Tag: تراپ

  • ڈرائی پورٹ تلہ گنگ

    ڈرائی پورٹ تلہ گنگ

    ڈرائی پورٹ تلہ گنگ


    ملک محمد فاروق خان

    محمد اعجاز جسیال کو تلہ گنگ کی ترقیاتی محبت کا سفیر کہا جا سکتا ہے جو ہر دم تلہ گنگ کوعلمی،سیاسی،معاشی اور صنعتی طور پر آگے بڑھانے میں پر جوش اور مستعد نظر آتے ہیں ۔علاقائی خوشحالی کے خواب بنتے ہیں اور ان کی تعبیر ڈھونڈتے ہیں ۔ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی Success Story نہ بنا سکے ہوں لیکن مثبت اور ترقیاتی سوچ بھی وژن کا صدقہ ہوتا ہے۔

    ڈرائی پورٹ تلہ گنگ


    تلہ گنگ کے ٹھہرے اور رکے ہوئے منجمند ترقیاتی سفر میں سماجی اور عوامی حلقے ضلع تلہ گنگ کی فعالی کے لئے سیمینارز کر رہے ہیں اور عوامی سہولت کے لئے ضلع تلہ گنگ کی فعالی کی تحریک کو نوجوان جذبوں کے حوالے کرکے اسے نتیجہ خیز بنانے جا رہے ہیں لیکن ضلع تلہ گنگ کی فعالی کے گلے میں منافقت کا تعویذ ہے جسے اتارنا ضروری ہے۔ کچھ احباب کا خیال ہے کہ ضلع تلہ گنگ کا کریڈٹ مسلم لیگ ق، چوہدری پرویز الٰہی اور حافظ عمار یاسر کو جاتا ہے لہذا اس کی فعالی کو آئیندہ الیکشن تک موخر رکھا جا ئے اور الیکشن سے پہلے اسے فعال کرکے اس کا سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے۔ کچھ با خبر حلقوں کے مطابق مسلم لیگ ق بھی ضلع تلہ گنگ کی فعالی موخر رہنے کو سیاسی طور پر سود مند سمجھتی ہے تاکہ حکومت پر عوامی پریشر بڑھتا رہے اور اس کی فعالی کا کریڈٹ بھی موجود حکومت نہ لے سکے۔
    محمد اعجاز جسیال تلہ گنگ میں موجودہ حکومت کے مقامی سیاسی قیادت کا حصہ ہیں ان کے لئے ڈرائی پورٹ کے منصوبے کے پی سی ون کی مصدقہ کاپی کاحصول مشکل نہیں ہے ویسے بھی وہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ کے آئی ایس ایس بی کے بیج فیلو ہونے کا کلیم بھی کرتے ہیں انہیں تلہ گنگ کی ترقی کے لئے "شنید” سے کام نہیں چلانا چاہئے۔ انہیں علاقائی خوشحالی اور بے روزگاری میں کمی کے لئے ڈرائی پورٹ کے پراجیکٹ کو اپنی حکومت اور قیادت کے سامنے رکھنا چاہیے۔
    ان کی ایک تحریر کے مطابق پاکستان میں دو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کا ایم او یو سائن ہو چکا ہے جس سے دو ڈرائی پورٹ تعمیر ہوں گے۔ ان میں سے ایک کی تعمیر تلہ گنگ میں ہونے کا دعوٰی کیا جا رہا ہے۔ ایک ڈرائی پورٹ لاہور سی پیک کے شرقی روٹ میں تعمیر ہوگا جس سے پورے ملک میں سپلائی جاتی ہے اس روٹ سے انڈیا کو بھی سپلائی جا سکتی ہے۔جبکہ دوسرا ڈرائی پورٹ سی پیک کے غربی روٹ پر تعمیر ہوگا یہ روٹ کراچی اور شاہراہ کابل پر ہے۔
    محمد اعجاز جسیال کے مطابق چونکہ سی پیک کا غربی روٹ تلہ گنگ کے قریب ہے اس لئے شنید ہے کہ دوسرے ڈرائی پورٹ کی تعمیر تلہ گنگ میں ہو۔ خبر تو انتہائی خوش آئند ہے اور تلہ گنگ کی ترقی کے لئے اس کی بڑی اہمیت ہو سکتی ہے لیکن زمینی حقائق ڈرائی پورٹ کے پراجیکٹ کے لئے تراپ انٹرچینج کو زیادہ فزیبل قرار دے رہے ہیں۔
    اکوال سے تراپ سی پیک روڈ دفاعی اور صنعتی اعتبار سے انتہائی اہم ہے جو پنجاب اور سرحد کو کم وقت میں ملانے والی راہداری بھی ہے۔ موٹر وے اور سی پیک کو لنک کرنے والی روڈ مستقبل قریب میں نہ صرف اکوال ٹمن روڈ کی ترقیاتی حیثیت کو بدلنے والی ہے بلکہ پورے علاقے کی خوشحالی کا سبب بنے گی ۔یہ روڈ کمرشل تو ہو رہی ہے لیکن جلد اس روڈ کو صنعتی حیثیت حاصل ہو جاۓ گی۔یہ روڈ علاقائی اقتصادی گیٹ وے بننے جا رہی ہے۔اس روڈ کی دفاعی اہمیت پہلے سے موجود ہے لیکن سی پیک اور موٹر وے کو لنک کرنے اور پنجاب سرحد کی راہداری کے سبب اس کا مستقبل دفاعی لحاظ سے بھی اہم ہونے جا رہا ہے۔
    جب ڈیرہ اسماعیل خان سی پیک شروع ہونے لگا تو با خبر ذرائع اسے ٹمن اور ملتان خورد کے درمیان یا ملتان خورد سے مغرب کی طرف سے گزرنے کی اطلاع دے رہے تھے لیکن عملی طور پر اس کی تعمیر تراپ اور انجرہ کے درمیان میں ہوئی جس سے علاقائی طور پر محرومی کا احساس پیدا ہوا اور سیاست دانوں پر علاقائی ترقی سےعدم دلچسپی کا الزام آیا۔
    سی پیک پر تراپ انٹرچینج اور اس کے نزدیک با خبر اور با اثر انوسٹرز کی انتہائی سستے داموں بنجر اور ناکارہ زمین کی وسیع پیمانے پر خریداری ہوئی لیکن اس خریداری کا سبب واضع نہ ہوسکا کہ اتنا وسیع رقبہ کیوں خریدا جا رہا ہے اور سی پیک کو ٹمن ملتان خورد کے درمیان سے نہ گزارنے کی کیا وجوہات تھیں اس کی کہانی بھی موجود ہے؟

    مجوزہ ڈرائی پورٹ کے منصوبے کے لئے تراپ انٹرچینج بہترین آپشن ہے۔ جوکہ ٹیکنیکل گراونڈ پر بھی نہایت موزوں ہے۔ اس ڈرائی پورٹ کو انجرہ ریلوے اسٹیشن سے لنک کیا جا سکتا ہے۔اگر علاقے کو کوئی ویژن والا قائد نصیب ہو جائے تو مکھڈ کے ٹھہرے ہوئے گہرے پانی والے دریا کے قریب سی پورٹ بنا کر علاقے کو گہرے سمندر کی تجارت سے منسلک کر سکتا ہے ۔ گزشتہ ادوار میں کراچی بندرگاہ جھرک سے منسلک تھی، جہاں سے تجارتی بحری جہاز سیدھے مٹھن کوٹ اور پھر مکھڈ جاتے تھے۔مکھڈ کے مقام پر سندھ کا خاموش پانی پنجاب کو خیبرپختونخوا سے الگ کرتا ہے۔
    ایران کا شہنشاہ دارا کا امیر البحر بھی آبی راستوں کی تلاش میں مکھڈ سے گزرا تھا۔مکھڈ اس وقت ہندومت کا بہت بڑا مرکز تھا۔مکھڈ کے آبی راستوں کو قومی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔
    تراپ انٹرچینج پر ڈرائی پورٹ اور سی پورٹ بنانے کے فزیبل آپشن موجود ہیں۔اس کے لئے عمومی طور پر ٹمن تلہ گنگ روڈ لاجسٹک روڈ کے طور پر استعمال ہوگی۔اس پراجیکٹ کو فزیبل کرانے اور اس کی لانچنگ کے لئے اعلی سطحی حکومتی اور سیاسی ایڈوکیسی کی ضرورت رہے گی۔
    ضلع تلہ گنگ کی معاشی اور صنعتی ترقی کا درخشاں مستقبل تلہ گنگ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی وساطت ،دلچسپی اور ذمہ داری سے آگے بڑھے گا۔ تلہ گنگ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کو اٹک چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے باہمی تعاون سے تلہ گنگ و اٹک کی اقتصادی اور صنعتی ترقی کے لئے ڈرائی پورٹ کو تراپ انٹرچینج پر تعمیر کرانے کی منظوری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈرائی پورٹ تلہ گنگ بنے،تراپ انٹرچینج پر بنے جہاں بھی بنے علاقائی خوشحالی اور قومی ترقی کا گیٹ وے ہوگا۔
    تلہ گنگ چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹریز کا ابھی ہنی مون پیریڈ چل رہا ہے لیکن چیمبر کی قیادت کو اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے لئے ڈرائی پورٹ اور سی پورٹ کے قیام کا چیلنج قبول کرنا چاہئے۔

    Title Image by Markus Distelrath from Pixabay

  • ملتان کا سلطان

    ملتان کا سلطان

    ملتان کا سلطان


    یہ کالم میری یاداشت اور معلومات پر مبنی ہے میں گاوں میں نہیں رہتا اگر کوئی نام رہ گیا ہو معذرت۔ملتان خورد مرکز کونسل ٹمن اور تحصیل تلہ گنگ کا معرو ف کاروباری مرکز ہے۔ملتان خورد سے اسلام آباد ایر پورٹ193کلو میٹر اور ڈرائیونگ ٹائم2.51 گھنٹے ہے۔ ملتان خورد ایم2موٹر وے بلکسر انٹرچینج سے مغرب کی طرف 70.8کلو میٹر پر واقع ہے ڈرائیونگ ٹائم1.27گھنٹہ ہے۔تلہ گنگ سے۔42.2 کلومیٹر ڈرائیونگ ٹائم56 منٹ ہے۔ملتان خورد تحصیل تلہ گنگ کا تیسرابڑا گاوٗں ہے۔کاروباری ترقی میں تحصیل بھر میں نمایاں ہے۔انجرہ کے قریب سے گزرنے والے سی پیک کے تراپ انٹر چینج سے ملتان خورد کی ترقی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔باہر سے آئے ہوئے پراپرٹی انوسٹرز بھی زمین کی خریداری کر رہے ہیں۔زمین کا ریٹ اسلام آباد کے قریب قریب ہے۔ ملتان خورد کے مشرق میں ٹمن،مغرب کی طرف شاہ محمدوالی، تراپ اور انجرہ ہیں۔شمال کی طرف کوٹگلہ، کوٹ شیرا،پچند، اور لاوہ ہیں جنوب کی طرف جبی شاہ دلاور، کوٹیڑہ ہے۔
    ملتان خورد میں ملک،اعوان،عطرال،مبال،کسمال،نواب خیل،گھاڑا برادری،مصاحب خیل، میال،سید،ترڈھ، ارائیں اور انصاری براریاں آباد ہیں۔ملتان خورد میں اگر کسی الیکشن میں ارائیں اور انصار ی برادری متحد ہوگئی تو روائتی سیاست دم توڑ دے گی اور کئی سیاسی نامور گمنام ہو جائیں گئے۔کئی ڈیرے ویران اور کئی سیاسی دوکانیں بند ہو جائیں گی۔ ملحقہ دیہاتوں کی اکثریتی آبادی یہاں منتقل ہو رہی ہے جس وجہ سے گاوں تیزی سے شہر میں بدل رہا ہے۔کاروباری اور زرعی شعبہ میں پٹھان بھی اس علاقے میں نمایاں ہو رہے ہیں۔سیاسی لحاظ سے ہر کوئی آزاد ہے اور مرضی کے فیصلے کرنے میں خود مختار ہے۔ملتان خورداردو اور فارسی میں پڑھا اور لکھا جاتا ہے۔(خور کے معنی کھایا ہوا مجازاً۔جبکہ اُجاڑا یا برباد کیا ہوا۔ وزن،عمر جسامت، قامت یا مرتبہ وغیرہ میں دوسرے سے کم چھوٹا) دو ایک جیسے ناموں کو علیحدہ پہچان دینے کے لیئے فارسی کے لفظوں کا استعمال کیا گیا ہے۔کلاں اور خورد یعنی بڑا اورچھوٹاملتان۔ایک غیر مصدقہ روایت کے مطابق ملتان کلاں کے اعوان نے یہاں آ کر ملتان خورد آباد کیا تھا۔یہاں کی آبادی کی مادری زبان پوٹھواری پنجابی ہے اب اردو بھی بولی جاتی ہے۔یہاں تمام معروف سکولز کی برانچیں موجود ہیں جبکہ مکہ کمپلیکس کی کثیر المنزلہ عمارت سے گاوں کو شہر میں بدلنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستان بننے سے پہلے یونین کونسل کے دفتر والی گلی میں مین بازار ہوا کرتاتھاجس میں ہندوں کی دوکانیں تھیں۔خرگوش اور تیتر کا شکار عام تھا شکاری کتے رکھے جاتے تھے۔ سردیوں میں لاوہ سے نواب زاہد ممارز اورپشاور،نوشہرہ سے لوگ خرگوش کے شکار کے لیئے آتے تھے، اب بھی سردیوں میں باز کے ساتھ تیتر کے شکار کے لیئے ملتان کے مخدوم ملتان خورد میں شکار کے لیئے آتے ہیں۔ سردار منصور حیات ٹمن جب امریکہ سے تعلیم مکمل کرکے سیاست میں آئے تو انہوں نے بھی ملتان خورد کے بیلوں کے جلسوں میں شرکت کی۔ ملک محمد نواز کا (کالا بیل)علاقائی طور پرمعروف تھا۔ملک مظفر خان نے بھی علاقائی ثقافت اور تفریح کو قائم رکھا ہوا ہے،نیزہ بازی اور جبی شاہ دلاور کا میلہ علاقائی تفریح اور ثقافت کا حصہ رہے ہیں۔ملک محمد نواز اور ملک مظفر خان کا ذکر اگر مرزا خان نواب خیل کے بغیر کیا جائے تو یہ ثقافتی تاریخ نا مکمل ہوگی داندوں کے جلسوں میں نواب خیل برادی کو اگر ثقافتی اکیڈیمی کا درجہ حاصل ہے۔ملک محمد خان سلاری اور ملک محمد اسلم بھی اس ثقافت کا حصہ ہیں۔

    ملتان کا سلطان
    Images copyrights to their respective owners

    صادق ہوٹل والے کے گھر سے بس سٹاپ شروع ہوا۔حاجی غلام رسول گھاڑا کا ملتان خور دپر احسان ہے کیونکہ ملتان خورد کی مین سڑک پر اندھا موڑ تھا۔ شوکت عطرال کے چوبارے کے مغرب کی طرف سڑک دائرے کی شکل میں گھوم کر پھر مین سڑک سے ملتی تھی یہ اندھا موڑ تھا ریت کی وجہ سے بسیں عموماً پھنس جاتی تھیں۔اُس وقت حاجی غلام رسول گھاڑا نے سڑک کے سامنے والے گھر متبادل جگہ شفٹ کرکے انہیں گرا کر سڑک کو سیدھا کیااگر یہ اندھا موڑ ختم نہ ہوتا تو ملتان خورد کے مین بازار کی آمدورفت میں مشکلات ہوتیں۔حاجی غلام رسول گھاڑاکا بڑا سیاسی ویژن تھا جس کے تحت انہوں نے شہر کی خوبصورتی اور عوامی سہولت کے حوالے سے بنیادی کام کیا۔ ملتان خورد کی سیا ست علاقائی سیاست پر اثر انداز رہتی ہے۔یہ عجب اتفاق ہے کہ ایم این اے ٹمن میں دستیاب ہوتے ہیں لیکن سیاسی شعور ملتان خورد میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں سیاسی دھڑے انتہائی متحرک رہتے ہیں سیاسی وفاداری اور سیاسی دھڑا بندی میں کسی حد تک جا سکتے ہیں۔
    ملتا ن خورد کے بریگیڈیر (ر) اافتخار احمد شاہد اعلی عسکری عہدے تک پہنچے، ایئر فورس کے ملک امیر خان۔لیفٹنٹ کرنل عبدالعزیز، وائس چانسلر،ڈین،چیئرمین، پروفیسر،ڈاکٹر حیات محمد پی ایچ ڈی بہاوالدین یونیورسٹی ملتان بھی ملتان خورد کے پہلے پی ایچ ڈی ہیں۔صابر شاہ کی بیٹی،مشتاق بخاری اور انجینئر اشفاق شاہ کی بھانجی نے حال ہی میں امریکہ سے فزکس میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ملتان خورد کے پہلے ایم بی بی ایس ڈاکٹرکیپٹن ڈاکٹر فتح شاہ اورسلطان شاہ شہزاد پہلے بیوروکریٹ ہیں۔غلام رسول جا ن واحدی (ر)جوائنٹ سیکرٹری الیکشن کمیشن بھی ملتان خورد سے ہیں۔ضلع چکوال کے پہلے روزنامے کے چیف ایڈیٹر اور پبلک لمیٹڈ کمپنی کے سی ای اوملک محمد فاروق خا ن کا تعلق بھی ملتا ن خورد سے ہے۔پہلے چارٹر اکاوٹنٹ عبدالجبارتھے۔1965 کے شہید صوبیدار کرم شاہ 6 ایف ایف۔پہلے پائیلٹ محمد عثمان ہیں۔پہلے انجینئر الطاف حسین،ملک محمد نواز اور اشفاق شاہ ہیں۔ملتا ن خورد کی معروف شخصیت مستری محمد دین جو بغیر کسی ڈگری کے مکینکل انجینئر تھے ساری زندگی علاقائی خدمت کی۔ہیڈ ماسٹر ممتاز علی شاہ ملتان خورد کی معزز شخصیت تھے۔اساتذہ میں انگلش ٹیچر محمد اکر م معروف ہیں۔جب طبی سہولتوں کا فقدان تھا اس وقت حکیم عبدالصمد،حکیم عمر خان اور حکیم غلام شاہ اور ایلوپیتھی کے زمانے میں ڈاکٹر احمد شاہ نے علاقائی خدمت کی۔ملتان خورد صنعتی شہر ہوتا اگر ہم نے اللہ کے دوستوں (ہاتھ سے کام کرنے والے) کو کمی کہہ کر اُن کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا ہوتا تو ہمارہ صنعتی ورثہ قائم ہوتا،نوجوانوں کو صنعتی شعور ملتا اور وۂ نوکریاں ڈھونڈھنے کی بجائے صنعتیں لگانے کا سوچتے۔
    مکھڈ اور میرا شریف کے دربار روحانی طور پر علاقائی سیاست پر اثر انداز رہتے ہیں۔ملتان خورد میں ہندوں کی ماڑی اور باولی(واں) اب بھی کسی شکل میں موجود ہے۔ ملتان خورد کی سب سے اونچی اور قدیمی مسجد محلہ سگھر ال میں ہے۔ملتان خورد میں ڈھیری پر چمڑا رنگا جاتا رہا ہے،مٹی کے برتن بنانے کی بھٹیاں اور کپڑا بنانے کی کھڈیاں تھیں،زری چپل،سرسوں کا تیل بنانے کے کوہلو تھے۔ یہ گھریلو یا مقامی صنعتیں قومی صنعتوں میں بدل چکی ہوتیں۔اب اگر کھڈیوں پر کپڑا بن رہا ہوتا تووۂ دنیا کا نایاب کپڑا ہوتا (سلارے اور ست کنی والی شلواریں)اورہمارے بے روزگار نوجوان DRAZ پر آن لائین بیچ رہے ہوتے۔امریکہ میں ہوٹلوں پر مٹی کے برتنوں کا رواج بڑھ رہا ہے مٹی کے برتن پاکستان سے جا رہے ہیں۔
    ملتان خورد کی سیاست میں تناؤ حاجی غلام رسول اور حکیم ریاض احمد کے زمانے میں رہا۔ملک اکبر خان، ملک شاہ پسند،ملک زمرد خان،حافظ جامی گل چیئرمین یونین کونسل رہے جبکہ ملک محمد حیات ایڈوکیٹ ناظم یونین کونسل رہے۔ چیئرمین یاسر عزیز پر ا ٓکر تھانے اور پٹواری کی سیاست میں نمایاں کمی آئی جس کی وجہ سے سیاست میں دہشت ختم ہوئی ہے۔ ملک مظفر خان ضلع کونسل کے ممبر اور تحصیل کونسل کے نائب ناظم رہے ہیں اور اب بھی علاقائی سیاست میں فعال ہیں لیکن ملتان خورد کی سیاست پر10سال مسلسل سرداری کرنے والے چیئرمین ملک محمد اکبر خان کو ہی ملتان کا سلطان کہا جا سکتا ہے۔

  • اپنا تراپ

    اپنا تراپ

    اپنا تراپ

    تراپ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کا ایک دُور کا قصبہ ہے اور غالباً تحصیل جنڈ کا سب سے بڑا قصبہ ہے۔ تراپ دریاے سواں کی وجہ سے تراپ شمالی اور تراپ جنوبی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ دریا کے اِس پار تراپ شمالی(گاؤں تراپ، اور  اسکی مضافاتی ڈھوکیں) اور تراپ داخلی(گاوں امن پور اور اسکی مضافاتی ڈھوکیں) ہیں۔ جبکہ دریا کے دوسری طرف تراپ جنوبی ضلع چکوال تحصیل تلہ گنگ کا حصہ شمار ہوتا ہے جس میں ڈھوک چٹھہ، کھرمار،  شمار اور علاقہ لیٹی شامل ہیں۔

    تراپ شمالی حالیہ حلقہ بندی اور شماریات کے حساب سے دس ہزار سے زیادہ نفوس پر مشتمل آبای کا قصبہ ہے جس کی وجہ شہرت پورے علاقہ بھر میں آج سے چند سال پہلے تک ایک بہترین شاپنگ پوائنٹ تھی کیونکہ تراپ اور اسکی مضافاتی درجن بھر سے زیادہ ڈھوکیں اور گاوں امن پور، بروالہ، ڈھوک سرفراز، انجرا، کانی، ہدووالی، مکھڈ شریف، چھوئی، نکہ افغاناں اور لکڑمار تک کے لوگ شادی بیاہ تک کی خریداری کے لیے یہاں کے  مشہور تاجر مرحوم حاجی سلطان اور انکے صاحبزادوں، مرحوم حاجی عبدالرحمان اور انکے صاحبزادوں کی دکان سے کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں مگر انہی تاجروں نے انجرا کو مرکز جانتے ہوے اپنا کاروبار کا آدھا حصہ علاقاٸی عوام اور بزنس پروموشن کے لیے وہاں شفٹ کر لیا۔ تراپ میں اسوقت ایک اندازے کے مطابق تین سو سے زیادہ دکاندار مختلف چھوٹے بڑے کاروبار کر رہے ہیں۔

    اپنا تراپ

    تراپ قصبہ میں مساجد کی بات کی جاے تو پچیس سے زیادہ مساجد ہیں اور دو امام بارگاہ ہیں(تراپ میں اتحاد بین المسلمین کا بہترین نمونہ جامع مسجد بنی والی بھی موجود ہے جہاں اہلِ تسنن و اہل تشیع مل کر عبادات کرتے ہیں)۔

    تراپ گورنمنٹ بوائز ہائی ا سکول اپنی مینیجمنٹ اور اساتذہِ کرام کی وجہ سے بھی پورے علاقہ میں توجہ کا باعث رہا ہے مزید گورنمنٹ گرلز ہائی  اسکول، بنیادی مرکزِ صحت، ویٹنری ڈسپنسری کی سہولت ریاست کی طرف سے مہیا ہے جبکہ کمپیوٹرائزڈاراضی مرکز بھی آفیشلی فنگشنل ہونے کےقریب ہے۔ دہائیاں پہلے واٹر سپلائی اسکیم کے کنویں بھی مکمل واٹر سپلائی سسٹم کے ساتھ موجود تھے جو کہ لوکل بورنگ کیوجہ سے اب ضرورت میں نہیں رہے۔ تراپ میں بھٹو صاحب کے دور میں بنی ایک بھٹو کالونی بھی موجود ہے جو اُسوقت کے مستحقین میں غالباً پانچ مرلہ سکیم کے تحت پلاٹنگ کے دی گئی تھی۔

    تراپ چونکہ ضلع اٹک کا دور کا  قصبہ ہے جس وجہ سے  صحت اور تعلیم کی سہولت کی خاطر عوام کو قریب اور دور کے شہروں میں بالخصوص ضلع کے صدر مقام کی طرف ہجرت پہ مجبور کرتا رہا۔ مگر پھر بھی علاقہ کے چند مثبت سوچ کے حامل ازہان نے دامِ درمے سخنے قریب بارہ سال پہلے سماجی کاموں کی طرف اپنی مدد آپ کے تحت دھیان دیا۔ ان تمام کاوشات کی اگر فردِ واحد کو شاباش دی جاے تو مرحوم ماسٹر عبدالرحیم صاحب کے فرزند برادر احمد علی ملک کا حق بنتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے گاوں کو سوشل میڈیا کے توسط سے اپنا تراپ کے نام سے ویب پیج بنا کر متعارف کرایا مگر سلسلہ روزگار ہمیشہ سے سماجی کاموں کے تسلسل میں آڑے آتا رہتا ہے۔

    تراپ میں سماجی کاموں کی ابتدا کے لیے تحریکِ انسانیت تراپ(موجودہ کنسیپٹ ”اپنا تراپ“) کی چلتے پھرتے ہی بنیاد رکھ دی گئی۔

    اس پروگرام کے لیے راقم کی تجویز پہ چندہ مہم کے لیے ماہانہ بنیادوں پہ انتہای کم ڈونیشن کےلیے تحریکِ انسانیت تراپ کے نام سے ممبر شپ مہم بھی چلائی گئی مگر اس سے زیادہ چند گاوں سے محبت کرنے والے اور دور کے شہروں میں بسنے والوں نے اندازے سے بڑھ کر معاونت کی جس بنا پر گرلز اور بوائز ا سکول کے مستحق بچوں میں سکالر شپ جیسی معاونت، پوزیشنز ہولڈرز میں انعامات، آٹھویں گریڈ سے اگلی کلاس میں پروموٹ ہونے والی بیٹیوں میں پردے کی اہمیت کو مسلسل رکھنے لیے چادروں کی تقسیم، اطرافی ڈھوکوں سے تراپ میں خریداری کے لیے آنے والی خواتین کے لیے قصبہ کے لاری اڈہ پہ سٹیل فریمڈ شیڈ(زنانہ مسافر خانہ) کی تعمیر جیسے بنیادی نوعیت کے چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس شامل تھے۔

    سال ٢٠١٥ کے بعد سی پیک کی تعمیر سے ایک حوصلہ افزا بات سامنے آئی جس میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ہکلہ تک کے سی پیک روٹ پر ایک انٹر چینج ہمارے قصبہ کے حصہ میں آئی جس سے تراپ جیسے قصبے کا نام بھی ضلع اٹک کے بڑے بڑے ناموں اور دفتروں میں بھی عام ہونے لگا مگر_______.

    خیر انجمنِ دوستاں و امیدوارانِ بہار اپنی مصروفیات میں سے قصبہ کے لیے وقت نکالتے رہے۔ سال ٢٠١٩ میں کے آخر میں میل چوک جسے بھٹو چوک بھی کہا جاتا ہے کی ری ہیبلیٹیشن کے لیے برادر احمد علی نے پھر سے آغاز کیا جسے محدود پیمانے پہ بنایا گیا کیونکہ چاروں اطراف کی بے ہنگم ٹریفک سے اس چوک نے ایک سے دو جانیں بھی لے لی تھیں مگر کوہاٹ، جنڈ__تلہ گنگ کی ٹریفک کا زور اینٹوں کے سہارے بنا مانومنٹ برداشت نہ کر سکا۔

    سال ٢٠٢٠ میں کرونا کی لہر میں بڑے شہروں میں مخیر حضرات اور سماجی ورکرز نے جہاں خدمتِ خلق کی وہیں تراپ میں بھی برادر احمد علی کے مشورے پہ کمیٹی بنی اور انکے ہمراہ برادر حنیف اور سر اشفاق صاحب نے باقی تمام احباب کے ساتھ ملکر کم و بیش ساڑے تین سو سفید پوش گرائیوں کے گھر راشن پہنچایا۔

    عرصہ چھ سات سال سے جہاں سوشل میڈیا پاکستان کے چھوٹے سے چھوٹے گاوں کے مکینوں کےلیے بھی اخبار کا کردار ادار کرنے لگا وہیں سال ٢٠٢١ کے جولائی میں جنڈ واسیوں کی مہم مشن گرین جنڈ سے بہت انسپائریشن ملی اور راقم کی تجویز پہ اپنا تراپ کےنام سے بنے سوشل گروپ میں مہم شروع کی گئی جس کو ہمیشہ کی طرح عملی جامہ پہنانے کے برادر احمد علی ملک، برادر محمد حنیف اور سر اشفاق صاحب نے کمر کس لی اور مشن گرین تراپ کے نام سے بسم اللہ کر لی مگر اگست ٢٠٢١ میں ٹارگٹ پورا نہ ہونے سے شجرکاری کو فروری ٢٠٢٢ تک کے لیے پوسٹ پون کر دیا گیا۔

    اِمسال جنوری کی مہم سے ایک معقول رقم اور بزرگ مخیران کی طرف سے عطیہ کیے گۓ پودوں سے کم و بیش اٹھارہ سو پودوں سے مختلف مقامات پر شجرکاری کی گئی مگر مقامی آبادی سے دور سڑک کے اطراف کی گئی شجرکاری مسلسل آبیاری کا بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے حوصلہ افزا نہ رہی جس کے لیے آئندہ شجرکاری مہم میں مخصوص بجٹ کا تعین ہی مقصد پورا کر سکے گا۔

    انشااللہ اسی جذبے کے تحت تراپ/میل چوک کی ری کنسٹرکشن سمیت صفاٸی کے مسئلے سمیت، زنانہ مسافر خانہ کی توسیع، اگر یہ جذبہ مسلسل رہا تو اپنی مدد آپ کے تحت گاوں کے بچوں کے لیے کسی شاملات پہ پلے پارک،تراپ کی واحد ہیریٹیج سائٹ(شیر شاہ سوری کے دور کی بنی ”واں“) کی مزید تزین و آرائش(رنگ و روغن کی ذمہ داری ڈھوک ڈوبہ کے جوانان نے پوری کر دی) چند ایسے بنیادی نوعیت کے منصوبہ جات ہیں جس کے لیے انشااللہ خیر ہوگی۔