Tag: چراغ

  • ڈیپریشن Depression یا ذہنی مغالطہ

    ڈیپریشن Depression یا ذہنی مغالطہ

    ڈیپریشن Depression یا ذہنی مغالطہ

    Dubai Naama

    ڈپریشن ایک نفسیاتی عارضہ ہے، جسمانی بیماری نہیں۔ ہلکے ڈپریشن کا علاج انسان خود بھی کر سکتا ہے، لیکن شدید حالت، خودکشی کے خیالات، یا جب روزمرہ کام بند ہو جائے تو فوراً ماہر نفسیات یا سائیکاٹرسٹ سے رجوع لازمی ہے۔ اسلام بھی علاج کا حکم دیتا ہے۔ "مایوسی حرام ہے” لیکن "دوائی لینا سنت ہے”۔

    ڈپریشن کی بنیادی جڑ منفی سوچ ہے۔ خود کو مسلسل "بیمار” سمجھنے سے دماغ وہی سگنل لینے لگتا ہے اور مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ اپنے آپ کو منفی طور پر "مسیمیرائز” نہ کریں۔

    ڈپریشن عموماً کسی شدید صدمے، بیماری یا مسلسل پریشانی سے پیدا ہوتا ہے۔ جب آدمی مایوس رہتا ہے تو سوچنے اور محسوس کرنے کا انداز متاثر ہوتا ہے۔ جہاں تنہائی زیادہ ہو، وہاں ڈپریشن زیادہ ہوتا ہے۔ انگلینڈ میں ہر ہفتے 100 میں سے 3 افراد میں اس کی تشخیص ہوتی ہے۔

    ڈیپریشن کی علامات میں کام میں مشکل، دلچسپی ختم، توجہ نہ بننا اور غمزدہ وغیرہ رہنا شامل ہیں۔ ایک دن اس کی خطرناک سٹیج بھی آتی ہے۔ جب لگے "زندگی بے کار ہے”، یہیں رک جائیں اور فوری مدد لیں۔

    ڈیپریشن Depression یا ذہنی مغالطہ

    سائیکو تھراپی کی 3 اقسام کارآمد ہیں۔ پہلی کاگنیٹو بیہیورل تھراپی” ( Cognitive Behavioral Therapy) یعنی مختصرا ‘سی بی ٹی” ہے جو سوچ بدل کر عمل کو بھی بدلتی یے۔ "میں ناکام ہوں” کو "میں سیکھ رہا ہوں” میں بدلیں۔ دوسری "ٹاک تھراپی” (Talk Therapy) ہے۔ دل کی بات کرنے سے "کتھارسس” (Catharsis) ہو جاتا ہے یعنی دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اور الجھنیں خود حل ہونے لگتی ہیں۔ تیسری "روحانی تھراپی” (Spiritual Therapy) ہے۔ تصوف کے ٹولز ذکر، مراقبہ، شکر، توکل اور صبر وغیرہ ہیں۔ اہل مغرب اسے "ذہنی ارتکاز” (Mindfulness) کہتے ہیں۔ تنہائی میں غوروفکر اور لکھنا بھی زخم بھرتا ہے۔

    میں نظریہ ہے کہ ڈپریشن ایک "ذہنی مغالطہ” (Mental Illusion) ہے جو منفی خیالات سے جنم لیتا ہے۔ منفی سوچ خودکشی ہے جس میں "ڈپریشن” سب سے اوپر ہے۔ دماغ کو مسلسل مایوسی کے کیمیکل نہ دیں۔ جسمانی کمزوری والے لوگوں نے بھی تاریخ بدلی۔ مشہور جان ایلٹن جنسی معذور تھا، لیکن 1997 میں ڈیانا کی موت پر اس نے "ہوا میں جلتا چراغ” (Candle in the Wind) گا کر دنیا ہلا دی۔

    ہوا میں چراغ وہی جلاتے ہیں جو ڈپریشن کو طاقت بنا لیتے ہیں۔ کمزوریوں اور محرومیوں کو "احسان محرومی” نہ بننے دیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم ذہنی طور پر طاقتور ہیں یا کمزور ہیں۔

    Title Image by omer yousief from Pixabay

  • گٹھ جوڑ

    گٹھ جوڑ

    گٹھ جوڑ

    صفدر علی حیدری

    میں دو دن بعد شہر سے واپس لوٹا تو سیدھا اپنے زیرِ تعمیر مکان کی طرف چلا گیا۔ راستے میں بارش ہو چکی تھی۔ گلی کیچڑ سے اٹی ہوئی تھی، مگر میرے دل کے قدم اس سے کہیں زیادہ بے تاب تھے۔ وہ مکان میرے لیے محض اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں تھا، بلکہ میری برسوں کی جمع پونجی، قرضوں کا بوجھ اور خوابوں کا آشیانہ تھا۔

    وہاں پہنچ کر جو منظر دیکھا، اس نے مجھے حیرت اور اضطراب کے درمیان لا کھڑا کیا۔

    میری غیر موجودگی میں کام غیر معمولی رفتار سے جاری تھا۔ دو کمرے مکمل ہو چکے تھے۔ تیسرے میں ماربل بچھ رہا تھا، اور گیراج میں اتنا ماربل موجود تھا کہ باقی حصہ بھی آسانی سے مکمل ہو سکتا تھا۔ میں نے اپنے حساب پر نظر دوڑائی۔ میرے تخمینے کے مطابق پانچ سو مربع فٹ ماربل بمشکل ڈھائی کمروں کے لیے کافی تھا، مگر یہاں تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ ایک لمحے کو خیال آیا – شاید واقعی کوئی برکت پڑ گئی ہے۔ یا شاید کوئی اور بات تھی۔

    میں نے ٹھیکے دار سے پوچھا:

    "یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ میرا تو خیال تھا کام رک گیا ہوگا۔ جاتے ہوئے میں تمہیں پیسے بھی نہیں دے پایا تھا۔”

    وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ایسی مسکراہٹ جو عادت بن چکی تھی، اعتبار نہیں تھی۔

    "صاحب! برکت نہیں پڑی… ہم نے مزید پانچ سو فٹ ماربل منگوا لیا تھا۔ دکان دار سے پرانے تعلقات ہیں۔ اس نے فون تک نہیں کیا، بس میرے کہنے پر مال بھیج دیا۔ اب آپ پیسے مجھے دے دیں، آگے میں جانوں اور میرا کام۔”

    میں اس کی ساکھ سے متاثر ہوا۔ بغیر پیشگی ادائیگی کے اتنا مہنگا مال مل جانا معمولی بات نہیں تھی۔ میں نے فوراً موبائل بینکنگ سے رقم منتقل کر دی اور واپس چل پڑا۔

    مگر راستے بھر دل میں ایک انجانا سا بوجھ رہا۔

    شک بعض اوقات اندھیرے میں جلنے والا پہلا چراغ ہوتا ہے۔

    گٹھ جوڑ

    میں نے اس رکشہ ڈرائیور کو فون کیا جس نے ماربل پہنچایا تھا۔ پہلے کبھی اس کا نام نہیں پوچھا تھا – اب پوچھا تو اس نے بتایا: "انور۔”

    "جی صاحب، میں نے پرسوں مال پہنچا دیا تھا… اور دکان دار نے مجھے مزدوری بھی دے دی تھی۔ کہہ رہا تھا آپ پہلے ہی ادائیگی کر چکے ہیں۔”

    "کتنا مال تھا؟”

    وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر بولا: "پانچ سو فٹ… مگر صاحب، اگر ممکن ہو تو آپ مجھ سے مل لیں۔”

    دس منٹ بعد ہم ایک جوس کارنر پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ انور کا چہرہ دھوپ اور محنت سے جھلسا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں عجیب سی صفائی تھی۔ اس نے گاجر کا جوس منگوایا، مگر دیر تک گلاس کو ہاتھ میں تھامے رکھا۔ پھر دھیرے سے بولا:

    "بھائی جان! میں سارا دن مزدوری صرف اس لیے کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو حلال کھلا سکوں۔”

    میں خاموش رہا۔

    "آپ نے فون پر پانچ سو فٹ کہا تو میرا ضمیر جاگ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماربل صرف تین سو فٹ تھا۔”

    میرے ہاتھ بے اختیار میز پر رک گئے۔ وہ نظریں جھکائے بولا:

    "ٹھیکے دار اور دکان دار کا آپس میں گٹھ جوڑ تھا۔ آپ سے پانچ سو فٹ کے پیسے لینے تھے، پھر آپس میں بانٹنے تھے۔ مجھے بھی خاموش رہنے کا حصہ مل جاتا۔ میں بھی اس خیانت کا حصہ بن جاتا… مگر پھر آپ کی ایک بات یاد آ گئی۔”

    "کون سی بات؟”

    اس نے سر جھکا کر کہا:

    "آپ نے کہا تھا، ‘جو چیز حلال نہ ہو، وہ گھر کی بنیاد نہیں بن سکتی۔’”

    ایک لمحے کو اس نے آنکھیں بند کیں – گویا اپنے بچوں کے چہرے دیکھ رہا ہو۔

    میری آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔ میں نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکالا اور اس کی جیب میں رکھ دیا۔ وہ انکار کرتا رہا، مگر میں نے اس کا ہاتھ دبا دیا۔

    "یہ تمہاری دیانت کی قیمت نہیں… صرف ایک چھوٹی سی نشانی ہے۔”

    وہ خاموشی سے اٹھا، رکشے میں بیٹھا اور آہستہ آہستہ اندھیرے میں گم ہو گیا۔ میں دیر تک وہیں کھڑا رہا۔

    اس رات میں نے دیر تک سوچا۔ یہ دنیا عجیب جگہ ہے۔ یہاں اکثر رشتے، کاروبار اور تعلقات کسی نہ کسی گٹھ جوڑ پر قائم ہوتے ہیں – مفاد، خوف، ضرورت یا لالچ کے گٹھ جوڑ پر۔ دھوکے سے جال بُننے والے لوگ بظاہر کامیاب دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی بنیادیں اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔

    اور دوسری طرف انور جیسے لوگ ہوتے ہیں – خاموش، تھکے ہوئے، بظاہر معمولی مگر اندر سے روشن۔ انہی کے باعث دنیا ابھی مکمل اندھیری نہیں ہوئی۔

    زندگی ہر روز انسان کو چوراہے پر لا کھڑا کرتی ہے۔ ایک طرف فائدہ ہوتا ہے، دوسری طرف ضمیر۔

    سچ بولنا اکثر نقصان دیتا ہے، مگر ضمیر بچا لیتا ہے۔

    انسان اپنی کمائی سے نہیں، اپنی دیانت سے زندہ رہتا ہے۔

    اور گھر کی حقیقی بنیاد ماربل سے نہیں، حلال سے بنتی ہے۔

  • معمارِ حرف: جہانگیر بخاری 

    معمارِ حرف: جہانگیر بخاری 

    معمارِ حرف: جہانگیر بخاری 

    کچھ لوگ عہدوں سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ عہدے لوگوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ آغا جہانگیر بخاری صاحب کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے جن کی پہچان محض چیف ایگزیکٹو یا مدیر کے منصب سے نہیں بلکہ ان کے فکری وقار، ادبی ظرف اور انسان دوست رویے سے ہوتی ہے۔ آئی اٹک ڈاٹ کام ان کے لیے محض ایک ویب میگزین نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور ایک عہد ہے اپنی مٹی، اپنی تاریخ اور اپنے لوگوں کے ساتھ۔

    میرا تعارف آغا جہانگیر بخاری صاحب سے کچھ سال قبل سوشل میڈیا کے توسل سے ہوا۔ یہ تعارف بہ ظاہر ایک معمولی رابطہ تھا مگر جلد ہی ایک بامعنی ادبی رشتے میں ڈھل گیا۔ میں نے اٹک ڈاٹ کام کے لیے اپنی تحاریر برائے اشاعت بھجوانا شروع کیں تو آغا صاحب نے کمال شفقت، توجہ اور اخلاص کے ساتھ نہ صرف انھیں شائع کیا بلکہ حوصلہ افزائی کے ایسے الفاظ عطا کیے جو ایک لکھنے والے کے لیے سرمایۂ عمر بن جاتے ہیں۔ ان کی جانب سے ملنے والا اعتماد محض تعریف نہ تھا بلکہ مزید لکھنے، بہتر لکھنے اور ذمہ داری کے ساتھ لکھنے کی تحریک تھا۔

    آغا جہانگیر بخاری صاحب بہ حیثیتِ مدیر اس حقیقت پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ لفظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ امانت ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے آئی اٹک ڈاٹ کام پر شائع ہونے والی تحریروں میں سطحیت نہیں، سنجیدگی ہے،شور نہیں، ٹھہراؤ ہے، وقتی چکاچوند نہیں، دیرپا روشنی ہے۔ تاریخ کے آثار و احوال ہوں، جغرافیے کی خاموش صدائیں ہوں، گاؤں اور قصبوں کی گم ہوتی شناخت ہو یا شخصیات کی بے آواز خدمات،یہ سب ان کی مدیرانہ بصیرت کے سبب محفوظ ہو رہی ہیں۔

    آغا صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ خبر کی تیز رفتاری کے اس دور میں بھی علم کی آہستہ روی کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ خبر آج کی ہوتی ہےمگر تاریخ صدیوں کا بوجھ اٹھاتی ہے۔ اسی لیے آئی اٹک ڈاٹ کام میں تحقیق، دستاویز اور حوالہ بنیادی قدر ہیں۔ تاہم وہ اس سماجی شعور سے بھی غافل نہیں کہ بعض معقول خبریں معاشرے کے فکری افق کو روشن کر سکتی ہیں چناں چہ توازن ان کے مدیرانہ مزاج کی نمایاں خصوصیت ہے۔

    معمارِ حرف: جہانگیر بخاری 

    شخصیات کے تعارف میں آغا جہانگیر بخاری صاحب کا رویہ نہایت محتاط اور باوقار ہے۔ اساتذہ ہوں یا اولیا، ادیب ہوں یا شاعر، علما ہوں یا سیاست دان، طبیب ہوں یا فن کار سب کو ان کے اصل سماجی کردار اور عملی خدمات کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے۔ یہاں شخصیت پرستی نہیں کردار شناسی ہوتی ہے اور یہی فرق آئی اٹک ڈاٹ کام کو ایک سنجیدہ علمی پلیٹ فارم بناتا ہے۔

    ایک مدیر کا اصل امتحان نئے لکھنے والوں کے ساتھ اس کا رویہ ہوتا ہے۔ آغا جہانگیر بخاری اس امتحان میں سرخ رو نظر آتے ہیں۔ وہ قلم کار کو محض مواد فراہم کرنے والا نہیں سمجھتے بلکہ اسے فکری سفر کا ہم سفر جانتے ہیں۔ رہنمائی، اصلاح، حوصلہ افزائی اور اعتماد یہ سب ان کے مدیرانہ اوصاف میں شامل ہے۔ ان کی سرپرستی میں بہت سے گم نام لوگ پہچان پا رہے ہیں اور بہت سے کم زور قلم مضبوط ہو رہے ہیں۔

    یوں محسوس ہوتا ہے کہ آغا جہانگیر بخاری صاحب وقت کی تیز دھارا کے سامنے چراغ رکھے کھڑے ہیں اس یقین کے ساتھ کہ روشنی اگر خلوص سے جلائی جائے تو ہوا کا رخ بھی بدل سکتی ہے۔ آئی اٹک ڈاٹ کام اسی چراغ کی لو ہے جو زمین، زندگی اور زمانے کو ایک لڑی میں پرو کر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر رہی ہے۔

    یہ تحریر محض خراجِ تحسین نہیں بلکہ ایک اعتراف ہے اس مدیر کے لیے جو خاموشی سے تاریخ لکھ رہا ہے بغیر کسی شور کے، بغیر کسی دعوے کے۔ اگر اٹک کی مٹی بولتی ہے، اگر اس کی تاریخ سانس لیتی ہے، اگر اس کے لوگ یاد رکھے جا رہے ہیں تو اس میں آغا جہانگیر بخاری صاحب کے قلمی وژن اور ادبی اخلاص کا حصہ ضرور شامل ہے۔دعا ہے آغا صاحب اسی لگن سے اپنے مشن کو جاری و ساری رکھیں۔ آمین

  • آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست

    آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست

    آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست


    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
    دوستی اگر خوشبو ہے تو اس کی مہک کردار سے اٹھتی ہے، اور اگر چراغ ہے تو اس کی لَو انسان کے باطن سے روشن ہوتی ہے۔
    میں 18 ستمبر 2015 میں جب اٹک آیا تو میں نے عسکری فرائض کے بعد دوبارہ قلم تھاما اور لکھنا شروع کر دیا کتاب دوستی نے مجھے بہت سے ادبی ستاروں سے ملوایا جن میں حسین امجد، سجاد حسین سرمد، سعادت حسن آس، نزاکت علی نازک، طاہر اسیر، محسن ملک، پروفیسر نصرت بخاری، مشتاق عاجز، ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر تصور بخاری، ارشاد علی، اور ثقلین انجم شامل ہیں ان سب دوستوں کے علاوہ میری ملاقات جہانگیر بخاری سے ہوئی تو میں ان کی شخصیت میں ڈوبتا چل گیا اور میں ان کے دھیمے لہجے سے بہت متاثر ہوا

    آغا جہانگیر بخاری کو بحیثیتِ دوست دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رشتہ محض وقت کی ہم نشینی نہیں بلکہ شعور، ظرف اور تہذیب کا ہم سفر ہے۔ ان کی دوستی میں بناوٹ نہیں، رکھ رکھاؤ ہے؛ نمائش نہیں، وقار ہے؛ اور شور نہیں، سکون ہے۔
    آغا جہانگیر بخاری کی شخصیت کا سب سے دلکش پہلو ان کی شفقت ہے۔ یہ شفقت کسی رسمی مسکراہٹ یا بناوٹی جملوں میں نہیں ڈھلتی، بلکہ ان کے رویّے، لہجے اور برتاؤ سے خود بخود جھلک جاتی ہے۔ وہ دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں، جیسے الفاظ کو تول کر زبان پر لاتے ہوں۔ ان کی گفتگو میں چیخ نہیں، صدا ہے؛ جلد بازی نہیں، ٹھہراؤ ہے۔ یہی نپا تلا انداز ان کی بات کو وزن اور اثر عطا کرتا ہے۔

    آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست


    دوستی کا حسن تب نکھرتا ہے جب انسان وقت کی کسوٹی پر پورا اترے۔ آغا جہانگیر بخاری دوستوں کی دعوت قبول کرنا محض سماجی ذمہ داری نہیں سمجھتے، بلکہ اسے رشتے کی توثیق جانتے ہیں۔ وہ دوستوں کی خوشی میں بھی پورے دل سے شریک ہوتے ہیں اور غم کی گھڑی میں سایہ دار درخت کی طرح ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی موجودگی محض جسمانی نہیں ہوتی، بلکہ دل کی شمولیت کے ساتھ ہوتی ہے، جو حوصلہ بھی دیتی ہے اور حوصلہ بڑھاتی بھی ہے۔
    آغا جہانگیر بخاری ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جو احسان کو بوجھ نہیں، امانت سمجھتے ہیں۔ وہ دوستوں کی چھوٹی سی نیکی کو بھی یاد رکھتے ہیں، اور یہی وصف ان کے تعلقات کو دیرپا بناتا ہے۔ ان کا دل دوستوں کے لیے کھلا رہتا ہے، جہاں شکایت کے لیے کم اور گنجائش کے لیے زیادہ جگہ ہوتی ہے۔

    مہمان نوازی ان کے ہاں محض روایت نہیں، خلوص کی عملی صورت ہے۔ وہ دوستوں کی آمد کو باعثِ مسرت جانتے ہیں اور دل و جان سے خاطر تواضع کرتے ہیں۔ اسی طرح جب وہ خود دوستوں کے پاس جاتے ہیں تو اچھا اور مناسب لباس پہن کر جاتے ہیں، گویا یہ باور کرا رہے ہوں کہ تعلقات بھی احترام چاہتے ہیں۔

    آغا جہانگیر بخاری کی سنجیدگی ان کی شخصیت کا حسن ہے، بوجھ نہیں۔ وہ کم بولتے ہیں، مگر جب بولتے ہیں تو بات دل میں اتر جاتی ہے۔ ادب سے شغف رکھنے والے دوستوں کے لیے وہ اپنے برقی رسالے میں لکھنے کی دعوت دے کر نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ رویہ ان کے وسیع القلب اور مثبت ذہن کی روشن دلیل ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ آغا جہانگیر بخاری بحیثیتِ دوست ایک ایسا معتبر حوالہ ہیں، جن کے ساتھ دوستی انسان کو بہتر انسان بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ وہ تعلقات کو اوڑھتے نہیں، نبھاتے ہیں اور شاید اسی لیے ان کی دوستی وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی بلکہ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایسے دوست واقعی زندگی کا حاصل ہوتے ہیں۔

  • جلتا چراغ (افسانہ)

    جلتا چراغ (افسانہ)

    جلتا چراغ (افسانہ)

    مٹھی کے اس صحرا میں صبح کا آغاز اذان یا مندروں کی گھنٹی سے نہیں، بلکہ بھیڑ بکریوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی کھنک سے ہوتا تھا۔ ریتلی زمین پر پھیلے کانٹے دار جھاڑ، دور تک پھیلا آسمان اور ہوا میں اڑتی دھول یہی اس بستی کی پہچان تھی۔

    احمد اور محمد روز اسی دھول میں چلتے تھے۔

    محمد نو برس کا تھا۔عمر سے کچھ زیادہ سنجیدہ اس لڑکے کی آنکھوں میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ احمد اس سے دو سال چھوٹا اس کا ننھا ذہن سوالوں سے بھرا ہوا۔ دونوں کے ہاتھ میں لکڑی کی لاٹھیاں ہوتیں اور سامنے بیس پچیس بھیڑ بکریوں کا ریوڑ۔ باپ نے انھیں یہ کام سونپ رکھا تھا اور انھوں نے اسے قسمت مان لیا تھا۔

    جب وہ گاؤں کے سرکاری اسکول کے سامنے سے گزرتے تو احمدکے قدم اکثر آہستہ ہو جاتے۔

    اسکول کی دیواریں مٹی کی تھیں، چھت پر لکڑی کے شہتیر، اور صحن میں نیم کا ایک پرانا درخت۔ بچے بستے لٹکائے ہنستے کھیلتے اندر داخل ہوتے۔ کبھی کبھی کوئی استاذ تختی پر زور سے چاک مارتا تو آواز باہر تک آ جاتی۔

    “بھیا!” احمد ایک دن آہستہ سے بولا، “یہ بچے روز یہاں کیوں آتے ہیں؟”

    محمد نے لاٹھی زمین پر مارتے ہوئے کہا۔

    “پڑھنے آتے ہیں۔”

    “بھیا! ہم اسکول نہیں جا سکتے؟”

    محمد نے جواب نہ دیا اور خاموشی سے چلتا رہا۔ وہ جانتا تو تھا مگر جاننے کی ہر بات بتائی جائے یہ ضروری بھی نہیں ہوتا کچھ بات جان کر بھی نہیں بتائی جاتی۔

    اس منظر کو روز ایک اور شخص بھی دیکھتا تھا۔

    اشوک مقامی اسکول کا وہ استاذ جو صبح اکثر دروازے پر کھڑا ہو جاتا۔ اس کی عمر چالیس کے قریب تھی، چہرے پر مستقل ٹھہراؤ، آنکھوں میں شفقت۔ وہ ان بچوں کو دیکھتا جو اسکول کے سامنے سے جنگل کی طرف مڑ جاتے اور اس کا دل جیسے ہر روز تھوڑا سا بیٹھ جاتا۔

    وہ جانتا تھا یہ بچے کون ہیں؟

    الطاف کے بیٹے۔

    الطاف،ماسٹر اشوک کے گھر کے قریب ہی چند فرلانگ کی دوری پر رہتا تھا۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا مگر حالات کی سختی نے اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا۔ اس کی ایک بیٹی اور دو لڑکے تھے ۔ بیٹی بھائیوں سے چھوٹی تھی جو گھر پر ہی ماں کے پاس رہتی۔ احمد اور محمد کو چھوٹی سی عمر میں ہی بھیڑ بکریوں کے ساتھ لگا دیا تھا۔

    “کام سے ہی مرد بنتا ہے۔” وہ اکثر کہتا۔

    اشوک کا خاندان تقسیم کے وقت ہندوستان جانے والوں میں شامل نہیں ہوا تھا۔ جب ریلیں لاشوں سے بھری جا رہی تھیں اور نفرت مذہب کی زبان بول رہی تھی تب اس کے دادا نے کہا تھا:

    “ہم نے یہ ملک،یہ دھرتی نہیں چھوڑنی  کیوں کہ خدا ہر جگہ ایک ہی ہے۔”

    اشوک نے وہ بات دل میں بسا لی تھی۔

    جلتا چراغ (افسانہ)

    وہ صرف استاذ نہیں تھا بلکہ ایک رہ نما اور ہم درد انسان تھا ۔وہ علم کی اہمیت سے بہ خوبی آشنا تھا اس لیے وہ تعلیم کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس کے اسکول میں سب بچے ہندو تھے مگر اس کی نظر میں مذہب کوئی شناخت نہیں تھی۔ وہ انسانیت کو اہم سمجھتا تھا 

    ایک دن جب احمد اور محمد اسکول کے سامنے سے گزر رہے تھے اشوک نے پہلی بار آواز دی۔

    “ارے بیٹا!ذرا رکو۔”

    دونوں چونک گئے۔ کسی استاذ نے انھیں اس طرح کبھی نہیں بلایا تھا۔

    “تم الطاف کے بیٹے ہو نا؟” اشوک نے پوچھا۔

    محمد نے اثبات میں سر ہلایا۔

    “روز یہاں سے گزرتے ہو… اسکول اچھا نہیں لگتا؟”

    احمد کی آنکھوں میں چمک آ گئی تاہم وہ کچھ بول نہ سکا۔ محمد نے بس اتنا کہا۔

    “ابا کہتے ہیں ہمیں بس کام کرنا ہے۔”

    اشوک نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا۔

    “اچھا!  جاؤ۔”

    وہ جانتا تھا بات بچوں سے نہیں ان کے باپ سے کرنا ہوگی۔

    اسی شام اشوک،الطاف کے گھر پہنچا۔صحرا کا مخصوص مٹی کا بنا گھر، صحن میں بندھی بھیڑ بکریاں اور چولھے پر چڑھی ہوئی ہانڈی۔ الطاف نے استاذ کو دیکھ کر حیرت سے کہا۔

    “آئیے ماسٹر جی! خیریت؟”

    اس نے اشوک کو صحن میں بچھی چارپائی پر بٹھایا اور آنے کی وجہ دریافت کی۔

    اشوک نے بہتر سمجھا کہ بات گھما پھرا کر کرنے کی بہ جائے صاف اور واضح کی جائے۔

    “الطاف بھائی! آپ کے بچے روز میرے اسکول کے سامنے سے گزرتے ہیں تو دل دکھتا ہے۔ یہ وقت ان کی پڑھائی کا ہے اگر یہ بچے آج علم حاصل کر لیں گے تو کل آپ کے لیے اور علاقے کے لیے نیک نامی کا باعث بنیں گے۔”

    الطاف نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

    “ماسٹر جی!پیٹ کتابوں سے تو نہیں بھرتا نا۔ بچے چھوٹے ہیں کام سیکھیں گے تو آگے چل کر سنبھل جائیں گے۔”

    “تعلیم بھی سنبھالنا سکھاتی ہے۔” اشوک نے نرمی سے کہا۔

    “صرف نوکری کے لیے نہیں شعور کے لیے۔”

    الطاف کے چہرے پر سختی آ گئی۔

    “پڑھ لکھ کر کون سا یہ ڈی سی لگ جائیں گے؟”

    اشوک خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا یہ جنگ ایک دن میں نہیں جیتی جاتی۔

    اس رات اشوک دیر تک جاگتا رہا۔ اسے احمد کی آنکھوں میں موجود چمک  اور محمد کی خاموشی رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔ اسے لگا جیسے وہ دونوں بچے نہیں سوال تھے۔ایسے سوال جو اشوک کے ساتھ ساتھ اس بستی سے پوچھے جا رہے تھے۔

    کیا غربت جرم ہے؟

    کیا تعلیم صرف امیروں کا حق ہے؟

    اور کیا مذہب انسانیت سے بڑا ہو سکتا ہے؟

    اشوک نے اگلی صبح اسکول کی گھنٹی بجائی تو اس کی آواز میں عزم شامل تھا۔

     گاؤں دیہات میں باتیں دیر تک چھپی نہیں رہتیں۔

    اشوک کے الطاف کے گھر آنے کی خبر بھی اگلے ہی دن چائے کے کھوکھے سے مسجد کے صحن تک پھیل چکی تھی۔

    “ہندو ماسٹر مسلمان بچوں کو اسکول بلانا چاہتا ہے۔”

    “اپنا دھرم بدلنے کا ارادہ تو نہیں؟”

    “آج بچے کل خاندان۔”

    یہ جملے آہستہ آہستہ علاقے کی ہر زبان پر پھیل رہے تھے۔

    الطاف نے یہ باتیں سنی تو اس کا دل بیٹھ سا گیا۔ وہ مذہب کا کٹر  تو نہیں تھا لیکن معاشرے سے کٹنے کی ہمت بھی اس میں نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا غریب آدمی کے پاس عزت کے سوا کچھ نہیں ہوتااور وہ بھی لوگ چھین لیں تو آدمی بالکل ننگا ہو جاتا ہے۔

    اسی شام وہ اپنا ریوڑ واپس آنے پر احمد اور محمد کو غور سے دیکھنے لگا۔

    “آج اسکول کے پاس کیا کر رہے تھے؟” اس نے پوچھا۔

    محمد نے فوراً کہا۔

    “کچھ نہیں ابا۔”

    احمد نے نظریں جھکا لیں۔

    الطاف کو پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کے بچوں کے ذہنوں میں کوئی نئے خیال جنم لے رہے ہیں۔ایسے خیال جنھیں وہ محسوس کر سکتا تھا۔اسے اندازہ ہو چلا کہ اس کے بچے ماسٹر اشوک کی باتوں پر سنجیدہ ہیں۔

    دوسری طرف اشوک بھی بے چینی کے عالم میں تھا۔

    اسکول میں اس کے ساتھی استاذ تھے جو اسے اس بات پر سمجھا رہے تھے۔ اشوک کوئی اسکول آئے یا نہ آئے ہمارا کام ادارے کے اندر ہے نہ کہ گھر سے بچوں کو پکڑ پکڑ کر لانا ۔اس کے علاوہ گاؤں کے پنڈت، کمیٹی کے بزرگ اور چند والدین اس سے بات کرنے آ چکے تھے۔

    “ماسٹر جی!” ایک بزرگ نے کہا۔

    “آپ اچھا کام کرتے ہیں مگر آپ اپنی ذمے داری پوری طرح نبھائیں جس کی آپ تنخواہ لیتے ہیں۔ یہ سب باتیں فساد کو جنم دیتی ہیں۔”

    اشوک نے نرمی سے جواب دیا۔

    “میں صرف بچوں کو پڑھانا چاہتا ہوں۔”

    “ہر بچے کو نہیں” پنڈت نے آنکھیں تنگ کرتے ہوئے کہا۔

    “ہر جگہ کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔”

    اشوک خاموش رہالیکن اس کی خاموشی کم زوری نہیں تھی۔

    وہ جانتا تھااگر وہ پیچھے ہٹ گیا تو صرف احمد اور محمد نہیں ہاریں گے سوچ اور انسانیت سب کچھ ہار جائے گا۔

    اگلے دن اس نے اسکول میں ایک نیا طریقہ اپنایا۔

    وہ بچوں کو صرف سبق نہیں پڑھاتا تھا بلکہ سوال کرنے کی عادت ڈالتا تھا۔

    “اگر تمھارے پاس دو راستے ہوں۔ایک آسان اور دوسرا کٹھن تو کون سا چنو گے؟”

    بچوں نے مختلف جواب دیے۔

    کسی نے کہا آسان کسی نے کہاکٹھن ۔

    اشوک مسکرایا۔

    “زندگی میں اکثر درست راستا مشکل ہوتا ہے مگر وہی ہمیں انسان بناتا ہے۔”

    اسی وقت احمد اور محمد اسکول کے باہر سے گزر رہے تھے۔

    احمد رک گیا۔

    “بھیا!” اس نے محمد کا ہاتھ کھینچا “سنو وہ کیا کِہ رہے ہیں۔”

    محمد نے اردگرد دیکھا پھر آہستہ سے کہا۔

    “جلدی چل۔ ابا دیکھ لے گا۔”

    الفاظ احمد کے دل میں اتر چکے تھے۔

    اسی رات احمد نے باپ سے پہلی بار سوال کیا۔

    “ابا!ہم اسکول کیوں نہیں جاتے؟”

    چولھے میں آگ جل رہی تھی۔ محمد کی ماں روٹی بنا رہی تھی۔الطاف رات کا کھانا کھا رہا تھا۔اس نے لقمہ منھ میں ڈالتے  ہوئے جواب دیا۔

    “اس لیے کہ تمھیں کام کرنا ہے۔”

    “پر ابا!اگر ہم پڑھ جائیں گے تو؟”

    احمد کی اس بات پر الطاف چونک گیا۔

    “کس نے سکھایا یہ سبق تمھیں؟”

    “کسی نے نہیں” احمد نے سادگی سے کہا۔

    “دل کہتا ہے۔”

    دل!

    یہ لفظ الطاف کو اچھا نہیں لگا۔

    دل امیروں کے پاس ہوتا ہے غریبوں کے پاس ذمہ داریاں ہوتی ہیں ذمہ داریاں۔

    اگلے چند مہینوں میں اشوک کی کوششیں جاری رہیں۔ وہ کبھی الطاف کے پاس بیٹھ کر مثالیں دیتا۔ اسے اپنے خاندان کی کہانیاں سناتا کہ کیسے اس کے باپ دادا نے نفرت کے طوفان میں بھی انسانیت نہیں چھوڑی۔انھوں نے اس مٹی کی محبت میں مرنا قبول کیا لیکن یہاں سے جانا گوارا نہ کیا۔ اس مٹی کا قرض چکانا ہم پر فرض ہے۔ یوں بھی ایک استاذ تو علم بانٹتا ہے وہ قوم قبیلے اور مذاہب سے بالا تر ہوتا ہے۔

    “میں مسلمان نہیں ہوں۔” اشوک ایک دن بولا۔

    “مگر یاد رکھو میں انسان ضرور ہوں، استاذ ضرور ہوں اور استاذ تو بچوں کو اندھیرے میں کبھی نہیں چھوڑتا۔”

    الطاف نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

    وہاں لالچ نہیں تھا، غرض نہیں تھی بس خلوص تھا، یقین تھا اور مصمم ارادہ تھا۔

    ادھر گاؤں والوں کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔

    کچھ لوگ الطاف کو طعنے دینے لگے۔

    “ماسٹر جی کے پیچھے لگ گئے ہو؟”

    کچھ نے اسے ڈرایا۔

    “کل کو بچے ہاتھ سے نکل گئے تو مت کہنا بتایا نہیں تھا۔”

    الطاف راتوں کو کروٹیں بدلتا۔

    ایک طرف غربت اور دوسری طرف بچوں کا مستقبل۔

    اب وہ جب بھی احمد اور محمد کو ریوڑ کے ساتھ دیکھتا تو اسے لگتا یہ بچے واقعی بچے ہیں مزدور نہیں۔وہ ماسٹر اشوک کی باتوں پر غور کرنے لگا۔

    اس دن طویل عرصے کے بعد  صحرا میں بارش آ گئی۔

    تیزاور  موسلا دھار بارش۔ اس سے ہر طرف کیچڑ بن گیا۔

    احمد جو بکریوں کو ہانک رہا تھا اچانک پھسل کر گر پڑا۔ اس کے گھٹنے سے خون بہنے لگا۔ محمد نے ریوڑ سنبھالا۔ احمد شدید درد اور بے بسی کے عالم میں  روتا رہا۔

    اشوک نے یہ منظر اسکول کی کھڑکی سے دیکھا۔

    وہ دوڑتا ہوا باہر آیا۔احمد کو اٹھایا اور اسکول کے اندر لے آیا۔ زخم صاف کیااور کپڑے کے ایک ٹکڑے سے پٹی باندھی۔

    “درد ہو رہا ہے؟” اس نے پوچھا۔

    احمد نے سر ہلایا۔ وہ ڈر بھی رہا تھا کہ اسکول کے اندر جانے پر اس کےابا ناراض ہوں گے۔

    اشوک نے آہستہ سے کہا۔

    گھبراؤ مت۔ تمھارے ابّا کچھ نہیں کہیں گے۔ 

    “ہاں اگر تم اسکول میں ہوتے تو یہ زخم نہ ہوتا۔”

    یہ جملہ احمد کے دل میں بیٹھ گیا۔

    اس شام اشوک خود احمد کو اس کے گھر چھوڑنے آیا۔

    “بس بہت ہو گیا” الطاف نے تلخی سے کہا۔

    “آپ ہمارے بچوں کو ہمارے خلاف کر رہے ہیں۔”

    اشوک نے پہلی بار آواز اونچی کی

    “نہیں الطاف بھائی میں انھیں ان کے حق کے قریب لا رہا ہوں۔”

    لمبی خاموشی چھا گئی۔

    آخرکار الطاف بولا۔

    “اگر… اگر میں مان بھی جاؤں تو خرچ؟ کتابیں؟ وردی؟”

    اشوک نے ایک لمحہ بھی نہیں سوچا۔

    “میں اٹھاؤں گا۔”

    “کیوں؟” الطاف کی آواز کانپ گئی۔

    اشوک نے آسمان کی طرف دیکھا۔

    “کیوں کہ کوئی نہ کوئی تو چراغ جلائے گا۔”

    اس رات الطاف نے فیصلہ نہیں کیا ہاں مگر اس کی ضد ٹوٹ چکی تھی۔

    بس ایک دھکا باقی تھا۔

    اور وہ دھکا قسمت دینے والی تھی۔بارش کے بعد مِٹھی کی زمین سے مٹی کی سوندھی خوشبو اٹھتی تھی۔ اس خوش بو میں بھی الطاف کے دل میں عجیب سی گھٹن بسی ہوئی تھی۔ احمد کا زخم بھر چکا تھا۔ اب بھی اس کی آنکھوں میں وہ سوال تازہ تھا۔ایسا سوال جو صرف درد سے نہیں امکان سے جنم لیتا ہے۔

    الطاف نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں۔

    اسے اپنا بچپن یاد آیا۔ اسے یاد آیا کہ وہ بھی کبھی اسکول جانا چاہتا تھا۔ اس کے باپ نے کہا تھا:

    “کتابیں پیٹ نہیں بھرتیں۔”

    یہی جملہ اب اس کے منھ سے نکلتا تھااور اب وہی جملہ اسے کاٹ رہا تھا۔

    ایک صبح جب احمد اور محمد ریوڑ لے جانے کے لیے نکلنے لگے تو الطاف نے انھیں روک لیا۔

    “آج مت جاؤ۔”

    دونوں چونک گئے۔

    “ابا؟” محمد نے احتیاط سے کہا۔

    “آج میرے ساتھ شہر چلو۔”

    وہ تینوں خاموشی سے چل پڑے۔ گاؤں کی گلیاں، بازار کی رونق اور پھر وہی سرکاری اسکول جس کے سامنے سے بچے گزرتے تھے لیکن  اندر کبھی نہیں گئے تھے۔

    اشوک صحن میں کرسی لگائے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔ اس نے الطاف کو دیکھا اٹھ کھڑا ہوا۔

    الطاف نے نظریں چرائیں پھر دھیرے سے کہا۔ماسٹر جی! 

    “اگر  دیر نہ ہوئی ہو… توداخلہ ہو سکتا ہے؟”

    اشوک کی آنکھیں نم ہو گئیں باوجود اس کے اس نے خود کو سنبھالا۔

    “کبھی دیر نہیں ہوتی” اس نے کہا۔

    اسی دن احمد اور محمد کا نام رجسٹر میں لکھا گیا۔

    دو نام مگر اشوک کے لیے دو عہد۔

    اسکول کے بچوں نے انھیں حیرت سے دیکھا۔ کوئی ہنسا نہیں اجنبیت ہوا میں معلق تھی۔ احمد نے بستا مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا محمد نے نظریں زمین پر گاڑ رکھی تھیں۔

    پہلا سبق خاموشی کا تھا۔

    اشوک نے تختہ سیاہ پر لکھا: علم

    پھر پوچھا۔

    “اس کا مطلب کیا ہے؟”

    کسی نے کہا “پڑھائی۔”

    کسی نے کہا “نوکری۔”

    اشوک نے احمد کی طرف دیکھا۔

    “تم بتاؤ۔”

    احمد یک دم سوال پر گھبرا کر بولا۔

    “علم وہ چیز ہے جو ہمیں سوال کرنا سکھاتی ہے۔”

    جماعت میں خاموشی چھا گئی۔

    اشوک مسکرایا اور احمد کے جواب کو سراہا۔

    اسکول کے باہر حالات بدل رہے تھے۔

    گاؤں میں سرگوشیاں اب کھلی باتوں میں بدلنے لگی تھیں۔ مسجد کے صحن میں بھی اور مندر کے باہر بھی یہ سوال اٹھنے لگا کہ ایک ہندو استاذ مسلمان بچوں کو کیوں پڑھا رہا ہے۔

    ایک دن اسکول کی دیوار پر کوئلے سے لکھ دیا گیا:

    “حد میں رہو”

    اشوک نے وہ الفاظ مٹائے نہیں۔

    اس نے حسبِ معمول طلبہ کو پڑھایا۔ اس کے لیے جیسے وہ دیوار موجود ہی نہ ہو۔

    الطاف پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔ کچھ رشتہ دار آ کر سمجھانے لگے۔

    “ہمیں اپنی پہچان بچانی ہے۔”

    الطاف نے پہلی بار جواب دیا،

    “پہچان جہالت سے نہیں بچتی۔”

    یہ جملہ کِہ کر وہ خود چونک گیا۔

    احمد اور محمد کو اسکول میں وقت لگا گھلنے ملنے میں۔ کچھ بچے بات کرتے، کچھ فاصلے پر رہتے۔ مگر اشوک انھیں برابر بٹھاتا، برابر سوال پوچھتا، برابر سزا دیتا۔برابری اس کا خاموش اعلان تھا۔

    ایک دن محمد نے اشوک سے پوچھا۔

    “ماسٹر جی! اگر ہم سب برابر ہیں تو لوگ الگ کیوں کرتے ہیں؟”

    اشوک نے گہری سانس لی۔

    “کیوں کہ سب کو روشنی اچھی نہیں لگتی۔ کچھ لوگ اندھیرے کے عادی ہو جاتے ہیں۔”

    اسی دوران میں  اشوک نے واقعی قربانی دینا شروع کی۔

    اس کی تنخواہ کم تھی۔ وہ اپنے خرچ کاٹ کر بچوں کی کتابیں لیتا، کبھی اپنے کپڑوں کی جگہ احمد کے جوتے خریدتا۔ اس نے کسی کو بتایا نہیں مگر اسکول کی دیواریں سب جانتی تھیں۔

    ایک دن اسکول کمیٹی نے اسے بلا بھیجا۔

    “آپ اپنی حد پار کر رہے ہیں،” صدر نے کہا۔

    “یہ ادارہ مسائل میں پڑ سکتا ہے۔”

    اشوک نے سیدھا جواب دیا۔

    “اگر دو بچوں کو پڑھانا مسئلہ ہے تو مجھے ہر مشکل کا سامنا کرنا منظور ہے۔”

    فیصلہ موخر کر دیا گیا لیکن خطرہ منڈلانے لگا۔

    اسی رات اشوک نے دیا جلایا اور اپنی کاپی میں کچھ لکھا:

    “اگر مجھے یہاں سے جانا پڑا تو چراغ بجھنا نہیں چاہیے۔”

    اس نے فیصلہ کر لیا تھا کچھ بھی ہو بچوں کی پڑھائی نہیں رکے گی۔

    احمد اور محمد اب بھیڑ بکریاں نہیں چراتے تھے۔ وہ الفاظ چراتے تھے، معنی ڈھونڈتے تھے اور پہلی بار مستقبل کو نام دے رہے تھے۔

    وہ نہیں جانتے تھے چراغ کے گرد ہوا تیز ہوتی ہے۔

    یہ صبا نہیں بلکہ صرصر تھی۔مٹھی میں اس سال گرمی کچھ زیادہ تھی۔

    ہوا میں گرد تھی، لوگوں کی باتوں میں تلخی اور دلوں میں بے چینی۔

    اسکول کی دیوار پر لکھی تحریر مٹ چکی تھی لیکن اس کے اثرات باقی تھے۔ اب باتیں چھپ کر نہیں ہوتیں۔ پنچایت، اسکول کمیٹی، مسجد اور مندر۔ہر جگہ ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا:

    “اشوک کہاں تک جائے گا؟”

    ایک صبح اشوک اسکول پہنچا تو دروازے پر تالا لٹک رہا تھا۔

    وہ لمحہ اس کے لیے نیا نہیں تھا پھر بھی اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ کچھ دیر وہ وہیں کھڑا رہا جیسے دروازے سے نہیں اپنے یقین سے بات کر رہا ہو۔

    اسی وقت احمد اور محمد بھی پہنچ گئے۔

    “ماسٹر جی؟” احمد کی آواز لرز رہی تھی، “آج اسکول نہیں؟”

    اشوک نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا۔

    “اسکول بند نہیں ہوا بیٹا بس جگہ بدل گئی ہے۔”

    اسی دن کمیٹی کا فیصلہ سنایا گیا۔

    اشوک کو کہا گیا کہ وہ “امن و ہم آہنگی” کے مفاد میں اسکول چھوڑ دے۔

    کوئی تحریری الزام نہیں کوئی واضح جرم نہیں۔بس یہ کہ وہ “حد سے آگے” چلا گیا تھا۔

    اشوک نے احتجاج نہیں کیا۔

    اس نے صرف اتنا کہا

    “اگر دو بچوں کو پڑھانا حد ہے تو میں واقعی قصوروار ہوں۔”

    گاؤں میں اس فیصلے پر خاموشی چھا گئی۔ کچھ لوگوں کو سکون ملا، کچھ کو شرمندگی۔ الطاف کو یہ خبر ملی تو وہ سیدھا اشوک کے گھر پہنچا۔

    “یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے،” اس کی آواز بھرا گئی۔

    اشوک مسکرایا۔

    “نہیں الطاف بھائی یہ تمھاری وجہ سے نہیں تمھاری ہمت کی وجہ سے ہوا ہے۔”

    “اب بچوں کا کیا ہوگا؟” الطاف نے پوچھا۔

    اشوک اندر گیا ایک پرانا سا ٹرنک کھولا اور دو بستے نکالے۔وہی جن میں احمد اور محمد کی کتابیں تھیں۔

    “یہیں سے پڑھیں گے” اس نے کہا، “جب تک کوئی اور راستا نہ نکل آئے۔”

    اور واقعی راستا نکل آیا۔

    کچھ دن بعد ایک نوجوان سرکاری افسر مٹھی آیا۔ وہ علاقے کے تعلیمی حالات کا جائزہ لینے آیا تھا۔ کسی نے اسے بتایا کہ ایک استاذ کو بچوں کو پڑھانے کی سزا دی گئی ہے۔

    وہ اشوک سے ملا احمد اور محمد سے بات کی اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔

    چند ہفتوں بعد حکم آیا:

    اسکول دوبارہ کھلے گا۔

    اشوک کو بحال کیا جائے گا اور بچوں کے داخلے برقرار رہیں گے۔

     سب سے اہم بات،تعلیم سب کے لیے ہوگی۔

    اشوک نے یہ خبر سنی تو اس کے چہرے پر نہ خوشی تھی نہ غم بس اطمینان تھا۔

    اس نے اسی شام الطاف کو بلایا۔

    “میرا کام یہاں ختم ہوا ” اس نے کہا،

    “اب چراغ تمھارے ہاتھ میں ہے۔”

    الطاف نے کچھ کہنا چاہا تو لفظ نہ ملے۔ وہ بس اشوک کے پاؤں چھونے لگا جس پر اشوک نے فوراً روک دیا۔

    “یہ علم ہے” اس نے کہا، “یہ جھکنے کے لیے نہیں اٹھنے کے لیے ہوتا ہے۔”

    سال گزرتے گئے۔

    احمد اور محمد اب بھیڑ بکریوں کے راستے نہیں چلتے تھے۔ وہ کتابوں کے راستے پر تھے۔کبھی کچے، کبھی پکے، مگر روشن۔

    محمد استاذ بنا۔

    احمد نے قانون پڑھا۔

    ایک دن دونوں بھائی اسی اسکول کے سامنے کھڑے تھے۔ نیم کا بوڑھا درخت اب بھی وہیں تھا۔ بچے ہنستے ہوئے اندر جا رہے تھے۔ہندو، مسلمان سب ایک ساتھ۔

    احمد نے آہستہ سے کہا۔

    “بھیا! اگر اس دن ماسٹر جی نے ہمیں نہ روکا ہوتا…؟”

    محمد نے مسکرا کر جواب دیا،

    “تو شاید ہم آج بھی جنگل میں ہوتے۔”

    وہ دونوں خاموشی سے اسکول کے صحن میں گئے۔

    دروازے کے پاس ایک چھوٹا سا تختہ لگا تھا:

    “یہ اسکول اس یقین پر قائم ہے

    کہ علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔”

    احمد کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

    کہیں دور، کسی اور بستی میں، شاید کوئی اور اشوک کسی اور دروازے پر کھڑا ہوگا۔

    اور کسی اور بچے کے ہاتھ میں چراغ تھما رہا ہوگا۔

    کیوں کہ چراغ جلانے والے کم ہوتے ہیں مگر روشنی پھیلانے والے ہمیشہ زیادہ ہو جاتے ہیں۔

  • سوادِ شب میں یہ پیکر چراغ جیسے ہیں

    سوادِ شب میں یہ پیکر چراغ جیسے ہیں

    سوادِ شب میں یہ پیکر چراغ جیسے ہیں
    مرے لیے تو بہتّر چراغ جیسے ہیں

    وہ جن میں آلِ محمدﷺ کا ذکر ہوتا ہے
    زمین پر وہ سبھی گھر چراغ جیسے ہیں

    ہوائے دشتِ بلا مجھ سے خوف کھاتی ہے
    کہ بُجھ کے بھی مرے تیور چراغ جیسے ہیں

    تھے کس کے پاؤں لطافت سے آشنا اِتنے
    جو نقشِ پا ہیں سراسر چراغ جیسے ہیں

    ہر ایک چھوٹے بڑے کے لیے ہیں منبعِ نُور
    جنابِ اصغرؑ و اکبرؑ چراغ جیسے ہیں

    رہیں گے طاقِ مودّت میں تا ابد روشن
    کہ یہ نُفوسِ مُطہَّر چراغ جیسے ہیں

    ثنائے آلِ محمدﷺ میں جو لکھے یاورؔ
    وہ سب حروفِ منّور، چراغ جیسے ہیں