Tag: روایت

  • عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    تجزیہ کار                راحت امیر نیازی

    اردو کی نظمِ معرّیٰ  جسے انگریزی میں بلینک ورس کہتے ایسی نظم ہوتی ہےجو قافیہ اور ردیف کی قید سے  آزاد ہو، لیکن بحر اور وزن کی پابند ہو۔ یہ آزاد نظم سے اس اعتبار سے مختلف ہے کہ اس میں عروضی وزن برقرار رہتا ہے۔

    اگر اس کے آغاز و ارتقا اور روایت کی بات کی جائے تو نظمِ معرّیٰ مغربی ادب ،بہ طور ِ خاص انگریزی ادب سے آئی۔ انگریزی میں اس کی بنیاد سولہویں صدی میں پڑی، جبکہ ہنری ہاورڈ  کو انگریزی نظمِ معرّیٰ کا اولین شاعر مانا جاتا ہے۔ بعد ازاں شیکسپیئر اور جان ملٹن نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔

    اردو میں نظمِ معرّیٰ کا آغاز بیسویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ مغربی ادب کے اثرات اور جدید شعری رجحانات نے اردو شعرا کو قافیہ و ردیف کی پابندی سے ہٹ کر اظہار کی نئی راہیں تلاش کرنے پر آمادہ کیا۔

    ابتدائی دور میں مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے جدید نظم کی فضا ہموار کی، جب کہ باقاعدہ نظمِ معرّیٰ کو فروغ دینے والوں میں ن.م. راشد اور میراجی کا نام نمایاں ہے۔ بعد میں مجید امجد، اخترالایمان، وزیر آغا، منیر نیازی اور دیگر جدید شعرا نے اس صنف کو مزید وسعت دی۔اس نئے تجربے کو شعرا نے سراہا بھی اور قبول بھی کیا۔جس سے نظم کے دامن میں جدت بھی آئی اور وسعت بھی۔

    رفتہ رفتہ نظمِ معرّیٰ اردو شاعری کی ایک اہم صنف بن گئی۔ اس کے ذریعے شاعر نے:

    فکری گہرائی اور فلسفیانہ موضوعات کو بہتر انداز میں پیش کیا۔ سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسائل کو زیادہ آزادی سے بیان کیا۔

    روایتی قافیہ و ردیف کی پابندی سے نکل کر اظہار کے نئے اسالیب اختیار کیے، مگر عروضی وزن برقرار رکھا۔

    نظمِ معرّیٰ اردو شاعری کی ایک اہم جدید صنف ہونے کے باعث  روایت اور جدت کے درمیان توازن قائم ہوا۔ اس نے شاعروں کو اظہار کی نئی جہتیں عطا کیں اور جدید اردو نظم کے ارتقا میں نمایاں کردار ادا کیا۔

                اس جدید سلسلے کی ایک کڑی عاصم بخاری بھی ہے۔جس نے نظم معریٰ کو صرف اپنایا ہی نہیں کمال قدرت سے نبھایا بھی ہے۔

    عاصم بخاری کی شاعری کے موضوعات منفرد اور اپنے ہیں۔وہ فطرت سے زیادہ متاثر ہیں۔اور سبھی کو اس سے لطف اندوز ہونے اور فنا  و بے ثباتی کی تعلیم دیتے  نظر آتے ہیں۔ہیں۔ایک معریٰ نظم ملاحظہ ہو

    کچے رستے

    اک ضرورت تھے روڈ بھی مانا

    کچے رستوں کا لطف اپنا تھا

    درس عاصم فنا کا دیتےتھے

    کچے رستوں کا لطف اپنا تھا

    عاصم بخاری کی نظم معریٰ

    اگرچہ خوش اخلاقی اور خندہ پیشانی سے ملنے کی تاکید کی گئی ہے۔ لیکن شاعر مشاہدہ اور مشاہدہ تلخ محسوس ہوتا ہے۔اگر چہ وہ اس بات کے معترف بھی ہیں کہ احسن عمل ہے مگر ہمارے سماج میں ہنس کے ملنا اور گھلنا ملناکبھی کبھی مہنگا بھی پڑتا ہے۔نظم معریٰ

    ہزار

    ہنس کے ملنا بھی چاہیے لیکن

    ہنس کے ملنے میں بھی بخاری جی

    مسئلے  تو  ہزار ،  ہوتے  ہیں

    عاصم بخاری کا موضوع موسم اور نظارے بھی رہے ۔بخاری صاحب موسموں پر بات کرتے ہوئے دُھند  کو علامتی انداز میں اپنی اس نظم کو برت رہے ہیں۔

    دھند (فوگ)

    آنے والا  بخاری وہ موسم

    چھانے والا ہے ہر سُو وہ موسم

    جس میں سردی سے کانپنا ہوگا

    جسم  کوٹوں سے ڈھانپنا ہو گا

    جس میں عاصم دکھائی مت دے گا

    جس میں کچھ بھی سجھائی مت دے گا

    لوگ محصور جس میں ہوں گے سب

    سرد موسم  ہی حکمراں ہوگا

    چین گھر میں کسے کہاں ہو گا

    دن بدن بڑھتی جائے گی سردی

    یہ الگ بات اپنے گھر ہوں گے

    ایک دوجے سے بے خبر ہوں گے

    جلد بارش خدایا دے دینا

    ٹل وبا جائے جس سے یہ فوگی

    عرض کرتے ہیں پیش تر روگی

            عاصم بخاری کے ہاں مٹتی قدروں  اور انسانی رویوں کی حیران کن اور تشویش ناک تصویر کشی بھی اپنے کمال پر نظر آتی ہے۔ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنا سب کچھ اولاد پر لُٹا دیا۔ اس اولاد کا ماں باپ کے ساتھ رویہ ملاحظہ ہو

     دفن کر دینا

    ٹکٹیں  کنفرم اپنی "لندن” کی

    وقت "پرواز” کا بھی ہونے کو

    "بیوی بچے” ہیں بیٹھے گاڑی میں

    جانے کی بھی جنہیں بہت "جلدی”

    "دامن ِ وقت” میں نہ گنجائش

    جلد ، "مَیَّت وصول” ، کر لیجو

    "باپ” میرے کو "دفن”، کر دینا

    فون کرتے ہوئے بخاری جی

    ایک "بیٹے” نے بولا "ایدھی” کو

    دہشت بربریت اور خوف کی فضا دل و دماغ پر حاوی ہے۔عدم۔تحفظ اور غیر یقینی کے سائے ہیں۔ ماں باپ کے تفکرات و خدشات کی ترجمانی ایک نظم معریٰ میں کچھ یوں کرتے ہیں

    (دھماکے)

    آئی آواز ہے دھماکے کی

    بیٹا مسجد گیا تھا جمعہ کو

    خیر سے شالا لوٹ کر آئے

    امن و امان کی صورت یہ ہے کہ خدا کے گھر خدا کی نماز پڑھنے جاتے ہوئے بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ شال بیٹا خیر سے واپس آۓ۔

    ماں

    حافظُ ، اَلحفیظ ، پڑھ  کے  ہی

    "جمعہ” پڑھنے کے واسطے یارب

    بھیج بیٹا رہی ، ہوں "مسجد” میں

              ۔

    بے رحمی اور سنگ دلی کا یہ عالم ہے کہ بچوں پر بھی ترس نہیں کھایا جاتا۔انہیں بھی خدا کے گھر اور حالت ِ نماز میں مار دیا جاتا ہے۔اور پوچھا تک نہیں جاتا۔

     بچے

    کل دھماکے میں ایک مسجد میں

    دُکھ ہے مارے جواں گئے لیکن

    موت تڑپا گئی ، ہے "بچے” کی

      ہم مسلمان ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر مانتے ہیں۔خوفِ خدا نہیں مگر کتنے افسوس اور شرم کی بات ہے کہ کیمرے کی آنکھ سے ڈرتے ہیں۔تقابلی نظم معریٰ دیکھیں

    ڈر

    پہلے ڈرتے تھے کیمرے سے سب

    آج کل سی سی ڈی سے ڈرتے ہیں

    رب سے اب بھی مگر نہیں ڈرتے

           معاشرتی رویوں اور طرز ِ عمل پر عاصم بخاری کی کڑی نگاہ ہے۔رشوت چوری ڈاکا  سینہ زوری اور بھتہ خوری کے حوالے سے وہ گدھ پرندے کی مثال خوب صورتی سے پیش کرتے ہیں۔

     حرام خوری

    گدھ کی فطرت ہے یہ بخاری جی

    اُلٹی کثرت سے اسکو آتی ہے

    پیٹ گدھ کا کبھی نہیں بھرتا

    ہضم ہوتا نہیں حرام ایسے

    ہاں سبق  اس میں  ایک پوشیدہ

    کھاتے ہیں جو حرام کثرت سے

    عقل والوں کے واسطے عاصم

    یہ اشارا ہے کوئی سمجھے تو

     عمرے کو وہ ہوا روانہ جب

             عاصم بخاری نظمی موضوع بامقصد ہے اظہار کاقالب دل چسپ ہے۔وہ عبادات اور اعمال کے حوالے سے فکری و فلسفیانہ انداز ِ فکر اپناتے ہوئے لوگوں کے کام آنے کیدعوتدیتے ہیں کہ یہی عمرہ کرنےکی عملی تعلیمات ہیں ۔

    نظم ملاحظہ ہو۔

    بارے سیلاب کے بتاؤں کیا

    بیش تر ساتھ لے گیا پانی

    کیا مناظر دکھاؤں میں تجھ کو

    ساری بربادی سامنے تیرے

    الاماں الاماں  قیامت  ہے

    حافظ و الحفیظ کے نعرے

    بچنے والے تھے بھوکے پیاسے سب

    جن میں بیمار بوڑھے لاغر بھی

    عورتیں جن میں چھوٹے بچے بھی

    حال بے حال تھے پڑوسی بھی

    مرنے والے تھے سب قریبی ہی

    لاشے بھی جن کے مل نہ پائے تھے

         کچھ بچا تھا نہ رشتہ داروں کا

    ” عمرے "کو وہ ہوا ، روانہ جب

    گاؤں ڈوبا ہوا تھا پانی میں

         عاصم بخاری نیچری ہیں فطرت پرست ہیں ۔قدرتی مناظر انہیں اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔اور پھریہ اپنی محسوسات کا قلمی و شعری اظہار بھی برملا کرتے ہیں۔حمد کاپیرائیہ  کیا خوب صورت انداز میں نبھایا ہے۔

    حمدیہ نظم

    شکر شہری بھی ہیں بچا لاتے

    شہری بھی  شکر ہیں بجا لاتے

    حمد ربی کا لطف گاؤں  میں

    رات کو جلد سب کا سو جانا

    خواب راحت میں اور کھو جانا

    سنتے آذان فجر کی سب کا

    جاگنا  رخ وہ کرنا  مسجد کا

    باجماعت نماز کا پڑھنا

    چہچہانا درخت پر چڑیاں

    روح پرور  بخاری وہ  گھڑیاں

    سینوں سے وہ لگا کے قرآں کا

    بچوں کا مسجدوں کا رخ کرنا

    بچیوں کے وہ سر پہ دوپٹہ

    پڑھنا قرآن وہ  مساجد میں

    اونچی آواز میں وہ بچوں کا

    دل کو بھاتا ہے دل کو بھاتا ہے

    وہ پرندوں کا اپنی بولی میں

    شکر  پروردگار کا کرنا

    شوق سجدہ میں جھومنا سبزہ

    سجدہ شکر میں سبھی فطرث

    حمد ربی کا لطف گاؤں میں

    عاصم بخاری کے موضوعات و عنوانات کا اپنا دائرہ اور زاویہ ہے۔ان کے موضوعات میں ایک اہم موضوع بزرگان اور والدین بھی ہیں۔ یہ ایسے موضوعات ہیں جنکی طرف ہماری توجہہی نہیں ہوتی ۔اس معاشرتی سماجی اور اخلاقی رویے کے کرب کو یوں بیان کرتے ہیں۔ نظم دیکھیں

      ۔

     کم سے کم جیتے جی مرے بیٹو

    کم سے کم جیتے جی مرے بیٹو

    مجھ کو اک ساتھ ہی نظر آ ؤ

    گھر میں دیواریں تو اٹھاؤ مت

    ہوں چراغ ۔ سحر  تمہیں  یہ علم

    ماں کو تو پہلے لے یہ ڈوبا غم

    اتنی جلدی کی کیا ضرورت ہے

    ٹوکنے والا صرف میں ہی تھا

    روکنے والا کون ہے تم کو

    بعد میں جی میں آ ئے جو کرنا

    دکھ بڑا میں یہ سہہ نہ پاؤں گا

    دست بستہ یہی گزارش ہے

    موت اپنی ہی مجھ کو مرنے دو

    قبر میں تو مجھے اترنے دو

           عاصم بخاری کے ہاں ہمیں جہاں جدید اصناف ِ نظم کا برتاؤ ملت ہے وہاں موضوعات کا اچھوتا پن اور مقامیت و مشرقیت کی خوشبو بھی محسوس ہوتی ہے۔ قافیہ ردیف کی قید سے آزاد ہوکر انکے ہاں فطرت اور دیہات نگاری کی بہترین مرقع نگاری ملتی ہیے۔ایک نظم بے فکری دیکھیں۔

    بے فکری

    گاؤں میں اک ، چھپر ہوتا

    جس کے سائے ہر اک سوتا

    کیا گورے کیا ، عاصم کالے

    مل کے رہتے سب گھر والے

    مرکز  قائم  ،  رکھا  جاتا

    ایسی تو بے خبری ، کب تھی

    رشتوں کی نا قدری کب تھیں

    سب کو سمجھایا جاتا تھا

    مل کے ہی ، کھایا جاتا تھا

    بجلی  پنکھے  کولر   کب  تھے

    اےسی ڈی سی سولر کب تھے

    کیسے  ڈاکے ،  کیسی  چوری

    دولت کم تھی بے فکری تھی

                   ***

    Title Photo by bernahanım

  • اداس موسم، گہری کہانیاں

    اداس موسم، گہری کہانیاں

    اداس موسم، گہری کہانیاں

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار

    اختصاریہ نثر کی ایک ایسی مختصر اور بامعنی صنف ہے جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو، سماجی رویے، انسانی المیے یا فکری تضاد کو نہایت کم الفاظ میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ پوری تحریر ایک وحدتِ تاثر قائم رکھے۔ اس میں غیر ضروری تفصیل، کرداروں کی کثرت یا واقعاتی پھیلاؤ کی بجائے اشاریت، علامت، اور معنوی گہرائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ہم کہ سکتے ہیں کہ:”اختصاریہ نثر کی ایک مختصر مگر گہری اور علامتی صنف ہے جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو یا خیال کو نہایت اختصار، اشاریت اور فکری شدت کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ کم وقت میں پڑھا جا سکے اور افسانے کی طرح قاری پر بھرپور اور دیرپا وحدتِ تاثر قائم کرے۔ اختصاریے کا اختتام عموماً چونکا دینے والا یا فکر انگیز ہوتا ہے۔”

    اس تعریف کی روشنی میں جب ہم شوکت اقبال کے اختصاریوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اختصاریے اردو ادب میں ایک اہم اور بامعنی تجربے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف اختصار اور اثر آفرینی کا حسین امتزاج ہیں بلکہ عصرِ حاضر کے سماجی، فکری اور اخلاقی مسائل کی نہایت گہرائی سےعکاسی بھی کرتے ہیں۔ شوکت اقبال کے اختصاریوں کا یہ مجموعہ "اداس موسم میں ملاقات” اردو ادب میں اس صنف کے حوالے سے اوّلیت کا حامل  ہے۔ اس مجموعے نے اس نئی صنف کو باقاعدہ ادبی شناخت عطا کی۔

    اختصاریہ اپنی ساخت کے اعتبار سے مختصر ضرور ہے مگر بہ لحاظ معنویت نہایت وسیع اور تِہ دار ہوتا ہے۔ شوکت اقبال کے اختصاریوں میں یہ خوبی نمایاں ہے کہ وہ ایک لمحے، ایک منظر یا ایک مکالمے کے ذریعے سے پورے معاشرے کی تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ مثلاً "تفریق و تقسیم” میں زندگی کو ریاضی کے استعارے میں پیش کیا گیا ہے:

    "جمع بھی محض لفظی اور وقتی تسکین تھی ، عملاً وصولی کے فوراً بعد تقسیم وتفریق کا دفتر کھل جاتا”

    یہ اقتباس انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خوشیاں عارضی اور دکھ مستقل ہو جاتے ہیں۔ یہاں ریاضی کی اصطلاحات علامتی انداز میں استعمال ہو کر زندگی کی بے معنویت اور مسلسل کٹاؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔

    اداس موسم، گہری کہانیاں

    شوکت اقبال کے اختصاریوں کا ایک اہم پہلو ان کا سماجی اور سیاسی شعور ہے۔ "غدار” ایک نہایت مختصر مگر گہرا طنزیہ اختصاریہ ہے:

    "میرے خیال میں انھیں ان کے حقوق ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کون غدار ہے”

    یہاں اختلافِ رائے کو غداری قرار دینے کی روش پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ محض ایک جملے کے ذریعے سے پورے سیاسی بیانیے کی منافقت بے نِقاب کر دی گئی ہے۔ اسی طرح "راستہ” میں استحصال اور چالاکی کو نہایت سادہ مکالمے کی صورت میں پیش کیا گیاہے:

    "زمین نہیں دیں گے تو گزریں گے کہاں سے ؟”

    یہ جملہ طاقت اور وسائل کے ناجائز استعمال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔

    شوکت اقبال کے اختصاریوں میں جذباتی گہرائی بھی نمایاں ہے۔ "افسردہ ستارے” میں ایک ادبی شخصیت کے بچھڑنے کا کرب یوں بیان ہوا:

    "مگر میرا ستارہ ، میرا ‘افتخار’ نہیں پلٹا”

    یہاں "ستارہ” ایک علامت ہے جو نہ صرف ایک فرد بلکہ ایک عہد کے اختتام کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح "دھندلا منظر” میں محبت اور جدائی کا احساس نہایت لطیف انداز میں ابھرتا ہے:

    "روح سے اُٹھتا دھواں آنسوؤں کی صورت لفظوں میں ڈھلتا ہے”

    یہ اقتباس داخلی کرب کو تصویری انداز میں پیش کرتا ہے، جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔

    "تہوار” ایک نہایت مؤثر اختصاریہ ہے جو طبقاتی فرق کو اجاگر کرتا ہے:

    "جن کے پیٹ روٹی کی فکر سے آزاد ہوں ان کے لیے یہ برفانی طوفان بھی تہوار کی طرح ہے”

    یہ جملہ پورے معاشی نظام پر ایک گہرا تبصرہ ہے جہاں ایک طبقہ مشکلات میں بھی خوشی تلاش کر لیتا ہے جب کہ دوسرا بنیادی ضروریات سے محروم رہتا ہے۔

    "قاتلوا” اور "میرے ہم نام قاتل” میں احتجاجی لہجہ نمایاں ہے۔ خاص طور پر یہ اقتباس:

    "میں جنھیں اپنا سمجھ بیٹھا تھا”

    اپنوں کی بے وفائی اور داخلی انتشار کو نہایت دردناک انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ اختصاریے قاری کو صرف متاثر نہیں کرتے بلکہ اسے سوچنے اور سوال اٹھانے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔

    "گھاس خور” ایک مختصر مگر برجستہ طنز ہے:

    "جو ان اشیائےخورونوش کو حقیر جانے وہ کیا کھاتا ہو گا ؟ ‘گھاس’”

    یہاں سادہ مکالمے کے ذریعے سے تکبر اور طبقاتی برتری کے احساس کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شوکت اقبال کے اختصاریے اختصار میں جامعیت، وحدتِ تاثر، علامت اور استعارے کے مؤثر استعمال اور گہرے سماجی و فکری شعور کے حامل ہیں۔ یہ تحریریں محض کہانیاں نہیں بلکہ عہدِ حاضر کا آئینہ ہیں جن میں انسانی جذبات، معاشرتی ناہم واری اور فکری تضادات نہایت خوب صورتی سے سمٹ آئے ہیں۔

    شوکت اقبال کا یہ تجربہ اس لحاظ سے نہایت کامیاب ہے کہ انھوں نے ایک مختصر صنف میں بڑے اور گہرے موضوعات کو سمو دیا ہے اور "اداس موسم میں ملاقات” جیسے مجموعے کی صورت اسے ادبی روایت کا حصہ بنا دیا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں وقت کی قلت ہے وہاں ایسی تحریریں نہ صرف قاری کی ادبی پیاس بجھاتی ہیں بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ یہ اختصاریے اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ ادب کی تاثیر اس کی طوالت میں نہیں بلکہ اس کی معنوی گہرائی اور سچائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔