Tag: سیّد جہانگیر بخاری

  • نوکیا نورڈ منی  Nokia 1100 Nord Mini ایک جدید فون کلاسیک انداز میں

    نوکیا نورڈ منی  Nokia 1100 Nord Mini ایک جدید فون کلاسیک انداز میں

    نوکیا نورڈ منی  Nokia 1100 Nord Mini ایک جدید فون کلاسیک انداز میں

    نوکیا کے تمام شائقین اور ایسے افراد کے لئے یہ ایک خوشخبری ہے جو جدید انداز میں کلاسیک فون کے خواہاں تھے، کیونکہ نوکیا 1100 نورڈ منی Nokia 1100 Nord Mini مارکیٹ میں آچکا ہے۔ یہ اختراعی ڈیزائن روایتی نوکیا 1100 کی جدید اور کلاسیکل شکل و صورت  ہے۔ آئیے مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں کہ  نوکیا 1100 نورڈ منی  (Nokia 1100 Nord Mini)آپ کا بہترین موبائل ساتھی کیوں کر ہو سکتا ہے۔

    کلاسیکی ڈیزائن، جدید ٹیکنالوجی
    نوکیا 1100 نورڈز منی Nokia 1100 Nord Mini پر جب پہلی نظر پڑتی ہے  تو فورا نوکیا کا روایتی نوکیا 1100 نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔ وہی نوکیا 1100 جو اپنے وقت میں دنیا کا سب سے زیادہ بکنے والا موبائل فون بن گیا تھا۔ لیکن اس کی روایتی شکل پر نہ جائیں، جی جناب! اب یہ اُسی روایتی شکل میں آج کے جدید دور کا موبائل فون ہے۔ یہ ایک متحرک 3.7 انچ ڈسپلے کے ساتھ  شاندار 2K ریزولوشن کا حامل  موبائل ہے یہ اس ماڈل میں ایک ایسا روشن اور واضح ترین ڈسپلے  ہے جسے پہلے آپ تصورہی  کر سکتے تھے۔ چاہے آپ تازہ ترین شوز کو دیکھ رہے ہوں یا ویب براؤز کر رہے ہوں، 1100 Nord Mini تیز ترین تفصیلات ، واضح اور شوخ  رنگ  آپ کی بصارتوں کوفراہم کرتا ہے۔

    نوکیا نورڈ منی  Nokia 1100 Nord Mini ایک جدید فون کلاسیک انداز میں

    پاور ہاؤس جیسی کارکردگی

    نوکیا نورڈ منی 1100 Nord Mini  میں Qualcomm Snapdragon 650 پروسیسر ہے، جو اپنی قابل اعتماد کارکردگی اور موثر پاور مینجمنٹ کے لیے مشہور ہے۔ یہ پروسیسر آسانی کے ساتھ ملٹی ٹاسکنگ کو ہینڈل کرتا ہے، جس سے آپ ایپس کے درمیان سوئچ کرسکتے ہیں، ویڈیوز کو اسٹریم کرسکتے ہیں اور بغیر کسی وقفے کے گیمز کھیل سکتے ہیں۔

    زیادہ میموری، پرسکون مسلسل  آپریشنز

    نوکیا نورڈ منی 1100 Nord Mini اسٹوریج پر بھی سمجھوتہ نہیں کرتا ہے۔ یہ ایک فراخ آٹھ جی بی  ریم  8GB RAM کا حامل ہے، جو پرسکون مسلسل ایپس کی کارکردگی اور تیز ملٹی ٹاسکنگ کو یقینی بناتا ہے۔ 256 جی بی 256GB کی اندرونی اسٹوریج کے ساتھ، آپ جگہ ختم ہونے کی فکر کیے بغیر اپنی تمام پسندیدہ موسیقی، تصاویر، ویڈیوز اور ایپس کو اسٹور کر سکتے ہیں۔

    بہترین کیمرہ

    نوکیا فیچر فونز پر  بنیادی اور کم ریزولوشن کیمروں کے دن گزر گئے۔ نوکیا نورڈ منی  1100 Nord Mini ایک ورسٹائل ٹرپل کیمرہ سسٹم کے ساتھ جدید فوٹوگرافی کی دنیا کا موبائل فون ہے۔ چونسٹھ میگا پکسل  64 MP پرائمری سینسر ہے، جو غیر معمولی تفصیل کے ساتھ شاندار ہائی ریزولوشن تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ثانوی کیمرہ بارہ میگا پکسل  12MP کا ہے، جس سے آپ شاندار کلوز اپ شاٹس  حاصل کر سکتے ہیں۔ اور آپ کی تمام سیلفی کی ضروریات کے لیے، ایک بہترین سولہ میگا پکسل  16MP کا سامنے والا کیمرہ بھی ہے تاکہ آپ ویڈیو کالز میں اپنے بہترین نظر آئیں اور ان ناقابل فراموش لمحات کو کیپچر کریں۔

    جاندار بیٹری

    نوکیا 1100 اپنی بیٹری کیے طویل دورانئیےکے لیے جانا جاتا تھا، اور نوکیا نورڈ منی 1100  Nord Mini اس میراث کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک بڑی 6200mAh بیٹری کے ساتھ پیک، یہ فون پورے دن کے استعمال کو آسانی سے سنبھال سکتا ہے ۔ چاہے آپ چلتے پھرتے کاروباری پیشہ ور ہوں یا سوشل میڈیا کے شوقین ،نوکیا نورڈ منی   1100   Nord Mini اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آپ بار بار چارجنگ کی فکر سے آزاد  رہیں۔

    نوکیا نورڈ منی Nokia 1100 Nord Mini کی سرسری تفصیلات

    فیچرتفصیل
    ڈسپلے3.7 انچ ، 2 کے ریزولوشن 
    پروسیسرکوالکم سنیپ ڈریگن 650
    ریم8 جی بی
    سٹوریج256 جی بی
    بیک کیمراتین کیمرا سسٹم، 64 میگا پکسل اور  12 میگا پکسل
    بیٹری6200mAh
    آپریٹنگ سسٹماینڈرائید 13

    نوکیا نورڈ منی Nokia 1100 Nord Mini کی قیمت پاکستان میں

  • ماہی نیاں وطناں توں

    ماہی نیاں وطناں توں

    ماہی نیاں وطناں توں

    ہمارے میگزین کی پہلی بولتی تحریر یعنی یہ مضمون تحریر کے علاوہ آواز میں بھی موجود ہے جسے آپ سن بھی سکتے ہیں۔ مضمون کے آخر میں موجود ہے

    آغاجہانگیربخاری

    علاقہ چھچھ کے لوگوں میں ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ یہ لوگ مہمان نوازی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ایک روایت مشہور ہے کہ چھچھ کے کسی گاؤں میں بھیڑیا گھس آیا، لوگ اسے مارنے کے لیے دوڑے تو وہ گاؤں کے ایک حجرے میں آگیا۔ حجرے کا مالک اس وقت وہیں موجود تھا ۔ اس نے ایک برچھی لی اور دروازے پر کھڑا ہوگیا  اور لوگوں کو للکار کر کہا ” خبردار ! یہ میرا مہمان ہے، کوئی شخص اسے مارنے کے لیے آگے بڑھا تو میں اسے چیر کر رکھ دوں گا”۔

    ماہی نیاں وطناں توں

    یہ اقتباس ہے  جاوید شاہ صاحب  کی کتاب’ جو اکثر یاد آتے ہیں’ میں سے، جسے میں  نے دو ہی نشستوں میں پڑھ ڈالا اور اسے ناقابل یقین حد تک بصیرت انگیز اور متاثر کن پایا۔ جاوید شاہ  صاحب کی  اس کتاب  میں عہد گزشتہ  کی دلچسپ  داستانیں ہیں ،یہ تاریخی کہانیاں پڑھ کر خوشی ہوئی اور انہوں نے  مجھے مسحور کر دیا۔ ان کی یہ تاریخی کہانیاں 70 سال پہلے کے کرداروں کو زندہ کرتی ہیں۔  انہوں نے اپنی یادداشتوں سے جو کہانیاں ایک ساتھ بُنی ہیں  ان میں مجھ جیسے  تاریخ کے رسیا کے لیے ایک خزانہ ہے  کیونکہ میں ان داستانوں سے   اپنے  علاقے کی گم شدہ اور مانند پڑتی  ثقافتوں اور رسم و رواج کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے میں کامیاب ہوا۔ شاہ صاحب  کی کہانیوں میں لوک داستانوں اور افسانوں کے عناصر بھی شامل ہیں جو ان سب کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ ضلع اٹک بالعموم اور  علاقہ چھچھ کے  حالات و واقعات بالخصوص ان داستانوں کا حصہ ہیں۔

    جاوید شاہ صاحب  1941 ء  کو  چھچھ کے گاؤں حمید میں پیدا ہوئے۔چوتھی جماعت تک گاؤں کے اسکول میں پڑھا اور پھر ایم سی مڈل  اسکول کیمبلپور سے پانچویں پاس کی۔ پائیلٹ اسکول کیمبلپور سے میٹرک جبکہ ڈگری کالج کیمبلپور سے گریجویشن مکمل کی۔ آپ کے اساتذہ  میں  جناب اشفاق علی خانصاحب، جناب پرفیسر  سعد اللہ کلیم صاحب ، جناب شریف کنجاہی صاحب اور  جغرافیہ کے استاد جناب  ضیاء اللہ صاحب  کے نام نمایاں ہیں۔ضیاء اللہ صاحب  کی صحبت کا اثر تھا  جس نے آپ کو جغرافیہ کی طرف راغب کیا اور شاہ صاحب نے 1962 ء میں  پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے بعد آپ نے بحیثیت   پلاننگ آفیسر  محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت اختیار کی ۔ستمبر 1981 ء  کو مارشل لاء کے ایک آرڈینینس کے ذریعے محکمہ بہبود  آبادی کے ساڑھے سات ہزار  ملازمین کو بیک جنبش قلم  ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔شاہ صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ نوکری ختم ہونے پر شاہ صاحب نے  اے ایم ایف کامرہ میں ملازمت اختیار کی اور تین سال  کے بعد  محکمہ تعلیم میں  محکمانہ امتحان و طریقہ کار کے مطابق بھرتی ہوگئے۔ آپ محکمہ تعلیم سے بحییثیت ہیڈ ماسٹر  سبکدوش ہوئے۔جاوید شاہ صاحب ا نتہائی ملنسار ، ہنس مکھ ،روایت پسند اور بلا کے مہمان نواز ہیں۔   ممتاز شاعر جناب مشتاق عاجزؔ صاحب آپ کے انتہائی قریبی دوست ہیں ۔جاوید شاہ صاحب نے اس سال اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب “جو اکثر یاد آتے ہیں”  شائع کی اور    سب سے پہلے    مجھے عنایت کی۔ میری سستی اور کوتاہی ہے جو تبصرہ کرنے میں اتنی دیر کر دی ۔ 

    Javed Shah Sb
    جاوید شاہ صاحب

    یوں تو پوری کتاب ہی ایک تاریخی دستاویز ہے لیکن  میں شاہ صاحب کی کتاب میں سے چند ابواب کو یہاں  مختصر طور پر ذکر کرتا ہوں۔ جو تاریخ اور ماضی میں جھانکنے والوں کے لئے یقینا دلچسپی کا باعث ہونگے۔

    سپاہی صوبیدار نمبر 508 :   تلہ گنگ   سن  1985ء تک ضلع اٹک کی تحصیل تھا۔موضع لاوہ تحصیل تلہ       گنگ  کے ایک مجذوب سیّد شہابل شاہؒ کا روح پرور   قصہ             ۔      

    تین خوش لباس :                                                                          علاقہ چھچھ ضلع اٹک کا  خوبصورت ترین اور  تاریخی علاقہ ہے۔ اس وادی کی تین نامور تاریخی شخصیات کا تذکرہ، چھچھ کے حجروں اور تہذیب و ثقافت کا احوال        ۔

    ایک تھا راجہ  :                                                        سائیں کلوؒ سرکار  کے جانشین سیّد انور شاہؒ اور راجہ  اکرم صاحب کی پہلی ملاقات، ترک دنیا  اور  منازل سلوک کی داستان۔

    ایک مشاعرہ :                                                     موضع ٹمن  (تحصیل تلہ گنگ، جو اس وقت ضلع اٹک کا حصہ تھا) میں ہونے والے ایک مشاعرے کا احوال ،جسے    ہل چلا کر آئے ہوئےایک  کسان  شاعر نے لوٹ لیا۔

    راہ ہدایت :                                                                 سرکار برطانیہ کی پولیس کے ایک  بدتمیز، سخت گیر، بدزبان اور بد اخلاق حوالدار کا ماجرا جس کی دہشت کا یہ عالم تھا کہ لوگ خوف کے مارےراستہ چھوڑ دیتے تھے بالآخر کیسے ایک ولی کامل کے درجے تک پہنچ گیا۔

    رسُولا بدمعاش :                                                تاریخی شہر حضرو کے ایک بدمعاش رسُولا کی کتھا جو  کسی کو خاطر میں نہ لاتا جوئے باز اور ایک نمبر کا بدمعاش کیسے حاجی رسول خان بنا جس کی موت کا اعلان حضرو شہر کی ہر مسجد سے ہوا۔

    ہاں کوئی اور بھی ہے:                                                           چھچھ کے ایک نائی کا قصہ جو  مزدوری کی تلاش میں  کراچی پہنچا اور پھر انڈر ورلڈ کا ایسا ڈان بن کر ابھرا جس سے سہگل، اصفہانی جیسے سیٹھ اور  کراچی کے بڑے بڑے غنڈے خوف کھاتے تھے۔

    ماہی نیاں  وطناں توں :                                                حاجی رمضان اور رتن لال کی بیٹیوں جمیلہ ، رضیہ، ساوتری، راجکماری کی دوستی ، تقسیم کے فسادات، ہجرت اور سکھ خاندان  کا   جانے سے پہلے درو دیوار سے لپٹ کر رونے کی دردناک داستان۔

    اس کے علاوہ  انجم اور پھول، مسیحا، دو شرابی، راہ ہدایت،ولیوں کا گاؤں، دو بے نمازی ، اکاون سال گاڑی کا انتظار اور بہت سے تاریخی  چشم کشاء  واقعات و داستانیں اس کا کتاب کا حصہ ہیں۔

    جو اکثر یاد آتے ہیں

    ماضی کی یادیں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ  وہ پرانے جذبات، واقعات اور یہاں تک کہ جسمانی احساسات تک کو واپس کھینچ لاتی  ہیں۔ انہی یادوں میں  اُن بیتی خوشیوں کے حسین خواب بھی ہوتے ہیں جن میں ہم دوبارہ جا بسنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ اور یہی  یادیں  ان تلخ  تجربات اور غلطیوں کی یاددہانی بھی ہو تی ہیں جنہیں ہم بھولنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ماضی میں ایک عجیب سی کشش ہے اور رہے گی۔ ہم حال میں جیتے کم ہیں، مستقبل کو سوچتے کم ہیں لیکن ماضی کو یاد بہت کرتے ہیں۔

    یادداشتیں  لکھنا کوئی معمولی کام نہیں ہے ، اس کے لیے غور و فکر اور خود شناسی کی ضرورت ہے۔ یہ فرد کی اپنی  زندگی کی مکمل کھوج ہے، اور اس کام  کے لیے ساعاتِ وقتِ  گزشتہ کے کوہ  گراں کا لمحہ لمحہ کریدنا پڑتا ہے۔ جاوید شاہ صاحب کمال یاداشت سے ماضی کے تعاقب میں بہت دور تک گئے۔  اور ان کا ماضی کا یہ سفر ہم سب کے لئے  بہت کارآمد ثابت ہوا۔

    مجموعی طور پر، میں نے واقعی اس کتاب کا لطف اٹھایا ہے ۔ یہ کتاب ماضی کے کرداروں اور واقعات کا انتہائی  دلکش بیان ہے۔ ہر باب وقت میں واپسی کا سفر ہے جہاں میں نے خود کو پچھلی نسلوں کے جذبات کا تجربہ کرتے ہوئے پایا۔ میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے سے پہلے لوگوں کے محرکات اور تاریخ کو سمجھنے کے سفر پر تھا۔یہ ایک بہترین کتاب ہے ،  مصنف نے اپنی واضح کہانی سنانے اور تفصیلی وضاحت کے ساتھ  ماضی کی داستانوں  کو زندہ کرنے کا ایک بہترین کام کیا ہے۔ میں ان قارئین کو  جو کتابوں سے دلچسپی رکھتے ہیں بالعموم اور ضلع اٹک کے تاریخ  رسیاؤں کو  بالخصوص یہ کتاب پڑھنے کی صلاح دیتا ہوں۔ یہ ایک جذباتی سفر ہے جو کتاب کے اختتام تک پہنچنے کے بعد بھی آپ کے ساتھ رہے گا۔

    کتاب کے حصول کے لیے جاوید شاہ صاحب سے ان کے نمبر(03315708325) پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

  • وقار میں لپٹی خیرات

    وقار میں لپٹی خیرات

    وقار میں لپٹی خیرات

    خوش پوش امیر خاتون نے پوچھا “ بابا ! ایک انڈہ کتنے کا ہے ؟” ۔ پانچ روپے کا بیگم صاحبہ ، بزرگ انڈہ فروش نے جواب دیا۔ میں تو پچیس روپے کے چھ لونگی۔ دینا ہے تو تمہاری مرضی ورنہ میں جارہی ہوں۔
    بزرگ مفلس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا “ ٹھیک ہے بیگم صاحبہ آپ پچیس روپے کے لے لیں صبح سے کچھ بھی بکا نہیں کم از کم میری ایک روٹی کے پیسے تو آجائیں گے۔”

    وقار میں لپٹی خیرات


    خاتون نے پچیس روپے کے چھ انڈے لیے اور فاتحانہ انداز میں اپنی قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر چل دی۔ رستے میں ایک مہنگی ترین آئسکریم کی دکان آئی تو بیٹے نے کہا ماما ! آئسکریم کھاتے ہیں۔ دونوں نے آئسکریم کھائی۔ 1800 کا بل بنا خاتون نے 2000 ہزار نکال کر کاؤنٹر پر رکھے اور کہا Keep the change ۔
    یہ آئسکریم اور بزرگ انڈہ فروش کے لیے معمول کی بات تھی وہاں لوگ زبردستی کم کرواتے اور یہاں شان دکھانے کو ٹپ دیتے جبکہ آئسکریم والا پہلے ہی اتنی مہنگی بیچ رہا ہے کہ اسے ٹپ کی ضرورت نہیں اور بزرگ اتنا سستا بیچ رہے ہیں کہ ایک روپیہ کمی بھی اُن سے زیادتی ہے۔
    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے :
    جب ہم ضرورت مندوں سے خریدتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ طاقت اور شوکت ظاہر کیوں کرتے ہیں ؟اور ہم ان لوگوں کے لیے فیاض کیوں ہیں جنہیں ہماری سخاوت کی ضرورت بھی نہیں ہے؟
    میرے والد اکثر غریب چھابڑی اور ٹھیلے والوں سے زیادہ داموں چیزیں خریدا کرتے تھے۔ اور اکثر تو ایسا ہوتا کہ ہمیں ان چیزوں کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی اور وہ بازار سے زیادہ قیمت پر وہ اشیاء خرید لیتے۔ ایک دن میں نے اُن سے پوچھا “ ابّا! آپ بلا ضرورت اتنی مہنگی چیز کیوں لیتے ہیں ؟ جبکہ بازار سے وہ سستی بھی مل سکتی ہے اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں ۔
    اباّ نے مسکرا کر کہا “ یہ عزت و وقار میں لپٹی خیرات ہے بیٹا”۔

    میرا خیال ہے ہم سب ایسا کر سکتے ہیں۔ آئیے ایسا کر کے دکھائیں اور ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔
    وقار میں لپٹی خیرات کی ترغیب۔

    انگریزی ادب سے