Tag: اہلِ بیت

  • بھکر کی عزاداری : مقبول ذکی مقبول کی فردیات کے آئینے میں

    بھکر کی عزاداری : مقبول ذکی مقبول کی فردیات کے آئینے میں

    بھکر کی عزاداری : مقبول ذکی مقبول کی فردیات کے آئینے میں

    تحریر : ریحانہ بتول، جنرل سیکرٹری بزمِ اوجِ ادب ، بھکر ( پاکستان)

    ضلع بھکر پنجاب کے جنوبی خطے کا وہ صحرائی علاقہ ہے جو اپنے جغرافیائی خدوخال کے ساتھ ساتھ اپنی دینی و ثقافتی روایت کی وجہ سے بھی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے ریتلے ٹیلے، پیاسی زمین اور گرم فضا نہ صرف تھل کے مزاج کی علامت ہیں بلکہ اہلِ بھکر کے دلوں میں بسے کربلا کے استعارے بھی بن چکے ہیں۔ معروف شاعر و ادیب ، مقبول ذکی مقبول نے بھکر کی عزاداری کو اپنی فردیات میں جس شعری جمالیات کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ اس شہر کی روحانی اور ثقافتی پہچان کو واضح طور پر اجاگر کرتی ہے۔
    بھکر : عزاداری اور وفاداری کی سرزمین
    مقبول ذکی مقبول کے اشعار میں ضلع بھکر کو عزاداری، وفاداری اور عشقِ اہلِ بیت علیہ السّلام کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کے مطابق یہاں کے لوگ حضرت عباس غازی علیہ السّلام اور امام حسینؑ سے عقیدت رکھتے ہیں اور عزاداری کو اپنی اجتماعی شناخت سمجھتے ہیں ۔

    زمانہ ہے ذکی یہ تسلیم کرتا
    وفاداری عزاداری بھکر کی

    یہ اشعار بھکر کے لوگوں کے عقیدے اور وفاداری کو اجتماعی شعور کا حصّہ قرار دیتے ہیں ۔ شاعر نے یہاں کے باشندوں کو حضرت عباسؑ کے مرید اور اہلِ بیت علیہ السّلام کے غم کے امین کے طور پر پیش کیا ہے۔
    قصرِ زینب : روحانی سایہ
    مقبول ذکی مقبول نے ٫٫ قصرِ زینب ،، کو بھکر کی روحانی فضا کی علامت بنا کر پیش کیا ہے ۔ قصرِ زینب کو پردہ داری، عظمت اور تقدس کا استعارہ قرار دیا گیا ہے جو پورے شہر پر سایہ فگن ہے۔ اس سے شاعر نے یہ تصور دیا کہ بھکر کی فضا میں اہلِ بیت علیہ السّلام کی حرمت اور عظمت کی یاد ہمیشہ زندہ ہے ۔
    بھکر اور کربلا : جغرافیہ سے استعارہ تک
    شاعر نے بھکر کے صحرا، ریت، پیاس اور گرمی کو کربلا کے حالات سے تشبیہ دی ہے۔ یہ ایک نہایت بلیغ استعاراتی اظہار ہے جس کے ذریعے بھکر کو ٫٫ ثانی کربلا ،، کے تصور سے جوڑ دیا گیا ہے ۔

    ریت ہے ٹیلے ہے صحرا ہر طرف
    شہر بھکر بھی ہے جیسے کربلا

    اور

    نہ پانی ہے نہ سایہ نہ شجر ہے
    یہ بھکر بھی وہی کرب و بلا ہے

    بھکر کی عزاداری : مقبول ذکی مقبول کی فردیات کے آئینے میں

    یہ اشعار صرف جغرافیائی مماثلت نہیں بلکہ کربلا کے درد، پیاس اور قربانی کے احساس کو بھکر کی زمین سے جوڑتے ہیں۔ شاعر کا یہ اسلوب مقامی ماحول کو کربلائی روایت سے ہم آہنگ کر دیتا ہے ۔
    نوحہ، ذکرِ حسینؑ اور روزہ داری
    مقبول ذکی مقبول کے اشعار میں نوحہ، ذکرِ حسینؑ اور کربلائی پیاس کی یاد ایک مسلسل موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے ۔ شاعر کے مطابق ضلع بھکر کی فضا نوحوں کی صداؤں سے معمور ہے اور روزہ داری کے دوران پیاس کربلا کے مظلوموں کی پیاس کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ اس طرح بھکر کے مذہبی شعور کو عملی عبادت سے بھی جوڑ دیا گیا ہے ۔
    بھکر کی شناخت اور شاعر کی وابستگی
    شاعر خود کو بھکر کی پہچان قرار دیتا ہے اور لکھنؤ کے ساتھ بھکر کو بھی عزاداری کا اہم مرکز قرار دیتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبول ذکی مقبول نہ صرف اس شہر کے باشندے ہیں بلکہ اس کی ثقافتی اور دینی روایت کے ترجمان بھی ہیں۔
    مقبول ذکی مقبول کی یہ فردیات بھکر کی عزاداری کو محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ ایک تہذیبی و ثقافتی شناخت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ شاعر نے صحرا، ریت، پیاس اور گرمی جیسے مقامی عناصر کو کربلا کے المیے سے جوڑ کر ایک گہرا علامتی نظام قائم کیا ہے ۔ ان اشعار میں بھکر ایک ایسا شہر بن کر سامنے آتا ہے جہاں ہر دل میں حسینؑ کی محبت ، ہر فضا میں نوحہ اور ہر ذرے میں وفاداری کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔
    یوں مقبول ذکی مقبول کی شاعری بھکر کی عزاداری کو ادبی سطح پر ایک مستحکم اور قابلِ فخر شناخت عطا کرتی ہے ۔

    آخر میں تین اور فردیات ملاحظہ کیجئے

    پردہ داری عروج پر اپنے
    قصرِ زینب کا شہر پر سایہ

    ہر سَمت سے آتی ہے نوحوں کی صدائیں
    بھکر کی فضاؤں میں حسین ابنِ علی ہے

    وقبِ افطار یاد ، آتی ہے
    دشتِ صحرا میں پیاس کربل کی

  • مقبول ذکی مقبول کی ‘منتہائے فکر’

    مقبول ذکی مقبول کی ‘منتہائے فکر’

    ندیم قاصر اُچوی ( بہاول پور )

    شعری مجموعہ ٫٫ منتہائے فکر ،، مقبول ذکی مقبول کی ایک نہایت ہی فکر انگیز ، بلیغ اور روح پرور کتاب ہے ، جو ذکر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب ایک ایسی ادبی تخلیق ہے جو عقیدت و عشق کی گہرائی میں ڈوب کر لکھی گئی ہے ۔ اس کے ہر لفظ میں ایک خاص تقدس ، محبت اور احترام پوشیدہ ہے ، جو اہلِ بیت علیہ السّلام کی عظمت و رفعت کو دل کی گہرائیوں سے بیان کرتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول بھکر کی سر زمین سے تعلق رکھنے والے ایک عظیم شاعر اور ادیب ہیں ، جن کی علمی کاوشیں اور تخلیقی صلاحیتیں اس کتاب میں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہیں ۔

    انسان پر کھلا جو مفہوم کربلا کا
    وہ درس دے رہا ہے مظلوم کربلا کا

    اہلِ بیت علیہ السّلام، جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے خانوادے کے ستارے ہیں ، اسلام کی روحانی اساس میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ یہ کتاب نہ صرف اہلِ بیت علیہ السّلام کے فضائل اور مناقب کی تفصیلات سے مزین ہے بلکہ اس میں حضرت علی علیہ السّلام، حضرت فاطمہ علیہ السلام ، امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی عظمتوں ، قربانیوں ، صبر اور اخلاقیات کا درس بھی موجود ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے ایک ایسے قلم سے اہلِ بیت علیہ السّلام کی محبت کو سمویا ہے جو خالص اور پاکیزہ ہے ۔ ان کی شاعری میں اہلِ بیت علیہ السّلام سے عشق اور روحانی وابستگی اس انداز سے منعکس ہوتی ہے کہ پڑھنے سننے والوں کے دل میں محبت ، عقیدت اور تعظیم کا جذبہ امڈ آتا ہے ۔

    یہ ارتقاء کی ہر منزل سجی ہے مولا لہو سے تیرے
    رسولِ اکرم کی جسم و جاں ہو حقیقی ہو جانشین مولا

    امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی اسلام اور دینِ محمّد کے لیے قربانیوں کا ذکر بہت عقیدت سے ملتا ہے ۔ یہ دونوں ہستیاں ، جو نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہیں ، اسلام میں صبر ، استقامت اور انسانیت کی اعلیٰ مثال ہیں ۔ کربلا کی سر زمین پر امام حسین علیہ السلام کی قربانی ، ان کے ساتھیوں کی استقامت اور ان کی لازوال بہادری ایک ایسا سبق ہے جو ہر دور کے مسلمان کے لیے روشنی کا مینار ہے ۔ مقبول نے کربلا کے واقعے کو اس قدر جامع اور دلگداز انداز میں بیان کیا ہے کہ پڑھتے اور سنتے وقت روح تک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ کربلا میں جو درس ہمیں ملا ، وہ حق و صداقت کی ایسی قوت کا ہے جو ہر باطل کے سامنے ہمیشہ ثابت قدم رہتی ہے ۔ ایک شعر میں کہتے ہیں کہ

    مقبول ذکی مقبول کی ‘منتہائے فکر’

    عزم و استقلال پر دیکھا مقامِ کربلا
    مصطفیٰ کے دین کا سارا نظامِ کربلا

    تم کو جو بھولے ہیں وہ دشمن ہوئے ہیں آل کے
    اس کو نہ کوئی بھلائے ہے یہ نامِ کربلا

    ٫٫ منتہائے فکر ،، میں حضرت علی علیہ السلام کی بہادری ، علم اور سخاوت کا تذکرہ بھی انتہائی عالمانہ انداز میں کیا گیا ہے ۔ حضرت علیہ السّلام کی شخصیت اپنے اندر علم و فضل ، عدل و انصاف اور حکمت و بصیرت کی ایک لا مثال تصویر ہے ۔ آپ کی زندگی کا ہر پہلو رہتی دنیا تک ایک ایسی روشنی ہے جو انسانیت کو راہ دکھاتی رہے گی ۔ بی بی فاطمہ سلام اللّٰہ علیہا کا ذکر بھی مقبول ذکی نے بڑے احترام سے کیا ہے ، جو کہ جنّت کی خواتین کی سردار ہیں ۔ ان کی پاکیزگی ، حیاء ، عفت اور وقار ہر مسلمان خاتون کے لیے ایک نمونہ ہے ۔
    اس مجموعے ٫٫ منتہائے فکر ،، میں واقعاتِ کرب و بلا کی بہترین منظر کشی کی گئی ہے ۔اور اہل بیت علیہ السّلام کی شجاعت و استقامت کو بہت اعلیٰ طریقے سے منظر نگاری کی گئی ہے ۔ اس سے مقبول ذکی مقبول کی ہنر مندی اور اُستادانہ رنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ایسے طریقے سے واقعاتِ کرب و بلا کو بیان کیا کہ شعر پڑھتے ہی منظر سامنے دیکھائی دینے لگتے ہیں ۔

    کٹائے عباس نے جو بازو تو رو دیا تھا وہ علقماں بھی
    زمین سے عرش بریں تلک یہ سبھی کو صدمہ کھٹک رہا تھا

    اس شعری مجموعہ ٫٫ منتہائے فکر ،، کا ہر شعر ہر مصرع اپنے اندر ایک الگ تاریخ ، تعریف ، بہادری ، عقیدت و احترام اور کربلا میں ہوئے ظلم و ستم کی داستانیں لیے ہوئے ہے ۔ دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اہلِ بیت علیہ السّلام کی محبت و احترام اور استقامت کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توقیر عطا فرمائے ، ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے اور ہمیں ان کی محبت و احترام کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ۔

    ندیم قاصر اُچوی ( بہاول پور )
    ندیم قاصر اُچوی ( بہاول پور )

    .