرتا ہے جو روزے میں شامل ہے۔
    رمضان المبارک کے دوران قرآن کا نزول خاص اہمیت کا حامل ہے، جو مومنین کے لیے رہنمائی اور ضابطہ اخلاق ہے۔ یہ مہینہ اس کی تعلیمات پر گہرے غور و فکر کرنے اور ایمان اور راستبازی کی رہنمائی میں زندگی گزارنے کے لیے نئے عزم کا مہینہ ہے۔
    سعید قادری کی نظم میں”مشکِ ریّان” کا تذکرہ روزے دار کی تصویر کشی کرتا ہے جس کی سانس مشک کی طرح خوشبودار ہوتی ہے، روزے کے ذریعے حاصل ہونے والی پاکیزگی اور روحانی بلندی کی علامت کو نظم میں ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ نظم اس باطنی تبدیلی کی یاد دہانی ہے جو اس بابرکت مہینے میں ہوتی ہے۔
    پھر بھی رمضان محض بھوکے رہنے کا مہینہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مسلمانوں کے لیے خوشی اور روحانی تکمیل کا بھی مہینہ ہے۔ رمضان کا افطار، جسے افطاری بھی کہا جاتا ہے، اجتماعی جشن کا ایک لمحہ ہوتا ہے اور خالق کی عطا کردہ نعمتوں کے لیے شکرگزاری کا وقت بھی ہے۔ نظم کا یہ شعر "دیکھو تمھاری خاطر مرجان آ گیا” اس بے لوثی اور لگن کی عکاسی کرتا ہے جو عبادت کے اس عمل کو نمایاں کرتا ہے۔
    مزید برآں، رمضان زندگی کی عارضی نوعیت اور روحانی ترقی اور نجات کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت کی یاد دہانی کا کام کرتا ہے۔ یہ معافی مانگنے، ٹوٹے ہوئے رشتوں کو درست کرنے اور ذاتی اور اجتماعی بہتری کے لیے کوشش کرنے کا مہینہ بھی ہے۔


    جیسے جیسے رمضان کا مہینہ آگے بڑھتا ہے، ہر دن اپنے ساتھ خدائی رحمت اور برکتوں کا وعدہ لے کر آتا ہے۔ مومن اور اس کے رب کے درمیان تبادلہ فضل اور دعا میں موجود ہوتا ہے، جیسا کہ اس شعر میں مثال موجود ہے
    رحمت سے بھر لے دامن اب تو سعید اپنا
    ہر سمت فضلِ حق کا فیضان آ گیا ہے”۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ "رمضان آ گیا” رمضان کی روحانی اہمیت اور تبدیلی کی طاقت کی ایک پُرجوش یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ خود شناسی، دعا اور تجدید کا وقت ہے – یہ مہینہ انسانی روح کا روشن خیالی اور الٰہی سے قربت کا سفر بھی ہے۔ جیسے ہی مسلمان اس مقدس میں روزہ رکھ کر آگے بڑھتے ہیں، وہ اپنے ساتھ خدائی رحمت کی امید اور وعدہ لے کر جاتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ان کی کوششوں کا بدلہ دنیا اور آخرت میں کئی گنا زیادہ ملے گا۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے سعید قادری کی نظم ”رمضان آ گیا ہے“ پیش خدمت ہے۔
    *
    ”رمضان آ گیا ہے“
    *
    اہلِ زمیں پہ پھر سے رمضان آ گیا ہے
    جنت کے در کھلے ہیں اعلان آ گیا ہے

    اوّل ہے عشرہ رحمت ثانی ہے مغفرت کا
    بخشش کا لیکے ساماں رمضان آ گیا ہے

    فرمانِ کبریا ہے ” روزہ ہے خاص میرا “
    اس میں ریا نہیں ہے فرمان آ گیا ہے

    اس ماہ میں اتارا قرآن کو خدا نے
    امت کی رہبری کا سامان آ گیا ہے

    ہے مشک سے بھی افضل بوۓ دہن بھی صاٸم
    یوں لگ رہا ہے مشکِ ریّان آ گیا ہے

    افطار کی خوشی بھی رب کی لقا بھی حاصل
    دیکھو تمھاری خاطر مرجان آ گیا ہے

    قرآں تروایح روزہ اس ماہ کا ہے تحفہ
    خالی نہ جاۓ لمحہ مہمان آ گیا ہے

    رحمت سے بھر لے دامن اب تو سعید اپنا
    ہر سمت فضلِ حق کا فیضان آ گیا ہے

    Title Image by Ahmed Sabry from Pixabay

  • تیسرے درجے کے مسافر(تھرڈ کلاس پیسنجرز)

    تیسرے درجے کے مسافر(تھرڈ کلاس پیسنجرز)

    تیسرے درجے کے مسافر

    Third Class Passengers

    تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    یہ لگ بھگ 1956 ء کی بات ہوگی ،  پاکستان کو ظہور پذیر ہوئے ابھی 9 سال ہوئے تھے کہ ہم نے شعور کی آنکھ کھولی اور ارد گرد کے مناظر و اشیاء کو سمجھنا شروع کیا ۔

    اس زمانے میں ، پاکستان کے طول و عرض کے اندر سفر کرنے کا واحد ، سستا اور آسان ذریعہ ریل گاڑی تھی ۔  کوئلے سے چلنے والے کالے انجن کے ساتھ بندھے ہرے رنگ کے خستہ حال ڈبے ( Coaches ) سفری سہولت کے علاوہ ہم بچوں کے لئے تفریح کا سامان بھی مہیاء کرتےتھے ۔ تفریح ان معنوں میں کہ ایک طویل ڈبے میں آمنے سامنے لکڑی کے بینچ لگے ہوئے ہیں ، ماں باپ یا بڑے ان پر بیٹھ کر دیگر مسافروں سے گپ شپ میں مصروف اور ہم بچے کبھی ادھر دوڑ رہے ہیں کبھی ادھر اور کبھی کھڑکیوں کے پاس کھڑے ہوکر باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ۔ ویسے بھی ریل گاڑی جب دوڑ رہی ہو تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ہم باہر کی کھلی فضاء کے پردے پر کوئی فلم دیکھ رہے ہیں ۔ کہیں درختوں کے جھنڈ ، کہیں چھوٹی سی آبادی ، برساتی نالے ، کہیں بھیڑ بکریاں چرانے والے چرواہے ، پہاڑ ، میدان ، دریاء اور جنگل دوڑتے نظر آئینگے ۔ پھر جیسے ہی کوئی خطرناک موڑ یا اسٹیشن قریب آتا تو بھاپ سے چلنے والے کالے انجن سے کوئل سی کوک والی سیٹی کو کو کرکے سنائی دیتی ۔

    تیسرے درجے کے مسافر(تھرڈ کلاس پیسنجرز)
    Image by Nick Stafford from Pixabay

    چلتی گاڑی میں اچانک سے ایک بندہ نمودار ہوتا ۔

    بوتلیں ٹھنڈی بوتلیں بھئی ۔

    وہ جاتا تو دوسرا ,

    چائے گرماگرم

    کی آواز لگاتے ہوئے آجاتا ۔

    Pakistani Train

    ریل گاڑی میں گارڈ اور ڈرائیور کے علاوہ ایک اہم کردار ٹی ٹی کا ہوتا تھا ۔ سفید وردی پہنے ان صاحب کا کام ٹکٹ چیک کرنا ہوتا ہے تاکہ کوئی سواری بغیر ٹکٹ سفر نہ کرسکے ۔ نئی نسل کے علم کے لئے بتاتا چلوں کہ اولیں دور یا 1950 کی دھائی میں ریلوے ملازمین کی اکثریت کا تعلق اردو اسپیکنگ پاکستانیوں سے تھا جو تقسیم کے وقت ہندوستان ریلوے کےملازمین کی حیثیت سے  یو پی ، دلی ، بہار اور دیگر علاقوں سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے ۔ مجھے ابتک یاد ہے کہ ہر ٹی ٹی اور گارڈ کے منہ میں پان کی گلوری ہوا کرتی تھی ۔

    یہاں اس بات کا اعتراف کرنا ضروری ہے کہ یوپی ، دلی ، بہار ، مشرقی پنجاب اور حیدرآباد دکن سے آئے ان ہی مہاجر پاکستانیوں نے پاکستان ریلوے ہی نہیں بلکہ سول بیوروکریسی کی بنیاد رکھ کر اسے آگے بڑھایا ۔ البتہ مسلح افواج کو منظم کرنے اور دنیاء کی بہترین فوج بنانے میں مغربی پنجاب ، صوبہ سرحد اور دیگر علاقوں کے بہادر لوگ کل بھی صف اول میں تھے اور آج بھی اس وطن کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے ۔

    1947 میں بٹوارے کے نتیجے میں جو ریلوے نظام ہمارے حصے میں آیا اس کا نام تھا ،

    نارتھ ویسٹرن ریلوے . گاڑی کے ڈبوں اور انجن پر   NWR  لکھا ہوتا تھا ۔ بعد میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی مناسبت سے ، ہمارے ہاں ، اسے پاکستان ویسٹرن ریلوے کرکے مغربی پاکستان میں مخفف یا مختصر الفاظ میں PWR لکھا جانے لگا اور باالآخر جب مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے تو درمیان سے W نکال کر اسے پاکستان ریلویز یعنی PR کردیا گیا ۔ اللہ اللہ خیر سلا ۔

    اتفاق کی بات ہے مجھے بچپن سے جوانی تک ریل گاڑی میں سفر کے بیشمار مواقع ملے ۔ ریلوے کے نظام کو قریب سے دیکھا ۔ اگر یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ریلوے اپنے اندر ایک دنیا ہے ۔ ویسے تو ہم انگریز کو اچھا نہیں سمجھتے کیونکہ انہوں نے برطانیہ سے آکر ہمیں غلام بنایا اور 150 برس سے بھی زیادہ مدت تک ہم پہ آقا بن کر حکومت کی لیکن اگر ان کے دور میں کوئی اچھے کام بھی ہوئے تو انہیں سراہنے میں کیا حرج ہے ۔ مثلا پاکستان ریلوے کو ہی دیکھ لیجئے ، کسی عجوبے سے کم نہیں ۔ اس زمانے میں جب کاریں تھیں ، نہ ویگنیں ، بسیں تھیں نہ فلائینگ کوچز ، انہوں نے اپنی رعایا کو سفری سہولتیں مہیاء کرنے کی خاطر ، متحدہ ہندوستان کے طول وعرض میں دنیاء کا سب سے بڑا ریلوے نظام قائم کردیا جو آج بھی ہمارے زیر استعمال ہے ۔ یہ الگ بات کہ ہم نے متعدد برانچ لائنوں کی پٹڑیاں اکھاڑ کر کباڑ میں فروخت کردیں اور ریلوے کی زمینوں پر لینڈ مافیا نے قبضہ کرلیا ۔

    لکھنا تو زندگی پر تھا لیکن میں ریلوے کو لے بیٹھا ۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ، میرے خیال سے ، زندگی بھی ریل گاڑی ہی کی طرح کا ایک سفر ہے ۔ مسافر چڑھ رہے ہیں ، اتر رہے ہیں یعنی نئے لوگ دنیا میں آرہے ہیں  ، پرانے جارہے ہیں  لیکن زندگی  ان سب باتوں سے بے نیاز ، اپنی دھن میں مگن ، سیٹیاں بجاتے دوڑے چلی جارہی ہے ۔

    آپ میں سے اکثر نے ریل گاڑی میں سفر کیا ہوگا ۔ انگریز کی بنائی اس گاڑی میں مسافروں کی درجہ بندیاں ہیں ۔ درجہ اول ( First Class ) , درجہ دوم ( Second Class ) , درمیانہ درجہ ( Inter ) اور سب سے زیادہ بوگیوں پر لکھا ہوتا ہے ، درجہ سوئم یا

    تیسرے درجے کے مسافروں کے لئے یعنی

    ( Third Class Passengers ) اور یہی نقطہ / جملہ ،  میرا آج کا موضوع ہے ۔

    عام گفتگو میں اگر کسی کو گھٹیا ثابت کرنا ہو تو ہم اسے تھرڈ کلاس بندہ کہ دیتے ہیں ۔ جو ایک گالی سے کم نہیں لیکن انگریز ریل گاڑی کے 99% بوگیوں پر ہمیں تھرڈ کلاس کے مسافر  لکھ کر چلا گیا اور ہم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ اس جملے کا مطلب کیا ہے ۔ وہ جانتا تھا کہ ہماری اکثریت تھرڈ کلاس سے تعلق رکھتی ہے ۔ ریل گاڑی ہی نہیں بلکہ انہوں نے تو پوری دنیاء کو تین حصوں میں تقسیم کرکے تیسری دنیاء یا تھرڈ ورلڈ کی اصطلاح نکالی اور  نالائق یا پچھڑی ہوئی متعدد قوموں کو تھرڈ کلاس قرار دے دیا ۔ افسوس کی بات یہ کہ ، ایشیاء اور افریقہ میں بسنے والی کئی اقوام ، بڑے فخر سے اپنے آپ کو تیسری دنیا یا تھرڈ ورلڈ کا حصہ سمجھتے ہیں جبکہ انگریز کے نزدیک اس کا مطلب تھرڈ ورلڈ نہیں بلکہ تھرڈ کلاس ( Third Class ) ہے ۔

    ویسے اگر غور کیا جائے تو انگریز کی ایجاد کردہ یہ اصطلاح کم از کم پاکستان کی حد تک صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ 1947 سے لیکر آجتک ہم نے جو گل کھلائے ، جو کارنامے انجام دئے ، ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہم زندگی کا یہ سفر تھرڈ کلاس سوچ کے ساتھ ہی طے کررہے ہیں ۔

    Train

     شاید بہت سارے قارئین کو میری بات بری لگے لیکن حقیقت یہی ہے ۔

    ہم سے بعد میں آزاد ہونیوالے ممالک بالخصوص چین ، اسرائیل ، کوریا ، بنگلہ دیش وغیرہ ہر میدان میں ہم سے آگے نکل چکے لیکن ہم ابھی تک بھکاریوں کی طرح کشکول ہاتھ میں لئے کبھی آئی ایم ایف اور کبھی شیخوں کے دروازے پر صدا لگاتے پھر رہے ہیں ۔

    اللہ کے نام پر سوال ہے بابا ۔

    دے جا سخیا نام ِمولا ۔

    آپ کے خیال سے اول درجے کی سوچ کا کوئی بندہ یا قوم  ایسی حرکتیں کرتی ہے ۔ کبھی نہیں ۔ انگریز نے ہماری نفسیات پڑھی اور  آج سے اڑھائی سو سال قبل ہمیں تیسرے درجے کے مسافر یعنی

    ( Third Class Passengers)

    لکھ کر چلا گیا ۔

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    مسقط، سلطنت عمان