Tag: دریا

  • عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    ۔۔۔۔۔۔۔
    تجزیہ
    (راحت امیر نیازی میانوالی)

    سادات اور نورنگا سے قلبی لگاؤ ، محبت اور احترام ہمارے اجداد سے ہمیں ورثے میں ملا ہے۔اس موضوع پر لکھنا فرض تھا سو الحمد للہ اس فرض کی تکمیل کی توفیق ہوئی۔میں نے اپنے دادا اور والد ِ گرامی مہر خان بلچ سے نورنگا اور سادات ِ نورنگا کے بارے بہت سے محبت و عقیدت بھرے واقعات سنے۔ ہمارے بزرگ ہیڈ ماسٹر عطا محمد شاہ کی بے لوث تعلمی خدمات سے بہت متاثر تھے۔جن کا ذکر و اعتراف محافل میں برملا کرتے تھے۔ عاصم بخاری سے رابطہ اور دہائیوں پر مشتمل تعلق ، اچھی رفاقت بھی سادات ِ نورنگا کی نسبت ایک کڑی ہے۔
    اگر عاصم بخاری کی شاعری کے حوالے سے بات کروں تو میں نے عاصم بخاری کی شخصیت کا بہت ہی قریب سے مطالعہ کیا ہے ۔انہیں نیچر فطرت اور قدرت کے ساتھ ساتھ اپنی مٹی علاقہ اور دیس کے ساتھ پیار اور محبت ورغبت ملتی ہے۔آپ اسے مقامیت کانام دیں یا کوئی اور آپ پر چھوڑتے ہیں۔
    گاؤں نورنگا شیر دریا ، دریائے سندھ کے مشرقی کنارے موچھ کے قریب واقع ہے یا تھا یہ بھی فیصلہ قاری اور ناظر نے کرنا ہے۔ منظوم توجیہہ کچھ ایسے دو اشعار کی صورت میں دیتے ہیں

    دِل میں آباد آج بھی اس کے
    چِھن گیا کب کا گر چہ "نورنگا
    ایک اور شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ("اپنا نورنگا ” کے نام)

    مَیں وہ ہوں جس نے ” اپنا نورنگا "
    اپنی آنکھوں سے ڈوبتے دیکھا

    عاصم بخاری کی شاعری کا ایک عنوان گاؤں نورنگا

    اس گاوں سے تعلق اور عاصم کا کیا رشتہ ہے وہ ایک شعر کی صورت یوں بیان کرتے ہیں
    ایک شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (نورنگا کے نام)

    گاؤں”ماں جی” کا ، ہے یہ آبائی
    کیوں نہ بھائے ہمیں یہ "نورنگا”
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری کی شاعری میں رومانویت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔وہ روایت پرست بھی دکھائی دیتے ہیں۔اقدار کی پاس داری اور اس گاوں کی شرافت اور لیاقت و محنت کا پرچار و اعتراف بھی لازمی جانتے ہیں تاکہ ان اقدار پر زمانہ بھی عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے۔
    گاؤں نورنگا ۔۔۔۔میانوالی کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    (معرّیٰ نظم)

    میری پہچان ہے لیاقت میں
    میری پہچان ہے شرافت میں
    میری پہچان ہے زمانے میں
    لب ِ دریا یہ گاؤں نورنگا

    ایک شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بخاری کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ عمیق ہے۔اس شعر میں صنعت ِتلمیح کا استعمال کرتے ہوئے واقعاتی مماثلت کے ساتھ ساتھ ذو معنوی پیرائے میں بات کرنے کی خوب صورت انداز میں سعی کی ہے۔ چوں کہ موسم ِ گرما میں سیلاب کی زد میں اکثر و بیشتر یہ گاوں برباد ہوتا رہا۔اس کے نام نورنگا کی وجہء تسمیہ بھی یہی بتائی جاتی ہے کہ یہ نویں بار دریا کی بربادی کے بعد آباد ہونے پر نورنگا کہلایا۔
    شعر
    (دریا بُرد گاؤں نورنگا میانوالی کے نام)
    ۔۔۔۔۔۔۔
    "نورنگا” کا دل ذکر کرے ذہن ہے کہتا
    "سادات” کو راس آتے نہیں، "دریا کنارے”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی مزاج کی ترجمانی کرتا ایک شعر جس میں حُب الوطنی ، جدائی کے اور دِلی کے جیسے بربادی کا ذکر کچھ اس انداز میں کرتے ہیں۔
    شعر
    دِلی کے جیسے وسیب کے اُجڑنے کے دُکھ کا اظہار یوں کرتے ہیں۔
    شعر
    دِل میں آباد آج بھی اس کے
    چِھن گیا کب کا گر چہ "نورنگا”

    ایک شعر اسی مزاج کا غماز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ("اپنا نورنگا ” کے نام)

    مَیں وہ ہوں جس نے ” اپنا نورنگا "
    اپنی آنکھوں سے ڈوبتے دیکھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ناسٹلجیا اور ماضی پرستی بھی عاصم بخاری کی شاعری میں پائی جاتی ہے۔اور یاد ِ ماضی انہیں پل پل ستاتی دکھائی دیتی ہے۔
    "نورنگا "…. گاؤ ں کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (ایک نظم)
    لے جاتے ہیں ماضی میں ہمیں دریا کنارے
    اشعار بخاری ترے ، ” نورنگا ” کے بارے
    ۔۔۔۔۔
    عاصم بخاری ایک حساس اور دھڑکنے والا دل رکھتے ہیں۔کسی کے دکھ درد پر ان کا دل کُڑھتا ہے۔ہر سال وطن ِ عزیز کی بربادی اور سیلابی صورت ِ حال بالعموم اور گاؤں نورنگا کی ہر سال سیلاب کے سبب بربادی بالخصوص انہیں بے چین کرتی ہے۔
    ایک شعر دیکھیں۔

    برسات کا موسم وہ ستمبر کا مہینہ
    دریا کے کٹاؤ کے وہ دلدوز نظارے
    ۔۔۔۔۔
    اگرچہ ناوسائلی کا دور دورہ تھا۔کوئی سہولت نہ تھی۔مگر اس گاؤں سے وابستہ اک ایک یاد انہیں تڑپاتی ہے۔
    شعر
    بجلی تھی نہ رستےتھے سکوں چین بڑا تھا
    یاد آ تے ہیں رہ رہ کے وہی لمحے گزارے
    ۔۔۔۔
    اہالیان ِ نورنگا کو دنیا گھومنے کا موقع ملا۔مگر میانوالی اور یہ گاوں کہیں نہیں بھولا۔یہ مٹی کی محبت اور حُب الوطنی کی دلیل ہے۔ایک اور شعر دیکھیں

    دنیا کے کئی دیکھے ممالک میں رہے ہم
    ہیں نقش مگر دل پہ ابھی تیرے نظارے
    ۔۔۔
    دیس کے بھی ہرچھوٹے بڑے شہر میں ایک عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا مگر گاؤں کی یادیں ہمراہ ہیں۔
    شعر ملاحظہ ہو۔

    لاہور کراچی میں ہے اک عمر گزاری
    اترے نہیں منظر ترے اس دل سے پیارے
    ۔۔۔
    شہروں میں رہنے کے باوجود اپنے گاؤں کی سی محبت سادگی اور خلوص نہیں ملا۔اپنے گاوں کا اخلاص اپنا تھا۔
    شعر دیکھیں۔
    ہم جولی وہ یاد آ تے ہیں ہم سائے بھی اکثر
    کیا سادہ و مخلص وہ سبھی یار ہمارے
    گاؤں نورنگا میں اگرچہ بجلی نہ تھی رستے کچے تھے گھر عارضی تھی۔گویا ضروریات زندگی بھی فراوانی سے میسر نہ تھیں مگر دل ہے کہ ان ہی یادوں کے سہارے جی رہا ہے۔وطن کے ساتھ یہی تو وطن کشمیر والی بات ہے۔کمال منظر کشی شعر میں ملاحظہ ہو۔
    ۔۔۔۔۔۔
    چمنی بھی نہیں بھولی ابھی کچے مکاں بھی
    اب جینا ہے عاصم جی انہی یادوں سہارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اسی مزاج کا حامل ایک اور شعر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دریائے سندھ کنارے آ باد گاؤں۔۔۔”نورنگہ”کے نام

    وہ جہاں بھی ، کہیں چلا جائے
    دل میں بستا ہے، اس کے نور نگہ
    عاصم بخاری نفسیات کا گہرا شعور بھی رکھتے ہیں ۔یہی وجہ کہ خود کلامی کے انداز میں نورنگا سے وابستگی کا اظہار ایک قطعہ کی صورت میں کرتے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سندھ کنارے واقع گاؤ ں۔۔۔ "نورنگا” کے نام

    ملتا ہے نفسیات ، میں یہ ہی
    خاص کا نام ، لب پہ آ تا ہے
    پیار "نورنگا” سے اسے عاصم
    تذکرہ ہر گھڑی ، بتاتا ہے

    عاصم بخاری میانوالی

    "نورنگا "…. گاؤ ں کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اہالیان ِ نورنگا کے دلوں میں بھولی بسری یادوں کے تاروں کو کس خوب صورتی سے جھیڑ کر آج سے بہت سال پیچھے ماضی میں لے جاتے ہیں۔شعور کی رو کا کمال برتاؤ
    ایک شعر میں

    لے جاتے ہیں ماضی میں ہمیں دریا کنارے
    اشعار بخاری ترے ، ” نورنگا ” کے بارے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    آخر میں ایک محاکاتی اور مجموعی تاثر قائم کرتی عاصم بخاری کی ایک خوب صورت نظم
    اہالیان ِ نورنگا کے نام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    فخر ہے میرا مان ، نورنگا
    میرا دل میری جان، نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    اہل ِدنیا کو کیسے سمجھاؤں
    گاؤں کب اک جہان ، نورنگا
    ۔۔۔۔
    ہرطرف جس کے پانی ہی پانی
    دریا کے در میان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    تیرے باسی کہاں ، کہاں پہنچے
    تجھ کو دی رب نے شان نورنگا
    ۔۔۔
    لائق ِ داد محنتی سچ تو
    تیرا اک اک جوان نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    تیری شہرت کے چار سُو چرچے
    تجھ پہ رب مہربان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔۔
    تُو سبب ہے مرے تعارف کا
    تُو ہی ہے میرا مان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔۔
    دُھن کے عاصم بخاری پکے تھے
    گو تھے کچے مکان ، نورنگا
    ۔۔۔۔۔
    دُھن کے عاصم بخاری پکے تھے
    گو تھے کچے مکان ، نورنگا
    ***

  • حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    Dubai Naama

    اقوام متحدہ اور بل گیٹس فاؤنڈیشن نے 2025ء میں پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لئے چند ملین ڈالرز امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ (مقتدرہ) حکومت، اور عوام اسی پر مطمئن ہیں کہ سیلاب سے متاثرین کا کچھ افاقہ ہو گا۔ پاکستان کے صوبوں پنجاب، کے پی کے اور سندھ وغیرہ میں
    سیلاب آنے کی تباہ کاریوں اور جانی و مالی نقصان کا یہ سلسلہ آج کا نہیں ہے۔ جب سے مجھے یاد پڑتا ہے سنہ 70 سے آنے والے سیلابوں کے بارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر رواں خبریں سنتے آ رہے ہیں کہ فلاں بیراج سے اتنے کیوسک پانی گزر رہا ہے اور اتنا جانی و مالی نقصان وغیرہ ہو چکا ہے۔ جب سیلابوں کے یہ سلسلے تھمتے ہیں تو پھر عالمی ادارے، دوست ممالک اور ہمارے فنکار، کھلاڑی اور اداکار وغیرہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیئے جدوجہد کا آغاز کر دیتے ہیں۔ پاکستان میں نہری نظام اور ڈیمز یا تو انگریزوں نے بنائے تھے یا اس مد میں کچھ کام صدر ایوب خان کے دور میں ہوا تھا، جس سے سیلاب کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک 78 سال گزر جانے کے بعد بھی ہمیں اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ سیلاب آنے کی وجوہات کیا ہیں، انہیں ڈیمز بنا کر روکا جا سکتا، اس کا حل نہری نظام میں مزید اضافہ اور بہتری لانا ہے یا اس مسئلہ کا کوئی دوسرا حل بھی ہے۔

    اس حوالے سے امسال آنے والے شدید سیلاب کے بارے سوال اٹھایا جائے تو آج بھی لوگ "کالا باغ ڈیم” کے بننے اور نہ بننے پر بحث شروع کر دیتے ہیں یعنی کالا باغ ڈیم آج بھی "متنازعہ” نظر آتا ہے۔ ماضی میں مخالفین نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا تھا اور اب الزام بھارت پر لگایا جا رہا ہے کہ اس نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑ کر آبی "دہشت گردی” کی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف جو سب سے زیادہ طاقتور فوجی حکمران تھے، اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کالا باغ ڈیم مکمل نہیں کر سکے تھے۔ ہماری سپریم کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی ڈیم بنانے کے نام پر مہم شروع کی تھی اور وہ بھی کھا پی کر چلتے بنے تھے۔ کالا باغ ڈیم کے دشمنوں کا خیال یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم دراصل ترقی کا نہیں بلکہ پختونخواہ اور سندھ کی بربادی کا منصوبہ ہے۔ اگر یہ ڈیم بنا تو پشاور، چارسدہ، مردان، نوشہرہ اور صوابی کی ہزاروں ایکڑ زرخیز زمین پانی میں ڈوب جائے گی۔ صوابی کی گدون امازئی، ہنڈ، تورڈھیری اور کڈی کے بہت سے میدانی علاقے اور جہانگیری کی وہ زمینیں جو دریائے سندھ کے کنارے آج بھی بنجر پڑی ہیں، پانی کے قریب ہونے کے باوجود نہری نظام کی کمی سے پیاسی ہیں، وہ مزید تباہی کا شکار ہو جائیں گی۔ جبکہ سندھ کی زمین بنجر، کلر زدہ اور ڈیلٹا سمندر کے حوالے ہو جائے گی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کالاباغ ڈیم کے بننے پر متاثرین کو معاوضہ اور متبادل زمینیں ملنی ہیں جیسا کہ "منگلا ڈیم” کے متاثرین کو فیصل آباد، ساہیوال اور ٹوبہ ٹیک سنگھ وغیرہ میں زمینیں الاٹ کی گئیں تھیں جس کے متاثرین کئی کئی مربعہ جات کے مالکان ہیں جو آج تک ان زمینوں کی وجہ سے امیر بنے ہیں جن میں سے کچھ نے زمینیں مہنگے داموں بیچی ہیں اور کچھ آج بھی یہ زمینیں ٹھیکہ پر یا مزارعین کو دیتے ہیں۔

    بھارت نے پاکستان کی طرف پانی چھوڑنے سے دو دن پہلے آگاہ کیا تھا جو کہ ایک سٹینڈرڈ طریقہ ہے۔ پنجاب کے جن علاقوں میں اس وقت سیلاب آیا ہے وہ بالکل ہموار میدانی علاقے ہیں۔ ایسے میں ڈیمز بنانے یا ان کی مخالفت کرنے کا چورن بیچنے کی بجائے "واٹر مینجمنٹ” کا مطالعہ کرنا چایئے۔ ڈیم کبھی بھی ایسے ہموار علاقوں میں نہیں بن سکتے ہیں۔ پنجاب جیسے زرخیز علاقوں میں سیلاب کی روک تھام کے لیئے "جنگلات” اور "نہری نظام” میں اضافہ کیا جانا چایئے۔ پانی تو قدرت کی سب سے بڑی نعمت اور زندگی کا باعث ہے۔ اسے ہم اپنی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے آج تک اپنے لیئے "زحمت” اور "عذاب” بنائے ہوئے ہیں۔

    حالیہ سیلاب، نہری نظام اور ڈیموں کی اہمیت

    گوروں نے پنجاب میں دنیا کا سب سے پیچیدہ اور بڑا "نہری نظام” بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد آپ خود جانتے ہیں کہ ہم نے سیلاب کے پانی کو راستہ دینے، ڈیمز بنانے اور اس سے سستی بجلی پیدا کرنے میں کتنا کام کیا ہے؟ حالانکہ پانی ہی زراعت اور کھیت باڑی کے کام آتا ہے جو کہ پنجاب سمیت پورے پاکستان کی بقا کا "ضامن” ہے۔

    اس وقت پنجاب کو ایک اور جدید نہری نظام کی اشد ضرورت ہے اور اس نہری نظام کے ساتھ نیدرلینڈز کی طرز پر پانی کے ذخائر یا پھر بیراج، پانی کے نئے چینلز اور ڈائکس یا بندوں وغیرہ کی ضرورت ہے۔
    قیام پاکستان سے جتنے سیلاب اس وقت تک آ رہے ہیں اور مزید آنے ہیں ان سے بچاؤ فقط پاکستان کو نیڈرلینڈز (ہالینڈ) بنا دینے سے ممکن ہو گا۔ کیونکہ نیڈرلینڈز میں ہم سے زیادہ سیلاب آتے تھے لیکن انہوں نے اپنا آبی نظام ازسر نو ترتیب دیا اور صدیوں سے مشکلات پیدا کرنے والے سیلابوں کو مکمل نا سہی لیکن تقریبا روک لیا ہے۔
    راوی اور ستلج میں پانی نا آنے کی وجہ سے ہم لاپرواہ ہو چکے تھے۔ لیکن پچھلے دو تین سالوں سے سمجھ آ رہا ہے کہ راوی اور ستلج دونوں سے نئی نہریں نکالنے اور نئے بند بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح چناب کے اوپر بھی نئے بیراج تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو کہ نئی نہروں کے ذریعے سیلابی پانی کو تقسیم کر سکیں۔ اس وقت سیلاب کا جتنا پانی آ رہا ہے اس کو وسیع اور پیچیدہ نظام بھی فقط تب روک پائے گا جب بھارت ہمارے ساتھ تعاون کرے گا۔ جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہم بھارت سے آنے والے پانی پر ڈیمز بھی نہیں بنا سکتے ہیں تو اس کا بہترین واحد حل یہی ہے کہ نئے ڈیمز کی تعمیر کے علاوہ پنجاب میں نہری نظام کو وسعت دی جائے، جس سے زراعت میں بھی انقلاب آئے گا اور سیلاب کے مصائب سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

    سیلاب سے بچاو کا دوسرا موثر حل یہ ہے کہ ہم بھارت پر الزام تراشی کی بجائے خود اس کا خود حل ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔ جس جگہ سیلابی ریلے آتے ہیں اور جہاں دریا ہوں وہاں قریب قریب بھی آبادیاں نہ بننے دی جائیں۔ ورنہ اس سے بھی زیادہ تباہی دیکھنے کو ملے گی ایسی تباہی کہ جس کے زمہ دار صرف ہم نہیں ہوں گے بلکہ صحافی حضرات بھی ہوں گے جو جنگلات کی کٹائی اور غیر قانونی سوسائٹی سکیموں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں۔ عوام کو جنگلات اور نہری نظام کے اضافے کی آگاہی ہر قیمت پر دی جانی چاہئے ورنہ بادل اسی طرح پھٹتے رہیں گے اور جانی و مالی نقصان اسی طرح جاری رہے گا۔ ہم نے "کلاوڈ پرسٹ” کا نام کب سنا تھا؟ یہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے آنے کے بعد کی اصطلاح ہے۔ آئیندہ اس سے بچاو کے لیئے ہمیں ابھی سے تیاری کرنی چایئے۔

    یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ڈیمز کا کام سیلابی ریلوں کو روکنا نہیں ہوتا بلکہ ان کا کام ایک مخصوص حد تک پانی اسٹور کرنے کا ہوتا ہے، اس کے بعد سیلاب ہو یا نہ ہو ان کے اسپل ویز کھولنے ہوتے ہیں اور عموماً تمام ڈیمز نارمل حالات میں بھی تقریبا پانی سے بھرے رہتے ہیں۔ ایسے میں سیلابی ریلے آتے ہیں تو انہیں ڈیمز کے ذریعے روکنا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیلاب کی مقدار اور برداشت سے زیادہ پانی ڈیمز تک پہنچنے سے پہلے ہی مٹی کے بنوں کو بموں سے توڑنا پڑتا ہے۔ ہر ڈیم یا بند کی ایک کیپیسٹی ہوتی ہے اور سیلاب اور بارشوں کی کوئی کیسپیٹی نہیں ہوتی وگرنہ آج پاکستان میں مختلف بیراجوں و پلوں وغیرہ کو بچانے اور پانی کی مقدار کو منتشر کرنے کے لیئے بارودی مواد سے نہ اڑایا جا رہا ہوتا۔ لھذا
    سیلاب سے بچاو کا واحد اور دیرپا حل صرف ایک ہی ہے جو دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات بتاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ آبی گزرگاہوں کے قریب آبادیاں بنانے کی بجائے گھنے جنگلات اگائے جائیں تا کہ اس سے وہاں دلدلی زمینیں بن جائیں جو سیلابی ریلوں کی رفتار کو کم کرنے اور انہیں کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جدید نہری نظام کو متعارف کروایا جائے تاکہ سیلابی پانی کو کھپایا جائے اور اس سے فائدہ بھی اٹھایا جائے!

    Title Image by kp yamu Jayanath from Pixabay