Tag: غریب وال

  • نو بال

    نو بال



    کہانی کار:۔ سید حبدار قائم

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اٹک کے نواحی گاؤں غریب وال میں المعصوم کرکٹ ٹورنامنٹ ہو رہا تھا اس ٹورنامنٹ کا نام گاؤں میں موجود مشہور ولی کی زیارت معصوم بادشاہؒ کے نام سے موسوم تھا سارے لڑکے اکٹھے ہو چکے تھے گاؤں کا شاہد نامی لڑکا ایمپائر کے فرائض سر انجام دیتا تھا اسی گاؤں کا ایک لڑکا ذکی بہت تیز بالنگ کراتا تھا لیکن اس کا بالنگ کراتے وقت پاؤں کریز سے آگے نکل جاتا تھا اور اکثر نو بال ہو جایا کرتی تھی سارے گاؤں کے لڑکوں نے شاہد امپائر کو ایک طرف کر کے سمجھایا کہ آج آپ نے ”نو بال“ نہیں دینی اگر آپ نے نو بال نہیں دی اور ہمیں میچ جتوا دیا تو آپ کو چکن کڑاہی کھلائی جائے گی ایمپائر شاہد غریب ضرور تھا لیکن بہت ایماندار تھا اسے ماں نے بتایا تھا کہ بیٹا جب بھی کھیلو ہمیشہ ایمانداری سے کھیلو اور سچ کا دامن کبھی بھی نہ چھوڑو
    شاہد کو ایمپائری کرتے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا جب میچ شروع ہوا تو سارے گاؤں کے لڑکوں نے اسے ایک بار پھر بتایا کہ ذکی کی نو بال ہو جائے تو اس کو نظر انداز کرنا ہے اور بال کو درست شمار کرنا ہے اس کو نو بال نہیں دینا لیکن ذکی ایک ایماندار بچہ تھا اور وہ ہمیشہ سچے فیصلے کرتا تھا اسے کسی دوست سے کوئی لالچ نہیں تھا ماں کا دیا ہوا سبق ہمیشہ یاد رکھتا تھا

    نو بال


    جب میچ آخری مراحل میں داخل ہو چکا تھا اور تیز ترین بولنگ جاری تھی دو رنز رہتے تھے اور مخالفین کی ٹیم ان کے گاؤں سے جیتنے والی تھی آخری بال کے اوپر فیصلہ ہونا تھا جوں ہی بولر بولنگ کے لیے دوڑا تو سارے گاؤں کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے جب بالر نے بال کرائی تو اس کا ایک پاؤں کریز سے آگے نکل گیا اور بیٹس مین کلین بولڈ ہو گیا لیکن اس سے پہلے امپائر کی انگلی نو بال کے لیے اٹھ چکی تھی اور بیٹس مین ناٹ آؤٹ قرار پایا اسی بال کے اوپر فیصلہ تھا دو رنز رہتے تھے تو اگلے بال کے اوپر بیٹسمین نے ایک زوردار چوکا لگا کر اپنی ٹیم کو میچ جتوا دیا جس کا گاؤں والوں کو بہت دکھ ہوا اور انہوں نے امپائر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا چونکہ یہ فائنل میچ تھا اس میچ کے بعد گولڈ میڈل ملنے تھے اور جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی ملنی تھی اس لیے گاؤں کے مہمانِ خصوصی ملک طارق صاحب آئے ہوئے تھے جب انہوں نے ایمپائر کی ایمانداری دیکھی تو انہوں نے میچ کے بعد جب انعامات دیے تو یہ اعلان کیا کہ امپائر کو آئندہ تحصیل لیول کے ٹورنامنٹ میں امپائری کے فرائض سونپے جائیں گے گاؤں والی ٹیم ناراض تھی جب کہ ایمپائر کی ایمانداری اس کو تحصیل لیول پر لے گئی جب تحصیل لیول کے مقابلے ہوئے تو اس کو ایمانداری کے بل بوتے پر ضلع کے ٹورنامنٹ کے لیے چن لیا گیا اس طریقے سے وہ ترقی کرتے کرتے صوبائی لیول تک اور قومی لیول تک پہنچ گیا اس امپائر کو پوری دنیا نے دیکھا کہ اس کے فیصلے ایمانداری پر مبنی ہوتے ہیں تو اس کو انٹرنیشنل ایمپائر بنا دیا گیا اور اس سے کئی مقابلے کرائے گئے جس میں اس نے انتہائی اچھے فیصلے کیے
    پیارے بچو! سچ ہے کہ ہمیشہ سچ بولنے سے اللہ تعالٰی منزل آسان فرما دیتا ہے اور بڑی سے بڑی کامیابی عطا کرتا ہے اگر وہ گاؤں میں جھوٹ بولتا اور ”نو بال“ دے کر ایک لڑکے کو آؤٹ قرار دے دیتا تو آج اس کا مقام اتنا بلند نہ ہوتا اور وہ گاؤں کے لیول پر پڑا رہتا آج شاہد کے پاس دنیا کی ہر نعمت ہے سچ بولنے سے رب نے اس کی غریبی دو کر دی

    .

  • حبدار حسین شاہ

    حبدار حسین شاہ

    حبدار حسین شاہ

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    آپ کا اصل نام حبدار حسین شاہ ہے ۔ جب کہ ادبی دنیا میں سید حبدار قائم کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ آپ نقوی سادات سے ہیں ۔ آپ کا شجرہ ءِ نسب 38 ویں سلسلے کے بعد ہوتا ہوا جدالسادات امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السّلام سے جا ملتا ہے ۔ آپ کے جدِ امجد مدینہ منورہ سے سامرہ سے بخارا اور بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان کے علاقہ اوچ شریف تشریف لائے تھے ۔ جو کہ اس وقت ہندوستان تھا اب پاکستان ہے وہاں سے پھر ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ موضع زیارت اور پھر پنڈی گھیب کے نواحی گاؤں غریب وال میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے منتقل ہو گئے ۔

    حبدار حسین شاہ


    10 جنوری 1968ء کو آپ نے سید کرم حسین شاہ نقوی کے گھر میں آنکھ کھولی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں غریب وال سے حاصل کی اور ایف اے گورنمنٹ ڈگری کالج پنڈی گھیب سے کیا 9 ستمبر 1989ء سے آپ نے پاک فوج میں سرویئر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی ۔ مختلف شہروں میں ڈیوٹی سر انجام دی جن میں اٹک گوجرانولہ ، گلگت سیاچن گلیشیٸرز، منگلا ، کھاریاں ، مری اور لاہور شامل ہیں ۔ آپ نے 26 سال سروس کی آنریری نائب صوبیدار کے عہدے سے ستمبر 2015 ء کو ریٹائرمنٹ لے لی ۔ دوران سروس بھی ادبی دنیا سے بذریعہ کتب اور تقاریر منسلک رہے اور کٸ بار بریگیڈ اور ڈویژن لیول پر پہلی پوزیشن حاصل کی 2000 میں 10 کور میں بالترتیب بریگیڈ لیول ڈویژن لیول اور کور لیول میں پہلی پوزیش لے کر لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین سے تعریفی سند بھی حاصل کی اس کے علاوہ آپ کی پیشہ ورانہ خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں جب ہم نے آپ سے پوچھا کہ ایسا کام جس پر آپ کو فخر ہو تو مسکرا کر بولے کہ اپنی جد چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ پر سات سال تحقیق کر کے پہلی مرتبہ کتاب مرتب کرنے پر مجھے خوشی ہوتی ہے آپ آج بھی چھانگلا ولی گوگل پر سرچ کریں تو زیادہ مواد اللہ کے کرم سے میرا ہی ملے گا سید حبدار قائم آج کل پی ٹی سی ایل ایکسچینج اٹک میں بطور سیکیورٹی سپروائزر ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔
    آپ بنیادی طور پر نثر نگار ہیں ۔مضمون نگار ، کالم نگار ، تبصرہ نگار ، اور کہانی نگار بھی ہیں آپ نے کہانیاں فقط بچوں کے لئے لکھیں ہیں ۔ بعد میں آپ شاعری کی طرف آئے ہیں ۔ شاعری بھی بہت اچھی کرتے ہیں ۔ آپ نے ہر اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے ۔ حمد ، نعت ، سلام ، منقبت ، نظم ، غزل اور گیت لکھے ہیں ۔
    آپ کی تحریریں مختلف اخبارات و رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں ۔ جو کہ ہماری نظروں سے گذرتی رہتی ہیں ۔ آپ کی تحریریں بہت طویل لیکن پختہ اور جاندار ہوتی ہیں ۔
    جن اخبارات و رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں ان کے نام درجِ ذیل ہیں ۔
    روزنامہ ٫٫ نوائے وقت ،، اسلام آباد ، روزنامہ ٫٫ اساس ،، اسلام آباد ، روزنامہ ٫٫ ڈیلی کشمیر ،، مظفرآباد ، آزاد کشمیر ، روزنامہ ٫٫ سسٹم ،، لاہور روزنامہ ٫٫ بارڈر لائن ،، لاہور روزنامہ ٫٫ ٹھنڈی آگ ،، گجرات/ پاکستان روزنامہ ٫٫ تھل گزٹ ،، لیہ / پاکستان اور روزنامہ ٫٫ طالبِ نظر ،، کراچی ماہنامہ ٫٫ کاروانِ نعت ،، لاہور سہ ماہی ٫٫ دھنک رنگ ،، فتح جنگ
    اگرچہ 1985 کے بعد آپ نے لکھنے کی ابتدا ماہنامہ ٫٫ سلامِ عرض ،، لاہور ماہنامہ ٫٫ جوابِ عرض ،، لاہور اور ماہنامہ ٫٫ سچی کہانی ،،سے کی تھی ۔ لیکن عسکری فراٸض کی وجہ سے لکھنے کا سلسلہ منقطع رہا
    آپ کی تصانیف
    درجِ ذیل ہیں
    پہلی کتاب ٫٫ نمازِ شب ،،
    ناشر جدید پریس ، اٹک سال اشاعت 2016ء
    دوسری کتاب ٫٫ چھانگلا ولی موجِ دریا ،، ( حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری)
    جمالیات پبلی کیشز اٹک
    سال اشاعت 2017 ء
    تیسری کتاب ٫٫ اکھیاں وچ زمانے ،،
    ادارہ جمالیات اٹک/پاکستان
    سال اشاعت 2018 ء
    چوتھی کتاب ٫٫ مدحِ شاہِ زمن (ﷺ)
    آشنا پبلی کیشز گلگشت ، ملتان
    سال اشاعت 2022ء
    آپ کو مختلف ادبی تنظیموں کی طرف سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے ۔ صرف ادبی تنظیموں نے ہی نہیں نوازا بلکہ پاکستان آرمی نے بھی تمغہ خدمت اور تعریفی سند سے نوازا ہے ادبی تنظیموں کی تفصیل درجِ ذیل ہے ۔
    ایوارڈ 2023ء منجانب تنظیم انٹرنیشنل رائٹر فورم پاکستان ، اسلام آباد
    اعزازی شیلڈ اور سند منجانب کارِخیر گوجرانولہ
    گولڈ میڈل وکیل الکتاب ایوارڈ اور سند منجانب عاشق حسین ایڈووکیٹ میموریل حاصل پور ، بہاولپور
    گولڈ میڈل فضیلت جہاں ایوارڈ 2023ء اور سند منجانب ایف جے رائٹر فورم پاکستان ، لاہور
    اعزازی شیلڈ اور سند منجانب محمد یعقوب فردوسی ، بھلوال
    شیلڈ اور سند منجانب بزمِ سر خیل ادب انٹرنیشنل ، لاہور
    چند اشعار بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں

    شکر ہے ڈس گیا سنگِ نشتر مجھے
    رو پڑا دیکھ کر مجھے آسماں
    ۔۔۔۔۔
    یہ کس ادا سے بکھیری ہیں زلفیں
    کہ سر سر کو تو نے صبا کر دیا ہے
    ۔۔۔۔۔
    جب وہ روٹی بنائے ہاتھوں سے
    اس کا کنگن خمار دیتا ہے
    ۔۔۔۔۔
    زندگی پھول بن کے آئی تھی
    خار بن کر ستا رہی ہے مجھے
    ۔۔۔۔۔
    تیرگی قتل کر کے آیا ہوں
    روشنی! کر لے اعتبار مرا
    ۔۔۔۔۔
    جو فرطِ محبت سے خوں چوستی ہے
    گلوں سے وہ تتلی اڑاتے نہیں ہو
    ۔۔۔۔۔
    اس کے رخسار کا طواف کرے
    زلف کا خم بھی آج پردم ہے
    ۔۔۔۔۔
    وہ جس کو پتھر بھی اس نے سمجھا
    وہ میں ہی رہ میں پڑا ہوا تھا
    ۔۔۔۔۔
    ہو نفرت محبت پہ قبضہ کی صورت
    چلو کارواں روک دو تیرگی گا
    ۔۔۔۔۔
    اس ملک میں قاتل کو ملے داد ہمیشہ
    سو لاکھ بھی مارے وہی سلطان رہے گا
    ۔۔۔۔۔
    گھونٹ چائے مجھے پلا دینا
    پھر مرے ہونٹ ہی جلا دینا
    کوئی پوچھے اگر مری الفت
    اپنے گجرے اسے دکھا دینا
    ۔۔۔۔۔
    اب نثر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں جو راقم الحروف ( مقبول ذکی مقبول کے فن و شخصیت پر لکھا گیا ہے) فکر و نظر کے پھول الہام میں خوشبو کے جھونکے لاتے ہیں تو صوتی ترنگ رقص کرتی ہوئی کاغذ پر بکھر کر شعر کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ جو جمالیاتی پہلو بکھیرتی ہوئی اذہانِ سخنوراں کو ایک نا دیدہ سوز و گداز بخشتی ہے اور یہ سوز و گداز ایک طاقچے میں رکھی ہوئی قندیل کی مانند ہے جو خود تو جلتی ہے لیکن دوسروں کو روشنی دیتی ہے روشنی پانے والے خوش نصیب تیرگی سے نکل کر اجالوں کے گلستان میں پہنچ جاتے ہیں جہاں پر روز گلرنک سویرا جلوے بکھیرتا ہے شبنم کے قطرے گلوں پر فدا جسم و جاں کر رہے ہوتے ہیں ۔
    مقبول ذکی مقبول کی کتاب ٫٫ منتہائے فکر ،، بھی ایسا ہی ایک شبنم کا قطرہ ہے جو سخن پر اپنی جان فدا کر رہا ہے اور زندگی کی کھیتی کو ہرا کرنے والی کربلا کی یاد تازہ کر رہا ہے ۔ زندگی گلوبل ولیج بنی تو دوریاں نزدیکیوں میں سمٹ گئیں لوگوں کی دور دور تک رسائی ہوتی گئی ان لوگوں میں میں بھی شامل تھا ۔ جیسے کئی نئے دوست ملے کتابوں کا تبادلہ ہوا ایوارڈ ملے محبتیں ملیں اور کاروانِ قلم بڑھتا گیا ۔ مقبول ذکی مقبول بھی مجھے فیس بُک پر ملے ان کی شخصیت میں محبت کے پہلو دیکھے تو ان سے محبت ہو گئی ان کی شاعری کے علاوہ ادب دوستی بے مثال ہے کئی ادیب دوستوں کے انٹرویوز کر کے مختلف اخبارات کی زینت بنا چکے ہیں ۔ جن میں ایک میں بھی شامل ہوں ۔
    مقبول ذکی مقبول شاعری کے ساتھ نثر بھی اچھی لکھتے ہیں ۔ ان کی خوبیوں میں سب سے بڑی خوبی عشقِ محمد و آل محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہے ۔ جو ان کو سب سے ممتاز کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ اجرِ رسالت بھی ہے ۔ ان کی نثر ہو یا شاعری دونوں میں سلاست کا پہلو نمایاں ہے ۔
    ***

  • میرا گاؤں غریب وال  – 4

    میرا گاؤں غریب وال – 4

    میلاد کمیٹیاں:۔

    غریبوال میں میلاد کمیٹی باقاعدہ نہیں ہے ہر عید میلاد کے موقع  پر جلوس نکالا جاتا ہے جس میں شیعہ سنی مل کر جلوس نکالتے ہیں ۔میلاد کے موقع پر حافظ محمد یوسف، دوکاندار شیر بہادر اور مستری محمد یعقوب کا بیٹا علی رضا مل کر جلوس کے انتظامات کرتے ہیں پورے گاؤں میں دیگیں نذر نیاز پکتی ہے اور سارا دن لنگر تقسیم ہوتا ہے

    سیاستدان:۔

    گاؤں کے سیاست دان ملکی سطح پر مشہور ہوئے جن میں ملک مظفر خان،ملک سمین خان اور اب ملک عمران خان ہیں جو کہ گاؤں کی امیدوں کے محور ہیں اور سچے عوام دوست کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ ملک مظفر خان اور ملک سمین خان کے متعلق سید نصرت بخاری کی کتاب "شخصیات اٹک” سے راہنمائی لی جا سکتی ہے۔

    لوگوں کا ذریعہءمعاش:۔

    لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی اور تجارت ہے اکثر جوان فوج اور آئل کمپنیز میں ملازم ہیں لاری اڈے کے ساتھ پنڈی روڈ پر مارکیٹیں بننے سے لوگوں کا رجحان دوکانداری اور ذاتی کاروبار کی طرف بڑھا ہے۔  میجر ریٹائرڈ  ملک طارق صاحب کا فش فارم اور باغ وغیرہ کا کام ہے سارا کام ملازم کرتے ہیں۔ اور خود نگرانی کرتے ہیں

    فوج میں آفیسرز :۔

    پاک فوج میں گاؤں کے آفیسرز کی تعداد بہت کم ہے ۔اب تک پاک فوج میں کرنل سرفراز ولد شیر جنگ،میجر ڈاکٹر طارق ولد ملک ارشاد علی خان اور لیفٹیننٹ محمد فیضان ولد نائیک کلرک محمد اسلم شامل ہیں۔

     جے سی اوز اور سپاہی :۔

    جے سی اوز میں خاص طور پر ملک ارشاد علی ، ملک اسلم اور ملک مظفر خان کے والد  آنریری لفٹیننٹ ملک غلاب خان، صوبیدار میجر سیّد کرم حسین شاہ بخاری ، صوبیدار میجر محمد اعجاز، صوبیدار جاوید ،صوبیدار محمد خان اور آنریری نائب صوبیدار حبدار حسین شاہ نقوی شامل ہیں۔

    جوانوں کی کافی تعداد ہے جس کا ذکر  طوالت کا باعث بنے گا۔

    فوج میں  شہید ہونے والے افراد:۔

    فوج میں شہید ہونے والے افراد میں صرف دو کا نام میرے علم میں ہے۔

    ا۔ سپاہی سید قلندر شاہ ولد سید نور حسین شاہ پاک فوج کی ADC آرٹلری کور میں بھرتی ہوئے  جن کا آرمی نمبر 1239726 تھا جو گاڑی کے ایک حادثے میں شہید ہوئے۔

    2. سپاہی نوید احمد ولد میاں جیون پنجاب رجمنٹ میں بھرتی ہوئے اور ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد 69 پنجاب رجمنٹ میں پوسٹ ہوئے

     اور 12 مئی 2012 کو  جنوبی وزیرستان اپریشن  میں دہشت گردوں سے  ماتھے  پر گولی لگنے سے شہید ہوئے۔ اور پورے اعزاز کے ساتھ غریب وال کے قبرستان میں پاکستان آرمی کی نگرانی میں دفن ہوئے۔ جن کو ہر سال پاک فوج سلامی دیتی ہے۔اور سبز ہلالی پرچم شہید کی قبر پر لہرایا جاتا ہے۔

    اردو اور پنجابی ادب میں شامل ستارے:۔

    1. اردو ادب میں سب سے پہلا رائیٹر مرحوم علی احمد تبسم ولد حاجی غلام جیلانی تھا جو کہ حلقہ ارباب شاد کا جنرل سیکریٹری تھا جس نے بہت سارے رسالوں میں کہانیاں اور افسانے لکھے۔ رسالوں میں آداب عرض، سلام عرض،جواب عرض، سچی کہانیاں، سچی کہانی ،اخبار جہاں اور فیملی میگزین وغیرہ شامل ہیں۔

    2. سید حبدار قائم

    آج تک میری تین تصنیفات شائع ہو چکی ییں جن میں:۔

    نماز شب

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری ؒ کی سیرت و کردار

    اکھیاں وچ زمانے (پنجابی)

    اس کے علاوہ نعت رسول مقبول ﷺ، سلام، نظمیں، منقبت، بچوں کی کہانیاں اور کتابوں پر تبصرے ملک کے کئی اخبارات کے ادبی صفحات کی زینت بن چکے ہیں۔ ریڈیو ایف ایم  90.4 پر بحثیت مہمان شاعر کلام سنا چکا ہوں۔ اور کربلا کے ٹی وی چینل پر لائیو سلام بحضور امام حسین علیہ السلام پیش کر چکا ہوں۔ اس کے علاوہ پنڈی گھیب ،اٹک،حسن ابدال اور فتح جنگ کے نعتیہ مشاعروں میں شرکت کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہوں۔

    3.مولانا شعیب احمد

    مولانا شعیب احمد نے ایک کتاب ” مسواک شریعت کی نظر میں” لکھی ہے جو کہ 68 صفحات پر مشتمل ہے۔

    علماء دین:۔

    سادات سے:۔ سادات گھرانے سے سیّد قلندر حسین شاہ ولد سیّد امیر حسین شاہ اب بھی نجف اشرف میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

    ان کے بعد سیّد تصور حسین شاہ ولد سیّد محمد شاہ اب لاہور میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

     غیر سادات سے علماء:۔ غیر سادات سے علماء میں حافظ جان محمد، حافظ  غلام ربانی، قاری حافظ محمد آفتاب ، حافظ فضل حق، حافظ محمد صفتین، حافظ احمد جان، مولانا شعیب احمد شامل ہیں۔

    حفاظ کرام:۔

    غریبوال گاؤں کے حفاظ میں حافظ مہر محمد، حافظ نور محمد، حافظ سید احمد، حافظ محمد آفتاب، حافظ محمد فراز اختر، حافظ فضل حق، حافظ احسان الحق، حافظ غلام دستگیر، حافظ محمد صفتیں، حافظ احمد جان، حافظ محمد جان، حافظ محمد عرفان ولد مہر محمد، حافظ محمد عرفان ولد عبدالرحمان، حافظ کاشف محمود، حافظ محمد انوار اعوان، حافظ محمد عدنان اعوان، حافظ محمد عدنان ولد غلام قاسم، حافظ محمد ظہیر ولد باز خان، حافظ حبیب الرحمان ولد محمد یوسف، حافظ توصیف احمد شامل ہیں۔

    جاری ….

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    اٹک

  • میرا گاؤں غریب وال – 3

    میرا گاؤں غریب وال – 3

    کھیل اور کھیل کے میدان:۔

     ملک مظفر نیزہ باز اور گھوڑ سوار تھے لیکن اس کے باوجود گاؤں میں کوئی کھیل کا میدان بنوا کر نہیں دیا۔ گاؤں کے بچے جہاں کھلی زمین دیکھتے تھے وہاں جا کر کھیلتے تھے جس کی اب تک یہی حالت ہے موجودہ رئیس ملک سمین خان اور میجر طارق بھی اسی روٹین پر چل رہے ہیں اور ابھی تک کسی نے کھیل کا میدان بنوا کر نہیں دیا۔ بہرحال گاؤں کے بچے اب کرکٹ ،فٹبال ، ہاکی کھیلتے ہیں اس سے پہلے مندرجہ ذیل کھیلیں کھیلی جاتی تھیں”۔

    گلی ڈنڈہ ، کرکٹ ، ڈنڈ پاکی ، بنٹے سے مختلف کھیل ،سری گڈیرن، کانا گڈی بھمیری والی بال، لک ترٹی، چینجو، تختی لڑائی ،دوات لڑائی ، چار کانی،کوکلے ، لڈو، بارہ گوٹ، مٹی کے کھلونے، وغیرہ جن کی تفصیل میرے پنجاب مضمون "اڈیاں گھیبی کھیڈاں” میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے جس کو "آئی اٹک ” ویب سائیٹ پر پڑھا جا سکتا ہے۔

    اسکول:۔ ا

    بزرگوں کے دور میں گاؤں میں کوئی پرائمری اسکول تک نہیں تھا اور گاؤں کے لوگ تین چار کلومیٹر دور ڈھلیاں کمپنی کے پرائمری ا سکول میں پڑھنے کے لیے جاتے تھے  1964 میں گاؤں کا بوائیز  اسکول بن گیا جس میں ماسٹر اللہ دتہ،ماسٹر شیر محمد اوربعد میں ماسٹر اللہ دتہ کی جگہ ماسٹر صدیق پڑھاتے تھے ان تینوں ماسٹرز کا تعلق پنڈی گھیب شہر سے تھا۔ 1980 میں خواتین معلمات آ گئیں اور لڑکوں کے اسکول کی چاردیواری بن گئی کیونکہ پہلے صرف دو کمرے اور ایک برآمدہ تھا  ہنوز لیڈی ٹیچرز تعینات ہیں۔

    boys primary school
    لڑکوں کا پرائمری اسکول – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    گرلز پرائمری  اسکول:۔

     شروع شروع میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اسکول نہیں تھا اس لیے حافظ احمد جان صاحب نے اپنا گھر 1965 میں  بچیوں کی تعلیم کے لیے وقف کیا۔اس گھر میں معلمات آ کر بارہ تیرہ لڑکیوں کو پڑھاتی تھیں پھر 1981 میں گاؤں کے جنوب کی طرف یونین کونسل کے عقب میں ایک اسکول بنایا گیا جس میں پانچویں کلاس تک تعلیم دی جاتی تھی۔جس کی عمارت بوسیدہ ہونے کی وجہ اسے ختم کر دیا گیا اور گاؤں کی بچیاں بوائز اسکول میں پڑھنے کے لیے جانے لگیں جس کی کافی مخالفت کی گئی لیکن سیاسی ناہمواری آڑے آئی اور لوگ خاموش ہو گئے۔ جس کی وجہ سے کئی افراد نے پردے کی وجہ سے بچیوں کو  زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ترک کر دیا اور گاؤں کے سیاستدانوں نے اس میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا۔ یہ مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔

    girls primary school
    لڑکیوں کا پرائمری اسکول – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    پرائیویٹ اسکول:۔

    گاؤں میں چار پرائیویٹ اسکول بنائے گئے ہیں ایک کا نام فیوچر ویوژن ہے جس کا سرپرست سید محسن رضا شاہ اور دوسرے اسکول کا نام اقراء ماڈل اسکول ہے جس کے سرپرست کا نام حافظ محمد رمضان ہے ۔ تیسرے اسکول کا نام اجالا پبلک اسکول ہے جس کا سرپرست طارق شاہ پٹھان اور چوتھے سکول کا نام ہیپی ہوم اسکول ہے جس کا سرپرست نواب خان آف ڈھوک نمبر دار ہے

    چاروں اسکولوں میں لڑکے لڑکیاں اکھٹے پڑھتے ہیں ۔

    ڈسپنسری:۔

    گاؤں کی ڈسپنسری 1971 تک دومیل میں تھی جو  ملک مظفر خان کی کوشش اور سیاسی بصیرت سے بعد میں غریب وال گاؤں میں منتقل کرائی گئی کیونکہ پہلے  دومیل گاؤں میں عملےکی تنخواہ ،عملے کا ریکارڈ اور خرچ وغیرہ آتے تھے اور دومیل میں غریبوال "ڈسپنسری ایٹ دی میل” کے ٹائیٹل پر قائم تھی  جو 1981 میں غریبوال گاؤں میں ٹرانسفر ہوئی۔

    dispensary
    ڈسپنسری – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    یونین کونسل:۔

    یونین کونسل بھی ملک مظفر خان کی سیاسی بصیرت کی وجہ سے ہمارے گاؤں میں آ گئی کیونکہ یہ پہلے اخلاص میں تھی جس کا اب تک نام اخلاص کے نام پر ہے اس کا افتتاح ایس پی ڈپٹی کمشنر سید خالد محمود نے 18 جون 1963  میں اپنے مبارک ہاتھوں سے کیا۔

    union council
    یونین کونسل – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    لاہنی رکھ:۔

    گاؤں کے مغرب میں راولپنڈی روڈ عبور کرتے ہی گاؤں کا جنگل شروع ہو جاتا تھا جسے مقامی زبان میں "رکھ” کہتے تھے ۔اس رکھ میں جھاڑیاں ،بیری،  اور پُھلاہی کے زیادہ تعداد میں درخت تھے اور کہیں کہیں کیکر اور شیشم بھی پائی جاتی تھی۔ اس میں گھاس کاٹنے پر پابندی تھی کیونکہ اس میں تیتر، بٹیر، فاختہ اورجنگلی جانور پائے جاتے تھے گاؤں کے لوگ اس میں بیر کھانے کے لیے جاتے تھے ملک مظفر خان اور بعد میں ان کے بیٹوں کے امیر کبیر دوست یہاں تیتر، مرغابی، فاختہ اور جنگلی خرگوش کا شکار کرنے آتے تھے کئی انگریز بھی ان کی وساطت سے یہاں جنگلی سوروں کا شکار کرنے آتے تھے اب ملکان نے زمینیں بیچ دی ہیں اور گاؤں کا پرانا حسن "رکھ” نہیں رہا اسی رکھ میں ملک مظفر خان نے ایک ڈیم بھی بنوایا ہوا تھا جس میں مچھلیاں اور مرغابیاں ہوتی تھیں۔

    Lahni Rakh
    لاہنی رکھ والا ڈیم – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    صدر ایوب خان 1963 کے اوائل میں  ملک مظفر خان کے پاس یہاں شکار کھیلنے آئے تھے تو ملک مظفر نے اپنا مورگاہ والا گھر ان کو گفٹ کیا تھا جو غالبا اب یونائیٹڈ نیشن کا دفتر بنا دیا گیا ہے

    کسیاں تے مہری:

    گاؤں کے بالکل ساتھ ہی شمال کی جانب کسیاں جو کہ زیارت حضرت معصوم بادشاہ ؒ سے شروع ہو کر چشمہ حضرت حاجی امام ؒ جس کو مقامی زبان میں "بابا چوا "کہتے تھے  تک جاتی ہیں ان کسیوں میں پھلائی کے گھنے درخت تھے جن میں ایک دو درخت رُکھ اور ٹاہلی کے بھی تھے چشمے کے ساتھ کھجور کے دو درخت اور دو کنویں بھی تھے۔ پرانے دور میں لیٹرین سسٹم نہیں تھا اس لیے رفع حاجت کے لیے بھی یہ "کسی” ہی استعمال ہوتی تھی جس میں مشرقی حصہ عورتیں اور مغربی حصہ مرد استعمال کرتے تھے ۔اس "کسی” کو بعد میں ملک میجر ڈاکٹر طارق نے ڈیم بنوا دیا کیونکہ بارش کا سارا پانی اس ” کسی” میں جاتا تھا جو کہ آگے نکل کر پنڈیگھیب ہروالہ میں چلا جاتا۔  "کسی” عبور کرتے ہی سامنے شمال والی زمیں جو قدری اونچی ہے کو” مُہری "کہتے تھے ۔ملک طارق نے "کسی” والے ڈیم میں فش فارم بنوایا ہے .  اور  "مُہری” پر باغ اور سبزیاں کاشت کرنے کے لیے پمپ لگا کر اسی پانی کو استعمال کر رہے ہیں۔ "مُہری” پر بھی پہلے شکار کھیلنے کے لیے لوگ آتے تھے لیکن ملک طارق نے اب جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اس ایریا میں سخت پابندی لگائی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے کافی پرندے شکار ہونے سے بچ گئے ہیں۔

    مگھ:۔

    مُہری کراس کرتے ہی شمال میں گہری کھائیاں ہیں جن کو مقامی لوگ "مگھ” کہتے تھے کسیاں مہری اور مگھ کی جانب جانور چرانے کے لیے لوگ لے جاتے تھے ۔کھپی ، وِنڑاں اور سرکنڈے ان تینوں جگہوں پر کافی تعداد میں موجود تھے سرکنڈے کو جلانے کے ساتھ ساتھ لوگ چھپر بناتے تھے اور گھروں کی چھت کے لیے ” کڑے” موجودہ ٹائیلز اور لنٹر ڈالنے کی جگہ استعمال کرتے تھے ۔ سرکنڈے سے چھج اور کھاری بھی بنتی تھی۔ چھج کھلواڑے پر گندم وغیرہ کے دانے گھاس پھوس سے صاف کرنے اور گھر کا کوڑا کرکٹ گندگی کے ڈھیر تک لے جانے کے لیے استعمال ہوتا تھا اور کھاری جب عورتیں مویشی چرانے کے لیے لے جاتی تھی تو سر پر رکھ کر چلتی تھیں مویشی جوگالی کے لیے چھوڑ کر سوکھا ہوا گوبر چنتیں اور کھپی ٹانڈے اور ڈڈے وغیرہ کاٹ کر کھاری میں ڈال کر گھر لے آتیں جو جلانے کے لیے استعمال ہوتے۔ "مگھ” کا کچھ حصہ ہموار کر کے لوگوں نے پلاٹنگ شروع کر دی ہے جو ایریا خاص طور پر راولپنڈی روڈ کے ساتھ ہے یہی مگھ کافی آگے شمال مغرب کی طرف بڑھتا ہے اور نانگاوالی گاؤں تک جاتا ہے۔ مگھ چونکہ پکا پتھر ” پڑ” پر مشتمل ہے اس لیے گھر بنانے کے لیے لوگ اس سے پتھر بھی توڑ کر لے جاتے تھے۔

     جانور:۔

    لاہنی رکھ، کسی،مہری اور مگھ میں جنگلی جانور جن میں سور،سہہ ،جھائی ، گیدڑ،لومڑی،بھیڑیا اور خرگوش وغیرہ شامل ہیں ملتے تھے آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ جنگلی جانور بہت کم رہ گئے ہیں گیدڑ اور سور تو اب بھی ہوتے ہیں لیکن زیادہ تعداد میں کالا چٹا پہاڑ کی طرف نقل مکانی کر گئے ہیں ۔

    اور گھریلو جانورں میں گائے،بھینس،بھیڑ،بکریاں،کتے اور بلیاں شامل ہیں

    پرندے:۔

    گاؤں میں پرندوں کی کافی قسمیں پائی جاتی ہیں جن میں گیلڑے، فاختہ، نیل کنٹھ، کوے ،چیل ،چَمچِرڑ (عام چڑیا نما خاکی پرندہ جس کے سر پر تاج ہوتا ہے) ، بلبل دونوں قسم کی،پدی، تلیُر، ہد ہد، لالڑی مینا پیلی اور سرخ چونچ والی دونوں،طوطا،راول طوطی، تیتر،بٹیر،لگڑ،عقاب،شاھین، مرغابی، کالی پدی،ڈبی پدی، رس چوسنے والی کالی پدی، سولڑ یا سوہڑی،لٹورہ، ڈھوڈر کاں (کوے کی ایک بڑی قسم) چمگادڑ، کالی کلواتارن، ابابیل اور گھریلو چڑیا وغیرہ

    گھروں میں لوگ بطخیں،تتریاں اور مرغیاں بھی پالتے ہیں

    حشرات الارض:۔

    حشرات الارض اور رینگنے والوں میں سانپ،سوسمار یعنی گوہ، چھپکلی، گھرنئی،سانڈے، دومونہی پھرڑ سانپ،  سلہہ، دند گنڑناں، گلہری اور بڑے چوہوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی چوہیاں شامل ہیں۔

    بھمیر”۔

    ہمارے گاؤں کی” لاہنی رکھ” میں بیری کی جھاڑیاں زیادہ تھیں اس لیے یہاں دو قسم کے بھمیر بھی پائے جاتے تھے جن میں ایک "ساوا بھمیر” تھا جس کی رنگت سبز تھی اور اس کے اوپر پیلے رنگ کے نقطے بنے ہوتے تھے۔جب کہ دوسرا ” رتہ بھمیر” سرخ پروں والا جب کہ اس کا سینہ سبز سنہری تھا جو کہ جسامت میں ساوے بھمیر سے بڑا تھا ۔بیری کے درختوں کے پتے اس کی خوراک تھی گاؤں کے بچے اسے پکڑ کر کھیلتے تھے۔ دونوں بھمیر  بہت خوب صورت چھوٹے چھوٹے انڈے دیتے تھے۔

    امام بارگاہ:۔

    گاؤں میں سُنی مسجد کے بالکل ساتھ ہی ایک امام بارگاہ بنایا گیا جس کے لیے زمین میرے دادا ابو سیّد فضل حسین شاہ بخاری نے وقف کی اور سیّد شاہ گل محمد کے ساتھ مل کر دو کمرے بنائے گئے جن میں نور محل جس میں تابوت اور عَلَم رکھتے تھے وہ ملک مظفر کی بیوی ملکہ شاہجہان نے بنوا کر دیا تو گاؤں کے لوگوں نے کافی مخالفت کی ۔

    Imam Bargah
    امام بارگاہ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

     ملک مظفر خان کی بیوی نے امام بارگاہ کے نور محل کے ساتھ  چاردیواری بھی بنا کر دی تھی۔ اب سادات اس پر باقاعدہ کام کر رہے ہیں  اس کے بانی سیّد شاہ گل محمد ہی رہے ان کی وفات کے بعد اب ان کے بیٹے سیّد علی شاہ اس کے بانی ہیں۔

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    جاری ہے

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    اٹک

  • میرا گاؤں غریب وال  – 2

    میرا گاؤں غریب وال – 2

    گاؤں کی گلیاں:۔

    گاؤں کی گلیاں82 ۔1981 میں یونیسف ادارے کے تعاون سے بنی تھیں جو کہ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ووٹ لینے والے وعدہ کرتے رہے ہیں لیکن ووٹ کے بعد گاؤں سے چشم پوشی کرتے ہیں جس کی وجہ سے گاؤں کی گلیاں انتہائی خراب ہیں جن کی مستقبل میں بھی ٹھیک ہونے کی امید نہیں ہے۔ کیوں کہ سیاسی لحاظ سے عوام میں اتفاق نہیں ہے۔

    بجلی کی منظوری :۔

     بجلی 1963 میں شکار پر آئے ہوئے جنرل ایوب خان سے ملک مظفر خان نے منظور کرائی تھی گاؤں میں ٹرانسفارمرز ملک صاحبان کے گھروں کے قریب لگائے گئے جس کی وجہ سے لو ولٹیج کا مسئلہ رہا۔ مدینہ مسجد کے تعمیر کنندہ منظور حسین عرف  صاحب نے درخواست دے کر ایک ٹرانسفارمر اپنے محلے میں لگوایا باقی گاؤں میں اب تک لو وولٹیج کا مسئلہ ہے لیکن حل نہیں کیا جا رہا۔

    گیس کی منظوری:۔

      گیس کی منظوری  2007 میں ملک سمین خان نے کرا کر دی۔ جو کہ ان کا منفرد کام ہے

    واٹر سپلائی:۔

    واٹر سپلائی کا کام ملک مظفر خان کے توسط سے ہوا۔ کیونکہ 1981 میں جب میجر اکبر نرگھی ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے تو انہوں نے غریبوال کی واٹر سپلائی کا یہ کہہ کر مخالفت کی تھی کہ اس گاؤں میں  چار جُھگیاں ہیں پانی کی ان کو کوئی ضرورت نہیں ہے تو ملک مظفر خان نے لاہور سیکرٹریٹ میں جا کر اس کی منظوری کرا لی اور گاؤں کو پانی سے سیراب کیا۔ جو کچھ عرصہ چل کر خراب ہوگیا اور سیاست گردی کا شکار ہو گیا جو اب ملک عمران نے منظور کرا کر گاؤں کو دوبارہ مہیا کیا۔

    قبرستان:

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ کے مزار کے مغرب کی طرف غیر سادات کا قبرستان جبکہ مزار کے جنوب کے طرف سادات کا قبرستان ہے دونوں کی ٹوٹل لمبائی 116 کنال اور 19 مرلے ہے۔ جن میں لینڈ کمیشن نے 55 کنال اور باقی ملک مظفر خان نے وقف کی ہے ۔لمبائی چوڑائی رجسٹرڈ ہے جس پر کوئی بندہ تعمیر وغیرہ نہیں کرسکتا ۔

    مزارات:۔

    غریبوال میں مندرجہ ذیل مزارات ہیں ۔

     ا۔ حضرت معصوم بادشاہؒ:۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا رحضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں غریب وال میں انوار بانٹ رہا ہے۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ
    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّد زادی سے جبکہ دوسری شادی  اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹوں شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پیر ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سید حاجی امام ؒ، سید شاہ محمد غوث ؒ ،سید محمد شاہ لہری اور سید جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہیں ہوئی جبکہ حضرت سید شاہ محمد غوث اور حضرت سید حاجی امام ؒ سے موج دریا ؒ     کی نسل چلی۔

    حضرت علی اصغر ؒ   جو کہ معصوم بادشاہ کے نام سے مشہور ہیں آپ مادر زاد ولی  متولد ہوئے آپ کو پرانے زمانے کے لوگ ” آنڑاں پیر "کے نام سے پکارتے تھے جبکہ غریبوال تحصیل پنڈی گھیب میں آپ کے روضہ مبارک پر آپ کا نام سیّد غوث شاہ لکھا ہوا ہے آپ حضرت رحمت اللہ شاہ کے ایسے فرزند ہیں جنھوں نے پیدا ہوتے ہی حضرت بی بی مریم علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیسی علیہ اسلام کی سنت ادا کی اور کلام فرمایا کیونکہ جب آپ کی ولادت ہوئی تو اس وقت آپ کے والد گھر میں موجود نہیں تھے آپ علیہ رحمہ مریدین میں گئے ہوئے تھے یہ واقعہ میری دادی اماں بی بی ستاراں نے ہمیں اس طرح سنایا ہے ” جب معصوم بادشاہ پیدا ہوئے تو ناڑ کاٹنے کے لیے چھری کی ضرورت پیش آئی تو سارے گھر میں چھری ڈھونڈنے کے باوجود نہ ملی دائی اماں نے جب آپ کی والدہ ماجدہ کو بتایا کہ ناڑ کاٹنے کے لیے چھری نہیں مل رہی تو آپ کی والدہ بھی پریشان ہو گئیں والدہ کی پریشانی دیکھی تو آپ نے فورا کہہ دیا کہ چھری آٹا پیسنے والی چکی کے نیچے پڑی ہے آپ کی والدہ اور دائی جہاں حیران ہوئیں وہاں خوشی کی انتہا نہ رہی کہ بچہ مادر زاد ولی ہے اور کس طرح بول پڑا ہے بہرحال دائی نے چکی کے نیچے دیکھا تو چھری واقعہ ہی وہاں پڑی تھی آپ نے چھری لی اور ناڑ کاٹی اور باقی رسوم بچے کی ادا کیں۔

    جب آپ کے والد گھر تشریف لائے تو ان کی زوجہ اور بچے کی دائی نے آپ کو مبارک باد دی آپ نے خیر مبارک کہا اور ساتھ ہی دونوں نے کرامت کا ذکر کیا کہ معصوم بادشاہ نے چھری نہ ملنے پر چھری کی خبر دی ہے۔ آپ کے والد خوش ہوئے اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا برخوردار میرا انتظار بھی نہ کیا اور میری زندگی کے اندر ہی کرامت دکھا ڈالی۔ چونکہ ایک جگہ دو ولی نہیں رہتے اس لیے بتاو کہ اب دائی لو گے یا مائی ۔ دونوں میں سے ایک لے کر غریبوال گاؤں میں جا کر سکونت اختیار کر کے اپنا فیض تقسیم کرو۔ معصوم بادشاہ نے کہا کہ مائی سے ابھی اور بچے دنیا میں آنے ہیں اس لیے مجھے دائی دے دیں میں غریب وال چلا جاتا ہوں ۔

    دائی اماں ملنے کے بعد آپ زیارت سے پرواز  کرکے غریبوال آ گئے سب سے پہلے آپ نے جس جگہ قیام کیا  وہ اب میرا گھر ہے اس جگہ قیام کے بعد گاؤں کے دو اور مقام پر رہے اور پھر آخر تک جہاں اب  مزار ہے وہیں پر آپ کا بسیرا رہا”

     ہماری دادی اماں کہتی تھیں کہ گاؤں کے مستری خاندان کے ایک نیک دل شخص کی خواب میں معصوم بادشاہ آئے اور کہا کہ ہماری قبر بنا دو بزرگ اٹھا لیکن بات سمجھ میں نہ آئی دوسرے دن پھر خواب میں آئے  اور  فرمایا میری اور میری دائی اماں کی قبر بنالو صبح اٹھ کر مستری پریشان ہوا لیکن بات سمجھ میں نہ آئی گھر والوں کو خواب سنایا تو انہوں نے کہا کہ آج خواب آے تو پوچھو کہ آپ کون ہیں اور کہاں آپ کی قبر بناوں چنانچہ مستری سویا خواب میں معصوم بادشاہ پھر آئے  اور فرمایا  تیسرے دن سے کہ رہا ہوں کہ ہماری قبر بناو مستری نے پوچھا کہ آپ کون ہیں اور کہاں پر آپ کی قبر بناوں تو آپ نے فرمایا کہ میں چھانگلا ولی موج دریا رحمت اللہ  شاہ بخاری کا بیٹا ہوں اور ساتھ ہی میری دائی اماں ہیں مستری نے پوچھا کہ قبریں کہاں بناوں تو آپ نے فرمایا کہ گاؤں کی مغرب کی طرف جانا سفید رنگ کی زمین میں دو دراڑیں پڑی ہوں گی اور ان میں سے دو کپڑے باہر نکلیں ہوں گے وہاں پر ہمارا مسکن ہے مغرب کی طرف دائی اماں کی اور مشرق کی طرف میری قبر بنانا۔ مستری خواب سے بیدار ہوا تو اس نے گھر والوں کو پورا خواب سنایا ۔خواب سن کر سب گھر والے صبح سویرے گاؤں کی مغرب والی طرف گئے تو دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے زمین میں دو دراڑیں پڑی تھیں جن میں سے دو کپڑے باہر نکلے ہوئے تھے ایک مردانہ کپڑا جبکہ دوسرا زنانہ کپڑا تھا مستری اور اس کے گھر والوں نے مل کر دو قبریں بنا دیں۔ ان قبروں کے ساتھ بعد میں کئی سادات دفن ہوئے جن میں معروف بزرگ بابا دامن شاہ بخاری علیہ رحمہ بھی ہیں۔

    حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ کی ظاہری طور پر تین ہی کرامتیں ہیں جن میں پیدا ہوتے ہی کلام کرنا, دائی اماں سمیت پرواز کرنا اور خواب میں آ کر مستری کو بتا کر زمین سے دو دراڑیں ظاہر کر کے دو کپڑے باہر نکال کر اپنی قبروں کی نشاندہی کرنا

    اس کے علاوہ بے شمار کرامات کا اب تک ظہور ہو چکا ہے جس کے سینکڑوں بندے گواہ ہیں ہم چیدہ چیدہ کا ذکر کریں گے تا کہ اولیائے اللہ سے محبت کرنے والوں کا ایمان مزید مضبوط ہو جائے۔

    مزار پر اژدھا کا آنااور اپنی دم سے صفائی کرنا

    میرا دربار پر چڑیا کو مارنا اور یکمشت ١٠ سے ١۵ منٹ میں تین سانپوں کا دیکھنا جس کے تین گواہ سید مشتاق حسین بخاری اور میرے علاوہ سید نظار حسین شاہ بخاری ہیں۔

    مزار کی تعمیر کرتے وقت زمین کا وسیع ہونا اس کے گواہ مستری غلام محمد مرحوم ،میرے بابا جان سید شاہ گل محمد ،میری دائی اماں ماسی راجاں مرحومہ اور چچا امید علی شاہ مرحوم اور میں خود ہوں۔

    بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے زیارت پر میلہ لگتا تھا جس میں صرف قرآن خوانی،نعت خوانی اور وسیع لنگر کا اہتمام ہوتا شام کو جب برتن سمیٹ رہے ہوتے تھے بارش کا ہر سال برسنا اس کا پورا گاؤں گواہ ہے۔لیکن آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب تین میلے ہوتے ہیں لیکن بارش ندارد۔

    حضرت معصوم بادشاہؒ سے فقر و استغنا،زہد و اتقا،رشد و ہدایت اور علم و عمل حاصل کرنے والے کئی لوگ ایسے ہیں جو بتاتے ہیں کہ چلہ کشی میں معصوم بادشاہ ملاقات کرتے ہیں اور آنکھ والا ہی یہ تماشا دیکھ سکتا ہے ایسے لوگ بتاتے ہیں کہ معصوم بادشاہ ملاقات میں زیادہ تر سبز کرتہ اور شلوار قمیض اور سر پر امامہ باندھے ہوئے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ کبھی کبھار کالے جوڑے میں بھی زیارت سے مستفید فرما کر سینہ روشن کر دیتے ہیں۔  آپ کے روضہ مبارک پر جنات بھی آتے ہیں اور سلام کرتے ہیں۔ پنجابی کتاب  "اکھیاں وچ زمانے” میں حضرت معصوم بادشاہ سے متعلقہ تقریبا گیارہ واقعات کا ذکر ہے جس میں آپ کی موجودہ زمانے کی ہونے والی زندہ کرامات ہیں اور ایسی بے شمار کرامات لوگوں کے سینوں میں بھی دفن ہیں جن کو اگر اکھٹا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے زائرین کے لیے ایک خاص بات لکھ دوں کہ جب بھی کوئی مراد لے کر جائیں تو دعا مانگتے وقت یہ کہیں کہ اے اللہ کے ولی اگر میری یہ مراد پوری ہو جائے تو میں آپ کے مزار پہ آنے والی چڑیوں کو میٹھی چوگ (چینی) ڈالوں گا یا آپ کے لیے جھولا لے کر آوں گا آپ اللہ کی بارگاہ سے میرا یہ کام کروا دیں تو مراد بہت جلد پوری ہو گی۔

    حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ابن چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری ؒ  کی  سب سے زیادہ مشہور زیارت ہے۔ جو گاؤں کے مغرب کی طرف قبرستاں کے پاس موجود ہے ان کا تذکرہ میری پنجابی کتاب "اکھیاں وچ زمانے” میں پڑھا جا سکتا ہے۔

    ب۔ مزار  بابا شہیداں آلا:۔

    گاؤں کے مشرق میں پنڈی روڈ کے ساتھ مزار  ہے جس کے گرد چاردیواری ہے ابھی مزار تعمیر نہیں ہوا۔ کسی دور میں ایک میٹھی بیری کا درخت اس کے ساتھ ہوتا تھا جس سے پورے گاؤں کے بچے اور بڑے تک بیر کھاتے تھے جو کہ "شہیداں آلا بروٹہ” کے نام سے مشہور تھا جس کی اب باقیات کم رہ گئی ہیں۔

    بی بی تُرُت مراد کا ڈیرہ:۔

    امام بارگاہ سے دس پندرہ قدم آگے جنوب کی طرف بی بی تُرُت مراد کا ڈیرہ ہے جس پر لوگ مرادیں مانگتے تو اللہ تعالیٰ فورا دعاوں کو قبول کر لیتا۔ ان کے بارے میں کسی کو زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔تاہم اس پر اب بھی چراغ روشن ہوتا ہے اور پرانے لوگ دعائیں مانگتے ہیں ولی کے وسیلے سے دعائیں اب بھی مستجاب ہوتی ہیں۔

    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ :۔

    حضرت حاجی امام ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا حضرت رحمت اللہ بخاری ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا رح کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل جنڈ کے گاؤں زیارت میں انوار بانٹ رہا ہے

    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ
    حضرت حاجی امام کا چشمہ المعروف بابا چوآ –فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّد زادی سے جبکہ دوسری شادی  اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹوں شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پیر ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سید حاجی امام ؒ، سید شاہ محمد غوث ؒ ،سید محمد شاہ لہری اور سید جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہیں ہوئی جبکہ دو بیٹوں حضرت شاہ محمد غوث رح اور سید حاجی امام ؒ سے موج دریا ؒ کی نسل چلی۔

    میری دادی اماں سیدہ ستاراں بی بی زوجہ سید فضل حسین شای بخاری نے ہمیں بتایا کہ پرانے زمانے میں لوگ قافلوں کی صورت میں سفر کرتے تھے ایک دن بابا چھانگلا ولی موج دریا نے ایک شادی کے قافلے کی کمان اپنے بیٹے حضرت حاجی امام رح کو دی آپ نے بارات کو سفر کی ہدایات دے کر سواریاں لیں اور اپنے گاؤں زیارت سے چل پڑے موجودہ غریبوال کے بالکل شمال مشرق پر قافلہ رک گیا کیونکہ مشکیزوں والا سارا پانی ختم ہو گیا تھا اور دور دور تک پانی کا کوئی نشاں نہ تھا عورتیں اور بچے سخت گرمی میں بلکنے لگے ایک عورت نے آپ سے کہا کہ آپ ولی کی اولاد ہیں یہاں پانی کا چشمہ نکالیں ورنہ قافلہ یہاں ہی ٹھہرے گا۔ عورت کی ضد پر آپ زمین پر ایک بڑی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے ۔کافی دیر جب آپ نہ اٹھے تو عورت نے آپ کو آوازیں دینا شروع کردیں تو آپ نے کہا ذرا ٹھہرو دودھ کا چشمہ نکال رہا ہوں تو عورت نے فورا کہا کہ ہمیں پانی کی ضرورت ہے دودھ کی نہیں  اور ساتھ ہی آپ کی چادر کھینچی تو آپ نے اپنا سر ایک چھوٹے سے گڑھے سے اٹھایا تو نیچے سے ایک ٹھنڈا پانی کا چشمہ نکل پڑا جس پر آپ نے حکم دیا کہ سارے قافلے والے پانی پی لیں اور اپنی مشکیزے بھی پانی سے بھر لیں۔چناں چہ لوگوں نے پانی پی کر ساتھ ہی مشکیزے بھرے اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑے۔  اس چشمے کو گاؤں والے اب تک بابا چوآ کہتے ہیں آپ نے فرمایا تھا کہ یہ چشمہ آب شفا ہے اس سے ہر کوئی استفادہ کرے گا۔ مجھے یاد ہے کہ جن کے بچوں کو دانے پھوڑے پھنسیاں وغیرہ نکل آتیں تو وہ عورتیں اس بابرکت چشمے سے پانی بھر کر ساتھ ہی غسل کراتیں اور پینے کا پانی گھر لے جاتیں تو بچے ٹھیک ہو جاتے۔ سخت گرمیوں میں ہر طرف جب پانی خشک ہو جاتا تو تب بھی یہ چشمہ گاؤں والوں کو پیاسا نہ رہنے دیتا۔ ملک میجر طارق نے جب ڈیم بنایا تو یہ چشمہ پانی کے اندر آ گیا لوگوں کی شکایت پر ملک طارق نے چشمے کے گرد چار دیواری بنوا دی لیکن وہ لذت اور وہ پہلے والا کراماتی حسنِ کرم نہ رہا۔ چشمہ اب بھی باقی ہے اور لوگوں کو اولیاء کی کرامات یاد دلاتا ہے ۔حضرت حاجی امام ؒ کا مزار مبارک زیارت گاؤں میں بابا چھانگلا ولی موج دریا ؒ کے احاطے کے اندر ہی واقع ہے۔

    جاری ہے …..

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    حبدار قائم

  • میرا گاؤں غریب وال – 1

    میرا گاؤں غریب وال – 1

    غریبوال گاؤں پنڈیگھیب کے جنوب مشرق  میں واقع ہے ۔ پنڈیگھیب سے راولپنڈی جاتے ہوئے تقریبا پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر بالکل سڑک کے کنارے پر یہ گاؤں آج سے تقریبا پانچ سو سال پہلے ہندووں نے آباد کیا تھا جو تقسیم کے بعد انڈیا چلے گئے اور زمینیں اپنے مزارعین کے حوالے کر گئے  ۔ کئی بزرگ تین سو سال پہلے غریبوال کی ابتداء بتاتے ہیں جو اس لیے درست نہیں ہے کہ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ کی وفات اُچ شریف کے ایک  شجرے میں 1604  لکھی ہوئی ہے اس سے ثابت ہوا کہ حضرت معصوم بادشاہ کی ولادت 1500 سے 1604  کے درمیان میں کہیں ہوئی اور وہ ولادت کے فورا بعد غریبوال بھیجے گئے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ غریبوال 500 سال پہلے آباد ہوا تھا۔1947 کی تقسیم سے پہلے اخلاص گاؤں کے ایک راجپوت گھرانے کے ملک شیر خان اخلاص سے ہجرت کر کے غریبوال میں آ گئے۔ 1889 کے محکمہ مال کے کاغذات میں بھی اس کا نام غریبوال ہی تھا کیونکہ کچھ لوگ اس کو گربال کہتے تھے جو ہنوز جاری ہے۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ ڈھلیاں کمپنی میں انگریزوں کی کافی تعداد تھی جو اپنی زبان سے "غ”  کو درست ادا نہیں کر سکتے تھے اور غریب وال کو گریبال کہتے تھے جو رفتہ رفتہ گربال تک کی مسافت طے کر گیا اور کچھ لوگوں کی زبانوں پر اب بھی جاری ہے لیکن اصل نام تو غریبوال ہی ہے ۔اب یہ گاؤں پنڈیگھیب کا ایک محلہ بننے کو ہے کیونکہ پنڈیگھیب کی آبادی غریبوال کی طرف مسلسل بڑھ رہی ہے چونکہ پنڈیگھیب کے شمال میں اخلاص اور شمال مغرب میں شہباز پور اور دندی و نوشہرہ گاؤں ہیں جن کے قریب آبادی جا پہنچی ہے اور اب آگے جانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ درمیان میں برساتی نالا "سیل ” بھی ہے

    غریبوال گاؤں کے مشرق میں ڈھلیاں اور ڈھلیاں چوک ، مغرب میں  ڈھوک کمہار موجودہ ڈھوک اعوان و پڑی گاؤں ، جنوب مغرب میں ڈھوک جٹ اور ڈھلیاں کمپنی سٹاپ نمبر ایک، شمال مشرق میں ڈھوک ناشہ اور ساتھ ہی آگے مگھ (گہری کھائیاں) اور نانگاوالی گاؤں ہے۔ پنڈی روڈ کے تقریبا 300 میٹر کے فاصلے پر ڈھوک ریحان آباد ہے اور مغرب کی طرف پکی سڑک توت اور میرا شریف کی طرف جاتی ہے جو ڈھوک اعوان کے پہلے چھوٹے سے گاؤں کو کراس کرتی ہے۔

    شروع میں غریبوال گاؤں میں اکثریت ہندووں کی تھی تقسیم کے بعد اس میں تین خاندان آ کر آباد ہوئے تھے جن میں تَرُڈ موجودہ راجپوت ، تریڑ موجودہ اعوان اور میال شامل تھے میال قوم نَکہ ریحان سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے تھے یہاں کی زیادہ زمین ایک ہندو راجہ چُنی لال کی تھی اور اس کا اٹک آئل کمپنی موجودہ پی او ایل میں ٹرانسپورٹ کا ٹھیکہ تھا جس نے کھوڑ کمپنی اور ڈھلیاں آئل کمپنی میں گاڑیاں لگا رکھی تھیں۔ بعد میں یہ کھڑپہ آئل کمپنی تک کام پھیل گیا ۔جس  میں ملک مظفر خان کسی بڑی پوسٹ پر فائز تھے اور ساتھ ہی ملک مظفر خان چُنی لال کے بزنس پارٹنر بھی تھے ۔ جب پاکستان بنا تو ہندو بھارت میں چلے گئے تو چُنی لال نے ملک مظفر خان کے آباو اجداد سے کہا کہ اگر حالات ٹھیک ہو گئے تو ہم واپس آ جائیں گے اگر واپس نہ آ سکے تو آپ ان زمینوں پر امانت کے طور پر قبضہ کر لینا۔ جس کی وجہ سے اس گاؤں کی زیادہ زمین ملک مظفر خان کے خاندان کے پاس ہی رہی چُنی لال کے مزارعین نے اس زمین کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں دائر کیا جس کے مدعیان میں حاجی میاں احمد، نور احمد اور محکم دین تھے لیکن ملک مظفر خان جیت گئے بعد میں اس زمین کو  مختلف بندوں نے خرید کر مکانات بنائے اور کئی افراد کھیتی باڑی کے لیے استعمال کر رہے ہیں

    کرہ ارض پر غریبوال کی پوزیشن:۔

    Latitude 33.211383 عرض بلد

    Longitude 72°18’1. 09” E طول بلد

    altitude  410m ارتفاع

    سطح سمندر سے بلندی:۔

    سطح سمندر سے اس کی بلندی 410 میٹر ہے

    مساجد:۔ غریبوال گاؤں میں چھ مساجد ہیں

    ا۔ جامع مسجد غوثیہ سب سے پہلی مسجد ہے جس میں پورے گاؤں کے لوگ مل کر نماز پڑھتے تھے اس وقت شیعہ سنی کی تفریق نہیں تھی مسجد کے پہلے پیش نماز قاری میاں جان محمد تھے۔

     جامع مسجد غوثیہ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
     جامع مسجد غوثیہ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ب۔ مسجد سیدنا ابوبکر صدیق ؓ

    ج۔ مسجد سیدنا عثمان غنیؓ

    د۔ مدینہ مسجد جو منظور حسین  المعروف "صاحب” نے بنائی۔

    ذ۔ علیؑ مسجد اہل تشیع نے مل کر بنائی جس میں اب محرم الحرام بھی منایا جاتا ہے

    ر۔ مسجد معصوم بادشاہ:۔ یہ مسجد” ماسی راجاں” نے بنائی جو کہ زیارت معصوم بادشاہ کی وجہ سے اب اہل تشیع کے پاس ہے۔

      مسجد معصوم بادشاہؒ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
      مسجد معصوم بادشاہؒ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    بنہیں یا خشک تالاب:۔

    گاؤں میں چار بارشی کچے تالاب ہیں اور ایک پکا تالاب ہے۔

    ا۔ روڈی بنھ”۔

    یہ تالاب بوائز پرائمری سکول کے ساتھ واقع ہے پورا گاؤں اسے پینے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کو گاؤں والے ہر سال پانی ختم ہونے پر ٹریکٹر لگا کر صاف کرتے تھے اور جس طرف سے پانی آتا تھا اس زمین میں پیشاب کرنے کی سخت ممانعت تھی جس پر پورا گاؤں سختی سے عمل کرتا تھا

    ۔

    ب۔ میالاں آلی بنھ:۔

    گاؤں کے جنوب کی طرف پنڈی روڈ کے بالکل قریب یہ تالاب تھا جس کو نہانے اور کپڑے دھونے کے لیے استعمال کرتے تھے گاؤں کے جوان اس میں جا کر پیراکی کرتے اور اپنے آپ کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ صحت مند رہتے کیونکہ پیراکی بہت زبردست ورزش ہے۔

     میالاں آلی بنھ - فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد
     میالاں آلی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ت۔ موچیاں آلی بنھ:۔

    گاؤں کے جنوب مغرب میں یہ تالاب واقع ہے جس میں بارش کا پانی اکھٹا ہوتا تو سارا سال لوگ اپنے جانوروں کو یہاں پانی پلاتے۔ عورتیں یہاں کثرت سے کپڑے دھونے کے لیے جاتیں کیونکہ اس طرف مردوں کا بہت کم جانا تھا اور یہ روڈ سے اور گاؤں سے ہٹ کر  ذرا دور واقع تھا۔

     موچیاں آلی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    ج۔ گُستانے آلی بنھ:۔

    گاؤں کے مغرب کی طرف بالکل قبرستان کے ساتھ یہ تالاب تھا جو وضو کے لیے استعمال ہوتا گھروں میں بھی کپڑے دھونے کے لیے لوگ اس کا پانی استعمال کرتے تھے گاؤں کی شمال مشرقی آبادی  اس تالاب سے مال مویشیوں کو پانی پلاتے تھے۔ اب بھی یہ خشک تالاب موجود ہے لیکن وضو کے لیے گاؤں کے لوگوں نے ایک نلکا لگوا لیا ہے۔

    قبرستان والی بنھ
    قبرستان والی بنھ – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    د۔ تلاء:۔

    ملک مظفر خان نے گاؤں کے جنوب میں ملک ارشاد خان کی کوٹھی کے تقریبا ایک فرلانگ کے فاصلے پر ایک پکا تالاب بنوایا تھا جو صرف پینے کے پانی کے لیے استعمال ہوتا تھا اس تالاب کا وجود پورے گاؤں کے لیے رحمت تھا اس کو بھی خشک ہونے پر گاؤں والے مل کر صاف کرتے۔ اس تالاب کی موجودہ حالت خطرے میں ہے کیونکہ اب گھر گھر میں پانی کی سہولت دستیاب ہے اور یہ تالاب ایک تاریخی ورثے کی حیثیت سے قائم ہے اور اس کو قائم رہنا چائیے۔ اس میں نہانا اور کپڑے دھونا سخت ممنوع تھا۔ گاؤں کے سب لوگوں نے اس کو مل کر کھودا تھا۔ گاؤں کی عورتیں دو دو گھڑے سر پر رکھ کر اور ایک ایک کمر پر بازوں میں لے کر یہاں سے پانی بھرتی تھیں جو اب صرف فلموں میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔ گاؤں کی یہ خوب صورتی اب صرف یاد ہی کی جا سکتی ہے

    Ghreebwal  Pond
    تالاب – فوٹوگرافر: تنویر احمد ولد دوست محمد

    کنویں:۔

    پورے گاؤں میں پکا کنواں نہیں تھا ۔حضرت حاجی امام ؒ کے چشمے کے مشرق میں تقریبا 150 میٹر کے فاصلے پر ہر سال کنویں کھودتے تھے تھوڑی سی زمین کھودنے پر پانی آ جاتا تو لوگ اپنی بانگیوں میں بھر کر گھروں میں لے جاتے۔ سردیوں میں یہ کنویں بند کر دیے جاتے تھے۔ کیونکہ کسی انجان بندے کے گرنے کا احتمال تھا۔

    فلاحی تنظیمیں:۔

    گاؤں میں فلاحی کاموں کی کمیٹی قاضی محمد بشیر  نے بنائی ہے جس کو لبیک ویلفیئر سوسائٹی کا نام سے پکارا جاتا ہے اس  کے صدر حافظ رمضان جب کہ چیئرمین قاضی محمد بشیر ہیں ۔ اس کی تمام فنڈنگ باہر سے کرتے ہیں جس میں پنڈیگھیب کے کئی نیک سیرت لوگ بھی تعاون کرتے ہیں ۔اس فلاحی تنظیم کے تعاوں سے غریب بچوں میں ہر سال کتابیں،بستے،کاپیاں اور قلم دیے جاتے ہیں ۔اس دفعہ بھی اس تنظیم نے چالیس بچوں کی مدد کی اور گزشتہ رمضان میں پینسٹھ ہزار کا راشن تقسیم کیا گیا۔ قاضی محمد بشیر گاؤں کی ویلفیر کے لیے کوشاں رہنے والے واحد آدمی ہیں ان کے ساتھ اقراء سکول کے سرپرست حافظ رمضان بھی شریک ہیں ۔گاؤں کے کروڑ پتی افراد ابھی تک اس ویلفیر کمیٹی میں شامل نہیں ہوئے۔ لیکن قاضی محمد  بشیر کی مدبرانہ کاوش اس کو جاری رکھے ہوئی ہے۔ یہ ویلفیر کمیٹی رجسٹرڈ نہیں ہے۔ کیونکہ رجسٹرڈ کرانے کے بہت سارے مسائل ہیں۔ جب کبھی ملک میں کوئی سیلاب یا زلزلہ وغیرہ آتا ہے تو حکومت چندہ اکھٹا کرنے کا حکم دے دیتی ہے جو محدود وسائل کی وجہ سے مشکل ہوتا ہے

    میلہ:۔ بزرگ سید شاہ گل محمد حضرت معصوم بادشاہ ؒ پر ہر سال خشک سالی کے موقع پر میلے کا انتظام کرتے تھے پورا گاؤں شاہ جی کے ساتھ مل کر چندہ اکھٹا کرتا تھا۔قرآن خوانی کا اہتمام ہوتا تھا شام کو جس وقت میلے کی چیزیں اور برتن سمیٹ رہے ہوتے سخت بارش شروع ہو جاتی۔ اور پورا گاؤں جل تھل ہو جاتا۔ برادری کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب سال میں تین میلے  تین مختلف لوگ کراتے ہیں لیکن پہلے والی برکات اب بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں ۔اب بھی اگر لوگ سید عارف حسنین شاہ کے ساتھ مل کر میلہ لگائیں تو سابقہ خیر و برکات واپس آ سکتی ہیں ۔ کیونکہ عارف شاہ  گدی نشین ہے۔

    لنک روڈ:۔

     ملک مظفر خان نے جنرل ایوب خان سے ملک ارشاد خان  کی کوٹھی اور اپنے بنگلے  تک منظور کرایا۔باقی گاؤں کے دو مشہور راستے ابھی تک راہ مسیحا دیکھ رہے ہیں۔ جو کہ ملک مظفر خان کی طرح کام کرائے اور بس سٹاپ سے لڑکوں کے سکول اور امام بارگاہ تک اس کے ساتھ ہی بس سٹاپ سے واٹر سپلائی کی ٹینکی تک اور سید عمران شاہ بخاری کے گھر تک روڈ بنوائے۔ تیسرا روڈ جو دو سو سال پرانا راستہ ہے وہ معصوم بادشاہ ؒ کے موڑ سے چوآ حاجی امام ؒتک سڑک بنائے۔ سادات کے محلہ سے قبرستان تک راستہ بھی پکا ہونا چائیے کیونکہ میت لے جاتے وقت بہت مشکل پیش آتی ہے۔

    جاری ہے ………..

    تصاویر کے لئے ہم  تنویر احمد ولد دوست محمد کے شکر گزار ہیں

    ۔

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال

    ضلع اٹک

  • چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا زیارت بیلے جنڈ اٹک(ولادت 1503 ء -وفات 1604 ء)

     سر زمین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اولیاء کی درخشاں و تاباں ہستیاں نعمت کبریٰ سے کم نہیں ہیں ۔اولیاء اللہ نے انسان کو انسان سے محبت کا درس دیا ہے۔دکھی انسانیت آج پھر اُن جسے مقدس لوگوں کہ انتظار میں ہے کیوں کہ زمین سے عدل و انصاف اٹھتا جا رہا ہے اور ہم لوگ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔آج پھر کوئی اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ اٹھے ہماری ہوس پرستی کو ختم کرکے ہمارے دل و روح کو محبت سے بھر دے کیوں کہ اب وقت کا یہی تقاضا ہے۔ ماضی میں بھی جب اٹک کی سر زمین ظلم و جبر سے بھر گئی تھی تو حضرت سید عبدالوہاب بُخاریؒ نے اپنے مریدین کو ان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے بدلے میں ولایتِ کے مقام تک پہنچایا اور ظلم و ستم کی سرکوبی کے لیے اٹک کے مختلف علاقوں میں بھیجا ان میں ایک بزرگ حضرت رحمت اللہ بخاری ؒتھے۔

    مختصر تعارف

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا بخارا سے اُچ شریف آنے والے سادات کا فخر ہیں۔آپ کا سلسلہ نسب 26 ویں پشت میں جدّ ائمہ طاہرین اور جدّ اولیاء حضرت علی علیہ السّلام سے جا ملتا ہے۔آپ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے ساتھ ملحقہ گاؤں زیارت میں 1568 عیسوی میں اوچ شریف سے ہجرت کرکے آئے آپ کے والد حضرت احمد شاہؒ بڈھا المعروف زندہ پیر تھے آپ کی ولادت 1503 عیسوی میں ہوئی۔ جو کہ مشہور بادشاہ ابرہیم لودھی کا دور بنتا ہے آپ نے 1604 میں دنیا سے پردہ کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔آپ کی زندگی میں ابرہیم لودھی،ظہیر الدین بابر،نصیر الدین محمد ہمایوں،شیر شاہ سوری اور جلال الدین محمد اکبر بادشاہ گزرے۔آپ کے مرشد حضرت شاہ عبد وہاب ؒتھے آپ کا سلسلہ "بخاریہ” تھا مرشد کی بیعت میں مجاہدات و ریاضات میں 38 سال رھے اور سلسہ سہروردی میں بھی کمال حاصل کیا۔آپ حضرت بہاؤالدین کے مدرسے میں بھی پڑھاتے تھے جو کہ علم و حکمت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

    چھانگلا ولی موج دریا

    حضرت رحمت شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کے پاس ایک عورت آئی کہ میں بے اولاد ہوں اولادِ نرینہ کے لئے دعا کریں۔آپ نے فوراً دعا دی اور کہا کہ اگلے سال اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹا دے گا وہ عورت کہنے لگی کہ میں بہت سارے پیروں،فقیروں اور بزرگوں کے پاس دعا کے لئے گئی ہوں یہ کیسے پتا چلے گا کہ میرا پیدا ہونے والا بیٹا آپ کی دعا سے ہوا ہے آپ اس کی کوئی نشانی بتائیں آپ ؒ نے مسکرا کر کہا کہ اگر اس کے ہاتھوں کی چھ اُنگلیاں ہوئیں تو وہ میری دعا سےہو گا اگر اُس کی پانچ اُنگلیاں ہوں تو کسی اور بزرگ کی دعا سے ہو گا۔یہ سن کر وہ عورت چلی گئی اور ایک سال بعد اُس کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے سرفراز کیا۔جس کی چھ،چھ اُنگلیاں تھیں جس کی وجہ سے لوگ اس بچے کو چھ انگلا کہنے لگے اُس عورت نے لوگوں کو اس کی وجہ بتا دی تو لوگوں نے آپ کو چھ اُنگلا بچے کے دعا دینے والا ولی مشہور ہونے لگا چھ انگلا کہتے کہتے چھانگلا ولی مشہور ہو گئے۔آپ کو مرشد نے موج دریا کا لقب دیا آپ کے نام کی وجہ تسمیہ اس لیے چھانگلا ولی موج دریا بنی۔

    چھانگلا ولیؒ موج دریا
    موج دریا

    کرامات

    آپ کی مشہور کرامات یہ ہیں پرندوں سے ہمکلام ہونا،پتھروں کا بیڑا دریا سندھ میں چلانا،پیر نارا کے سر پر سینگ نکالنا جس کی نشانی اب بھی اُن کی نسل میں موجود ہے،ڈاکوؤں نے مذاق کیا زندہ آدمی کا جنازہ آپ سے پڑھوایا تو جنازہ مکمل ہونے کے بعد بندہ حقیقت میں مر چکا تھا۔جنات کو قرآن مجید پڑھانا،جادو گر بدھو کراڑ سے مقابلہ کرنا جادوگر بدھو کراڑ مقابلے کی غرض سے جب اپنے جادو کے بل بوتے پر ہوا میں اُڑا تو آپ کا اپنے جوتوں کو حکم دینا اور ہوا میں بدھو کراڑ کی پٹائی کر کے زمین پرگرانا اور جادو گر کا تائب ہونا۔ایسا ہی ایک جادوگر باغ نیلاب کے مقام پر تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ کے مرشد پیر عبدالوہاب بُخاری نے حضرت نوری سلطان کو بھیجا جس کا ذکر انگریز مورخ لیبل ایچ گرفن نے اپنی کتاب پنجاب چیفز کے صفحہ 563 پر کیا۔ تربوزوں کو پتھر بنانا ،بہت بڑے سانپ کو پتھر بنانا،آپ کے حکم عدولی پر لوگوں کےگھروں سے کیڑوں کا نکل انا اور جانوروں تک کا بھاگ جانا معافی مانگنے پر دوبارہ کیڑوں کا غائب ہو جانا۔اپنے اخلاق و کردار سے لاکھوں افراد کو کلمہ پڑھایا اور اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ حضرت چھانگلا ولیؒ موج دریا زیادہ تر فاقہ کی حالت میں رہتے تھے عبادت کے لیے کم سوتے تھے اور بحال قوت کے لیے دودھ پیتے تھے۔۔

    اقوال

    آپ کے اقوال اج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور سونے کے پانی لکھنے کے قابل ہیں وجود کی تاثیر نیت کے خلوصِ سے بنتی ہے۔معرفت والے انسان کا زیادہ کھانا اور سونا اُس کی طاقت پرواز کم کر دیتا ہے۔ نفس کو پھلینے دینا اولیاء کے نزدیک فقر کی موت ہے نفس امارہ ایسا شیطان ھے جو آدم علیہ السلام کے سجدے کی حقیت کو اج بھی جھٹلاتا ہے۔کھانا کھاؤ معرفت خدا کی ریاضت کے لیے اور دودھ پیو قوت بحالی کے لیے۔جنات تک اسلام پہنچانا بزرگان دین پر واجب ہے۔ بندوں کا خیال رکھنا بندوں کی مدد کرنا اور بندوں کو عاجزی سے ملنا مخفی بندگی۔ اج بھی لاکھوں افراد آپ کے دربار پر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر جاتے ہیں اور ان کی منتیں پوری ہوتی ہیں

    حوالہ تحریر روزنامہ اساس 27 دسمبر