Tag: چنگچی

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کامل پور سیداں کے شرق میں ناز سینماء سے لیکر پولیس لائین تک اور اس کے عقب میں اسٹیڈیم تک ، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بلاک ، اعلی افسران کی رہائش گاہیں ، کمپنی باغ ، سروسز کلب ، ڈیپٹی کمشنر ہاوس اور دیگر سرکاری عمارات ہیں ۔ اسی طرح  سیشن کورٹ اور کچہری کے بیچ ، صدر پولیس اسٹیشن کے بالمقابل ، سادات کامل پور سیداں کا آبائی اور قدیمی قبرستان ہے ، جس کے اندر اپنے وقت کے ولی ، بابا توکل شاہ عرف کبوتراں والا بابا ، کا مزار ، مرجع خاص و عام ہے ۔

    اس سے ملحق جانب سڑک ، ایک تکونی قطعہ اراضی کو بلدیہ نے ، بچوں کی تفریح اور کھیل کود کے لئے ، جھولے اور کچھ پودے لگاکر ، زیارت پارک کے نام سے باغ میں تبدیل کردیا ہے ۔ یہ پہلے سے موجود نہ تھا ۔ اسی پارک کی شمالی سمت پہ ، سڑک کے ساتھ کبھی کیمبل پور کا اولیں اور اکلوتا پیٹرول پمپ ہوا کرتا تھا ، جو سیدن گاوں کی شیخ فیملی کی ملکیت میں رہا ، اب وہاں ایک کمرہ باقی ہے ، پیٹرول پمپ ندارد ۔  آجکل تو ڈیجیٹل کا زمانہ ہے ، اس وقت ہر شے مکینیکل ہوا کرتی تھی ، شیخوں کے اس پمپ پر گاڑیوں میں تیل ڈالنے کے لئے جو مشین لگی ہوئی تھی ، اس کے درمیان میں ڈیجیٹل میٹر کے بجائے ، شیشے کے دو گھڑے نصب تھے ۔ قریب ہی ایک ھینڈل لگا تھا جب تیل بھرنا مقصود ہو تو پمپ کا ورکر ،اس ہینڈل کو گھماتا تھا ، جس طرح جنریٹر یا کسی بھی  انجن کو اسٹارٹ کرنے کے لئے ، ھینڈل گھمایا جاتا ہے ۔ اسطرح پیٹرول ، زیر زمین ٹینک سے ان گھڑوں میں بھر کر گاڑی کے پیٹرول ٹینک تک چلا جاتا ۔ یہ گھڑے پیمانہ تھا ، ایک خالی ہوتا تو دوسرا بھر جاتا اور بھرنے والا ان کا شمار کرتا رھتا کہ کتنے گھڑے یا گیلن پیٹرول ڈال دیا گیا ۔

    کچھ قارئین کو شاید یہ تفصیلات پسند نہیں ، لیکن تاریخ نویسی اور نقشہ نویسی میں فرق ہوتا ہے ، مجھے کسی گم شدہ فرد کو شہر سے نکلنے کا راستہ نہیں دکھانا بلکہ نئی نسل کو پرانے شہر اور اس وقت کے طرز زندگی سے روشناس کرانا ہے ، جو اب موجود نہیں ۔

    میرے خیال سے شہر کے گلی کوچوں ، اور محلوں کی ، اس وقت کی تصویر آپ پہ واضع ہوچکی ہوگی ۔ اگلے ابواب میں ، یہاں آباد لوگوں کے طرز زندگی ، مشاغل ،  سماجی روایات ، کھیل کود ، علمی ادبی، سیاسی و تجارتی سرگرمیوں اور اہم شخصیات پہ بات ہوگی ، لیکن اس سے پہلے شھر کے گرد و نواع کا ایک جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی آبادی ، اپنے گردونواع سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔

    کیمبل پور کے شمال میں کامرہ ، پنڈ سلمان مکھن ،  مدروٹہ ، ٹھیکریاں اور حاجی شاہ وغیرہ کے مواضعات ہیں ، جنوب میں ماڑی ، کنجور اور دریائے ھرو ، ھرو پار شین باغ خورد ، ڈھیری لگال ، ڈھیری چوھان ، جنوب مشرق میں جبی اکھوڑی ، ہمک اور کئی چھوٹی چھوٹی آبادیاں مشرق میں مرزا ، جسیاں ، ڈھوک پشوری اور ڈھوک شرفاء ، جبکہ مغرب میں شین باغ کلاں ، سروالہ ، شکردرہ ، پنڈوال ، ڈھوک گاما ، سالار  دکھنیر ، کرم علیاء ، جابہ ، بروٹھہ ، ڈھیر ، سوجھنڈا ، باٹا ، گھوڑے مار ، باغ نیلاب ، چھوئی اور مونگی والی  وغیرہ کے دیہات صدیوں سے آباد ہیں ۔ ان دیہات کا شہر کی تجارت ، ثقافت اور سماجی زندگی پہ گہرا اثر رہا ہے ۔

    کامرہ کلاں کا منظر
    کامرہ کلاں کا منظر

    یاد رہے ، مذکور بالا دیہات انتظامی اور تجارتی طور پر کیمبل پور شہر پہ ہی انحصار کرتے تھے لیکن ان میں سے بیشتر آبادیوں کو پکی سڑک کی سہولت نصیب نہ تھی بلکہ کئی دیہات تک تو پگڈنڈیوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا ۔ دشوار گزار کچے راستے اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ، ہمیشہ سے ان کا مقدر رہا ۔

    جاری ہے ……..

  • کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    ہم بجلی گھر روڈ پر کھڑے ایک تعلیمی ادارے کی بات کررہے تھے ، جہاں اب غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں ۔ قصور کس کا ، مفاد پرست ، چور ، ڈاکو اور لٹیرے ، ہر سوسائیٹی میں ہوتے ہیں لیکن ، نیکی کی قوتوں کو متحرک رھنا چاھئے تاکہ معاشرہ ترقی کرتا رہے ۔

    آئیے آگے بڑھتے ہیں ، بجلی گھر موڑ سے گیدڑ چوک تک بیچ کی جگہ خالی تھی ، جو ملک شیراحمد خان کے خاندان کی ملکیت ہے ، بعد میں انہوں نے یہاں ایک تجارتی یارڈ قائم کیا جہاں اب بھی سیمنٹ سریا اور دیگر عمارتی سامان کا کاروبار ہوتا ہے ۔

    گیدڑ موڑ یا چوک : ( وجہ تسمیہ )

    یہ ، وہ جگہ ہے جہاں آکر حمام روڈ / برق روڈ ، چھوئی روڈ سے بغل گیر ہوتا ہے ، کارنر پر اسد سویٹ ہاوس ہے ۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں چین کے شہنشاہ چنچی نے ٹریفک پولیس کی مدد سے قبضہ جما رکھا ہے ۔

    ہمارے دور میں یہ ایک کھلا علاقہ تھا ۔ جہاں اب سروالہ کی طرف منہ کرکے چنچی کھڑے ملتے ہیں ، یہاں تقسیم سے پہلے کی چند دکانیں ، ان کے عقب میں چھوٹے چھوٹے کوارٹر اور پیچھے ایک آٹا چکی موجود تھی ، اس کے بعد کھلا میدان ۔ اسی طرح شرق میں  گندے نالے تک کھلا میدان تھا ۔ گندہ نالہ سول بازار کے اختتام اور ستار چوک ( شیرانوالہ) کے عین وسط میں آتا ہے ۔ اب اسے ڈھانپ دیا گیا ہے ، شروع میں یہ معلق نالہ تھا اور مولے والی گلی اس سے منسلک نہ تھی ۔

    اس سے پہلے کہ گورا قبرستان تک پہنچ جائیں ، آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ گیدڑ موڑ کو یہ عوامی نام کیسے عطاء ہوا ۔

    جہاں اس وقت اسد سویٹ ہاوس ہے ، اسی عمارت میں ، جو قدرے اس سے بڑی تھی ، ہمارے گوانڈی میاں چاچا نے ، چائے کی دکان بنائی ، ان کے بڑے بیٹے کا نام فاروق تھا لیکن گھر والے بچپن سے اسے پیار سے گیدڑ کہ کر پکارتے تھے ۔ بڑا ملنسار اور ھنس مکھ انسان تھا ، اسی کی عرفیت نے اس ریستوران کو گیدڑ ہوٹل کا نام دیا اور ایک لمبے عرصے تک ہوٹل کی موجودگی سے یہ نام عوامی شہرت اختیار کرگیا ۔ جب ہوٹل ختم ہوگیا تو گیدڑ ہوٹل سے گیدڑ موڑ کہا جانے لگا ۔ ایک نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ ” کیا یہ درست ہے کہ پرانے زمانے میں گیدڑ یہاں تک آجاتے تھے ، اس لئے اسے گیدڑ موڑ کہتے ہیں ، تو اسے یہی بتایا کہ یہ بات درست نہیں بلکہ فاروق عرف گدڑا لالہ کی وجہ سے ،اسے یہ نام نصیب ہوا ۔

    چونکہ وہ زمانہ تانگے اور بیل گاڑی کا تھا ، لھذا جسطرح آج یہاں چنچی اور سوزوکی نظر آتے ہیں ، اسی طرح گیدڑ ہوٹل کے سامنے اور اطراف بیل گاڑیاں اور تانگے پارک ہوتے تھے ۔ ایک تو یہ سروالے کی پرانا اڈہ تھا ، دوسرا گیدڑ ہوٹل کی چائے بہت لذیذ اور تھکن دور کرنے والی مشہور تھی ۔ بعض ماہرین چائے کی رائے تھی کہ گدڑ لالہ کے والد میاں چاچا چائے کو افیون کے ڈوڈے یا پوست کا تڑکا لگاتے ہیں ۔ بہرحال اس زمانے میں یہ ایک معروف اور عوامی چائے خانہ اور اڈہ تھا لیکن چند تانگے اور کچھ بیل گاڑیاں ، کوئی رش اور اژدھام نہیں کیونکہ موٹر سائیکل ، سوزوکی اور چنچی نام کی کوئی آفت موجود نہ تھی ۔

    اب آگےچلتے ہیں ، جہاں سول بازار آکر چھوئی روڈ سے ملتا ہے ، اس کے سامنے مشرق کی طرف میدان اور مغرب کی طرف گندے نالے کے ساتھ پرانی اور نئی لیکن بے ترتیب آبادی موجود تھی ۔ یہ آبادی سڑک کے ساتھ ساتھ گورا قبرستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔  گورا قبرستان کے عقب میں جنوب مغرب کی سمت کربلا محلہ جو دراصل کامل پور سیداں کی توسیع یا ایکسٹینشن ہے ، یہاں پرانے گھر موجود تھے لیکن قبرستان سے آگے فتح جنگ روڈ پر ،  تا ڈھوک فتح ، سڑک کی دونوں اطراف ، کوئی آبادی نہ تھی ۔ ڈھوک فتح بھی فتح جنگ روڈ سے شروع ہوکر ، صرف ایک دو گلیوں کی شکل میں جانب غرب ، پنڈ غلام خان کی سمت رواں تھی ۔ اس سے آگے دریائے ہرو تک مکمل ویرانہ تھا ۔

    کامل پور سیداں

    historic building in kaml pur saydan
    کامل پور سیدان میں واقع تقسیم ہند سے قبل کی ایک تاریخی عمارت| تصویر- سید مظاہر شاہ

    یہ گاوں قدیمی ہے اور شھر کے آباد ہونے سے بہت پہلے ، موجود تھا ۔ اس کا حدود اربعہ بڑا آسان ہے ، گورا قبرستان چوک سے ناز سینما ، وھاں سے نادرا آفس ، نیچے آجائیں امام بارگاہ کے آگے سے گزر کر فتح جنگ روڈ اور گورا قبرستان ۔ یہ تھا پرانا کامل پور سیداں ۔ جانب غرب ، کوچہ پریم نگر اسی کی توسیع اور نئی آبادی ہے ۔ یہاں کھیت ہوا کرتے تھے اور گندم بوئی جاتی تھی ۔ کامل پور سیداں کا ذکر ہورہا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ یہ چھوٹا سا گاوں ، کینٹ ایریا میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ صفائی کا نمونہ رھا ۔ اس کی تنگ مگر صاف ستھری گلیوں میں روشنی کے لئے پرانی طرز کے چراغدان ( Lamp Posts)نصب تھے ۔ یہاں شھر کی قدیمی امام بارگاہ واقع ہے ۔

    جاری ہے …….

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین