Tag: بدھ مت

  • کامرہ کلاں – آخری حصہ

    کامرہ کلاں – آخری حصہ

    کامرہ کلاں – آخری حصہ

    ٹھیکریاں والا بابا:نصراللہ بن عبدالسلام بھیری اٹکی

    یہ مزار ٹھیکریاں میں واقع ہے ۔آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریض دور دراز علاقوں سے یہاں آتے ہیں۔ یہاں یوں تو ہر اتوار کو میلہ ہوا کرتاہے لیکن سال میں ایک بارمارچ کے  مہینے میں کسی ایک اتوار کو بہت بڑا میلہ لگتا ہے۔اس اتوار کو جھلا اتوار کہتے ہیں ۔ بابا جی کے حالات زندگی کے بارے میں عارف نوشاہی لکھتے ہیں: "نصر اللہ بن عبدالسلام بن تاج الدین بن بہا الدین محرم یا صفر  1076 ھ(مطابق جولائی یا اگست1665)میں پیدا ہوئے۔ان کے تین بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں:بدر الدین محمد،عظیم الدین محمد،محمد قدرت اللہ۔ان کی قوم نسبت”کھوکھر”اور وطنی نسبت "بھیری” تھی۔مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ "کے کاتب نے ان کی وطنی نسبت "اٹکی "لکھی ہے؛جس کی شہادت ان کے کتابت کردہ دیگر رسائل سے بھی ملتی ہے۔وہ قادریہ سلسلہ میں شاہ محمد اسماعیل گیلانی کے مرید تھے،جو 1113 میں حیات تھے۔شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تعلیمات سے بہت متاثر تھے۔ان کی کتابیں پڑھتے اور کتابت کرتے تھے۔اٹک کے معروف محقق نذر صابری کے مطابق نصراللہ کا خاندان قدیم اٹک میں مقیم تھا؛وہاں سے کامرہ کلاں سے متصل چھوٹے سے گاؤں ٹھیکریاںمیں آبسے ۔یہاں اپنے عرفی نام”میاں ولی”کے نام سے مشہور ہوئے۔آخری عمر میں مجذوب ہو گئے تھے۔یہیں وفات پائی1128ھ اور1147 ھ کے درمیان کسی سال میں فوت ہوئے ،یہیں ٹھیکریاں میںمدفون ہیں۔ان کے مزار کی نسبت سے ٹھیکریاں گاؤں کو”زیارت”بھی کہا جاتا ہے۔انھیں علمِ لغات سے خصوصی دل چسپی تھی۔محققین کے مطابق وہ معلم/مدرس اور محتاط  کاتب تھے۔عربی اور فارسی کے معتبر لغات ان کے مطالعہ میں رہتے تھے ۔”مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ "کے علاوہ "تاج المصادر”اور "مہذب الاسماء فی مرتب الحروف والاشیا”کے حواشی لکھے۔مسودے پر”الا ان نصر اللہ قریب”کی مہر بھی لگاتے تھے تا کہ سند رہے۔شعر بھی کہتے تھے۔”مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ "کے خاتمے پر اُن کے 58 شعردرج ہیں۔اب تک اُن کی ایک تالیف،ایک رسالے کی ترتیب نو اور سات کتب و رسائل کی کتاب سامنے آ چکی ہے،جن کا مختصر احوال درج ذیل ہے:

    "مرآۃ فی شرح اسما ء المشکوۃ ":دسمبر 1714 میں تالیف کرنا شروع کی اور جون 1716 میں اسے مکمل کیا۔جب نسخے کی تسوید مکمل کر لی تو خواب میں حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔

    تاج المصادر:یہ ابو جعفر احمد بن محمد مقری بیہقی کا عربی سے فارسی لغت ہے۔جس کے  نصراللہ نے حواشی لکھے ہیں۔

    کامرہ کلاں - آخری حصہ
    ٹھیکریاں والا بابا

     "مہذب الاسماء فی مرتب الحروف والاشیا”:یہ محمود بن عمر بن منصور قاضی زنجی سجری شیبانی کی تصنیف کردہ عربی سے فارسی فرہنگ ہے۔جس کےنصر اللہ بن عبدالسلام نے حواشی لکھے۔

    مثلثات بدیعی:یہ ایک منظوم نصاب ہے جس کے قلمی نسخے عام ملتے ہیں۔طلبہ کی سہولت کے لیےنصراللہ نے اس کی ترتیب بدل کر اسے حروف تہجی کی ترتیب سے مرتب کیا۔

    مرج البحرین و جامع الطریقین:شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تصنیف ہے۔

    مجموعہ رسائل /اول:یہ دو رسائل کا مجموعہ ہے اورشیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تصنیف ہے۔

    رسالہ اصولِ حدیث:یہ میر سید شریف جرجانی کا عربی رسالہ ہے۔

    مجموعۂ رسائل /دوم:یہ تین رسائل کا مرقع ہے:”آدابِ لباس،رسالۂ عربی ( ص 14 تا 23 )،رسالۂ عربی(ص 24تا28)

    ماخذ:نقدِ عمر،عارف نوشاہی،،اپریل 2005،ص55

    خرقی بابا:

     ٹھیکریاں اور کامرہ کے درمیان روڈ کے جنوب میں "سیتھ "کے ایک چھوٹے سےٹکڑے پر ایک چھوٹی سی بستی ہے(یہ بستی کامرہ گاؤں کا حصہ ہے)؛اس آبادی کی مغربی سمت میں ایک بزرگ "خرقی بابا”دفن ہیں۔یہاں کالی کھانسی(کھر کھگ)میں مبتلا بچے لائے جاتے ہیں۔

    مشاہیرِ کامرہ:

    کامرہ بابا:(عالمِ صرف)

    کامرہ بابا کا اصل نام محمد حسین ہے۔کامرہ گاؤں میں سکونت کی وجہ سے ان کے شاگرد انھیں کامرہ بابا کہا کرتے تھے ؛بعد ازآں ان کا اصل نام پس منظر میں چلا گیا اور وہ کامرہ بابا ہی کے نام سے مشہور ہو گئے۔علمِ ’’صرف ‘‘اور اس کی تدریس پر کامل دست گاہ کی وجہ سے انھیں صرفی بابا بھی کہاجاتا تھا ۔آپ کے والد کا نام جلال الدین ہے۔کامرہ بابا نے سرائے سعد اللہ اور حطار میں صرف و نحو کی تعلیم حا صل کی۔آپ کے ہاں کابل سے دہلی تک کے طلبہ پڑھنے کے لیے آتے تھے۔طلبہ کی کثرت کی وجہ سے آپ انھیں گاؤں کی تمام مساجد(جن کی تعداد چھے تھی)میں تقسیم کر دیتے۔طلبہ گاؤں کے متمول گھروں سے روٹی سالن مانگ کر لاتے جسے وظیفہ کہا جاتا۔ایک بار صوبہ سرحد کے ایک امیر آدمی نے مستقل لنگر اور چارپائیوں کی پیش کش کی لیکن آپ نے یہ کہ کر اس کی پیش کش مسترد کر دی کہ اس بے سروسامان مدرسے میں اس وقت جو طالبِ علم بھی آتا ہے وہ خالص پڑھنے کی نیت سے آتا ہے لیکن اگر لنگر جاری ہو گیا تو پھر یہ بھگوڑوں کی سیر گاہ بن جائے گا۔آپ کی تدریس کا یہ طریقہ تھا کہ ادارے سے مانوس کرنے کے لیے  نووارد طالبِ علم سے تین ماہ کوئی علمی کام نہیں لیتے تھے۔سال میں ایک بار اٹک خرد میں دریا کے کنارے شاگردوں کی دعوت کرتے تھے ۔آپ کی تدریس کی دارالعلوم  دیو بند تک شہرت تھی۔’’صرف‘‘پر آپ کی مہارت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے شاگردوں کا دارالعلوم دیو بند میں علم صرف کا امتحان نہیں لیا جاتا تھا۔ آپ کو دارالعلوم میں’’صرف‘‘کی تدریس کی دعوت بھی دی گئی لیکن آپ یہاں کے طلبہ کی علمی محرومی کے پیشِ نظر وہاں نہیں گئے۔آپ کے تیار کردہ’’قانونچہ ٔ کامروی‘‘سے اب بھی سیکڑوں مدارس اور اساتذہ استفادہ کر رہے ہیں۔فارسی،عربی،پشتو،پنجابی اور سرائیکی زبان جانتے تھے ۔سر پر پگڑی اہتمام سے باندھتے تھے۔آپ ۱۹۵۸ء میں ٹانگوں کے ایک مہلک مرض میں مبتلا ہوئے اور یہی مرض آپ کا مرض الموت ثابت ہوا۔آپ پنڈ سلیمان مکھن،کامرہ میں آسودۂ خاک ہیں۔

    اعجاز حسین بخاری:(سیاست دان)

    سید اعجاز حسین بخاری

    اعجاز بخاری کے نام سے شہرت ہے۔کامرہ کلاں کی سادات فیملی سے تعلق ہے۔5 /مارچ 1941 میں کامرہ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سید مرتضیٰ بخاری ہے؛جنھوں نے کامرہ گاؤں میں تشیع کی بنیاد رکھی۔اعجاز بخاری نےگورنمنٹ ہائی سکول اٹک(حال پائیلٹ سیکنڈری سکول)سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔ اسلامیہ کالج کراچی سےایف اے اور بعدازآں بی اے کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔1966 میں کراچی یونی ورسٹی سے ایل ۔ایل۔ بی کی سند لی اور اسی یونی ورسٹی سے ہسٹری میں ایم ۔اے کا امتحان پاس کیا۔آپ اٹک سٹی میں وکالت بھی کرتے رہے۔ضلع کونسل اٹک کے مجلہ” اٹک فیسٹیول "کی ادارت کی ۔ستر کی دہائی میں سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور کئی بار کامرہ یونین کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔1983 میں ضلع کونسل کے وائس چیئر مین منتخب ہوئے؛1985 میں ضلع کونسل کے چیئر مین  کے لیے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔2002 میں متحدہ مجلسِ عمل کی طرف سے انتخابی حلقےپی پی 15 میں الیکشن میں شریک ہوئے اور کامیابی حاصل کی ۔2013 کے انتخاب میںپاکستان تحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر اٹک سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔آپ نے کئی ممالک کے دورے کیے۔2004 میں مصر کا سرکاری دورہ کیا۔2006 میں کاروبار کے سلسلے میںایران گئے۔ 2008 میں عراق اور 2009 میں شام کا دورہ کیا۔سید اعجاز بخاری انتہائی سادہ اور ملنسار سیاست دان ہیں۔سیاست آپ کو ورثے میں نہیں ملی بلکہ آپ نے ذاتی محنت ، ایمان داری اور اخلاص سے موروثی سیاست دانوں کے ہوتے ہوئے اپنا آپ منوایا۔آپ نے ضلع اٹک کی سیاست کو نیا رنگ دے کر عوامی بنایا۔آپ سے پہلے سیاست دان ووٹ لے کر اگلے الیکشن تک غائب ہو جاتے تھے لیکن آپ کے دروازے ہر وقت ہر ایک کے لیے کھلے رہتے تھے۔آپ اپنے ووٹروں کو ہمہ وقت دستیاب تھے۔بعد میں آپ کی دیکھا دیکھی اٹک میں ہر سیاست دان نے یہی عوامی انداز اپنا لیا۔آپ ہزاروں غریبوں ،محتاجوں اور بیماروں کے کفیل ہیں۔ 2018 میں سیاسی میدان اپنے بھتیجے اور داماد یاور بخاری کے سپرد کر کے بہ ظاہر سیاست سے علاحدہ ہو گئے۔

    واجد حسین بخاری،سید:(سیاست دان)

    سید واجد حسین بخاری

    سیدواجد حسین بخاری کامرہ کے سادات قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں14/فروری 1945 کو پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم سے بی اے تک کی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔آپ معروف سیاست دان سید اعجاز بخاری کے بھائی ہیں۔عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری کے والد ہیں۔والد کا نام سید مرتضیٰ بخاری ہے۔امریکہ میں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر کام کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق کے ایڈوائزر رہے۔پرویز مشرف کے دور میںمحمدمیاں سومرو کی کابینہ میں اِنوائرمنٹ ،لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیویلپمنٹ کے وزیر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔اس وقت پاکستان تحریکِ انصاف کی اہم شخصیت شمار کیے جاتے ہیں اور کور کمیٹی کے ممبر ہیں ۔شپنگ، پراپرٹی ،ڈیویلپمنٹ اور کنسٹرکشن جیسے ذاتی کاروبار ہیں۔مستقل قیام اسلام آباد میں ہے۔

    یاور عباس بخاری،سید:(سیاست دان)

    سید یاور عباس بخاری

    سید یاور عباس بخاری اٹک کے معروف سیاست دان اعجاز حسین بخاری کے بھتیجے اور داماد ہیں ۔ سابق وفاقی وزیر سید واجد حسین بخاری بھی آپ کے چچا ہیں۔یاور عباس دوستانہ مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں۔مشہور سیاسی خاندان کا چشم و چراغ ہونے کے باوجود سیاسی ورکروں کی طرح کام کرتے ہیں،جس کی وجہ سے ہر دل عزیز شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔یاور عباس 10/اکتوبر 1964 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔والد کا نام سید منظور حسین بخاری ہے۔آبائی گاؤں کامرہ کلاں ہے۔ابتدائی تعلیم برن ہال ایبٹ آباد میں حاصل کی۔اسی ادارے سے 1980 میں O level کا امتحان پاس کیا۔برن ہال کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے۔Seaford College(England)سےA  Levelاوریورپ سے  BBAکی ڈگریاں حاصل کیں۔کرکٹ کے عمدہ کھلاڑی رہے ہیں۔انگلینڈ کی کاؤنٹی کےجونیئر گروپ میں منتخب ہو گئے تھے لیکن والدین کے ساتھ پاکستان چلے آئے ۔1990 میں اپنے خاندانی کاروبار(Consultancy)سے وابستہ ہوئے۔ بعد ازاں عباس پیپرز اینڈ بورڈز کے منیجنگ ڈائریکٹر بنائے گئے۔یہ ادارہ بھی ان کےذاتی کاروبار کے زمرے میں آتا ہے۔1998 میں پہلی بار سیاسی افق پر نمودار ہوئےاور اٹک شہر کے ایک حصے وارڈ نمبر6سےکونسلر کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے۔2005 میں تحصیل اٹک کی نظامت کے لیے قاضی خالد محمود کا سامنا کیا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔2011 میں اٹک کی یہ بخاری فیملی پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ ہو گئی ۔ آپ اور آپ کا خاندان تحریک انصاف کی قیادت(عمران خان)کے بہت قریب ہے اور بالخصوص پاناما گیٹ سکینڈل میں نواز شریف کی حکومت گرانے والے گروہ کے مرکزی کرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔جولائی 2018 میں یاور بخاری اپنے چچا اعجاز بخاری کی جگہ میدان میں اترے اور پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں کامیاب ہوئے۔ستمبر 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مشیر مقرر ہوئے۔مارچ 2019 ء میں پاکستان تحریک انصاف(پنجاب) کی حکومت نے انھیںچیئرمین پبلک اکاؤنٹ کمیٹی بنا دیا۔دسمبر 2020 کو پنجاب کی وزارت کا قلم دان بھی ان کے سپرد ہوا۔سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ذاتی کاروبارسے منسلک ہیں؛اور اٹک شہر میں سکونت پذیر ہیں۔

    زلفی بخاری:(سیاست دان)

    ذلفی بخاری

    اصل نام ذوالفقار بخاری ہے۔دسمبر 1980 میں پیدا ہوئی۔عمران کے قریبی ساتھی ہیں۔والد کا نام سید واجد حسین شاہ بخاری ہے جو پرویز مشرف کے دور حکومت میں نگران حکومت کے وزیر تھے۔کامرہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے معروف سیاست دان سید اعجاز بخاری کےبھتیجے اور سید یاور بخاری کے چچا زاد بھائی ہیں۔عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کی طلاق کے بعد ان کا نام عمران خان کے دوست کی حیثیت سے نمایاں طور پر سامنے آیا۔سفر پر پابندی کے باوجود جب عمران خان انھیں جب جون 2018  میں عمرہ پر ساتھ لے گئے تو بھی ان کا نام "بریکنگ نیوز”کے طور پر نشر ہوتا رہا۔نواز شریف کے دور حکومت میں آف شور کمپنیوں کے جن مالکان کی فہرست جاری کی گئی تھی،ان میں زلفی بخاری کا نام بھی شامل تھا۔ستمبر 2018 میں ان کاSpecial Assistant to the Prime Minister on Overseas Pakistanis and Human Resource Developmentکی حیثیت سے تقرر ہوا۔انگلینڈ میں جائیداد کی خریدو فروخت کا کروبار کرتے ہیں ۔

    اشرف الحسینی،ڈاکٹر:(ماہرِ لسانیات)

    اصل نام محمد اشرف ہے۔25/فروری1930ء میں کامرہ کلاں میں ملک روشن دین کے گھر پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم لوئر مڈل سکول کامرہ کلاں سے حاصل کی۔شمس آباد کے ورنیکلر سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔گورنمنٹ پائیلٹ سیکنڈری سکول اٹک سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔گورنمنٹ پولی ٹیکنیک رسول سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا۔ دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی میں دور تفسیر کی سند حاصل کی۔بلدیہ لاہور میںبلڈنگ انسپکٹر کے طور پر کام کیا۔لاہور کوآپریٹو ڈویلپمنٹ بورڈ میں ڈرافٹس مین کی حیثیت سے رہے۔ایم اے انگریزی کے بعدقبولہ میں ایک پرائیویٹ انٹر کالج میں پڑھاتے رہے۔بعد ازآں ایم اے اردو کے امتحان میں بھی کامیاب ہوئے۔جنوری 1965ء میں  انٹر کالج بھکر میں تقرر ہوا۔اس کے بعد انٹر کالج جہلم چلے آئے۔جہلم کالج کے مجلے’’دی جہلم ‘‘کے مدیر رہے۔گورنمنٹ کالج اٹک کے مجلے ’’مشعل‘‘کی ادارت کی ذمہ داری بھی نبھائی۔1990ء میں گورنمنٹ کالج اٹک سے سبک دوش ہو گئے ۔ 1942ء میں ادب سے وابستہ ہوئے ۔ابتدا میں سیف تخلص اختیار کیا ؛بعد ازآں پولی گلوٹ اورایم اشرف کے نام سے بھی لکھتے رہے۔دنیا کی چھبیس(26)زبانوں پر دسترس کا دعوی ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعداٹک چھوڑ کر لاہور کو مستقل مسکن بنا لیا تھا۔14۔جولائی 2019کو وفات پائی۔لاہور میں دفن ہوئے۔

    مہر حسین شاہ:(محقق)

    10/جنوری1954ء میں کامرہ گاؤںمیں پیدا ہوئے۔والد کا نام فضل حسین ہے۔1971ء میں گورنمنٹ پائیلٹ سکول اٹک سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد کچھ عرصہ خواجہ گلاس فیکٹری حسن ابدال میں کام کرتے رہے۔1973ء میں میونسپل کمیٹی حسن ابدال میں ملازمت مل گئی۔1999ء میں وہیں سے سبک دوش ہو گئے۔1974ء سے لکھنے کا آغاز کیا۔خاص رنگ دینیات ہے۔اہلِ بیت کرام سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ان کی تحریروں میں انھیں شخصیات کا تحفظ اور مدح سرائی کا رنگ دکھائی دیتا ہے؛ا ن کی تحریر میں مناظرانہ انداز کا غلبہ دکھائی دیتا ہے؛اسی لیے کئی بار "واجب القتل”فتوے کی زد میں آئے۔بھٹو دورِ حکومت میں نصرت بھٹو کے خلاف’’خاتونِ اول‘‘کے عنوان سے مضمون لکھے اوراکوڑہ خٹک کے مجلے ’’الحق‘‘کے اس ماہ کے مجلے کی ضبطی کا باعث بنے۔کئی کتب کے مصنف ہیں ۔ 7/مارچ 2015 کووفات پائی ۔آبائی گاؤں کامرہ کلاں میں دفن ہوئے ۔

    سیّد رفیق احمد شاہ بخاری(استاد، ماہر تعلیم،مصنف اور محقق)

    سید رفیق بخاری
    سید رفیق بخاری در مدینہ منورہ

    اکتوبر 1938ء کو کامرہ کلاں میں پیدا ہوئے، والد سید شاہ علی حیدر بخاری برطانوی فوج میں تھے ۔ والدہ ایک علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتی تھیں۔ شاہ عنایت اور شاہ ولایت شمس آبادی کے خاندان سے تھیں ۔ آپ نے آٹھویں تک تعلیم کامرہ کلاں سے حاصل کی اور پھر کیمبل پور آگئے اور اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔کامرہ کلاں کی تاریخ کے اولین گریجوئیٹس میں سےتھے۔ اٹک کی مجلس نوادرات علمیہ کے بانی اراکین اور معروف مورخ شاعر اور سابقہ لائبریرین نذر صابری مرحوم کے قریبی دوست تھے۔ دیوان شاکر اٹکی دونوں نے مرتب کی تھی۔ محکمہ تعلیم خیبر پختونخواہ سے بحیثیت پرنسپل ریٹائر ہوئے۔ آپ ایک بہترین خطاط ، شاعر، محقق ، مصنف اور ماہر تعلیم تھے۔ کیمبل پور کی جغرافیائی کتاب ” معاشرتی علوم”آپ کی لکھی ہوئی ہے جو کئی سال نصاب میں شامل رہی ۔مارچ 2012ء کو وفات پائی ۔اٹک شہر میں مدفون ہیں۔

  • کامرہ کلاں – حصہ دوم

    کامرہ کلاں – حصہ دوم

    کامرہ کلاں – حصہ دوم

    ذریعہ معاش:

    کثیر تعداد میں لوگ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں ملازم ہیں ۔محکمۂ تعلیم میں بھی ان کی کثیر تعداد ہے۔پاک فوج سے بھی وابستہ ہیں۔وکالت اختیار کرنے کا رجحان بھی بڑھنے لگا ہے ۔اس کے باوجودگاؤں کی اکثریت کا پیشہ محنت مزدوری ہے۔

    مساجد:

    کامرہ میں ایک امام بارگاہ ہے؛اس کے علاوہ دیوبندی،بریلوی اور اہلِ حدیث حضرات کی مساجد ہیں۔یہاں کی ایک قدیم مسجد "مسجد زین العابدین”کو یہ خاص فضلیت حاصل ہے کہ یہاں شیعہ،وہابی،دیوبندی ایک جگہ نماز پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔اھل تشیع حضرات کی جماعت کے بعد سنیوں کی جماعت کھڑی ہو جاتی ہے۔مسجد کا مجموعی ماحول پر امن ہے۔اس مسجد میں کسی کو بھی اپنے مسلک کی تبلیغ کی اجازت نہیں۔

    کامرہ کلاں - حصہ دوم
    امام بارگاہ کامرہ کلاں

    تعمیرات:

    تیس پینتیس سال پہلے گاؤں کے لوگوں کےمکانات کچے ہوا کرتے تھے۔اگر سو ڈیڑھ سو سال پہلے کی بات کریں تو یقیناً لوگ غاروں(بھُرا) میں بھی رہتے ہوں گے۔گاؤں کے چند ٹیلوں میں راقم نے غار(بھرے)دیکھے تھے۔دم تحریر شاید ہی کوئی کچا مکان ہو۔لوگ پختہ تعمیرات کو اپنانے لگے ہیں۔

    گلیاں:

    گلیاں پختہ لیکن تنگ ہیں۔گاؤں کی جو مرکزی گلی ہے اس میں سے بھی دو چھوٹی گاڑیاں بہ یک وقت نہیں گزر سکتیں۔دوسری گاڑی کے لیے راستہ بنانےکا یہ حل نکالا گیا ہے کہ ایک گاڑی کو کسی گلی میںڈال دیا جاتا ہے۔ 

    ریگستان:

    اٹک میں کسی گاؤں سے ملحق اتنا بڑا ریگستان دیکھنے میں نہیں آیا۔یہ ریگستان شمالاً جنوباً گاؤں کی مغربی سرحد پر سویا ہوا ہے۔گاؤں والوں کی ریت کی ضرورت اسی ریگستان سے پوری ہوتی ہے۔مقامی زبان میں اسے "سیتھ” کہتے ہیں۔

    کھیلیں:

    کسی زمانے میں جب کرکٹ یہاں نہیں کھیلی جاتی تھی،تو یہاں کا معروف کھیل کبڈی تھا۔مقامی ریگستان”سیتھ”میں دور دراز سے ٹیمیں کبڈی کھیلنے آیا کرتی تھیں۔گاؤں کے کھلاڑیوں کا ضلع میں ایک نام تھا۔والی بال کی ٹیم بھی اچھی تھی۔کرکٹ آنے کے بعد کبڈی اور والی بال کے کھیل دم توڑ دے۔اب گاؤں کے لڑکے کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے ہیں۔حال ہی میں کبڈی کی بھی ایک ٹیم سامنے آئی ہے،جو خوش آئند بات ہے۔افسوس ناک بات یہ ہے کہ گاؤں میں بچوں کے کھیلنے کے لیے کوئی گراؤنڈ نہیں۔البتہ نہر کے آس پاس کی زمین پر بچوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی خوب صورت گراؤنڈ بنا رکھے ہیں۔گاؤں کی پرانی ٹیموں میںسے صرف شاہین کرکٹ کلب کی سرگرمیاں جاری ہیں۔اس کرکٹ کلب کی بنیاد 1985۔1984 میں رکھی گئی تھی۔

    چشمے:

    جہاں آج کل کامرہ بیس کا رن۔وے ہے،عین اسی جگہ پانی کا ایک چشمہ تھا،اس چشمے کا پانی اتنا زیادہ تھا کہ ایک چھوٹی سے ندی کی شکل اختیار کر لیتا تھا لیکن اس کی گہرائی نہیں تھی۔اس چشمے میں مچھلیاں بھی ہوتی تھیں۔راقم اس بات کا چشم دید گواہ ہے کہ گاؤں کے لڑکے وہاں مچھلیاں پکڑنے جایا کرتے تھے۔ایک اور چشمہ کامرہ پڑی کے دامن سے نکلتا تھا۔اس کا پانی بھی اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ گاؤں کے مشرقی حصے سے اکثر خواتین کا وہاں کپڑے دھونا روزانہ کا معمول تھا۔

    آثار قدیمہ:

    (1)پنڈ سلیمان مکھن کے ایک کنویں سے مجلس نوادرات علمیہ نے ایک کتبہ دریا فت کیا۔جس کی عبارت سے معلوم ہوا کہ یہ کنواں "اشوک”بادشاہ کی پیدائش کی خوشی میں کھودا گیا تھا۔اس سے گاؤں کی قدامت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

    (2)کامرہ گاؤں کے جنوب میں ایک قدیم کنواں تھا،جسے :کھنڈا کھو” کہتے تھے۔قیاس ہے کہ کامرہ کی قدیم آبادی اسی کنویں سے پانی ضرورت پوری کرتی تھی۔

    گاؤں کے شمال میں جی۔ٹی روڈ پر ایک قدیم باؤلی تھی جسے چٹی باؤلی کہا جاتا تھا۔یہ باؤلی بھی قدیم کنواں تھا جو مسافروں کی پانی کی ضرورت کے پیش نظر مغل بادشاہوں میں سے (3)کسی نے کھدوایا تھا کیونکہ ایسی باولیاں پورے برصغیر میں موجود ہیں اور ایسی باولیاں کھدوانا مغلوں کا خاصہ تھا۔

    (4)آج کل جہاں ایف۔سکس کالونی میں "رتی جناح”پارک ہے ،اس کے بالمقابل پہاڑی کے پہلو میں راقم نے پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی قدیم سرنگ دیکھی تھی۔اس سرنگ مقاصد معلوم نہیں ہو سکے۔

    (6)موضع ٹھیکریاں میں بھی کھدائی کے دوران میں ٹوٹے پھوٹے برتن اور سکے آج بھی ملتے رہتے ہیں۔

    (7)پنڈ سلیمان مکھن میں بھی کھدائی کے دوران میں ٹھیکرے ملنے کی شہادت موجود ہے۔

    پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ:

    "پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ "کا نام "کامرہ گاؤں”کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔جس وقت اس پراجیکٹ کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے لیے جو زمین استعمال کی گئی وہ ساری کی ساری کامرہ گاؤں کے لوگوں کی ملکیت تھی۔بعد میں اس ادارے میں وسعت ہوتی گئی اور ہٹیاں اور قطبہ گاؤں کی اراضی بھی اس میں شامل ہوتی گئی۔

    یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جہاز سازی اور جہازوں کی اوور ہالنگ کا یہ کارخانہ آرگنائزیشن آف اسلام(O.I.C)کی منظوری اور تعاون سے لگایا گیا ؛اس سے پہلے اسلامی ممالک کے جہاز اوور ہالنگ کے لیے امریکہ،روس،فرانس وغیرہ جایا کرتے تھے۔کانفرنس کی میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ کسی اسلامی ملک میں کوئی اس قسم کا کارخانہ لگایا جائے تاکہ غیروں کی محتاجی اور بلیک میلنگ سے جان چھوٹے ۔یہ بھی طے ہوا کہ جس ملک میں یہ کارخانہ لگایا جائے گا،زمین اس کی ہو گی لیکن سرمایہ مسلمان ممالک فراہم کریں گے۔فوری طور پر اس مقصدکے حصول کے لیے عراق کا نام سامنے آیالیکن ذوالفقار بھٹو کی رائے تھی کہ یہاں اسرائیل قریب ہے اور وہ اس پراجیکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا،چنانچہ بھٹو صاحب کی حاضر دماغی اور مسلمان ممالک کی حتمی منظوری کے بعد یہ منصوبہ پاکستا ن منتقل ہوا۔شاید حکومتِ پاکستان نےکامرہ کا علاقہ اس لیے منتخب کیا،کیونکہ دوسری جنگِ عظیم میں اس علاقے کو برٹش ایئر فورس اپنے استعمال میں لا چکی تھی ،اور جس وقت 1975 میں جب یہاں رن ۔وے کے لیے کام کا آگاز ہوا تو یہاں قدیم رن ۔وے کے آثار موجود تھے۔

     اگرچہ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کی بنیاد ستر کی دہائی کے وسط میں رکھی جا چکی تھی لیکن اس کا باقاعدہ افتتاح1980 میں اس وقت کے وزیرِ دفاع میر علی احمد خان تالپور نے کیا۔ایئر مارشل شیخ محمد سعید اس کے پہلے ڈائریکٹر جنرل تھے جنھیں اگست 1975 میں یہاں کامرہ میں تعینات کیا گیا تھا؛ 80 کی دہائی میں بھی اس کے ستر فی صد پراجیکٹ ادھورے تھے۔پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ میںسب سے پہلے میراج طیاروں کی اوور ہالنگ کا کام شروع کیا گیا،بعد ازآں 6۔Fطیاروں کی اوور ہالنگ کا کام بھی شروع کردیا گیا۔دم تحریر 16۔Fطیاروں ہالنگ کے ساتھ ساتھ JF .Thunder کی مینو فیکچرنگ کا کام بھی جاری ہے۔یہاں کے رن۔وے پر سعودی عرب،متحدہ عرب عمارات کے جہاز بھی دیکھے گئے ہیں؛جس کا مطلب یہ ہے کہ خلیجی ممالک کے جہاز بھی اوور ہالنگ کے لیے یہاں بھیجے جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ کوچار زون ((1) ایف۔6 ،(2)میراج ری بلڈ فیکٹری،(3)ایم ۔آر۔ایف،(4)ریڈار فیکٹری ) میں تقسیم کیا گیا ہے۔

    نہر:

    مارچ 1993 میں نواز شریف نے غازی بروتھا نہر کا سنگ بنیا درکھا۔یہ نہر کامرہ گاؤں کو چھوتی ہوئی آگے حاجی شاہ کی طرف بڑھ جاتی ہے۔کامرہ کے مقام پر اس کی دل کشی دیدنی ہوتی ہے۔ایک طرف سرسبز و شاداب کامرہ پڑی(پہاڑی)اور اس کے دامن میں صاف شفاف پانی سے لب ریز نہر ایسا دل ربا منظر پیش کرتے ہیں جو اس سے پہلے صرف تصویروں ہی میں دیکھا تھا۔تمام غازی بروتھا نہر کسی مقام پر اتنی خوب صورت نہیں جتنی کامرہ کے مقام پر ہے۔نہر کا پانی صاف اور بہت ٹھنڈا ہے۔گرمیوں میں یہ نہر گاؤں والوں کے لیے پکنک پوائنٹ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔نہر کے ٹھنڈے پانی کے اثرات گاؤں کی فضا پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں۔میرا ایک مرحوم دوست محمد زبیر قوم ملیار م،جس کا گھر نہر کے بالکل قریب ہے،مجھے بتایا کرتا تھا کہ جون جولائی کے مہینے میں بھی میں کمبل کے بغیر چھت پر نہیں سو سکتا؛اس بات کی تصدیق ماسٹر محسن شاہ مرحوم نے بھی کی تھی؛ان کا مکان بھی نہر کے کنارے پر واقع تھا۔اس نہر کی وجہ سے کئی قیمتی جانوں کا نقصان بھی گاؤں والوں کو اٹھانا پڑا ہے۔اس نہر کی خوب صورتی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ خاص طور پر نوجوان احتیاط سے کام لیں

    روحانی شخصیات:

    پیازی بابا:ان کی قبر پنڈ سلیمان مکھن کے پہلو میں واقع قبرستان میں ہے ۔جن کے چہرے پر دھدر ہوا کرتے تھے،وہ لوگ یہاں سے تیل لے کر منہ پر لگاتے تھے۔

    ، کرم حسین شاہ:ان کے متعلق مشہور ہے کہ انھوں نے سات حج پیدل سفر کر کے کیے تھے۔گاؤں کے لوگ دولھا کو اس قبر کی سیر کراتے اور اس کے کلے پر یہاں کی بیری یا کسی درخت کی چار پانچ انچ لمبی ٹہنی لگاتے ہیں؛اس عمل کو شادی میں برکت قرار دیا جاتا ہے۔پہلے پہل گاؤں کے اکثر لوگ ایسا ہی کرتے تھے لیکن اب یہ رسم صرف چند سادات گھرانوں تک محدود ہے۔

    جاری ہے ….

  • ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    اس موضوع پر لکھنا آسان نہیں ، اس لئے کہ جہالت ، ذاتی اور گروہی مفاد پر مبنی سیاست اور مولویت نے پاکستان میں کینسر کے مرض کی طرح پنجے گاڑھ رکھے ہیں ۔ حالت بہ ایں جا رسید کہ ایک مخصوص اور پیشہ ور ٹولے کے علاوہ کسی دوسرے کو اس وادی میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں بلکہ اگر کوئی ان سے رتی برابر اختلاف کرے تو فورا کفر اور غداری کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں ۔ بیشمار محب وطن سیاسی کارکن ، علماء اور صلحاء ، سیاسی سوجھ بوجھ اور علمی و تبلیغی استطاعت رکھنے کے باوجود ، جہالت مافیاء کے خوف سے  خاموشی کو ترجیع دینے پر مجبور ہوئے یا ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں ۔ 
    میں ، عالم ہوں نہ مولوی اور نہ ہی سیاست دان ۔  مجھے کسی فقہی یا شرعی مسئلے پر بات کرنی ہے اور نہ وعظ و نصیحت  بلکہ ایک عام پاکستانی شھری کی حیثیت سے جو دیکھ رہا ہوں ، محسوس کررہا ہوں ،

    معاشرے کی اس حالت اور سوچ پر اپنی رائے کا اظھار کرنا چاھتا ہوں ۔ 
    اس سے پہلے کہ بات کو آگے بڑھاوں ، اس قومی دکھ اور کرب کا برملا اظھار کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نام پر ، اللہ کے نام پر ، رسول اللہ ص کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ، بحیثیت مجموعی ہم سب نے اور بطور خاص نام نہاد ، مفاد پرست ، جھوٹے سیاست دانوں اور ان پڑھ اور مفتن ملاوں نے کیا ، اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے ۔ 
    میری باتیں تلخ ضرور ہونگی لیکن اگر آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے ،  گروہی و مسلکی عینکیں اتار کر ان پر غور کیا تو کوئی نقطہ آپ کو غلط نظر نہیں آئیگا اور حقیقت حال واضع ہوجائیگی ۔ 
    آپ کوئی بھی ٹی وی چینل آن کریں ، کوئی سا بھی اخبار یا رسالہ اٹھا کر پڑھیں ، کسی بندے سے گفتگو کریں ، ایسا محسوس ہوگا کہ پاکستان میں تو سب اولیاء بستے ہیں بلکہ یہی تو انبیاء کرام کی سرزمین ہے ۔ صبح شام ، اٹھتے بیٹھتے ، اسلام ، اسلام  اور اسلام کی گردان سننے کو ملیگی ۔ جس آبادی ، گاوں ، قصبے یا شھر میں چلے جائیں ،  خوبصورت مسجدیں اور ان کے 100 سو فٹ بلند مینار نظر آئینگے ۔ آذان کا وقت ہو تو لاوڈ اسپیکروں کا شور زلزلہ پیدا کردیتا ہے ۔ مذھبی تقریبات کی بھرمار ، جس طرف دیکھو پیر فقیر ، باوے اور  ڈھونگی اپنی اپنی دوکانیں چمکائے بیٹھے ہیں لیکن معاشرہ اخلاقی طور پر اندر سے اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ، 
    دودھ ، دہی ، گھی ، مصالحہ جات اور ادویہ سمیت کوئی بھی چیز خالص دستیاب نہیں ۔ ہر شے میں ملاوٹ ۔ 
    آٹا ، چینی اور سبزیاں تک غائب کردی جاتی ہیں اور عوام کو ان اشیاء کی عدم دستیابی یا بڑھی ہوئی قیمتوں کے خلاف جلوس نکالنے پڑتے ہیں ۔ 
    قصابوں کے ھاں بکنے والے گوشت ، (بالخصوص بڑے شھروں میں )  کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ۔ گدھے کا ہے یا کتے ذبح کئے گئے ہیں ۔ مرغیاں زندہ ذبح کرکے بیچی جارہی ہیں یا بیماری سے مرجانیوالے پرندوں کا گوشت بیچا جارہا ہے ۔ 
    ڈاکٹری جیسے مقدس اور محترم پیشے کی دکانیں قطار اندر قطار نظر آئینگی لیکن اندر قصائی اور دولت کے پجاری بیٹھے ملینگے جن کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت نہیں بلکہ بنگلے ، زمینیں اور مارکیٹیں کھڑی کرنا ہے ۔ 
    آپ کسی کنسٹرکشن ٹھیکیدار یا راج مستری کو ایک مرتبہ گھر میں آنے دیں پھر دیکھیں وہ آپ کی کیا درگت بناتا ہے ۔ 
    پورے ملک میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ تھانیدار اور پٹواری تو ویسے ہی بدنام ہیں ۔ آپ سوئی گیس ، بجلی ، پانی اور ٹیلیفون کا کنکشن تک بغیر جیب گرم کئے حاصل نہیں کرسکتے ۔ 
    چوری ، ڈاکے ، اسٹریٹ کرائم ، زنا ،  معصوم بچوں اور نہتی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور اغواء جیسے جرائم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔
    منشیات ، ناجائز اسلحہ ، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی جیسے گھناونے کاروبار کل بھی جاری تھے آج بھی جاری ہیں ۔ 
    آذادی اظھار رائے کے نام پر درجنوں ٹی وی چینلز اور اخبارات ، جھوٹ اور افواہ سازی کی فیکٹریاں نہیں تو اور کیا ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ” پیسہ ڈال تے بہہ جا نال ” ، جو خبر نشر کرانی ہو ، جس قسم کا بھی پروپیگنڈہ کرانا مقصود ہو ، پیسے کے زور پر ممکن ہے ۔ 
    معاشرے کی مکمل تصویر کشی کروں تو کتاب بن جائے ۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ؟ اگر کسی کی اولاد بگڑ جائے تو کہتے ہیں ، ماں باپ نے تربیت اچھی نہیں کی ۔ بتائیے اس سارے معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے ؟  ظاھر سی بات ہے جنہوں نے اس سوسائیٹی کو پروان چڑھایا ۔ سیاسی بگاڑ کے ذمہ دار سیاستدان اور مذھبی و اخلاقی اقدار کی پستی کے ذمہ دار وہ سب ، جو منبروں ہر بیٹھ کر فرقہ واریت ، توھمات ، شرک اور بدعت کی تعلیم دیتے رہے ۔ جنھوں نے بھائی کو بھائی سے لڑایا ۔ 
    مجھے حیرت ہوتی ہے جب یہ کہتے ہیں ، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا مگر اب یہ سیاستدانوں اور مولویوں کا قلعہ ہے جہاں عام آدمی ایک قیدی کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ اگر میں غلط کہ رہا ہوں تو آپ اپنے علاقے کے کسی سیاست دان یا مولوی کے خلاف آواز اٹھاکر دیکھیں ، لگ پتہ جائیگا ۔ 
    آپ اس معاشرے کی ذھنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں اور نوسربازوں کے حق میں جلوس نکلتے ہیں ، جلسے ہوتے ہیں ، ٹاک شوز میں سرعام ان کے غلیظ کرتوتوں کا دفاع کیا جاتا ہے ۔ اخبارات اپنی شہ سرخیوں میں انہیں ھیرو بناکر پیش کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ہم اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر اور 27 رمضان کو وجود میں آیا تھا لھذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ 

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی


    قارئین 
    اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں ۔ خدا اور رسول ص کے احکامات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں ۔ کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کرلئے ہیں کہ جن کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ اگر جواب ھاں میں ہے ۔  آپ ایک کامیاب ، مضبوط اور طاقتور قوم بن چکے ہیں تو ،  ضرور بندوقیں اٹھاکر دنیاء بھر کے مسلمانوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوں ۔ کفار کو چیلینج کریں لیکن اگر 73 برس بعد بھی کشکول ھاتھ میں ہے ۔ قرضوں کے انبار تلے دبے ہیں ۔ سوئی گیس ، بجلی ، آٹا اور چینی کے حصول کے لئے جلوس نکالنے پڑ رہے ہیں ۔ روزی روٹی کی تلاش کے لئے در بہ در ٹھوکریں کھارہے ہیں تو عزت اسی بات میں ہے کہ پہلے اپنے گھر کو سنواریں ، اپنے پاوں پر کھڑے ہوں اور اس کے بعد اس بات پر غور کریں کہ عالم اسلام میں کیا ہورہا ہے ۔ کس کس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور کیوں کیا ۔ پنجابی زبان کا ایک اور محاورہ یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” آپ نہ جوگی تے گوانڈ ولاوے "یعنی اپنے لئے گھر میں ہے کچھ نہیں اور گوانڈیوں کی مدد کرنا چاھتی ہے ۔ 
    آخر میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں لیکن اگر کوئی دوسرا ملک اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کا داخلی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاھئیے اور بلاوجہ ان پر تنقید کرکے باھمی تعلقات نہیں بگاڑنے چاھئیں ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ امہ یا امت مسلمہ کی اصطلاح  کتابوں اور شاعری کی حد تک درست ہے ۔ اس سے آگے یا پیچھے کچھ بھی نہیں لھذا اس چکر سے باھر آکر پاکستانی معاشرے کی اصلاح و ترقی اور توانائی کا علم اٹھائیں ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاھئیے کیونکہ ہم سارے مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ۔ 

  • دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط دوم)

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    دھیان کی منزل( گزشتہ سے پیوستہ ) 
    آپ یقینا سوچ رہے ہونگے کہ اتنی کٹھن منزل کون طے کریگا جس میں گھر بار ، بیوی بچے ، روزگار ، لین دین غرضیکہ پورے کا پورا کاروبار حیات ہی ٹھپ کرنا پڑ جائے ۔ یہی سوال ذھن میں رکھتے ہوئے میں نے دھیان کی اس منزل تک پہنچنے کے لئے دو راستے تجویز کئے ہیں ۔ ایک دائمی یا مکمل سنیاس اور دوسرا موقت یعنی عارضی ۔یاد رکھئیے دائمی سنیاس لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلکہ  تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سنیاسی ، تیاگی اور گیانی  جنہیں عرف عام میں ولی اللہ ، سینٹ (Saint)  یا بھگت کہا جاتا ہے ،  پیدائیشی طور پر اپنے اندر ایک مخصوص روح یا اسپیشل سوفٹ وئر ( Special Soft Ware ) لیکر اس دنیاء میں قدم رکھتے ہیں ۔ بھگتی اور ولائت کسبی نہیں کہ کسی ٹریننگ اسکول سے تربیت اور ڈگری لیکر ، ڈاکٹر اور وکیل کی طرح کوئی بھی شخص  ولی یا بھگت ہونے کا دعوی کردے  بلکہ یہ توعطائے خالق ہے ۔ اس ضمن میں فارسی کا ایک شعر یاد آگیا ، کہتے ہیں ، 
    ” ایں سعادت بہ زور بازو نیست .  تا نہ بخشد او خدائے بخشندہ ” 
    یعنی اس مقام و مرتبے تک رسائی انسان کے بس کی بات نہیں جبتک کہ عطاء کرنے والا ( مالک و خالق ) اسے بخشیش یا انعام کے طور پر از خود عطاء نہ کردے ۔ 
    قارئین کرام ،
    آگے بڑھنے سے پہلے ایک بات ذھن نشین کرلیں کہ میری اس تحریر کا مقصد ہرگز  تصوف پر لیکچر دینا نہیں ، کیونکہ  ، یہ راہ بہت کٹھن ، پرپیچ ، اتنی عمیق ، دقیق اور پرخطر ہے کہ اگر کہیں ذرہ برابر لغزش ہوئی ، زبان یا قلم کے قدم پھسلے ،   تو انسان راہ راست سے بھٹک کر گمراہی کی بھول بھلیوں میں جا پہنچتا ہے اور یہ کہ ، تصوف پہ گفتگو اور اسے سمجھنا  عام آدمی کے بس کی بات بھی نہیں ۔ 
    مضمون کی ابتداء میں لکھا ، زندگی کیا ہے ، کیا کبھی اس بات پر غور کیا  ؟   پیدائیش سے موت یا ماں کی کوکھ سے قبر کی آغوش تک کا سفر ، عجیب سلسلہء واردات ہے  جسے ہم کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گزار دیتے ہیں ۔ زمانہء حال میں جدید مشینوں کی مدد سے کھیتی باڑی کی جاتی ہے اور  آبپاشی کے لئے زیر زمین سے پانی کھینچ کر کھیت تک پہنچانے کے لئے بجلی کی موٹریں اور پمپ ایجاد کر لئے گئے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے بٹن کو دبائیں تو پانی خود بہ خود کھچ کر ایک جستی نالی یا پائپ کے ذریعے باہر آجاتا ہے جبکہ کچھ ہی زمانہ پہلے الیکٹرک موٹر اور واٹر پمپ کی بجائے رھٹ میں بیل جوت کر یہ ضرورت پوری کی جاتی تھی ۔ بیل کی آنکھوں پر کھوپے یا پٹی باندھ دیتے تھے  تاکہ وہ دائیں بائیں ، ادھر ادھر  نہ دیکھ سکے ، اسے یہ علم ہی نہ ہو  کہ وہ کس سمت میں سفر کررہا ہے لھذا عالی مرتبت بیل  چار سے چھ گنٹے تک ، اس وہم اور خوشی میں گھومتا  رھتا تھا کہ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ کسی نئی منزل تک پہنچ جائیگا  لیکن اے کاش ایسا ہوتا ۔ اسے کیا معلوم کہ آنکھوں پر بندھی پٹی اسے احساس تک نہیں ہونے دیتی کہ وہ سیدھی سمت میں سفر کرنے کی بجائے گول گول گھوم رہا ہے ۔ اس کا مالک جب کھیتوں کو سیراب کرنے کے بعد اس کی آنکھوں سے پٹی ھٹاتا ہے تو بیچارہ بیل اپنے آپ کو اسی جگہ کھڑا پاتا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاذ کیا تھا ۔ یاد رکھیں ” دھیان ” یا غور و فکر کے بغیر بسر کی جانیوالی زندگی بھی  رھٹ کے اس بیل کی حالت جیسی ہے جو دن بھر کی مشقت کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا نظر آتا ہے ۔ 
    دھیان کی منزل کا تقاضا ہے کہ نہ صرف ہماری آنکھیں کھلی رہیں تاکہ  مشاھدے کی مدد اور رسد سے ہمارا شعور توانا ہو  بلکہ ذھن پر کوئی پٹی بھی نہ بندھی ہو ، کوئی ایسا خول نہ چڑھا ہو کہ جو تاذہ ہوا کے جھونکوں کو اندر آنے سے روکے ۔  اس کے ساتھ ساتھ ،  کچھ پانے ، حاصل کرنے ، سوچنے اور  سمجھنے کی جستجوء بھی موجود ہونی چاھئیے  ۔ اٹھنا ، بیٹھنا ،سونا جاگنا ، چلنا پھرنا ، کھانا پینا اور بچے پیدا کرنا توجبلت  (Instinct) یا خداداد صلاحیت ، اہلیت اور ضرورت ہے اس کا عقل و خرد اور سوچ بچار سے کیا واسطہ ،   یہی سب کچھ تو حیوانات اور چرند پرند بھی کرتے ہیں بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی سے ملتی جلتی ،  کئی ایک جبلی  خصوصیات ( Inherited Values ) تو عالم نباتات میں بھی پائی جاتی ییں ۔ مثلا ،  پودے ، پھول ، جڑی بوٹیاں اور درخت سب کے سب پیدا ہوتے ہیں ، جنم لیتے ہیں  ، بیمار پڑتے ہیں ۔ ان پر بھی ،  بچپن ، لڑکپن اور جوانی طاری ہوتی ہے ۔ خوراک اور پانی انہیں بھی درکار ہوتا ہے ۔ یہی نہیں ، بلکہ کھاد کی شکل میں مختلف وٹامنز کے طلب بھی رکھتے ہیں ۔  بیماری ان پر بھی حملہ کرتی ہے . انہیں باقائدہ دواء دارو کی حاجت پیش آتی ہے ۔ پھل ، پھول ، پتوں اور بیج کے نام سے بچوں کو جنم دیتے ہیں اور انہیں بھی موت کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔   آپ جانتے ہونگے کہ عالم نباتات ،  یعنی  درختوں اور پودوں میں بھی انسانوں اور حیوانات کی طرح ،  نر ( Male ) اور مادہ ( Female )کی تخصیص و تفریق موجود ہے ۔ یہ الگ بات کہ نر کم اور مادہ تعداد میں زیادہ ہوتی ہیں اور انہی کے بطن سے پھل ، پھول یا بچہ پیدا ہوتا ہے  ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض گھروں میں موجود پھل دار درخت پھل نہیں دیتے اور بعض کے پھل ابتدائی حالت میں گرجاتے ہیں ۔ پھل بالکل نہ لگنے کی صورت میں جان لینا چاھئیے کہ یہ درخت نر , یعنی (Male Tree ) ہے ۔ اور کچا پھل گرجانے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ قریب میں کوئی نر ، Male درخت موجود نہیں کہ جسکا تولیدی مادہ یا ( Pollen ) اسے درکار ہے ۔  
    اس ساری بحث سے مراد اس نکتے کو سمجھنا ہے ،  کہ جبلی طور پر انسان ، حیوان اور نباتات کئی ایک مشترکہ جبلی ( Instinct )  خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس کے باوصف حیوانات  و نباتات اور انسان میں فرق یہ ہے کہ انسان کو خالق کائنات نے عقل کے نام سے ایک اضافی خوبی یا خاصیت عطاء کی ہے ، کہ جس کی مدد سے وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے ۔ حیوانات اور نباتات کے برعکس اپنی ذات کے بارے میں فیصلے کرسکتا ہے جبکہ اول الذکر فقط قانون قدرت کی پابندی سے ،  سوچ و سمجھ اور آذادانہ فیصلے کی قوت سے محروم رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ اسی فلسفے کو اقبال نے کیا خوب بیان کیا ہے :
    ” تقدیر کے پابند نباتات و جماداتمومن فقط احکام الہی کا ہے پابند ” 
    اقبال کہتے ہیں تقدیر اور مقدر کی پابندی صرف درختوں ، پودوں ،  پہاڑوں ، چٹانوں ، ٹیلوں اور ان دیگر مخلوقات پر عائد ہوتی ہے کہ جو سوچ اور سمجھ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کسی ایک جگہ پر مقید ہوکر زندگی گزارنے کے پابند ہیں جبکہ انسان مکمل طور پر آذاد ہے اور یہ آذادی اسے اس کی ساخت اور عقل نے عطاء کی ، وہ نباتات کی طرح ایک جگہ رک کر یا جمادات کی طرح بے جان اور ساکن و ساکت رہ کر زندگی گزارنے پر مجبور نہیں بلکہ اس کا جیون احکام الہی کا پابند ہے ۔ 
     دھیان کے اس اسٹاپ تک پہنچنے پر  علم ہوا ،  کہ اگرچہ ، انسان ، حیوان اور نباتات ، جبلی طور پر بعض مشترکہ بنیادی خصوصیات کے حامل ہیں لیکن اس جنکشن یا دوراہے سے انسانی گاڑی ” عقل ” کا انجن لگاکر الگ لائین پر چڑھ جاتی ہے ۔ اس کا راستہ الگ ہوجاتا ہے اور یہیں سے آگے  اس ایکسپریس کو دنیاء نے  ” اشرف المخلوقات "( The Most Honorable Creatures )کے نام سے جانا ، پہچانا اور مانا ۔ 
    اس مقام تک آکر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ، عقل اور ارادہ ، انسان کو حیوانات و نباتات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ،  کیا عقل چند لوگوں کے حصے میں آئی یا ہر انسان کو عطاء کی گئی ۔ جواب یقینا یہی ہوگا کہ تمام بنی آدم اس نعمت خداوندی سے مستفید ہیں ،  الا  وہ محدودے چند افراد ،  کہ جو ذھنی امراض ( Mentle Disorder) کا شکار ہوں ۔  جب ایسا ہی ہے ،  سب انسان عقل کے مالک ہیں ۔ قدرت نے انہیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں سے یکساں طور پر نوازا ہے تو کاروبار حیات کے رنگ اور روپ  مختلف کیوں ہیں ۔ 
    ( بحث جاری ہے )

  • دھیان ،  گیان اور نروان (قسط اوّل)

    دھیان ، گیان اور نروان (قسط اوّل)

    تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کبھی غور کیا ، زندگی کیا ہے ؟

    بہت کم لوگ دنیاء میں ایسے ہوئے کہ جنہوں نے اس موضوع پہ غور کیا ، اس کی حقیقت کو جانا اور پھر اس کے چھپے راز اور رموز اوروں تک پہنچائے ۔ یہ موضوع جسقدر دلچسپ ہے اتنا ہی پیچیدہ اور مشکل بھی ۔ شاید اسی لئے چند گنے چنے لوگ ہی اس طرف متوجہ ہوئے جنھیں عالم مسیحیت میں سینٹ ( Saint ) یا مقدس شخص ، اسلام میں ولی اللہ ( Wali Allah )، یہودیت میں راھب ( Rahab ) اور کاھن ( Ka’han ) ، ھندو مت میں رشی ( Rashi) ، منی ( Muni ) ، یوگی ( Yogi ) اور سنیاسی ( Sanyasi ) ، بدھ مت میں ارہت ( Arhat ) اور مہاتما ( Muhatima ) ، جبکہ سکھ ایسے شخص کو بھگت ( Bhagtt )کہ کر پکارتے ہیں ۔ یہ القاب و خطابات انہیں اس لئے دئیے گئے کہ ان افراد نے زندگی کا راز پانے کی خاطر ، دنیاوی عیش و آرام ، مال و دولت اور ازدواجی زندگی تک کو ترک کرکے ، آبادیوں سے دور ، پہاڑوں ، جنگلوں اور ویرانوں کو اپنا مسکن بنایا اور من کی جوت جگاکر اس حقیقت کا کھوج لگانے میں مشغول رہے جسے ہم عرف عام میں زندگی کہتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ دنیاء بھر میں موجود مختلف مذاھب کی خانقاھیں ، چلہ گاھیں ، مزار ، معبد اور متبرک مقامات آبادیوں سے دور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ، جنگلوں اور دشوار گزار مقامات پر پائے جاتے ہیں آخر اس کی وجہ کیا ہے ۔

    عام آدمی یہی سمجھتا ہے کہ ایسے افراد دراصل اللہ ، بھگوان ، یزدان ، خدا ، ایشور یا گاڈ (GOD) کی قربت حاصل کرنے کی خاطر اس

    ریاضت , تپسیا اور Exercise کو اپناتے ہیں , اگر ایسا ہے تو یہ قرب ، مسجد ، مندر ، دھرم شالا ، چرچ ، گوردوارے اور سینی گوک میں بیٹھ کر مالا جپنے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اس کے لئے ترک دنیاء اور ویرانوں میں بھٹکنے کی کیا ضرورت ہے ؟

    اس سوال کا عام فہم اور سادہ جواب یہ ہے کہ اللہ کا قرب آخری اسٹاپ ہے ۔ اس تک پہنچنے کے لئے ایک طویل اور دشوار گزار راستے سے گزرنا پڑتا ہے ۔ قرب الہی حاصل کرنے سے پہلے ، عرفان زیست حاصل کرنا اولین شرط ہے ۔ جسطرح میٹرک کئے بغیر ایف اے ، ایف اے کئے بغیر بی اے اور بی اے کئے بغیر ایم اے کی سند حاصل نہیں ہوسکتی بعینہہ اسی طرح زندگی کو سمجھے بغیر ، زندگی پیدا کرنے والے خالق اور مالک تک رسائی ممکن نہیں ۔ پہلے مخلوق کو پہچانو ، اس کا شعور حاصل کرو تب جاکر کہیں خالق کے وجود سے آشنائی حاصل ہوگی ۔

    اگرچہ اسلامی دنیاء میں ، تصوف یا مسلک صوفیاء ، ایک متناذعہ موضوع ہے اور علماء اسلام کا ” ایک بڑا گروہ ” اس کی حقیقت اور ضرورت سے واضع طور پر انکار کرتا ہے لیکن جب ہم دیگر ادیان اور مذاھب پر نظر دوڑاتے ییں تو ہمیں ہر جگہ تصوف کی مختلف شکلیں موجود نظر آتی ہیں ۔

    میرے نزدیک تصوف ایک راستہ ہے ، کھوج لگانے کا ، تلاش کا ، حقیقت آشنائی کا ، حصول علم کا ، اس لئے اس کی مخالفت یا اسے کفر قرار دینا ، اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ٹھہرتا ہے اور وہ اس لئے کہ خود قرآن نے کئی آیات میں غور و فکر کی بار بار دعوت دی ہے ۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ تصوف سے میری مراد پیری فقیری ، تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک نہیں بلکہ غور و فکر اور تلاش حقیقت ہے ۔ مخلوقات پر غور و فکر سے منکشف ہونے والی ٹھوس حقیقتیں ہی آپ کے اندر خالق کائنات ( Creator of Universe ) کے تصور اور عقیدے کو مستحکم کرتی ہیں ۔

    اس راہ پر چلنے والوں کو تین مناذل سے گزرنا پڑتا ہے ،

    1۔ دھیان – ( غور و فکر )

    2۔ گیان – ( آگہی )

    3۔ نروان – ( نجات یا چھٹکارہ )

    دھیان کی منزل کیا ہے ؟

    اس سے قبل اولیاء اللہ ، سنیاسیوں اور بھگتوں کی بات ہورہی تھی کہ وہ کیوں سنیاس لیکر ویرانوں میں جابسے تو عرض ہے کہ ، انہوں نے زندگی کا گیان حاصل کرنے کی خاطر ویرانوں کا انتخاب کیا تاکہ روزمرہ کے ھنگاموں سے آذاد ہوکر اس مسئلے پر غور کیا جائے اور حقیقت تک پہنچ سکیں ۔ یاد رہے دھیان یا غور و فکر کے لئے کامل ارتکاذ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے جسکا حصول ھنگامہ خیز زندگی میں ممکن نہیں ۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آپ کسی بھیڑ بھاڑ والی جگہ پر موجود ہوں اور فون کال آجائے تو وہ جگہ چھوڑ کر علیحدگی اور تنہائی میں جاکر بات سنتے ہیں تاکہ اسے ٹھیک طرح سے سمجھ سکیں ۔ اس مثال سے اندازہ لگالیں کہ اگر ایک عام آدمی کی فون کال سننے کے لئے ھنگامے سے دوری اختیار کرنا پڑتی ہے تو زندگی کی حقیقت کو جاننے کے لئے کیا کیا ضروری ہوگا ۔ اگر یہاں تک میں اپنی بات واضع کرسکا ہوں تو اب یہ بھی جان لیجئیے کہ ابدی حقیقتوں کو پانے کے لئے عمومی شور و غل اور بھیڑ بھاڑ سے ہی بچنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے مکمل یا موقت سنیاس لینا پڑتا ہے ۔ گھر بار ، بیوی بچے ، نفع نقصان اور دنیاوی لین دین ، سب کے سب ھنگامے ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے ارتکاذ توجہ پیدا کرنا ممکن ہی نہیں ۔

    ( جاری ہے )