Tag: پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس

  • کامرہ کلاں – آخری حصہ

    کامرہ کلاں – آخری حصہ

    کامرہ کلاں – آخری حصہ

    ٹھیکریاں والا بابا:نصراللہ بن عبدالسلام بھیری اٹکی

    یہ مزار ٹھیکریاں میں واقع ہے ۔آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریض دور دراز علاقوں سے یہاں آتے ہیں۔ یہاں یوں تو ہر اتوار کو میلہ ہوا کرتاہے لیکن سال میں ایک بارمارچ کے  مہینے میں کسی ایک اتوار کو بہت بڑا میلہ لگتا ہے۔اس اتوار کو جھلا اتوار کہتے ہیں ۔ بابا جی کے حالات زندگی کے بارے میں عارف نوشاہی لکھتے ہیں: "نصر اللہ بن عبدالسلام بن تاج الدین بن بہا الدین محرم یا صفر  1076 ھ(مطابق جولائی یا اگست1665)میں پیدا ہوئے۔ان کے تین بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں:بدر الدین محمد،عظیم الدین محمد،محمد قدرت اللہ۔ان کی قوم نسبت”کھوکھر”اور وطنی نسبت "بھیری” تھی۔مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ "کے کاتب نے ان کی وطنی نسبت "اٹکی "لکھی ہے؛جس کی شہادت ان کے کتابت کردہ دیگر رسائل سے بھی ملتی ہے۔وہ قادریہ سلسلہ میں شاہ محمد اسماعیل گیلانی کے مرید تھے،جو 1113 میں حیات تھے۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تعلیمات سے بہت متاثر تھے۔ان کی کتابیں پڑھتے اور کتابت کرتے تھے۔اٹک کے معروف محقق نذر صابری کے مطابق نصراللہ کا خاندان قدیم اٹک میں مقیم تھا؛وہاں سے کامرہ کلاں سے متصل چھوٹے سے گاؤں ٹھیکریاںمیں آبسے ۔یہاں اپنے عرفی نام”میاں ولی”کے نام سے مشہور ہوئے۔آخری عمر میں مجذوب ہو گئے تھے۔یہیں وفات پائی1128ھ اور1147 ھ کے درمیان کسی سال میں فوت ہوئے ،یہیں ٹھیکریاں میںمدفون ہیں۔ان کے مزار کی نسبت سے ٹھیکریاں گاؤں کو”زیارت”بھی کہا جاتا ہے۔انھیں علمِ لغات سے خصوصی دل چسپی تھی۔محققین کے مطابق وہ معلم/مدرس اور محتاط  کاتب تھے۔عربی اور فارسی کے معتبر لغات ان کے مطالعہ میں رہتے تھے ۔”مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ "کے علاوہ "تاج المصادر”اور "مہذب الاسماء فی مرتب الحروف والاشیا”کے حواشی لکھے۔مسودے پر”الا ان نصر اللہ قریب”کی مہر بھی لگاتے تھے تا کہ سند رہے۔شعر بھی کہتے تھے۔”مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ "کے خاتمے پر اُن کے 58 شعردرج ہیں۔اب تک اُن کی ایک تالیف،ایک رسالے کی ترتیب نو اور سات کتب و رسائل کی کتاب سامنے آ چکی ہے،جن کا مختصر احوال درج ذیل ہے:

    "مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ ":دسمبر 1714 میں تالیف کرنا شروع کی اور جون 1716 میں اسے مکمل کیا۔جب نسخے کی تسوید مکمل کر لی تو خواب میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔

    تاج المصادر:یہ ابو جعفر احمد بن محمد مقری بیہقی کا عربی سے فارسی لغت ہے۔جس کے  نصراللہ نے حواشی لکھے ہیں۔

    کامرہ کلاں - آخری حصہ
    ٹھیکریاں والا بابا

     "مہذب الاسماء فی مرتب الحروف والاشیا”:یہ محمود بن عمر بن منصور قاضی زنجی سجری شیبانی کی تصنیف کردہ عربی سے فارسی فرہنگ ہے۔جس کےنصر اللہ بن عبدالسلام نے حواشی لکھے۔

    مثلثات بدیعی:یہ ایک منظوم نصاب ہے جس کے قلمی نسخے عام ملتے ہیں۔طلبہ کی سہولت کے لیےنصراللہ نے اس کی ترتیب بدل کر اسے حروف تہجی کی ترتیب سے مرتب کیا۔

    مرج البحرین و جامع الطریقین:شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تصنیف ہے۔

    مجموعہ رسائل /اول:یہ دو رسائل کا مجموعہ ہے اورشیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تصنیف ہے۔

    رسالہ اصولِ حدیث:یہ میر سید شریف جرجانی کا عربی رسالہ ہے۔

    مجموعۂ رسائل /دوم:یہ تین رسائل کا مرقع ہے:”آدابِ لباس،رسالۂ عربی ( ص 14 تا 23 )،رسالۂ عربی(ص 24تا28)

    ماخذ:نقدِ عمر،عارف نوشاہی،،اپریل 2005،ص55

    خرقی بابا:

     ٹھیکریاں اور کامرہ کے درمیان روڈ کے جنوب میں "سیتھ "کے ایک چھوٹے سےٹکڑے پر ایک چھوٹی سی بستی ہے(یہ بستی کامرہ گاؤں کا حصہ ہے)؛اس آبادی کی مغربی سمت میں ایک بزرگ "خرقی بابا”دفن ہیں۔یہاں کالی کھانسی(کھر کھگ)میں مبتلا بچے لائے جاتے ہیں۔

    مشاہیرِ کامرہ:

    کامرہ بابا:(عالمِ صرف)

    کامرہ بابا کا اصل نام محمد حسین ہے۔کامرہ گاؤں میں سکونت کی وجہ سے ان کے شاگرد انھیں کامرہ بابا کہا کرتے تھے ؛بعد ازآں ان کا اصل نام پس منظر میں چلا گیا اور وہ کامرہ بابا ہی کے نام سے مشہور ہو گئے۔علمِ ’’صرف ‘‘اور اس کی تدریس پر کامل دست گاہ کی وجہ سے انھیں صرفی بابا بھی کہاجاتا تھا ۔آپ کے والد کا نام جلال الدین ہے۔کامرہ بابا نے سرائے سعد اللہ اور حطار میں صرف و نحو کی تعلیم حا صل کی۔آپ کے ہاں کابل سے دہلی تک کے طلبہ پڑھنے کے لیے آتے تھے۔طلبہ کی کثرت کی وجہ سے آپ انھیں گاؤں کی تمام مساجد(جن کی تعداد چھے تھی)میں تقسیم کر دیتے۔طلبہ گاؤں کے متمول گھروں سے روٹی سالن مانگ کر لاتے جسے وظیفہ کہا جاتا۔ایک بار صوبہ سرحد کے ایک امیر آدمی نے مستقل لنگر اور چارپائیوں کی پیش کش کی لیکن آپ نے یہ کہ کر اس کی پیش کش مسترد کر دی کہ اس بے سروسامان مدرسے میں اس وقت جو طالبِ علم بھی آتا ہے وہ خالص پڑھنے کی نیت سے آتا ہے لیکن اگر لنگر جاری ہو گیا تو پھر یہ بھگوڑوں کی سیر گاہ بن جائے گا۔آپ کی تدریس کا یہ طریقہ تھا کہ ادارے سے مانوس کرنے کے لیے  نووارد طالبِ علم سے تین ماہ کوئی علمی کام نہیں لیتے تھے۔سال میں ایک بار اٹک خرد میں دریا کے کنارے شاگردوں کی دعوت کرتے تھے ۔آپ کی تدریس کی دارالعلوم  دیو بند تک شہرت تھی۔’’صرف‘‘پر آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے شاگردوں کا دارالعلوم دیو بند میں علم صرف کا امتحان نہیں لیا جاتا تھا۔ آپ کو دارالعلوم میں’’صرف‘‘کی تدریس کی دعوت بھی دی گئی لیکن آپ یہاں کے طلبہ کی علمی محرومی کے پیشِ نظر وہاں نہیں گئے۔آپ کے تیار کردہ’’قانونچہ ٔ کامروی‘‘سے اب بھی سیکڑوں مدارس اور اساتذہ استفادہ کر رہے ہیں۔فارسی،عربی،پشتو،پنجابی اور سرائیکی زبان جانتے تھے ۔سر پر پگڑی اہتمام سے باندھتے تھے۔آپ ۱۹۵۸ء میں ٹانگوں کے ایک مہلک مرض میں مبتلا ہوئے اور یہی مرض آپ کا مرض الموت ثابت ہوا۔آپ پنڈ سلیمان مکھن،کامرہ میں آسودۂ خاک ہیں۔

    اعجاز حسین بخاری:(سیاست دان)

    سید اعجاز حسین بخاری

    اعجاز بخاری کے نام سے شہرت ہے۔کامرہ کلاں کی سادات فیملی سے تعلق ہے۔5 /مارچ 1941 میں کامرہ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سید مرتضیٰ بخاری ہے؛جنھوں نے کامرہ گاؤں میں تشیع کی بنیاد رکھی۔اعجاز بخاری نےگورنمنٹ ہائی سکول اٹک(حال پائیلٹ سیکنڈری سکول)سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ اسلامیہ کالج کراچی سےایف اے اور بعدازآں بی اے کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔1966 میں کراچی یونی ورسٹی سے ایل ۔ایل۔ بی کی سند لی اور اسی یونی ورسٹی سے ہسٹری میں ایم ۔اے کا امتحان پاس کیا۔آپ اٹک سٹی میں وکالت بھی کرتے رہے۔ضلع کونسل اٹک کے مجلہ” اٹک فیسٹیول "کی ادارت کی ۔ستر کی دہائی میں سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور کئی بار کامرہ یونین کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔1983 میں ضلع کونسل کے وائس چیئر مین منتخب ہوئے؛1985 میں ضلع کونسل کے چیئر مین  کے لیے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔2002 میں متحدہ مجلسِ عمل کی طرف سے انتخابی حلقےپی پی 15 میں الیکشن میں شریک ہوئے اور کامیابی حاصل کی ۔2013 کے انتخاب میںپاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر اٹک سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔آپ نے کئی ممالک کے دورے کیے۔2004 میں مصر کا سرکاری دورہ کیا۔2006 میں کاروبار کے سلسلے میںایران گئے۔ 2008 میں عراق اور 2009 میں شام کا دورہ کیا۔سید اعجاز بخاری انتہائی سادہ اور ملنسار سیاست دان ہیں۔سیاست آپ کو ورثے میں نہیں ملی بلکہ آپ نے ذاتی محنت ، ایمان داری اور اخلاص سے موروثی سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے اپنا آپ منوایا۔آپ نے ضلع اٹک کی سیاست کو نیا رنگ دے کر عوامی بنایا۔آپ سے پہلے سیاست دان ووٹ لے کر اگلے الیکشن تک غائب ہو جاتے تھے لیکن آپ کے دروازے ہر وقت ہر ایک کے لیے کھلے رہتے تھے۔آپ اپنے ووٹروں کو ہمہ وقت دستیاب تھے۔بعد میں آپ کی دیکھا دیکھی اٹک میں ہر سیاست دان نے یہی عوامی انداز اپنا لیا۔آپ ہزاروں غریبوں ،محتاجوں اور بیماروں کے کفیل ہیں۔ 2018 میں سیاسی میدان اپنے بھتیجے اور داماد یاور بخاری کے سپرد کر کے بہ ظاہر سیاست سے علاحدہ ہو گئے۔

    واجد حسین بخاری،سید:(سیاست دان)

    سید واجد حسین بخاری

    سیدواجد حسین بخاری کامرہ کے سادات قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں14/فروری 1945 کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم سے بی اے تک کی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔آپ معروف سیاست دان سید اعجاز بخاری کے بھائی ہیں۔عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کے والد ہیں۔والد کا نام سید مرتضیٰ بخاری ہے۔امریکہ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر کام کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق کے ایڈوائزر رہے۔پرویز مشرف کے دور میںمحمدمیاں سومرو کی کابینہ میں اِنوائرمنٹ ،لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیویلپمنٹ کے وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی اہم شخصیت شمار کیے جاتے ہیں اور کور کمیٹی کے ممبر ہیں ۔شپنگ، پراپرٹی ،ڈیویلپمنٹ اور کنسٹرکشن جیسے ذاتی کاروبار ہیں۔مستقل قیام اسلام آباد میں ہے۔

    یاور عباس بخاری،سید:(سیاست دان)

    سید یاور عباس بخاری

    سید یاور عباس بخاری اٹک کے معروف سیاست دان اعجاز حسین بخاری کے بھتیجے اور داماد ہیں ۔ سابق وفاقی وزیر سید واجد حسین بخاری بھی آپ کے چچا ہیں۔یاور عباس دوستانہ مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں۔مشہور سیاسی خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے باوجود سیاسی ورکروں کی طرح کام کرتے ہیں،جس کی وجہ سے ہر دل عزیز شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔یاور عباس 10/اکتوبر 1964 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سید منظور حسین بخاری ہے۔آبائی گاؤں کامرہ کلاں ہے۔ابتدائی تعلیم برن ہال ایبٹ آباد میں حاصل کی۔اسی ادارے سے 1980 میں O level کا امتحان پاس کیا۔برن ہال کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔Seaford College(England)سےA  Levelاوریورپ سے  BBAکی ڈگریاں حاصل کیں۔کرکٹ کے عمدہ کھلاڑی رہے ہیں۔انگلینڈ کی کاؤنٹی کےجونیئر گروپ میں منتخب ہو گئے تھے لیکن والدین کے ساتھ پاکستان چلے آئے ۔1990 میں اپنے خاندانی کاروبار(Consultancy)سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں عباس پیپرز اینڈ بورڈز کے منیجنگ ڈائریکٹر بنائے گئے۔یہ ادارہ بھی ان کےذاتی کاروبار کے زمرے میں آتا ہے۔1998 میں پہلی بار سیاسی افق پر نمودار ہوئےاور اٹک شہر کے ایک حصے وارڈ نمبر6سےکونسلر کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔2005 میں تحصیل اٹک کی نظامت کے لیے قاضی خالد محمود کا سامنا کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔2011 میں اٹک کی یہ بخاری فیملی پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہو گئی ۔ آپ اور آپ کا خاندان تحریک انصاف کی قیادت(عمران خان)کے بہت قریب ہے اور بالخصوص پاناما گیٹ سکینڈل میں نواز شریف کی حکومت گرانے والے گروہ کے مرکزی کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔جولائی 2018 میں یاور بخاری اپنے چچا اعجاز بخاری کی جگہ میدان میں اترے اور پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں کامیاب ہوئے۔ستمبر 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر مقرر ہوئے۔مارچ 2019 ء میں پاکستان تحریک انصاف(پنجاب) کی حکومت نے انھیںچیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی بنا دیا۔دسمبر 2020 کو پنجاب کی وزارت کا قلم دان بھی ان کے سپرد ہوا۔سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ذاتی کاروبارسے منسلک ہیں؛اور اٹک شہر میں سکونت پذیر ہیں۔

    زلفی بخاری:(سیاست دان)

    ذلفی بخاری

    اصل نام ذوالفقار بخاری ہے۔دسمبر 1980 میں پیدا ہوئی۔عمران کے قریبی ساتھی ہیں۔والد کا نام سید واجد حسین شاہ بخاری ہے جو پرویز مشرف کے دور حکومت میں نگران حکومت کے وزیر تھے۔کامرہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے معروف سیاست دان سید اعجاز بخاری کےبھتیجے اور سید یاور بخاری کے چچا زاد بھائی ہیں۔عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی طلاق کے بعد ان کا نام عمران خان کے دوست کی حیثیت سے نمایاں طور پر سامنے آیا۔سفر پر پابندی کے باوجود جب عمران خان انھیں جب جون 2018  میں عمرہ پر ساتھ لے گئے تو بھی ان کا نام "بریکنگ نیوز”کے طور پر نشر ہوتا رہا۔نواز شریف کے دور حکومت میں آف شور کمپنیوں کے جن مالکان کی فہرست جاری کی گئی تھی،ان میں زلفی بخاری کا نام بھی شامل تھا۔ستمبر 2018 میں ان کاSpecial Assistant to the Prime Minister on Overseas Pakistanis and Human Resource Developmentکی حیثیت سے تقرر ہوا۔انگلینڈ میں جائیداد کی خریدو فروخت کا کروبار کرتے ہیں ۔

    اشرف الحسینی،ڈاکٹر:(ماہرِ لسانیات)

    اصل نام محمد اشرف ہے۔25/فروری1930ء میں کامرہ کلاں میں ملک روشن دین کے گھر پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم لوئر مڈل سکول کامرہ کلاں سے حاصل کی۔شمس آباد کے ورنیکلر سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ پائیلٹ سیکنڈری سکول اٹک سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔گورنمنٹ پولی ٹیکنیک رسول سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا۔ دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں دور تفسیر کی سند حاصل کی۔بلدیہ لاہور میںبلڈنگ انسپکٹر کے طور پر کام کیا۔لاہور کوآپریٹو ڈویلپمنٹ بورڈ میں ڈرافٹس مین کی حیثیت سے رہے۔ایم اے انگریزی کے بعدقبولہ میں ایک پرائیویٹ انٹر کالج میں پڑھاتے رہے۔بعد ازآں ایم اے اردو کے امتحان میں بھی کامیاب ہوئے۔جنوری 1965ء میں  انٹر کالج بھکر میں تقرر ہوا۔اس کے بعد انٹر کالج جہلم چلے آئے۔جہلم کالج کے مجلے’’دی جہلم ‘‘کے مدیر رہے۔گورنمنٹ کالج اٹک کے مجلے ’’مشعل‘‘کی ادارت کی ذمہ داری بھی نبھائی۔1990ء میں گورنمنٹ کالج اٹک سے سبک دوش ہو گئے ۔ 1942ء میں ادب سے وابستہ ہوئے ۔ابتدا میں سیف تخلص اختیار کیا ؛بعد ازآں پولی گلوٹ اورایم اشرف کے نام سے بھی لکھتے رہے۔دنیا کی چھبیس(26)زبانوں پر دسترس کا دعوی ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعداٹک چھوڑ کر لاہور کو مستقل مسکن بنا لیا تھا۔14۔جولائی 2019کو وفات پائی۔لاہور میں دفن ہوئے۔

    مہر حسین شاہ:(محقق)

    10/جنوری1954ء میں کامرہ گاؤںمیں پیدا ہوئے۔والد کا نام فضل حسین ہے۔1971ء میں گورنمنٹ پائیلٹ سکول اٹک سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد کچھ عرصہ خواجہ گلاس فیکٹری حسن ابدال میں کام کرتے رہے۔1973ء میں میونسپل کمیٹی حسن ابدال میں ملازمت مل گئی۔1999ء میں وہیں سے سبک دوش ہو گئے۔1974ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔خاص رنگ دینیات ہے۔اہلِ بیت کرام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ان کی تحریروں میں انھیں شخصیات کا تحفظ اور مدح سرائی کا رنگ دکھائی دیتا ہے؛ا ن کی تحریر میں مناظرانہ انداز کا غلبہ دکھائی دیتا ہے؛اسی لیے کئی بار "واجب القتل”فتوے کی زد میں آئے۔بھٹو دورِ حکومت میں نصرت بھٹو کے خلاف’’خاتونِ اول‘‘کے عنوان سے مضمون لکھے اوراکوڑہ خٹک کے مجلے ’’الحق‘‘کے اس ماہ کے مجلے کی ضبطی کا باعث بنے۔کئی کتب کے مصنف ہیں ۔ 7/مارچ 2015 کووفات پائی ۔آبائی گاؤں کامرہ کلاں میں دفن ہوئے ۔

    سیّد رفیق احمد شاہ بخاری(استاد، ماہر تعلیم،مصنف اور محقق)

    سید رفیق بخاری
    سید رفیق بخاری در مدینہ منورہ

    اکتوبر 1938ء کو کامرہ کلاں میں پیدا ہوئے، والد سید شاہ علی حیدر بخاری برطانوی فوج میں تھے ۔ والدہ ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتی تھیں۔ شاہ عنایت اور شاہ ولایت شمس آبادی کے خاندان سے تھیں ۔ آپ نے آٹھویں تک تعلیم کامرہ کلاں سے حاصل کی اور پھر کیمبل پور آگئے اور اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔کامرہ کلاں کی تاریخ کے اولین گریجوئیٹس میں سےتھے۔ اٹک کی مجلس نوادرات علمیہ کے بانی اراکین اور معروف مورخ شاعر اور سابقہ لائبریرین نذر صابری مرحوم کے قریبی دوست تھے۔ دیوان شاکر اٹکی دونوں نے مرتب کی تھی۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ سے بحیثیت پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ آپ ایک بہترین خطاط ، شاعر، محقق ، مصنف اور ماہر تعلیم تھے۔ کیمبل پور کی جغرافیائی کتاب ” معاشرتی علوم”آپ کی لکھی ہوئی ہے جو کئی سال نصاب میں شامل رہی ۔مارچ 2012ء کو وفات پائی ۔اٹک شہر میں مدفون ہیں۔

  • کامرہ کلاں – حصہ دوم

    کامرہ کلاں – حصہ دوم

    کامرہ کلاں – حصہ دوم

    ذریعہ معاش:

    کثیر تعداد میں لوگ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں ملازم ہیں ۔محکمۂ تعلیم میں بھی ان کی کثیر تعداد ہے۔پاک فوج سے بھی وابستہ ہیں۔وکالت اختیار کرنے کا رجحان بھی بڑھنے لگا ہے ۔اس کے باوجودگاؤں کی اکثریت کا پیشہ محنت مزدوری ہے۔

    مساجد:

    کامرہ میں ایک امام بارگاہ ہے؛اس کے علاوہ دیوبندی،بریلوی اور اہلِ حدیث حضرات کی مساجد ہیں۔یہاں کی ایک قدیم مسجد "مسجد زین العابدین”کو یہ خاص فضلیت حاصل ہے کہ یہاں شیعہ،وہابی،دیوبندی ایک جگہ نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔اھل تشیع حضرات کی جماعت کے بعد سنیوں کی جماعت کھڑی ہو جاتی ہے۔مسجد کا مجموعی ماحول پر امن ہے۔اس مسجد میں کسی کو بھی اپنے مسلک کی تبلیغ کی اجازت نہیں۔

    کامرہ کلاں - حصہ دوم
    امام بارگاہ کامرہ کلاں

    تعمیرات:

    تیس پینتیس سال پہلے گاؤں کے لوگوں کےمکانات کچے ہوا کرتے تھے۔اگر سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات کریں تو یقیناً لوگ غاروں(بھُرا) میں بھی رہتے ہوں گے۔گاؤں کے چند ٹیلوں میں راقم نے غار(بھرے)دیکھے تھے۔دم تحریر شاید ہی کوئی کچا مکان ہو۔لوگ پختہ تعمیرات کو اپنانے لگے ہیں۔

    گلیاں:

    گلیاں پختہ لیکن تنگ ہیں۔گاؤں کی جو مرکزی گلی ہے اس میں سے بھی دو چھوٹی گاڑیاں بہ یک وقت نہیں گزر سکتیں۔دوسری گاڑی کے لیے راستہ بنانےکا یہ حل نکالا گیا ہے کہ ایک گاڑی کو کسی گلی میںڈال دیا جاتا ہے۔ 

    ریگستان:

    اٹک میں کسی گاؤں سے ملحق اتنا بڑا ریگستان دیکھنے میں نہیں آیا۔یہ ریگستان شمالاً جنوباً گاؤں کی مغربی سرحد پر سویا ہوا ہے۔گاؤں والوں کی ریت کی ضرورت اسی ریگستان سے پوری ہوتی ہے۔مقامی زبان میں اسے "سیتھ” کہتے ہیں۔

    کھیلیں:

    کسی زمانے میں جب کرکٹ یہاں نہیں کھیلی جاتی تھی،تو یہاں کا معروف کھیل کبڈی تھا۔مقامی ریگستان”سیتھ”میں دور دراز سے ٹیمیں کبڈی کھیلنے آیا کرتی تھیں۔گاؤں کے کھلاڑیوں کا ضلع میں ایک نام تھا۔والی بال کی ٹیم بھی اچھی تھی۔کرکٹ آنے کے بعد کبڈی اور والی بال کے کھیل دم توڑ دے۔اب گاؤں کے لڑکے کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے ہیں۔حال ہی میں کبڈی کی بھی ایک ٹیم سامنے آئی ہے،جو خوش آئند بات ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ گاؤں میں بچوں کے کھیلنے کے لیے کوئی گراؤنڈ نہیں۔البتہ نہر کے آس پاس کی زمین پر بچوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی خوب صورت گراؤنڈ بنا رکھے ہیں۔گاؤں کی پرانی ٹیموں میںسے صرف شاہین کرکٹ کلب کی سرگرمیاں جاری ہیں۔اس کرکٹ کلب کی بنیاد 1985۔1984 میں رکھی گئی تھی۔

    چشمے:

    جہاں آج کل کامرہ بیس کا رن۔وے ہے،عین اسی جگہ پانی کا ایک چشمہ تھا،اس چشمے کا پانی اتنا زیادہ تھا کہ ایک چھوٹی سے ندی کی شکل اختیار کر لیتا تھا لیکن اس کی گہرائی نہیں تھی۔اس چشمے میں مچھلیاں بھی ہوتی تھیں۔راقم اس بات کا چشم دید گواہ ہے کہ گاؤں کے لڑکے وہاں مچھلیاں پکڑنے جایا کرتے تھے۔ایک اور چشمہ کامرہ پڑی کے دامن سے نکلتا تھا۔اس کا پانی بھی اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ گاؤں کے مشرقی حصے سے اکثر خواتین کا وہاں کپڑے دھونا روزانہ کا معمول تھا۔

    آثار قدیمہ:

    (1)پنڈ سلیمان مکھن کے ایک کنویں سے مجلس نوادرات علمیہ نے ایک کتبہ دریا فت کیا۔جس کی عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ کنواں "اشوک”بادشاہ کی پیدائش کی خوشی میں کھودا گیا تھا۔اس سے گاؤں کی قدامت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

    (2)کامرہ گاؤں کے جنوب میں ایک قدیم کنواں تھا،جسے :کھنڈا کھو” کہتے تھے۔قیاس ہے کہ کامرہ کی قدیم آبادی اسی کنویں سے پانی ضرورت پوری کرتی تھی۔

    گاؤں کے شمال میں جی۔ٹی روڈ پر ایک قدیم باؤلی تھی جسے چٹی باؤلی کہا جاتا تھا۔یہ باؤلی بھی قدیم کنواں تھا جو مسافروں کی پانی کی ضرورت کے پیش نظر مغل بادشاہوں میں سے (3)کسی نے کھدوایا تھا کیونکہ ایسی باولیاں پورے برصغیر میں موجود ہیں اور ایسی باولیاں کھدوانا مغلوں کا خاصہ تھا۔

    (4)آج کل جہاں ایف۔سکس کالونی میں "رتی جناح”پارک ہے ،اس کے بالمقابل پہاڑی کے پہلو میں راقم نے پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی قدیم سرنگ دیکھی تھی۔اس سرنگ مقاصد معلوم نہیں ہو سکے۔

    (6)موضع ٹھیکریاں میں بھی کھدائی کے دوران میں ٹوٹے پھوٹے برتن اور سکے آج بھی ملتے رہتے ہیں۔

    (7)پنڈ سلیمان مکھن میں بھی کھدائی کے دوران میں ٹھیکرے ملنے کی شہادت موجود ہے۔

    پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ:

    "پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ "کا نام "کامرہ گاؤں”کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔جس وقت اس پراجیکٹ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے لیے جو زمین استعمال کی گئی وہ ساری کی ساری کامرہ گاؤں کے لوگوں کی ملکیت تھی۔بعد میں اس ادارے میں وسعت ہوتی گئی اور ہٹیاں اور قطبہ گاؤں کی اراضی بھی اس میں شامل ہوتی گئی۔

    یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جہاز سازی اور جہازوں کی اوور ہالنگ کا یہ کارخانہ آرگنائزیشن آف اسلام(O.I.C)کی منظوری اور تعاون سے لگایا گیا ؛اس سے پہلے اسلامی ممالک کے جہاز اوور ہالنگ کے لیے امریکہ،روس،فرانس وغیرہ جایا کرتے تھے۔کانفرنس کی میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ کسی اسلامی ملک میں کوئی اس قسم کا کارخانہ لگایا جائے تاکہ غیروں کی محتاجی اور بلیک میلنگ سے جان چھوٹے ۔یہ بھی طے ہوا کہ جس ملک میں یہ کارخانہ لگایا جائے گا،زمین اس کی ہو گی لیکن سرمایہ مسلمان ممالک فراہم کریں گے۔فوری طور پر اس مقصدکے حصول کے لیے عراق کا نام سامنے آیالیکن ذوالفقار بھٹو کی رائے تھی کہ یہاں اسرائیل قریب ہے اور وہ اس پراجیکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا،چنانچہ بھٹو صاحب کی حاضر دماغی اور مسلمان ممالک کی حتمی منظوری کے بعد یہ منصوبہ پاکستا ن منتقل ہوا۔شاید حکومتِ پاکستان نےکامرہ کا علاقہ اس لیے منتخب کیا،کیونکہ دوسری جنگِ عظیم میں اس علاقے کو برٹش ایئر فورس اپنے استعمال میں لا چکی تھی ،اور جس وقت 1975 میں جب یہاں رن ۔وے کے لیے کام کا آگاز ہوا تو یہاں قدیم رن ۔وے کے آثار موجود تھے۔

     اگرچہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کی بنیاد ستر کی دہائی کے وسط میں رکھی جا چکی تھی لیکن اس کا باقاعدہ افتتاح1980 میں اس وقت کے وزیرِ دفاع میر علی احمد خان تالپور نے کیا۔ایئر مارشل شیخ محمد سعید اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل تھے جنھیں اگست 1975 میں یہاں کامرہ میں تعینات کیا گیا تھا؛ 80 کی دہائی میں بھی اس کے ستر فی صد پراجیکٹ ادھورے تھے۔پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میںسب سے پہلے میراج طیاروں کی اوور ہالنگ کا کام شروع کیا گیا،بعد ازآں 6۔Fطیاروں کی اوور ہالنگ کا کام بھی شروع کردیا گیا۔دم تحریر 16۔Fطیاروں ہالنگ کے ساتھ ساتھ JF .Thunder کی مینو فیکچرنگ کا کام بھی جاری ہے۔یہاں کے رن۔وے پر سعودی عرب،متحدہ عرب عمارات کے جہاز بھی دیکھے گئے ہیں؛جس کا مطلب یہ ہے کہ خلیجی ممالک کے جہاز بھی اوور ہالنگ کے لیے یہاں بھیجے جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کوچار زون ((1) ایف۔6 ،(2)میراج ری بلڈ فیکٹری،(3)ایم ۔آر۔ایف،(4)ریڈار فیکٹری ) میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    نہر:

    مارچ 1993 میں نواز شریف نے غازی بروتھا نہر کا سنگ بنیا درکھا۔یہ نہر کامرہ گاؤں کو چھوتی ہوئی آگے حاجی شاہ کی طرف بڑھ جاتی ہے۔کامرہ کے مقام پر اس کی دل کشی دیدنی ہوتی ہے۔ایک طرف سرسبز و شاداب کامرہ پڑی(پہاڑی)اور اس کے دامن میں صاف شفاف پانی سے لب ریز نہر ایسا دل ربا منظر پیش کرتے ہیں جو اس سے پہلے صرف تصویروں ہی میں دیکھا تھا۔تمام غازی بروتھا نہر کسی مقام پر اتنی خوب صورت نہیں جتنی کامرہ کے مقام پر ہے۔نہر کا پانی صاف اور بہت ٹھنڈا ہے۔گرمیوں میں یہ نہر گاؤں والوں کے لیے پکنک پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔نہر کے ٹھنڈے پانی کے اثرات گاؤں کی فضا پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔میرا ایک مرحوم دوست محمد زبیر قوم ملیار م،جس کا گھر نہر کے بالکل قریب ہے،مجھے بتایا کرتا تھا کہ جون جولائی کے مہینے میں بھی میں کمبل کے بغیر چھت پر نہیں سو سکتا؛اس بات کی تصدیق ماسٹر محسن شاہ مرحوم نے بھی کی تھی؛ان کا مکان بھی نہر کے کنارے پر واقع تھا۔اس نہر کی وجہ سے کئی قیمتی جانوں کا نقصان بھی گاؤں والوں کو اٹھانا پڑا ہے۔اس نہر کی خوب صورتی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان احتیاط سے کام لیں

    روحانی شخصیات:

    پیازی بابا:ان کی قبر پنڈ سلیمان مکھن کے پہلو میں واقع قبرستان میں ہے ۔جن کے چہرے پر دھدر ہوا کرتے تھے،وہ لوگ یہاں سے تیل لے کر منہ پر لگاتے تھے۔

    ، کرم حسین شاہ:ان کے متعلق مشہور ہے کہ انھوں نے سات حج پیدل سفر کر کے کیے تھے۔گاؤں کے لوگ دولھا کو اس قبر کی سیر کراتے اور اس کے کلے پر یہاں کی بیری یا کسی درخت کی چار پانچ انچ لمبی ٹہنی لگاتے ہیں؛اس عمل کو شادی میں برکت قرار دیا جاتا ہے۔پہلے پہل گاؤں کے اکثر لوگ ایسا ہی کرتے تھے لیکن اب یہ رسم صرف چند سادات گھرانوں تک محدود ہے۔

    جاری ہے ….