بلاشُبہ مقبول ذکی مقبول اِسمِ بَامُسمٰی شخصیت ہیں ۔ حقیقتاً صحرائے تھل وسیب منکیرہ ( بھکر ) میں اپنے پُر خلوص جذبوں ، علم و ادبی لگاوٹ سے علم و ادب کے دیپ جلائے ہوئے ہیں ۔ جو صحرائے تھل وسیب میں کنول کے پھول کی مانند ہیں ، بقولِ شاعر :
یہ کہاں ضروری ہے ، چراغ ہو روشن اِک دیئے کا جلنا بھی موت ہے اندھیرے کی
راقم آثم حقیر فقیر کا تعارف بھی مقبول ذکی مقبول سے ادبی محافل میں ہوا تھا یہ بات غالباً 2018ء کی ہے ، یوں سلسلہِ رفاقت جاری و ساری ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی پیدائش یکم جنوری 1977ء کنال کالونی کواٹر ضلع لیّہ شہر میں ہوئی تھی ۔ آپ کے والد اقبال حُسین ( مرحوم ) جو اِن دِنوں محکمہ کنال لیّہ میں ملازمت کرتے تھے ۔ آپ کو علم و ادب سے لگاؤ بچپن سے ہی ہے ۔ رثائی شاعری سے لگاوٹ و اُنسیت قابلِ داد ہے ۔ ادبی و علمی ذوق جنونی ایمانی حد تک ہے ۔ آپ 2005ء سے باقاعدہ طور پر شاعری میں طبع آزمائی فرمارہے ہیں ۔ ضلع بھکر کے کہنہ مُشق ُبزرگ شاعر اُستاذ نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے شاعری میں اصلاح لیتے ہیں ، ایک مرتبہ ان کے درِ اقدس پر شرفِ ُملاقات بھی مقبول ذکی مقبول کی وساطت سے ہوئی ۔ مقبول ذکی سرائیکی ، اُردُو اور پنجابی زبان میں طبع آزمائی کرتے ہیں ۔ آپ کے کلام میں سادہ بیانی ، عمدہ منظر نگاری ، وارداتِ قلبی ، انتہائی متحرک پہلو ہیں صحت ، سچے خیالات ، بے پناہ عقیدت مندی کا اظہار واضح جھلکتا ہے ۔میدانِ نثر میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔ غالباً 2018ء میں مقبول کے توسط سے زاہد اقبال بھیل کی بھیل سنگت کی طرف سے راقم آثم کی علمی الو ادبی و تاریخی خدمات کے ضمن میں دستار بندی کی گئی تھی ، ذکی سے وہ بڑی حسین یادگار لمبی نشست رہی ، پروگرام ہمارے فقیر خانے لیّہ والدِ بزرگوار محقق و مورخ تاریخ لیّہ و سندھ حکیم فقیر میاں الہٰی بخش سرائی لیکھی مغفور پر ہوا جس میں ، شاعر و ادیب پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی ) آپ کا پسرِ رشید ، پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین ، شمشاد سرائی ، شیخ اقبال حسین دانش ، نعمان اشتیاق ، احتشام عباس مہار ، اور دیگر دوستوں نے شمولیت کی تھی ۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں ، آپ کی پہلی کتاب ٫٫ سجدہ ،، 21 مئی 2017ء میں 172 صحفات پر مبنی ، آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیّہ ) سے شائع کی تھی ۔ جو سرائیکی زبان میں رثائی ادب پر مشتمل ہے ۔جس میں ساری رثائی شاعری ہے ۔ آپ کی دوسری کتاب اُردو میں ٫٫ مُنتہائے فِکر ،، جو 7 اگست 2020ء میں آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیّہ ) سے شائع ہوئی ، اس کتاب میں نہایت شاندار اُردُو شاعری پڑھنے کو ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ یکے بعد دیگرے بھی چند شاہکار زیورِ طبع سے آراستہ ہوئے جن کی تعداد گیارہ ہے ۔
ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) 370 صحفات پر مشتمل آپ پر نئی تالیف ۔ شائع ہو کر علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے ۔ راقم آثم ضمناً یہاں عرض کرتا ہے کہ ملک دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کی کتاب ٫٫ تاریخِ ریاستِ منکیرہ ،، پڑھنے کو مُرشد سید حسن رضا کاظمی مغفور رح دری پاک جمن شاہ لیّہ والوں کو دی تھی ، جس پر آپ نے کافی نادر خواہش فرمائی تھی اور مصنّف کو ِملنے کی خواہش ظاہر کی ۔ یہ بات ہے غالباً 2017 ء کی ۔ راقم آثم فقیر نے ست بسم اللّٰہ کی اور سید حسن رضا کاظمی مغفور رح کی معیت میں جن میں سید عزادار حسین کاظمی ، کوٹلہ حاجی شاہ لیّہ ، چند احباب کے نام یاد نہیں حافظہ سے محو ہو گئے ، نوجوان گردیزی اور آپ کا ملازم صفدر حسین بڈا کاظمی چوک لیّہ والے بمعہ خیمے و دیگر سامان قلعہ منکیرہ پر پہنچ گئے ۔ رات وہی تاریخی قلعہ منکیرہ پر بسر کی قلعہ پر اولیاء اللّٰہ ، حضرت سید نور قلندر رح کا مقبرہ ہے اور آپ کی اُولاد وہاں آج بھی آباد ہے اُنہی کے فقیری مَچ پر رات بسری کی ، جو سید حسن رضا کاظمی کے عقیدت مندوں سے تھے ۔ صُبح ملک دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کے گھر ملنے گئے آپ کافی ضعیف ہوچکے تھے لیکن کافی نیاز مندی و عقیدت سے پیش آئیں ، آپ کا چھوٹا بیٹا محمد اسحٰق ملا ،جو نوئے کی دہائی میں لیّہ ہمارے فقیر خانے والدِ بزرگوار پر رہتا رہا اور ٹیکنکل کالج میں پڑھتا رہا تھا ۔ بڑا بیٹا شاعر و ادیب اُستاذ اشفاق حسین شجر نہ مل سکا ، ملک دوست محمد کھوکھر جب 1988ء میں کتاب تاریخِ ریاستِ منکیرہ لکھ رہیے تھے تب میرے والد محقق ، مُورخ ، اِدیب ، نقاد ، بزرگوار فقیر میاں الہٰی بخش سرائی لیکھی مغفور رح کو ملنے آتے تھے تب بھی مُلاقاتیں رہتی تھیں ۔ دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کے گھر سے ہم سب قلعہ منکیرہ پر قبلہء سید حسن رضا کاظمی مغفور جمن شاہ والوں کی گاڑی میں پاکستان کے تاریخی قلعہ منکیرہ پر جا پہنچے وہاں کافی گفتگو ہوئی شاہ جی کا خیال تھا کے ٫٫ من و سلوی ،، اسی قوم پر گرتا تھا یہی بنی اسرائیل ہے ۔ ملک دوست محمد کا خیال ان کے برعکس تھا ۔ قلعے منکیرہ میں ایک کنواں آج بھی موجود ہے کہاں جاتا ہے کہ درجن سے زائد کنویں قلعے منکیرے کے باہر اور اندر موجود تھے جو اب ختم ہو گئے ہیں ، قلعہ کی شروع داخلی جانب مشرقی جانب ایک مندر مہابیر کا کتبہ دروازہ پر آج بھی نصب ہے ، اور شمالی سَمت مسجد مہابت خان موجود ہے جس کے ایک مینار کو راجہ رنجیت سنگھ نے لوہے کے گولے سے شہید کیا تھا وہ گولہ کہا جاتا ہے کے تھانہ منکیرہ میں موجود ہے ۔ اب تو مسجد ضعیف ہونے کی وجہ سے اس کو شہید کردیا ہے اور بقولِ مقبول ذکی کہ اب وہاں نئی مسجد تعمیر کردی گئی ہے ، ویسے قلعہ میں چھوٹے ، بڑے کئی کنکریٹ کے پختہ گولے بکھرے پڑے ہیں راقم ایک ، دو گولہ وہاں سے تھل میوزیم کے لئے لے آیا چھوٹے گولے کا وزن پانچ کلو سے زائد ہے اور بڑے گولے کا وزن چھبیس ، 26 کلو سے زائد ہے جو راجہ رنجیت سنگھ نے منجنیق توپ سے مارے تھے ، جنوبی سمت نواب سر بلند خان کی چار دیواری میں قبر موجود ہے جس میں اور بھی چند قبور ہیں اور قلعہ کے بیرونی جانب قبرستان اور اسٹیڈیم ہے یہ قلعہ نواب سر بلند خان نے 1704ء کو بنوایا تھا ، پاکستان کے معروف قلعوں میں آج بھی اس کا نام آتا ہے ، کہا جاتا ہے کے انگریزوں نے اس مضبوط قلعے کی خوبصورتی کو ماند کیا قلعے منکیرے کہ بیرونی پتلی ، نانک شاہی اینٹیں اکھاڑ کر سڑکیں بنوا دی قلعے میں آج بھی وسیب کے مشہور درخت پیلوں (جال) اور کھگل موجود ہیں ، قلعے منکیرے کی مٹی کلر زدہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کتاب ٫٫ یہ میرا بھکر ،، کا ایک شعر یاد آگیا ہے جو قلعہ منکیرہ کے متعلق ہے ، ملاحظہ فرمائیں
قلعہ ایک جس میں آج بھی ہے تاریخی ہے شہر ترا مقبول ذکی
آخر پر یہی دُعائے فقیر حقیر ہے کہ مالکِ کائنات بحقِ چہاردہ معصومین علیہ السّلام کے زوار مقبول ذکی مقبول کے رزقِ علم و حلم میں برکت و وسعت و عظمت و رفعتِ دوام عطاء فرمائے ! تاکہ یہ صحرائے تھل کا دیپ سدا ٹمٹماتا رہے آمین ثم آمین !
کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )
تحقیق و تحریر :
سیدزادہ سخاوت بخاری
آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔
اسی طرح ، اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ، لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔ دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ” نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔ جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔
یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ، قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت پیدا کرتی ہیں ۔
کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ، داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔
یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔
اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔
یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،
مثلا ،
چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )
روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے
حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )
والوں نے ” نجاشی ” کہا
ایران میں ” کسری ” ( کسرا )
اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے
سلطنت عمان میں ” سلطان "
سعودی عرب میں ” ملک "
متحدہ عرب امارات میں ” امیر "
ھندوستان میں ” شہنشاہ "
برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔
پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔
بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،
آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔
چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام مصر پڑا ۔
الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون " بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔ آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔ وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء ) کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے
اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔
قارئین
یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ السلام نے وزارت کا عہدہ ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور یوں حضرت یعقوب علیہ السلام ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی مدد ، راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔
موسی علیہ السلام کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ
بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔
یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ، فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون علیہ السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔
جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔
جب حضرت موسی علیہ السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی علیہ السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔
اور جب حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔
فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے