Tag: قائد اعظم

  • قائد اعظم اور اقبال

    قائد اعظم اور اقبال

    قائد اعظم اور اقبال

    مبصر : مقبول ذکی مقبول  ، بھکر

    قائدِ اعظم اور اقبال ہماری قوم کے وہ عظیم ہیروز ہیں ۔ جن کو کسی بھی قیمت پر فراموش نہیں کیا جا سکتا صرف ہم ہی نہیں اِن عظیم شخصیات سے ہماری آنے والی نسلیں اظہارِ محبت کرتی رہے ہیں گی ۔یہ قوم کا وہ عظیم اثاثہ ہیں ۔ جس پر ہر پاکستانی کو فخر ہے ۔ یہاں قوم قبیلہ ، غریب یا امیر مسلم اور غیر مسلم والی بات نہیں صرف اور صرف ایک قوم پاکستانی قوم
    راکی ولسن کی زیرِ نظر کتاب قائدِ اعظم اور اقبال جس کا آغاز حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے ۔ اِس کے بعد ایک دُعا ئیہ نظم اس کے بعد باپ جیسا رشتہ کے عنوان سے نظم اور گربچھڑ جائے ( ماں ) کے حوالے سے نظم اِن عظیم رشتوں کی اہمیت سے آگاہ ہی اور اِن سے مزید محبت میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں ۔ اِس کے بعد بانیِ پاکستان بابائے قائدِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ اور شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کو منظوم خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے ۔
    اِس کے ساتھ ساتھ وطنِ عزیز کی خوبصورتی کا ذکر پاکستان میں قدرتی نعمتیں اور نظارے پاکستانی کو مزید پاکستان سے محبت کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ کتاب کو بار بار پڑھنے کو دِل کرتا ہے ۔ یہ تو سچ ہے کہ وطن سے محبت ہر ایک کو ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ یہ ایمان کا حصّہ ہے ۔
    راکی ولسن کا پاکستان سے محبت کا بہترین ثوب اِن کی کتاب ٫٫ قائدِ اعظم اور اقبال ،، ہے اِس کا خلوص ہر ایک نظم میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ دل سے کہیں گئی نظمیں اپنا رنگ جمائے ہوئے ہیں ۔ یہ شاعر کی کامیابی کا راز بھی ہوتا ہے جو قاری کو اپنی طرف توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے ۔
    تاریخِ پاکستان کی روشنی میں کہیں گئی نظمیں بھرپور مقصد اپنے اندر رکھتی ہیں جو حقیقت کو عیاں کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہری کو اپنے حقوق سے آگاہ بھی کرتی ہیں ۔ ایسی سوچ و فکر اپنی نظموں میں پیدا کرنے والا راکی ولسن ایک اچھا انسان اور پاکستانی ہونے کا حق ادا کر دیا ہے ۔ ایسے ہی لوگ رہتی دُنیا تک زندہ رہتے ہیں ۔ کہیں کہیں بابائے قوم کے فرامین کو نظم کی صورت میں بھی پیش کیا گیا ہے ۔ جو قاری کو کتاب کا مزید مطالعہ کرنے میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے ۔

    قائد اعظم اور اقبال


    ماسٹر فیروز فرانسیس ریٹائرڈ ٹیچر
    راکی ولسن میرے مطابق کے عنوان سے لکھتے ہیں ۔ آج مجھے راکی ولسن کی شاعری کا مسودہ وصول ہوا جس میں انہوں نے قائدِ اعظم اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبال پر نظمیں اور غزلیں کہی ہیں ۔ مسودہ بغور پڑھ کر مجھے انتہائی مسرت ہوئی کہ راکی ولسن اپنے قومی مشاہیروں سے کس قدر عقیدت اور محبت رکھتے ہیں ۔( ص 9 )
    سادہ سے الفاظ میں سلیقہ و ہنر مندی سے بات کرنے کا فن رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر دیکھیں اپنے قومی ہیرو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک نظم پیارا پیارا پاکستان سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

    پاکستانی قوم کو تیرا
    یاد رہے گا یہ احسان

    پروفیسر عبد الستار پسروری ( بانی و سرپرست بزمِ گلشن ، پسرور )
    لکھتے ہیں میں نے مسودہ بغور پڑھا اور اس میں چھپے ہوئے گہرے احساسات اور محبت کو محسوس کیا واقعی راکی ولسن کی شاعری قائدِ اعظم اور اقبال کی عقیدت کا مرکز نظر آتی ہے ۔ ( ص 12 )
    عقیدت و محبت جو پاک ہوتی ہے وہی فتح یاب ہوتی ہے ۔ راکی ولسن نے کیا خوب کہا ہے ۔

    میرا وطن میری جان
    قائد اور اقبال اس کی شان

    خالد محمود عاصی ، پسرور لکھتے ہیں سوچ رہا ہوں کہ راکی ولسن نے واقعی جذبات کی گہرائی میں ڈوب کر ایسی نابغہ روزگار شخصیت کو موضوعِ سخن بنایا ہے تو یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ شاید بذات خود کس قدر گہرے خیالات کا مالک ہے اور ان لافانی شخصیات سے کس قدر والہانہ عقیدت رکھتا ہے ۔ ( ص 14 )

    نظم جذبہ لازوال سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

    تیرا نیک خیال تھا قائد
    جذبہ لازوال تھا قائد

    ایک اور شعر کا لطف کیجئے

    ساری قوم کا ایک ہی نعرہ
    اقبال ہمارا اقبال ہمارا

    ڈاکٹر طارق محمود آکاش لکھتے ہیں ۔
    ہر ہر شعر بڑی عمدگی اور عقیدت سے لکھا گیا ہے راکی ولسن کا قلم وطن سے محبت اور قائدِ اعظم اور اقبال سے عقیدت کا اظہار نظر آتا ہے ۔ ( ص 18 )

    راکی ولسن کی کتاب ٫٫ قائدِ اعظم اور اقبال ،،
    ہر ایک کے لئے پڑھنے اور سمجھنے میں آسان نظر آتی ہے ۔ اور یہی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ پیغام سمجھ آئے ۔ مشکل ترکیب قاری کو الجھا دیتی ہے ۔
    راکی ولسن لکھتے ہیں ۔ خدائے قدوس کا میں انتہائی شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے آج اس قابل بنایا کہ میں اپنے وطن عزیز کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح اور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شخصیت پر کچھ لکھ کر آپ کی نظر کر سکوں ۔ جب میں نے ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا بغور مطالعہ کیا تو میرا جنون اور بڑھتا گیا اور میں نے ان کی شان میں شاعری لکھنا شروع کی آج خداوند نے مجھے اس کاوش میں کامیاب کر دیا ہے ۔ اب اس کام میں کتنا کامیاب ہوا ہوں آپ سے اس کتاب کے پڑھنے کے بعد ہی رائے دے سکیں گے ۔ مجھے امید ہے کہ آپ میری حوصلہ افزائی ضرور کریں گے یقیناً ان دو عظیم رہنماؤں اور وطن سے محبت کا جذبہ مزید پروان چڑھے گا ۔ ( ص 20 )
    کتاب میں شامل تمام نظمیں شان دار ہیں ۔ جو زیادہ تر قابلِ ذکر ہیں اُن میں سوچ نرالی ، میرا دیس ، باضمیر قائد ، اقبال ہمارا ، میرا پاکستان پیارا میرا پاکستان ، قائد اعظم اور اقبال ، وطن کی تصویر بنائی اور اعلیٰ گفتار قائد اعظم قابلِ ذکر ہیں ۔

    .

  • مجیب الرحمٰن کی تصویر کیا ہٹی ، بنگلہ دیش کی تقدیر بدلی

    مجیب الرحمٰن کی تصویر کیا ہٹی ، بنگلہ دیش کی تقدیر بدلی

    مجیب الرحمٰن کی تصویر کیا ہٹی ، بنگلہ دیش کی تقدیر بدلی


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    نوٹ صرف کرنسی کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ ایک نظریہ، ایک علامت، ایک قومی بیانیہ بھی ہوتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں قومی ہیروز، مصلحین اور بانیانِ ریاست کی تصاویر ان نوٹوں پر چھاپی جاتی ہیں جنہیں قومیں اپنے نظریاتی ورثے کا محافظ سمجھتی ہیں۔ پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر نوٹوں پر چھپتی ہے تو بھارت میں گاندھی کی، امریکہ میں مختلف صدور اور ترکی میں کمال اتاترک کی۔ نوٹوں پر کسی شخصیت کی تصویر لگانا صرف ایک جمالیاتی یا رسمی عمل نہیں بلکہ ریاستی طور پر یہ اعلان ہوتا ہے کہ یہ شخصیت اس ملک کی بنیاد، شناخت اور نظریاتی سمت کی نمائندہ ہے۔ لیکن اگر کبھی کوئی ریاست خود ہی اس شخصیت کو نوٹوں سے مٹا دے، تو سمجھ لیجیے کہ اس ملک کے بیانیے میں زلزلہ آ گیا ہے۔ یہی کچھ آج کل بنگلہ دیش میں ہو رہا ہے۔
    حال ہی میں بنگلہ دیش کی عبوری مگر مکمل طور پر خود مختار حکومت نے ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جس نے نہ صرف خود بنگلہ دیش بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن، جنہیں بنگلہ دیش میں نصف صدی سے "بابائے قوم” مانا جاتا رہا، جن کی تصاویر کرنسی نوٹوں سے لے کر اسکولوں کے نصاب تک ہر جگہ چھاپی جاتی تھیں، اور جن کے یوم پیدائش پر قومی تعطیل دی جاتی تھی، اب وہی شیخ مجیب اس ریاستی بیانیے سے بتدریج نکالے جا رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی قدم نہیں، بلکہ ایک نظریاتی انقلاب ہے۔
    نئے کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹا دی گئی ہے اور اس کی جگہ ہندو مت، جین مت اور بنگلہ دیش کے مختلف ثقافتی، تاریخی اور مذہبی مقامات کی تصاویر کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام صرف ایک شخصیت کو ہٹانا نہیں بلکہ قومی شعور کی نئی تشکیل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ لیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش اب اپنے ماضی کے اس بیانیے سے نکلنا چاہتا ہے جس میں بھارت کی مدد سے حاصل کردہ آزادی کو عظمت سمجھا جاتا تھا، اور اس کے بجائے اب ایک ایسے خود مختار اور غیر جانب دار ملک کے طور پر خود کو دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے جو صرف کسی ایک قوم یا مذہب کا ترجمان نہ ہو۔
    اس سارے عمل کی قیادت نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں جنہیں نئی عبوری حکومت نے قومی فکری اصلاحات کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ڈاکٹر یونس کا کردار اب محض اقتصادی ماہر کا نہیں رہا، بلکہ وہ ایک نظریاتی رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے بنگالی قوم کو اس الجھاؤ سے نکالنے کی کوشش کی ہے جس میں پچاس سال سے یہ قوم محصور تھی۔ ان کے بقول، "قومیں صرف ماضی کے مجسموں پر سر رکھ کر نہیں چل سکتیں، انہیں مستقبل کی راہوں پر نظریاتی روشنی کے ساتھ بڑھنا ہوتا ہے۔”
    ڈاکٹر یونس کی سربراہی میں بنگلہ دیش نے صرف کرنسی نوٹ ہی نہیں بدلے بلکہ شیخ مجیب الرحمٰن کے یوم پیدائش کو بھی قومی تعطیلات کی فہرست سے نکال دیا ہے۔ نصاب میں ان کے کردار کو محدود کر دیا گیا ہے، اور سرکاری عمارتوں سے ان کے مجسمے اور تصاویر کو ہٹانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیش اب اپنے بانی کے اس کردار پر سوالات اٹھا رہا ہے جو نصف صدی سے مقدس سمجھا جاتا تھا۔


    یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستانی بیانیے کو نئی زندگی ملی ہے۔ پاکستان پچاس برسوں سے یہی کہتا آ رہا ہے کہ 1971 کا المیہ محض ایک مقامی تحریک کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی سازش تھی جس میں بھارت نے کھلم کھلا مداخلت کی، اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں اتاریں، اور شیخ مجیب الرحمٰن جیسے کرداروں کو استعمال کر کے پاکستان کو دولخت کیا۔ اس وقت پاکستان کی بات کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا گیا کیونکہ دنیا کا جھکاؤ بھارت اور سوویت اتحاد کی طرف تھا، اور پاکستان کو ایک فوجی ریاست سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج جب بنگلہ دیش خود اپنے "بابائے قوم” کو کٹہرے میں کھڑا کر رہا ہے، تو گویا پاکستان کا موقف درست ثابت ہو رہا ہے۔
    شیخ مجیب الرحمٰن کا بیانیہ، ان کی سیاسی حکمت عملی، اور بھارت کے ساتھ ان کے گٹھ جوڑ پر بنگلہ دیش میں جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ دراصل پاکستان کے مؤقف کی گونج ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اب بنگلہ دیش بھارت کی "جیب کی گھڑی” اور "ہاتھ کی چھڑی” نہیں رہا۔ یہ نظریاتی خود مختاری کی طرف پیش رفت ہے۔ حسینہ واجد کا طویل آمرانہ اقتدار، جو کہ طلبہ تحریک کے ذریعے قائم ہوا تھا، اب اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ نئی قیادت نے جس جرات مندی کے ساتھ اپنے بیانیے کو ازسرنو ترتیب دینا شروع کیا ہے، وہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے سبق آموز ہے۔
    یہ تمام تبدیلیاں محض علامتی نہیں، بلکہ گہرائی میں اتر کر دیکھی جائیں تو ایک فکری بغاوت ہے۔ ایک ایسی بغاوت جو بھارت کے اس خواب کو چکنا چور کر رہی ہے کہ بنگلہ دیش اس کا دائمی اتحادی اور نظریاتی حلیف رہے گا۔ نئی حکومت کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش اب اپنی خارجہ پالیسی اور داخلی بیانیے دونوں میں نئی بنیادوں پر استوار ہونا چاہتا ہے۔ ڈاکٹر یونس نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ بنگلہ دیش کو ایک سیکیولر، معتدل اور غیر جانبدار ریاست کے طور پر دنیا میں پیش کیا جائے گا جو صرف بھارت یا چین کا حلیف نہیں بلکہ خود ایک خود مختار قوت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    یہی وہ لمحہ ہے جہاں پاکستان کے پالیسی سازوں کو ایک نئے زاویے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنگلہ دیش بھارت کے اثر سے نکل کر ایک نئے بیانیے کی طرف بڑھ رہا ہے تو پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے۔ سفارتی، معاشی اور تعلیمی روابط کے دروازے کھولے جائیں۔ ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرتے ہوئے ایک نئے مستقبل کی بنیاد رکھی جائے۔ اگر پاکستان آج بنگلہ دیش کے ساتھ ایک غیر جانبدار، برابری پر مبنی اور نظریاتی ہم آہنگی رکھنے والا تعلق استوار کرتا ہے تو یہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک نئی مثال بن سکتی ہے۔
    وقت آ چکا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے سامنے اپنا بیانیہ نئے اعتماد سے پیش کرے۔ یہ باور کرایا جائے کہ 1971 میں جو کچھ ہوا وہ صرف سیاسی غلطیاں نہیں تھیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم بین الاقوامی سازش کارفرما تھی۔ اور آج جب بنگلہ دیش خود اپنے بانی کے کردار پر انگلیاں اٹھا رہا ہے تو یہ عالمی ضمیر کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ پاکستان کی بات کو سنے، سمجھے اور تسلیم کرے۔
    جنوبی ایشیا کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ یہ خطہ کب تک ماضی کی زنجیروں میں جکڑا رہے گا اور کب ایک نئی فکری آزادی کی طرف بڑھے گا۔ بنگلہ دیش نے پہلا قدم اٹھا لیا ہے، اب دوسرے ممالک پر ہے کہ وہ کب اپنی آنکھیں کھولتے ہیں۔ یہ محض ایک تصویر ہٹانے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک صدی کے بیانیے کی ازسرنو تدوین ہے۔ شیخ مجیب نوٹوں سے غائب ہو چکے ہیں، اب تاریخ کے صفحات میں ان کا مقام بھی ازسرنو لکھا جا رہا ہے۔
    پاکستان کے لیے یہ لمحہ امید، تدبر اور نئی سفارتی حکمت عملی اپنانے کا ہے۔ جو قومیں اپنے زخموں سے سبق سیکھ لیتی ہیں، وہی قومیں تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اور شاید اب وہ وقت آ گیا ہے۔

  • قائد اعظم سے قائد عوام تک

    قائد اعظم سے قائد عوام تک

    قائد اعظم سے قائد عوام تک

    Dubai Naama

قائد اعظم سے قائد عوام تک

    یوم پاکستان 23مارچ 2025ء کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب کی تقریر پر تنقید کی گئی جو تاحال جاری ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ صدر پاکستان زرداری صاحب کی زبان تقریر کے دوران اپنی ذہنی اور جسمانی خرابی صحت کی وجہ سے لڑکھڑاتی رہی۔ یہ تنقید کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں ہے کیونکہ خرابی صحت کا مسئلہ کسی بھی بنی نوع انسان کو لاحق ہو سکتا ہے۔ اس پر تنقید کرنا اسلامی اخلاقی اقدار کے منافی ہے۔ اس کے باوجود سیاسی مخالفین زرداری صاحب پر ان کی ذات کے حوالے سے بھی چہ میگوئیاں پھیلا رہے ہیں کہ اٹک اٹک کر بولنے کی کوئی دوسری "خاص وجہ” تھی جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔ لیکن سیاسی مخالفین کا کیا ہے وہ تو اپنے حریف کو بدنام کرنے اور نیچا دکھانے کے لیئے کسی موقعہ کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ سچ کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کی جمہوری سیاست میں تنقید برائے تنقید ایک نامعقول اور غیرتعمیری انداز سیاست کا نتیجہ ہے جس سے ہمارے عام سیاسی رویوں اور روایات کے معیار کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ خیر میرا کسی سیاسی جماعت سے واسطہ ہے اور نہ ہی میں کسی پارٹی یا عہدے دار کے حق اور مخالفت میں لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں ایک عام دردمند پاکستانی کے طور پر زرداری صاحب کے اس خاص الخاص نمایاں کارنامے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کے ذریعے میرا مقصود انہیں اور بھٹو صاحب کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

    23مارچ 2025ء کو اس بار یوم پاکستان کے موقعہ پر میری عاجزانہ رائے کے مطابق یہ ایک خاص واقعہ پیش آیا کہ 46سال کے بعد جناب صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب نے پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بعد از مرگ اعلیٰ ترین سول ایوارڈ "نشان پاکستان” عطا کیا۔ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور کردار سے لاکھ سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں۔ لیکن انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور یہ سنگ میل عبور کرنے کے لیئے جس طرح اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور بلآخر ایک قتل کیس میں اور عدالتی فیصلے کے ذریعے سولی پر بھی چڑھ گئے، وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک الگ اور متنازعہ باب ہے۔ لیکن بھٹو صاحب پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹے۔ 26مارچ 1971ء کو پاکستان دولخت بھی ہوا اور بنگلہ دیش آزاد ہو گیا۔ بھٹو صاحب کو اس مد میں بھی بہت سے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان مشکلات کے باوجود انہوں نے 1974ء میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا دوسرا اجلاس لاہور میں کامیابی سے منعقد کروایا۔

    اسلامی سربراہی کانفرنس کا دوسرا اجلاس قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ کوششوں اور شہید شاہ فیصل آل سعود کے فیاضانہ مالی تعاون اور سرپرستی کا نتیجہ تھا۔ اس تنظیم (او آئی سی) کا پہلا اجلاس مراکش کے شاہ حسن ثانی کی قیادت میں رباط میں منعقد ہوا تھا جب ایک بدبخت یہودی نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا کر بھسم کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی۔ بیسویں صدی عیسوی کا نصف آخر اسلامی دنیا کی نئی کروٹ لینے کا زمانہ تھا۔ دوسری عالمی جنگ نے مغربی سامراجیوں کو اس قدر نڈھال کر دیا تھا کہ وہ عالم اسلام سے گلو خلاصی کرنے پر مجبور مجبور تھے اور ایک ایک کر کے اسلامی ملک آزاد ہونے لگے تھے۔ بھارت کی اندرا گاندھی نے ہندو کی صدیوں پرانی دبی ہوئی خواہش کی ترجمانی کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کو ہزار سالہ غلامی کا انتقام قرار دیا اور صلیبی سامراج کے ناخدا ہر جگہ بغلیں بجاتے ہوئے دکھائی دئیے تھے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں خصوصاً برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کیلئے یہ بہت بڑا المیہ تھا جو "سقوط بغداد”، "سقوط غرناطہ” اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے المناک لمحات سے کسی طرح کم نہ تھا۔ یہ ایک ایسا مرحلہ تھا جو امت مسلم سے صبر و ہمت اور حوصلہ مندی کا طالب تھا۔ یہاں ایک ایسی حوصلہ مند قیادت کی ضرورت تھی جو مسلمہ امہ کے دلوں میں امیدوں کے چراغ روشن کرتی۔ اس وقت یہ قیادت آل سعود کے شہید فرزند شاہ فیصل اور پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مہیا کی! بھٹو نے بجا طور پر کہا تھا کہ وہ بکھرے ہوئے ریزے جمع کر کے ایک ملک کی ازسر نو تعمیر کرنے کیلئے آئے ہیں۔ اس وقت نوے ہزار پاکستانی جنگی قیدی بھارت کی قید میں تھے جو ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے آزاد کروا لیئے گئے۔

    اگلا مرحلہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا تھا جس کی تکمیل کے لیئے بھٹو نے کمر کس لی اور اسلامی سربراہان سے اپنی ذاتی دوستی کی بنیاد پر کثیر فنڈز اکٹھے کر لیئے، فرانس سے ایٹمی مواد درآمد کیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر کو بھی ان کی مرضی کے مطابق سائنس دانوں کی ایک قابل اعتبار ٹیم فراہم کی۔ اسی موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ، "ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔” بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد شکستہ پاکستان کو پھر سے پرعزم اور متحد کرنا بڑا کٹھن کام تھا اور یہ کام اپنے قیام کے 26سال بعد 1973ء میں پاکستان کو ایک متفقہ دستور دے کر ذوالفقار علی بھٹو نے انجام دیا۔ جبکہ 1974ء ميں وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں جن کو قادیانی بھی کہا جاتا ہے، کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ 30 جون 1974ء کو مولانا شاہ احمد نورانی نے بل پیش کیا اور مولانا مفتی محمود قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی کمیٹی کے سربراہ بنے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا کارنامہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کے سر پر سجتا ہے۔

    مزید برآں بھٹو خاندان نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیئے جو قربانیاں دیں ان کی مثال نہیں ملتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دو بیٹے شاہ نواز بھٹو، میر مرتضٰی بھٹو اور ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو کی شہادتیں کون بھول سکتا ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے مرحوم بھٹو کو نشان پاکستان دے کر ان کے پاکستان پر ان احسانات کا بدلہ چکانے کوشش کی۔ جب اس موقع پر ان کی بیٹی صنم بھٹو کو "نشان پاکستان” کا تمغہ پیش کیا گیا تو ان کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔ صنم بھٹو کے یہ آنسو ماضی کے صدمات کی وجہ سے تھے یا اپنے والد کے اعزاز کی وصولی کی خوشی میں تھے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔

    سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ان خدمات کے بدلے میں انہیں نشان پاکستان کا ایوارڈ اس سے پہلے دیا جانا چایئے تھا۔ جو احسان فراموش زرداری صاحب کی زبان میں لڑکھڑاہٹ پر بے جا اعتراض اور تنقید کر رہے ہیں انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو مدنظر رکھنا چایئے۔ بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر پاکستان کو یہ طاقت دی کہ وہ دنیا اور بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ آج اگر ہم پاکستان کی بقا اور سلامتی کی بات کریں تو اس میں "قائد اعظم” کے بعد دوسرے نمبر پر "قائد عوام” ذوالفقار علی بھٹو کا نام آتا ہے۔ اس وقت دنیا میں پاکستان کو پروقار اور باعزت مقام و مرتبہ دلانے کے لیئے ایک پرعزم قدم اٹھانے کی ضرورت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت ایک "قوت محرکہ” بن کر سامنے آئی۔ اس ضرورت کا سارا سامان قائد عوام بھٹو نے کیا اور وہ لاہور میں دنیا بھر کے مسلمان حکمرانوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اسی دوران ذوالفقار علی بھٹو نے "اسلامی ورلڈ” کی تعمیر کی بات کی تھی اور مسلمانوں کی "مشترکہ کرنسی” اور "اسلامی بنک” بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔

    صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب کا ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز بخشنا اس لیئے بھی ضروری تھا کہ قوم اپنے ایک "محسن” اور "عظیم ہیرو” کو یاد رکھ سکے۔ بدقسمتی سے پاکستان سیاسی کشمکش اور نیم فوجی و نیم سیاسی حکومت کے درمیان پستا رہا ہے۔ اب اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کیا جائے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو نشان پاکستان پیش کرنا ہمیں پاکستان میں جمہوریت کو ازسرنو مرتب اور مضبوط کرنے کی یاد دیہانی کراتا ہے۔ میں اس موقع پر یہی کہوں گا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری صاحب، ویل ڈن!!!

  • قائد اعظم محمد علی جناح کی سنہر ی باتیں

    قائد اعظم محمد علی جناح کی سنہر ی باتیں

    قائد اعظم محمد علی جناح کی سنہر ی باتیں
    تحقیق و تالیف : محمد یوسف وحید
    (مدیر: شعوروادراک خان پور)

    طلبہ کے نام !
    مستقبل کے معمار : میرے نوجوان عزیزو ! میری نگاہیں تمہاری طرف لگی ہوئی ہیں کہ پاکستان کی تعمیر تو اَصل میں تمہیں ہی کرنا ہے ۔ غیروں کے ہاتھوں میں مت کھیلو ، ان کے بہکاوے میں مت آئو ۔ مثال قائم کرو کہ نوجوان کیا کچھ کر سکتے ہیں ۔ اگر تم نے اپنی قوتوں کوبیکار باتوں میں ضائع کیا تو بعد میں پچھتاتے رہو گے ۔

    jinnah


    دل لگاکر پڑھو :
    اپنے آپ سے ، اپنے ماں باپ سے ، اپنے وطن سے انصاف اس صورت میں کر سکتے ہو کہ ساری توجہ پڑھنے لکھنے پر صرف کرو ۔تم زندگی کی اس جنگ کے لیے اپنے آپ کوتیار کر سکتے ہو ، جو آگے چل کر تمہیں لڑنی ہے ۔ تم اپنے ملک کے لیے قیمتی اثاثہ،طاقت اور فخر کاسر چشمہ بن سکتے ہو ۔ تم ان سنگین معاشی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں اپنے وطن کی مدد کر سکتے ہو ، جو اسے درپیش ہیں ۔
    علم کے لیے اپنے آپ کو تج دو :
    تم سے جن فرائض کے بجالانے کی توقع ہے ، وہ یہ ہیں کہ نظم و ضبط کا احساس پیدا کرو۔ سیرت و کردار کی تعمیر کرو ۔ گہرا علمی پسِ منظر ترتیب دو ۔ اپنے آپ کو علم کے لیے تج دو کہ پہلافرض جوتم پرعائد ہوتا ہے ، وہ یہی ہے۔ اپنی خاطر ، اپنے ماں باپ کی خاطر ، اپنے وطن کی خاطر ، اطاعت شعار بنو کہ اطاعت کر نے کے بعد ہی تم حکم کر نے کے بھی اہل بن سکتے ہو ۔
    اپنے آپ کو جانو :
    آ پ نے مجھ سے کوئی پیغام دینے کی در خواست کی ہے ، میں آپ کو کیا پیغام دے سکتا ہوں ۔ ہماری ہدایت اور بصیرت کے لیے سب سے بڑا پیغام ، قر آن کی صورت میں موجود ہے ۔ ہمیں جو کچھ کرنا ہے ، وہ صرف اتنا ہے کہ ہم اپنے آپ کو جانیں اور اس جوہر کو ، ان صلاحیتوں کو پہچانیں ، جو ہمیں ودیعت ہوئی ہیں ۔ آؤ ہم اس عظیم نصب العین تک پہنچنے کے لئے کام کریں ۔ آؤ ہم اپنی عظیم صلاحیتوں کو صحیح راستے پر لگائیں ۔ آئو ہم اپنے نجی مفادات اور نجی عیش و آرام کو فراموش کر دیں اور اپنے لوگوں کی اجتماعی بھلائی کیلئے بہتر اور برتر نصیب العین کیلئے کام کریں ۔

    ma jinnah


    صوبہ پرستی یا حُب الوطنی ؟ :
    عزیز و ! دو چیزو ں کے درمیان تمیز کرنا سیکھو ۔ اپنے صوبے سے محبت اور پورے ملک سے محبت ۔ ملک کے سلسلے میں ہم پر جو فرض عائد ہوتا ہے ۔ وہ ہمیں صوبہ پرستی سے ایک منزل آگے لے جاتا ہے ۔ یہ فرض ہم سے وسیع النظری اور حُب الوطنی کے زیادہ گہرے اَحساس کا تقاضا کرتا ہے ۔ ملک کی طرف سے عائد ہونے والایہ فریضہ اکثر ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے انفرادی اور صوبائی مفادات کو مشترکہ بھلائی کی خاطر مشترکہ مقصد میں ضم کر نے پر تیار رہیں ۔ اپنے ملک کی طرف سے عائد ہو نے والا فریضہ اوّلین حیثیت رکھتا ہے ۔ اپنے صوبے کی طرف سے ،ا پنے ضلع کی طرف سے ، اپنے شہر کی طرف سے ، اپنے گاؤں کی طرف سے اور اپنی ذات کی طرف سے جو فرائض عائد ہوتے ہیں، وہ سب بعد میں آتے ہیں ۔ یاد رکھیے کہ ہم ایسے ملک کی تعمیر کر رہے ہیں جسے پوری اسلامی دنیا کی تقدیر بنانے کے سلسلے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہے ۔ اس لیے ہمیں ایک وسیع ترنظر پیدا کر نے کی ضرورت ہے ۔ ایسی نظر جو صوبوں کی حدود سے ، محدود وطن پرستی اور نسل پرستی کی حدود سے پرے دیکھ سکے ۔ ہمیں جب وطن کے ایسے شعور کی نشوونما کر نی ہے جو ہم سب کو ایک رشتے میں پیوست کر کے ایک مضبوط قوم بنا دے ۔ بس یہی ایک راستہ ہے جس پر چل کر ہم اپنے نصب العین کو ، جس کے لئے ہم نے جدوجہد کی ہے ، اس نصب العین کو ، جس کی خاطر کروڑوں مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں ۔
    عالم گیر بھائی چارہ :
    ہم اس وقت جس دنیا میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، وہ کسی طرح بھی کامل نہیں کہلائی جا سکتی ۔ تہذیب و تمدن کی ترقی کے باوجود جنگل کا قانون چلتا ہے ۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق طاقت والے کم زوروں کو لوٹتے کھسوٹتے ہیں ۔ افراد ہی نہیں ، قوموں کا بھی یہ وطیرہ بن گیا ہے کہ وہ اپنی ترقی کو مقدم سمجھتی ہیں ۔ حرص کے اَسیر ہیں اور طاقت حاصل کرنے کے خبط میں مبتلا ہیں ۔ اگر ہم ایک زیادہ اَمن و اَمان والی ہنسی خوشی سے بھر پور اور پاک و صاف دنیا پید اکر نا چاہتے ہوں تو ہمیں اصلاح کا کام افراد سے شروع کر نا پڑے گا ۔ اگر ہمارے نوجوان سب کو دوست بنانے ، سب کو ہمہ وقت خدمت کر نے ، ذاتی مفاد کو دوسروں کی بھلائی کے مقابلے میں پسِ پشت ڈالنے اور فکر و عمل اور قول میں تشدد سے بچنے کا سبق سیکھ لیں تو پوری اُمیدہے کہ عالم گیر اخوت ہمارے امکان اور دسترس میں ہوگی ۔
    عزیز ان وطن کے نام!
    تعلیم کس قسم کی ؟
    ہمارے ملک کے مستقبل کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے اور ہونا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو کس قسم کی تعلیم دیتے ہیں اور آئندہ شہری بنانے کیلئے ان کی تربیت کس ڈھنگ پر کرتے ہیں ۔ تعلیم کا مفہوم محض درسی تعلیم نہیں ، وقت کی بہت اہم اور فوری ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو سائنس اور فنی علوم دیں تاکہ وہ ہماری آئندہ معاشی زندگی کو بنا سنوار سکیں ۔
    ماہرین پیدا کرو :
    ہمارے کالجوں کا نصب العین یہ ہونا چاہیے کہ زراعت ، علم الحیوانات ، نباتات ، انجینئرنگ اور دیگر تخصیصی مضامین میں اوّل درجے کے ماہر پید اہوں رَہن سہن کو بہتربنانے ، خصوصاً عام لوگوں کی معاشی حالت سنوارنے کے سلسلے میں ہم جن مسائل سے دوچار ہیں ، ان سے عہدہ بر آ ہونے کی صرف یہی ایک صورت ہے ۔

    jinnah ma


    ہمارنصب العین :
    اُٹھتے بیٹھتے ہمارا ایک ہی وظیفہ ہونا چاہیے ….اتحاد ، تنظیم ، یقین محکم ۔
    اَحساس رَفاقت کی ضرورت :
    خود کو منظم کرو ، یک جہتی اور مکمل اتحاد پیدا کرو۔ اپنے آپ کو تربیت یافتہ سپاہی بنا ئو ۔ اپنے اندر اجتماعی جذبہ اور اَحساس ِ رَفاقت پیدا کرو ۔ ملک وملت کے نصب العین کیلئے خلوص سے کام کرو ۔
    چھوٹی چھوٹی باتیں :
    کیا ہم سڑک پر چلتے ہوئے بائیں طرف رہتے ہیں اور راستے میں کوڑا کرکٹ پھینکنے سے احتراز کر تے ہیں ؟ کیا ہم اپنے کام میں دیانت دار اور مخلص ہیں ؟ کیا ہم دوسرے لوگوں کی اپنی بساط بھر مدد کرتے ہیں ؟ کیا ہم رَواداری برتتے ہیں ؟ ممکن ہے یہ باتیں چھوٹی معلوم ہوں ، لیکن انہیں میں نظم و ضبط کی روح چھپی ہوئی ہے ۔
    میں اور میرا شوفر ایک صف میں :
    اَکثر جب میں نما ز پڑھنے مسجد میں جاتا ہوں تو میرا شوفر میرے برابر کھڑا ہوتا ہے ۔ تمام مسلمان اُخوت ، مساوات اور حُریت پر ایمان رکھتے ہیں ۔
    سب سے بڑی دولت :
    میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا میں آپ کے ضمیر سے بڑھ کر کوئی بڑی دولت نہیں ہے ۔
    اپنے آپ کو مضبوط بناؤ :
    اس ناقص دنیا میں کم زور اور نہتا ہونا ۔ دوسرو ں کو جارحانا اَقدام کی دعوت دیتا ہے ۔ امنِ عالم کو بر قرار رکھنے کی بہترین تدبیر یہ ہے کہ جو لوگ ہمیں کم زور جان کرڈراتے دھمکاتے ہیں اور حملہ کر نے کی نیت رکھتے ہیں ، ان کے دماغ سے یہ خناس نکال دیں ۔ یہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہم اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنا لیں کہ کسی کو ہمارے خلاف قدم اُٹھانے کی جرأت ہی نہ ہو سکے ۔
    اتفاق میں برکت ہے :
    میری ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد قائم ہو جائے ۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی کا ایک عظیم اور شان دار مملکت بنانے کا جو بڑا کام ہمیں دَرپیش ہے ، اس کے پیشِ نظر ہمیں یکجہتی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ہم مسلمانوں کا ایمان ہے کہ خدا ایک ہے ۔ رَسول ایک ہے۔ قرآن ایک ہے ۔ اس لیے ہمیں بھی ایک ملت کی صورت متحد ہو کر رہنا چاہیے ۔ ایک پرانی کہاوت ہے کہ اتفاق میں برکت ہے اور نااتفاقتی میں ہلاکت ہے ۔
    بلندکرداری :
    ہم میں بلند کرداری کا وَصف باقی نہیں رَہا ،بلند کرداری کیا ہے ؟ عزتِ نفس کا گہرا اَحساس ، راست بازی ، یقینِ محکم ، ترغیب و تحریک کی دعوت اور وقت آنے پر قوم کے اجتماعی مفاد کی خاطر اپنے آپ کو مٹا دینے پر آمادگی ۔
    چور بازاری اور اَقربا پروری :
    چور بازاری ایک لعنت ہے ۔ ہمیں اس سنگین برائی کا جو معاشرے کے خلاف بہت بڑا جرم ہے ، مقابلہ کر نا ہے ۔ جو شخص چور بازاری کرتا ہے ، وہ میری دانست میں بڑے سے بڑے اور سنگین سے سنگین جرم سے بڑھ کر جرم کرتا ہے ۔ دیگر بُری باتوں کے ساتھ اس برائی کابھی قلع قمع کر دینا چاہیے ۔

    M A Jinnah


    اَول قومی مفاد :
    میری زندگی کا یہ اُصول ہے کہ میں ہمیشہ اپنی قومی مفاد کو پیش ِنظر رکھتا ہوں ۔ زندگی میں بسا اَوقات اَیسا بھی ہوا ہے کہ جو مجھے بہت عزیز تھے اور بہت قرب رکھتے تھے ۔ میں نے اُنہیں نظر اَنداز کیا ۔ بہر حال مجھے تو اپنا فرض اَنجام دینا ہوتا ہے ۔
    اَصل چیز محبت ہے :
    ترقی کے لئے بے شک رَقم کی بھی ضرورت پڑتی ہے لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ قومی فروغ اور قومی اَحیاء کا انحصار محض روپے پر نہیں ہوتا ۔ جو چیز قوم کو خو ش حال بناتی ہے ، وہ اَصل میں انسانی محبت ہے اور میں اس بارے میں کسی شک میں مبتلا نہیں ہوں کہ پاکستانی قوم محنتی اور عزم و ہمت والے لوگوں کی قوم ہے ۔ وہ اپنی سابقہ روایات کی بنیا د پر پہلے ہی انسانی کمالا ت کے میدان میں امتیاز حاصل کر چکے ہیں ۔
    خوش حالی کا نسخہ :
    اب اگر ہم اس عظیم مملکت پاکستان کو خو ش حال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں لوگوں کی فلاح و بہبود پر ساری توجہ صرف کر نی چاہیے ۔ بالخصوص غریب لوگوں کی فلاح و بہبود پر ۔
    ہم مٹ نہیں سکتے :
    یاد رکھو کہ مسلمانوں کو مٹا یا نہیں جاسکتا ۔ پچھلے ایک ہزار سال میں کوئی طاقت نہیں مٹا سکی ۔ یہ محض ایک وہم ہے ۔ اس وہم کو دل سے نکال دو ۔
    حوصلہ بلندرکھو :
    کام کے وقت مشکلات کی وجہ سے حوصلہ مت ہارو ۔ تاریخ میں بہت سی مثالیں ایسی ہیں کہ نئی قوموں نے محض قوتِ کردار سے ترقی حاصل کر لی ۔ آپ بھی اپنے آبائو و اَجداد کی طر ح کام یاب ہوں ۔ آپ کو مجاہدوں والی روح پیدا کر نی ہے، آپ وہ قوم ہیں جس کی تاریخ ایک روشن اور سنہری ماضی رکھتی ہے ۔ہماری تاریخ ایسی شخصیتو ں کے کارناموں سے بھر پور ہے جو محیر العقول، مضبوط کردار اور شجاعت و ہمت کے مالک تھے۔ اپنی روایات کو نبھاؤ اور ان میں سے ایک اور شاندار روایت کا اضافہ کرو ۔
    مو ت سے مت ڈرو:
    اپنی ہمت بلند رکھو ، موت سے مت ڈرو ۔ پاکستان اور اسلام کی عزت بچانے کیلئے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھو ۔ مسلمان کیلئے اس سے بہتر کوئی راہِ نجات نہیں کہ وہ کسی سچے مؤ قف کی خاطر ایک شہید کی موت مرے ۔
    اب تم فرض اَدا کرو :
    میں اپنا فرض اَدا کر چکا ہوں ۔ قوم کو جس چیز کی ضرورت تھی ، وہ مل گئی ہے ۔ پاکستان بن گیا ہے ۔ اب قوم کاکام ہے کہ وہ اس کی تعمیر کر کے اسے ناقابلِ تسخیر اور ترقی یافتہ ملک بنائے اور حکومت کا نظم و نسق چلائے ۔
    ٭
    (بحوالہ : قائداعظم ۔ طلبہ اور تعلیم،تدوین: محمد یوسف وحید ، ناشر : الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، 2021ء )
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمدیوسف وحید

    مدیر: شعوروادراک خان پور

  • بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے حضور

    بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کے حضور

    دشمنوں کو دی شکست حوصلے تدبیر سے
    تو نے جیتا ملک یہ عزم کی شمشیر سے
    تھا تدبر کا دھنی تو ،غنی تھا فہم میں
    روشنی لی ہم نے تیری سوچ کی تنویر سے
    کام اور کام بس یہ ضابطہ تھا روز کا
    اورتھی نفرت اُنھیں جھوٹ سے،تشہیر سے
    کیا خبر اب نسلِ نو کو تازگی ملنے لگے
    فوقِ تدبر کی مِثال عزم کے شِہتیر سے
    ہم میں تھا تو جب تلک تو رہنما تھا قوم کا
    پیار ہے ہر دل میں اب تیری ہی تصویر سے
    قوم کو ہے والہانہ ،عشق اے قائد میرے
    تیری ہر تحریر سے تیری ہر تقریر سے
    سوچ تیری ہے راہنما، ہر قدم ہر گھڑی
    کرنی ہے تعمیرِ وطن تیرے افکار کی توقیر سے
    شاعر-عمران اسدؔ

  • قائد ہم شرمندہ ہیں

    قائد ہم شرمندہ ہیں

    آج 25 دسمبر ہے , آج غُلامی کی شبِ تاریک کو صُبحِ آزادی کے انوار سے ہمکنار کرنے والے , ایک پراگندہ قوم کو بُنیَانُُ مَّرصُوص بنا کر اعدائے دین سے لڑانے والے , خیبر کی پہاڑیوں سے راج کُماری کی خلیجوں تک حق کا پرچم اُڑانے والے , اور شب گزیدوں کو پیغامِ سحر عطا کرنے والے , اور بنجر زمینوں میں پھول اُگا کر اُن کی خُوشبو سے مشامِ جاں کو معطر کرنے والے    قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش ہے ,,,,,,,, ابھی ابھی محترم افتخار عارف صاحب کا یہ دُکھ بھرا شعر پڑھا

        تُو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے

         ایسی بدلی تیرے کوچے کی فضا تیرے بعد

    اس شعر کو پڑھتے ہی قلم چل نکلا اور دل کے پھپھولے پھٹ پڑے ,,,,, ہر ایک قائد کا پاکستان بنانے کا دعویدار ہو کر بگاڑ کامُوجب بن رہا ہے

    قائد ہم شرمندہ ہیں

    قائد کے ملک پر گُفتار کے غازی قابض ہیں ,  یہاں سیاست منافقانہ ہے , معاشرت ہندوانہ ہے , یہاں تہذیب فرنگیانہ ہے , ہمارے علاوہ ہر دوسرے کی سوچ کافرانہ ہے ,

    اے قائد الفاظ شرمندہ ہیں کہ آپ کو کیسے , کیوں , اور کس مُنہ سے , مبارکباد دیں , ہم نے آپ کا وہ فرمان بھی بُھلا دیا ,,, ایمان ,,, اتحاد ,,, تنظیم ,,, آج اے قائد آپ کا پاکستان , علاقائی , لسانی , مسلکی , عصبیتوں کی آگ میں جل رہا ہے , ملتِ بیضاء کی عظمتوں کے امین اور رسولِ ھاشمیﷺ کے جانشین ممبر و محراب سے فرقہ پرستی کے گولے برسا رہے ہیں , زہریلے بیج بو رہے ہیں ,

    کیا کل یہی کچھ نہ کاٹیں گے جو کچھ آج بو رہے ہیں ؟

    monis raza

    مونس رضا