Tag: کھٹڑ

  • سردار سکندر حیات خان کا سانحہ ارتحال

    سردار سکندر حیات خان کا سانحہ ارتحال

    سردار سکندر حیات خان کا سانحہ ارتحال


    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)
    ضلع اٹک کی تحصيل فتح جنگ سے دو مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے، کھٹڑ قبیلہ کی معروف شخصیت، سابق صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات پنجاب، سردار سکندر حیات خان 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار لاہور میں انتقال کر گۓ قالو انا للہ وانا الیہ راجعون-
    مرحوم تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنما، قئداعظم محمد علی جناح اور مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے قریبی ساتھی سردار شوکت حیات خان مرحوم کے صاحبزادے اور قیام پاکستان سے پہلے متحده پنجاب کے پہلے مسلمان گورنر اور وزیراعظم منتخب ہونے والے سر سردار سکندر حیات خان آف واہ گارڈن کے پوتے تھے- مرحوم کی نمازجنازہ انکی رہائشگاہ واقع وومنز ہاؤسنگ سوسائٹی راۓونڈ روڈ لاہور میں 8 اکتوبر بروز منگل سہ پہر تین بجے ادا کی گئی اور انکے جسدخاکی کی تدفین میانی صاحب قبرستان لاھور میں ہوئی – انکی وفات سے حیات خان فیملی کھٹڑ آف واہ کی سیاسیت کا ایک اہم باب بند ہو گیا-

    سردار سکندر حیات خان کا سانحہ ارتحال


    مرحوم نے ایک ایسے خاندان میں آنکھ کھولی جنکی سیاست کا طوطی پورے برصغیر میں بڑھ چڑھ کر بول رہا تھا نہ صرف انکے دادا پنجاب کے پہلے مسلمان وزیراعظم تھے بلکہ انکے دادا کے بڑے بھائی سرلیاقت حیات خان بھی ریاست پٹیالہ کے وزیراعظم رہے تھے اور مرحوم کے والد میجر سردار شوکت حیات خان نے خضر حیات ٹوانہ کی متحدہ پنجاب کی حکومت میں کابینہ سے الگ ہو کر تحریک پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ جدوجہد کی اور قائداعظم نے انہیں ”شوکت پنجاب“ کا خطاب دیا تھا-
    سردار سکندر حیات بطور طالبعلم رہنما جنرل ایوب خان کے مارشل لإ کے دور میں سیاسی و احتجاجی تحریکوں میں بڑے متحرک رہے اور انکے والد سردار شوکت حیات کو جنرل ایوب کی مخالفت اور مادرملت کا ساتھ دینے کی پاداش میں سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کیلئے نہ صرف واہ گارڈن کو راولپنڈی میں شامل کیا گیا بلکہ انکے خاندان اور دیگر عزیز و اقارب کے ملکیتی کئی کاروبار مثلاً اٹک، واہ اور پنڈی کے بجلی گھروں سمیت لاھور میں بھی واقع انکی ملکیتی زمین اور کئی کاروبار قومیا لۓ گۓ تھے اور ہر قسم کی انتقامی کاروائیاں روا رکھی گئیں لیکن اس کے باوجود سردار شوکت حیات مرحوم پیپلزپارٹی کی مقبولیت کے حوالے سے چلی ہوئی لہر اور کنونشن مسلم لیگ جس کے بانی جنرل ایوب خان تھے کی طرف سے روا رکھی گئی انتقامی کاروائیوں کے باوجود 1970 کے قومی انتخابات میں کیمبلپور موجودہ اٹک کی دو تحصیلوں فتح جنگ اور اٹک پر مشتمل قومی اسمبلی کے حلقے سے کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر نہ صرف ایم این اے منتخب ہوۓ بلکہ آئین پاکستان 1973 کی تیاری و متفقہ منظوری اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی آئینی ترمیم کیلئے متحدہ اپوزیشن کے ایک اہم رہنما کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا جسکی وجہ سے وہ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بھی قریب ہو گۓ جنہوں نے انکے صاحبزادوں سکندر حیات اور مقبول حیات کی شادیوں میں خصوصی طور پر واہ گارڈن میں شرکت کی جس پر کہا گیا کہ شوکت حیات پیپلزپارٹی میں شامل ہو گۓ ہیں-
    سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی سیاسی اٹھان میں سردار سکندر حیات خان نے بھی کردار ادا کیا انہوں نے نہ صرف 1985 میں میاں نوازشریف کی لاہور میں بطور امیدوار ایم پی اے انتخابی مہم میں کردار ادا کیا بلکہ موجودہ وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ جا کر مختلف اضلاع بالخصوص پنڈی ڈویژن میں ایم پی ایز سے نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کیلئے ووٹ بھی حاصل کۓ اور انہیں وزیراعلیٰ بنوانے میں اہم اور متحرک کردار ادا کیا تھا لیکن میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کیساتھ انکی سیاسی ہم آہنگی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور وہ بے نظیر بھٹو کی 1986 میں وطن واپسی پر 1988 کے قومی انتخابات سے پہلے 1987/1986 میں پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے تھے اور ایک طویل عرصہ تک پیپلزپارٹی کے ساتھ وابستہ رہ کر اپنے آبائی علاقہ ضلع اٹک سے بھرپور اور متحرک سیاسی کردار ادا کرتے رہے- وہ 1988 اور 1993 میں ایم پی اے منتخب ہوۓ جبکہ1990 اور 1996 میں الیکشن نہ جیت سکے-


    محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی شہادت کے بعد 2008 سے 2013 تک رہنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت سے کچھ خوش نہیں تھے جسکی بنإ پر غالباً 2013 میں عمران خان سے ملاقات کر کے انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا لیکن عملاً سیاسی طور پر وہ 2013 سے ہی انتخابی سیاست سے الگ ہوکر نہ صرف غیرمتحرک ہو گۓ بلکہ گوشہ نشین ہو گۓ تھے جسکی بڑی وجہ یقیناً کینسر جیسے موذی مرض سے انکی لڑائی تھی اور اسی مرض سے ہی 7 اکتوبر 2024 بروز سوموار لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے- مرحوم نے اپنی بیوہ، بیٹی، چھوٹے بھائی سردار مقبول حیات خان اور صاحبزادے سردار محمد علی حیات خان سمیت دیگر اہل خانہ اور برادری کو سوگوار چھوڑا ہے –
    میرے بڑے بھائی شہید صحافت محمد اسماعیل خان سابق بیورچیف اسلام آباد روزنامہ فرنٹئیرپوسٹ کے ساتھ بھی انکے بہت اچھے روابط تھے جبکہ میرے والد صاحب محمد یعقوب خان مرحوم و مغفور آف دورداد کارکن تحریک پاکستان کی انکے بزرگوں کیساتھ سیاسی وابستگی اور بہت اچھے ذاتی تعلقات کی وہ ہمیشہ قدر کرتے تھے دعا ہے اللہ کریم مرحوم کی کامل بخشش فرماۓ اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے آمین ثم آمین
    سردار سکندر حیات نے ایچی سن کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی وہ زمانہ طالبعلمی میں جنرل ایوب خان کے مارشل لإ کے خلاف طلبہ تحریک میں متحرک رہے وہ نہ صرف پنجاب بھر کے کالجوں میں جا کر طلبہ یونین کے اجتماعات سے ایوبی آمریت کیخلاف خطاب کرتے تھے بلکہ انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور انہوں نے بڑی بہادری سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں وہ ایک بہادر طالبعلم رہنما تھےجنہیں ایوبی دور حکومت میں لاہور قلعہ کے عقوبت خانے میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا، ان کو برف کی سلوں پر لٹا کر طلبإ تحریک سے دور رکھنے کی کوششیں کی گئیں لیکن انہوں نے ہر قسم کی سختی، جبر اور تشدد کا مردانہ وار مقابلہ کیا- مرحوم نے سیاست میں اپنی خاندانی وضع داری اور وقار کو ہمیشہ ملحوظ رکھا اگرچہ ان کی سیاست کا زیادہ وقت اپوزیشن میں گزرا لیکن مختصر عرصہ کیلئے جب وہ دو دفعہ ایم پی اے منتخب ہوۓ تو دوسری دفعہ وہ میاں منظور وٹو کی کابینہ میں پنجاب میں صوبائی وزیر بھی رہے تو انہوں نے تحصیل فتح جنگ میں کئی تعمیر و ترقی کے منصوبے مکمل کرواۓ یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر آج بھی ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف وزارت بڑے دھڑلے سے چلائی بلکہ اپنے آپ کو روپے، پیسے کی سیاست اور کرپشن سے ہمیشہ دور رکھا انکے ایک عزیز اور برادری دار سردار ساجد محمود خان آف پنڈ فضل خان کا کہنا ہے کہ ”وہ جب صوبائی وزیر مواصلات تھے، ان دنوں محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے ساتھ امریکہ جانے والے وفد میں شامل تھے، دورے سے واپسی کے بعد میرے پاس ڈیوٹی فری شاپ بلیو ایریا اسلام آباد تشریف لائے، میں ان دنوں وہاں ایڈمن آفیسر تھا، مجھے کہتے ہیں کہ چلو وزیراعظم سیکرٹریٹ جا کر کچھ ڈالرز بچے ہوئے ہیں وہ جمع کروا دیں۔ انتہائی ایماندار انسان تھے، ورنہ آجکل تو حکومتی خزانے کو کھانا وزارت کا حصہ سمجھا جاتا ہے“
    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا-

    دامن خیال
  • سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ

    سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ

    سیرت آگاہی،بزم کھٹڑ


    کالم نگار :۔ سید حبدار قائم

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ اللہ رب العزت نے بنی نوع انسان کے لیے نمونہ قرار دیا ہے آپ ﷺ کی سیرت کا فروغ بہت ضروری ہے سیرت سے آگاہی اور اس پر عمل کرنے سے ہی ایک متوازن معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے
    سوشل میڈیا پر بہت ساری ادبی تنظیمیں اور گروپ متحرک ہیں جن میں نئے لکھاریوں کے لیے سیکھنے کے بہت مواقع میسر ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر فروغ نعت پر بہت سارے مشاعرے طرح مصرع پر منعقد کرائے جا چکے ہیں اور ہنوز سلسلہ جاری ہے بزم کھٹڑ نے 20 اپریل سے 25 اپریل 2024 تک سیرت آگاہی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے جس میں نثری کاوشیں شامل ہیں مشاعرے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی جائے گی ہمارے آقا حضور ﷺ پر نور جب تبسم فرماتے تھے تو رات کے اندھیرے میں دانت مبارک سے نکلنے والی روشنی سے اماں حضرت عائشہؓ سوئی تک ڈھونڈ لیتی تھیں
    جو شخص آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھ لیتا اسلام قبول کر لیتا تھا آپ کا اسوہ حسنہ نمونہ قرار دیا گیا آپ ﷺ کے فضائل و شمائل اتنے زیادہ ہیں کہ شمار نہیں کیے جا سکتے ادبی تنظیم بزم کھٹڑ ان فضائل پر آئندہ بھی پروگرام منعقد کراتی رہے گی
    سیرت آگاہی کے لیے بزم کھٹڑ کا سوشل میڈیا پر پروگرام منعقد کرنا میرے خیال میں اچھوتا ہے اس بار بہت کم افراد نے اس میں حصہ لیا ہے جن افراد نے سیرت کے چند پہلووں کو اجاگر کیا وہ مندرجہ ذیل ہیں

    حضور ﷺ کا اسوہ ٕ حسنہ سارے جہاں کے لیے نمونہ قرار دیا جانا دنیا کا سب سے بڑا میڈل ہے جو رب نے آپ ﷺ کو عطا فرمایا. آپ ﷺ کا رحم کرنا نہ صرف انسانوں بل کہ کائنات کی ہر مخلوق سے افضل ہےاسی لیے رحمت اللعالمین قرار دیے گئے. آپ ﷺ خوشبو پسند فرماتے اور خوشبو لگانے کا حکم دیتے تھے اور خود جہاں سے گزرتے گلیوں میں آپ کی خوشبو آپ کے گزرنے کی خبر دیتی تھی
    سید حبدار قائم

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یتیم کے سر پر ہاتھ رکھتے تھے اور امت کو بھی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے اور شفقت کرنے کا حکم صادر فرماتے تھے. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سادہ رہتے تھے اور سادگی کو پسند فرماتے تھے
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نگاہیں جھکا کر چلتے تھے اور دوسروں کو بھی نگاہیں جھکا کر چلنے کا حکم صارر فرماتے تھے
    مظہر علی خان کھٹڑ

    آپ ﷺ ایمانداری کا حکم دیتے تھے کیوں کہ آپ ﷺخود ایماندار تھے آپ ﷺ اتنے شفیق تھے کے آپ کی بارگاہِ اَقدس میں پرندے بھی اپنی شکایات بیان کرتے تھے آپ سن کر ان کا حل نکال لیا کرتے تھے.آپ ﷺاتنے رحم دل تھے کہ جنگل کی ہرنی نے جب شکایت کی تو اسی وقت اس کا ازالہ فرما دیا آپ جانوروں پر رحم کا حکم صادر فرماتے تھے
    علامہ اَلماسُ عباسی لاڑکانہ سندھ

    جب جنات و شیاطین کا آسمان پر جانا بند کردیا گیا تو وہ لوگ آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آخر ماجرہ کیا ہے کہ ہم لوگ اب آسمان پر نہیں جا پا رہے ہیں. دراصل جنات و شیاطین آسمان پر جاتے اور چپکے سے فرشتوں کی باتیں سن کر نجومی اور جادوگروں کو آ کر بتا دیتے تھے اور نجومی حضرات عام لوگوں کو کچھ ایسے انداز میں آسمان والوں کا حال بتاتے کہ عام لوگوں کو لگتا کہ یہ اپنے جادو کے کمال سے بتا رہے ہیں اسی وجہ سے آسمان پر جانا بند کردیا. اس وجہ سے جنات مشورہ کرکے دنیا میں چاروں طرف تلاش کرنے لگے کہ آخر دنیا میں اب کونسی چیز آ گئی کہ جس کی وجہ ہم آسمان پر نہیں جا پا رہے ہیں تو کچھ جنات ایک ایسی جگہ پہنچے جس کانام مقام نخلہ ہے تو وہاں ان جنات نے دیکھا کہ حضور علیہ السلام مغرب یا عشا کی نماز پڑھا رہے تھے تو جنات نے کہاں اچھا یہی وہ ماجرہ ہے جس کی وجہ ہمارا آسمان پر جانا بند ہوگیا پھر ان جنات نے تلاوت کو غور سے سنا ان جنات کو تلاوت اتنی پسند آئی کہ وہ سب ایمان لے آئے اور بھی ایسے بہت سارے واقعات ملتے ہیں. حضور علیہ السلام جب بچپن کے زمانے میں چلتے پھرتے تو حضور کو سارے درخت جھک کر سلام عرض کرتے تھے. جب آپ کی پیدائش ہوئی اس وقت عرب میں قحط سالی کا زمانہ تھا جونہی آپ پیدا ہوۓ قحط سالی کا ازالہ ہوگیا بتکدے خود بخود گڑ پڑے ۔
    تقی یونس

    آپ محمد رسول اللہ ہیں
    آپ خاتم الانبیاء ہیں
    آپ رحمۃ للعالمین ہیں
    انعام الحق معصوم صابری

    اللهم صل على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى ال سيدنا محمد كما صليت وسلمت و باركت على سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد

    سیرت رحمت العالمین کے چند گوشے
    آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کسی کے لئے مجسم محبت و شفقت تھے آپ سے محبت کرنے والے کے لئے تکمیل ایمان کی بشارت آپ نے ارشاد فرمائی ہے۔ہر کسی سے محبت و شفقت کا رویہ ہمارے لئے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے۔
    آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کرنے والا بندہ اللہ تعالٰی کا محبوب بن جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی اتباع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کامل محبت کے بغیر نہیں کی جا سکتی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کی عظمت پر فائز اور نرم خو اور نرم دل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین ہر حال میں آپ پر جان و دل سے فدا رہتے تھے.آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اخلاقِ عظیم ہمارے لئے اسوہ ٕ کامل ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے معلم یعنی استاد بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلیم و تربیت پانے والے آپ کی شفقت کے اسیر تھے۔بحیثت معلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والے معلمین کے لئے مینارہ ٕ نور ہے۔
    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا لباس اور خوراک سادہ اور معمولی ہوا کرتی تھی اپنے ساتھیوں کے درمیان تشریف فرما ہوتے تو کسی اجنبی کے لئے آپ کے لباس اور بیٹھنے کے انداز سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا مشکل ہوتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ حسنہ قیامت تک آنے والے قائدین اور مراجع کے لئے مینارہ ٕ نور ہے۔
    اللهم صل على سيدنا ونبينا وحبيبنا محمد وعلى ال سيدنا محمد كما صليت وسلمت و باركت على سيدنا ابراهيم وعلى آل سيدنا ابراهيم انك حميد مجيد
    عارف علوی ریور گارڈن اسلام آباد

    رسول اللہ ﷺصداقت و امانت کے ایسے گرویدہ تھے کہ بچپن سے آپ ﷺ صادق و امین کے لقب سے یاد کیے جانے لگے اور دوست تو دوست دشمن بھی آپ ﷺکے اس وصف کا اقرار کرتے تھے چنانچہ قبائلِ قریش نے ایک موقع پر بیک زبان ہوکرکہا کہ ہم نے بارہا تجربہ کیا مگر آپ ﷺ کو ہمیشہ سچا پایا۔ یہ سب قدرت کی جانب سے ایک غیبی تربیت تھی کیونکہ آپ ﷺ کو آگے چل کر نبوت و رسالت کے عظیم مقام پر فائز کرنا تھا اور تمام عالم کے لیے مقتدیٰ بنانا تھا اور امت کے لیے آپ ﷺکی زندگی کو بطورِ اْسوۂ حسنہ پیش کرنا تھا۔
    پیرسید مختارگیلانی قادری
    ایراڑہ شریف،باغ آزادکشمیر

    وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ
    جس نے غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
    نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر
    وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں وہی طٰہٰ
    قطرہ سمندر کی بات کرے تشنگی کوثر کی بات کرے مجھ جیسا ناچیز انسان اس رحمت العالمینﷺ کی بات کرے کہ جس کے بارے میں بڑے بڑے مورخین واعظین حافظین ذاکرین محدیثین اور علماء نے غواصی کی اس سمندر میں غوطہ زن ہوۓ مگر یہ موضوع ایسا ہے کہ بڑھا تو بڑھتا چلا گیا اور پھیلا تو پھیلتا چلا گیا آخر کہنے والوں کو مجبوراً کہنا پڑا بعد از خدا بزرگ تو ہی قصہ مختصر
    نماز اچھی حج اچھا روزے اور زکوۃ اچھی
    سواۓ اس کے میں مسلماں ہو نہیں سکتا
    نہ کٹ مروں میں جب تک خواجہ یثرب کی عزت پر
    خدا شاہد کہ کامل مرا ایماں ہو نہیں سکتا
    سردار نثار عباس غازی کھٹڑ تھٹہ جنڈ

    اللهم صل على سيدنا محمدِِ نبی امی و علٰی آلِ وسلم تسلیما۔
    حضور ﷺ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہؐ جیسا آگے دیکھتے تھے ویسا ہی پیچھے بھی دیکھتے تھے۔
    حضور ﷺ جہاں بھی جاتے تھے بادل کا ٹکڑا ان کے اوپر چھتر چھایا کرتی تھی۔ جس سے انؐ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔ یہ اللہ کا معجزہ ہے کہ حضورﷺ کی تصویر بننا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔
    حضور ﷺجس طرح انسانوں کا درد محسوس کرتے تھے اسی طرح جانوروں کا درد بھی محسوس کرتے تھے۔
    انسانوں اور حیوانوں پر صلہ رحمی کرنا آپﷺ کی اولین ترجیحات میں شامل تھا
    جنگِ اُحد کے دوران جب حضورﷺ کا دندانِ مبارک شہید ہوا تو خون زمیں پر پڑنے سے پہلے حضرت جبریل امین نے اللہ کے حکم سے ہوا میں اڑایا۔
    سبحان اللہ ۔
    صدا کشمیری سرینگر انڈیا

    سیرت آگاہی کے اس پہلے پروگرام میں بہت کم افراد نے شرکت کی اور اپنی بساط کے مطابق اظہارِ خیال کیا مجھے بہت خوشی ہے کہ بزمِ کھٹڑ نے اندھیروں میں ایک چراغ روشن کیا ہے جس کی روشنی چار سو پھیلے گی اور یہ تنظیم آئندہ بھی ایسے پروگرام جاری رکھے گی اس بار پروگرام میں شامل ہونے والے افراد کی تحریریں تزئین کی گئی اور ان افراد کو منتظمین کی طرف سے دستخط شدہ برقی سند سے بھی نوازا کیا
    آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری توفیقات میں مزید اضافہ فرماۓ۔ آمین

    Title Image by Abdullah Shakoor from Pixabay

  • چھانگلا ولی اور جادو گر

    چھانگلا ولی اور جادو گر

    چھانگلا ولی اور جادو گر

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    ٹلہ جوگیاں سے آنے والے جادوگروں نے مختلف علاقوں کے لوگوں کو اپنے جادو سے تنگ کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے مرشد نے  حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موجِ دریا کو زیارت گاوں کی طرف رختِ سفر باندھنے کا حکم دیا آپ کے علاوہ باغ نیلاب کے لوگوں کو جادوگر کے فتنہ سے بچانے کے لیے حضرت نوری سلطانؒ کو حضرت پیر سید عبدالوہابؒ نے بھیجا تھا ۔

    یہ جادوگر سادہ لوح انسانوں کو دھوکہ دے کر مال بٹورتے تھے اور اپنی خواہشات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ایسے واقعات کا ذکر کتابوں میں بھی ملتا ہے حضرت نوری سلطانؒ سے منسوب پنجاب چیفز کے صفحہ نمبر 563 پر لیبل ایچ گرفن نے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یوں رقم کیا ہے

    "کھٹڑ جو کہ مسلمان تھے انہی دنوں ایک ہندو جوگی نیلاب آیا اور ایک طاقتور جادو سے پوری آبادی کو ہندو ازم کی طرف مائل کر دیا اس نے نہ صرف لوگوں بلکہ چوپاوں پر بھی جادو کیا جس کی وجہ سے مویشیوں کے تھنوں سے دودھ کی بجاۓ خون آتا جب یہ خبر شاہ عبدالوہاب تک پہنچی جو کہ ایک ولی کامل تھے جن کی رہائش اُچ ضلع لیہ میں تھی انہوں نے اپنے بیٹے نوری سلطان عبدالرحمان کو روانہ کیا تاکہ لوگوں کو دوبارہ حقیقی اسلام کی طرف واپس لائیں انہوں نے نیلاب کی جانب سفر اختیار کیا اور قبضہ کے مضافات میں ایک بوڑھی عورت سے ملے اور اس سے دودھ طلب کیا اس عورت نے اس آفت کے بارے میں بتایا جو کہ جانوروں پر آ پڑی لیکن اس کے باوجود عبدالرحمٰن سرکار نے دودھ کے لیے اصرار کیا اور ان کے ایمان کے بدلہ میں گاۓ کے تھنوں سے خون کے بدلے سفید دودھ شروع ہو گیا جوگی نے جب ولی کامل کی خبر سنی تو اس نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے پتنگ کی صورت اختیار کی مگر عبدالرحمٰن اس کے قریب نہ آۓ نوری سلطان نے اس بندے کی جانب جوتا پھینکا اور وہ مر کر پتھروں کے درمیان گر گیا ان لوگوں نے ہندو ازم کو چھوڑ دیا اور واپس اسلام کی جانب لوٹ آے یہ حقیقت نہیں ہے کہ کھٹڑ اور اعوان ہندو تھے بلکہ یہ ایک عارضی حادثہ تھا جو ان کے ساتھ پیش آیا۔”

    (دی پنجاب چیفز از لیبل ایچ گرفن صفحہ 563 ماخد کتاب نیلاب وکھٹڑ مصنف عمران کھٹڑ )  

    مرشد کا حکم پانے پر آپ جادوگر کی سرکوبی کرنے کے لیے تحصیل جنڈ کے موضع زیارت پہنچے چوں کہ حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا فاقہ کشی کرتے اور غذا میں صرف دودھ استعمال کرتے تھے۔ اس لیے کہتے ہیں جب زیارت میں آپ نے قیام کیا تو شروع میں دریا کے کنارے ہی اپنے بیڑے کے پاس ٹھہرے اور آتے ہی اپنے مریدین کو حکم دیا کہ جاؤ زیارت  گاؤں سے دودھ لے کر آؤ آپ کے مریدین نے حکم کی فورًا تعمیل کی اور گاؤں پہنچ گۓ جس گھر میں بھی جاتے وہ یہی کہتے کہ خود ہی بکری سے دودھ نکال لو۔ جس بکری کو بھی دوہتے تو تھنوں سے دودھ کی بجاۓ خون نکلتا۔ بکری کےمالکان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں کا جادوگر بدھو کراڑ جب حکم دیتا ہے اس وقت بکری دودھ دیتی ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر خون ہی نکلتا ہے اور جو کسان اسے غلہ نہیں دیتا اس کے غلے میں آگ لگ جاتی ہے۔ چنانچہ مریدین خالی ہاتھ لوٹ گۓ جب آپ کو پتہ چلا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اب جاؤ بکریاں دودھ ہی دیں گی مریدین پھر گۓ اور بکریوں سے دودھ لے کر آۓ۔

    شام کے وقت جب جادوگر بدھو کراڑ کے بندے دودھ دوہنے گۓ تو کسی بھی بکری سے دودھ حاصل نہ کر سکے جب بکری کے مالک  سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دریا کے کنارے ایک بزرگ آیا ہے اس نے سارا دودھ رقم دے کر لے لیا ہے۔

    چھانگلا ولی اور جادو گر

                  جادوگر بدھو کراڑ کے نوکروں نےجب بدھو کراڑ کو بتایا کہ معاملہ کیا ہے؟ تو جادوگر اپنے دوستوں کے ہمراہ حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا سے مقابلے کے لیے نکلا دریا کے کنارے پہنچا تو آپ آرام کر رہے تھے۔ اس نے کہا کہ یہ میرا علاقہ ہے آپ یہاں سے چلے جائیں۔ اگر یہاں رہنا ہے تو مجھے اپنی کرامت دکھائیں ۔آپ رحمت اللہ نے فرمایا  پہلے آپ دکھاؤ اس جادوگر نے منتر پڑھا اور فضا میں اڑنے لگا آپ نے اپنے جوتے کو حکم دیا کہ اس جادوگر کی ہوا میں اچھی طرح پٹای کر کے نیچے اتار لاؤ ۔ چنانچہ آپ کے جوتے نے جادوگر بدھوکراڑ کی فضا میں اتنی پٹائی کی کہ وہ آپکے قدموں میں گرا اور معافی کا خواستگار ہوا آپ نے اس کو معاف فرمایا اور اس نے اور اس کے تمام دوستوں نے اسلام قبول کرکے آپ کی بیعت بھی کر لی مسلمانوں اور غریب ہندوؤں کو جادوگر کی بدمعاشیوں سے نجات مل گئی اور سارا گاؤں مشرف بہ اسلام ہو کر توحید کے نغمے گانے لگا۔ گاؤں میں مسجد بنائی گئی جہاں باجماعت نماز اور اذان کی صدا گونجنے لگی۔ کیونکہ یہی لا الہ کے حقیقی وارث تھے حضرت علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں

    اے لاالہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

    گفتارِ دلبرانہ،  کردارِ قاہرانہ

    تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

    کھویا   گیا  ہے  تیرا جذبِ قلندرانہ

    یہ لاالہ کے وارث اولیا جب جذبِ قلندرانہ کی چال چلتے ہیں تو ان کے جوتے بھی ہندوؤں کو مسلمان بنا لیتے ہیں ۔ یہ جب ایک نگاہ کرتے ہیں تو لوگوں کے دل سینوں میں کانپتے ہیں اور وہ اسلام قبول کر کے قلندرانہ جذب و مستی سے مزہ لیتے ہیں بزرگانِ دین کی دلبرانہ گفتگو سے لاکھوں کافر مسلمان ہوۓ اور ہم ہیں کہ پیٹ کی پوجا میں لگے ہوۓ ہیں ۔ اسلام اور اپنے اسلاف کا ہمیں علم ہی نہیں ہے وہ اپنی نگاہ سے دریاٶں کے رخ موڑ دیتے تھے ۔ اپنے اشاروں سے چاند کے ٹکڑے کر دیتے تھے اپنے خیال سے دیوار دوڑا لیتے تھے لیکن وہ جزبہ وہ ریاضت وہ مشاہدہ وہ عبادت کہاں سے لائیں وہ بستیاں کہاں گئیں  جن میں ایسے فرشتوں سے بہتر بزرگوں کا قیام تھا۔ یہ مساجد  الله أكبر کی صدائیں تو دیتی ہیں لیکن صداے بلالیؓ کہاں ہے  میرا سلام ہو حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موجِ دریا پر جنہوں نے سر زمین اٹک میں اسلام کا پرچم بلند کیا ۔کیونکہ آپ کی آمد سے کفر و شرک کی ژالہ باریاں ختم ہوئیں ۔

    یہ واقعہ تھٹی سیدو شاہ گاوں کے بزرگ سید اعجاز حسین شاہ نے مجھے اس وقت سنایا جب وہ ہمارے گھر غریبوال میں تشریف لاۓ تھے۔

    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین

  • کھٹڑ قبیلے کا پہلا کنونشن

    کھٹڑ قبیلے کا پہلا کنونشن

    کھٹڑ قبیلے کا پہلا کنونشن

    22 اکتوبر بروز اتوار کو کھٹڑ قبیلہ کا پہلا کنونشن اٹک حویلی حال میں منعقد ہوا


    کھٹڑ قبیلہ کی شناخت اور آل پاکستان سے کھٹڑ قبیلہ میں اتحاد و یگانگت لانے کے لیے یہ کنونشن منعقد کیا گیا اس میں کھٹڑ قبیلہ اتحاد کے چیٸرمین سردار خالد اقبال خان کھٹڑ سردار ربنواز خان کھٹڑ سردار عبد الرشید خان کھٹڑ سردار عمران خان کھٹڑ سردار نومی خان کھٹڑ سردار محسن خان کھٹڑ اور دیگر فرزندان کھٹڑ نے بہت خوبصورت انداز میں خطاب فرمایا.

    کھٹڑ قبیلے کا پہلا کنونشن

    سردار مظہر علی خان کھٹڑ نے کھٹڑ قبیلہ پر خوبصورت اشعار پڑھ کر محفل کو خوب گرمایا اس تقریب میں کھٹڑ قوم میں نمایاں کارکردگی والے افراد کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا عمران کھٹڑ کی قبیلے پر لکھی گئی کتاب اور مظہر علی خان کھٹڑ کا لکھا ہوا نعتیہ مجموعہ ” ثناۓ محمد ” بھی شرکاء میں تقسیم کیا گیا تقریب کے آخر میں ایک خوبصورت ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا