Tag: اعوان

  • ماہر انساب ، قائد اعوان

    ماہر انساب ، قائد اعوان

         کریم اعوان صاحب کا شمار پاکستان کے ان چند محققین میں ہوتا ہے جنھوں نے انساب شناسی کے میدان میں اپنی شناخت قائم کی ہے۔آپ معروف محقق اور انساب نگار (genealogist) ہیں جنھوں نے خاص طور پر اعوان قبیلے کی تاریخ، شجرہ نسب، اور تمدنی و تہذیبی پہلوؤں پر قابلِ قدر کام کیا ہے۔ کریم اعوان صاحب نے قبیلہ اعوان کی ابتدا، اس کی ہجرتوں، اور مختلف علاقوں میں اس کی موجودگی پر مفصل تحقیقی مواد فراہم کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں تاریخی حوالہ جات، روایات، اور مقامی بیانیوں کو یک جا کیا گیا ہے ۔آپ نے اعوان قبیلے کے مختلف خاندانوں اور ذیلی شاخوں کے شجرہ نسب مرتب کیے ہیں، جنھیں علمی اور تاریخی اسناد کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ شجرے نہ صرف زبانی روایات پر مبنی ہیں بل کہ انھیں تحریری ذرائع سے بھی تقویت دی گئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی تصانیف اپنے موضوع کے اعتبار سے حوالے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ کریم اعوان کی لکھی ہوئی کتابوں یا تحریروں کی بات کریں تو ان میں ہر بات کو مکمل تاریخی حوالہ جات سے ثابت کیا گیا ہے۔ کریم اعوان صاحب کی تحقیق کے مطابق اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔ یہ قبیلہ حضرت محمد الاکبر حضرت حنفیہ بن علیؑ بن ابو طالبؑ کی اولاد میں سے ہے۔ان کا اندازِ تحریر محققانہ ہے، جس میں علمی حوالہ جات، تاریخی مواد، اور جغرافیائی معلومات کو مربوط انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

    ماہر انساب ، قائد اعوان

                 اگر ہم کریم اعوان صاحب کے اس سفر کو دیکھیں تو یہ 2007ء میں تحقیق الانساب کی پہلی جلد کے بعد شروع ہوا۔ چھے سال کی محنت کے بعد تحقیق الانساب جلد دوم 2013ء میں منظرِ عام پر آئی ۔ تاریخِ قطب شاہی علوی اعوان 2015ء میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی۔ اسی سال 2015ء میں مختصر تاریخ علوی اعوان مع ڈائریکٹری کریم اعوان صاحب کی چوتھی تصنیف کے طور پر سامنے آئی ۔ اپنے جدِ امجد حضرت بابا سجاول کے احوال کو 2019ء میں حضرت بابا سجاول علوی قادری تاریخ کے آئینے میں کے نام سے شائع کیا۔ 2022ء میں آپ کی چھٹی تصنیف برصغیر پاک وہند کے قطب شاہی اعوان کے نام سے اشاعت پذیر ہوئی ۔خاک سار کو اس کتاب کا پیش لفظ لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 2024ء کے سال میں آپ کی چار کتب کاروانِ محبت (سوانحی حالات محبت حسین اعوان)، مآخذ بنی عون قطب شاہی اعوان ، تحقیق الانساب جلد سوم اور نگارشاتِ علوی منصہ شہود سے آراستہ ہوئیں۔ 2025ء میں شائع ہونے والی کتاب تحقیق الانساب کی جلد چہارم ہے۔ علاوہ ازیں کریم صاحب کی نصف درجن کتب اشاعت کے قریب ہیں۔ کریم اعوان صاحب کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی خاطر مانسہرہ سے ملک عظیم ناشاد اعوان صاحب نے ایک کتاب "قائدِ اعوان” کے نام سے مرتب کر کے شائع کی۔ کریم صاحب کی انساب کے تناظر میں کی گئی کاوشوں کو ہر ذی شعور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ تحقیق ایک مشکل کام ہے اس میں بھی انساب کی تحقیق مشکل ترین ہو جاتی ہے۔ کریم صاحب نے اپنی زندگی میں اس مشکل کو نہ صرف قبول کیا بل کہ اس کو اپنی شبانہ روز محنت سے آسان بھی کر لیا بہ قول غالب:

    مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں 

    کریم اعوان صاحب کی شائع ہونے والی آخری کتاب اپریل میں موصول ہوئی۔ جونھی ان کو کتاب ملی اپنی کمال محبت اور شفقت کا ثبوت دیتے ہوئے مجھے کال کی کہ کتاب موصول ہو گئی ہے اپنا نسخہ حاصل کر لیں ۔ میں تجسس کا مارا فورآ برادر عزیز سالک محبوب اعوان سے رابطہ کیا۔ 16 اپریل کو اوپن یونی ورسٹی کا پرچہ لینے کے بعد کریم صاحب کے دولت کدے کی جانب روانہ ہوئے ۔ ابھی کچھ فاصلہ ہی طے کیا کہ شدید آندھی اور طوفان نے گھیر لیا۔ بڑی مشکل سے ایک جگہ پناہی لی۔ کریم صاحب نے جب دیکھا کہ موسم بھی شدید خراب ہے اور ہم پہنچے بھی نہیں تو مجھ کال کر کے معلوم کیا۔ بتایا کہ یہ حالات ہیں آپ کے گھر کے قریب ہی ہیں۔ کہنے لگے آ جائیں میں منتظر ہوں۔کال کٹ گئی۔ کچھ ہی دیر میں دوبارہ موبائل کی گھنٹی بجی۔ سالک نے بات کی تو کہنے لگے کس جگہ ہیں میں چھتری لے کر ادھر ہی آ جاتا ہوں۔ سالک نے حسبِ عادت مسکراتے ہوئے منع کیا کہ نہیں قائدِ محترم ہم موسم کے سنبھلتے ہی پہنچتے ہیں۔ کچھ دیر بعد موسم سنبھلا تو ہم ان کے درِ دولت پر پہنچے۔ کمال محبت سے ہمیں اندر لے گئے خوب گپ شپ ہوئی اور چائے پلانے کے بعد یہ خوب صورت تحفہ عطا کیا۔ کریم صاحب کی 528 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ادادہ تحقیق الاعوان اور ادارہ تحقیق الانساب نے شائع کی ہے۔ کتاب کا انتساب کریم اعوان صاحب کے والدین نمبردار سردار محمد خان مرحوم اور ریشم جان مرحومہ کے نام کیا گیا ہے۔ مختلف قبائل کے تعارف کی حامل یہ کتاب تحفہ ہے ان کے لیے جو علم الانساب میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ کتاب میں میرے اور میری اہلیہ کے خاندان کے بارے معلومات دینے پر کریم صاحب کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اگر آپ یہ کتاب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس نمبر پر رابطہ کر کے رعایتی قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔

    محمد کریم اعوان صاحب۔ 0312.9206639

  • مہر و وفا کا پیکر کریم اعوان

    مہر و وفا کا پیکر کریم اعوان

    مہر و وفا کا پیکر کریم اعوان


    فرہاد احمد فگار،مظفرآباد

    غالباً2010ء کی بات ہے جب مہر و وفا کے اس پیکر سےعزیزم شعیب خورشید کے توسط سے شناسائی ہوئی۔ تب کریم اعوان صاحب برادرم شعیب خورشید کے گھر واقع لوئر چھتر میں بہ طور کرایہ دار مقیم تھے۔ شعیب نے ان کے کردار و قلم کی اس قدر تعریف کی کہ ان سے ملنے کا اشتیاق بڑھنے لگا۔ بالاخر ایک شام اپنی تمام تر مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان سے ملنے ان کے درِ دولت پر حاضر ہو گیا۔ باریش اور متبسم چہرہ، سر پر گلگتی اونی ٹوپی، سفید شلوار قمیص میں ملبوس وجیہ اور باوقار انداز کے ساتھ دروازہ کھولا۔ دھیمے اور مترنم لہجے میں خوش آمدید کہا۔ ان سے پہلی نشست کم و بیش ایک گھنٹے کو محیط تھی جس میں انھوں نے بہت ہی مدلل انداز میں حضرت حنفیہ رحمۃ الله عليه کی اولاد پر بات کی۔ تب تک مجھے اتنا اندازہ بھی نہ تھا کہ قبائل پر اتنا علم بھی کسی کا ہو سکتا ہے۔ اس اولین ملاقات میں چائے کے بعد انھوں نے اپنی تالیف "مختصر تاریخ علوی اعوان مع ڈائریکٹری عطا کی۔ یہ ملاقات کریم اعوان صاحب سے ایک بھرپور تعلق کی بنیاد ثابت ہوئی۔ ان سے ہونے والی گفت گو میں یہ بات واضح ہو گئی کہ قبیلے کے حوالے سے تحقیق ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ان کی کتب کا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ نہایت خشک مضمون اور انتہائی مشکل کام کو انھوں نے بہت نفاست اور آسانی سے سر انجام دیا ہے۔
    علم الانساب کی راہوں کا یہ مسافر 15 جنوری 1964ء کو سنگولہ ضلع راولاکوٹ کی دھرتی پر پیدا ہوا۔ پانچویں جماعت تک کی رسمی تعلیم بیرموں سنگولہ کے سرکاری پرائمری اسکول سے حاصل کی مابعد ششم اور ہفتم جماعت کا امتحان گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول بن بیک سے پاس کیا۔ جماعت ہشتم کی تعلیم کے لیے گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول سنگولہ کا انتخاب کیا اور مڈل کا امتحان یہاں سے پاس کیا۔ مابعد عروس البلاد کراچی کا رخ کیا اور میٹرک کی سند تعلیمی بورڈ کراچی سے بہ طور پرائی ویٹ امیدوار حاصل کی۔ انٹرمیڈیٹ کامرس کے مضامین کے ساتھ گورنمنٹ نیشنل کالج شہیدِ ملت روڈ کراچی سے کیا۔ اعلا اسناد کا حصول بھی اسی شہرِ قائد سے کیا۔ بی۔ کام جامعیہ ملیہ کالج ملیر سے مکمل کیا۔ بین الاقوامی تعلقات اور تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگریاں پرائی ویٹ امیدوار کی حیثیت سے جامعہ کراچی سے مکمل کیں جب کی قانون میں گریجویشن وفاقی اردو لا کالج سے مکمل کیا۔ تعلیمی سلسلے کی ایک سند بیچلر آف ایجوکیشن آزاد جموں کشمیر یونی ورسٹی سے مکمل کی۔ کریم اعوان صاحب نے عملی زندگی کچھ عرصہ مدرس کی حیثیت سے گزاری بعدازاں آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں آ گئے جہاں مختلف نوعیت کے عہدے پر اپنی خدمات سر انجام دیں اور تادمِ تحریر سیکشن آفیسر کی کرسی پر موجود ہیں۔
    کریم اعوان صاحب کی شخصی خوبیاں بے شمار ہیں جن میں چند یہ ہیں ،مستقل مزاج،یار باش، انسان دوست، غریب پرور ، خوش اخلاق، ہنس مکھ، دیانت دار، محنتی، مہمان نواز، ہم درد، پرہیز گار، دین دار وغیرہ۔ ان سے ملنے والا ان سے بارہا ملنے کی خواہش کرتا ہے۔ اجنبی یا شناسا جو کوئی بھی ان سے معاونت چاہتا ہے مایوس نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے ایک واقعہ یوں ہے کہ: راقم کے کالج کے لیکچرر بشیر الدین چغتائی صاحب اپنے شجرےاور قبیلے پر تحقیقی کام کر رہے تھے۔ مواد کے حوالے سے ان کو جب میں نے پریشان دیکھا تو ایک دن کہا کہ آپ کو ایک ایسے ماہر الانساب سےملواتا ہوں جو یقیناً آپ کا مسئلہ حل کر دیں گے۔ المختصر کریم صاحب سے وقت طے کر کے ان کے دفتر میں پہنچ گئے۔ حسبِ معمول اپنی نشست سے اٹھ کر بہت جوش سے ملے۔ رسمی علیک سلیک کے بعد جب مدعا بیان کیا تو انھوں نے فوراً دو تین کتب کی نہ صرف نشان دہی کی بل کہ اپنی ذاتی لائبریری سے وہ کتابیں عنایت بھی کیں۔ بشیر الدین صاحب، کریم صاحب کے اس فعل سے بہت متاثر ہوئے اور آج تلک جب بھی ان کا ذکر کرتے ہیں محبت اور احترام کا پہلو شامل رہتا ہے۔

    مہر و وفا کا پیکر کریم اعوان
    کریم اعوان

    اس طرح کے بیسیوں واقعات ہیں جن سے ان کی شرافت، علم دوستی اور مہر و محبت ظاہر ہوتی ہے۔
    کہتے ہیں کسی شخص کو جانچنا ہو تو اس کے ساتھ سفر کرو کریم اعوان صاحب کے ساتھ مظفرآباد تا مانسہرہ کئی ایک اسفار کرنے کا موقع ملا۔ ایک سفر بھی ایسا نہیں رہا جس میں انھوں نے اپنی مرضی دوسرے شخص پر تھونپی ہو۔ سفر میں سنجیدہ اور کارآمد گفت گو سے ہم سفر کو مصروف رکھنا ان کا خاصا ہے۔ سفر کے دوران میں باربار چائے کا پوچھنا بھی ان کی ایک خوبی ہے۔ چائے اور طعام کے اخراجات کو اصرار کر کے اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں اور ہم سفر کا اکرام کرتے ہیں۔ ان کی فراغ دلی کا ثبوت اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ خرچ کرنے میں کبھی حیل وحجت سے کام نہیں لیتے دوستوں اور احباب پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔کریم اعوان صاحب کی سادگی اور عاجزی کا زمانہ معترف ہے۔ ان کے مزاج میں کسی کے خلاف زہر اگلنا پیدائش سے ہی موجود نہیں۔ جس طرح ہر بڑے اور کام یاب انسان سے بغض و عداوت رکھنے والوں کی کمی نہیں ایسے ہی ان کے خلاف الزام تراشی کرنے والے بھی موجود ہیں تاہم وہ سب کا بھلا اور سب کی خیر چاہتے ہیں۔ ان کی زبان سے کبھی کسی کے خلاف برائی نہیں سنی۔ ہنستے مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ سر لوگوں کو باتیں کرنے دیں اس سے کیا ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ان کی ایک کتاب قطب شاہی علوی اعوان چودہ سو سالہ تاریخ کے آئینے میں پر ایک شریر شخص نے اپنی خصلتِ بد کو ظاہر کرتے ہوئے عمران خان کی تصویر لگا کر سپردِ فیس بک کر دیا۔ اس بات پر مجھے بہت غصہ آیا کریم اعوان صاحب سے بات کی تو بہت نرم انداز میں فرمانے لگے کہ کوئی بات نہیں کرنے دیں شاید ایسا کرنے والے کو تسکین ملتی ہو گی۔ چوں کہ میرا ان کے دفتر میں بھی اکثر جانا ہوتا ہے تو میرا مشاہدہ ہے ان کا کوئی ماتحت اگر کسی کام میں غفلت کا مرتکب بھی ہوتا ہے تو نہایت مشفقانہ انداز میں سمجھاتے ہیں۔ کبھی ان کو غصے میں دیکھا نہ ہی ان کے ماتھے پر کبھی بل پڑا ہوا نظر آیا۔ چھٹی والا دن بھی زیادہ تر دفتر میں ہی گزارتے ہیں۔ دفتری امور کی انجام دہی کے بعد جو وقت میسر آتا ہے وہ اپنی تحقیقی و انسابی سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔ کسی کا کوئی کام ہوا تو بلاتامل اور بہ خوشی کر دیتے ہیں گویا ان کا ذاتی کام ہو۔
    کریم صاحب اپنی مٹی اور اپنے قبیلے کی مہر و مروت میں پورے پورے ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کریم کا بیٹا ہونے پر بہ جا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے انساب کی تحقیق میں سرگرداں ہیں۔ ان کا قلم جب بھی چلا ہے ایک جان دار اور بامعنی تحقیق منظرِ عام پر آئی۔ ان کی سرشت میں تحقیق کی صعوبتوں کو جھیلنے کی صلاحیت بہ درجۂ اتم موجود ہے۔ سیکڑوں کتب کا مطالعہ کرنے، کئی کئی میل کے اسفار ،سارا سارا دن اور تمام تمام رات کی جستجو کے بعد کتاب کی تیاری کا اہتمام اور انتظام گویا ان کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔ فارسی، عربی، اردو اور دیگر کئی زبانوں میں علم الانساب پر کتب کے مطالعے نے ان پر فصاحت و بلاغت کے در یوں وا کیے ہیں کہ وہ علم الانساب کا چلتا پھرتا انسائکلو پیڈیا بن گئے ہیں۔ تحقیق الاعوان ان کے رگ وپے میں لہو بن کر گردش کرتی ہے اعوان قبیلے کے حوالے سے معلومات کا تو گویا انھوں نے گھونٹ پی رکھا ہے۔ ان کی تحقیق میں ادبی چاشنی کے علاوہ سادگی و سلاست قاری کے مزاج پر چنداں گراں نہیں گزرتی۔ کریم خان اعوان صاحب کی اب تک شائع ہونے والی تالیفات اور تصنیفات کی تعداد چھے ہے جن میں تحقیق الانساب جلد اول 2007ء میں شائع ہوئی۔ تحقیق الانساب کی دوسری جلد 2013ء میں اشاعت پذیر ہوئی۔ 2015ء میں ان کی شائع ہونے والی کتاب تاریخ قطب شاہی علوی اعوان ہے۔ چار سال کے وقفے کے بعد 2019ء میں آپ کی پانچویں کتاب بابا سجاول علوی قادری تاریخ کے آئینے میں منظرِ عام پر آئی۔چھٹی اور تاحال شائع ہونے والی آخری کتاب قطب شاہی علوی اعوان فی نسب آلِ محمد و الاکبر 2022ء میں منظرِ عام پر آئی۔اس کتاب کی تقریبِ رونمائی 4 ستمبر 2022ء کو برخانہ ڈاکٹر محمد نذیر اعوان صاحب سراڑ کے مقام پر ہوئی۔ اس تقریب میں متفقہ طور پر راقم، سالک محبوب اعوان، عتیق الرحمان اعوان اور ڈاکٹر محمد نذیر اعوان صاحب نے کریم صاحب کے لیے ” قائد اعوان” کا خطاب تجویز کیا ۔ شرکائے تقریب نے ہاتھ اٹھا کر اس بات کی تائید کی۔ اس تقریب میں زم زم ویلفئیر سوسائٹی سراڑ کی جانب سے کریم علوی صاحب کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔ فرہاد احمد فگار، سالک محبوب اعوان اور عتیق الرحمان اعوان کی طرف سے مشترکہ طور پر "قائدِ اعوان” کے خطاب کی اعزازی شیلڈ بہ طور سند پیش کی گئی۔ کریم صاحب کی یہ کتاب اعوان قبیلے کی چودہ سو سالہ تاریخ کا خلاصہ ہے جس میں عربی،فارسی،اردو،پنجابی،پشتو،سندھی،انگریزی،ترکی، فرانسیسی زبانوں کی قریب 460 کتب کے مستند حوالوں سے یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ اعوان قبیلہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بیٹے حضرت محمد حنفیہ رحمۃ اللّٰہ علیہ کی اولاد سے ہے۔ یہ کتاب جہاں کریم اعوان صاحب کے وسیع المطالعہ ہونے کی غماز ہے وہیں اس بات کی بھی دلیل ہے کہ انھوں نے اپنی عمرِ عزیز کا بڑا حصہ دشتِ تحقیق کی سیاحی میں بسر کیا۔ ان کا جملہ تحقیقی کام ان کی محنتِ شاقہ کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بل کہ کئی دیگر کتابوں پر بھی شبانہ روز کام میں جتے ہوئے ہیں۔ ان کی آمدہ کتب میں تحقیق الانساب کی تیسری جلد اور اپنے مرزبوم سنگولہ کی محبت میں کتاب "سنگولہ تاریخ کے آئینے میں” عن قریب قارئین کے ہاتھوں میں ہوں گی ان شاءاللہ۔ علاوہ ازیں اعوان قبیلے پر جتنی بھی کتب میری نظر سے گزریں ان میں ننانوے اعشاریہ نو فی صد کتب میں اس مردِ مجاہد کی مکمل معاونت شامل رہی۔ کریم صاحب خود بھی بہت زیادہ کارگزار اور مستعد انسان ہیں اور دوسروں سے کام کروانے کا فن بھی جانتے ہیں۔ آپ کی محبتیں ایسی ہیں کہ ہر خاص و عام ان سے مستفید ہوتا ہے۔ مہر و وفا اور خلوص و شائستگی اگر کسی نے سیکھنی ہے تو آئے اور اس عظیم انسان کی مجلس کا حصہ بنے۔
    آخر میں معراج جامی کا ایک شعر اس مردم دوست ہستی کے لیے:
    دشمنوں کے لیے بچا ہی نہیں
    دوستوں ہی میں بٹ گیا ہوں میں

  • پروفیسر فرہاد احمد فگار سے مکالمہ

    پروفیسر فرہاد احمد فگار سے مکالمہ

    انٹرویو بہ سلسلہ ادبی شخصیات مظفر آباد ، آزاد کشمیر

    پروفیسر فرہاد احمد فگار ، مظفر آباد آزاد کشمیر

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر ، پنجاب پاکستان

    سوال: آپ اعوان خاندان کے چشم و چراغ ہیں ۔ مختصر تعارف کرائیں ۔
    جواب : الحمدللہ میرا تعلق اعوان گھرانے سے ہے ۔ میرے دادا مرحوم نمبردار فرمان علی اعوان علاقے کی معزز ترین شخصیت تھے اور سات دیہات کے نمبردار تھے ۔ علاقے کے زیادہ تر فیصلے آپ ہی کرتے تھے اور کبھی کسی کی جرأت نہ ہوتی تھی جو آپ کا فیصلہ نہ مانے ۔ میرے والد عبدالغنی اعوان بھی اہلِ علاقہ کے اکثر و بیشتر معاملات جرگے میں حل کر دیتے ہیں ۔ مظفرآباد میں آپ کو بھی نمبردار کِہ کر پکارا جاتا ہے ہرچند اب نمبر داری والا نظام ختم ہو چکا ہے ۔ میری پیدائش (دستیاب ریکارڈ کے مطابق) 16 مارچ 1982ء کو جمعرات کے روز سویرے چار بجے لوئر چھتر مظفرآباد میں ہوئی ہے محلے کے ایک بزرگ محمد مسکین بابا نے میرے بڑے بھائی شہزاد سے قافیہ ملا کر فرہاد نام تجویز کیا ۔ مجھ سے بڑے ایک بھائی شہزاد احمد اعوان ہیں ، چھوٹی بہن مہوش غنی اور سب سے چھوٹا بھائی حماد احمد اعوان ہیں ۔ تقریباً چالیس واسطوں سے شجرہ نسب شیرِخدا علی المرتضیٰ علیہ السّلام سے ملتا ہے جو کچھ یوں ہے ۔ فرہاد احمد فگارؔ بن عبدالغنی اعوان بن نمبردار فرمان علی بن قمر علی بن احمد علی بن مہر دین بن محمد ولی بن سلطان محمد خان بن بسی محمد خان بن لعل خان بن کمال خان بن معراج خان بن جنگ خان بن راج خان بن داری خان بن بیر خان بن فتح محمد خان بن طوطہ خان بن طیب خان بن میر حیدر خان بن شاہ نواز بن شاہ نواب بن خلیل(کھیلا) بن بخاری شاہ بن امیر حیدر خان بن شاہ محمود بن شاہ عزت بن شاہ خلیل (کھلی) بن کرم علی بن مزمل علی کلگان بن سالار قطب حیدر شاہ غازی (قطب شاہ ثانی) بن عطا اللّٰہ غازی بن طاہر غازی بن طیب غازی بن شاہ محمد غازی بن شاہ علی غازی بن محمد آصف غازی بن عون قطب شاہ غازی بن علی عبدالمنان بن حضرت محمد الاکبر محمد حنفیہ بن حضرت علیؑ بن حضرت عبدالمطلب ۔

    پروفیسر فرہاد احمد فگار سے مکالمہ


    سوال : آپ کا ادب کی طرف کب اور کیسے رجوع ہوا ؟
    جواب : ادب شاید میری گھٹی میں پڑا تھا ۔ بات دراصل یہ ہے کہ میٹرک کے بعد مجھے شوق ہوا انجینئرنگ کرنے کا اور والد محترم نے میرے شوق کا احترام کرتے ہوئے مجھے پشاور کے سرکاری ٹیکنیکل کالج میں داخلہ بھی دلوا دیا ۔ وہاں کچھ دوست شعر سناتے رہتے یوں میرا بھی ادب کی طرف کسی قدر رجحان ہوا ۔ مطالعے کا شوق بچپن سے ہی تھا ۔ دادا مرحوم میرے لیے ٹارذن ، عمرو عیار اور دیگر بچوں کی کہانیاں لاتے یوں میں وہ کہانیاں نہ صرف خود پڑھتا بل کہ دوستوں کو بھی مطالعے کے لیے دیتا ۔ سن 2001ء میں پشاور چھوڑ دیا اور انجینئرنگ کو خیر باد کِہ کر مظفرآباد واپس آ گیا ۔ میرے بہنوئی واجد یونس اعوان کو شاعری کا شوق تھا اور وہ قافیہ پیمائی کرتے رہتے یوں ان کو دیکھ کر مجھے بھی شعر کہنے کا شوق ہوا ۔ المختصر میں باضابطہ شاعر تو نہ بن سکا البتہ قلم و قرطاس سے تعلق استوار ہو گیا ۔
    سوال : اپنی ادبی خدمات سے قارئین کو متعارف کرایے گا ۔
    جواب : میں سمجھتا ہوں میں ابھی طفلِ مکتب ہوں ادبی خدمات زیادہ تو نہیں تاہم میں اردو زبان سے محبت کرتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں زبان و ادب کی خدمت کر سکوں ۔ میں نے باضابطہ طور پر2010ء میں شعر کہنا شروع کیا ۔ تک بندی تو پہلے سے کرتا تھا مگر شعری رموز سے ناآشنا تھا اس لیے کالم نگاری بھی شروع کی ۔ مظفرآباد کے ایک روزنامہ اخبار ”صبحِ نو” سے منسلک ہوا ۔ کالم نگاری کے بعد ادبی شخصیات کے انٹرویوز مقامی ہفت روزہ کے لیے کرتا رہا ۔ پہلی کتاب ”احمد عطا اللّٰہ کی غزل گوئی” جنوری2020ء میں منظرِ عام پر آئی۔ ایک کتاب ”آزاد کشمیر میں اردو شاعری” تدوین کر کے شائع کروائی ۔ ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں زبان و ادب پر کالم شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ میری ادارت میں آزاد کشمیر کے ضلع نیلم سے
    پہلی مرتبہ کالج میگزین ”بِساط“جاری ہوا ۔ ”بساط” ضلع نیلم سے شائع ہونے والا اولیں اور تاحال آخریں کالج میگزین ہے ۔ اب تک اس کے دو شمارے شائع ہو چکے ہیں جب کہ تیسرا زیرِ ترتیب ہے ۔ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ سے شائع ہونے والی جماعت یاذدہم کی اردو درسی کتاب کا مدیر بھی ہوں ۔ اس کے علاوہ جماعت اول تا پنچم شائع ہونے والی اردو درسی کتب کی نظر ثانی کمیٹی کا حصہ ہوں ۔
    سوال : آپ کا زیادہ تر رجحان نثر کی طرف ہے یا نظم کی طرف ۔؟
    جواب : میں شعر سے زیادہ نثر پر کام کرتا ہوں اور نثر میں تحقیق زیادہ پسند ہے ۔ میری شائع ہونے والی اور آمدہ تصانیف سبھی تحقیقی ہیں ۔ علاوہ ازیں میرے مضامین اور کالم بھی زیادہ تر تحقیقی یا سوانحی ہوتے ہیں ۔
    سوال : علامہ اقبال سے جو دوسرے شعرا کے اشعار منسوب ہیں آپ نے اس پر کالم لکھے ہیں ۔ تھوڑا قارئین کو آگاہ کریں ۔ ؟
    جواب : اقبال ہمارے ایسے شاعر ہیں جن سے ہرخاص و عام خوب واقف ہے یہی وجہ ہے جو بھی شعر ملتا ہے وہ اقبال کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا کردار خاصا اہم رہا کہ جنھوں نے اقبال کے نام کئی دیگر شعرا کے اشعار تو لگائے ساتھ کئی خارج الوزن چیزیں بھی اقبال کے کھاتے میں ڈال دیں ۔ میں نے اس حوالے سے اکثر اشعار کی تحقیق کی اور اصل شاعر اور درست صورت میں قارئین کے سامنے لائے۔ مثلاً

    اللّٰہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
    املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ
    یہ سرفراز خان بزمیؔ کا کلام ہے جو اقبالؔ کے نام سے غلط مشہور ہے ۔

    کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
    فعلِ بد تو ان سے ہو لعنت کریں شیطان پر
    یہ انشاء اللّٰہ خان انشاء ؔکا شعر ہے جو تحریف کر کے اقبال کے نام سے مشہور ہے ۔
    اسی طرح:

    لکھنا نہیں آتا تو میری جان پڑھا کر
    ہو جائے گی مشکل تری آسان پڑھا کر

    ڈاکٹر آصف پراچہ کا کلام ہے جن کا تعلق سرگودھا سے ہے ۔ اسی طرح بہت سے اشعار کو ان اصل شاعر کے نام کے ساتھ عوام تک پہنچایا میں نے ۔
    سوال: کہا جاتا ہے کہ شاعر یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا آپ کیا کہیں گے ؟
    رانا سعید دوشیؔ صاحب کے مطابق:
    مرحلہ بیچ کا نہیں ہوتا
    عشق ہوتا ہے یا نہیں ہوتا
    اسی طرح اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ شاعر عشق کی طرح یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات خاصی حد تک درست ہے ۔ شاعری میں کچھ چیزیں انسان سیکھ سکتا ہے جیسے رموز یا الفاظی مگر شاعری میں ایک اہم اور بنیادی چیز خیال ہے جو سیکھے سے نہیں سیکھا جا سکتا ۔ آج کل کے دور میں شاعر کم اور متشاعر زیادہ ملتے ہیں ۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں سات سات مجموعے چھپ چکے لیکن شعر ایک بھی نہ نکال سکے ۔ لہذا یہ بات سچ ہے کہ شاعر بنایا نہیں بنایا جا سکتا ۔ ڈاکٹر افتخارؔ مغل کہتے تھے کہ ”اگر شاعر بنایا جا سکتا تو میں اپنے بیٹے کو بناتا۔”
    سوال : آپ نے ادب میں کون سا منفرد کام کیا ؟
    جواب : دعا کریں کچھ ایسا ہو جائے جو انفرادیت کا حامل ہو ۔ میں نے جو بھی کام کیا وہ اپنی تسلی و تشفی کے لیے کیا ۔ میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب قاری دے تو زیادہ مناسب ہے کہ اس کو کون سا کام منفرد لگا ۔ ویسے آزاد کشمیر میں لسانیات پر کام کرنے والا میں ہی ہوں جو پی ایچ ڈی کی سند کے لیے اردو املا و تلفظ پر مقالہ لکھ رہا ہے ۔
    سوال : آپ کشمیر کے ادب پر تھوڑی روشنی ڈالیں ۔
    عبداللّٰہ حسین مرحوم سے ایک نشست میں بات ہوئی کہ ادب میں نثر کی نسبت شاعری زیادہ ہے تو ان کا کہنا تھا کہ نثر اور ناول لکھنے میں وقت اور محنت زیادہ لگتے ہیں جب کہ شعر میں وقت انتہائی کم لگتا ہے ۔ یہی وجہ ہے لوگ ناول نگاری میں طبع آزمائی کم کرتے ہیں ۔ یہ بات سچ ہے ہمارے آزاد کشمیر میں بھی نثر کے مقابل شعر پر زیادہ توجہ دی گئی ۔ شعر کہنے والوں میں ڈاکٹر افتخار مغل ، ڈاکٹر صابر آفاقی ، عبدالعلیم صدیقی(کلام اقبال فارسی، کلام مولانا روم اور کلام شیخ سعدی کا منظوم ترجمہ کرنے والے)، نذیر انجمں، احمد شمیم ، الطاف قریشی ، یامین ، زاہد کلیم ،احمد عطااللّٰہ ڈاکٹر آمنہ بہار، واحد اعجاز میر ، ڈاکٹر ماجد محمود ، اعجاز نعمانی ، رفیق بھٹی ، سید شہباز گردیزیں، آصف اسحاق اور مخلص وجدانی، سعید ارشد سمیت کئی نام ہیں جنھوں نے آزادکشمیر کے شعری ادب میں اپنا حصہ ڈالا ۔
    سوال : چند نمائندہ اور منتخب اشعار سے نوازیے ۔
    جواب : میں کل وقتی شاعر نہیں بس کبھی کبھار کوئی شعر ہو جائے تو کہہ لیتا ہوں ۔ الحمدللّٰہ میرے بعض شعروں کو خاص پذیرائی ملی جن میں سے کچھ اشعار سنا دیتا ہوں۔

    شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
    وہ لہو مصطفیٰ ﷺ کے گھرانے کا ہے

    جا چکے توڑ کے جو رابطے مجھ سے سارے
    میں نے ان سے بھی تعلق کو بنا کے رکھا

    عشق میں ہیں صعوبتیں ایسی
    مجھ کو ہر پل نڈھال رکھتی ہیں

    مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی
    کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی

    وہ جو مزدور بناتے ہیں محل اوروں کے
    ان کا اپنا کوئی گھر بار نہیں دیکھا ہے

    ایک مفلس کا جھونپڑا جس سے
    آرہی ہے صدا سکوں کی مجھے

    میری نسبت ہے علیؑ سے ، ہے نسب میراوہی
    سب صحابہؓ میرے دل میں اور محمد ہیں نبی

    گہری،شدید گہری ہیں شب کی اداسیاں
    ایسے میں تیری یاد نہ آئے تو کیا بنے

    سوال : ماشاء اللّٰہ آپ جوان ہیں اور آپ کا ادبی جذبہ بھی جوان ہے ۔ اس ادبی میدان میں آپ کس حدتک جانا چاہتے ہیں ۔؟
    جواب : میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کے بعد ایک خالص ادبی مجلہ شائع کرنا چاہتا ہوں ۔ علاوہ ازیں میری خواہش ہے کہ ادب میں جہاں تک ممکن ہو کام کیا جائے تا کہ آنے والی نسلوں کے لیے کچھ تو ہو ۔ اردو زبان سے ہمارے طلبہ کی غیر سنجیدگی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے میں اپنی اس زبان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ زبان ایسی ہے جو صرف محبت والوں کی زبان ہے اسے زندہ رہنا ہے ۔ بہ قول شاعر

    اتری ہے مرے واسطے یہ آسماں سے
    ساری زبانیں چھوٹی ہیں اردو زباں سے

    مقبول ذکی مقبول

     بھکر  ، پنجاب پاکستان

  • علوی سے اعوان تک

    علوی سے اعوان تک

    علوی سے اعوان تک

    تحریر وتحقیق

    ملک کامران اختر اعوان

    آخر کیا وجہ تھی کہ اعوان علوی کے بجائے اعوان مشہور ہو گئے ، دراصل یہ قبیلہ حضرت عون عرف قطب شاہ غازی بن علی بن محمد حنفیہ ؒ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد سے ہیں کتاب نسب قریش عربی 156 ہجری تا 236 ہجری لابی عبداللہ المصعب کے صفحہ 77 پر درج ہے کہ "عون بن علی بن محمد( حنفیہ ) بن علی ؑبن ابی طالب ؑکی اولاد بنی عون ہے” انہی عون کی اولاد سے سالار مسعود غازی ؒ بن سالار ملک ساہو غازی بن عطاء اللہ غازی بن طاہر غازی بن طیب غازی بن شاہ محمد غازی بن شاہ علی غازی بن محمد اشھل البقیع عرف اسف غازی بن عون عرف قطب غازی بن علی عبدالمنان بن محمد حنفیہ ؒ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے جو سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے مندرجہ بالا شجرہ نسب منبع الانساب از سید معین الحق جھونسوی قدس سرہ 830 ہجری فارسی صفحہ 103 ، 104 پر درج ہے اور یہ بھی درج ہے کہ سالار مسعود غازی رح سلطان محمود غزنوی بن سبکتگین کے بھانجے تھے اور اسی سالار غازی علوی خاندان کے متعلق تاریخ بیہقی از ابو الفضل بیہقی جو سلطان محمود غزنوی کے فرزند سلطان مسعود کے دور کی کتاب ہے صفحہ 57 پر سالار غازیان و سالار علویان کے حوالے سے ذکر ملتا ہے

    علوی سے اعوان تک

    یہ قبیلہ پہلے علوی بنی عون کے نام سے مشہور تھا جب یہ قبیلہ سلطان محمود غزنوی کے ہمراہ بغرض جہاد فی سبیل اللہ ہند میں داخل ہوا تو یہ لوگ سلطان محمود غزنوی کے اعوان یعنی مددگار کہلائے اعوان کے معنی مددگار ہیں اور یہ خطاب "اعوان” مستقل قبیلہ کی صورت اختیار کر گیا کیونکہ سلطان محمود غزنوی کے اعوان یعنی مددگار کہلانا اس ملک میں قابل فخر تھا اعوان قبیلہ کا اصل علوی ہے کشف المحجوب از داتا گنج بخش ؒاصل نسخہ فارسی میں بھی سلطان محمود غزنوی کے امراء جو اعوان کہلاتے تھے کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ تاریخ بیہقی از ابو الفضل بیہقی صفحہ 57 پر درج ہے "رئیس و خطیب و نقیب علویان و سالار علویان و سالار غازیان ”  کتاب تہذیب الانساب عربی 449 ہجری کے مطابق علی بن محمد اشھل البقیع بن عون بن علی بن محمد حنفیہ بن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے تین فرزندان علی بن علی، موسی بن علی، و الحسن بن علی کے علاوہ باقی یعنی عیسی بن علی، محمد بن علی، احمد بن علی، و الحسين بن علی ہند میں موجود ہیں مندرجہ بالا محمد بن علی و احمد بن علی ابنان علی بن محمد اشھل البقیع بن عون عرف قطب غازی ؒ کو منبع الانساب 830 ہجری از سید معین الحق جھونسوی قدس سرہ نے محمد غازی و احمد غازی درج کیا ہے کشف المحجوب فارسی از سید علی ہجویری المعروف بہ داتا گنج بخشؒ اصل نسخہ میں سلطان محمود غزنوی کے اعوانوں کا ذکر موجود ہے یہ کتاب تقریبا سلطان محمود غزنوی کے دور کی کتاب ہے

    یہ علوی بنی عون قبیلہ جو پہلے ہی اپنے جدامجد حضرت عون قطب شاہ غازی ؒ کے نام کی نسبت سے علوی بنی عون مشہور تھا سلطان محمود غزنوی کے ساتھ جہاد میں شمولیت کی وجہ سے اعوان مشہور ہو گئے جو پہلے ہی اپنے جدامجد کے نام سے بنی عون تھے اور اسی طرح یہ قبیلہ اپنے جد امجد عون قطب شاہ غازی ؒ    کی وجہ سے قطب شاہی بھی کہلاتا ہے برصغیر پاک و ہند میں سالار مسعود غازی ؒ کے چچا سالار ملک قطب حیدر شاہ غازی بن عطاء اللہ غازی ؒ کے گیارہ فرزندان کی اولاد موجود ہے۔

    .

  • چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا زیارت بیلے جنڈ اٹک(ولادت 1503 ء -وفات 1604 ء)

     سر زمین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اولیاء کی درخشاں و تاباں ہستیاں نعمت کبریٰ سے کم نہیں ہیں ۔اولیاء اللہ نے انسان کو انسان سے محبت کا درس دیا ہے۔دکھی انسانیت آج پھر اُن جسے مقدس لوگوں کہ انتظار میں ہے کیوں کہ زمین سے عدل و انصاف اٹھتا جا رہا ہے اور ہم لوگ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔آج پھر کوئی اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ اٹھے ہماری ہوس پرستی کو ختم کرکے ہمارے دل و روح کو محبت سے بھر دے کیوں کہ اب وقت کا یہی تقاضا ہے۔ ماضی میں بھی جب اٹک کی سر زمین ظلم و جبر سے بھر گئی تھی تو حضرت سید عبدالوہاب بُخاریؒ نے اپنے مریدین کو ان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے بدلے میں ولایتِ کے مقام تک پہنچایا اور ظلم و ستم کی سرکوبی کے لیے اٹک کے مختلف علاقوں میں بھیجا ان میں ایک بزرگ حضرت رحمت اللہ بخاری ؒتھے۔

    مختصر تعارف

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا بخارا سے اُچ شریف آنے والے سادات کا فخر ہیں۔آپ کا سلسلہ نسب 26 ویں پشت میں جدّ ائمہ طاہرین اور جدّ اولیاء حضرت علی علیہ السّلام سے جا ملتا ہے۔آپ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے ساتھ ملحقہ گاؤں زیارت میں 1568 عیسوی میں اوچ شریف سے ہجرت کرکے آئے آپ کے والد حضرت احمد شاہؒ بڈھا المعروف زندہ پیر تھے آپ کی ولادت 1503 عیسوی میں ہوئی۔ جو کہ مشہور بادشاہ ابرہیم لودھی کا دور بنتا ہے آپ نے 1604 میں دنیا سے پردہ کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔آپ کی زندگی میں ابرہیم لودھی،ظہیر الدین بابر،نصیر الدین محمد ہمایوں،شیر شاہ سوری اور جلال الدین محمد اکبر بادشاہ گزرے۔آپ کے مرشد حضرت شاہ عبد وہاب ؒتھے آپ کا سلسلہ "بخاریہ” تھا مرشد کی بیعت میں مجاہدات و ریاضات میں 38 سال رھے اور سلسہ سہروردی میں بھی کمال حاصل کیا۔آپ حضرت بہاؤالدین کے مدرسے میں بھی پڑھاتے تھے جو کہ علم و حکمت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

    چھانگلا ولی موج دریا

    حضرت رحمت شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کے پاس ایک عورت آئی کہ میں بے اولاد ہوں اولادِ نرینہ کے لئے دعا کریں۔آپ نے فوراً دعا دی اور کہا کہ اگلے سال اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹا دے گا وہ عورت کہنے لگی کہ میں بہت سارے پیروں،فقیروں اور بزرگوں کے پاس دعا کے لئے گئی ہوں یہ کیسے پتا چلے گا کہ میرا پیدا ہونے والا بیٹا آپ کی دعا سے ہوا ہے آپ اس کی کوئی نشانی بتائیں آپ ؒ نے مسکرا کر کہا کہ اگر اس کے ہاتھوں کی چھ اُنگلیاں ہوئیں تو وہ میری دعا سےہو گا اگر اُس کی پانچ اُنگلیاں ہوں تو کسی اور بزرگ کی دعا سے ہو گا۔یہ سن کر وہ عورت چلی گئی اور ایک سال بعد اُس کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے سرفراز کیا۔جس کی چھ،چھ اُنگلیاں تھیں جس کی وجہ سے لوگ اس بچے کو چھ انگلا کہنے لگے اُس عورت نے لوگوں کو اس کی وجہ بتا دی تو لوگوں نے آپ کو چھ اُنگلا بچے کے دعا دینے والا ولی مشہور ہونے لگا چھ انگلا کہتے کہتے چھانگلا ولی مشہور ہو گئے۔آپ کو مرشد نے موج دریا کا لقب دیا آپ کے نام کی وجہ تسمیہ اس لیے چھانگلا ولی موج دریا بنی۔

    چھانگلا ولیؒ موج دریا
    موج دریا

    کرامات

    آپ کی مشہور کرامات یہ ہیں پرندوں سے ہمکلام ہونا،پتھروں کا بیڑا دریا سندھ میں چلانا،پیر نارا کے سر پر سینگ نکالنا جس کی نشانی اب بھی اُن کی نسل میں موجود ہے،ڈاکوؤں نے مذاق کیا زندہ آدمی کا جنازہ آپ سے پڑھوایا تو جنازہ مکمل ہونے کے بعد بندہ حقیقت میں مر چکا تھا۔جنات کو قرآن مجید پڑھانا،جادو گر بدھو کراڑ سے مقابلہ کرنا جادوگر بدھو کراڑ مقابلے کی غرض سے جب اپنے جادو کے بل بوتے پر ہوا میں اُڑا تو آپ کا اپنے جوتوں کو حکم دینا اور ہوا میں بدھو کراڑ کی پٹائی کر کے زمین پرگرانا اور جادو گر کا تائب ہونا۔ایسا ہی ایک جادوگر باغ نیلاب کے مقام پر تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ کے مرشد پیر عبدالوہاب بُخاری نے حضرت نوری سلطان کو بھیجا جس کا ذکر انگریز مورخ لیبل ایچ گرفن نے اپنی کتاب پنجاب چیفز کے صفحہ 563 پر کیا۔ تربوزوں کو پتھر بنانا ،بہت بڑے سانپ کو پتھر بنانا،آپ کے حکم عدولی پر لوگوں کےگھروں سے کیڑوں کا نکل انا اور جانوروں تک کا بھاگ جانا معافی مانگنے پر دوبارہ کیڑوں کا غائب ہو جانا۔اپنے اخلاق و کردار سے لاکھوں افراد کو کلمہ پڑھایا اور اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ حضرت چھانگلا ولیؒ موج دریا زیادہ تر فاقہ کی حالت میں رہتے تھے عبادت کے لیے کم سوتے تھے اور بحال قوت کے لیے دودھ پیتے تھے۔۔

    اقوال

    آپ کے اقوال اج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور سونے کے پانی لکھنے کے قابل ہیں وجود کی تاثیر نیت کے خلوصِ سے بنتی ہے۔معرفت والے انسان کا زیادہ کھانا اور سونا اُس کی طاقت پرواز کم کر دیتا ہے۔ نفس کو پھلینے دینا اولیاء کے نزدیک فقر کی موت ہے نفس امارہ ایسا شیطان ھے جو آدم علیہ السلام کے سجدے کی حقیت کو اج بھی جھٹلاتا ہے۔کھانا کھاؤ معرفت خدا کی ریاضت کے لیے اور دودھ پیو قوت بحالی کے لیے۔جنات تک اسلام پہنچانا بزرگان دین پر واجب ہے۔ بندوں کا خیال رکھنا بندوں کی مدد کرنا اور بندوں کو عاجزی سے ملنا مخفی بندگی۔ اج بھی لاکھوں افراد آپ کے دربار پر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر جاتے ہیں اور ان کی منتیں پوری ہوتی ہیں

    حوالہ تحریر روزنامہ اساس 27 دسمبر