Tag: بیساکھی

  • اٹک پولیس نے تازہ دم دستے میلہ بیساکھی سیکیورٹی کیلئے تعینات کر دیئے

    اٹک پولیس نے تازہ دم دستے میلہ بیساکھی سیکیورٹی کیلئے تعینات کر دیئے

    اٹک پولیس نے تازہ دم دستے میلہ بیساکھی سیکیورٹی کیلئے تعینات کر دیئے

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر) اٹک پولیس نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خا ن کی سربراہی میں سکھ یاتریوں کی بیساکھی میلہ 2025ء میں شرکت کیلئے گوردوارہ سری پنجہ صاحب تحصیل حسن ابدال آمد کے سلسلے میں سیکیورٹی پلان جاری کر دیا ہے،جس میں اٹک پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں،اس سلسلے میں 7000 کے قریب بیرون اور اندرون ملک سے سکھ یاتری اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے بسلسلہ بیساکھی میلہ گوردوارہ سری پنجہ صاحب تحصیل حسن ابدال آ رہے ہیں، تمام سکھ یاتریوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کیلئے اٹک پولیس نے تازہ دم دستے مختلف مقامات پر سیکیورٹی کیلئے تعینات کر دیئے ہیں۔

    اٹک پولیس نے تازہ دم دستے میلہ بیساکھی سیکیورٹی کیلئے تعینات کر دیئے
    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خا ن میلہ بیساکھی سیکیورٹی پلان جاری کر رہے ہیں

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خا ن کی سربراہی میں 1500 سے زائد پولیس افسران و جوان سیکیورٹی ڈیوٹی کیلئے تعینات کیے گئے ہیں،07 ایس ڈی پی اوز(ڈی ایس پیز)، 13انسپکٹرز(ایس ایچ اوز)، 139 اپر سپارڈینیٹز، 82 ہیڈ کانسٹیبلز، 567 کانسٹیبلز، 35 لیڈیز کانسٹیبلزکے ساتھ ساتھ ایلیٹ کمانڈوز کے 26 سیکشن ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دیں گے،اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خا ن نے کہا کہ مذہبی مقامات اور ان کے پیروکاروں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اور اٹک پولیس کسی بھی شر پسند عناصر کو شر انگیزی پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی، تمام سکھ یاتری بلا خوف و خطر آزادی سے اپنی عبادت کریں۔

  • ڈی پی او اور ڈی سی اٹک کا دورہ سری پنجہ صاحب

    ڈی پی او اور ڈی سی اٹک کا دورہ سری پنجہ صاحب

    ڈی پی او اور ڈی سی اٹک کا دورہ سری پنجہ صاحب

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کا ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا کے ہمراہ گوردوارہ سری پنجہ صاحب تحصیل حسن ابدال کا وزٹ،بیساکھی میلہ 2025 ء کے موقع پر بیرون اور اندرون ملک سے آنے والے تمام سکھ یاتریوں کیلئے کیے جانے والے سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ،تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا کے ہمراہ گوردوارہ سری پنجہ صاحب تحصیل حسن ابدال کا وزٹ کیا ہے.

    ڈی پی او اور ڈی سی اٹک کا دورہ سری پنجہ صاحب
    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کا ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا کے ہمراہ گوردوارہ سری پنجہ صاحب تحصیل حسن ابدال کا وزٹ

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے بیساکھی میلہ 2025ء کے موقع پر بیرون اور اندرون ملک سے آنے والے تمام سکھ یاتریوں کیلئے کیے جانے والے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ہے اور اس بابت مناسب احکامات جاری کیے ہیں، اس موقع پرڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کا کہنا تھا کہ اٹک پولیس بیساکھی میلہ کے موقع پر تمام سکھ یاتریوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرے گی، کسی بھی مذہبی تہوار کی سیکیورٹی اٹک پولیس کا اولین فرض ہے۔

  • سکھوں کا میلہ بیساکھی

    سکھوں کا میلہ بیساکھی

    سکھوں کا میلہ بیساکھی
    (شاہد اعوان)

    دنیا بھر کے سکھ اس بات پر متفق ہیں کہ حسن ابدال میں موجود گوردوارہ پنجہ صاحب میں سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گورو نانک تشریف لائے اور ’’ پنجہ صاحب ‘‘ کی بھی ایک کہانی ہے جو سکھوں کے بقول کچھ اس طرح ہے کہ حسن ابدال شہر میں واقع بلند ترین پہاڑی مقام پر زمانے کی ایک جلیل القدر ہستی حضرت سید جمال اللہ حیات المیرگیلانیؒ المعروف بابا ولی قندھاری سے بابا گورونانک نے پانی مانگا جب انہوں نے پانی نہ دیا تو بابا گورونانک نے پہاڑ میں ایک سوراخ کر دیا اور سارا پانی نیچے کھنچاچلا آیا ۔ ایک چٹان نما پتھر کے اوپر کندہ گورونانک جی کے ’’پنجہ ‘‘ کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ پہاڑکی چوٹی سے ایک چٹان بابا ولی قندھاری نے نیچے لڑھکائی جسے بابا گورونانک نے اپنے ہاتھ سے روکا اور اس طرح اس گوردوارے کا نام ہمیشہ کے لئے ’’ پنجہ صاحب‘‘ پڑگیا۔ دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کی آمد کا مقصد اس وقت تک پورا نہیںہوتا جب تک وہ بابا ولی قندھاری کی پہاڑی پر ’’متھا ٹیک‘‘ نہ لیں۔ یہ عمل صدیوں سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا ۔ اس سے قبل کہ ہم میلہ بیساکھی کی با ت کریں پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ بابا گورونانک کون تھے؟ اوران کی تعلیمات کیا تھیں؟ حضرت فرید الدین گنج شکرؒ کے بعد برصغیر میں جس ہستی کو کلا مِ فریدؒ کی عظمت کا ادراک ہوا وہ بلاشبہ بابا گورونانک کی بلند مرتبت شخصیت تھی جسے سمجھنے کے لئے گورونانک کی تعلیمات اور عملی زندگی کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ بابا نانک نے گنج شکرؒ کے جواہر پاروں کو چن چن کر اکٹھا کیا اور زمانے کی دست بردسے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کیونکہ گورو نانک جی نے کلامِ فریدؒکو سکھ مذہب کی مقدس کتاب ’’ گرنتھ صاحب‘‘ کا حصہ بنا ڈالا ور سکھ قوم کے لئے اس کلام کی حفاظت ایک مذہبی فریضہ بن گیا ۔ گورونانک نے اس کلام کو محفوظ کر کے پنجاب پر بالخصوص اورانسانیت پر بالعموم بہت بڑا احسان کیا ہے، گورونانک کا ایک د وسرے مذہب کے صوفی کے کلام کو اکٹھا کرنابلاشبہ ایک قابل تعریف اور بے مثال کام ہے یوں لگتا ہے کہ قدرت نے کلامِ فرید کی نگہبانی اور بقا کے لئے سکھ پنتھ کے حصار کو پسند کیا اگر ایسانہ ہوتاتوگنج شکرؒ کے ورثاء شاید کلامِ فریدکوزمانے کی دست بردسے محفوظ نہ رکھ سکتے جیسے دیگر نوادرات کی حفاظت نہ کر سکے ۔ گورو نانک کے بعد پانچویں گرو ارجن دیو نے 1604؁ء میں گرنتھ صاحب کی تدوین کی اور کلام فرید کو وہی مقام ا ور درجہ دیا گیا جو بابانانک ، گرو امرد اس یا رام داس جی کے کلام کو میسر آیا ۔ اگر بابا نانک کی تعلیمات کا ذکر کیا جائے تو ان کا نچوڑ توحید ، عمل صالحہ ، تکریمِ آدم ، خدمتِ خلق ، رواداری ، بھائی چارے ، محبت اور فلاحِ انسانیت ہے ۔ بابا گورونانک سے پہلے ہندوستانی معاشرہ کی تقسیم اس وقت ہوئی جب بھیل ، کول ، دراوڑ اور سنتھال اقوام کا قتل عام ہوا اور جوبچ گئے وہ جنگلوں میں جا کر آباد ہوئے۔ جنم ساکھی بھائی بالا میں بابا نانک کے حوالے سے درج ہے کہ چاروں کتابیں الہامی ہیں ۔
    چاروں کتبیں اک ہے چاروں قول خدائے
    چاروں قدم خواب دے قاضی دل وچ لائے
    اس جنم ساکھی میں آگے درج ہے کہ قرآن پڑھنے سے ان چار کتابوں یعنی تورات ، انجیل ، زبور، فرقان اور فرقان کو قرآن میں دیکھا جا سکتاہے :
    دیکھ تورات ، انجیل توں زبو ر تے فرقان
    ایہوچار کتیب ہن پڑھ کے ویکھ قرآن
    یہ تو تھی بابا گورونانک کی خدمات اور تعلیمات کی ایک چھوٹی سی جھلک ۔ اب ہم ’میلہ بیساکھی‘ کے متعلق تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں:
    میلہ بیساکھی گوردوارہ سری پنجہ صاحب حسن ابدال میں پانچ صدیوں سے منایا جارہا ہے یکم بیساکھ کو جب پنجاب میں گندم کی کٹائی کا آغاز ہوتا ہے تو سکھ قوم پنجہ صاحب میںا پنے گرو کے اس مقام پر اکٹھے ہوتے ہیں جہاںانہوں نے اپنی زندگی میں چند لمحات آرام کیا اور یہ عمل صدیوں سے جاری ہے۔ اگر ہم نائن الیون سے قبل حسن ا بدال میں میلہ بیساکھی کو یاد کریں تولوگ دور و نزدیک سے میلہ بیساکھی کا لطف اٹھانے یہاں آیاکرتے تھے اور گوردوارہ سے منسلک پنجہ بازار جو سارا سال قدرے ویران اور سنسان رہتا تھا میلہ بیساکھی کے موقع پر ایک بڑا کاروباری سنٹر میں بدل جایاکرتا تھا پنجاب بھر سے کپڑے ، ڈرائی فروٹ اور لنڈے کے تاجر صرف تین دنوںکیلئے ہزاروں روپے کرائے پر دوکانیں حاصل کر لیتے۔ جب میلہ بیساکھی کا آغاز ہوتا تو پنجہ باز ار میں ایسا بازار سجتا کہ گماں ہوتا جیسے ہم دہلی یاامرتسر کے کسی بازار میں گھو م رہے ہوں۔ جس طرح پاکستان کے تاجر اپنی مصنوعات بیچنے یہاں آتے اسی طرح انڈیا سے آنے والے سکھ یاتری اپنے ساتھ ململ کے تھان ، الائچیاں ، کالی مرچیں ، چاندی کے زیوارت ، ساڑھیاں ، گرم کمبل ، چائے کی پتی وغیرہ اپنے ساتھ لاتے اور پاکستانی ان چیزوں کو ہاتھوں ہاتھ خرید لیتے، اسی طرح سکھ یاتری بھی ا تنی خریداری کرتے کہ انہیں واپسی کاسامان لے جانے میں دشواری پیش آتی ۔ حسن ا بدال میں جہاں کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہوتیں وہاں منچلے اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے یہاں امڈ آتے اور اکثر اوقات ڈیوٹی پر مامور پولیس سے ’’خاطر تواضع ‘‘ کرانی پڑ جاتی۔ بیٹھک بابا ولی قندھاریؒ پر ’متھا ٹیکنے‘ ر نگ برنگے ملبوسات زیب تن کیے سجی سنوری سکھ خواتین جب پہاڑی پر پہنچتیں تو چار سو قوسِ قزح کے رنگ بکھر جاتے ۔ غرض پاکستانی اور انڈین اس میلے کا سال بھر بڑی شدت سے ا نتظار کیا کرتے ، دوستیاں اور عہد و پیمان کیے جاتے ۔

    سکھوں کا میلہ بیساکھی
    Image by D Mz from Pixabay

    بابا گورونانک کے جنم دن کے موقع پر ماہ نومبر میں بھی اسی طرح کی رونقیں لگ جاتیں لیکن 2001ء نائن الیون کے امریکی ورلڈ ٹریڈ سنٹر حملوں کے نتیجہ میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی دہشت گردی کی فضا نے اس تہوار کو تفریحی میلے کے بجائے مقامی ریائشیوں کے لئے جان کا عذاب بنا دیا ہے ۔ سیکورٹی نافذ کرنے والے اداروں کی اپنی مجبوریاں ہیں اب وہ بازار جہاں میلہ بیساکھی کے موقع پرکھوے سے کھوا چھنتا تھا اب بیساکھی کے دنوں میں ویرانی اور بے بسی کی تصویر بنا نظر آتاہے۔۔۔ مہمان سکھ یاتریوں کو ماضی کی طرح گوردوارہ سے باہر بازاروں اور شہر میں آزادانہ گھومنے کی اجازت نہیں جبکہ ماضی قریب میں انڈین و دیگر غیر ملکی سکھ یاتریوں کو بازاروں میں گھومنا تو ایک طرف انہیں قریبی محلوں میں مقامی لوگوںکے پاس paying guestکے طور پر قیام کرنے میں بھی کوئی روک ٹوک نہ تھی ۔ اتنے برسوں میں کوئی ایساواقعہ بھی رونما نہیں ہوا کہ کسی مسلمان کے ہاتھوں کسی سکھ یاتری کو گزند پہنچانے کی کوشش بھی کی گئی ہو۔ میلہ بیساکھی پر جہاں سکھ یاتریوںکی سرگرمیوں کو انتہائی محدودکر دیا جاتا ہے وہاں حکومتی ہدایات کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی مہمانوں کو غیر معمولی فول پروف سیکورٹی فراہم کرتے ہوئے گوردوارے کے قریب رہائشیوں کی اپنے گھروں ، دوکانوں اور دفاتر تک رسائی ناممکن ہو جاتی ہے اور کاروباری سرگرمیاں تو نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہیں ۔ ہر سال میلہ بیساکھی کے موقع پر ڈویژن بھر کی پولیس کے اضافی دستے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی کیلئے حسن ابدال پہنچ جاتے ہیں، خصوصی کارڈ جاری کئے جاتے ہیں،خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار دن رات متحرک رہتے ہیں۔ امسال بھی سکھ یاتریوں کی محفوظ آمد کے علاوہ ان کی رہائش اور طعام کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں ۔ متروکہ وقف املاک، مقامی و ضلعی انتظامیہ کے افسران و عملہ گوردوارہ کے اندر اور گوردوارہ کو جانے والے راستوںپر سکھ یاتریوں کی آمد سے قبل انتظامات مکمل کر چکے ہیں اس سلسلہ میں خاتون اسسٹنٹ کمشنر حسن ابدال ڈاکٹر ثناء رام چند میلہ بیساکھی میں دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کو ہرممکن سہولیات کی فراہمی اور قیام و طعام کو یقینی بنانے کے لئے مصروفِ عمل ہیں ان کی زیر نگرانی انجینئر ذوالفقار علی بٹ دیگر ماتحت ایم سی اہلکاروں کے ہمراہ صفائی، سٹریٹ لائٹس و دیگر انتظامات کو مکمل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صف کیے ہوئے ہیں جبکہ محکمہ مال، ایم سی، واپڈا ملازمین کے علاوہ ضلع و ٹریفک پولیس کے اہلکار میلہ بیساکھی کی کامیابی کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ بیساکھی میلہ کے موقع پر گوردوارہ و ملحقہ آبادی میں 24گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کویقینی بنایا جا رہا ہے۔ میلہ بیساکھی پر دنیا بھر سے گوردوارہ پنجہ صاحب آنے والے سکھ یاتریوں کی آمد پر کی گئی تیاریوں کے معائنہ کے لئے کمشنر و آر پی او راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اٹک رائو عاطف رضا، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) عدنان انجم راجہ اور ڈی پی او اٹک سردار غیاث گل خان، ایس پی انویسٹی گیشن جویریہ محمد جمیل، ایس ڈی پی او حسن ابدال سید کاظم عباس نے خصوصی طور پر پنجہ صاحب حسن ابدال کا دورہ کیا اور مہمان سکھ یاتریوں کی آمد پر اعلیٰ انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ 12اپریل کو سکھوں کا میلہ بیساکھی شروع ہوتا ہے جو 14 اپریل کوبھوگ کی رسم کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے ۔ اس بار بھارت سے تقریباٌ تین ہزار سکھ یاتریوں کی آمد متوقع ہے جبکہ پاکستان کے علاوہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک سے آمدہ سکھ یاتریوں کی کل تعداد10ہزار سے زائد ہو جائے گی ۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul
  • گرو نانک اور سکھوں کا میلہ بیساکھی

    گرو نانک اور سکھوں کا میلہ بیساکھی

    میلہ بیساکھی پر خصوصی تحریر
    سکھوں کے مذہبی راہنما گو رونانک ضلع ننکانہ صاحب کے گائوں تلوندی میں مہتہ کالو نامی محنت کش کے گھر نومبر 1469؁ء میں پیدا ہوئے انہوں نے برصغیر میں’ سکھ پنتھ ‘کی بنیاد رکھی۔ ایک روایت کے مطابق وہ اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے جس کی وجہ سے ان کا نام ’نانک ‘رکھا گیا،دوسری روایت کے مطابق بچے کا نام اس کی ہمشیرہ کے نام کی مناسبت سے ’نانک ‘رکھا گیا ،یعنی نانکی کا بھائی نانک ۔نانک جی کی پیدائش کے وقت دہلی پر لودھی خاندان حکمران تھا ،مذکورہ افغان حکمران مطلق العنان شہنشاہ تھے جن کا تعلق اجنبی سرزمین سے تھا رعایا سے ان کا تعلق فاتح اور مفتوح کا تھا۔ شہنشاہوں کے درباری ، حواری اور کاسہ لیس نام نہا د دانشوروں کی چاندی ہو جاتی تھی اکثر اوقات ان میں علمائے سُو بھی شریک ہوتے جو حکمرانوں کو ’ظلِ الٰہی‘ کا لقب دینے میں فعال کردار ادا کرتے تھے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو گورونانک کی پیدائش کا زمانہ دورِ ابتری میں آتا ہے اس ابتری کی دوسری بڑی وجہ ہندو مت کا عوام دشمن اور فرسودہ ذات پا ت کا نظام تھا جس نے صدیوں سے برصغیر کو اپنے چنگل میں جکڑ رکھا تھا، ذات پا ت کے ا س نظام کی روح سے نچلی ذات کے شودر کا سایہ برہمن کیلئے ناقابلِ برداشت تھا حد یہ کہ شودر کا سنسکرت میں اشلوک سننا بھی گناہِ عظیم سمجھا جاتا آپس میں میل ملاپ کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔

    گرو نانک اور سکھوں کا میلہ بیساکھی


    نانک جی نے سکھ پنتھ کا آغاز 31برس کی عمر میں 1500؁ء میں کیا، سب سے پہلے وہ لالو ترکھان کے ہاں ایمن آباد گوجرانوالہ پہنچے لالو ترکھان آنے والے کی ایک نگاہ برداشت نہ کر سکا اور اٹوٹ رشتے کی بنیاد پڑی ۔گورونانک بابا ولی قندھاریؒ سے ملاقات کیلئے قندھا ر بھی گئے ،انہوں نے بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کی تعلیمات سے بھی بہت کچھ سیکھا اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ گورونانک نے بابا فرید کا کلام ’’گرو گرنتھ صاحب‘‘ میں ہمیشہ کیلئے محفوظ کر لیا۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ’سکھ پنتھ‘ ہندو مت کی مکمل ضد ہے تو بے جا نہ ہو گا،ایک کی بنیاد اصنام پرستی اور دوسرے کی واحدانیت پر ہے ،ایک میں ذات پا ت کی تمیز ہے تودوسرے میں ذات پات کو فساد کی جڑ قرارد یا گیا ہے، گرو نانک کے ہاں ذات پات کے بت کو پاش پاش کئے بغیر مذہبی اصلاح اور سماجی ترقی کا امکان ہی نہیں ۔ بابا گورونانک نے دنیا کے طویل سفر کئے اورہم خیال لوگوں کی جماعت بنائی جسے ’سکھ ‘کہا جاتا ہے جگہ جگہ تعلیمی مراکز قائم کئے جہاں بھائی چارہ ، مساوات اور محبت کا درس دیا جاتا۔ بابا نانک کی زندگی کا سب سے درخشاں پہلو محبتِ الٰہی ہے آپ نے توحید کے گیت گائے خدا کی محبت ، کرم اور رحمت ان کی تعلیمات کی اساس ہے، انسان کے اچھے اعمال کو نجات کا ذریعہ قرار دیا انسان کو تعلیم دی کہ غلط کام چھوڑ کر نیکی کو رواج دے ۔ان کے بتائے ہو ئے اصول آج بھی پنجاب کی دھرتی کی پہلی توحید کی کتاب کا حصہ ہیں جس کے پیرو کار دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ بابا نانک کہتے ہیں کہ
    ؎نہ میلا نہ دھندلا ، نہ بھگوا نہ کچ
    نانک لالو لال ہے سچے رتا سچ
    گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں کئی صدیوں سے ’میلہ بیساکھی ‘اپریل کی گیارہ سے تیرہ تاریخ تک منایا جاتا رہا ہے حسن ابدال کے گردو نواح اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگوں کو ساراسال یہ انتظار رہتا تھا کہ وہ میلہ بیساکھی کے موقع پر حسن ابدال جائیں گے ،اس موقع پر پوری دنیا سے ہزاروںسکھ یاتری حسن ابدال آتے ہیں ۔ شہرمیںمیلہ بیساکھی کے موقع پر چند سال قبل تک ایک میلے کا سماں ہوتا تھا سکھ تاجر اپنے ساتھ کپڑے،ڈرائی فروٹ اور لنڈے کا سامان لیکر آتے وہ چند دنوں کیلئے دکانیں مقامی مالکان کو ہزاروں روپے دیکرکرائے پر حاصل کرتے ،میلے کے دنوں میں یہاںاتنا زیادہ رش ہوتا کہ تِل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی تھی انڈیا سے آنے والے سکھ یاتری اپنے ہمراہ سامان لاتے ،پاکستانی خواتین انڈیا سے لائے گئے زیورات کو بہت شوق سے خریدتیں اسی طرح انڈیا کی ساڑھیاں بھی بہت پسند کی جاتیں سکھ یاتری پاکستان سے الیکٹرونکس کا سامان لیکر جاتے،غرضیکہ بیساکھی کا میلہ جہاں ایک ثقافتی میلہ ہوتا وہاں تجارتی میلے کا روپ بھی دھار لیتا۔ 9/11کے بعدپاکستان میںبڑھتی ہوئی دہشت گردی کی فضا نے اس میلے کوبھی اپنی لپیٹ میںلے لیاہے اور اب سکھ یاتریوں کی آمد سخت حفاظتی پہر ے میں ہوتی ہے وہ گوردوارہ پنجہ صاحب کے اندر محصورہوکر رہ جاتے ہیں سیکورٹی کی وجہ سے پنجہ صاحب کے اردگرد کے بازارجوکبھی میلہ بیساکھی کی رونق ہواکرتے تھے، بند کر دئیے جاتے ہیں گوردوارے کی جانب آنے والے تمام راستوں پر پولیس کے پہرے بٹھا دیئے جاتے ہیں اس طرح سکھ یاتریوں کی سرگرمیاں انتہائی محدود ہو جاتی ہیں، بیرونِ ممالک سے آنے والے سکھ یاتریوں کیلئے گوردوارے کے اندر رہائش کاخاطر خواہ بندوبست کیاجاتا ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں محکمہ متروکہ وقف املاک نے سکھ یاتریوں کی سہولت کیلئے گوردوارے کے اندرکروڑوں روپے کی لاگت سے ایک عظیم الشان جدید طرز کا لنگر خانہ تعمیر کرایا ہے اسی طرح سکھوںکیلئے سینکڑوں کمروں پر مشتمل جدید ترین سہولتوں پر مشتمل رہائشی بلاک بھی بنوایا ہے اس کے علاوہ سکھ یاتری جب گوردوارہ پنجہ صاحب آتے تو بابا ولی قندھاری کی پہاڑی پر جانے کیلئے راستہ انتہائی دشوار گزار تھا،سابقہ چیئرمین سید آصف ہاشمی نے اس تکلیف کا ازالہ کرنے کیلئے لاکھوں روپے کی لاگت سے اس راستے کو پختہ بنا دیا ہے جس سے سکھ یاتریوں کے علاوہ مسلمان زائرین کو بھی سہولت میسر آگئی ہے۔گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدا ل کے عین سامنے ایک قدیم پانی کا تالاب تھا جس میں مقامی دھوبی کپڑے دھویا کرتے تھے جس سے یہ پانی ہروقت گندگی اور غلاظت سے اٹا رہتا تھا راقم کی درخواست پراس وقت کے چیئرمین متروکہ وقف املاک سید آصف ہاشمی نے اس تالاب کو بہت خوبصورت شکل دیکر وہاں فوارہ نصب کر ا یا ۔
    امسال بھی یہ میلہ11اپریل سے13اپریل تک جاری رہے گا ڈپٹی کمشنراٹک محمد نعیم سندھو کی ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر حسن ابدال اشتیاق خان نیازی کی زیر نگرانی مقامی انتظامیہ میلہ بیساکھی کے موقع پر گودوارہ پنجہ صاحب میں سکھ یاتریوں کی آمد پر تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنانے میں مصروف عمل ہے اور اس سلسلہ میںایم سی عملہ صفائی ستھرائی کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دئیے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں ڈی پی اواٹک رانا شعیب محمود کی ہدایت پر ایس ڈی پی او حسن ابدال سید اعجاز حسین شاہ اور ایس ایچ اوز پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ سکھ یاتریوں کی گوردوارہ پنجہ صاحب آمد پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

    Shahid-Bla-Ta-Amul