Tag: انگلینڈ

  • آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟

    آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟

    آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟


    تحریر محمد ذیشان بٹ
    برطانیہ وہ عظیم سلطنت ہے جس نے پوری دنیا کو دو چیزیں ضرور دیں: ایک انگریزی زبان، اور دوسرا ’سر‘ کا خطاب۔ پہلا تو سب نے زبردستی سیکھ لیا، لیکن دوسرے کے لیے اب تک صرف وہی اہل ٹھہرے ہیں جن کے پاس یا تو ولایتی پاسپورٹ ہو، یا ولایتی واسطہ۔ باقی سب خواہ جتنے مرضی چھکے مار لیں، جتنے مرضی ورلڈ کپ جتوا دیں، ان کے حصے میں صرف واہ واہ ہی آئے گی، ’سر‘ کبھی نہیں۔

    کرکٹ کی دنیا میں پہلا ’سر‘ جس نے ہم جیسے ناتمام کھلاڑیوں کی نیندیں اڑا دیں، وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود سر ڈان بریڈمین تھے۔ جی ہاں، وہی آسٹریلوی جن کی بیٹنگ دیکھ کر گیند بازوں نے نوکری چھوڑ کر بیکریاں کھول لیں۔ انہوں نے 99.94 کی اوسط سے رنز بنا کر یہ ثابت کیا کہ بعض انسان دنیائے فانی میں بھی افسانہ بن سکتے ہیں۔ بادشاہ سلامت نے سوچا کہ ایسا بلے باز تو شاید اگلی صدی میں بھی پیدا نہ ہو، چنانچہ جھٹ سے تلوار نکالی اور ’سر‘ کا خطاب دے مارا۔

    پھر یہ روایت چل نکلی۔ ویسٹ انڈیز والوں نے بھی کمال کر دکھایا۔ سر گارفیلڈ سوبرز، سر ویو رچرڈز، سر کلائیو لائیڈ، سر کرٹلی ایمبروز — گویا پوری ٹیم ہی ’سر‘ ہو گئی۔ ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ گیند باز وسیم اکرم نے کہا، “یار انگریز بلے بازوں سے نہیں، ان کے خطابوں سے ڈر لگتا ہے۔”

    ادھر نیوزی لینڈ نے بھی اپنی قسمت آزمائی اور سر رچرڈ ہیڈلی کو آگے کر دیا۔ یہ وہ دور تھا جب صرف تیز گیند، سوئنگ اور ایک آدھ ہیٹ ٹرک کافی تھی ’سر‘ بننے کے لیے۔

    پھر آیا انگلینڈ کا دور، جس میں سر ایان بوتھم، سر ایلکس اسٹیورٹ اور بعد میں سر ایلسٹر کک بھی شامل ہوئے۔ اب کک صاحب کو ’سر‘ بننے پر مرغی فروشوں نے خاص رعایت دی کیونکہ ان کا نام ہی کُک تھا، اور ’سر کک‘ کہنے میں جو مزہ ہے، وہ شاید ’سر تنویر‘ یا ’سر بشیر‘ میں نہیں۔

    لیکن آئیے اب بات کریں برصغیر کی، جہاں سچن ٹنڈولکر کا نام سن کر بچے بھاگ کر بیٹ لینے لگتے تھے اور گیند باز بھاگ کر ویزا اپلائی کرنے۔ اگر ٹنڈولکر برطانوی ہوتے، تو یقینی طور پر ’سر‘ بننے کے بعد بکنگھم پیلس کے لان میں کرکٹ سکھا رہے ہوتے۔ لیکن کیا کریں، بندہ بھارتی ہے، سو صرف ’بھارت رتن‘ پر گزارا کرنا پڑا۔

    آخر پاکستانی کھلاڑیوں کو سر کا خطاب کیوں نہیں ملتا ؟

    اسی طرح وسیم اکرم، جس کی سوئنگ پر ابھی بھی ہوا کا دباؤ بگڑ جاتا ہے، اگر برطانوی ہوتا تو ’سر وسیم‘ بن کر لندن کی پارلیمنٹ میں ’’ریورس سوئنگ پر لیکچر‘‘ دے رہا ہوتا۔ لیکن چونکہ وہ پاکستانی ہے، تو اسے صرف کرکٹ بورڈ سے معطلی، سیاسی تجزیے، اور وکٹوں کی یادگاریں ہی ملی ہیں، ’سر‘ نہیں۔

    اب سوال یہ ہے کہ آخر ایشیائیوں کا کیا قصور ہے؟ کیا ’سر‘ کا خطاب لینے کے لیے وکٹ کے ساتھ پاسپورٹ بھی برطانوی ہونا ضروری ہے؟ کیا چھکا لگانے کے بعد ’God Save The King‘ گانا بھی گانا لازمی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں کرکٹ نہیں، انگریزی جھنڈا پکڑ کر چائے بیچنی چاہیے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ کھلاڑیوں کو "Honorary Knighthood” بھی دیا گیا، جیسے سچن ٹنڈولکر کو۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ’سر‘ نہیں کہلا سکتا، کیونکہ قانون کہتا ہے: "اگر تم ولایتی نہیں، تو تم صرف اعزازی ہو، باقاعدہ ’سر‘ نہیں!” یعنی خطاب بھی دیا، مگر استعمال کی اجازت نہیں۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے بچے کو آئسکریم دے کر کہنا: "دیکھ تو سکتا ہے، کھا نہیں سکتا۔”

    اب تک آخری کھلاڑی جسے ’سر‘ بنایا گیا، وہ سر ایلسٹر کک ہے — ایک شریف النفس اوپنر، جس کی بلے بازی بھی چائے کی پیالی کی طرح دھیمی مگر پائیدار تھی۔ اس کے بعد کچھ اور انگلش کھلاڑیوں کے نام زیرِ غور ہیں، لیکن کوئی ایشیائی فہرست میں نہیں۔ ہم لوگ بس تماشائی ہیں، جھاڑو دے کر ’سر‘ کہنے والے، اور وہ خطاب لے کر ’سر‘ بننے والے۔

    آج بھی اگر کوئی پاکستانی بچہ اپنے نام کے آگے ’سر‘ لگائے، تو استاد کہتا ہے، “پہلے ہوم ورک تو مکمل کر لے، پھر ’سر‘ بننا!”

    تو صاحبو، بات سیدھی سی ہے، کرکٹ تو کھیل سکتے ہو، دل بھی جیت سکتے ہو، لیکن ’سر‘ بننے کے لیے یا تو ولایتی ہو، یا ولایتیوں کے خاص بندے ہو۔ ہم تو بس یہی دعا کر سکتے ہیں کہ کبھی کسی دن عمران خان، ٹنڈولکر، سنگاکارا اور وسیم اکرم کے اعزاز میں کوئی ’عالمی سر کانفرنس‘ ہو، اور تب یہ سب بغیر پاسپورٹ کے ’سر‘ کہلائیں۔

    جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہم اپنے دل سے بس یہ کہتے رہیں گے:
    سر! معاف کیجیے، ہم ابھی بھی پاکستانی ہیں۔

  • پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت

    پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت


    پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان چترالی

    کھوار زبان میں "پتھرانزَک" ایک ایسا لفظ ہے جسے اردو میں "بِجوکا” یا "بِجھوکا” اور انگریزی میں "Scarecrow” کہا جاتا ہے۔ اس لفظ کا بنیادی تعلق زرعی تہذیب اور دیہی زندگی سے ہے، جہاں کھیتوں میں کسان فصلوں کو پرندوں اور آوارہ جانوروں سے بچانے کے لیے انسانی شکل کا ایک ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔ یہ ڈھانچہ اکثر گھاس، بھوسے، لکڑی یا کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے اور کھیت کے وسط یا کنارے نصب کیا جاتا ہے تاکہ پرندے اسے انسان سمجھ کر خوف کھائیں اور فصل کو نقصان نہ پہنچائیں۔

    "پتھرانزک” محض ایک ڈھانچہ نہیں بلکہ کسان کی ذہانت، مشاہدے اور فطرت سے ہم آہنگی کی علامت بھی ہے۔ یہ کھوو تہذیب کی علامتی یادگار ہے، جو انسانی صورت میں غیر انسانی کردار نبھاتا ہے۔ بالائی چترال میں اب بھی کہیں کہیں ”پتھرانزک”  نظر آرہے ہیں لیکن  لوئر چترال میں اب یہ رسم معدوم ہوگئی ہے۔

    پتھرانزک” یعنی بجوکا کی انسانی شباہت اس کی افادیت کا بنیادی پہلو ہے۔پرانے زمانے میں چترال میں  اسے کبھی مٹی کا چہرہ دیا جاتا تھا، کبھی لکڑی کا، بعض اوقات پرانے کپڑے، ہیٹ یا چترالی کپھوڑ اور مفلر کے ذریعے اسے مکمل انسانی پیکر میں ڈھالا جاتا تھا۔ ”پتھرانزک”  یعنی  بجوکا دراصل خوف اور حفاظت کے بیچ ایک لطیف توازن کا نام ہے۔چترال کے  کسان ”پتھرانزک”  بناتے وقت جس انسان کی شبیہ تراشتا ہے، وہ گویا ایک "خاموش محافظ” بن جاتا ہے۔ ایک ایسا محافظ جو نہ بولتا ہے، نہ چلتا ہے، مگر اس کی موجودگی میں فصلیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ”پتھرانزک” کی موجودگی کو دیکھ کر  چور اور پرندے بھاگ جاتے ہیں۔

    شمالی یارک شائر (انگلینڈ) کے ماسٹن گاؤں میں ہر سال  ”پتھرانزک” یعنی”بجوکا فیسٹیول” منایا جاتا ہے جو ایک ثقافتی جشن کی صورت اختیار کر چکا ہے۔”پتھرانزک”  انگلینڈ اور چترال کی مشترکہ علامت بن چکی ہے۔ اگرچہ انگلینڈ میں 1999ء سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا دیہی تہوار تھا، مگر اب یہ ایک بین الاقوامی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ یہاں رنگ برنگے بجوکے تیار کیے جاتے ہیں جو دیہی تخلیقی صلاحیتوں کا مظہر ہیں۔ لیکن چترال میں ”پتھرانزک”  کااستعمال ریاست چترال سے پہلے  موجود تھا اور اب بھی  بالائی چترال میں موجود ہے۔

    پتھرانزَک:کھوو، جاپانی اور انگلینڈ کی مشترک علامت

    اسی طرح جاپان کے ناگورو گاؤں میں، جہاں انسانی آبادی کم ہو چکی ہے، وہاں ”پتھرانزک”  کو زندگی کی نمائندگی دی گئی ہے۔ یہ نہ صرف گاؤں کے خالی پن کو پر کرتے ہیں بلکہ تہذیبی یادداشت کا ایک متحرک استعارہ بھی بن چکے ہیں۔ ”پتھرانزک”  اب چترال اور جاپان میں بھی مشترک علامت بن گئی ہے۔  اردواور کھوار  ادب اور دیگر عالمی ادب   میں بھی  ”پتھرانزک”  کو محض ایک دیہی شے کی بجائے ایک علامتی پیکر کے طور پر اپنایا گیا ہے۔

    سعادت حسن منٹو نے 1954ء میں ہندوستان کے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک مشہور خط لکھا جس کا عنوان ہی "بجوکا” تھا۔ اس خط میں منٹو نے بجوکا کے ذریعے معاشرتی، سیاسی اور فکری زوال کی عکاسی کی۔ بجوکا یہاں خاموشی، لاچاری اور نمائشی پن کی علامت کے طور پر ابھرتا ہے۔

    اسی طرح سریندر پرکاش کا افسانہ "بجوکا" بھی بجوکے کو ایک تلخ حقیقت کے پیکر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ہوری، ایک کسان، جو آزادی کے بعد اپنی زمین اور فصل کے مالک ہونے پر خوش ہے، اس وقت چونک جاتا ہے جب اس کی فصل کاٹنے والا کوئی اور نہیں بلکہ وہی بجوکا نکلتا ہے، جسے اس نے حفاظت کے لیے بنایا تھا۔ یہ ایک گہرا استعارہ ہے جس میں اقتدار، غداری اور استحصال جیسے عناصر پوشیدہ ہیں۔

    پتھرانزک یا بجوکا دراصل کھوو تہذیب کا  محض ایک زرعی آلہ ہی  نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی  ہے۔ جہاں ایک طرف یہ کسان کی ذہانت، مشاہدہ اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کی نمائندگی کرتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ بے جان انسانی شکل کی صورت میں ایک تلخ سماجی استعارہ بھی بن جاتا ہے۔ ادب میں اس کا استعمال سماجی بے حسی، سیاسی استبداد اور عوامی استحصال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

    سریندر پرکاش کے افسانے میں بجوکا ریاستی نمائندگی کا استعارہ ہے جو عوامی بھلائی کے لیے بنایا گیا تھا لیکن بالآخر وہی عوامی سرمائے پر قابض ہو گیا۔ اسی طرح منٹو کے خط میں بجوکا ایک ایسا معاشرہ ہے جو بول نہیں سکتا، احتجاج نہیں کر سکتا اور بس تماشا دیکھتا رہتا ہے۔

    کھوار زبان کا "پتھرانزک” یا "بجوکا” اپنی سادہ ساخت کے باوجود ایک کثیر المعنٰی علامت بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف دیہی زراعت کی علامت ہے بلکہ معاشرتی و ادبی اظہار کا ایک اہم استعارہ بھی بن چکا ہے۔ کھوار زبان سے اردو اور اردو سے عالمی ثقافت تک یہ لفظ اور اس کے تصور نے انسانی تخیل اور فکری دنیا میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ یہ محض کھیتوں کا محافظ نہیں، بلکہ تہذیبوں کا گواہ، معاشرت کا ناقد  اور سیاست کا بے زبان تماشائی بھی ہے۔

    Title Image by Tracia from Pixabay

  • انگلینڈ کی امیگریشن لینے کا ادھورا خواب

    انگلینڈ کی امیگریشن لینے کا ادھورا خواب

    انگلینڈ کی امیگریشن لینے کا ادھورا خواب

    Dubai Naama

انگلینڈ کی امیگریشن لینے کا ادھورا خواب

    یہ گرفتاری سے پہلے کی ایک ادھوری مگر سچی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار تو راقم الحروف خود ہے۔ لیکن جب پاکستان میں مہنگائی، معاشی بدحالی اور بے روزگاری کو دیکھتا ہوں، تو یوں لگتا ہے کہ یہ کہانی پاکستان کے سفید پوش طبقے کے ہر اس نوجوان کی کہانی ہے جو حالات سے تنگ آ کر یورپ بھاگنے کا سوچ رہا ہے، چاہے اسے یونان جانے والی کسی سوراخ زدہ کشتی ہی میں کیوں نہ بیٹھنا پڑے۔

    یہ فروری 2007ء کی ایک سرد صبح تھی۔ غیرقانونی سیاسی پناہ گزین کے طور پر میرے قیام کے 10سال پورے ہونے اور غیر معینہ مدت کا قیام (Indefinite Stay) ملنے کے امکان میں صرف ایک سال باقی تھا۔ کوئی بھی سیاسی پناہ گزین کسی ملک میں اس وقت تک غیر قانونی نہیں ہو سکتا جب تک پناہ لینے کی اسکی درخواست مسترد نہ ہو جائے اور وہ ہوم آفس کی ہدایت کے باوجود ملک چھوڑنے سے انکار نہ کر دے۔ برطانوی سپریم کورٹ نے پناہ کی میری درخواست خارج کر دی اور مجھے ہدایت کی کہ میں ایک ماہ کے اندر اندر برطانیہ چھوڑ دوں، مگر میں نے اس حکم پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس روز "ریلائنس سیکورٹی کمپنی” کے ہیڈ آفس سے کال نہ آنے کی وجہ سے میں اسائلم اپلائ کرنے والے ایڈرس پر ہی موجود تھا۔ جونہی امیگریشن کی چھاپہ مار ٹیم کے فرنٹ ڈور کو زور زور سے مسلسل پیٹنے کی آواز آئی، میں نے بھاگنے کی غرض سے دوسری منزل سے گراونڈ فلور کے ایک کمرے کی چھت پر چھلانگ لگا دی مگر نیچے اتر کر جب میں نے گھر کا "بیک ڈور” کھولا تو وہاں بھی پولیس موجود تھی۔ امیگریشن کی ٹیم نے میرے کمرے کی تلاشی لی، میرا پاسپورٹ، بنک اے ٹی ایم، کریڈٹ کارڈز اور دیگر ضروری سامان ایک بیگ میں ڈالا اور پولیس مجھے ایسٹ لندن (East London) کے علاقے والتھم سٹو پولیس سٹیشن لے گئی جہاں میرے "آئی سکین” اور "فنگر پرنٹ” لئے گئے۔ اسی روز مجھے اپنے دوستوں اور وکلاء وغیرہ سے بھی رابطہ کرنے کی اجازت دی گئی جس کے بعد انہوں نے ضروری کاروائی کی اور شام تک مجھے کرائیڈن ڈیٹینشن سنٹر (Croydon Detention Centre) پہنچا دیا۔

    انگلینڈ کے میرے 9سالہ قیام کی یہی وہ جگہ تھی جہاں پر مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ انسان کی زندگی میں معیشت کی کیا اہمیت ہے۔ یہاں پر مجھے ہر اسائلم سیکر کے منہ سے انگلینڈ پہنچنے کی بھانت بھانت کی اذیت بھری کہانیاں سننے کو ملیں۔ یہ سب کہانیاں "ہڈ بیتی” کہانیاں تھیں۔ ان میں کوئی جھوٹ یا مبالغہ آرائی نہیں تھی۔ وہاں میں نے دیکھا کہ کہیں یہ مہاجر فرانس سے کنٹینروں میں پہنچے تھے، کچھ کا پیچھا جنگلوں میں ہیلی کاپٹروں اور کتوں کے ذریعے کیا گیا تھا، کچھ کی اپنی بیوی یا گرل فرینڈ سے لڑائی ہو گئی تھی اور کچھ جرائم کی وجہ سے پکڑے گئے تھے۔ ان مہاجرین میں حیران کن حد تک کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے ملک واپس بھیجے جانے یعنی ڈپورٹ (Deport) ہونے کے بعد دوبارہ انگلینڈ پہنچے تھے مگر وہ بدقسمتی سے دوبارہ گرفتار ہو گئے تھے۔ سستے روٹس استعمال کر کے انگلینڈ آنے والے ان اسائلم سیکروں میں زیادہ تر انڈین، پاکستانی اور بنگلہ دیشی شامل تھے۔ انڈین پنجابی سکھ اور پاکستانی گجراتی غیر قانونی طور پر سرحدیں عبور کرنے میں بہت دلیر واقع ہوئے تھے۔ ان دنوں بھی یہ اسائلم سیکر سائپرس، ایران اور ترکی وغیرہ کے راستے یونان داخل ہوتے تھے جہاں انہیں سمندری اور پہاڑی دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ اس دوران کوئی بیمار ہو جاتا تھا تو ایجنٹ لوگ اسے قتل کر دیتے تھے۔ کچھ لڑکوں نے بتایا کہ جو لڑکے ان ایجنٹوں سے بحث یا بدتمیزی کرتے تھے وہ انہیں سمندر برد کر دیتے تھے۔ ان میں بہت سے لڑکے غیرقانونی طور پر سرحدیں پار کرتے ہوئے سرحدی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بھی بن جاتے تھے۔ جس طرح اس سال غیر قانونی طور پر یونان داخل ہونے والی ایک کشتی ڈوبی تھی جس میں ایشیاء وغیرہ کے مختلف ممالک کے کم و بیش 400افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں تقریبا 300نوجوانوں کا تعلق پاکستان سے تھا، اس وقت بھی اس طرح کے بے شمار المناک واقعات پیش آتے تھے۔ ان بچ جانے والے لڑکوں نے یہ واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے اور بھگتے بھی تھے۔ یہ نوجوان یونان پہنچنے کے بعد کچھ اٹلی، ہالینڈ، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، بیلجیئم، جرمنی اور کچھ فرانس کے راستے سے برطانیہ پہنچ جاتے تھے۔ جب انگلینڈ میں پناہ کی درخواستوں پر تیزی (Fast Track) سے عمل درآمد شروع نہیں ہوا تھا تو اس وقت لیبر پارٹی کے رہنما ٹونی بلئیر برطانیہ کے وزیراعظم تھے۔ تب امیگریشن کی پالیسیاں بہت نرم ہوا کرتی تھیں جس کی وجہ سے برطانیہ کو اسائلم سیکروں کی "جنت” سمجھا جاتا تھا۔

    انہی دنوں افغانستان سے شادی کے بہانے 200اسائلم سیکروں کا ایک جہاز بھی گن پوائنٹ پر "اغواء” ہو کر لندن پہنچا تھا۔ ایک واقعہ میں کسی ملک کے دو لڑکوں نے مسافر جہاز کے پہیوں والی کسی جگہ میں چھپ کر انگلینڈ پہنچنے کی کوشش بھی کی تھی جس میں ایک لڑکا خوف، سردی اور ہوا کے دباو’ کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا، جبکہ دوسرا لڑکا انگلینڈ تو پہنچ گیا تھا مگر اس کی پناہ کی درخواست رد ہو گئی تھی۔ اس کے باوجود کہ میری پناہ کی درخواست بھی رد ہو گئی تھی۔ لیکن میں نے انگلینڈ میں ایک ناکام مہاجر (Failed Asylum Seeker) کے طور پر برطانوی ہوم آفس کے اجازت نامے کی وجہ سے پولیس کے ہیڈ کواٹر، الفورڈ بارکنگ سائیڈ، خفیہ پولیس کے دفتر، پٹنی بوز، لندن ایرینا، گلنگل برج اور بنک آف نیویارک، کیناری وارف میں کام کیا۔ اس دوران میں نے کبھی استقبالیہ پر کام کیا اور کبھی میں پولیس والوں کے آئ ڈی کارڈز اور انٹری پاسز وغیرہ چیک کرتا تھا۔ یہ کالم میں نے وہاں کی سپریم کورٹ سے اسائلم کی اپنی آخری درخواست کی ناکامی کے انتقام میں نہیں لکھا۔ اس کالم کو لکھنے کی ایک سبق آموز وجہ اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ انسان خوشحالی اور ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے سب سے زیادہ خطرات مول لیتا ہے اور اپنی زندگی تک کو داو’ پر لگا دیتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں امارت اور غربت کا تفاوت زیادہ ہے جس وجہ سے ہمارے متوسط طبقے کے نوجوان اپنے معاشی حالات کی بہتری کے لئے شارٹ کٹ مارتے ہیں یا یورپ وغیرہ جانے کے خواب میں وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ عالمی برادری کو چایئے کہ وہ دنیا کے ذرائع اور دولت کی تقسیم مساویانہ سطح پر کرے اور یا پھر دنیا کی "سرحدوں” کو ختم کر دے۔ دوسری دلچسپ وجہ یہ ہے کہ میں نے اسی دور میں "موٹیویشنل فلاسوفیکل اسیز” پر مبنی ایک کتاب "منفی قوت کا استعمال” Use of Negative Force by M. Yousaf Bhatti لکھی (جو گوگل پر سرچ کی جا سکتی ہے) جس کی تقریب رونمائی انگلینڈ کی پارلیمنٹ، "ہاو’س آف کامنز” (House of Commons) میں ہوئی مگر تب میں خود بھی ایک "ال لیگل امیگرنٹ” (Illegal Immigrant) تھا یعنی ایک غیر قانونی مہاجر تھا! مثبت رہیں، ہمت کبھی نہ ہاریں حالات جو بھی ہوں آپ کچھ بھی بڑا کام کر سکتے ہیں۔

    Title Image by Joshua Woroniecki from Pixabay