Tag: جوگی

  • ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    اس موضوع پر لکھنا آسان نہیں ، اس لئے کہ جہالت ، ذاتی اور گروہی مفاد پر مبنی سیاست اور مولویت نے پاکستان میں کینسر کے مرض کی طرح پنجے گاڑھ رکھے ہیں ۔ حالت بہ ایں جا رسید کہ ایک مخصوص اور پیشہ ور ٹولے کے علاوہ کسی دوسرے کو اس وادی میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں بلکہ اگر کوئی ان سے رتی برابر اختلاف کرے تو فورا کفر اور غداری کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں ۔ بیشمار محب وطن سیاسی کارکن ، علماء اور صلحاء ، سیاسی سوجھ بوجھ اور علمی و تبلیغی استطاعت رکھنے کے باوجود ، جہالت مافیاء کے خوف سے  خاموشی کو ترجیع دینے پر مجبور ہوئے یا ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں ۔ 
    میں ، عالم ہوں نہ مولوی اور نہ ہی سیاست دان ۔  مجھے کسی فقہی یا شرعی مسئلے پر بات کرنی ہے اور نہ وعظ و نصیحت  بلکہ ایک عام پاکستانی شھری کی حیثیت سے جو دیکھ رہا ہوں ، محسوس کررہا ہوں ،

    معاشرے کی اس حالت اور سوچ پر اپنی رائے کا اظھار کرنا چاھتا ہوں ۔ 
    اس سے پہلے کہ بات کو آگے بڑھاوں ، اس قومی دکھ اور کرب کا برملا اظھار کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نام پر ، اللہ کے نام پر ، رسول اللہ ص کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ، بحیثیت مجموعی ہم سب نے اور بطور خاص نام نہاد ، مفاد پرست ، جھوٹے سیاست دانوں اور ان پڑھ اور مفتن ملاوں نے کیا ، اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے ۔ 
    میری باتیں تلخ ضرور ہونگی لیکن اگر آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے ،  گروہی و مسلکی عینکیں اتار کر ان پر غور کیا تو کوئی نقطہ آپ کو غلط نظر نہیں آئیگا اور حقیقت حال واضع ہوجائیگی ۔ 
    آپ کوئی بھی ٹی وی چینل آن کریں ، کوئی سا بھی اخبار یا رسالہ اٹھا کر پڑھیں ، کسی بندے سے گفتگو کریں ، ایسا محسوس ہوگا کہ پاکستان میں تو سب اولیاء بستے ہیں بلکہ یہی تو انبیاء کرام کی سرزمین ہے ۔ صبح شام ، اٹھتے بیٹھتے ، اسلام ، اسلام  اور اسلام کی گردان سننے کو ملیگی ۔ جس آبادی ، گاوں ، قصبے یا شھر میں چلے جائیں ،  خوبصورت مسجدیں اور ان کے 100 سو فٹ بلند مینار نظر آئینگے ۔ آذان کا وقت ہو تو لاوڈ اسپیکروں کا شور زلزلہ پیدا کردیتا ہے ۔ مذھبی تقریبات کی بھرمار ، جس طرف دیکھو پیر فقیر ، باوے اور  ڈھونگی اپنی اپنی دوکانیں چمکائے بیٹھے ہیں لیکن معاشرہ اخلاقی طور پر اندر سے اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ، 
    دودھ ، دہی ، گھی ، مصالحہ جات اور ادویہ سمیت کوئی بھی چیز خالص دستیاب نہیں ۔ ہر شے میں ملاوٹ ۔ 
    آٹا ، چینی اور سبزیاں تک غائب کردی جاتی ہیں اور عوام کو ان اشیاء کی عدم دستیابی یا بڑھی ہوئی قیمتوں کے خلاف جلوس نکالنے پڑتے ہیں ۔ 
    قصابوں کے ھاں بکنے والے گوشت ، (بالخصوص بڑے شھروں میں )  کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ۔ گدھے کا ہے یا کتے ذبح کئے گئے ہیں ۔ مرغیاں زندہ ذبح کرکے بیچی جارہی ہیں یا بیماری سے مرجانیوالے پرندوں کا گوشت بیچا جارہا ہے ۔ 
    ڈاکٹری جیسے مقدس اور محترم پیشے کی دکانیں قطار اندر قطار نظر آئینگی لیکن اندر قصائی اور دولت کے پجاری بیٹھے ملینگے جن کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت نہیں بلکہ بنگلے ، زمینیں اور مارکیٹیں کھڑی کرنا ہے ۔ 
    آپ کسی کنسٹرکشن ٹھیکیدار یا راج مستری کو ایک مرتبہ گھر میں آنے دیں پھر دیکھیں وہ آپ کی کیا درگت بناتا ہے ۔ 
    پورے ملک میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ تھانیدار اور پٹواری تو ویسے ہی بدنام ہیں ۔ آپ سوئی گیس ، بجلی ، پانی اور ٹیلیفون کا کنکشن تک بغیر جیب گرم کئے حاصل نہیں کرسکتے ۔ 
    چوری ، ڈاکے ، اسٹریٹ کرائم ، زنا ،  معصوم بچوں اور نہتی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور اغواء جیسے جرائم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔
    منشیات ، ناجائز اسلحہ ، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی جیسے گھناونے کاروبار کل بھی جاری تھے آج بھی جاری ہیں ۔ 
    آذادی اظھار رائے کے نام پر درجنوں ٹی وی چینلز اور اخبارات ، جھوٹ اور افواہ سازی کی فیکٹریاں نہیں تو اور کیا ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ” پیسہ ڈال تے بہہ جا نال ” ، جو خبر نشر کرانی ہو ، جس قسم کا بھی پروپیگنڈہ کرانا مقصود ہو ، پیسے کے زور پر ممکن ہے ۔ 
    معاشرے کی مکمل تصویر کشی کروں تو کتاب بن جائے ۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ؟ اگر کسی کی اولاد بگڑ جائے تو کہتے ہیں ، ماں باپ نے تربیت اچھی نہیں کی ۔ بتائیے اس سارے معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے ؟  ظاھر سی بات ہے جنہوں نے اس سوسائیٹی کو پروان چڑھایا ۔ سیاسی بگاڑ کے ذمہ دار سیاستدان اور مذھبی و اخلاقی اقدار کی پستی کے ذمہ دار وہ سب ، جو منبروں ہر بیٹھ کر فرقہ واریت ، توھمات ، شرک اور بدعت کی تعلیم دیتے رہے ۔ جنھوں نے بھائی کو بھائی سے لڑایا ۔ 
    مجھے حیرت ہوتی ہے جب یہ کہتے ہیں ، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا مگر اب یہ سیاستدانوں اور مولویوں کا قلعہ ہے جہاں عام آدمی ایک قیدی کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ اگر میں غلط کہ رہا ہوں تو آپ اپنے علاقے کے کسی سیاست دان یا مولوی کے خلاف آواز اٹھاکر دیکھیں ، لگ پتہ جائیگا ۔ 
    آپ اس معاشرے کی ذھنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں اور نوسربازوں کے حق میں جلوس نکلتے ہیں ، جلسے ہوتے ہیں ، ٹاک شوز میں سرعام ان کے غلیظ کرتوتوں کا دفاع کیا جاتا ہے ۔ اخبارات اپنی شہ سرخیوں میں انہیں ھیرو بناکر پیش کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ہم اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر اور 27 رمضان کو وجود میں آیا تھا لھذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ 

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی


    قارئین 
    اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں ۔ خدا اور رسول ص کے احکامات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں ۔ کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کرلئے ہیں کہ جن کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ اگر جواب ھاں میں ہے ۔  آپ ایک کامیاب ، مضبوط اور طاقتور قوم بن چکے ہیں تو ،  ضرور بندوقیں اٹھاکر دنیاء بھر کے مسلمانوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوں ۔ کفار کو چیلینج کریں لیکن اگر 73 برس بعد بھی کشکول ھاتھ میں ہے ۔ قرضوں کے انبار تلے دبے ہیں ۔ سوئی گیس ، بجلی ، آٹا اور چینی کے حصول کے لئے جلوس نکالنے پڑ رہے ہیں ۔ روزی روٹی کی تلاش کے لئے در بہ در ٹھوکریں کھارہے ہیں تو عزت اسی بات میں ہے کہ پہلے اپنے گھر کو سنواریں ، اپنے پاوں پر کھڑے ہوں اور اس کے بعد اس بات پر غور کریں کہ عالم اسلام میں کیا ہورہا ہے ۔ کس کس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور کیوں کیا ۔ پنجابی زبان کا ایک اور محاورہ یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” آپ نہ جوگی تے گوانڈ ولاوے "یعنی اپنے لئے گھر میں ہے کچھ نہیں اور گوانڈیوں کی مدد کرنا چاھتی ہے ۔ 
    آخر میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں لیکن اگر کوئی دوسرا ملک اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کا داخلی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاھئیے اور بلاوجہ ان پر تنقید کرکے باھمی تعلقات نہیں بگاڑنے چاھئیں ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ امہ یا امت مسلمہ کی اصطلاح  کتابوں اور شاعری کی حد تک درست ہے ۔ اس سے آگے یا پیچھے کچھ بھی نہیں لھذا اس چکر سے باھر آکر پاکستانی معاشرے کی اصلاح و ترقی اور توانائی کا علم اٹھائیں ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاھئیے کیونکہ ہم سارے مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ۔ 

  • دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    دھیان کی منزل( گزشتہ سے پیوستہ ) 
    آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اتنی کٹھن منزل کون طے کریگا جس میں گھر بار ، بیوی بچے ، روزگار ، لین دین غرضیکہ پورے کا پورا کاروبار حیات ہی ٹھپ کرنا پڑ جائے ۔ یہی سوال ذھن میں رکھتے ہوئے میں نے دھیان کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستے تجویز کئے ہیں ۔ ایک دائمی یا مکمل سنیاس اور دوسرا موقت یعنی عارضی ۔یاد رکھئیے دائمی سنیاس لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ  تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنیاسی ، تیاگی اور گیانی  جنہیں عرف عام میں ولی اللہ ، سینٹ (Saint)  یا بھگت کہا جاتا ہے ،  پیدائیشی طور پر اپنے اندر ایک مخصوص روح یا اسپیشل سوفٹ وئر ( Special Soft Ware ) لیکر اس دنیاء میں قدم رکھتے ہیں ۔ بھگتی اور ولائت کسبی نہیں کہ کسی ٹریننگ اسکول سے تربیت اور ڈگری لیکر ، ڈاکٹر اور وکیل کی طرح کوئی بھی شخص  ولی یا بھگت ہونے کا دعوی کردے  بلکہ یہ توعطائے خالق ہے ۔ اس ضمن میں فارسی کا ایک شعر یاد آگیا ، کہتے ہیں ، 
    ” ایں سعادت بہ زور بازو نیست .  تا نہ بخشد او خدائے بخشندہ ” 
    یعنی اس مقام و مرتبے تک رسائی انسان کے بس کی بات نہیں جبتک کہ عطاء کرنے والا ( مالک و خالق ) اسے بخشیش یا انعام کے طور پر از خود عطاء نہ کردے ۔ 
    قارئین کرام ،
    آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذھن نشین کرلیں کہ میری اس تحریر کا مقصد ہرگز  تصوف پر لیکچر دینا نہیں ، کیونکہ  ، یہ راہ بہت کٹھن ، پرپیچ ، اتنی عمیق ، دقیق اور پرخطر ہے کہ اگر کہیں ذرہ برابر لغزش ہوئی ، زبان یا قلم کے قدم پھسلے ،   تو انسان راہ راست سے بھٹک کر گمراہی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچتا ہے اور یہ کہ ، تصوف پہ گفتگو اور اسے سمجھنا  عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ 
    مضمون کی ابتداء میں لکھا ، زندگی کیا ہے ، کیا کبھی اس بات پر غور کیا  ؟   پیدائیش سے موت یا ماں کی کوکھ سے قبر کی آغوش تک کا سفر ، عجیب سلسلہء واردات ہے  جسے ہم کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گزار دیتے ہیں ۔ زمانہء حال میں جدید مشینوں کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور  آبپاشی کے لئے زیر زمین سے پانی کھینچ کر کھیت تک پہنچانے کے لئے بجلی کی موٹریں اور پمپ ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے بٹن کو دبائیں تو پانی خود بہ خود کھچ کر ایک جستی نالی یا پائپ کے ذریعے باہر آجاتا ہے جبکہ کچھ ہی زمانہ پہلے الیکٹرک موٹر اور واٹر پمپ کی بجائے رھٹ میں بیل جوت کر یہ ضرورت پوری کی جاتی تھی ۔ بیل کی آنکھوں پر کھوپے یا پٹی باندھ دیتے تھے  تاکہ وہ دائیں بائیں ، ادھر ادھر  نہ دیکھ سکے ، اسے یہ علم ہی نہ ہو  کہ وہ کس سمت میں سفر کررہا ہے لھذا عالی مرتبت بیل  چار سے چھ گنٹے تک ، اس وہم اور خوشی میں گھومتا  رھتا تھا کہ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی نئی منزل تک پہنچ جائیگا  لیکن اے کاش ایسا ہوتا ۔ اسے کیا معلوم کہ آنکھوں پر بندھی پٹی اسے احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ سیدھی سمت میں سفر کرنے کی بجائے گول گول گھوم رہا ہے ۔ اس کا مالک جب کھیتوں کو سیراب کرنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی ھٹاتا ہے تو بیچارہ بیل اپنے آپ کو اسی جگہ کھڑا پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاذ کیا تھا ۔ یاد رکھیں ” دھیان ” یا غور و فکر کے بغیر بسر کی جانیوالی زندگی بھی  رھٹ کے اس بیل کی حالت جیسی ہے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا نظر آتا ہے ۔ 
    دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ  مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو  بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔  اس کے ساتھ ساتھ ،  کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور  سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے  ۔ اٹھنا ، بیٹھنا ،سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور بچے پیدا کرنا توجبلت  (Instinct) یا خداداد صلاحیت ، اہلیت اور ضرورت ہے اس کا عقل و خرد اور سوچ بچار سے کیا واسطہ ،   یہی سب کچھ تو حیوانات اور چرند پرند بھی کرتے ہیں بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی سے ملتی جلتی ،  کئی ایک جبلی  خصوصیات ( Inherited Values ) تو عالم نباتات میں بھی پائی جاتی ییں ۔ مثلا ،  پودے ، پھول ، جڑی بوٹیاں اور درخت سب کے سب پیدا ہوتے ہیں ، جنم لیتے ہیں  ، بیمار پڑتے ہیں ۔ ان پر بھی ،  بچپن ، لڑکپن اور جوانی طاری ہوتی ہے ۔ خوراک اور پانی انہیں بھی درکار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ کھاد کی شکل میں مختلف وٹامنز کے طلب بھی رکھتے ہیں ۔  بیماری ان پر بھی حملہ کرتی ہے . انہیں باقائدہ دواء دارو کی حاجت پیش آتی ہے ۔ پھل ، پھول ، پتوں اور بیج کے نام سے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔   آپ جانتے ہونگے کہ عالم نباتات ،  یعنی  درختوں اور پودوں میں بھی انسانوں اور حیوانات کی طرح ،  نر ( Male ) اور مادہ ( Female )کی تخصیص و تفریق موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ نر کم اور مادہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں اور انہی کے بطن سے پھل ، پھول یا بچہ پیدا ہوتا ہے  ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں موجود پھل دار درخت پھل نہیں دیتے اور بعض کے پھل ابتدائی حالت میں گرجاتے ہیں ۔ پھل بالکل نہ لگنے کی صورت میں جان لینا چاھئیے کہ یہ درخت نر , یعنی (Male Tree ) ہے ۔ اور کچا پھل گرجانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قریب میں کوئی نر ، Male درخت موجود نہیں کہ جسکا تولیدی مادہ یا ( Pollen ) اسے درکار ہے ۔  
    اس ساری بحث سے مراد اس نکتے کو سمجھنا ہے ،  کہ جبلی طور پر انسان ، حیوان اور نباتات کئی ایک مشترکہ جبلی ( Instinct )  خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوصف حیوانات  و نباتات اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان کو خالق کائنات نے عقل کے نام سے ایک اضافی خوبی یا خاصیت عطاء کی ہے ، کہ جس کی مدد سے وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ حیوانات اور نباتات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرسکتا ہے جبکہ اول الذکر فقط قانون قدرت کی پابندی سے ،  سوچ و سمجھ اور آذادانہ فیصلے کی قوت سے محروم رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی فلسفے کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے :
    ” تقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکام الہی کا ہے پابند ” 
    اقبال کہتے ہیں تقدیر اور مقدر کی پابندی صرف درختوں ، پودوں ،  پہاڑوں ، چٹانوں ، ٹیلوں اور ان دیگر مخلوقات پر عائد ہوتی ہے کہ جو سوچ اور سمجھ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کسی ایک جگہ پر مقید ہوکر زندگی گزارنے کے پابند ہیں جبکہ انسان مکمل طور پر آذاد ہے اور یہ آذادی اسے اس کی ساخت اور عقل نے عطاء کی ، وہ نباتات کی طرح ایک جگہ رک کر یا جمادات کی طرح بے جان اور ساکن و ساکت رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کا جیون احکام الہی کا پابند ہے ۔ 
     دھیان کے اس اسٹاپ تک پہنچنے پر  علم ہوا ،  کہ اگرچہ ، انسان ، حیوان اور نباتات ، جبلی طور پر بعض مشترکہ بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس جنکشن یا دوراہے سے انسانی گاڑی ” عقل ” کا انجن لگاکر الگ لائین پر چڑھ جاتی ہے ۔ اس کا راستہ الگ ہوجاتا ہے اور یہیں سے آگے  اس ایکسپریس کو دنیاء نے  ” اشرف المخلوقات "( The Most Honorable Creatures )کے نام سے جانا ، پہچانا اور مانا ۔ 
    اس مقام تک آکر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، عقل اور ارادہ ، انسان کو حیوانات و نباتات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ،  کیا عقل چند لوگوں کے حصے میں آئی یا ہر انسان کو عطاء کی گئی ۔ جواب یقینا یہی ہوگا کہ تمام بنی آدم اس نعمت خداوندی سے مستفید ہیں ،  الا  وہ محدودے چند افراد ،  کہ جو ذھنی امراض ( Mentle Disorder) کا شکار ہوں ۔  جب ایسا ہی ہے ،  سب انسان عقل کے مالک ہیں ۔ قدرت نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے یکساں طور پر نوازا ہے تو کاروبار حیات کے رنگ اور روپ  مختلف کیوں ہیں ۔ 
    ( بحث جاری ہے )

  • دھیان ،  گیان اور نروان (قسط اوّل)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط اوّل)

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کبھی غور کیا ، زندگی کیا ہے ؟

    بہت کم لوگ دنیاء میں ایسے ہوئے کہ جنہوں نے اس موضوع پہ غور کیا ، اس کی حقیقت کو جانا اور پھر اس کے چھپے راز اور رموز اوروں تک پہنچائے ۔ یہ موضوع جسقدر دلچسپ ہے اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل بھی ۔ شاید اسی لئے چند گنے چنے لوگ ہی اس طرف متوجہ ہوئے جنھیں عالم مسیحیت میں سینٹ ( Saint ) یا مقدس شخص ، اسلام میں ولی اللہ ( Wali Allah )، یہودیت میں راھب ( Rahab ) اور کاھن ( Ka’han ) ، ھندو مت میں رشی ( Rashi) ، منی ( Muni ) ، یوگی ( Yogi ) اور سنیاسی ( Sanyasi ) ، بدھ مت میں ارہت ( Arhat ) اور مہاتما ( Muhatima ) ، جبکہ سکھ ایسے شخص کو بھگت ( Bhagtt )کہ کر پکارتے ہیں ۔ یہ القاب و خطابات انہیں اس لئے دئیے گئے کہ ان افراد نے زندگی کا راز پانے کی خاطر ، دنیاوی عیش و آرام ، مال و دولت اور ازدواجی زندگی تک کو ترک کرکے ، آبادیوں سے دور ، پہاڑوں ، جنگلوں اور ویرانوں کو اپنا مسکن بنایا اور من کی جوت جگاکر اس حقیقت کا کھوج لگانے میں مشغول رہے جسے ہم عرف عام میں زندگی کہتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دنیاء بھر میں موجود مختلف مذاھب کی خانقاھیں ، چلہ گاھیں ، مزار ، معبد اور متبرک مقامات آبادیوں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ، جنگلوں اور دشوار گزار مقامات پر پائے جاتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔

    عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ ایسے افراد دراصل اللہ ، بھگوان ، یزدان ، خدا ، ایشور یا گاڈ (GOD) کی قربت حاصل کرنے کی خاطر اس

    ریاضت , تپسیا اور Exercise کو اپناتے ہیں , اگر ایسا ہے تو یہ قرب ، مسجد ، مندر ، دھرم شالا ، چرچ ، گوردوارے اور سینی گوک میں بیٹھ کر مالا جپنے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے ترک دنیاء اور ویرانوں میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    اس سوال کا عام فہم اور سادہ جواب یہ ہے کہ اللہ کا قرب آخری اسٹاپ ہے ۔ اس تک پہنچنے کے لئے ایک طویل اور دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ قرب الہی حاصل کرنے سے پہلے ، عرفان زیست حاصل کرنا اولین شرط ہے ۔ جسطرح میٹرک کئے بغیر ایف اے ، ایف اے کئے بغیر بی اے اور بی اے کئے بغیر ایم اے کی سند حاصل نہیں ہوسکتی بعینہہ اسی طرح زندگی کو سمجھے بغیر ، زندگی پیدا کرنے والے خالق اور مالک تک رسائی ممکن نہیں ۔ پہلے مخلوق کو پہچانو ، اس کا شعور حاصل کرو تب جاکر کہیں خالق کے وجود سے آشنائی حاصل ہوگی ۔

    اگرچہ اسلامی دنیاء میں ، تصوف یا مسلک صوفیاء ، ایک متناذعہ موضوع ہے اور علماء اسلام کا ” ایک بڑا گروہ ” اس کی حقیقت اور ضرورت سے واضع طور پر انکار کرتا ہے لیکن جب ہم دیگر ادیان اور مذاھب پر نظر دوڑاتے ییں تو ہمیں ہر جگہ تصوف کی مختلف شکلیں موجود نظر آتی ہیں ۔

    میرے نزدیک تصوف ایک راستہ ہے ، کھوج لگانے کا ، تلاش کا ، حقیقت آشنائی کا ، حصول علم کا ، اس لئے اس کی مخالفت یا اسے کفر قرار دینا ، اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ٹھہرتا ہے اور وہ اس لئے کہ خود قرآن نے کئی آیات میں غور و فکر کی بار بار دعوت دی ہے ۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ تصوف سے میری مراد پیری فقیری ، تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک نہیں بلکہ غور و فکر اور تلاش حقیقت ہے ۔ مخلوقات پر غور و فکر سے منکشف ہونے والی ٹھوس حقیقتیں ہی آپ کے اندر خالق کائنات ( Creator of Universe ) کے تصور اور عقیدے کو مستحکم کرتی ہیں ۔

    اس راہ پر چلنے والوں کو تین مناذل سے گزرنا پڑتا ہے ،

    1۔ دھیان – ( غور و فکر )

    2۔ گیان – ( آگہی )

    3۔ نروان – ( نجات یا چھٹکارہ )

    دھیان کی منزل کیا ہے ؟

    اس سے قبل اولیاء اللہ ، سنیاسیوں اور بھگتوں کی بات ہورہی تھی کہ وہ کیوں سنیاس لیکر ویرانوں میں جابسے تو عرض ہے کہ ، انہوں نے زندگی کا گیان حاصل کرنے کی خاطر ویرانوں کا انتخاب کیا تاکہ روزمرہ کے ھنگاموں سے آذاد ہوکر اس مسئلے پر غور کیا جائے اور حقیقت تک پہنچ سکیں ۔ یاد رہے دھیان یا غور و فکر کے لئے کامل ارتکاذ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جسکا حصول ھنگامہ خیز زندگی میں ممکن نہیں ۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آپ کسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر موجود ہوں اور فون کال آجائے تو وہ جگہ چھوڑ کر علیحدگی اور تنہائی میں جاکر بات سنتے ہیں تاکہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھ سکیں ۔ اس مثال سے اندازہ لگالیں کہ اگر ایک عام آدمی کی فون کال سننے کے لئے ھنگامے سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے تو زندگی کی حقیقت کو جاننے کے لئے کیا کیا ضروری ہوگا ۔ اگر یہاں تک میں اپنی بات واضع کرسکا ہوں تو اب یہ بھی جان لیجئیے کہ ابدی حقیقتوں کو پانے کے لئے عمومی شور و غل اور بھیڑ بھاڑ سے ہی بچنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مکمل یا موقت سنیاس لینا پڑتا ہے ۔ گھر بار ، بیوی بچے ، نفع نقصان اور دنیاوی لین دین ، سب کے سب ھنگامے ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے ارتکاذ توجہ پیدا کرنا ممکن ہی نہیں ۔

    ( جاری ہے )