Tag: رنجیت سنگھ

  • مختصر جائزہ ، مقبول ذکی مقبول

    مختصر جائزہ ، مقبول ذکی مقبول

    فقیر میاں اِم٘داد حُسین سرائی لیکھی ( لیّہ )

    بلاشُبہ مقبول ذکی مقبول اِسمِ بَامُسمٰی شخصیت ہیں ۔ حقیقتاً صحرائے تھل وسیب منکیرہ ( بھکر ) میں اپنے پُر خلوص جذبوں ، علم و ادبی لگاوٹ سے علم و ادب کے دیپ جلائے ہوئے ہیں ۔ جو صحرائے تھل وسیب میں کنول کے پھول کی مانند ہیں ،
    بقولِ شاعر :

    یہ کہاں ضروری ہے ، چراغ ہو روشن
    اِک دیئے کا جلنا بھی موت ہے اندھیرے کی

    راقم آثم حقیر فقیر کا تعارف بھی مقبول ذکی مقبول سے ادبی محافل میں ہوا تھا یہ بات غالباً 2018ء کی ہے ، یوں سلسلہِ رفاقت جاری و ساری ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی پیدائش یکم جنوری 1977ء کنال کالونی کواٹر ضلع لیّہ شہر میں ہوئی تھی ۔ آپ کے والد اقبال حُسین ( مرحوم ) جو اِن دِنوں محکمہ کنال لیّہ میں ملازمت کرتے تھے ۔ آپ کو علم و ادب سے لگاؤ بچپن سے ہی ہے ۔ رثائی شاعری سے لگاوٹ و اُنسیت قابلِ داد ہے ۔ ادبی و علمی ذوق جنونی ایمانی حد تک ہے ۔ آپ 2005ء سے باقاعدہ طور پر شاعری میں طبع آزمائی فرمارہے ہیں ۔ ضلع بھکر کے کہنہ مُشق ُبزرگ شاعر اُستاذ نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی سے شاعری میں اصلاح لیتے ہیں ، ایک مرتبہ ان کے درِ اقدس پر شرفِ ُملاقات بھی مقبول ذکی مقبول کی وساطت سے ہوئی ۔
    مقبول ذکی سرائیکی ، اُردُو اور پنجابی زبان میں طبع آزمائی کرتے ہیں ۔ آپ کے کلام میں سادہ بیانی ، عمدہ منظر نگاری ، وارداتِ قلبی ، انتہائی متحرک پہلو ہیں صحت ، سچے خیالات ، بے پناہ عقیدت مندی کا اظہار واضح جھلکتا ہے ۔میدانِ نثر میں بھی اپنا لوہا منوا چکے ہیں ۔ غالباً 2018ء میں مقبول کے توسط سے زاہد اقبال بھیل کی بھیل سنگت کی طرف سے راقم آثم کی علمی الو ادبی و تاریخی خدمات کے ضمن میں دستار بندی کی گئی تھی ، ذکی سے وہ بڑی حسین یادگار لمبی نشست رہی ، پروگرام ہمارے فقیر خانے لیّہ والدِ بزرگوار محقق و مورخ تاریخ لیّہ و سندھ حکیم فقیر میاں الہٰی بخش سرائی لیکھی مغفور پر ہوا جس میں ، شاعر و ادیب پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی ) آپ کا پسرِ رشید ، پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین ، شمشاد سرائی ، شیخ اقبال حسین دانش ، نعمان اشتیاق ، احتشام عباس مہار ، اور دیگر دوستوں نے شمولیت کی تھی ۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے حامل ہیں ، آپ کی پہلی کتاب ٫٫ سجدہ ،، 21 مئی 2017ء میں 172 صحفات پر مبنی ، آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیّہ ) سے شائع کی تھی ۔ جو سرائیکی زبان میں رثائی ادب پر مشتمل ہے ۔جس میں ساری رثائی شاعری ہے ۔ آپ کی دوسری کتاب اُردو میں ٫٫ مُنتہائے فِکر ،، جو 7 اگست 2020ء میں آرٹ لینڈ چوک اعظم ( لیّہ ) سے شائع ہوئی ، اس کتاب میں نہایت شاندار اُردُو شاعری پڑھنے کو ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ یکے بعد دیگرے بھی چند شاہکار زیورِ طبع سے آراستہ ہوئے جن کی تعداد گیارہ ہے ۔

    مختصر جائزہ ، مقبول ذکی مقبول


    ریحانہ بتول کی کتاب ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) 370 صحفات پر مشتمل آپ پر نئی تالیف ۔ شائع ہو کر علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے ۔ راقم آثم ضمناً یہاں عرض کرتا ہے کہ ملک دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کی کتاب ٫٫ تاریخِ ریاستِ منکیرہ ،، پڑھنے کو مُرشد سید حسن رضا کاظمی مغفور رح دری پاک جمن شاہ لیّہ والوں کو دی تھی ، جس پر آپ نے کافی نادر خواہش فرمائی تھی اور مصنّف کو ِملنے کی خواہش ظاہر کی ۔ یہ بات ہے غالباً 2017 ء کی ۔ راقم آثم فقیر نے ست بسم اللّٰہ کی اور سید حسن رضا کاظمی مغفور رح کی معیت میں جن میں سید عزادار حسین کاظمی ، کوٹلہ حاجی شاہ لیّہ ، چند احباب کے نام یاد نہیں حافظہ سے محو ہو گئے ، نوجوان گردیزی اور آپ کا ملازم صفدر حسین بڈا کاظمی چوک لیّہ والے بمعہ خیمے و دیگر سامان قلعہ منکیرہ پر پہنچ گئے ۔ رات وہی تاریخی قلعہ منکیرہ پر بسر کی قلعہ پر اولیاء اللّٰہ ، حضرت سید نور قلندر رح کا مقبرہ ہے اور آپ کی اُولاد وہاں آج بھی آباد ہے اُنہی کے فقیری مَچ پر رات بسری کی ، جو سید حسن رضا کاظمی کے عقیدت مندوں سے تھے ۔ صُبح ملک دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کے گھر ملنے گئے آپ کافی ضعیف ہوچکے تھے لیکن کافی نیاز مندی و عقیدت سے پیش آئیں ، آپ کا چھوٹا بیٹا محمد اسحٰق ملا ،جو نوئے کی دہائی میں لیّہ ہمارے فقیر خانے والدِ بزرگوار پر رہتا رہا اور ٹیکنکل کالج میں پڑھتا رہا تھا ۔ بڑا بیٹا شاعر و ادیب اُستاذ اشفاق حسین شجر نہ مل سکا ، ملک دوست محمد کھوکھر جب 1988ء میں کتاب تاریخِ ریاستِ منکیرہ لکھ رہیے تھے تب میرے والد محقق ، مُورخ ، اِدیب ، نقاد ، بزرگوار فقیر میاں الہٰی بخش سرائی لیکھی مغفور رح کو ملنے آتے تھے تب بھی مُلاقاتیں رہتی تھیں ۔ دوست محمد کھوکھر ( مرحوم ) کے گھر سے ہم سب قلعہ منکیرہ پر قبلہء سید حسن رضا کاظمی مغفور جمن شاہ والوں کی گاڑی میں پاکستان کے تاریخی قلعہ منکیرہ پر جا پہنچے وہاں کافی گفتگو ہوئی شاہ جی کا خیال تھا کے ٫٫ من و سلوی ،، اسی قوم پر گرتا تھا یہی بنی اسرائیل ہے ۔ ملک دوست محمد کا خیال ان کے برعکس تھا ۔ قلعے منکیرہ میں ایک کنواں آج بھی موجود ہے کہاں جاتا ہے کہ درجن سے زائد کنویں قلعے منکیرے کے باہر اور اندر موجود تھے جو اب ختم ہو گئے ہیں ، قلعہ کی شروع داخلی جانب مشرقی جانب ایک مندر مہابیر کا کتبہ دروازہ پر آج بھی نصب ہے ، اور شمالی سَمت مسجد مہابت خان موجود ہے جس کے ایک مینار کو راجہ رنجیت سنگھ نے لوہے کے گولے سے شہید کیا تھا وہ گولہ کہا جاتا ہے کے تھانہ منکیرہ میں موجود ہے ۔ اب تو مسجد ضعیف ہونے کی وجہ سے اس کو شہید کردیا ہے اور بقولِ مقبول ذکی کہ اب وہاں نئی مسجد تعمیر کردی گئی ہے ، ویسے قلعہ میں چھوٹے ، بڑے کئی کنکریٹ کے پختہ گولے بکھرے پڑے ہیں راقم ایک ، دو گولہ وہاں سے تھل میوزیم کے لئے لے آیا چھوٹے گولے کا وزن پانچ کلو سے زائد ہے اور بڑے گولے کا وزن چھبیس ، 26 کلو سے زائد ہے جو راجہ رنجیت سنگھ نے منجنیق توپ سے مارے تھے ، جنوبی سمت نواب سر بلند خان کی چار دیواری میں قبر موجود ہے جس میں اور بھی چند قبور ہیں اور قلعہ کے بیرونی جانب قبرستان اور اسٹیڈیم ہے یہ قلعہ نواب سر بلند خان نے 1704ء کو بنوایا تھا ، پاکستان کے معروف قلعوں میں آج بھی اس کا نام آتا ہے ، کہا جاتا ہے کے انگریزوں نے اس مضبوط قلعے کی خوبصورتی کو ماند کیا قلعے منکیرے کہ بیرونی پتلی ، نانک شاہی اینٹیں اکھاڑ کر سڑکیں بنوا دی قلعے میں آج بھی وسیب کے مشہور درخت پیلوں (جال) اور کھگل موجود ہیں ، قلعے منکیرے کی مٹی کلر زدہ ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کتاب ٫٫ یہ میرا بھکر ،، کا ایک شعر یاد آگیا ہے جو قلعہ منکیرہ کے متعلق ہے ، ملاحظہ فرمائیں

    قلعہ ایک جس میں آج بھی ہے
    تاریخی ہے شہر ترا مقبول ذکی

    آخر پر یہی دُعائے فقیر حقیر ہے کہ مالکِ کائنات بحقِ چہاردہ معصومین علیہ السّلام کے زوار مقبول ذکی مقبول کے رزقِ علم و حلم میں برکت و وسعت و عظمت و رفعتِ دوام عطاء فرمائے ! تاکہ یہ صحرائے تھل کا دیپ سدا ٹمٹماتا رہے آمین ثم آمین !

  • نادر شاہ اور کوہ نور ہیرا اٹک میں

    نادر شاہ اور کوہ نور ہیرا اٹک میں

    نادر شاہ اور کوہ نور ہیرا اٹک میں

    "آزاد دائرۃ المعارف(وکی پیڈیا)”میں کوۂ نور ہیرا کے متعلق لکھا ہوا ہے کہ :”کوہ نور جنوبی بھارت کے علاقے گولکنڈہ سے ملا۔ کئی راجے مہاراجے نسل در نسل اس ہیرے کے وارث بنے۔۔۔ ابراہیم لودھی کی والدہ” بوا بیگم” نے مغل شہزادے ہمایوں کو نذرانے میں دیا اور اس طرح یہ ہیرا دہلی کے مغل بادشاہوں کے پاس رہا۔1739ء میں نادر شاہ نے جب ہندوستان فتح کیا تو اسے اپنے ساتھ ایران لے گیا اور غالباً اسی نے اس ہیرے کا نام اس کی چمک دمک دیکھ کر کوہ نور رکھا۔ احمد شاہ ابدالی نادر شاہ کا جرنیل تھا ۔نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا علاقہ احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں آ گیا۔ یہ ہیرا بھی احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں رہا۔ اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے شاہ تیمور اور اس کے بعد احمد شاہ ابدالی کے پوتے شاہ شجاع والیِ قندھار کے پاس رہا۔ جب اس کے مخالفین نے اسے تخت سے معزول کر دیا تو وہ بھاگ کر ہندوستان آیا تو یہ ہیرا اس کے ساتھ تھا، یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے پناہ دی۔۔۔ رنجیت سنگھ نے یہ ہیرا شاہ شجاع سے طلب کیا مگر شاہ نے جواب دیا کہ اس ہیرے کو قرض کے عوض کابل کے تاجروں کے پاس بطور رہن رکھوا چکا ہے۔ اس پر مہاراجا غضب ناک ہو گیا اس نے شاہ شجاع کے خاندان کو اندرون لاہور مبارک حویلی میں سخت پہرے میں رکھا ۔۔۔تین دن کی ناقابل برداشت ذلت اور سختیوں سے تنگ آ کر شاہ شجاع نے ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ ہیرا مہاراجا رنجیت سنگھ کی خلعت کی زینت بنا رہا۔ 1839ء میں مہاراجا کا انتقال ہو گیا اس کے بعد خالصہ دربار سازشوں کا گڑھ بن گیا۔ سکھ قوم آپس میں ٹکراتی رہی اور کمزور ہوتی گئی۔ 1846ء میں سکھ انگریز جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی یہ ہیرا بھی برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا۔ سکھ حکمران مہاراجا دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا برطانیہ کے ہاتھ لگا اور یہ ہیرا سر لارنس گورنر پنجاب کے پاس موجود رہا اسے ایک حکم ملا کہ خفیہ طور پر یہ ہیرا لندن بھیجا جائے اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی۔ لندن میں اس ہیرے کو تراشنے کے بعد تاج برطانیہ کی زینت بنایا گیا۔ اب تاج برطانیہ کی زینت ہے”۔

    نادر شاہ اور کوہ نور ہیرا اٹک میں


    بین الاقوامی شہرت کے حامل اس قیمتی ہیرے کا ذکر کبھی اٹک کے ساتھ نہیں کیا گیا؛لیکن اس ہیرے کی عالم گیر شہرت کی وجہ سے اس کا ذکر ہر اُس علاقے کے ساتھ ہونا چاہیے،جہاں سے یہ گزرا یا جہاں کچھ مدت اسے رکھا گیا ہو۔۔”تاریخ صوبہ سرحد”میں لکھا ہے کہ جب نادر شاہ ہندوستان پر حملے کے لیے آیا تو :”اپنے قیامِ پشاورہی کے دوران نادر شاہ نے اپنی فوج کا ایک بڑاحصہ اٹک روانہ کر دیا تھا۔۔۔کرنال کے قریب محمد شاہ رنگیلا نے نادر شاہی لشکر کامقابلہ کیا لیکن شکست کھائی۔۔۔12۔مئی 1739 کو ایک دربارِ عام منعقد ہوا۔جس میں شاۂ دہلی نے کوۂ نور ہیرا بادشاہ کے حوالے کیا۔جاتے جاتے نادر شاہ ،شاۂ جہان کا بنایا ہواکروڑوں روپے کی مالیت کا تختِ طاؤس بھی اپنے ساتھ لیتا گیا "ـ(1)۔
    "تاریخِ افغانستان”میں اس واقعہ کو اس طرح درج کیا گیا ہے:”نادر شاہ نے 58 دن دہلی پر حکومت کرنے کے بعد اقتدار محمد شاہ کو واپس کر دیا مگر اس دوران وہ ہندوستان کا سارا خزانہ لوٹ چکا تھا۔مغلوں کا نادرو نایاب ہیرا ،شاۂ جہاں کا بنوایا ہوا شہرۂ آفاق تختِ طاؤس ۔۔۔ساتھ لے کر اسی سال درۂ خیبر کے راستے افغانستان واپس آ گیا”(2)۔
    نادر شاہ یہ ہیرا لے کر ضلع اٹک سے گزرتا ہوا واپس چلا گیا۔شہرۂ آفاق”تخت ِطاؤس”بھی اٹک سے گزر کر ایران پہنچا۔نادر شاہ سے "کوۂ نور "ہیرااحمد شاہ ابدالی کے پاس آیا ۔ احمد شاہ ابدالی سے تیمور،شاہ زمان اورشاہ شجاع تک پہنچا۔شاہ شجاع اس ہیرے کو اپنے تاج میں سجائے رکھتا تھا۔جب شاہ شجاع سے اس کے بھائی شاہ محمود نے حکومت چھین کر اسے در بہ در کر دیا تو عطا محمد خان والی کشمیر کی معمولی امداد سے”دسمبر1811ء میں شاہ شجاع نے پشاور کو فتح کرنے کی آخری کوشش کی۔اس میں بھی اسے کامیابی نہ ہوئی۔۔۔شاہ شجاع بھاگ کر اٹک[قلعہ]میںپناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔۔۔اٹک کے قلعہ دار۔۔۔جہاں داد خان کی نظر کوۂ نور ہیرے پر تھی۔۔۔لیکن شاہ شجاع کوۂ نور دینے سے مسلسل انکار کرتا رہا۔ان دنوں عطا محمد خان بھی اپنے بھائی جہان داد کو ملنے اٹک آیا ہوا تھا۔وہ شاہ شجاع کو آہنی پنجرے میں قید کر کے اپنے ساتھ کشمیر لے گیا”(3)۔
    یوں شاہ شجاع کے ساتھ کوۂ نور ہیرا کچھ عرصہ "اٹک قلعہ”میں بھی رہا اور بعد ازآں یہاں سے شاہ شجاع کے ساتھ ہی کشمیر منتقل ہو گیا۔کشمیر پر سکھوں کی حکومت قائم ہوئی تو یہ ہیرا رنجیت سنگھ نےشاہ شجاع سے حاصل کر لیا،جو ان دنوں عطا محمد خان کا قیدی تھا۔بعد ازآں سکھوں سے یہ ہیرا انگریزوں نے چھین کر برطانیہ بھیج دیا ۔

    حوالہ:
    (1)محمد شفیع صابر،تاریخ صوبہ سرحد،یونی ورسٹی بک ایجنسی،پشاور،اگست 2019،ص359
    (2)مولانا محمد اسماعیل ریحان،تاریخ افغانستان،جلد اول،س۔ن،ص183
    (3)محمد شفیع صابر،تاریخ صوبہ سرحد،یونی ورسٹی بک ایجنسی،پشاور،اگست 2019،ص401

  • اٹک قلعہ اور یلدرم

    شاندار بخاری
    شاندار بخاری

    تحریر : شاندار بخاری
    1442 ھجری
    مسقط

    ہمارے پردادا السیّد جعفر شاہ المعروف امام چاکر شاہ بخاری کا مزار ، مغل شھنشاہ اکبر اعظم کے تعمیر کردہ اٹک قلعہ کے سامنے جنوبی پہاڑی پر واقع ہے ۔ قلعہ کے آس پاس آنے جانے اور اس سڑک پر سے گزرنے کی ہر ایک کو اجازت نہیں کیونکہ قلعہ میں افواج پاکستان کی ایک مخصوص رجمنٹ مقیم ہے لیکن متصل گاوں ملاحی ٹولہ کے شھری اور ہمارے خانوادہ کے افراد اور امام چاکر شاہ بخاری کے معتقدین کو ضروری شناخت کرانے کے بعد مرقد پر حاضری کی اجازت دیدی جاتی ہے ۔ راستہ پیدل اور دشوار گزار ہے مگر دریائے سندھ کا کنارہ اور اٹک کی پہاڑیوں کا قدرتی حسن راستے کی تھکن زائل کردیتا ہے ۔ کئی سال پہلے میں پاکستان آیا ہوا تھا لھذا دادا کے سلام کے لئے چلا گیا لیکن جاتے ہوے اپنا شناختی کارڈ گھر بھول گیا ، نقطہ تفتیش پر پریشانی کا سامنا ہوا میرے ساتھ میرے چچازاد اور ماموں زاد بھائی بھی تھے جنہیں جانے کا اذن مل گیا سوائے میرے کیونکہ میری اور قسمت کی آنکھ مچولی کا کھیل ایک عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے تو ہونی انہونی ہوجاتی ہے اور انہونی کا کیا رونا خیر بات چیت کرتے ہوئے تفتیشی افسر جو کہ خلاف توقع بہت خوش مزاج واقع ہوئے ، انہوں نے ضمانت کے طور پر کارڈ رکھ لئیے اور چائے کی پیشکش کی جو کہ ذہنی تھکاوٹ کی بناء پر میں نے فورا قبول کر لی اور وہ ہمیں چوکی کیساتھ ملحقہ کمرے میں لے گئے جہاں ہم نے فوجی کینٹین کی بنی کڑک چائے پی اور باتوں باتوں میں پتا چلا کہ ہمارے میزبان پختون ہیں اور کیونکہ میرے والد محترم کی مادری زبان بھی پشتو ہے ، یہ جان کر وہ بہت خوش ہوئے میں نے مسقط کال کر کے ان کی بات بھی کروائی اور بتایا یہ گیا کہ آپ دادا کی مرقد سے ہو آ ئیں اور مجھ سے ملاقات کئیے بغیر نا جائیں کیونکہ اپنے کارڈ بھی واپس لینے تھے خیر ہم زیارت سے واپس لوٹے تو میزبان ہمارے منتظر تھے اور ہمیں بتایا کہ آپ کیلئیے خصوصی طور پر اجازت نامہ لیا ہے آپ کو اٹک قلعہ کی اندرونی اور بیرونی منازل کی سیر کروائی جائے گی اور رات کا کھانا آپ ہماری بیرک میں ہمارے ساتھ تناول فرمائیں گے اب تو عنایتوں کی مجھ پر جیسے برسات ہو گئی ہو اب ہو نا ہو والد محترم کی ان کی ہم زبان سے بات جو کروائی تھی اس کا اثر تھا خیر میں نے پہلی مرتبہ اٹک قلعہ کو اتنے قریب سے دیکھا اور اس کی خوبصورتی کو محسوس کیا ۔

    قلعہ کے کئی دروازے ہیں اور صدر دروازے پر جلی حروف میں تلوار اور آسمانی بجلی کے نشان بنے ہوئے تھے جس کے وسط میں یلدرم لکھا ہوا تھا پوچھنے پر پتا چلا کہ اس وقت ایس ایس جی کمانڈوز کا جو دستہ وہاں مقیم تھا ان کی رجمنٹ کا نام یلدرم ہے جو کہ ترکی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں آسمانی بجلی۔ چلتے چلتے مختلف ابواب اور ادوار کے قصے سنائے گئے جو کہ بہت ہی دلچسپ تاریخی واقعات پر مبنی تھے جیسے کہ اس قلعے کی تعمیر 1581 سے لیکر 1583 صرف 2 سال کے عرصے میں مکمل کی گئی ، موجودہ ادوار میں کئی سیاسی راھنماء یہاں مقید ہوئے ۔

    یلدرم

    برطانیہ کے مشہور ماہر آثار قدیمہ مورٹیمر وییلر کی کتاب جس کا عنوان ” پاکستان کی 5000 سالہ تاریخ ” جو کہ 1950 میں شایع ہوئی تھی اس میں انہوں نے قلعہ میں استعمال کئیے گئے مختلف قیمتی نوادرات ، پتھروں اور اس قلعہ کی تعمیر سے متعلق دیگر معلومات کا مختصر لیکن جامع اور متفق علیہ تجزیہ لکھا ہے ( یہ کتاب میرے پاس پی ڈی ایف میں موجود ہے آپ قارئین میں سے جو اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں مجھ سے رابطہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں )
    پچھلے سال پڑوسی ملک میں بننے والی فلم ‘ پانی پت ‘ دیکھی تو فلم کی شروعات میں ہی اٹک قلعے کا ذکر آیا جو کہ اس دور میں بھی ایک اہم جگہ اور اسٹراٹیجیک اہمیت کا حامل تھا اور آج بھی ہے ۔ آج بھی مراٹھا سے تعلق رکھنے والے جب کسی کو باتوں میں مثال دیتے ہیں کہ ہم یہ ناممکن کام کر کے دکھائیں گے تو کہتے ہیں ‘ اٹاکے پار جھنڈے’ یعنی اٹک کے پار جھنڈے لگائینگے۔ 1758 میں مراٹھا نے مختصر مدت کیلئیے اٹک قلعے لاہور اور پشاور پر حکومت بنالی تھی جبکہ احمد شاہ ابدالی نے انہیں پانی پت کے معرکہ میں شکست دے کر واپس حاصل کیا اور اس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اور پھر انگریزوں کے زیر استعمال بھی رہا ۔ یہ قلعہ سطح سمندر سے 2’758 بلند ہے۔ جو ایک خطرناک علاقے اور دو چٹانوں کمالیہ اور جلالیہ کے درمیان واقع ہے ان چٹانوں کا نام کمال الدین اور جلال الدین کے نام پر رکھا گیا جو روشنیہ فرقہ کے بانی کے دو بیٹے تھے جنہیں دریا میں سزا کے طور پر پھینکا گیا کیونکہ وہ اپنے باپ کے نظریات کا پرچار اکبر کے دور میں کرتے تھے۔

    اب میں آپ کو واپس قلعہ میں لے چلتا ہوں کیونکہ ہمارے میزبان دسترخوان سجائے ہمارا انتظار کر رہے ہیں اور یقین کریں کھانے میں کوئی تکلف نہیں برتا گیا بلکہ سادہ خوراک جو وہ تناول کرتے ہیں وہی ہمیں بھی پیش کی گئی جس میں چنے کی دال ، دہی اور تنور کی بڑی بڑی روٹیاں لیکن اس دال کا اپنا ہی لطف تھا اس کے بعد قہوہ کا دور چلا اور یوں ہماری دعوت یلدرم کا اختتام ہوا ۔

  • اٹک خورد

    اٹک خورد

    اٹک خورد

    یہ واقعہ اپریل 1813کا ہے جب فتح خان دُرانی ـ15000ـ سپاہیوں کو لے کر اٹک کی طرف روانہ ہوا۔ رنجیت سنگھ نے برہان سے اپنے لشکر کو روانہ کیا اور دونوں فوجوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے درانی فوج کو آگے نہ بڑھنے دیا یہاں تک کہ ماہ جولائی میں انکی زخیرہ شُدہ اشیاء خوردونوش ختم ہونے لگیں اور دُرانیوں کو واپس پلٹنا پڑھا۔ اس جنگ میں رنجیت سنگھ کی برتری کی سب سے بڑی وجہ قلعہ اٹک بتایا جاتا ہے۔ یہ قلعہ ایسے مقام پر واقع ہے جو شمال سے ہونے والی کسی بھی لشکر کشی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ ثابت ہوا ہے۔ قلعہ اٹک سن ـ1581ـ میں تعمیر ہوا۔ یہ مُغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کا ایک اور شاہکار ہے۔ بنیادی طور پرقلعہ اٹک کو اس لئے تعمیر کیا گیا تھا تاکہ دریائےسندھ کے بہاو کو قابو کیا جا سکے لیکن اسکے ساتھ ساتھ افغانستان اور وسط ایشیا سے ملحقہ خطرات کو بھی مدِ نظر رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قلعہ اٹک ہمیشہ سے برصغیر کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے قلعہ کا نظام و نسق حکومت پاکستان کی زیر نگرانی افواج پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ صوبہ پنجاب سے صوبہ خیبر پختون خواہ کو ملانے والے اٹک پُل سے اس قلعہ کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔

    اٹک خورد

    اس پُل کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دنیا کہ ان چند مقامات میں سے ایک ہے جہاں دو مختلف رنگوں کے دریا آ ملتے ہیں۔ ایسے دریا جو دو مختلف ممالک،زبانوں، قوموں، ثقافتوں، تہزیبوں اور تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں یعنی دریائے کابل اور دریائے سندھ۔۔ قلعہ اٹک کے چار دروازے ہیں، دہلی دروازہ، لاہوری دروازہ، کابلی دروازہ اور موری دروازہ۔ اٹک قلعہ اپنی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ کے زیلی ادارے یونیسکو کا حصہ ہے۔ جس علاقے میں اٹک قلعہ واقع ہے اسے اٹک خُرد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اٹک خُرد صوبہ پنجاب کا آخری مقام ہے اور یہ نیم پہاڑی علاقہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ جس طرح صوبہ پنجاب کو صوبہ خیبر پختون خواہ سے براستہ سڑک ملانے میں اٹک پُل کی اہمیت ہے اسی طرح دونوں صوبے اٹک خُرد پُل کے ذریعہ سے براستہ ریل ملے ہوئے ہیں۔ پُل سے پیوستہ اٹک خُرد کا ریلوے اسٹیشن ہے۔

    گو کہ یہاں پر کوئی ریل گاڑی نہیں رُکتی لیکن یہ اسٹیشن ایک تفریحی مقام کی حیثیت حاصل کر چُکا ہے۔ ان خاموش پہاڑوں اور انکی گہرائی میں خاموشی سے بہتےہوئے دریائے سندھ میں ریل گاڑی ارتعاش پیدا کرتی ہوئی گزر جاتی ہے۔ اسٹیشن سے متصل پُل اور پھر اسکے بعد ایک سرنگ میں داخل ہوتی ہے۔ سرنگ سے نکلنے کے بعد ایک دفعہ پھر اسکا نظارہ کیا جا سکتا ہے جہاں سے وہ شمالی علاقہ جات کی طرف ایک اور موڑ مُڑ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اٹک خُرد کا پُل تفریحی حیثیت کے ساتھ ساتھ برطانوی انجنرینگ کے فن کا بھی اعلیٰ شاہکار ہے۔ یہ پُل ـ1883ـ میں تعمیر کیا گیا تھا جسکی مہر آج بھی آویزاں ہے۔ اس پُل کے دو حصے ہیں جن میں سے اوپر والا حصہ ریل اور نیچے والا حصہ سڑک پر مشتمل ہے۔ اٹک خُرد ضلع اٹک کا آخری شمالی خطہ ہے۔ ضلع اٹک کی 6 تحصیلیں اور 72 یونین کونسل ہیں۔ یہ پنجاب کا واحد ضلع ہے جسکے ساتھ سب سے زیادہ اضلاع کی سرحدیں ملتی ہیں۔ اس شہر میں ایک پُر اثرار خوبصورتی نظر آتی ہے جو تاریخ کے طالب علموں کے لئے کسی اثاثے سے کم نہیں۔ صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی اس شہر نے احمد ندیم قاسمی اور ایئر مارشل نور خان جیسے لوگ پیدا کئے ہیں۔ اٹک شہر کا پرانا نام کیمبل پور تھا جو ایک انگریز افسر کے نام پر رکھا گیا۔ لیکن اس سے قبل بھی اس علاقے کو اٹک کہا جاتا تھا۔ بعض تاریخ دانوں کے نزدیک اس علاقے سے دریائے سندھ اٹک اٹک کر گزرتا ہے جسکی نسبت سے اس شہر کا نام اٹک رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی آج کی تحریر کو تمام کرتے ہیں۔ ضلع اٹک کی تاریخ، کلچر، ثقافت اور سیاحت کے بارے میں انتہائی دلچسپ معلومات کا یہ سلسہ جاری رہے گا۔

    .