Tag: بسمل

  • سلطان محمود بسملؔ کی ساغر سم

    سلطان محمود بسملؔ کی ساغر سم

    سلطان محمود بسملؔ کی ساغر سم

    ساغرِ سم سلطان محمودبسمل کی غزلیات کامجموعہ ہے۔ غزل اپنی ہیئت میں مختصر گوئی کاایسافن ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ اہمیت اور مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ جدیدسائنسی ایجادات کی وجہ سے فاصلے سکڑ رہے ہیں۔ نت نئی حقیقتوں میں شب وروز اضافہ ہورہا ہے اور ان کے اظہار کے لیے جس موزوں ذریعہ کی ضرورت ہوسکتی ہے، وہ غزل ہی کاسانچہ ہے جس کاکینوس اس قدروسعت حاصل کرچکا ہے کہ حسن وعشق کے لطیف جذبات واحساسات سے لے کرسیاسی اورنفسیاتی الجھنوں تک کے نئے نئے پہلوغزل کے اشعارمیںبڑی خوب صورتی سے ڈھل جاتے ہیں اور انسانی ذہن کے لیے مستقل جمالیاتی حظ کاذریعہ بنتے ہیں۔ جدیددور کے انسان کی ازحد مصروف زندگی میں اب پہلے جیسی طویل نثری وشعری تحریریں پڑھنے کے لیے فرصت کم سے کم ہوتی جاتی ہے مگر اس کم فرصتی کے باوجوداُردوغزل اپنی جاذبیت کوپوری طرح قائم رکھے ہوئے ہے۔

    سلطان محمود بسملؔ کی ساغر سم


    سردارسلطان محمودبسمل نے بھی غزل ہی کواظہار کے لیے موزوں خیال کیا ہے اور وہ ایسے دورمیں غزل کہہ رہے ہیں جس میںشعری ادب کی ہرروایت کوناقابلِ برداشت بوجھ سمجھ کرسرسے اتارپھینکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ دور کے لکھاری کوشاید اس بات کاابھی کوئی احساس نہیں کہ ماضی سے کٹ کراسے کیانقصان اُٹھاناپڑے گا۔ بہرحال وہ اپنے جدیدتخلیقی رویے سے کئی خوب صورت الفاظ مسحورکن MYTHSٹکسالی تراکیب اور لطیف علامات سے محروم ہوچکا ہے۔ نئے موضوعات کے ساتھ ساتھ نئے الفاظ اورتراکیب کی بھرمارسے شعری ادب اپنی فطری ملائمت اور روانی کھوکراجنبی راہوں میں خاک بسر راہی دکھائی دینے لگا ہے۔ کوئی مابعدادبی روایت اگر تخلیقی اذہان کے لیے مسموم فضا پیدا کرتی ہے تو قلم برداشتہ جدت طرازی بھی بھونڈے تجرباتی رویے کوجنم دیتی ہے جس طرح بہتے پانی میں عکس دھندلے اورنقش بگڑے ہوئے نظرآتے ہیں۔ خشک تجرباتی فضا بھی زندگی کے لطیف جمالیاتی پہلوؤں کواپنے اصلی رنگوں میں پیش نہیں کرپاتی جس سے قاری اورقلمکار کے درمیان رابطے کی فضا فاصلوں میں بدل کر دھندلانے لگتی ہے۔


    مگرسردارسلطان محمودبسمل نہ توکسی ادبی روایت کی غلامانہ پابندی کے قائل ہیں اورنہ مجرد جدیدیت کاسہارا لے کرشعرکہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل کے اشعارعام طورپر واضح رنگوں اورتھرکتی روشنیوں کاعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی غزل عام فہم اورہرقسم کے ابہام سے پاک ہے۔
    بسمل اپنے قاری کوکسی قسم کے امتحان میں نہیں ڈالتے۔ اُن کے شعری مطالب الفاظ کی فطری سطح پرلکھے صاف پڑھے جاتے ہیں ۔تہہ میں کہیں کچلے یا مسلے ہوئے نہیں ملتے۔سردار سلطان محمودبسمل نہ توکانوں سے دیکھنے کاکام لیتے ہیں اور نہ کبھی آنکھوں سے سونگھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامت درعلامت الجھاؤ ان کی شاعرانہ طبیعت کے خلاف ہے۔وہ برملابات کہنے کے عادی ہیں اوریہی رویہ ان کی غزل میں نکھر کرسامنے آتاہے۔ سردار سلطان محمودبسمل آج تک کی اُردوغزل کی توانا روایت کاپورا احساس رکھتے ہیں اورجدید غزل کے شعری رجحانات سے بھی ناآشنا نہیں۔


    پروفیسرنجمی صدیقی
    ۲۔سہام راولپنڈی

    مآخذ:

    کلیات بسملؔ ص 37،38
    جمالیات پبلشرز ۔اٹک پاکستان

  • دستورِ کائنات بدلنے بھی دیجیے

    دستورِ کائنات بدلنے بھی دیجیے

    نخلِ وفا کو پھولنے پھلنے بھی دیجیے
    دل میرا جل اُٹھا ہے تو جلنے بھی دیجیے

    پھر چار سُو فضا میں ہے تاریکیوں کاراج
    دستورِ کائنات بدلنے بھی دیجیے

    لینے کو گلستاں میں ہے اک صبحِ نو جنم
    اس کربناک رات کو ڈھلنے بھی دیجیے

    طے کی ہیں کتنی منزلیں میدانِ حشر تک
    ربِ کریم!مجھ کو سنبھلنے بھی دیجیے

    گزری اُمیدِ وصل میں بسملؔ تمام عمر
    دل سے خیالِ دوست نکلنے بھی دیجیے

    سردار سلطان محمود بسملؔ

  • سلطان محمودبسمل کی شاعری کاتناظر

    سلطان محمودبسمل کی شاعری انسانی اعتقاد سے تعلق رکھتی ہے۔ انھوں نے ایک انسان اور ایک فنکارکی حیثیت سے روحانی عناصر اور زندگی کے سیال مدارج طے کیے ہیں،چنانچہ اُن کی شاعری کاتناظر ایک مثالی تصور ہے جسے عام قاری بھی آسانی سے اپنی ذہنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ بنیادی طورپر سلطان محمودبسمل ’’انا‘‘ اور عالمِ مثال کاوسیع دائرہ رکھتے ہیں جس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے دائرے وسیع حلقہ کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پس منظر میں ایک منفردپیکراپنے قول وافکار پر قائم مضطرب شخصیت دکھائی دیتاہے۔ یہ مضطرب شخصیت خودسلطان محمودبسمل کی ہے جس نے فطری ہیجان کی روشنی میں، کبھی اشاروں، کبھی کنایوں میں وہ باتیں کہی ہیں جنھیں محض خیال پرست شاعر زبان پرلانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اس اعتبارسے سلطان محمودبسمل کسی تحریک سے الگ، کسی فکری تناظر سے مختلف اپنے افکار کوذہنی سچائی کے تحت بیان کرنے اوراُس پر قائم رہنے کی قوت رکھتے ہیں۔ یہی سچائی انھیں اپنے عہدکے بہت سے شعرا سے ممتازکرتی ہے۔
    جب کوئی انسان احساسِ ذمہ داری کے ساتھ زندگی بسرکرتا ہے تواس کے ذہن میں ایک آدرش بھی جنم لیتا ہے۔ یہ آدرش بعض اوقات مشترک تصورات اور عصری مماثلتوں کی بناپر پیداہوتا ہے مگرجب کسی ذمہ دار ذہن کے بطون میں ایک واضح نقطہ نظر پیدا ہوجائے تووہ زندگی بھراسی پرقائم رہتا ہے اوراسی کی سمت اپنافکری سفر کرتاہے۔ چنانچہ سلطان محمودبسمل نے بھی سچائی کی وضاحت کے لیے ایک اندازِ نظر کوقبول کیاہے اور وہ ہے سماج کے عناصرکی سچائی کی جھلک دکھانا اور سچے جذبات کی ترجمانی کرنا۔ سلطان محمودبسمل اس لحاظ سے محبت، وقار اور صداقت کاہم نوا ہے اور یہ ہمنوائی انھیں اُن عصری تحریکات کے بہت قریب لے جاتی ہے کہ جن کامطمع نظر فرد کی انا کاتحفظ اور انسانیت کی بقا کی ضمانت دیتاہے۔
    ہماراموجودہ عصری زمانہ شدتِ احساس کورہنمابناکرزندگی کاسفرطے کررہا ہے لیکن منزل تک اُن کی رسائی اس لیے معدوم رہتی ہے کہ عصرِ جدید نے اپنی عنان اپنے ہاتھوں میں نہیں رکھی بلکہ دوسروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ لہٰذافرد کی بجائے جماعت اور جماعت کی بجائے ایک مخصوص گروہ ایک سانچے میں ڈھل کرعصرِجدید کی ترجمانی کرتارہا ہے۔ میں نہیں کہہ سکتاکہ سلطان محمودبسمل نے شعرکہتے وقت یہ بات شعوری طورپر اپنے ذہن میں بسارکھی تھی کہ انھوںنے فرد کی انفرادیت کے پیشِ نظر نہ صرف نظریات کاطلسم توڑنے کی کوشش کی ہے بلکہ اپنے عہد کی اس ذہنیت کو بھی نشانہ بنایا ہے جس نے صداقتوں کامنہ چڑایا اورجھوٹ کوروارکھ کر بے اطمینانی اور غیرآسودگی کوپروان چڑھایا ہے۔ سلطان محمودبسمل نے اس ذہنیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں کی اورنہ ہی حقارت کی نظرڈال کراُس سے نفرت کی ہے بلکہ زندگی کے وسیع تجربے کی روشنی میں ایسے ذہنوں کومدبرانہ پیغام دیا ہے کہ کسی آدرش کے بغیر زندہ رہنازندگی کے ساتھ فریب کرنا ہے چنانچہ یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے کہ سلطان محمودبسمل کیوں شعوری طورپر ایسارویہ اوراسلوب اختیارکرتے ہیں۔

    Sultan Mehmood Bismil


    سلطان محمودبسمل زندگی کے تناظر میں اورایک طویل عمربسر کرنے اورادب کی تحریکات کو پرکھنے کے بعداس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بیمارداخلیت اور اندھی مقصدیت انسانیت کی کوئی خدمت نہیں کرسکتی۔ آج انسان کاشعوری میلان ابہام اور سستی رومانیت کے خلاف کھُل کراظہار کی قوت ہے لیکن ہمارے بیشترشاعر، شاعری کوگورکھ دھندااور معمہ بنانے پرتلے ہوئے ہیں لہٰذاشعرمیں سچائی کاعنصر غائب ہوتاجارہاہے اور ایک عجیب قسم کامصنوعی پن شعر کے داخلی اور خارجی پیکر کومتاثرکرتا ہوادکھائی دیتاہے۔
    سلطان محمودبسمل کی شاعری، عصرِ جدید کے مصنوعی پن کے خلاف سیدھی سادی انسانی معروضیت اور سچے جذبات کی شاعری ہے جس میں احساسِ نوعیت کے اعتبارسے اورفکر انفرادی تجربے کی روشنی میں شاعری کے موجودہ رویے سے بہت حدتک مختلف ہے بلکہ یہ کہاجائے تو بے جانہ ہوگاکہ سلطان محمودبسمل نے حقائق سے بے نیاز ہوکرشعرنہیں کہے اور اپنے عہدکی سیاسی اورسماجی تحریکات کوبڑی خاموشی سے دیکھااور اُن کاجائزہ لیاہے۔ چنانچہ ان کی شاعری کوسماجی عناصر سے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتااورتجرباتی اعتبار سے یہ کہنا بالکل موزوں ہے کہ بسمل کی شاعری بیدارذہن اور تنومندجذبے کی شاعری ہے۔
    سلطان محمودبسمل کے بہت سے اشعار فردوسِ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ نئے سائنسی تصورات کے برعکس خالص انسانی معاشرے اورذہنی رشتے سے وابستہ ہیں۔ انسانی معاشرہ خوف، عدم تحفظ میں مبتلا اور مستقبل سے مایوس دکھائی دیتاہے لہٰذا بے چینی، بے چہرگی اور زندگی سے اکتاہٹ ایک بغاوت کی شکل اختیار کررہی ہے جبکہ محبت، صداقت اور آدرش کے حصول کے لیے بے شمار رکاوٹیں اورناکامیاں موجود ہیں لیکن ان رکاوٹوں کی نشاندہی اورناکامیوں کاتجزیہ صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کاذہن اخلاقیات اور سماجی آسودگی کے تصورسے آشنا ہو۔ اس صورتِ حال سے سلطان محمودبسمل بخوبی واقف ہیں۔ اس لیے انھوں نے شاعری میں نہ تو بغاوت کامژدہ سنایاہے اورنہ ہی سستی رومانیت کاپیغام دیا ہے بلکہ انھوںنے زندگی کے موجودہ رویے پرتبصرہ کرتے ہوئے قلندرانہ اورمردانہ لہجے میں بات کی ہے ۔میرے نزدیک اُن کی شاعری کایہ واصف انھیں زندگی، انسان اورکائنات کے وسیع دامن میں لے جاتاہے۔ جہاں صداقت کی صداصاف سنائی دے رہی ہے:

    کوئی تو ہو جسے سچ بولنے کایارا ہو
    کہ اب تو جھوٹ کے پرچم اُٹھائے جاتے ہیں

    ایسا کانٹا چبھا ہے پاؤں میں
    چلنا مشکل ہوا ہے گاؤں میں

    کوئی آندھی پھر آنے والی ہے
    شور کتنا ہے پھر ہواؤں میں

    مال کیا کیا بٹا غنیمت کا
    اونچی اونچی محل سراؤں میں

    پہلے دھرتی کے روگ ختم کرو
    پھر بسیرا کرو خلاؤں میں

    سرِبازار جو بے ساختہ حق بات کہتے ہیں
    فقیہہ حیلہ جو سے ایسے دیوانے ہی اچھے ہیں

    یہ عادی ہوگئی ہیں آدمی کا خون پینے کی
    اب ان آباد سڑکوں سے تو ویرانے ہی اچھے ہیں

    تاک میں صیاد بیٹھا ہے نشانہ باندھ کر
    اہلِ گلشن سوئے دیوار گلستاں دیکھنا

    آندھیوں کی زد میں ہے پھر یہ چمن
    کچھ تمھیں اس کی خبر ہے دوستو!

    بڑھی جاتی ہے پھر تاریکیِ شب
    کوئی جگنو نظر آتا نہیں ہے

    کسی گھڑے کا نشاں ہے نہ کوئی سوہنی ہے
    ہر ایک سمت یہاں پانیوں کا ڈیرہ ہے

    سچ بولنے کایارا،گاؤں میں چلنے کی دشواری،کسی آندھی کی خبر، مال غنیمت کااونچے محل سراؤں میںتقسیم ہونا، دھرتی کے لوگ فقیہہ حیلہ جوپرطنز، آبادسڑکوں کے عفریت، چمن سے بے نیازی، روشنی کی تلاش اور بنے بنائے راستوں سے ہٹ کر چلنے کی خواہش، یہ سب خیالات خلوص اور سچائی سے عبارت ہیں۔ ان میں گہراکرب اور زندگی کا دکھ موجود ہے ،میرے نزدیک سماجی شعوراور زندگی کاایک واضح تصور ان اشعارسے مترشح ہوتاہے جسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیاجاسکتاکیونکہ یہ سچے جذبات سلطان محمودبسمل کے انفرادی آدرش سے تعلق رکھتے ہیں لیکن یہ اُن کے معاشرے کے اجتماعی تصورات کاعکس بھی ہیں۔ لہٰذاسلطان محمودبسمل سچائی کاعلم اٹھاکرزندگی کے کارزار میںشریک ہونا چاہتے ہیں۔ یہ اُن کی سچی آرزو ہے اورگرمی اور صداقت کی نموبھی۔
    سلطان محمودبسمل کی شاعری گہرے سماجی شعور کی بناپرتاریخ کاایک بنیادی عنصر بھی بنتاہے۔ وہ کبھی سماج کے غیرذمہ دارانہ رویے اورذاتی تصورکی بنیاد پرزندگی کی الجھنوں اور مسرتوں کی بات بھی کرتے ہیں،چنانچہ پختہ شعور کے تحت ان کازمینی رشتہ بھی پائیدار اور اہم دکھائی دیتاہے مثلاً یہ اشعارگھر کی علامت کے تناظر میں پاکستان کاوسیع دائرہ بناتے ہیں:


    دست و بازو ہیں مرے، بچے مرے
    اپنی بے پایاں مجھے طاقت لگے

    ڈھلا جو بخت کا سورج تو یہ ہوا معلوم
    وفا شعار تھے اس کے تمام ہرجائی

    خلاؤں میں وہ پھٹ جائیں گے آخر
    غبارے تم نے جو چھوڑے ہوئے ہیں

    مقتل سجائے جاتے ہیں عشاق کے لیے
    مصلوب ہو رہی ہیں ابھی تک محبتیں

    میرے دکھیا دل کے اندر جھانکو تواک بار کبھی
    بھید کھلیں گے تم پرکیا کیا ماضی کے اس مدفن میں

    جنھیں اپنے اثاثوں کی پڑی ہے
    انھیں کہہ دو قضا سر پر کھڑی ہے

    غم کے زمانے بیت گئے ہیں خوشیوں کی رُت آئی ہے
    روز اخباروں میں ایسی تقریریں پڑھتارہتا ہوں

    ان اشعار میں’’گھر‘‘ کے واقعات میںحقیقت نگاری کے ساتھ ایک شدید کرب موجود ہے اورذمہ دارانہ طرزِ احساس ،بلکہ پاکستانیت کی کائنات بھی کہ جس میں سلطان محمودبسمل وسیع تجربوں کے ساتھ زندہ ہیں۔
    سلطان محمودبسمل کاوالہانہ بیان صداقت اظہار سے ہم آہنگ ہے۔ اس اظہار سے انھیں مسرت ملتی ہے۔ انھوں نے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت میں موضوع، حسن اور اظہار کوفن کی آماجگاہ بنایا ہے۔ یہ فنی حیثیت بھی بعض علاقاں سے صورت پذیر ہوتی ہے چنانچہ ان کی تمام شاعری میں ذمہ دارانہ کیفیت موجود ہے جسے اہلِ دل اور اہلِ نظر خصوصی طور پرمحسوس کریں گے بلکہ وہ لوگ بھی جنھیں رومان پرستی اورموضوع کی سیاسی اور سماجی حالت بہت عزیز ہے۔
    ہماری شاعری کاموجودہ عہدبہت سے تجربات کاوارث ہے مگرایک نامحسوس انقلاب بھی دکھائی دے رہا ہے اور یہی ہمارے ذہنی اورشعوری سوالات کامثبت جواب بھی ہے،چنانچہ زندگی کے حقیقی تقاضے اور انفرادیت کااجتماعی پہلوانسانی تصور پرستی کے لیے اُکسارہا ہے۔ سلطان محمودبسمل نے اس عنصرکوفنی اعتبارسے کرب کی صورت دی جو شعری پیکرمیں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے بعض شعراء نے غم، موت اور دکھ کواس طرح پیش کیاہے کہ پوری شاعری کی کیفیت ’’مرثیے‘‘ کی سن بن گئی ہے مگر سلطان محمودبسمل نے اظہار، رنگ اور اسلوب میں ایک عجیب ساٹھہراؤ پیداکرکے اُردوغزل کوایک نئے ذائقے سے آشناکیا ہے۔ اس بات کی گواہی درج ذیل اشعارکے مطالعے سے بخوبی ہوجاتی ہے:

    بکنے لگا ہے پھر کوئی یوسف ستم زدہ
    سجنے لگا ہے مصر کا بازار دیکھنا

    جینا شبِ تاریک میںآساں تو نہیں ہے
    کچھ اس کا مداوا دلِ بیمار کرے گا

    اظہارِ حقیقت نہ ہوا آپ سے واعظ
    یہ کام تو ہم سا کوئی مے خوار کرے گا

    دیکھو تو ہے ایک پھول دنیا
    سمجھو تو کھٹکتا خار بھی ہے

    معصوم شگوفوں کا لہو چھپ نہیں سکتا
    کیوں ہاتھوں کو اب رنگِ حنا دینے لگے ہو

    سفینے ڈوب جاتے ہیں کبھی ساحل تلک آکر
    کبھی بپھری ہوئی موجوں سے بھی ساحل اُبھرتا ہے

    ان اشعارکے ساتھ ایک غزل ایسی بھی ہے جس کی فنی ابتدا باقی صدیقی نے کی تھی لیکن سلطان محمودبسمل نے چھوٹی سے چھوٹی بحرکاتجربہ کچھ اس طرح کیا ہے کہ ان کی پوری غزل میں باقی کے رنگ اور اسلوب کی پرچھائیں موجود نہیں بلکہ یہ کہہ کرانھوںنے ایک اعتراف بھی کیاہے:

    بیتے ہوئے دن کتنے رنگیں
    جرمِ محبت کتنا سنگیں


    ادبی روایت کی پیروی میں ایک خلاق ذہن اپنی راہیں خودتراش سکتاہے اور نئی روایات کوجنم دے سکتا ہے۔ سلطان محمودبسمل کی شاعری کی بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوںنے چھوٹی چھوٹی خوشیوں اوربڑے بڑے دکھوں کوگفتگو کے انداز میں بیان کیا ہے۔ اس سے ان کی وسعتِ نظر اور شعورکی گہرائی کااندازہ ہوتاہے بلکہ غیرجذباتی طورپروطن کے بارے میں سوچنے اور دکھوں سے رہائی حاصل کرنے کاپتہ بھی چلتاہے۔ اُردو شاعری میں یہ انداز شخصی سطح پر بہت سے شعراکے ہاں موجود ہے لیکن علامتوں کی عمومیت اورغیر مبہم گفتگو کااندازسلطان محمودبسمل کی اپنی فکری صلاحیت ہے۔
    سلطان محمودبسمل کی شاعری تصورات کی آئینہ داری اورحساس ذہن کی نمائندگی کرتی ہے۔ انھوںنے حقیقی سماجی شعور کوحسن کاری کاپیکربخش دیا ہے اوریہ عنصر ان کی شاعری کاتوانااورجاندارپہلوہے۔ اسی سے شعریت اور فکرکاامتزاج پیداہوتا ہے بلکہ انسان اورکائنات سے محبت کے رجحان کو فروغ ملتاہے۔ سلطان محمودبسمل اس اعتبارسے اپنے زمانے کے رجحانات کے شاعر ہیں اور جب رجحانMYTH کی طرف سفر کاآغاز کردے اور شاعری ادبی قدروقیمت کی آواز بن جائے تواہلِ نظر اسی سے سماجی تاریخ اور تخلیقی آگہی کااندازہ لگاسکتے ہیں۔

    مآخذ:

    ساغر سم

    تحریر : رشیدنثار

  • خد و خال

    خد و خال

                                                    گورنمنٹ کالج کیمبل پور جس کواب گورنمنٹ کالج اٹک کہاجاتا ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے بعدغالباًپنجاب کاسب سے پراناکالج ہے۔ روایت ہے کہ انتخابات جیتنے کی خوشی میں جب سرسکندرحیات مرحوم نے اپنے ضلع کوکوئی انعام دیناچاہا توکوئی بھلا وقت تھااورکسی بھلے آدمی کے منہ سے بات نکل گئی کہ یہاں کالج بنادیاجائے اور پھرکالج بن گیا۔ اس کالج کے عملے میں بڑے بڑے نامی پرنسپل اور پروفیسررہے۔ جہانگیر، اشفاق علی خان، ایف اے قریشی،کمانڈرظہوراحمد،ڈاکٹرغلام جیلانی برق، پروفیسرمحمدعثمان، شریف کنجاہی اور منیراحمدشیخ۔ کہتے ہیں جہاں سے سیلاب گزرجائے، زمین بہت زرخیز ہوجاتی ہے۔ زمین تواس ضلع کی ہمیشہ سے زرخیزرہی ہے مگربارانی ہے، بارش برسے توہریالی چھتوں اور دیوراں پر بھی اُگ آتی ہے۔ مذکورہ اساتذہ کے فیضِ تربیت سے یوں توہر میدان میں جوہرِ قابل سامنے آتے رہے، لیکن فوج اور ادب میں ’’کیمبل پور سکول آف تھاٹ‘‘ خاص طور سے نمایاں رہا۔ جہاں جنرل اختر اور جنرل علی سرفراز اور جنرل اقبال کے علاوہ ایرمارشل نورخان، انورشمیم اورکرامت رحمن نیازی کے حوالے سے کیمبل پور نے زمین،ہوا اور پانیوں پر پاکستان کاپرچم بلندرکھا۔ وہاں سیدضمیرجعفری، منظورعارف، فتح محمدملک، شورش ملک، منوبھائی، شفقت تنویرمرزا، عنایت الٰہی ملک، خالد، خاور رضوی، انوارفیروز،عبداللہ راہی اورممتازمختار جیسے لوگوں نے ادبی فتوحات کی فہرست میں بھی کیمبل پور کے نام کونیچے آنے دیا نہ مدھم ہونے دیا۔ سلطان محمودبسمل کانام بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ وہ زمانوی اعتبارسے عبداللہ راہی، انوارفیروز اور خاوررضوی سے مقدم، سیدضمیرجعفری اورمنظورعارف سے موخر تھے۔ ان کاشمارگورنمنٹ کالج کیمبل پور کے اس ادبی ٹولے میں ہوتاہے جس میں فتح محمدملک، شورش ملک،عنایت الٰہی ملک، منوبھائی اور شفقت تنویرمرزا نمایاں ہیں جبکہ الطاف جعفری، محمداعجاز اور نسیم پڑوی ادبی اُفق سے غروب ہوکر علی الترتیب زمینداری، ضلعی سیاست اورتجارت میں دمک رہے ہیں۔ اس وقت ایسالگتاتھا کہ یہ ساراعلمی وادبی قافلہ دوہرے شمسی نظام کی ایک دوسرے سے متصادم کششِ ثقل کے درمیان جیسے ساکت ساہو کررہ گیا ہے۔ یہ دوبظاہرمتصادم فکری نظام جن دوہستیوں کے دم سے قائم تھے، ان کوعلمی وادبی دنیاڈاکٹرغلام جیلانی برق اورپروفیسرمحمدعثمان کے ناموں سے شناخت کرتی ہے۔ پہلاعلم وادب کاآفتاب، پچھلے برس اس ظاہری دنیاکے اُفق سے غروب ہوگیا ہے اوردوسرا داتاکی نگری میں آج بھی روشن ہے جس کی کچھ کرنیں کبھی کبھی روزنامہ جنگ کی وساطت سے ہم دوردراز کونوں کھدروں میںبسنے والے لوگوں کوبھی اپنے ہونے کااحساس دلاتی رہتی ہیں۔

    sultan mehmood bismil
    سردار سلطان محمود خان بسملؔ مرحوم

                                                    لوگ تو کہتے ہیں کہ ڈاکٹر برق مرحوم کاتعلق دائیں بازوسے تھااورپروفیسرعثمان کاجھکاؤ بائیں بازو کی طرف رہا ہے لیکن ذراگہرااُتر کر دونوں کے افکارکامشاہدہ کیاجائے تویہ ظاہری تضاد ایک حدتک جاکرختم ہوتاصاف نظرآتاہے۔ کیمبل پور کالج کے یہ دونوں عبقری اپنے اپنے راستے سے کچھ دورجاکراسی بڑے فکری دھارے میں گم ہونے لگتے ہیں جواللہ کی طرف سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی وساطت سے نوعِ بشر کی پیاس بجھانے اُتراتھا۔ ڈاکٹربرق اپنے علمی خاندانی پس منظر سے نکل کرقرآن اور حدیث کے گہرے مطالعے کے بعد اورپروفیسرعثمان تفہیمِ اقبال کے مقصدسے آگے بڑھتے ہوئے فلسفۂ اسلام کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوکراسی معاشی ومعاشرتی عدل کے مرکز تک آپہنچتے ہیں جس نے عالمِ انسانیت کاالفقرفخری کے شعورسے نوازا اور جس میں فقراپنی تمام تر بوریانشینی کے باوصف قیصروکسریٰ کے ایوانوں کو تھرتھرادینے کی صلاحیت رکھتاتھا۔

                                                    اگرمیرامشاہدہ غلط نہیں توکیمبل پور دبستان کاہررکن دائیں سے اپنے ذہنی سفرکاآغاز کرے یا بائیں سے، بالآخر اسی مرکزپرآن ٹھہرے گا جہاں سے دایاں اوربایاں سب اپنامفہوم اخذ کرتے ہیں۔سلطان محمودبسمل کوبھی اگر آپ دورسے دیکھیں تو تحصیل فتح جنگ کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے متعلق ہونے اورعہدے کے اعتبارسے مجسٹریٹی اختیارات کاحامل ہونے کی بناء پروہ آپ کو جاگیرداری اور بیوروکریسی کانمائندہ نظرآئے گا مگراس ظاہری خول کے اندرجھانک کردیکھیں توآپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوگی جس کے دل میں ہرانسان کے لیے پُرخلوص جذبات، سب کے لیے ایک عمومی دردمندی اورمحبت کی فراوانی ہے۔ یہی وہ اندرکاشخص ہے جواس کی غزل کے دریچوں سے جھانکتا نظرآتا ہے۔

                                                    جب فطرت کی آزادنعمتیں جوسب انسانیت کاحق ہیں، کوئی ایک آدمی یاایک طبقہ سمیٹ لیناچاہتاہے تووہ ضروراحتجاج کرتاہے۔ جہاں کمزور پر طاقتورکاہاتھ اُٹھتا ہے تووہ ضرور آواز اٹھاتا ہے۔ انسانیت میں مظلوم اور ظالم کی تقسیم اورمحکوم حاکم کاامتیاز اس کوگوارا نہیں۔ منافقت کووہ برداشت نہیں کرتا۔ کم ظرف لوگوں سے اس کی نبھ نہیں سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاعرکے اندر کایہ سچاکھراآدمی ہی دراصل جملہ انسانی اچھائیوں کی تجسیم اور صحیح انسانی فطرت کی تعبیر ہے اوراسی اندر کے آدمی سے غزل کے رشتے استوار ہوتے ہیں۔ غزل میں جب باہر کاآدمی بولنے لگے وہ اپنے تخلیقی معیار سے گرجاتی ہے۔ بسمل کی ہرغزل میں ہم اس کے اندر کے سچے اور کھرے آدمی سے متعارف ضرور ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں وہ صرف ایک آدھ جھلک دکھاکراوجھل ہوجاتا ہے اورکسی غزل میں دوچار قدم آگے تک ہمارے ساتھ چلتاہے۔ اختصار کے لیے میں صرف چند ایک مثالیں پیش کروں گا:

    ع:کوئی تو ہو جسے سچ بولنے کایارا ہو

                                                    (یہ مصرعہ اکیلا ہی اتنااونچا ہے کہ دوسرامصرع اس کاساتھ نہیں دے پاتا)

    ایسا کانٹا چبھا ہے پاؤں میں
    چلنا مشکل ہوا ہے گاؤں میں

    کاٹ لو گے جو سایہ دار شجر
    کیسے بیٹھو گے ٹھنڈی چھاؤں میں

    پہلے دھرتی کے روگ ختم کرو
    پھر بسیرا کرو خلاؤں میں

    یہ عادی ہوگئی ہیں آدمی کا خون پینے کے
    اب ان آباد سڑکوں سے تو ویرانے ہی اچھے ہیں
    بھلی لگتی ہے یوں تو ہر نئی شے اس زمانے میں
    مگر احباب بسمؔل جانے پہچانے ہی اچھے ہیں

    بے سرو سامان تھے جو کل تک گداؤں کی طرح
    تمکنت میں آج ہیں وہ بادشاہوں کی طرح


                                                    اُردو غزل کسی بھی دور میں سیاسی شعور سے یکسرمحروم نہیں ملے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ قدیم شعرا جن علامتوں اور استعاروں میںاظہارکرتے تھے، زمانوی بُعد کی بنا پراس کا ابلاغ خاطرخواہ نہیں ہوپاتا۔ 1857ء کے بعدحالی کے ہاں نسبتاً کم اور اکبر کے ہاں زیادہ واضح صورت میں اس کااظہار ملتا ہے۔ اس کے بعدعلامہ اقبال اور کسی حدتک حسرت، فانی، اصغر، جگرتک کی تمام اُردو غزل اپنے دور کے حالات اور رجحانات کے مطابق سیاسی سوچ کی لہریں باقاعدگی کے ساتھ اپنے اندر محفوظ کرتی چلی آتی ہے۔ انجمن ترقی پسندمصنّفین کے زیرِاثر بالخصوص تقسیم ملک کے بعدتک یوں لگتاہے کہ غمِ جاناں پرغمِ دوراں کاعنصرغالب آگیا ہے۔ ترجیحات کا یہی رجحان اب تک جاری ہے۔ جدیدتردور میں ترقی پسندانہ نقطۂ نظر اگرچہ اس سوچ کاواحدمحرک نہیں رہا۔ بسمل کی غزل اس سلسلے میں بھی اپنے دورکے رجحانات کاساتھ دے رہی ہے۔

    ہر ایک شخص اسی کی دہائی دیتا تھا
    بڑا عجیب سا منظر دکھائی دیتا تھا
    محل کے سامنے اک شور تھا قیامت کا
    امیرِ شہر کو اونچا سنائی دیتا تھا

                                                    شخصی اخلاص اور سیاسی شعور کے علاوہ بعض دوسرے پہلوبھی ایسے ہیں جہاں بسمل نے غزل کی وساطت سے اپنی شناخت کرانے کی کوشش کی ہے اور عام روایتی انداز کے شعرا کی قطارکوتوڑا ہے۔ دراصل بسمل کامسئلہ یہ رہاہے کہ شاعری میں اپنے جن دوستوں سے صرف مشورے کی حدتک متاثررہا،مثلاً مرزانعیم بیگ مرحوم اور جن مہربانوں سے باقاعدہ اصلاح لی، وہ غزل کے روایتی حسن کے رسیاتھے،چنانچہ بسمل کے ہاں بھی غزل کے جونئے تیورپڑھنے والے کومتوجہ کرتے ہیں، وہ روایتی خدوخال ہی کے اندرسے ابھرتے ہیں۔ اس اعتبارسے ہم بسمل کوان شعراکی صف قدیم کی جانب جھکاہوارہتاہے۔ ان روایتی خدوخال میںجدیددور کاشعورجہاںجہاں دمکتاہے، بڑامزہ دیتاہے، مثلاً:

    منصور تو نہیں ہوں پہ منصور کی طرح
    نظارہ ہائے دار ورسن دیکھتا ہوں میں

    کچھ حسرتیں ہیں نقش ونگارِ حریمِ دل
    اس قصرِ خستہ حال کا درباں ہوں کیا کروں

    پوچھیں گے نہ وہ حال اگر اپنی زباں سے
    مرجائیں گے اظہارِ تمنا نہ کریں گے

    پہلے وہ میرے نام سے بے زار تھا مگر
    وردِ زباں ہیں اب مرے اشعار دیکھنا

                                                    جملہ حالات وکیفیات اور حسن وجمال کے اندازواطوار کوکسی واحدماخذ سے وابستہ محسوس کرنایاخارجی احوال وحاڈثات کی کثرت کوکسی وحدت کی سمت میں ھرکت دیناہماری اُردوغزل کاابتداہی سے ایک نمایاں فکری رجحان رہا ہے۔ بسمل کی وہ پوری غزل جس کاقافیہ،بہار، نکھاروغیرہ ہے۔ اس رجحان کی ایک عمدہ مثال ہے۔ میں صرف ایک شعرکاذکر کروں گا۔ باقی اشعار آپ خودملاحظہ فرماکراس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں:

    ترے بدن کی  مہک ہے صبا کے دامن میں
     ہر عندلیبِ چمن، نغمہ بار تجھ سے ہے

                                                    آخر میں،مَیں ضلع اٹک کے مقتدرکھٹڑقبیلے سے متعلق اس شخص کے بارے میں بتاتا چلوں کہ زندگی میں اپنے قبیلے کی مانند بڑے اتارچڑھاؤدیکھنے کے بعد بھی اس کی فطرت سے ’’بوئے سلطانی‘‘ نہیں گئی اور میرے مشاہدے کے مطابق اس خاص پہلومیں یہ اپنے قبیلے کی بڑی درست نمائندگی کررہا ہے۔ اگرچہ عقیدت کی بناپراس نے اس سلطانی کی علت کارخ نعت کی طرف موڑ دیا ہے، شعر دیکھیں:

    درِ سلطانِ عالمؐ کا میں اک ادنیٰ گداگر ہوں
    مری فطرت سے بسملؔ بوئے سلطانی نہیں جاتی

                                                    اپنی بڑائی کاشعوررکھتے ہوئے اپنے آپ کو کسی بہت بڑی بلکہ،بہت ہی بڑی ہستی کے ساتھ وابستہ کرلینا، اس کے قبیلے کی پہچان بھی ہے اوراس کی اپنی پہچان بھی۔ ’’سلطان‘‘ اور ’’بوئے سلطانی‘‘ کے باہمی فرق کاجولوگ تجربہ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ’’سلطانی‘‘ کے دورکاگزرجاناایک مسلمہ اصول اورایک تاریخی واقعیت ہے۔ اس لیے معمول کی بات ٹھہری مگر سلطانی جاتے جاتے اپنے پیچھے جوایک شاہانہ مزاج اور بلندذہنی معیارچھوڑ جاتی ہے، میرے نزدیک دکھ اور کرب کابنیادی مآخذوہی ہوتاہے۔ اگرآپ اس کرب کاتجربہ رکھتے ہیں تو ’’ساغرِ سم‘‘ کے ذریعے شناخت کرنے میں آپ کوکوئی دقت نہیں ہونی چاہیے اوراگرآپ اس تجربے سے نہیں گزرے توبسمل کی غزل اس سے متعارف کرانے میں یقینا آپ کی معاونت کرے گی۔

    ڈاکٹرسعداللہ کلیم