Tag: سویڈن

  • سیاست کے فکشن اور حقیقی کردار 

    سیاست کے فکشن اور حقیقی کردار 

    سیاست کے فکشن اور حقیقی کردار 

    سیاست کے فکشن اور حقیقی کردار

    یہ امریکی جرائم پر کامیڈی ڈرامہ فلم ہے جو ایک امریکی باشندے فرینک اباگنیل جے آر کے حقیقی کردار کے گرد گھومتی ہے جو دراصل فرینک اباگنیل کی سیمی آٹوبائیوگرافی پر مبنی ہے جس میں مصنف دعوی کرتا ہے کہ اس نے 19 سال کی عمر کو پہنچنے تک مختلف جعلی روپ دھار کر لوگوں سے اربوں ڈالر کا فراڈ کیا تھا۔ اس میں دماغی مرض (Mental Illness) پر بھی مواد ملتا ہے۔ اس ڈرامہ فلم کے کچھ کردار پاکستانی سیاست دانوں سے ملتے جلتے ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کے لیئے نت نئے چہرے بدلتے رہتے ہیں اور "این آر او” وغیرہ لینے کے لیئے بیماریوں کے ڈرامے بھی رچاتے ہیں۔ یہ فلم یقینا دیکھنے کے قابل ہے۔

    یہ ڈرامہ فلم ایک متضاد فکشن کہانی ہے جس کا انگریزی نام "Catch Me If You Can” (مجھے پکڑ سکتے ہو تو پکڑ لو) ہے، جو 2002ء میں ریلیز کی گئی تھی لیکن اس فلم سے فراڈ اور دھوکہ دہی کے حقیقی کردار جھلکتے ہیں۔ فرینک اباگنیل فلم کا وہ کردار ہے جس نے دنیا کو دھوکہ دے کر خود کو پہچانا اور روپ بدل بدل کر کامیابیاں حاصل کیں۔ عمران خان سنہ 2018ء میں "Out of Box” وزیراعظم بنے تو ان میں اتنا غیر ضروری اعتماد آ گیا کہ وہ اس ڈرامہ فلم کا عنوان بن گئے کہ پکڑنے کی جرات ہے تو مجھے پکڑ کر دکھاؤ، اور اسی نامناسب خوداعتمادی کے پس منظر میں 9مئی ہو گیا۔ پاکستان کا کونسا بڑا سیاست دان ہے جس نے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیئے روپ نہ بدلا ہو۔ خاص کر ہمارے 

    سیاستدان سیاسی پارٹیاں بدلنے اور ریلیف لینے کے لیئے بیمار ہونے کے ماہر ہیں۔ میاں نواز شریف، آصف علی  زرداری اور صدر جنرل پرویز مشرف نے بیماریوں کے ذریعے این آر او لیا اور اب عمران خان صاحب کی رہائی یا ملک بدری کے لیئے ان کی بیماری کو سیاسی بیانیہ بنا لیا گیا۔ ان کی ایک آنکھ کی بینائی ضائع ہوئی ہے یا نہیں، ترکی نے عمران خان کو لینے کی آفر کی ہے۔ تحریک انصاف نے اس سیاسی بیانیہ پر اتنی "انویسٹمنٹ” کی ہے اور ایسی "عالمی تشہیر” کی ہے کہ اب کرکٹ کے سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل سمیت سنیل گواسکر، کپل دیو، سر کلائیو لائیڈ، ایلن بارڈر، مائیکل ایتھرٹن، ناصر حسین، مائیکل بریرلی، ڈیوڈ گاور، سٹیو وا اور جان رائٹ وغیرہ نے حکومتِ پاکستان کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ عمران خان کو میڈیکل سہولیات کی فراہمی کے لیئے ان کی رہائی کو ممکن بنایا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حراست کے دوران عمران خان کی صحت، خصوصاً بینائی میں خطرناک حد تک کمی اور گذشتہ ڈھائی برسوں میں قید کے حالات سے متعلق رپورٹس نے ہمیں گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کپتانوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کو فوری، مناسب اور مسلسل طبی امداد فراہم کی جائے، اُنہیں اپنی پسند کے مستند ماہر ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے، قید کے انسانی اور باوقار حالات یقینی بنائے جائیں، قریبی اہلِ خانہ سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دی جائے، اور قانونی کارروائی تک منصفانہ اور شفاف رسائی میں کسی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

    سیاست کے فکشن اور حقیقی کردار 

    فرینک اباگنیل ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوا تھا، مگر اس کے والدین کے درمیان بڑھتے جھگڑوں نے اس کی دنیا بدل دی۔ جب والدین میں علیحدگی ہوئی تو فرینک اندر سے ٹوٹ گیا۔ اسے لگا کہ اب اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ اسی درد نے اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ نوجوانی کی عمر تک فرینک اباگنیل نے کئی طرح کی زندگیوں کا ڈراما کیا، لیکن ان میں سے کوئی بھی حقیقت نہیں تھی۔ 1960ء کی دہائی کے آغاز میں، جب وہ ابھی ایک عام سا نوجوان تھا، اس نے جعلی چیک بنانا شروع کیئے۔ اس نے جلد ہی یہ جان لیا کہ اس وقت بینکنگ سسٹم میں کمزوریاں بہت ہیں، جنہیں آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ فرینک میں غیر معمولی خود اعتمادی، دلکش انداز اور جھوٹ بولنے کی کمال صلاحیت تھی۔ ہمارے سیاست دان بھی کمال مہارت سے سیاسی جھوٹ بولتے ہیں اور اس کی اتنی ایڈورٹائزمنٹ کرتے ہیں کہ وہ عوام کو سچ محسوس ہونے لگتا ہے۔ جس طرح فرینک جعلی شناخت کے ذریعے لوگوں کو یقین دلانے میں ماہر ہو گیا تھا کچھ ہی عرصے میں اس نے خود کو پین ایم ایئر لائن کا پائلٹ ظاہر کیا، جعلی یونیفارم، جھوٹے شناختی کارڈ اور فرضی ریکارڈز کے ذریعے اس نے دنیا بھر میں مفت سفر کیا، مہنگے ہوٹلوں میں ٹھہرتا رہا، اعلیٰ طبقے میں گھومتا اور کسی کو شک تک نہ ہوتا کہ یہ سب کچھ ایک ڈرامہ اور فریب تھا، اسی طرح ہمارے بڑے سیاستدانوں نے بھی ملک کو لوٹ کر اور جعل سازی کے ذریعے  مغربی ممالک میں جائیدادیں بنائی ہیں اور ملک کے اندر اور باہر ایک پرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔ فرینک نے اس کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ وہ امریکی ریاست جارجیا میں بچوں کے ڈاکٹر کے طور پر ایک اسپتال میں کام کرتا رہا تھا، حالانکہ اس کے پاس میڈیکل کی کوئی ڈگری نہیں تھی۔ ہمارے کچھ سیاست دان پڑھے لکھے ہونے کے باوجود اپنے کردار اور سیاسی اصولوں کی کوئی ڈگری نہیں رکھتے ہیں۔ فرینک نے ایک اور حیران کن کام کیا کہ صرف چند ہفتوں کی پڑھائی کے بعد اس نے لوزیانا بار کا امتحان پاس کر لیا تھا اور کچھ عرصہ کے لیئے ایک وکیل کے طور پر بھی کام کرتا رہا تھا۔ فرینک کے مطابق، اس نے دنیا کے 26 ممالک میں جعلی چیک کی مدد سے لاکھوں ڈالر کی رقم حاصل کی۔ آخرکار قسمت نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب وہ 21 سال کا تھا تو فرانس میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس نے فرانس اور سویڈن کی جیلوں میں قید کاٹی، اس کے بعد اسے امریکہ واپس بھیج دیا گیا۔

    اس فلم کی انتہائی دلچسپ اور سبق آموز بات یہ ہے کہ امریکہ میں اس کے ساتھ حکومت نے ایک غیر معمولی معاہدہ کیا، اسے طویل قید کی سزا دینے کے بجائے، حکام نے اس سے کہا کہ وہ اپنے تجربے کو استعمال کرتے ہوئے حکومت اور بینکوں کو یہ راز سکھائے کہ فراڈ کیسے ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ فرینک اس کام کا ماہر تھا، جعلی چیک معلوم کرنا اس کے لیئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ فرینک اباگنیل اس طرح ایک مجرم سے ماہر بن گیا، بعد میں اس نے بطور سیکیورٹی کنسلٹنٹ اور موٹیویشنل اسپیکر کا کام شروع کر دیا اور دنیا بھر کے بینکوں اور سرکاری اداروں کو فراڈ سے بچاؤ کے طریقے سکھانے لگا۔

    ہمارے یہ بڑے سیاست دان بھی بارہا جیلوں میں جانے کے بعد مقتدرہ کی چھتری میں آ جاتے ہیں اور پھر پاک دامنی کے سرٹیفیکیٹس حاصل کر لیتے ہیں۔ اس فلم کی یہ حیرت انگیز کہانی اس بات کی مثال ہے کہ ذہانت اگر غلط راستے پر چلی جائے تو تباہی کا سبب بن سکتی ہے، مگر اسی ذہانت کو درست سمت مل جائے تو وہی انسان دوسروں کے لیئے روشنی کا مینار بن جاتا ہے۔ اہل وطن جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری کا بدنام زمانہ نام "مسٹر ٹین پرسنٹ” تھا، ان کی خدمت قید کے دوران بھی ملک کی معروف اداکارائیں اور ماڈلز کیا کرتی تھیں اور میاں محمد نواز شریف بھی "پلیٹ لیٹس” ڈلوانے کی بجائے کپتان سے چھٹی والے دن این آر او لے کر لندن گئے تھے۔ اگر ماضی میں زرداری اور شریف خاندان کو این آر او ملتا رہا ہے تو اب جس زور شور سے عمران خان کی بیماری کی تشہیر کی جا رہی ہے، عنقریب یہ سہولت ان کو بھی ملنے والی ہے۔

    ہماری قومی سیاست تیزی سے اب اس فلمی کردار کے منطقی نتیجے کی طرف بڑھ رہی یے جس کا روپ فرینک اباگنیل نے دھارا تھا۔ کبھی عمران خان پلے بوائے ہوا کرتے تھے اور ان کی بولنگ اور بیٹنگ کو برطانوی شہزادیاں ٹی وی کے ساتھ چپک کر دیکھا کرتی تھیں۔ ان پر  ٹیرئین کی ناجائز اولاد کا الزام بھی لگا لیکن کپتان نے بعد میں فرینک اباگنیل کا مثبت روپ دھار لیا، پاکستان میں کپتان  تبدیلی کی علامت بن گئے اور "ریاست مدینہ” کا فلاحی تصور پیش کیا لیکن اس کے مخالفین کو ان کا یہ روپ پسند نہیں آیا، اب عمران خان جیل میں ہیں اور حتمی نتیجہ آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جس کا نام عمران خان ہے وہ اس فلمی کردار سے زیادہ طاقتور ہے۔ آنے والے پاکستان کی سیاسی تاریخ کپتان پر ایسی حقیقی فلم بنائے گی کہ دوسرے سارے فکشن کردار حیران و ششدر رہ جائیں گے۔

  • قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    Dubai Naama

قرآن پاک کی بے حرمتی اور جرم ضعیفی کی سزا

    سوئیڈن میں قرآن پاک کو عید الاضحٰی کے موقع پر جلانے کا واقعہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہر طرف سے حسب توقع مذمتی بیانات آ رہے ہیں، جلسے جلوس نکالے جا رہے ہیں اور سوئیڈن کے سفیروں کو طلب کر کے اس واقعہ کی سرکاری سطح پر مزمت کی جا رہی ہے۔ اس دفعہ احتجاج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

    قرآن پاک کی سوئیڈن میں چھ ماہ کے اندر بے حرمتی کا یہ دوسرا واقعہ ہے جس کی عالم اسلام ہی نہیں مغربی دنیا میں بھی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔اس بار سوئیڈن کی عدلیہ اور حکومت نے قرآن کریم کو جلانے والے نامراد شخص کو سیکورٹی بھی فراہم کی۔ گہری نظر سے دیکھا جائے تو جس طرح سوئیڈن حکومت نے عدلیہ کے کندھے پر اس واقعہ کی سرپرستی کرنے کی حماقت کی، اس کی مثال پہلے کبھی قائم نہیں ہو سکی تھی۔ گو کہ اس سے قبل 2015 میں خاکے دکھانے کے چارلی ایبڈو کے سیرئیل واقعات کے پیش آنے میں بھی فرانسیسی  حکومت نے حوصلہ افزائی کی تھی مگر سوئیڈن عدالت نے اس تاریخ ساز واقعہ کی ہزیمت اٹھانے اور انسانیت میں نفرت کو قانونی شکل دینے میں جو ریکارڈ قائم کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

    یہ واقعہ تعصب انگیز اور متعصبانہ کارروائی ہے جو مذہبی رواداری، باہمی احترام اور تہذیب و شائستگی کی اعلیٰ انسانی اقدار کے سراسر منافی ہے۔57مسلم ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے علاوہ یورپی یونین نے بھی دنیا کے ڈھائی ارب مسلمانوں اور ہر شائستہ اور مہذب انسان کی دل آزاری پر مبنی اس اشتعال انگیر کارروائی کی سخت الفاظ میں سرزنش کی ہے۔ جبکہ او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے۔

    اس واقعے کے تقریباً دو سو عینی شاہدین کے مطابق اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر دو مظاہرین نے قرآن کے نسخے کو پھاڑ دیا اور مقدس اوراق کی بے حرمتی کرنے کے بعد انہیں نذر آتش کیا۔ مظاہرے سے قبل واقعے میں ملوث شخص ملعون سلوان مومیکا نے ایک امریکی نیوز چینل کو بتایا کہ وہ کسی مذہب کو نہیں مانتا، وہ یہ مظاہرہ عدالت میں تین ماہ کی قانونی جنگ جیتنے کے بعد کر رہا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ قرآن پر پابندی لگائی جائے۔ واضح رہے کہ سوئیڈن کی پولیس نے مسلم مخالف مظاہروں کی اجازت کی کئی درخواستیں خارج کر دی تھیں! مسجد کے ڈائریکٹر اور امام محمود خلفی نے انکشاف کیا کہ مسجد انتظامیہ نے پولیس سے درخواست کی تھی کہ وہ کم از کم مظاہرے کو کسی دوسری جگہ منتقل کر دیں جو قانون کے مطابق ممکن تھا مگر یہ درخواست قبول نہیں کی گئی تھی۔

    یہ خاص واقعہ محض قرآن پاک کو جلا کر اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کے اظہار کا واقعہ ہی نہیں ہے بلکہ عالمی امن اور بھائی چارے کے داعی دنیا بھر کے اعتدال پسند حلقوں کے جذبات اور برداشت کی پیمائش کرنے کے لئے اس واقعہ کو ایک "لٹمس ٹیسٹ” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ دنیا میں یہ واقعہ انسانیت کے خلاف دہرے معیار اور منافقت کا منہ بولتا ثبوت یے یعنی سوئیڈن کی عدالت نے ایک ایسا فیصلہ دیا کہ دوسرے  انسانوں کے حساس اور مذہبی جذبات کو بھڑکانے، ان میں دوسروں کے خلاف نفرت اور دشمنی پھیلانے کی اب قانونی اجازت ہے۔ ظاہر ہے کہ آئندہ اس کیس کو دوسری عدالتیں بھی سماعت کے دوران کوئی نیا فیصلہ دینے کے لئے ایک مثال کے طور پر پیش کر سکتی ہیں۔

    یہ واقعہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کو جلانے سے زیادہ انسانی معاشرے میں انصاف، رواداری اور امن و سکون قائم کرنے کے خلاف اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہی نہیں، بلکہ اس واقعہ نے مسلمانوں کے  اسلامی تشخص اور کردار کی بھی قلعی کھول دی ہے کہ اب دنیا بھر کے مسلمان اور حکومتیں احتجاج کرنے سے آگے بڑھنے کی طاقت مکمل طور پر کھو چکی ہیں۔ جب مسلمانوں کو عروج حاصل تھا تو جرمنی کے فلسفی اور شاعر گوئٹے نے اپنی ایک منظوم نظم میں اسلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا جس کا مفہوم ہے کہ

     جہاں سے مسلمانوں کا قافلہ گزرتا ہے انسان تو انسان وہاں کے صحرا و ریگستان بھی بول اٹھتے ہیں کہ اے سوئے خدا کو جانے والو ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلو۔

    گوئٹے

    آج مسلمان مرگ مفاجات کی اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں کے دل میں صلیبی جنگوں اور دو عالمی جنگوں کی طرز کا احساس برتری پیدا ہو گیا ہے اور جو اب مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کے لئے بھی ایک نفسیاتی عارضہ بننے کے لئے تیار ہے۔

    مسلمانوں سے نفرت اور دشمنی کی نفسیات کو سمجھنے کے لئے یہی کافی ہے کہ یورپ میں قرآن پاک کا ترجمہ بارہویں صدی میں لاطینی زبان میں کرانے کا بنیادی محرک مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن پاک کے خلاف لٹریچر پیدا کرنا تھا جو صرف قلمی نسخوں پر مبنی تھا، جو یورپ میں ایک عرصہ تک رائج رہا جو مکمل ترجمہ بھی نہیں تھا بلکہ چند مضامین کا خلاصہ تھا۔ یہ ترجمہ عام طور پر دستیاب نہیں تھا اور اس کے نسخے کا زیادہ تر حصہ ان لوگوں کی تحویل میں تھا جو اسلام کی مخالفت اور دشمنی میں پیش پیش تھے۔ یہ ایک تاریخ ہے جس میں مارٹن لوتھر کنگ نے بھی حصہ ڈالا تھا کہ قرآن کے اس ترجمے ہی کو دنیا میں رائج کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سے کبھی کبھی یہ خبریں بھی آتی رہتی ہیں کہ امریکہ سے قرآن پاک کے "مخصوص نسخے” تیار کر کے دنیا بھر میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔

    سوئیڈن کے واقعہ کے بعد مسلمانوں کے لئے یہ ایک ایسا چیلنج ہے کہ اب امہ کو احتجاج کا انداز بدلنے کی ضرورت ہے۔

    سوئیڈن میں قرآن جلانے کے حالیہ واقعے کے دعوت اسلام کی مناسبت سے ایک بھرپور اور دور رس حکمت عملی یہ ہے کہ ہماری اکثریت جس مار دو، گرا دو، سفیر کو نکال دو یا بائیکاٹ کر دو والے جذباتی بیانیےمیں مبتلا ہے اب اس سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ عین اسلام صرف گفتار کا نہیں بلکہ کردار کا اسلام  ہے، کیونکہ قرون اولی کی ایسی زبردست مثالیں بھی ہیں، جن سے بوجوہ ہم نے سبق  سیکھنے کی بجائے متشددانہ رویوں کو ہی اسلام سمجھ لیا ہے. ضرورت ہے کہ آزادی رائے پر مبنی مغرب کے ایسے مذہب دشمن اور معاندانہ رویوں کے خلاف ہمارے اہل فکر علماء آگے آ کر مناسب حکمت عملی طے کریں اور ایک حکیمانہ انداز میں جواب دیں۔

    بقولے شخصے، "سوئیڈن کی نیشنیلٹی چھوڑنا قرآن سوزی کا جواب نہیں ہے۔” یہ واقعہ ہے کہ جب معاذ بن جبل ایک نوجوان کے طور پر مدینہ سے یمن گئے تھے، اور جب وہ کچھ عرصہ بعد واپس مدینہ آیا تھا تو یمن میں ایک متنفس بھی غیر مسلم نہیں تھا. اسی طرح اسلام کے آغاز میں جب نجاشی کے دربار میں حضرت  جعفر بن طیار رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریر کی تھی تو نجاشی کے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ پیدا ہو گیا تھا۔ حتی کہ برصغیر میں صوفیائے کرم کے اخلاق، عدم تشدد اور رواداری پر مبنی اعلی اور مثالی اوصاف کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ چہ جایکہ دنیا کی کوئی بھی کمزور قوم سیاسی اور معاشی طاقت حاصل کیئے بغیر زوال اور غلامی سے نہیں نکل سکتی۔

    خدا اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت کو بدلنے کی خود کوشش نہیں کرتی (مفہوم القرآن)۔

  • مقدسات و شعائر اسلام کا احترام کیا جائے

    مقدسات و شعائر اسلام کا احترام کیا جائے

    مقدسات و شعائر اسلام کا احترام کیا جائے,مغرب آزادی اظہار کے نام پر مقدسات و شعائر اسلام کی توہین کا سلسلہ بند کرے

    اٹک ( خصوصی رپورٹ) سویڈن حکومت کی سر پرستی میں قرآن کریم کی بے حرمتی کی ناپاک جسارت انتہائی قابل مذمت ھے آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ایگزیکٹو باڈی ضلع اٹک کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت ضلعی صدر احمد خان منعقد ھواء جس میں سویڈن میں قرآن کریم کے نسخوں کی بے حرمتی پر شدید احتجاج کیا گیا اجلاس میں ایک قرار داد کے زریعے اقوام عالم سے مطالبہ کیا گیا کہ اس واقعہ سے دنیا بھر کے دو ارب مسلمانوں کے دل چھلنی ھوئے ہیں اور انہیں شدید رنج پہنچا ھے مغرب آزادی اظہار کے نام پر مقدسات و شعائر اسلام کی توہین کا سلسلہ بند کرے اجلاس میں اپیکا کے عہداداران ملک رفعت حیات ڈاکٹر محمد طفیل عبدالستار مدثر خان اسد علی فیاض احمد ڈاکٹر طفیل خان محمد اقبال خان میاں محمد شکیل چوھدری رحمت علی سراج بیگ خالد محمود ڈاکٹر شجاع اختر اعوان و دیگر نے شرکت کی

    مقدسات و شعائر اسلام کا احترام کیا جائے