Tag: کرسمس

  • انڈیا میں مسیحی برادری پر حملوں کی لہر

    انڈیا میں مسیحی برادری پر حملوں کی لہر

    انڈیا میں مسیحی برادری پر حملوں کی لہر

    Dubai Naama

انڈیا میں مسیحی برادری پر حملوں کی لہر

    کرسمس کے موقع پر بھارت میں ہندوؤں نے مسیحی برادری پر حملے کر کے جو تشدد، ہلڑبازی اور توڑ پھوڑ کی اسے دنیا بھر میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ کرسمس مسیحی برادری کا مقدس تہوار ہے لیکن اس خوشی کے موقع پر بھارت کے متعدد علاقوں میں عیسائی برادری پر اس سال حملوں میں مزید اضافہ ہوا جس پر ہر طرف سے تنقید کی بوچھاڑ ہو رہی ہے حتی کہ خود بھارتی اپوزیشن مودی سرکار کے لتے لے رہی ہے۔ ہندو اکثریت انڈیا میں دن بدن اقلیتوں کا جینا مشکل کر رہی یے۔ ان کے مطابق ہندوستان ہندوؤں کا دیش ہے، اسی لیئے اسے "ہندوستان” کہا جاتا ہے، جہاں ان کی نظر میں دوسرے مزاہب کے ماننے والوں کے رہنے کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی بھی "ہندو توا” کے اسی بنیادی فلسفہ پر یقین رکھتے ہیں۔ جب وہ گجرات کے وزیراعلٰی تھے تو مسلم کش فسادات کو ہوا دینے میں بھی ان کا بنیادی کردار تھا۔ اب وہ وزیراعظم ہیں تو ان کی کوشش ہے کہ ہندوازم کی بنیاد پرستانہ سوچ کو پورے ہندوستان پر نافذ کر دیا جائے۔

    اس وقت دنیا بین المذاہب اور امن و آشتی کے آفاقی معاشرے کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن بھارت میں موجود ہندو اکثریت بدستور تعصب اور عدم برداشت کے فلسفے پر کاربند نظر آتی ہے جس کی سرپرستی ہندوستان کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی کر رہے ہیں۔ ہر سال مسیحی برادری دنیا بھر میں 25 دسمبر کو حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم پیدائش کے طور پر مناتے ہیں جسے "کرسمس” کہا جاتا یے۔ جشن ولادت مسیح کو عید ولادت مسیح بھی کہتے ہیں جو ایسٹر کے بعد مسیحیت کا سب سے اہم مزہبی تہوار سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس تہوار کے موقع پر یسوع مسیح کی ولادت ہوئی تھی۔کرسمس کے موقع پر مذہبی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں، خصوصی عبادتیں انجام دی جاتی ہیں، نیز خاندانی اور سماجی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں شجرہ کرسمس کی رسم، تحائف کا لین دین، سانتا کلاز کی آمد اور عشائے کرسمس قابل ذکر ہیں۔ اس مزہبی تہوار کی اہمیت کے پیش نظر غیر مسیحی معاشروں میں بھی اس تہوار کو خصوصی طور پر منایا جاتا ہے اور 25 دسمبر کو دنیا کے بیشتر ممالک میں سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔ پاکستان میں پچیس دسمبر کی اہمیت دو چند ہے کیونکہ اسے "یوم قائد” کے طور پر بھی منایا جاتا ہے جب اس دن بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی بھی پیدائش ہوئی تھی۔

    انڈیا میں مسیحی برادری پر حملوں کی لہر

    امسال پاکستان میں کرسمس کی تقریبات بہت بڑے پیمانے پر منعقد ہوئیں جن میں وزیراعظم اور چیف مارشل سمیت اعلی حکام نے مسیحی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مختلف تقریبات میں شرکت کی، یسوع مسیح کی ولادت کا کیک کاٹا، مختلف چرچز کے دورے کیئے اور مسیحی برادری کو عید یسوع مسیح کی مبارکبادیں پیش کیں۔ خصوصی طور پر لاہور میں کرسمس کا تہوار بڑے جوش و جذبے کے ساتھ منایا گیا اور زندہ دلان لاہور نے شہر کو اس خوبصورتی کے ساتھ سجایا کہ لاہور شہر "ویٹی کن سٹی اسٹیٹ” لگ رہا تھا لیکن ہندوستان میں ہندوؤں نے اس موقع پر مسیحی اقلیت سے نفرت کا اظہار کیا اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں اس تہوار کے خلاف ہنگامے کر کے توڑ پھوڑ کی جس پر خود کانگریس پارٹی نے بھی بی جے پی پر تہواروں کے دوران "نفرت کا تحفہ” دینے کا الزام لگایا ہے۔ دارالحکومت دہلی سمیت بھارت کی متعدد ریاستوں میں کھلے عام کرسمس منانے والوں کو ہندو تنظیموں کے سخت گیر افراد نے دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا جس سے ہندوستان کی مسیحی کمیونٹی خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے۔ اس دوران بھارت میں پادریوں کی ایک اہم تنظیم نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے اپیل کی کہ وہ عیسائیوں کے تحفظ کے لئے قانون کو سختی سے نافذ کریں۔
    حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، "یہ عیسائیت کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدید نفرت کا اصل چہرہ ہے۔ ان کے رہنما بھارت میں اقلیتوں کی توہین کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جائیں گے، چاہے اس کا مطلب کسی نابینا خاتون پر حملہ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔”

    کانگریسی رہنما نے ان حملوں کے لئے ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی قیادت والی دہلی، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور اڈیشہ جیسی ریاستی حکومتوں کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ ان کی پشت پناہی میں یہ واقعات رونما ہوئے ہیں۔ وینوگوپال نے مزید کہا کہ، "آر ایس ایس کے کارکنوں نے کیرالہ کے پلکاڈ میں بچوں کے کیرول کوئر پر بھی حملہ کر دیا، جہاں بی جے پی آئے دن یہ ثابت کر رہی ہے کہ وہ بھیڑوں کے لباس میں بھیڑیا کے سوا کچھ نہیں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ، "وزیر اعظم مودی برسوں سے مسیحیوں کے لئے نئی محبت کے اظہار کا ڈرامہ کر کے اپنے آپ کو بڑا عظیم پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن ان کی پارٹی اور سنگھ پریوار ہر بار ان کے اصلی کردار کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ، ” زہر اور نفرت کرسمس کے دوران بی جے پی کا تحفہ ہے۔ یہ تمام اقلیتوں کے لئے ایک انتباہ ہے کہ بی جے پی کا متعصبانہ، نفرت سے بھرا ایجنڈا بھارت کی تکثیریت کو برداشت نہیں کر سکتا اور ہر اس شخص پر حملہ کرتا رہے گا جو ان کے نفرت سے بھرے عالمی نظریے میں فٹ نہیں بیٹھتا۔”

    نام نہاد ہندوستان میں عیسائی برادری پر حملوں کا یہ سلسلہ چند روز پہلے جنوبی ریاست کیرالہ میں اس وقت شروع ہوا، جب آر ایس ایس کے ورکرز نے بچوں پر مشتمل ان کی ایک مذہبی تقریب پر حملہ کیا تھا۔ ریاستی پولیس نے آر ایس ایس کے ایک کارکن کو ان بچوں پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار بھی کیا۔ کیرالہ میں تقریبا 19 فیصد مسیحی برادری کی آبادی ہے، جہاں اس حملے کے خلاف بطور احتجاج پلکاڈ میں بہت سے احتجاجی جلسوں کا اہتمام کیا گیا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پینرائی ویجیئن نے کیرولرز کے خلاف اہانت آمیز تبصرہ کرنے پر بی جے پی قائدین پر تنقید کی۔ریاست مدھیہ پردیش کے جبل پور میں ہندوتوا گروپوں نے گرجا گھروں اور دیگر اداروں پر اس وقت چھاپے مارے جب کرسمس کے حوالے سے بعض خیراتی کام اور عبادت جاری تھی۔ اس تقریب میں ایک نابینا خاتون موجود تھیں اور کرسمس کے کھانے میں شرکت کے لئے ان کے چہرے کو بی جے پی کی ایک مقامی رہنما انجو بھارگوا نے دبوچ لیا جس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں بھی غیر مسیحی مقامی لوگوں نے کئی دیہاتوں میں عیسائی پادریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ اس سے قبل یہاں ایک عیسائی شخص نے اپنے والد کو اپنے عقیدے کی رسومات کے مطابق دفن کیا تھا، جس کے خلاف بطور احتجاج مقامی لوگوں نے ایک چرچ پر حملہ کیا اور آگ لگا دی۔

    یہ ہے کھوکھلے سیکولر ہندوستان کا اصل چہرہ جو کسی غیر مذہب کو ہندوستان میں جینے کا حق دینے پر خوش ہیں اور نہ ہی انہیں کسی قسم کی مذہبی آزادی دینے کو تیار ہیں۔ اسی وجہ سے بی جے پی سے وابستہ سخت گیر ہندو تنظیموں کے کارکنان مسیحی برادری پر مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگاتے ہیں اور ان پر حملے کرتے ہیں۔

    یہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوستان کی اصلی حقیقت ہے جس پر یہ محاورہ صادق آتا ہے کہ، "بغل میں چھری اور منہ میں رام رام” اس پر دہلی میں "عام آدمی پارٹی” کے صدر سوربھ بھردواج نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ، "میں ایسے ہزاروں مامووں کو جانتا ہوں جو مذہب کے نام پر بھارت میں نفرت پھیلا رہے ہیں، یہاں کرسمس اور سانٹا کلاز کو گالی دے رہے ہیں۔ لیکن ان کے بچے امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ میں کرسمس کا جشن منا رہے ہیں اور ان زہر سے بھرے والدین کو ڈالر بھی بھیج رہے ہیں۔” ریاست اتر پردیش کے غازی آباد میں بھی ایک پادری کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا واقعہ پیش آیا۔

    ترنمول کانگریس نے کلکتہ میں ہونے والی شاندار کرسمس تقریبات کے ساتھ حملے کے ان واقعات کا ایک ویڈیو شیئر کیا اور ایکس پر لکھا: "بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں کرسمس کا جشن منانا جرم بن چکا ہے۔ صرف سانٹا کیپ پہننے پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور تذلیل کی جاتی ہے۔ ایسے گروہ آزاد گھوم رہے ہیں۔ اس پر اقتدار میں رہنے والوں کی خاموشی گونگا اور بہرا کر دینے والی ہے۔”

    کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا نے بھی حکومت کی سرپرستی میں مسیحی برادری کے خلاف نفرت اور تشدد کی اس لہر کی سختی سے مذمت کی اور ایک بیان میں کہا کہ،, "نشانہ بنانے والے ایسے واقعات، خاص طور پر پُرامن کیرول گلوکاروں اور گرجا گھروں میں عبادت کرنے والے اجتماعات کے خلاف ایسے حملے، مذہبی آزادی، بلا خوف زندگی گزارنے اور عبادت کرنے کے حق کی بھارت کی آئینی ضمانتوں کو بری طرح مجروح کرتے ہیں۔” اس طرح کے گھناؤنے اور غیرانسانی طرز عمل کی مذمت کرنا ہر انسان دوست معاشرے کا فرض ہے۔ سیکولرازم کا پروپیگنڈہ کرنے والے مودی کو زیب نہیں دیتا کہ آئیندہ وہ اس کا نعرہ لگائے۔ ان واقعات سے نریندر مودی اور اس پارٹی کی قلعی کھل گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی بھی وقت ہندوستان میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہو گا جس سے اقلیتی ریاستوں کو آزادی کی تحریک چلانے کا بھی جواز میسر آئے گا۔ آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ اس پس منظر میں، سی بی سی آئی بھارتیہ جنتا پارٹی سے انجو بھارگاوا کو فوری طور پر برخاست کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں بھی نفرت سے بھرے پوسٹروں کی گردش اسی طرح کا پریشان کن منظر نامہ پیش کر رہی ہے جو ہندوستان کی حقارت اور نفرت بھری اصل حقیقت ہے۔

  • محنت کا پھل

    محنت کا پھل

    محنت کا پھل

    Dubai Naama

    بارش کا پانی چھت سے نیچے گرانے والی لوہے کی باریک چادر کو پنجابی میں "پرنالہ” کہتے ہیں۔ اس پرنالے کے نیچے سخت سیمنٹ کا ایک چھوٹا سا لمبوترا تھڑا بنا ہوتا ہے۔ جب زور کی بارش رک جاتی ہے تو پرنالے سے پانی کا ایک ایک قطرہ اس تھڑے پر گرنے لگتا ہے۔ اگر کچھ بارشوں کے بعد اس ٹھوس اور مضبوط سیمنٹ کے تھڑے کو دیکھیں تو اس جگہ پر کریک یا سوراخ وغیرہ پڑے نظر آتے ہیں، حالانکہ پانی کے یہ قطرے اینٹوں اور سیمنٹ کے مقابلے میں بہت نرم و نازک اور کمزور ہوتے ہیں۔ زندگی میں دھیرے دھیرے کی جانے والی محنت بھی بارش کے ان قطروں کی مانند ہوتی ہے جو اپنے سے زیادہ طاقتور ٹارگٹس کو حاصل کرنے کے کام آتی ہے۔

    سادہ لفظوں میں بیان کیا جائے تو محنت اپنی کچھ قیمت کسی نہ کسی صورت میں ہر قیمت پر حاصل کر کے رہتی ہے۔ محنت ایسا کام ہے جو تسلسل سے کیا جاتا ہے جس سے نتائج پیدا ہوتے ہیں چاہے ان کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔ چونکہ محنت تواتر سے کی جانے والی کوشش ہے جس کا نتیجہ لازم نکلتا ہے، لھذا محنت کرنے کی عادت پڑ جائے تو کامیابی لازمی آپ کے قدم چومتی ہے۔

    کہا جاتا ہے کہ مارک سپٹز نے تیراکی کا ورلڈ ریکارڈ اپنے طاقتور مسلز یا مہارت سے حاصل نہیں کیا تھا، بلکہ اس کی بنیادی وجہ اس کی دن رات کی مسلسل محنت تھی جس نے ایک مشکل مقام کو حاصل کرنا اس کے لیئے آسان بنایا تھا۔ وہ دنیا کا پہلا نامور تیراک تھا جس نے اپنی محنت سے تاریخ رقم کی اور اولمپکس میں 9 بار فتح حاصل کی۔ اس نے یہ ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کیا کہ اس نے اکٹھے 7 گولڈ میڈل جیتے۔ اس نے یہ گولڈ میڈلز 1972ء میں میونخ کے اولمپکس میں حاصل کیئے اور پوری دنیا کو حیران و ششدر کر دیا۔

    مارک سپٹز یہ ریکارڈ قائم کرنے کے بعد سٹیج پر بیٹھا اور ہنس کر رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا کہ ایک رپورٹر نے اچانک اس سے کہا ”مارک ٹوڈے از لکی فار یو“ یہ فقرہ سیدھا اس کے دل پر لگا۔ وہ تڑپ کر پلٹا اور رپورٹر کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ رپورٹر ڈرتے ڈرتے سٹیج پر آیا‘ مارک نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا اور بڑے پیار سے بولا ”میں 1968ء میں میکسیکو کے اولمپکس میں شریک تھا، میں نے بڑی کوشش کی لیکن میں آدھ منٹ یعنی 30 سیکنڈ سے ہار گیا۔ میں نے اس وقت فیصلہ کیا کہ میں اگلا اولمپکس بھی جیتوں گا اور سب سے زیادہ گولڈ میڈلز بھی حاصل کروں گا۔“ وہ رکا اور پھر کہا ”تم جانتے ہو مجھے ان 30 سیکنڈز کو کور کرنے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑی؟“ رپورٹر خاموش رہا، مارک سپٹز چند سیکنڈ رک کر بولا، ”میں چار سال میں 10 ہزار گھنٹے پانی میں رہا، میں نے ان چار برسوں میں ایک بھی چھٹی نہیں کی، میں کرسمس کے دن بھی سوئمنگ پول میں ہوتا تھا اور اپنا برتھ ڈے بھی تیر کر مناتا تھا، ان چار برسوں میں میرے والدین کا انتقال ہوا، میرے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا، میری گرل فرینڈز مجھے چھوڑ گئیں‘ میرا اکاﺅنٹ خالی ہو گیا، میرے کریڈٹ کارڈز بند ہو گئے، میری گاڑی اور میرا گھر بک گیا لیکن میں نے ایک بھی دن چھٹی نہیں کی، تم اگر ان دس ہزار گھنٹوں کو چار پر تقسیم کرو تو یہ اڑھائی ہزار گھنٹے سالانہ اور آٹھ گھنٹے روزانہ بنتے ہیں، میں اتنا عرصہ پانی میں رہنے کی وجہ سے ایسڈ ری فلکس کے مرض کا شکار ہو گیا، میرے پورے جسم میں درد ہوتا ہے اور مجھے روزانہ فزیو تھراپی کرانا پڑتی ہے، میں اس بیماری اور دس ہزار گھنٹے کی پریکٹس کے بعد اپنی صرف 30 سیکنڈ کی کمی پوری کرنے کے قابل ہوا ہوں اور میں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ 7 گولڈ میڈل حاصل کر کیئے ہیں، اور تم کہتے ہو کہ یہ میرا لکی ڈے ہے۔ میں روز پانی میں 8 گھنٹے پریکٹس کرتا تھا، تم روزانہ 10 گھنٹے پریکٹس کر لو، میرا لکی ڈے تمہارا لکی ڈے بن جائے گا۔“

    مارک سپٹز اس کے بعد رکا اور پھر ایک تاریخی جملہ کہا کہ، ”انسان جتنی محنت کرتا جاتا ہے وہ اتنا ہی خوش نصیب ہوتا جاتا ہے.” زندگی میں کوئی بھی انسان محنت کرتا ہے اسے اس کا پھل ہر صورت میں ملتا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس میں محنت کو شعار بنایا جائے تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم محنت سے زیادہ قسمت پہ یقین کرتے ہیں۔ میں خود اپنی مثال دیتا ہوں۔ میں کوئی بڑا لکھاری نہیں ہوں مگر جب مجھے لکھنے کا شوق چرایا تو میں نے اتنا مطالعہ کیا کہ اب لکھتا ہوں تو بعض تحریریں دوسری قسط میں چلی جاتی ہیں، حالانکہ میں اسے پسند نہیں کرتا ہوں۔
    ایک مشہور مقولہ ہے کہ ’’محنت کو راحت ہے۔” محنت کرنے ہی سے انسان ترقی کرتا ہے ورنہ پیٹ تو بھیک مانگ کر بھی لوگ پالتے ہیں۔ لیکن محنت میں عظمت اور شان و شوکت ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ کامیابی کی منازل طے کرتا ہوا ترقی کرتا چلا جائے۔ ہر کوئی عروج چاہتا ہے مگر محنت شاقہ کے بغیر کبھی بھی عروج حاصل نہیں ہوتا۔

    دنیا میں بہت سے لوگوں نے نام کمایا، عروج کی بلندیوں کو چھوا۔ وہ بھی ہماری طرح کے انسان تھے۔ انکے پاس نہ تو الہ دین کا چراغ تھا نہ ہی کوئی اور جادوئی ہتھیار تھا، بلکہ محنت ہی انکی کامیابی کے پیچھے کار فرما تھی۔

    محنت کا پھل

    ایک واقعہ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ ایک بچہ ترستی نگاہیں لئے ایک بیکری کے سامنے کھڑا بسکٹوں اور پیسٹریوں کا نظارہ کر رہا تھا کہ اس بیکری کا مالک آیا اور کہا کہ: "کیوں اچھی لگ رہی ہیں ناں؟” اس نے کہا: "ہاں، اچھی لگتیں اگر تمہارے اس شوکیس کا سامنے والا شیشہ صاف ہوتا۔” بیکری کے مالک نے کہا: ’’تم صاف کر لو‘‘ اس لڑکے کا نام ’’ایڈورڈ بوک‘‘ تھا، اس طرح اس کو پیٹ پالنے کے لیے پہلی ملازمت ملی۔ معاوضے کے طور پر ہفتہ بھر میں صرف دو شلنگ ملتے تھے، جو اسکے لئے قارون کے خزانے سے کسی بھی طور پر کم نہ تھے۔ یہ اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو انتہائی غربت کی وجہ سے روزانہ ٹوکرہ اٹھا کر گندے نالے میں سے کوئلہ چننے جایا کرتے تھے۔ ’’ایڈورڈ‘‘ نے اسی طرح کے کام ڈھونڈے، وہ ہفتے کی دوپہر اور اتوار کی شام کو لیموں اور برف بیچتا۔ اتوار کی صبح اخبار بیچتا اور شام کے وقت مقامی اخبارات کیلئے دعوتوں اور پارٹیوں کی اطلاعات لکھتا۔ یوں وہ چار پانچ پونڈ کما لیتا۔ ایڈورڈ نے صرف 6 برس اسکول میں گزارے۔ 13 سال کی عمر میں اس نے ایک آفس بوائے کی حیثیت سے کام کے لئے اسکول کو الوداع کہہ دیا۔ ایڈورڈ جب امریکہ گیا تو اسے انگریزی کی ذرا بھی شدبد نہ تھی، وہ ایک لفظ بھی انگریزی نہیں سمجھتا تھا ،مگر اس کے پختہ عزم اور محنت کے آگے کوئی رکاوٹ نہ آئی، وہ مستقل مزاجی سے محنت کرتا رہا۔ بالآخر امریکی صحافت کی تاریخ میں کامیاب اخبار نویس کی حیثیت سے نام پیدا کیا۔ وہ محنتی تھا اسکول چھوڑنے کے بعد اس نے بس میں سفر کرنے کی بجائے پیدل سفر کیا، دو وقت کے کھانے کی جگہ ایک وقت کا کھانا کھایا، اور پیسہ پیسہ بچا کر امریکی سوانح عمریوں کا انسائیکلو پیڈیا خریدا۔ پھر اس نے محنت کے بل بوتے پر ایسا کام کیا جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا۔ وہ مشہور آدمیوں کے حالات پڑھتا پھر انہیں خط لکھتا کہ مجھے اپنے تفصیلی حالات بھیجیں۔ اس نے جنرل جیمز اے گارڈ فیلڈ (صدارتی امیدوار) کو خط لکھا اور کہا کہ کیا یہ بات سچ ہے کہ ایک زمانے میں آپ نے نہر پر معمولی مزدور کی حیثیت سے کام کیا ۔اس وقت 25 شلنگ ہفتہ وار پر کام کرنے والے غریب لڑکے نے جنرل گرافٹ، ایمرسن، فلپس بکس، اولائیووینڈل ہومر، لانگ فیلو، مسز ابراہم لنکن اور لویئ سامے وغیرہ سے ملاقاتیں کیں۔ وہ فقط 14 برس کی عمر میں امریکہ کی تمام بڑی شخصیات کا انٹرویو لے چکا تھا۔ اس نے محنت کی جس کا پھل اسے عزت، شہرت، اور دولت کی صورت میں ملا۔

    کارنیگی جوا سکاٹ لینڈ کے دو کمروں کے بوسیدہ سے مکان میں پیدا ہوا۔ اسکے والدین کی غربت کا یہ عالم تھا کہ پیدائش کے وقت وہ غریب، نہ تو ڈاکٹر کو بلا سکے اور نہ ہی دائی کو۔ لیکن جب کمانے کا وقت آیا تو اس نے کروڑوں پونڈ کمائے۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ سے امریکہ ہجرت کی تو اس کا والد میز پوش بناتا اور گھر گھر جا کر بیچتا تھا۔ ماں دوسروں کے گھروں میں برتن، کپڑے دھوتی اور ایک موچی کے ہاں جوتوں کی سلائی کرتی تھی۔ اینڈریو کے پاس پہننے کو صرف ایک ہی قمیص تھی جسے وہ رات بستر میں گھستے ہوئے اتارتا تو اسکی ماں اس کو دھو کے استری کر کے دیتی تھی۔

    اینڈریو کارنیگی صرف 4سال اسکول گیا اس کے باوجود 8 کتابیں لکھیں۔ وہ لوہے کی صنعت سے کم ہی واقف تھا مگر اسکو، لوہے کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ ایک وقت تھا کہ یہ تار گھر میں بطور قاصد کام کرتا تھا اور 2 شلنگ یومیہ تنخواہ لیتا تھا۔ اس نے محنت کو اپنا شعار بنایا۔ 25 سال کی عمر میں اسکی آمدنی 1 ہزار پونڈ ہو گئی۔ جولاہے کا بیٹا محنتی تھا جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا وہ سونا بن جاتی۔ اس نے اپنے دوستوں سے مل کر 8 ہزار پونڈ میں ایک فارم خریدا، ایک سال بعد 2لاکھ پونڈ میں فروخت کر دیا۔ 27سال کی عمر میں اسکی ہفتہ وار آمدنی 2سو پونڈ ہو گئی۔اس نے پبلک لائبریریوں کے لئے 1کروڑ 20لاکھ، تعلیم کی ترقی کے لئے 1کروڑ 60 لاکھ پونڈ دیئے۔ ساڑھے 7 کروڑ پونڈ دوسروں کی امداد میں خرچ کئے۔ اس نے محنت کی اور ہر محنتی کو صلہ دیا۔ دولت کے سیلاب پہ بندھے پل ٹوٹ گئے، آخر اس نے اخبارات میں اشتہار دیا کہ جو شخص اسے اس کی دولت کا بہترین مصرف بتائے گا وہ اسے انعام دے گا۔ یہ محنت کی اچھوتی مثالیں ہیں۔

    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے جس کا ترجمہ ہے: ’’اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کے سوا کسی چیز کا حق نہیں پہنچتا‘‘ ایک اور جگہ پر ہاتھ سے کام کرنے والے محنتی کو خدا کا دوست کہا گیا ہے۔ یہ اٹل فیصلہ ہے کہ جس سے یہ تو طے ہو گیا کہ کامیابی اور ترقی کی اولین شرط محنت ہے۔عروج و کمال کے لئے نہ تو کوئی شارٹ کٹ ہے اور نہ ہی کوئی طلسماتی کرتب ہے، بلکہ محنت، محنت اور صرف محنت ہے۔ ا ور محنت کے لئے کسی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونا، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا یا سرٹیفکیٹ کی فائل کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔ محنت کرنے کے لیئے امیر کبیر اور اونچے گھرانے کا ہونا ضروری بھی ضروری نہیں ہے، بلکہ انسان کے اندر عزم، اعتماد اور یقین کا ہے تو وہ ہر مجوزہ منزل کو حاصل کر سکتا ہے۔ ایک جولاہے کا بیٹا نام کما سکتا ہے تو آپ کیوں نہیں؟ صحیح سمت متعین کر کے دھیرے دھیرے، محنت و استقامت سے بڑھتے رہیں، محنت ضرور رنگ لائے گی۔

    .